Baaghi TV

Category: صحت

  • لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور: پاکستان میں بھی منکی پاکس کے دو کیسز سامنے آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ہیلتھ الرٹ جاری کیا ہے-

    باخبر ذرائع کے مطابق لاہور میں منکی پوکس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں متاثرہ افراد کو فی الحال الگ تھلگ کر دیا گیا ہے اور اور فی الحال ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں-

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    واضح رہے کہ قبل ازیں پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے ہدایت کی تھی کہ صحت عامہ سے منسلک تمام قومی و صوبائی حکام منکی پوکس کے مشتبہ متاثرین کی جانچ کے لیے ہائی الرٹ پر رہیں۔ جبکہ ایئرپورٹس سمیت داخلی راستوں پر مسافروں کی نگرانی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

    جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا تھا کہ حفاظتی اقدامات کے لیے وقت پر تشخیص اہم ہے لہذا تمام سرکاری و نجی ہسپتال متاثرین کے علاج اور آئسولیشن (مریض کو تنہائی میں رکھنے) کے انتظامات کریں۔ این آئی ایچ نے یہ بھی وضاحت کی ہے فی الحال پاکستان میں منکی پوکس کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں ہے۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبے میں ’منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے‘ کے پیش نظر محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ ‘منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں۔ ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا تھا کہ افریقہ کے باہر منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے اور عام طور پر افریقہ میں اس کے متاثرین کی تشخیص نہیں کی جاتی۔ برطانیہ میں اب تک منکی پوکس کے 56 متاثرین سامنے آئے ہیں جن کی جلد پر دانے نکلتے ہیں اور انھیں بخار کی شکایت ہوتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں اس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ماہرین کو ڈر ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن وسیع پیمانے پر آبادی کو درپیش خطرہ کم بتایا گیا ہے مرکزی اور مغربی افریقہ کے دوردراز علاقوں میں یہ وائرس عام ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے کہا تھا کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا تھا کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہےاس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں –

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں دانے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ دانے میں بدلنے سے قبل یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بعد میں یہ دانے سوکھ کر گر جاتے ہیں لیکن بعد میں زخموں سے داغ پڑ سکتے ہیں انفیکشن عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور 14 سے 21 دنوں کے درمیان رہتا ہے۔

    جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے تو اس میں منکی پوکس پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس ٹوٹی اور پھٹی ہوئی جلد،سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہےاسے پہلے جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا، لیکن یہ جنسی تعلقات کے دوران براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں۔

  • کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا ۔

    کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکاء کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔

    سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔

    انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلاٸی جاۓ تو یقینا حکومت آٸندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ​​ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف NHSRC ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

  • پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس ضمن میں قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے منکی پوکس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا

    وفاقی اور صوبائی حکام منکی پاکس مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ملک کے داخلی راستوں بشمول ایئر پورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں،سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی،ماہرین قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،منکی پاکس جانوروں کے بعد اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے،منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانے اور رطوبت لگنے سے لگتا ہے، اسپتالوں میں طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ بھی دیا گیا،

    منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنیزم وضع کیاجائے،مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات بروقت اٹھائے جائیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے منکی پوکس مرض کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی ہدایت کر دی،

    قبل ازیں سندھ کے محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ،محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بیماری کے 111 کیسز انگلینڈ اور امریکہ میں رپورٹ ہوگئے پاکستان میں بھی منکی پاکس بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے منکی پاکس کی علامات میں سر اور پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے منکی پاکس سے چہرے اور جسم پر پھوڑے ظاہر ہو سکتے ہیں

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے منکی پاکس سے نمٹنے کے لیے ضرور ی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وبازدہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کی جانی چاہیے بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    ہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں

