Baaghi TV

Category: صحت

  • خواتین اولاد نہ ہونے پر تعویز گنڈوں کی بجائے میڈیکل چیک اپ کو ترجیح دیں

    خواتین اولاد نہ ہونے پر تعویز گنڈوں کی بجائے میڈیکل چیک اپ کو ترجیح دیں

    جنرل ہسپتال میں خواتین کی صحت اور اُنکی خود انحصاری پر سیمینار کا انعقاد

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا کہ سال نو 2023کو خواتین کے حقوق اور خود انحصاری کے طور پر منانے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین معاشرتی ترقی اور ملکی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اپنی صحت کے مسائل سے آگاہی حاصل کر سکیں بلکہ انہیں علاج معالجے اور ہیلتھ کئیر کے یکساں مواقع میسر آئیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال میں خوداتین کی صحت اور اُن کی خود انحصاری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے کیا جس میں پروفیسر فہیم افضل،ڈاکٹر مصباح جاوید، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق ، ڈاکٹر مہوش الیاس اور ڈاکٹر رضوانہ طارق نے بھی اظہار خیال کیا۔سیمینار میں نوجوان ڈاکٹرز سمیت ڈاکٹر محمد صفدر، ڈاکٹر محمد مقصود اور ڈاکٹر عبدالعزیز بھی موجود تھے۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین بہت سے مسائل اور بیماریوں کے بارے میں کسی کو بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں جس سے گائناکالوجی سے متعلق اُن کے امراض میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ان کی صحت کے لئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ امراض نسواں کے علاج کے متعلق خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی جائے تاکہ وہ معالجین سے بروقت طبی مشورہ حاصل کر کے علاج کروا سکیں۔ڈاکٹر لیلیٰ شفیق و دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ حیض اور دوران حمل خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کو مناسب آگاہی اور معلومات نہ ہونے کے باعث ذہنی، جسمانی اورمعاشرتی مشکلات پیش آتے ہیں جس کے لئے ضروری ہے کہ مائیں سن بلوغت کے وقت اپنی بیٹیوں کو بنیادی معلومات اور ضروری مسائل سے آگاہ کیا کریں تاکہ انہیں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ با اعتماد طریقے سے اپنی عملی زندگی میں قدم رکھ سکیں۔

    پرنسپل پی جی ایم آئی و معروف گائناکالوجسٹ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ خواتین اولاد نہ ہونے کی صورت میں اپنا میڈیکل چیک اپ کروانے کی بجائے تعویز گنڈوں کا سہارا لیتی ہیں جبکہ انہیں کسی اچھے ماہر امراض نسواں کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹرس، اووری میں غدود اور سسٹ بننا ایک عام سے بیماری بن چکا ہے جوخواتین میں نہ صرف بے قاعدگی کا باعث بنتا ہے بلکہ اولاد نہ ہونے کا ایک بڑا سبب بھی ہے تاہم خواتین کو اس کے لئے نیم حکیم کی بجائے کسی ماہر گائناکالوجسٹ سے مشورہ کر کے علاج کروانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹرز،گائناکالوجسٹ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آگاہی کے اجتماعات منعقد کر کے نوجوان لڑکیوں کا شعور اجاگر کریں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی صحت کا خود خیال رکھ سکیں۔ سیمینار کے اختتام پر سوالد و جواب کا بھی سیشن ہوا اور شرکاء نے جنرل ہسپتال میں اس اہم اور حساس موضوع پر سیمینار کے انعقاد کے سراہا۔

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

  • اسلام آباد؛ پولی کلینک میں ادویات کی کمی نے شدت اختیار کر لی

    اسلام آباد؛ پولی کلینک میں ادویات کی کمی نے شدت اختیار کر لی

    اسلام آباد؛ پولی کلینک میں ادویات کی کمی نے شدت اختیار کر لی ہے

    اسلام آباد میں پولی کلینک میں دو ماہ سے بچوں کی مختلف بیماریوں سے بچاو کی ادویات ختم ہوگئی ہیں جبکہ پولی کلینک میں مختلف بیماریوں کے علاج کی ادویات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اطلاعات کے مطابق پولی کلینک میں پیراسٹامول، ایماکسل سمیت ایمرجنسی میں ملنے والی ادویات نا پید ہیں اور پولی کلینک میں دور دراز علاقوں سے آنے والے مریض واپس جانے پر مجبور ہوگئے ہیں خیال رہے کہ حکومت کی گزشتہ ٹینڈرز کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ادویات کی فراہمی بند کی گئی ہے.

