Baaghi TV

Category: صحت

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت
    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سموگ سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بالخصوص حاملہ خواتین اور ان کے بطن میں پرورش پانے والا بچہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث آکسیجن کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے، لہذا ایسی خواتین خصوصی احتیاط برتیں تاکہ ماں اور بچہ کی صحت محفوظ رہ سکے۔ سربراہ جنرل ہسپتال نے سموگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ شہری، بچے اور بیمار افراد بھی ماحولیاتی آلودگی کا آسان ہدف ہیں جبکہ فضائی آلودگی حاملہ خواتین اوربچے کی صحت کو متاثر کرنے کے علاوہ نشوونما میں خلل ڈال سکتی ہے۔حاملہ خواتین جو آلودہ علاقوں میں رہتی ہیں ان کے ابتدائی یا قبل از وقت لیبر کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے۔سموگ سے قبل از وقت لیبر اور دیگر مسائل جیسے کہ پیدائش کے وقت کم وزن، بچے کے پھیپھڑوں کا متاثر ہونا شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ کی وجہ سے قوت مدافعت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔اگر حاملہ خواتین دمہ کے مرض میں مبتلا ہوں تو پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ سموگ کی آلودگی بچوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے اور ان کے بڑے ہونے پر ان کی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جس میں ہائی بلڈ پریشر، دمہ، دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس وغیرہ شامل ہیں اور سانس کے مرض میں مبتلا مریض سموگ سے بری طرح متاثر ہو سکتے ہیں جس سے پھیپھڑوں کے نقصان کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ سموگ کی علامات میں گھرگھراہٹ، سینے میں جکڑن، سانس لینے میں دشواری، موٹاپا اور الرجی جیسے کھانسی،سینے، آنکھوں، گلے اور ناک میں جلن شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا شہری سموگ کے اوقات میں ورزش کرنے سے گریز کریں اور COPDمیں مبتلا افراد ہر وقت اپنا انہیلر ساتھ رکھیں، سموگ سے بچاؤ کے لیے ماحول دوست صارف مصنوعات استعمال کریں اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہجوم میں جاتے وقت فیس ماسک کا استعمال لازمی کریں تاکہ آلودگی سے محفوظ رہ سکیں۔

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

  • لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے لاہور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ماحولیاتی نمونوں میں ٹائپ ون وائلڈپولیووائرس کی تصدیق کردی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی)کے مطابق لاہور سے 17 اور ڈیرہ اسماعیل خان نے 19 نومبر کو نمونے حاصل کئے گئے، ان نمونوں کو جانچ کے لئے پاکستان نیشنل پولیو لیبارٹری بھجوایا گیا تھا۔ این ای او سی کے مطابق دونوں شہروں میں ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    رواں سال لاہور سے وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق کا یہ چوتھا جب کہ ڈی آئی خان سے پہلا مثبت نمونہ ہے تاہم ماحولیاتی نمونوں کی جینیاتی ترتیب کے نتائج کا انتظارہے۔ این ای او سی کا کہنا ہے کہ ٹائپ ون وائلڈ پولیو وائرس افغانستان اور پاکستان میں پایا جاتا ہے، بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ دنیا میں پاکستان اور افغانستان ہی 2 ملک ہیں جہاں اب تک پولیو پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ رواں برس بھی ملک میں پولیو کے کئی کیسز ریکارڈ سامنے آچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمعمزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمعمزید یہ بھی پڑھیں؛
    مارگلہ کی پہاڑیوں پر نایاب نسل کا تیندوہ مردہ حالت میں پایا گیا
    خاشقجی کی منگیتر، نے امریکی عدالت کے فیصلے پر ردعمل میں کہا کہ "جمال آج پھر انتقال کر گئے ہیں۔”
    دنیا میں ترقی جنگوں سے نہیں بیلٹ پیپر سے آئی،سیکرٹری الیکشن کمیشن
    عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت 19دسمبر تک ملتوی
    ارشد شریف قتل کیس ازخود نوٹس،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    خیال رہے کہ 1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں۔

  • پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے.