    ورپ اور مغرب میں‌ بندروں کی مہلک بیماری انسانوں میں پھیلنے لگی

  • موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ایک تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا بھر میں لوگوں کی نیند کا دورانیہ گھٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے ” دی گارجئین” کے مطابق تحقیق کے نتائج جرنل ون ارتھ میں شائع کئے گئے تحقیق کے مطابق اچھی نیند صحت اور شخصیت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں رات کے وقت کےد رجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اوسطاً عالمی سطح پر ایک فرد ہر سال 44 گھنٹے کی نیند سے محروم ہورہا ہے یا 11 راتوں تک وہ 7 گھنٹے سے بھی کم سوتا ہے جو کہ ناکافی نیند کا طے شدہ معیار ہے –

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    نیند کے کمی کا وقت درجہ حرارت میں اضافے سے بڑھ رہا ہے مگر کچھ گروپس دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں خواتین میں یہ شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ 65 سال کی عمرکے افراد دگنا زیادہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کے رہائشی 3 گنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اس تحقیق کے لیے68 ممالک سے تعلق رکھنے والے 47 ہزار افراد کے رسٹ بینڈ سلیپ ٹریکرز کا ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا۔

    درجہ حرارت میں اضافہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ ہارٹ اٹیک، خودکشیوں اور ذہنی صحت کے بحران میں اضافہ ہورہا ہے نیند کی کمی سے بھی ان اثرات کا خطرہ بڑھتا ہے اور محققین نے بتایا کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نیند کی کمی سے جسم کا وہ اہم ترین میکنزم متاثر ہوتا ہے جو درجہ حرارت کے صحت پر مرتب اثرات کے حوالے سے کام کرتا ہے تاہم ڈیٹا سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ لوگ گرم راتوں کے مطابق نیند کو بہتر بنانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔

    تحقیقی ٹیم کے قائد اور ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر کیلٹن مائنر نے کہا کہ ہم سب کے لیے نیند روزمرہ کے معمولات کا ایک حصہ ہے اور ہم اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں، مگر متعدد ممالک میں ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو مناسب وقت تک سو نہیں پاتے اس تحقیق میں ہم نے پہلی بار ایسے شواہد فراہم کیے ہیں کہ اوسط سے زیادہ درجہ حرارت انسانی نیند کو متاثر کرتا ہے، ہمارے خیال میں تو لوگوں پر اس کے اثرات تحقیق کے نتائج سے زیادہ بدتر ہوں گے۔

    فیٹی لیور ایک اور موذی مرض کی وجہ بن سکتا ہے،تحقیق

    محققین نے پایا کہ گرم راتوں کا نیند پر اثر تمام ممالک میں دیکھا گیا، چاہے وہ قدرتی طور پر ٹھنڈا ہو یا گرم موسم، جب رات کے وقت درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہوتا ہے تو اس کا اثر واضح ہوتا ہے غریب ممالک میں لوگ زیادہ نیند کھو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کھڑکیوں کے شٹر، پنکھے اور ایئر کنڈیشننگ جیسی ٹھنڈک خصوصیات تک رسائی کم ہے۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ ہمیں یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ پہلے سے ہی گرم آب و ہوا میں رہنے والے لوگوں کو درجہ حرارت میں اضافے کے حساب سے زیادہ نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑا،‘‘ مائنر نے کہا۔ "ہم نے توقع کی تھی کہ ان افراد کو بہتر طریقے سے ڈھال لیا جائے گا۔” مزید برآں، اعداد و شمار کے مطابق، لوگوں نے بعد کے اوقات میں نیند پوری نہیں کی۔

    مائنر نے کہا کہ اس تحقیق کے پالیسی سازوں کے لیے اہم مضمرات ہیں، جنہیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ شہروں، قصبوں اور عمارتوں کو گرمی سے اچھی طرح ڈھال لیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے صحت کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یوکے حکومت کے سرکاری مشیروں نے 2021 میں خبردار کیا تھا کہ وہ لوگوں کو موسمیاتی بحران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے خطرات بالخصوص ہیٹ ویوز سے بچانے میں ناکام ہو رہی ہے۔