    واضح رہے کہ دوسری جانب ادویات کیلئے خام مال درآمد پراسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کی شرط ختم کردی گئی ہے جبکہ ادویات کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، کیوں کہ ادویات کیلئے خام مال درآمد پراسٹیٹ بینک کی پیشگی منظوری کی شرط ختم کردی گئی۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے وزارت صحت کو خط لکھ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ زندگی بچانے والی ادویات، آلات سرجری کی درآمدات پر خاص زور دیا ہے، امپورٹرز کو درآمدات کیلئے ٹرانزیکشنز کے لئے اپنے بینکس سے رابطے کی ہدایت کی جائے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ مئی اور جولائی 2022 کے پیشگی منظوری لازم قرار دینے والے سرکلر واپس لے لیے ہیں، اور 27 دسمبر 2022 کو بینکوں کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    پولیس مقابلے میں اے ایس آئی اور کانسٹیبل کو شہید کرنے والا ڈاکو ہلاک
    بھارت میں بے روزگاری 16 ماہ کی بلند ترین سطح پہنچ گئی
    رکن قومی اسمبلی ناصر موسی زئی کا تحریک انصاف چھوڑنے کا فیصلہ
    عورت کو امپریس کیا جانا چاہیے یا نہیں ؟ شاہ رخ خان نے بتا دیا

  • جنرل ہسپتال: رواں سال ڈینگی کے 3137 مریض صحت یاب، 3تا حال زیر علاج

    جنرل ہسپتال: رواں سال ڈینگی کے 3137 مریض صحت یاب، 3تا حال زیر علاج

    جنرل ہسپتال: رواں سال ڈینگی کے 3137 مریض صحت یاب، 3تا حال زیر علاج

    لاہورجنرل ہسپتال میں رواں سال ڈاکٹرز،نرسز و دیگر سٹاف کی کاوشوں سے ڈینگی بخار کے مشتبہ اور مصدقہ مجموعی طور پر3140مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کر کے اُن کی جانیں بچائی گئیں ہیں جومیڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کی پیشہ وارانہ مہارت اور ان تھک محنت کا منہ بولتا ثبوت اور اُن کی فرض شناسی کی قابل ستائش مثال ہے جس کی تمام دیگر ہسپتالوں میں بھی تقلید کی جانی چاہیے۔

    اس امر کا اظہار پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں ڈینگی بخار میں زیر علاج 3مریضوں کی عیادت کے موقع پر میڈیکل سٹاف اور مریضوں کے عزیز و اقارب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر محمد مقصود، ڈاکٹر جعفر حسین، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر عبدالعزیز و دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے پرنسپل پی جی ایم آئی کو اس حوالے سے بریفنگ میں بتایا کہ 2022 میں اب تک کل 3140 افراد ڈینگی کی علامات کے ساتھ ہسپتال لائے گئے جن میں سے 795 میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی جنہیں محکمہ صحت اور حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹوں، ادویات اور دیگر میڈیکل سہولتیں مفت فراہم کی گئیں جبکہ 3137مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس لو ٹ گئے ہیں اور تاحال ڈینگی کے صرف 3مریض جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے ہسپتال انتظامیہ،ڈاکٹرز و نرسز سے کہا کہ ہسپتال آنے والا ہر مریض ہمارے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے جس کا اجر نہ صر ف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی ملے گا۔انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں میں آنے والے مریضوں کی موثر دیکھ بھال اور علاج معالجے کی معیار ی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایل جی ایچ کی مریض دوست پالیسی جاری رہے گی اور تمام منصوبہ بندی کرتے وقت مریضوں کو اولین ترجیح کے طور پر رکھا جائے گا۔پروفیسر الفرید ظفر نے واضح کیا کہ جدیدمیڈیکل رحجانات اور عہد حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ڈاکٹر،نرسز اور پیرا میڈیکس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں مزید اضافے کے لئے تربیتی کورسز یا ریفرشر کورسز کروائے جائیں گے جس کے لئے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی مختلف شعبہ جات میں سرگرم عمل ہے۔