    اگر آپ خاتون کی حیثیت سے کسی دفتر، اسکول یا ادارے سے وابستہ ہیں تو مکمل گہری نیند نہ صرف اگلے دن آپ کو پرعزم بناتی ہے بلکہ اس سے اپنے شعبے میں آگے بڑھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تحقیق واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی نے کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کارکن خواتین اپنی پوری نیند لیتی ہیں ان کا موڈ بہتر رہتا ہے، اگلے دن دفاتر کے کام بھاری نہیں پڑتے اور وہ اپنے شعبے میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ مردوں کو اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ۔

    اس ضمن میں مختلف اداروں میں کام کرنے والی 135 خواتین اور مردوں کا دو ہفتے تک سروے کیا گیا ہے۔ مطالعے سے پہلے ان کا موڈ، آرام کے اوقاتِ کار اور اگلے دن کی یہی تفصیلات جمع کی گئی تھیں۔ پھر خواتین سے کام کی ذمے داریوں اور خود ان کے مستقبل کے عزائم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب خواتین پرسکون اور پورے وقت کی نیند لیتی ہیں تو ان کا مزاج بہتر ہوتا ہے، وہ قدرے زیادہ پرعزم ہوتی ہیں اور اپنے اہداف مکمل کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ بصورتِ دیگر نیند کی کمی ان کے مثبت مزاج کو متاثر کرتی ہے اور وہ اپنے اہداف کی جانب زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔

    یہ تحقیق ’سیکس رولز‘ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس مطالعے میں ہر روز دوپہر کے بعد شرکا سے ان کی نیند اور اس وقت کے موڈ کے بارے میں سوالات کیے گئے تھے۔ پھر شام کو گھر جانے سے قبل ان کی ذمے داریوں کے احساس، کام میں دلچسپی اور جوش و عزم کے بارے میں بھی پوچھا گیا تھا۔ مرد اور خواتین، دونوں نے ہی اچھی اور بری نیند کا ذکر کیا لیکن مردوں کے مقابلے میں جس رات خواتین کی نیند متاثر ہوئی ان میں عزم کی کمی، کام سے لگاؤ میں عدم دلچسپی اور مجموعی پھرتی کی کمی محسوس کی گئی جو سوالنامے سے بھی عیاں ہوگئی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کی کمی خواتین کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ گھروں تک محدود خواتین بھی اگر اپنی نیند پوری کریں تو وہ گھریلو کام کاج کو بہتر انداز میں کرسکتی ہیں جن میں بچوں کی تربیت جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

  • ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور (UNDP) کی نمائندہ ایلیونا نیکولیٹا نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق کے ہمراہ میو ہسپتال میں قائم ایچ آئی وی، ایڈز سپیشل کلینک کا دورہ کیا۔

    وزیر پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر اختر ملک اور سیکریٹری صحت نے ڈاکٹر محمد ارشاد کی پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی عالمی اداروں سے بہتر شراکت داری کی ہدایات دے دی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول کی تکنیکی ٹیم اور میو ہسپتال کے ماہرین نے شرکت کی۔ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر فاروق احمد نے پروگرام کے مختلف امور اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولیات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال کا ایچ آئی وی ایڈز کلینک سولہ سال سے اس بیماری میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام اس وقت صوبہ کے تمام اضلاع میں قائم 45 کلینکس کے ذریعے اس مرض میں مبتلا افراد کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    ڈاکٹر فاروق کا کہنا کہ انجکشن کا غیر محتاط استعمال ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس موقع پر عالمی ادارہ کے نمائندہ نے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کی کارکردگی کی تعریف اور عالمی ادارہ برائے ترقیاتی امور مریضوں کی فلاح اور علاج میں بہتری کے لئے شراکتی اقدامات میں اضافہ کرے گا۔ایلیون نیکولیٹا نے کہا کہ ایچ آئی وی, ایڈز کے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے لئے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی

    وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے کیسز کا تناسب کئی گناہ بڑھ گیا ہے۔ جمعرات کے روز امیریکن سینٹر فار ڈیزیز اینالیس (سی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے معروف وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ہومی رضاوی نے اپنے خیالات کا اظہار ہیپاٹائٹس سے متعلق سیمینار میں کیا۔