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    مطالعہ میں استعمال ہونے والا ڈیٹا بنیادی طور پر امیر ممالک سے آیا، حالانکہ اس میں بھارت، چین، کولمبیا اور جنوبی افریقہ سے کچھ شامل تھے۔ کلائی پر پٹیاں ایسے لوگ پہنتے ہیں جنہیں گرم درجہ حرارت کی وجہ سے نیند میں خلل کا خطرہ کم ہوتا ہے، جیسے ادھیڑ عمر، امیر مرد۔

    مائنر نے کہا کہ "کم آمدنی والے لوگوں کو اعداد و شمار میں کم دکھایا گیا ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت شفاف ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جو پہلے ہی دنیا کے گرم ترین علاقوں میں شامل ہیں، جیسے افریقہ، وسطی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے۔ تحقیق نیند کے معیار کا اندازہ لگانے سے قاصر تھی، جیسے کہ نیند کے مختلف مراحل، لیکن لوگوں کی رات میں جاگنے کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    مائنر نے کہا کہ دنیا نے جو راستہ اس لحاظ سے چنا ہے کہ سیارہ کتنا گرم ہے اس کے نتائج ہر ایک کی نیند کے لیے ہوں گے۔”ہمارے فیصلوں، اجتماعی طور پر معاشرے کے طور پر، نیند کے لحاظ سے کی گئی تحقیق پر کافی لاگت آئے گی۔”

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

  • آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا ہے کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ منکی پاکس انفیکشن کے 11 ممالک میں 80 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    خوراک کی شدید قلت کے باعث ہم بھوک سے مرنے والے ہیں، سری لنکن وزیراعظم کی دنیا سے…

    خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    سری لنکا میں ایمرجنسی کا نفاذ ختم کر دیا گیا

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل بنانےکا فیصلہ

  • معروف بھارتی اداکارہ کاسمیٹکس سرجری کے دوران جاںبحق

    معروف بھارتی اداکارہ کاسمیٹکس سرجری کے دوران جاںبحق

    نئی دہلی: بھارت کی معروف اداکارہ چیتھانہ راج کاسمیٹکس سرجری کے دوران جان کی بازی ہار گئیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کےمطابق کناڈا شوبز انڈسٹری سےوابستہ مشہوراداکارہ چیتھانہ راج بنگلورو کے نجی اسپتال میں جسم کی اضافی چربی کو کم کروانے کے لیے آپریشن کروا رہی تھی جو ان کی موت کا باعث بنا۔

    اکشے کمارکی نئی آنیوالی فلم کیلئے پچاس ہزار سے زائد ملبوسات اور پانچ سو پگڑیاں تیار کی گئیں؟

    21 سالہ ٹی وی اسٹار کے والد نے کاسمیٹکس سینٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے کہا کہ چیتھانہ کی موت ڈاکٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوئی۔

    13 سال بعد "اوتار2” کا پہلا ٹیزر جاری

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16 مئی کو چیتھانہ کی سرجری ہوئی اور آپریشن کے کچھ دیر بعد ہی اداکارہ کے پھیپھڑوں میں گندا پانی جمع ہوا جو سانس لینے میں تکلیف کا باعث بنا مگر انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اداکارہ کی حالت شدید خراب ہونے پر انہیں آئی سی یو میں رکھنا تھا مگر کاسمیٹکس سینٹر میں انتہائی نگہداشت کا وارڈ بھی موجود نہیں تھا جہاں چیتھانہ کی سرجری کی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق چیتھانہ راج نے بظاہر طریقہ کار سے گزرنے سے پہلے اپنے والدین کو مطلع نہیں کیا تھا اور رضامندی کا فارم اداکارہ کے دوست نے بھرا تھا دوسری جانب چیتھانہ کے والدین اس صورت حال کے بارے میں قانونی مشورہ حاصل کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی بیٹی کی اچانک موت واقع ہوئی۔