  • پنجاب کے مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مزید قلت کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مزید قلت کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مزید قلت کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف ٹیچنگ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مزید قلت کا خدشہ، محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ نے ٹیچنگ اسپتالوں میں اسپیشلائزیشن کی سیٹیں کم کر دی. جبکہ جنوری 2023 سے ہونے والی انڈکشن میں سیٹیں کم کردی گئی ہے۔ جس میں چلڈرن اسپتال لاہور کی سیٹیں 70 سے کم کرکے44 ہوگئی اس کے علاوہ چلڈرن اسپتال میں پیڈز میڈیسن کی 18، پیڈز سرجری 6، ہیپٹالوجی 3، ہسٹوپتھالوجی کی 2 کی بجائے 1 کردی گئی۔

    اس کے ساتھ ہی الائیڈ اسپتال فیصل آباد میں 40 سیٹیں کم کردی گئی، جبکہ فیصل آباد کے مختلف اسپتالوں میں مجموعی طور پر 100 اسپیشلائزیشن کرنے والے ڈاکٹرز کی سیٹیں کم کردی گئی ہیں. ناصرف یہ بلکہ چلڈرن اسپتال میں ہائوس آفیسرز بھی موجود نہیں ہوتے۔ اسپیشلائزیشن کرنے والے ڈاکٹرز کی کمی کے باعث مسائل پیدا ہوں گیں جبکہ بجٹ نہ ہونے کےباعث ڈاکٹرز کی سیٹیں کم کی گئی ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    گورنرپنجاب آج رات وزیراعلیٰ کوڈی نوٹیفائی کرنیکا ڈیکلریشن جاری کرینگے:رانا ثناء اللہ
    گورنرپنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کوڈی نوٹیفائی کردیا
    پرویز الہی سبکدوش، پی ٹی آئی اور ق لیگ کا عدالت جانے کا فیصلہ
    میگ لیننگ پاکستان کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گی
    رباط میں اسلامی مخطوطات کی بین الاقوامی نمائش شروع

    خیال رہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت کیلئے جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف رسا کشی اختیار کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب صحت جیسے اس اہم مسئلہ پر توجہ دینی چاہئے لیکن ان سیاستدانوں کے نزدیک عوام کے خیال میں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے. یہی وجہ ہے کہ انہیں عوامی مسائل نظر نہیں آتے ہیں.

  • جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

    جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت

    جنرل ہسپتال میں بریسٹ کلینک، خواتین کیلئے بہت بڑی نعمت ہے: صوبائی وزیر صحت
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے جنرل ہسپتال میں جدید سہولیات سے آراستہ بریسٹ کینسرکلینک کاافتتاح کرتے ہوئے کہا کہ اس مرض میں مبتلا خواتین کیلئے یہ سہولت بہت بڑی نعمت ہے جہاں وہ اپنے مرض کی تشخیص علاج کے ساتھ ساتھ آگاہی بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

    اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی و اے ایم سی پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آؤٹ ڈور میں قائم بریسٹ کلینک میں خواتین کو تمام سہولیات بشمول سکریننگ کیلئے جدید مشینری نصب کی ہے اور طبی معائنہ کیلئے گائنی و سرجری کے ڈاکٹرز ڈیوٹی پر موجود رہیں گے۔ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر ز صاحبان، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم بھی تقریب میں موجود تھے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر جیسے محنتی، فرض شناس اور قابل افسر قوم کا اثاثہ ہیں، حکومت ایسے افراد کی مکمل حوصلہ افزائی کرے گی۔ بعدازاں صوبائی وزیر صحت نے اکیڈمک کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمک کونسل میں بیٹھاہرپروفیسراپنے سٹوڈنٹس کیلئے رول ماڈل ہے۔ حکومت کا فرض ہسپتالوں کیلئے جدید عمارات کے ساتھ ساتھ ماڈرن طبی آلات و مشینری کی تنصیب شامل ہے جو حکومت مہیا کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تاہم میڈیکل ایجوکیشن کے اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹرز، نرسز دو دیگر سٹاف کو مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے، ان کی بہترین دیکھ بھال یقینی بنانے کیلئے اپنا پیشہ وارانہ و اخلاقی فریضہ سر انجام دیں۔ انہوں نے پی جی ایم آئی، امیر الدین میڈیکل کالج میں بہترین تعلیم و تربیت،تحقیق اور لاہور جنرل ہسپتال میں کوالٹی ہیلتھ کئیر کی فراہمی یقینی بنانے پر پرنسپل الفرید ظفر، فیکلٹی ممبران اور ہسپتال انتظامیہ کو شاباش دی اور توقع ظاہر کی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ دکھی انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے۔

    پرنسپل پروفیسرڈاکٹرسردارظفرالفرید نے صوبائی وزیر صحت کوجنرل ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کی تفصیلات بارے آگاہ کیا۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کابہترعلاج ومعالجہ اولین ترجیح ہے۔صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ہرآنے والامریض ہمارے لئے وی آئی پی ہے۔ہمارے دورمیں ہم روزانہ اپنے انچارج کو ہرمریض کی حالت بارے بتاکرگھرجاتے تھے۔ڈاکٹرکی خوش اخلاقی ہی مریض کی بیماری دورکردیتی ہے۔سرکاری ہسپتال عوام کے بجٹ سے بنائے جاتے ہیں اورپنجاب کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجہ میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعد ازاں پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال نے صوبائی وزیر صحت کو شیلڈ پیش کی۔

    اناللہ واناالیہ راجعون، ڈاکٹر عامر لیاقت انتقال کر گئے ،آخر وجہ کیا بنی ؟

    ڈاکٹر عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم روکنے کے حکم امتناعی میں سندھ ہائیکورٹ نے مزید توسیع کر دی ہ

    پولیس نےرکن قومی اسمبلی (ایم این اے) اورمشہور ٹیلی ویژن میزبان عامر لیاقت حسین کی موت کی تحقیقات شروع کردی

    عامر لیاقت کے انتقال کی خبر سن کر مولانا طارق جمیل کا اظہار افسوس ۔

  • قومی ادارہ صحت  نے لیبارٹریوں کو ٹائیفائیڈ بخار کے غیرمصدقہ ٹیسٹ کرنے سے روک دیا

    قومی ادارہ صحت نے لیبارٹریوں کو ٹائیفائیڈ بخار کے غیرمصدقہ ٹیسٹ کرنے سے روک دیا

    قومی ادارہ صحت نے لیبارٹریوں کو ٹائیفائیڈ بخار کے غیرمصدقہ ٹیسٹ کرنے سے روک دیا

    قومی ادارہ برائےصحت، این آئی ایچ نے ملک بھرکی لیبارٹریوں کو ٹائیفائیڈ کے غیرمصدقہ ٹیسٹ سے روک دیا۔ این آئی ایچ نے کہا کہ ٹائیفائیڈ بخار کی تصدیق کے لئے وڈال اور ٹائفی ڈاٹ ٹیسٹ نہ کیے جائیں، ٹائیفائیڈ کےکیسز سیلاب زدہ علاقوں سے رپورٹ ہو رہے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں کچھ لیبارٹری اور اسپتال اب بھی یہ ٹیسٹ کر رہے ہیں۔

    این آئی ایچ نے کہا ہے کہ ٹائیفائیڈ کی تصدیق کے لئے مصدقہ ٹیسٹ صرف بلڈ کلچر ہےاور وہی کیا جائے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بھی لیبارٹریوں اوراسپتالوں کووڈال اور ٹائفی ڈاٹ ٹیسٹ سے روک دیا. سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ غیرمصدقہ ٹیسٹ کرنےوالی لیب اوراسپتالوں کے خلاف ایکشن ہو گا۔ اسلام آباد ہیلتھ کیئرریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر اداروں نے بھی وڈال اور ٹائفی ڈاٹ ٹیسٹ سےمنع کردیا گیا ہے.