    طبی ماہرین کے مطابق 2030 تک ہیپاٹائٹس کو ختم کرنے کے حکومتی عزم کے باوجود، ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے،یہاں تک کہ آج تقریباً 10 ملین یعنی ایک کڑور پاکستانی وائرل ہیپاٹائٹس سی کے مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن کی تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صرف 2020 میں ہیپاٹائٹس سی کے 461,000 سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے جو کہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نئے کیسز کی بڑی تعداد ہے۔ پاکستان سوسائٹی فار اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے زیر اہتمام سولہویں سالانہ کانفرس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بیرون ملک سے آئے ہوئے ماہرین کے علاوہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی گیسٹرواینٹرولوجسٹ پروفیسر آمنہ سبحان نے بھی شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسلام آباد میں مطلع ابرآلود، کراچی میں پارہ 12 ڈگری تک گرگیا
    اسلام آباد سے قطر جانے والے مسافر کے پیٹ سے منشیات بھرے کیپسول برآمد
    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی سماعت آج ہوگی
    تمام مقررین نے ہیپاٹائٹس سی کے غیر منظم پھیلاؤ سے ہونے والے نقصانات پر روشنی ڈالی۔ جس کے نتیجے میں جگر کا کینسر اب ملک میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا کینسر ہے۔ مقررین نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے اپنے پروگراموں کو تیز کریں۔ ڈبلیو ایچ او کے اہداف کو پورا کریں، جس سے 150,000 سے زیادہ جانیں بچیں گی۔ اس موقع پر امیریکن سینٹر فار ڈیزیز اینالیس (سی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے معروف وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر ہومی رضاوی نے کہا کہ دس ملین افراد پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے متاثر ہیں اور پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں اس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ہیپاٹائٹس سے کینسر کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے کیوں کہ ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے۔

    آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل کی گیسٹرواینٹرولوجسٹ پروفیسر آمنہ سبحان بٹ نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا تناسب بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں انجکشن کے ذریعے ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں غیر ضروری طور پر انجکشن لگایا جاتا ہے۔بیشتر غیر معیاری بلڈ بینکز کی وجہ سے بلڈ ٹرانسفیوژن بھی محفوظ نہیں رہا۔ماں سے بچے میں بھی ہیپاٹائٹس منتقل ہوسکتا ہے۔ویکسینیشن کے ذریعے اس پر قابو پانا ممکن ہے۔

  • پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    پنجاب،23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ،37 ہزار افراد میں تصدیق

    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام، یواین ڈی پی، یواین ایڈز اور یونیسف کے مشترکہ تعاون سے ایچ آئی وی /ایڈز سے بچاؤ کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ متوازن زندگی اور احتیاطی تدابیر کے اصولوں کو اپنا کر ہی ایڈز سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

    ایڈز سے نفرت، مریض سے نفرت نہیں بلکہ ان سے بہترین برتاؤ عالمی دن کے موقع پر ہمارا پیغام ہے۔ڈاکٹر اختر ملک آج مقامی ہوٹل میں ایڈز پر منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔ سیمینار میں ایڈیشنل سیکریٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا، ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب ڈاکٹر الیاس گوندل، ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ڈاکٹر شاہد مگسی سمیت پروگرام ڈائرکٹرز شریک ہوئے جبکہ عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، یو این ایڈز اور یو این ڈی پی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ایچ آئی وی/ایڈز پر کام کرنے والی فلاح تنظیموں، خواجہ سرا تنظیموں اور کمیونٹی تنظیموں سے پانچ سو زائد لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔سیمینار میں بیماری کے بارے میں غلط تصورات کے موضوع پر خصوصی سٹیج ڈرامہ کا انعقاد کیا گیا۔

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں کی رازداری کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہیاور مخصوص گروہوں جن میں سرنج سے نشہ کرنے والے افراد زیادہ اس مرض کا شکار ہیں ان میں زیادہ ایڈز پھیلنے کی شرح زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مرض غیر ٹیسٹ شدہ خون کے انتقال اور سرنج کے غیر محتاط استعمال سے پھیل سکتا ہے اور یہ مرض غیر محتاط جنسی تعلق اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا کہ ساتھ کھانا کھانے اور ہاتھ ملانے سے یہ مرض نہیں پھیلتا۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب میں مفت تشخیص، علاج اور مشاورت کی سہولت تمام اضلاع میں موجود ہے۔ ٹرک، بس ڈرائیور اور جیل کے قیدیوں کی مفت ایچ آئی وی سکریننگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ میں اب تک 23 لاکھ افراد کی ایچ آئی وی سکریننگ کی گئی ہے اور پروگرام کے آغاز سے آج تک مجموعی طور پر 37 ہزار افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تصدیق ہوئی۔اس وقت صوبہ بھر میں سترہ ہزار سے زائد لوگوں کو تشخیص، علاج، مشاورت اور ادویات کی سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جارہی ہے۔