    سہیل خان کا شادی کے 24 سال بعد اہلیہ سیما خان سے علیحدگی کا فیصلہ

  • شمالی وزیرستان میں  پولیو کا ایک اورکیس سامنے آگیا

    شمالی وزیرستان میں پولیو کا ایک اورکیس سامنے آگیا

    شمالی وزیرستان میں ایک اور پولیو کا کیس سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک سال کا بچہ پولیو وائرس سے مفلوج ہوا ہے، عالمی سطح پر ریکارڈ ہونے والا یہ چوتھا کیس ہے کیس رپورٹ ہونے کے بعد پورے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    صورت حال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے،اسد عمر

    ترجمان وزارت صحت عبدالقادر پٹیل نے بھی تصدیق کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان وزارت صحت عبد القادر پٹیل کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے ایک سالہ بچے میں پولیو کی تصدیق ہوئی۔رواں برس پاکستان سے پولیو کا تیسرا کیس رپورٹ ہوا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پولیو کے خاتمے کیلئے کوششوں کو مزید تیز کیا جارہا ہے۔بحیثیت قوم پولیو کا خاتمہ نہ ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ایک بھی کیس ہمارے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

    عمران خان کوسکیورٹی خطرات لاحق ، ائیر پورٹس پر وی آئی پی پروٹوکول مانگ لیا گیا

    انہوں نے کہا ہے کہ بچوں کو معذوری سے بچانے کیلئے لازمی ہے کہ ضرورقطرے پلوائے جائیں۔وائرس کے تدارک کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کاسلسلہ جاری ہےمیں بذات خود پولیو کے خاتمے کی کوششوں کی نگرانی کررہا ہوں میں نےکیسزرپورٹ ہونےکے بعد خیبر پختو نخوا کا دورہ کیا ہے۔

    پولیو پروگرام نے جنوبی خیبرپختونخواہ کے چھ اضلاع کو پو لیو وائرس کے لئے حساس قرار دیئے ہیں۔

    میرے گھر پر عمران خان نے حملہ کرایا، نور عالم خان

  • اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    اسقاط حمل اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والے ایک اہم جین کا انکشاف اور علاج دریافت

    جاپان: سائنسدانوں نے حمل ضائع کرنے والے جین کا انکشاف اور علاج بھی دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں نے چوہوں میں حمل ضائع ہونے اور پیدائشی نقائص کی وجہ بننے والی ایک اہم جینیاتی کیفیت معلوم کرلی ہے اور اس کا علاج بھی معلوم کیا ہے یہ جین ایکس کروموسوم میں پایا جاتا ہے اور اگر اس کی سرگرمی کو دبادیا جائے تو وہ مردہ بچے کی وجہ بن سکتا ہے یہ جین بیضے سے اگلی نسل تک جاتا ہےاوراس میں ڈی این اے سے وابستہ ایک پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہےدوسری جانب یہ بچے کی نشوونما میں بھی نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

    جاپان کے مشہور رائکن سینٹر سے وابستہ میٹابولک ایپی جنیٹکس سے وابستہ تجربہ گاہ میں اس کا انکشاف ہوا ہے تحقیق کے سربراہ ازوسا انوئی کے مطابق اس تحقیق سے بے اولادی اور بچوں کی نشوونما کے مسائل کو نئے سرے سے جاننا ممکن ہوگا۔

    یہ جین نان کوڈنگ آراین اے پر مشتمل ہے جو ایک کروموسوم میں پایا جاتا ہے اور اسے Xist کا نام دیا گیا ہے ہم جانتے ہیں کہ دو طرح کے کروموسوم نارمل انداز میں ملیں تو حمل ٹھہرتا ہےان میں ایکس وائی اور ایکس ایکس کروموسوم کے جوڑے بنتے ہیں۔