    علاوہ ازیں کورونا کے حوالے سے قومی ادارہ صحت نے بتایا کہ کل 4423 ٹیسٹ کیئے گئے جس میں مثبت کیسز کی تعداد 19 رہی جبکہ 24 کورونا مریضوں کی تعداد تشویش ناک ہے تاہم مزید کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے.وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات
    لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
    سینما کی تاریخ کا مشکل ترین، ممکنہ طور پر جان لیوا اور مہنگا اسٹنٹ ٹام کروز پر فلمبند
    سینجنٹا کا فصلوں کے بیمہ پروگرام کا کامیابی سے آغاز
    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار
    اسلام آباد سے شارجہ جانیوالے مسافر کے پیٹ سے ہیروئن بھرے کیپسول برآمد

  • میڈیکل آلات کی درآمد کی اجازت نہ ملنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    میڈیکل آلات کی درآمد کی اجازت نہ ملنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    میڈیکل آلات کی درآمد کی اجازت نہ ملنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    میڈیکل آلات کی درآمد کی اجازت نہ ملنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرلی گئی جبکہ ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن نے میڈیکل آلات کی درآمد کی اجازت نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا گیا ہے. درخواست میں وزارت صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو فریق بنایا گیا تاکہ عدالت انہیں حکم دے کہ وہ ان آلات کی درآمدگی کیلئے اجازت دیں.

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ ملک میں میڈیکل اور سرجری کے آلات اور مشینری کی درآمد میں درپیش مسائل کی وجہ سے طبی سہولتوں کی فراہمی میں سنگین بحران کا خدشہ سر پر منڈلا رہا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے طبی آلات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا تھا جس کے بعد امپورٹ پالیسی کو ڈریپ کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے.وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری
    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات
    لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنما ناصر بٹ نے ٹی وی چینل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا۔
    سینما کی تاریخ کا مشکل ترین، ممکنہ طور پر جان لیوا اور مہنگا اسٹنٹ ٹام کروز پر فلمبند
    سینجنٹا کا فصلوں کے بیمہ پروگرام کا کامیابی سے آغاز
    بازو میں شدید درد کی شکایت، وجہ لبلبے کا سرطان قرار
    اسلام آباد سے شارجہ جانیوالے مسافر کے پیٹ سے ہیروئن بھرے کیپسول برآمد

    ڈریپ گزشتہ کئی سال کے دوران جمع کرائی جانی والی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا اور اب تک بمشکل 3 ہزار درخواستیں ہی نمٹائی جا سکی ہیں۔ میڈیکل ڈیوائسز پیتھالوجیکل لیبارٹریز، سرجری اور اسپتالوں میں استعمال ہوتی ہیں اور ان میں سرنج، کینولا، شوگر اور بلڈ پریشر جانچنے والے آلات سے لے کر الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی تک کی مشینری شامل ہے، میڈیکل ڈیوائسز کے بغیر کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کر سکتا۔

    پاکستان کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد میڈیکل ڈیوائسز درآمد کی جاتی ہیں، لہٰذا امپورٹ رکنے کی وجہ سے اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کا عمل رکنے کا شدید خطرہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اب اس بارے میں عدالت سے رجوع کیا گیا ہے.

  • شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    شوگر کے مریضوں کیلئے استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت کا انکشاف

    مارکیٹ ادویات میں شوگر کے مریضوں میں استعمال کی جانیوالی انسولین کی قلت شدت اختیار کررہی ہے. شوگر کے مریضوں کو شوگر کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر حضرات مختلف اقسام کی انسولین تجویز کرتے ہیں، اس وقت مارکیٹ مختلف اقسام کی انسولین کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ٹریبیون کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی کی سابق پروفیسر آف میڈیسن اور ماہر امراض شوگر پروفیسر زمان شیخ نے بتایا کہ پاکستان میں شوگر کی مریضوں کی مجموعی تعداد 33 ملین (3کڑور 30 لاکھ) ہے۔ ان میں 19 ہزار 851 افراد ٹائپ ون شوگر جبکہ 32.9 ملین افراد ٹائپ ٹو شوگرکا شکار ہیں۔ شوگر ٹائپ ون میں مبتلا تمام مریض اپنی شوگر کو کنٹرول کرنے ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق استعمال کررہے ہیں کیونکہ انسولین کے بغیر ان کی شوگر کنٹرول کرنا ممکن نہیں،انھوں نے بتایا کہ ٹائپ ٹو شوگر کے مرض میں مبتلا 1.2 ملین مریض بھی انسولین لیتے ہیں۔انسولین لینے والے مریضوں کے لیے انسولین کا کوئی متبادل دوا موجود نہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر انسولین کی قلت نہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ انسولین کے کچھ برانڈ مارکیٹ میں وقتی طور پر قلت پیدا ہوجاتی ہے لیکن دیگر برآنڈ کی انسولین مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ سول سیل کیمسٹ کونسل آف پاکستان کے صدر عاطف بلو نے بتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں Humalin 70/30 انسولین کی قلت بدستور برقرار ہے، ادویات مارکیٹ میں انسولین سمیت جان بجانے والی دیگر ادویات کی بھی قلت برقرار ہے جبکہ بیرون ممالک سے درآمد کی جانے والی ادویات کا بحران نظر آرہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں.
    بلاول نے ارجنٹینا کی جیت پر لیاری میں ہونے والے جشن کی ویڈیو شیئرکردی
    احسان فراموش نہ بنیں، پرویز الہی نے پی ٹی آئی کو کھری کھری سنا دی

    ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹور مالکان کا کہنا تھا کہ دیکھا جارہا ہے کہ جو مریض تین ٹائم کی ادویات استعمال کرتے ہیں، اب مہنگائی کی وجہ سے دو اور ایک ٹائم کی دوا خریدنے پر مجبور ہیں۔ میڈیکل اسٹور کے مالک واصف شیخ نے بتایا کہ سال 2022 جون کے بعد سے تقریباً تمام دواؤںکی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، اگست میں سیلابی صورتحال کے بعد مختلف ادویات کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا جس کے پیش نظر مارکیٹ میں ادویات کی قلت پیدا ہوگئی، ادویات کی قلت بدستور موجود ہے۔ اسی دوران بیشتر ادویات مارکیٹ سے بھی غائب ہوئیں جس کے بعد یہی ادویات بیلک میں فروخت ہورہی ہیں جس میں انسولین بھی شامل ہیں۔

  • توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    توانا بچے روشن مستقبل کی ضمانت، زچہ بچہ کی سکریننگ ضروری: پرنسپل جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ توانا بچے ہی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں کیونکہ وطن عزیزکے معاشی ترقی اور استحکام کے لئے صحت مند نوجوان نسل موثر کردار ادا کر سکتی ہے لہذا شیرخوار بچوں کو پیدائشی طور پر مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور طبی پیچیدگیوں کی روک تھام کے لئے اُن کی مکمل سکریننگ ضروری ہے تاکہ قبل از وقت موروثی اور وائرل انفیکشن کا علم اور اُن کا موثر علاج بھی یقینی بنایا جا سکے۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے لاہور جنرل ہسپتال میں زچہ بچہ کی سکریننگ کی افادیت بارے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امریکی ماہر متعدی امراض پروفیسر مبین راٹھور نے خصوصی شرکت کی اور شرکاء کو نومولود بچوں میں وائرس” "Congenital Cytomegalovirusکی تشخیص، جدید طریقہ علاج اور دیگرتکنیکی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ سیمینار میں پروفیسر محمد اشرف سلطان، پروفیسر محمد شاہد، پروفیسر محمد فہیم افضل، ایم ایس ایل جی ایچ ڈاکٹر خالد بن اسلم، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر آفتاب انور،ڈاکٹر نادیہ ارشد، ڈاکٹر سونیہ ایوب سمیت صوبائی دار الحکومت کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے امراض نسواں و بچگان کے ڈاکٹرز کی کثیرتعداد شریک ہوئی۔