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

    پنجاب میں ایڈز کے مریض بڑھنے لگے،سیکس ورکرز کے کئے گئے ٹیسٹ

    ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام صوبہ بھر میں 45 مراکز پر ایچ آئی وی ایڈز کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کررہا ہے اور ایڈوانس بائیو سیفٹی لیول-3 لیبارٹری کے ذریعے ایچ آئی وی مریضوں کو مفت پی سی آر اور CD4 ٹیسٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ڈاکٹر اختر ملک نے کہا کہ ایڈز سے بچاؤ اور آگہی میں یواین ایڈز، یونیسف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ان کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ حکومت، میڈیا اور شہری تنظیمیں اس مرض کی آگہی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر الیاس گوندل نے کہا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ایڈز کا مریض مخصوص ادویات کے استعمال سے معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری ورٹیکل پروگرامز عاصم رضا نے کہا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر تعلیمی اداروں میں آگہی کی بھرپور مہم چلا رہا ہے

  • نکوٹین پاٶچز، تمباکو نوشی کے استعمال کیخلاف پینٹنگ مقابلہ

    نکوٹین پاٶچز، تمباکو نوشی کے استعمال کیخلاف پینٹنگ مقابلہ

    قاٸداعظم یونیورسٹی کی آرٹ سوساٸٹی میں نکوٹین پاٶچز، تمباکو نوشی کے استعمال کیخلاف پینٹنگ مقابلہ

    قاٸداعظم یونیورسٹی کی آرٹ سوساٸٹی اور کرومیٹک ٹرسٹ نے مشترکہ طور پہ تعلیمی اداروں میں نیکوٹین پاٶچز اور تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم کے حوالے سے طلبا و طالبات کے مابین پینٹنگ مقابلہ کروایا ۔
    مقابلے کا موضوع نکوٹین پاوچز اور تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے استعمال پہ پابندی تھا ۔ اس پینٹنگ مقابلے میں تیس سے زاٸد طلبا و طالبات نے شرکت کی اور تخلیقی مصوری کے ذریعے نکوٹین پاٶچز کے انسانی صحت پہ پڑنے والے نقصانات کو نمایاں کیا ۔

    مقابلے کے اختتام پہ ماہرین نے پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر پہ آنیوالے طلباء و طالبات کو شیلڈز دیں جبکہ دیگر شرکاء کو ان کی بہترین کاوشوں پہ سرٹیفیکٹس دٸیے گٸے ۔ اس موقع پہ قاٸداعظم یونیورسٹی کی آرٹ سوساٸٹی کی انچارج ڈاکٹر فوزیہ فاروق نے اس پینٹنگ مقابلے کو ملک بھر بالخصوص اعلی تعلیمی اداروں میں نکوٹین پاٶچز اور تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے استعمال کے خلاف بہت بڑی کامیابی قرار دیا ۔ اس موق پہ قاٸداعظم یونیورسٹی کی آرٹ سوساٸٹی کی انچارج کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں طلباء و طالبات کا مستقبل تابناک بنانا ہے تو تعلیمی اداروں کو نشے کی لعنت سے پاک کرنا ہو گا۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے مقابلے میں شریک طلباء و طالبات اور قاٸداعظم یونیورسٹی کی آرٹ سوساٸٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمباکو نوشی اور نکوٹین پاٶچز سمیت نشے کی دیگر جدید اقسام کے استعمال کا اصل ہدف نوجوان ہیں ۔ شارق خان کا کہنا تھا کہ متوسط طبقے سے جامعات تک پہنچنے والے طلبا و طالبات انتہاٸی مشکلات کے بعد اس سطح پہ پہنچتے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ نکوٹین پاٶچز اور دیگر اقسام کے نشے سے کسی کی بھی عمر بھر کی محنت ضاٸع نہ ہو ۔ شارق خان کا کہنا تھا کہ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور پاکستان کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے اس لیے ہمیں ان کا ہر براٸی سے تحفظ کرنا ہو گا اور اس کا بہترین طریقہ براٸی کے خلاف آگاہی ہے اور ہم کٹھن حالات میں بھی یہ سفر جاری رکھیں گے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان تمباکو سے پاک ممالک کی فہرست میں شامل ہو گا

  • پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج کانووکیشن، ڈگریاں و میڈلز تقسیم

    پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج کانووکیشن، ڈگریاں و میڈلز تقسیم

    پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، امیر الدین میڈیکل کالج کانووکیشن، ڈگریاں و میڈلز تقسیم
    ڈاکٹر بننے پر حکومت کی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے، میڈیکل ایجوکیشن کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں: ڈاکٹر یاسمین راشد
    پی جی ایم آئی کے سپیشلسٹ ڈاکٹر دنیا بھر میں گرین پاسپورٹ کا وقار بن چکے ہیں، پروفیسر الفرید ظفر
    ہمارا مشن اعلیٰ پیشہ وارانہ طبی تعلیم، غیر معمولی مہارت اورجذبہ ہمدردری کے ساتھ بہترین معالج مہیا کرنا ہے: پرنسپل
    وی سی یو ایچ ایس نے نئے ڈاکٹرز سے حلف لیا، سیکرٹری صحت نے کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا
    ایم بی بی ایس گریجوایٹس حافظ محمد ولید ملک نے 29، محمد شیراز 21 اور عاصمہ نے 10 میڈلز حاصل کئے

    پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ امیر الدین میڈیکل کالج کا کانووکیشن پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر کی زیر صدارت ایوان اقبال میں منعقد ہوا۔ تقریب کی مہمان خصوصی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد تھیں۔ پروفیسر الفرید ظفر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی طبی تعلیم کی جلائی ہوئی روشنی سے اندرون و بیرون ملک ہزاروں طالبعلم مستفید ہو چکے ہیں۔انسٹیٹیوٹ کے فارغ التحصیل سپیشلسٹ ڈاکٹرز بین الا قوامی سطح پر پاکستانی گرین پاسپورٹ کے لیے وقار اور عزت کا نشان بن کر ملک کا قابل فخر اثاثہ بن گئے ہیں۔کانووکیشن میں پوسٹ گریجوایٹ کرنے والے 70ڈاکٹرز اور ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کرنے والے 91گریجوایٹس میں ڈگریاں تقسیم کی گئیں جبکہ پی جی ایم آئی اور اے ایم سی کے پوزیشن ہولڈر ڈاکٹرز نے مجموعی طور پر 149گولڈ میڈلز تقسیم کیے گئے۔ کانووکیشن میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر احسن وحید راٹھور نے نئے ڈاکٹرز سے حلف لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن احمد جاوید قاضی، وائس چانسلر ز میڈیکل یونیورسٹیز، پرنسپلز، پروفیسر ڈاکٹر عائشہ شوکت، پروفیسر صاحبان، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم، طلبہ و طالبات کے علاوہ اساتذہ کرام اور والدین نے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ایم بی بی ایس گریجوایٹ حافظ محمد ولید ملک نے مجموعی طور پر 29میڈلز، محمد شیراز 21میڈلز اور عاصمہ نے 10میڈلز حاصل کر کے کانووکیشن میں اپنی قابلیت اور اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کی دھاک بٹھا دی۔

    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے شرکاء کو حکومت پنجاب کی صحت پالیسی سے آگاہ کیا اور کہا کہ ایک ڈاکٹر بننے پر حکومت کی کثیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل ایجوکیشن کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔ سیکرٹری احمد جاوید قاضی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، ایمانداری اور نیک نیتی کو اپنا شعار بنائیں اور پاکستان کا نام روشن کریں۔ انہوں نے پی جی ایم آئی اور امیر الدین میڈیکل کالج کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا، پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر اور فیکلٹی ممبران کو شاباش دی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے نئے بننے والے ڈاکٹر ز، ان کے والدین اور اساتذہ کرام کے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں طلبہ کو ہر سال میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں ملتا مگر آپ لوگ خوش قسمت ہیں جو ڈاکٹر بن کر نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے خاندان اور اہل علاقہ کیلئے فخر کا باعث بنے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارا مشن اپنے طبی اداروں میں اعلیٰ معیار کا پیشہ وارانہ علم، غیر معمولی مہارت او ر جذبہ ہمدردری کے ساتھ علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کر کے ادارے کو عالمی سطح پر بلند مقام پر لے جانا ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ امیر الدین میڈیکل کالج اپنی شاندار کارکردگی اور امتحانات میں بہترین نتائج کی بدولت مختصر عرصے میں میڈیکل ایجوکیشن کی دنیا میں ایک منفرد مقام بنا چکا ہے۔ جبکہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ساتھ منسلک لاہور جنرل ہسپتال نے کورونا کی وباء کے دوران عوام کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات پہنچانے کا چلینج قبول کیا اور ہمارے ڈاکٹر ز و نرسز نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دن رات مریضوں کی خدمت کر کے انکی جانیں بچائیں۔ با ہمت افراد اور پروفیشنلز کیلئے ہر نئی مشکل نئی راہیں کھولتی ہے چناچہ کورونا کی وباء سے ہمارے ڈاکٹرز نے سیکھنے کا موقع ضائع نہیں کیا اور LGH میں ٹیلی میڈیسن کا شعبہ متعارف کرایا جس سے ہزاروں لوگوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھر بیٹھے ڈاکٹرز کی کنسلٹنسی سے استفادہ کر کے بیماری سے بچاؤ کی تدابیر اور معلومات حاصل کیں۔ اسی طرح ڈینگی کی وباء میں بھی لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف کی طبی خدمات ہمارے شاندار ریکارڈ کا حصہ بن چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی جی ایم آئی اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت شعبہ طب کی دنیا کا درخشندہ ستارہ بن کر دوسروں کیلئے آگے بڑھنے کا رول ماڈل بن چکا ہے۔یہاں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ میڈیکل ایکسپرٹس اور معالجین اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے بل بوتے پر پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ صحت اور تعلیم دونوں انتہائی اہمیت کے حامل شعبے ہیں۔ہماری بھر پور کوشش ہے کہ میڈیکل گریجوایٹس کو صحت عامہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا کر ملک و قوم کی خدمت پر مامور کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹری کا شعبہ کاروبار نہیں بلکہ پیشہ پیغمبری ہے اور اس شعبے میں خدمات سر انجام دینے والے لوگوں کو غیر معمولی جذبہ قربانی اور انسانیت کی خدمت کے غیر مشروط عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونا چاہیے۔

    لاہور میں حوا کی دو اور بیٹیاں لٹ گئیں،اغوا کے بعد جنسی زیادتی

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

    پرنسپل پروفیسر الفریدظفر نے کہا کہ وہ اس موقع پر کامیابی حاصل کرنے والوں کو نصیحت کریں گے کہ وہ محنت اور لگن سے اپنی استقامت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ میری دعا ہے کہ یہ گریجوایٹس انسانیت کی خدمت کر کے نہ صرف اپنے انسٹیٹیوٹ کے حلف اوروقا ر کو چار چاند لگائیں بلکہ مستقبل میں مزید کامیابیاں بھی سمیٹیں۔کانووکیشن کے موقع پرڈگریاں حاصل کرنے والے طالبعلموں کے والدین خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے اور اپنے ہونہار بچوں کی خوشیوں میں براہ راست شرکت پر ان کے چہرے مسرت اور شادمانی سے تمتما رہے تھے۔تقریب کے اختتام پر فیکلٹی ممبران میں شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

  • رواں برس کی تیسری انسداد پولیو مہم کا آغاز

    رواں برس کی تیسری انسداد پولیو مہم کا آغاز

    28 نومبر سے رواں برس کی تیسری ذیلی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے

    ترجمان وزارت صحت کے مطابق ملک بھر کے 36 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 13.5 ملین بچوں کو انسدادِ پولیو قطرے پلوانے کا ہدف ہے جس میں پنجاب کے نو اضلاع سندھ کے آٹھ اضلاع، بلوچستان کے چھ اضلاع اور اسلام آباد شامل ہیں خیبر پختونخواہ کے 9 ہائی رسک  اضلاع میں مہم 5 دسمبر کو شروع ہوگی

    وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ حکومت پولیو کے خاتمے کیلئے پر عزم ھے پولیو کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت موثر اقدامات کیے جارہے ہیں36 اضلاع میں 13.5 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کا ہدف ہے مہم میں ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ "صحت محافظ”  حصہ لیں گے جو گھر گھر جاکر پانچ سال سے کم بچوں کو قطرے پلائیں گے پاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں بڑی پیش رفت کی ہے ہم دراصل وائرس کے خاتمہ کے کافی قریب ہیں، اور ہم جلد از جلد اپنی منزل کے قریب پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں،” وائرس کا پھیلاؤ ملک کے صرف ایک چھوٹے حصے میں رہ گیا ہے تمام والدین سول سوسائٹی میڈیا علماء کرام سے گزارش پولیو کے خاتمے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں

    مجھے پنجاب پولیو سے پاک چاہیے،جس ضلع میں کیس آیا افسران کیخلاف ایکشن ہو گا، وزیراعلیٰ پنجاب

    پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ذمہ دار حکومت،بابر بن عطا کو جیل کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ شیری رحمان

    پنجاب میں انسداد پولیو مہم کا آغاز،وزیراعلیٰ پنجاب نے دیں اہم ہدایات

     تھانہ لاری اڈا کی حدود میں پولیو ٹیم سے بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    پولیو ٹیم پر حملہ،ایک اہلکار شہید، ایک زخمی