    یوں ماں اور باپ کے جنسی کروموسوم کی جوڑوں میں سے ایک ہی آگے بڑھ کر ملاپ کرتا ہے تو کبھی مردانہ اور کبھی زنانہ جین حاوی ہوتاہے اسی سے بچے کی جنس کا تعین بھی ہوتا ہے ماہرین نے چوہوں میں ایسی جینیاتی سرگرمی دیکھی ہے جس میں بالخصوص نربچوں کی موت ہوجاتی ہے یا وہ مردہ پیدا ہوتے ہیں دوسری جانب مادہ کی آنول نال بھی غیرمعمولی بڑھی ہوئی دیکھی گئی ہے۔پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس عمل میں Xist کی سرگرمی بھی رک جاتی ہے جو مادہ کی جانب سے آتا ہے۔

    پھر ماہرین نے باری باری کئی جین کو بے عمل کرکے یا خارج کرکے دیکھا کہ اس سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب جیسے ہی Xist کو بحال کیا گیا تو چوہوں میں اسقاط کا عمل رک گیا اور معلوم ہوا کہ اگر اس جین کو سرگرم رکھا جائے تو حمل گرنے کا رحجان کم ہوجاتا ہے۔ عام حالات میں اسے Xist کی ناکارہ امپرنٹنگ کا نام دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے چوہوں ترقیاتی نقائص کا علاج کرنے میں کامیاب ہو گئے جو دوسری صورت میں ماؤں کی جانب سے نسل نو سے متعلق ایپی جینیٹک ہدایات کی کمی کی وجہ سے قبل از پیدائش مہلکیت اور نال کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں-

    محققین اس بات کا تعین کرنے کے لیے مزید تجربات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ جب انڈے کے خلیے بنائے جاتے ہیں تو یہ مخصوص حیاتیاتی ہدایات کیسے قائم ہوتی ہیں، اور کیا ماحولیاتی عوامل اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    تاہم انسانوں پر اس کے اطلاق کے متعلق کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہے لیکن انسانی ادویہ پہلے چوہوں کو ہی دی جاتی ہیں اور چوہے طبی تحقیق میں ہمارے بہترین دوست اور معاون بھی رہے ہیں۔

  • پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    طبی تحقیقی ماہرین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطیس کے مرض میں مبتلا نوجوان مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ناصرف موٹاپے کا شکار ہے بلکہ ان میں سے اکثر سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقدہ تیسری سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی میں ذیابیطیس یا شوگر کے نئے مریضوں اوسط عمر 30 سے 35 سال ہے، جن کی اکثریت یعنی 77 فیصد مریض موٹاپے کا شکار ہیں-

    تحقیق کے مطابق شوگر کے مرض کا شکار نوجوان اور جوان مریض نہ صرف ان کنٹرولڈ شوگر یا شوگر کی زیادتی کا شکار پائے گئے بلکہ ان کے خاندان میں بھی شوگر کا مرض پایا گیا جس کی وجہ سے ان میں جلد دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں۔

    کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ عسکری کو کانفرنس کے دوران پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    دوسری جانب ایک دو نہیں بلکہ 11 تحقیقی مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف تین ماہ تک اپنی غذا میں سبزیوں کی شرح بڑھادیں تو مثبت اثرات صرف تین ماہ میں ہی سامنے آسکتے ہیں اس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی قابو میں آجاتی ہے اس ضمن میں 18 برس یا اس سے زائد عمر کے 800 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی کئے گئے سروے کا دوبارہ جائزہ (میٹا اینالِسس) کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات بہت جلد ہی موٹاپے کی یورپی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

    کوپن ہیگن میں واقع اسٹینو ڈائبیٹس سینٹر کی ماہر اینی ڈیٹے ٹرمانسن اور ان کے ساتھیوں نے تمام ڈیٹا جمع کرکے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اسے شائع بھی کرایا ہے۔