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسرالفرید ظفر نے یونیورسٹی آف فلوریڈا کے ماہر متعدی امراض پروفیسر ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کی لاہور جنرل ہسپتال آمد پر انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقامی ڈاکٹرز اپنی صلاحیتوں اور پیشہ وارانہ سکلز کے حوالے سے پوری طرح مہارت کے حامل ہیں تاہم جدید ترقی یافتہ ممالک کے شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین کو سیکھنے کے زیادہ مواقع میسر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ سمندر پار بسنے والے ڈاکٹر ز اپنے ہم وطن معالجین کو اپنے شانہ بشانہ چلانے کے لئے اُن کی گاہے بگاہے پاکستان آ کر تربیت اور نالج اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں جس سے جدید میڈیکل ورلڈ میں ہونے والی ترقی اور نئی ایجادات سے مقامی ڈاکٹر زکو آگاہی حاصل ہوتی ہے جو بالآخر مریضوں کے علاج معالجے کومزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہمارا مشترکہ ہدف بھی” پیشنٹ کئیر” ہے جس سے ماہرین کا باہمی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیئے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ زچگی کے بعد ماں بچے کا مکمل چیک اپ /سکریننگ انہیں مختلف قسم کے امراض کی پیچیدگیوں و تشخیص پر بر وقت علاج کی اہمیت کا حامل ہے اوراس ضمن میں گائناکالوجسٹ اور پیڈریاٹک ڈاکٹرز کو عوام میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ سیمینار کے اختتام پر پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے مہمان خصوصی امریکی ماہر متعدی امراض ڈاکٹر مبین حسین راٹھور کو اعزازی شیلڈ پیش کی اور اُن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ٭٭٭٭

  • فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘  پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    فیفا ورلڈ کپ:ماہرین نے ’کیمل فلو‘ پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا

    فیفا ورلڈ کپ: ماہرین نے قطر سے آنے والوں کو’کیمل فلو‘ سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : طبی جریدے میں شائع تحقیقی رپورٹ کے مطابق ورلڈکپ کے دوران نہ صرف قطر بلکہ اس کے پڑوسی ممالک میں کئی متعدی امراض پھیل سکتے ہیں۔ چونکہ لاکھوں افراد ٹورنامنٹ دیکھنے قطر آرہے ہیں اور ان سے کووڈ، منکی پاکس، مرس اور دیگر امراض مختلف ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے قطر سے برطانیہ آنے والے فٹ بال کے شائقین کو کیمل فلو کی علامات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے، ان علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور قے کرنا شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق قطر میں اونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے والے برطانوی شائقین کو اس سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ’کیمل فلو‘ کورونا وائرس سے ہی تعلق رکھتا ہے مگر یہ اس سے بھی زیادہ جان لیوا وائرس ہے۔

    اگرچہ قطر اس حوالے سے تیار ہے مگر لوگوں کے تحفظ کیلئے پھیلاؤ کی نگرانی کرنا ضروری ہے۔ماہرین نے قطر جانے والے افراد کو اونٹوں کو چھونے سے گریز کا مشورہ بھی دیا۔

    واضح رہے فیفا ورلڈ کپ میں سیمی فائلز کے لیے لائن اپ مکمل ہو گئی ہے، میگا ایونٹ کا پہلا سیمی فائنل منگل کو ارجنٹینا اور کروشیا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ دوسرے سیمی فائنل میں بدھ کو مراکش کا مقابلہ دفاعی چیمپئن فرانس سے ہوگا۔

    خیال رہے کہ مرس وائرس سب سے پہلے 2012میں سعودی عرب میں رپورٹ ہوا تھا اور اب تک اس کے 27مختلف ممالک میں 2600کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