    تاہم یہاں سبزیوں والی غذاؤں کا مطلب، پھل، دالیں، لوبیا، اور گری دار پھل ہیں انہیں کھانے سے ٹرائی گلائسرائیڈ یا بلڈ پریشر پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طویل مدتی استعمال سے کچھ اورنتائج ملے ہیں۔ اس ضمن میں مارچ2022 تک انگریزی زبان میں شائع شدہ تمام تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس ڈیٹا میں 800 سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں جن میں دل اور ذیابیطس کی وجہ بننے والے بایومارکرز یعنی وزن، بی ایم آئی، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ پریشر، ہر طرح کا کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز شامل تھے۔ تقریباً ساری تحقیقات میں ہی شرکاکو دو گروہوں میں بانٹا گیا تھا جن میں عام گروپ کے لوگوں کو ان کی مرضی کی غذائیں کھانے کی آزادی تھی جبکہ کنٹرول گروپ کے شرکا کو پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں دی گئی تھیں۔

    ماہرین نے 12 ہفتے یعنی تین ماہ تک سبزیاں کھلائیں تو اکثر افراد کے وزن میں پانچ کلوگرام تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح خون میں شکر کی مقدار بہتر ہوئی، کولیسٹرول قابو میں آیا اور بی ایم آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

    جبکہ عام غذا استعمال کرنے والے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بڑھے ہوئے وزن کے شکار اور خود ذیابیطس کے کنارے پہنچنے والے افراد اب بھی پھل اور سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرکے اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    سفید لوبیا کا وائرس، سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت

    نیویارک: تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سفید لوبیا پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچانے والا وائرس سرطان کے علاج میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے مالیکیولر فارماسیوٹکس میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق جب اس وائرس کو سرطانی رسولیوں میں داخل کیا گیا تو اس نے اندر کا امنیاتی نظام سرگرم کردیا اور کینسر کا پھیلاؤ رکنے لگااسے انگریزی میں کاؤپی وائرس کہا جاتا ہے –

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    عام حالات میں یہ سفید لوبیا کے پتوں کو نشانہ بناتا ہے لیکن ایک پودے کا وائرس اب جانوروں اور انسانوں کے لیے شفا بن سکتا ہے اور عام حالات میں بھی انسانوں کے لیےبےضرر ہوتا ہے تاہم اس کام میں کئی سائنسداں شریک ہیں جن میں خردحیاتیات، نینوٹیکنالوجی، سرطان اور بایوٹیکنالوجی کے ماہرین قابلِ ذکر ہیں۔

    جین تھراپی،تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے علاج کی نئی امید

    جامعہ کلیفورنیا، سان ڈیا گو اورڈارٹ ماؤتھ کالج کےساتھیوں نے سات سالہ تحقیق کے بعد وائرس کو نینوذرات میں تقسیم کیا اسے کینسر امیونوتھراپی سے گزارا تو چوہوں اور کتوں پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب ہوئے نہ صرف یہ سرطانی رسولی میں داخل ہوکر اس کا علاج کرتا ہے بلکہ جسم کے اندر اپنا اثر بڑھا کر مستقبل کے سرطانی حملوں کو بھی پسپا کرسکتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یہ تحقیق کاؤپی وائرس نینوذرات کو مستقبل کی بہترین امینوتھراپی بناتی ہیں جیسے ہی اس کے نینوذرات کینسر ذدہ خلیات میں جاتے ہیں بدن کا دفاعی نظام خود کینسر کا دشمن بن جاتا ہے اسے مختلف اقسام کے سرطان پر آزمایا گیا ہے چوہوں کو جب جب جلد کے کینسر، بیضہ دانی، چھاتی، آنت اور دماغی کینسر میں مبتلا کیا گیا وائرس ان سب کے لیے یکساں طور پر مؤثر ثابت ہوا صرف یہی نہیں بلکہ یہ وائرس پورے بدن میں ہرطرح کی سرطان کے خلاف ایک دفاعی لہر پیدا کرتا ہے جو بہت خوش آئند بات بھی ہے۔

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف