Baaghi TV

Category: صحت

  • خیبرپختونخوا میں پولیو کا تیرہواں کیس سامنے آگیا.   قومی ادارہ صحت

    خیبرپختونخوا میں پولیو کا تیرہواں کیس سامنے آگیا. قومی ادارہ صحت

    پاکستان پولیو کا مکمل صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن ایسے وقت میں جنوبی خیبر پختونخوا کا علاقہ کوشش میں رکاوٹ بنتا نظر آرہا ہے جہاں رواں سال پولیو کا 13 واں کیس رپورٹ ہو ا ہے۔

    قومی ادارہ صحت نے تصدیق کی کہ لکی مروت میں ایک 18 ماہ کا بچہ پولیو وائرس کے سبب مفلوج ہو گیا۔
    12 دیگر کیسز جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی وزیرستان سے بھی رپورٹ ہوئے، یہ کیسز ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب پاکستان پولیو سے پاک ملک کا درجہ حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا، صحت کے حکام نے قبائلی اضلاع سے کیسز کی بڑی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا۔

    ڈان کے مطابق: وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ ‘ہم نے خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان لوگوں کی کثرت سے نقل و حرکت کے باوجود وائرس کو کہیں اور پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہم اس علاقے سے وائرس پر قابو پالیں اور اسے ختم کر لیں تو ہم پولیو کے خلاف جنگ جیت سکتے ہیں’۔
    نیشنل ہیلتھ سروسز کے وزیر عبدالقادر پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ ‘حکومت نے جنوبی خیبر پختونخوا میں ویکسینیشن مہم کے دوران انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے حفاظتی ٹیکوں کی اس شکل کی زیادہ قبولیت کی وجہ سے وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی ویکسین فراہم کرنا شروع کر دی ہیں اور ساتھ ہی ہر قسم کے جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صابن جیسی حفظان صحت کی مصنوعات بھی فراہم کی ہیں۔

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے بتایا کہ حکومت مزید بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے لیے حکمت عملیوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے زیادہ خطرے والے اضلاع کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں اس وقت سے خیبر پختون خوا میں ویکسین کی قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

    جنوبی خیبر پختون خوا میں اگلی پولیو مہم 15 اگست کو شروع ہوگی، پاکستان میں 2019 میں 147 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سے پولیو کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، اس سے اگلے سال یہ تعداد کم ہوکر 84 رہ گئی اور 2021 میں صرف ایک رہ گئی۔

  • کورونا وائرس: مزید دو افراد چل بسے

    کورونا وائرس: مزید دو افراد چل بسے

    کورونا وائرس سے مزید دو مریض انتقال کرگئے ہیں.
    قومی ادارہ صحت کے مطابق: ملک بھر میں کل 23، 423 ٹیسٹ کئے گئے جس میں جس میں 693 کیسز مثبت رپورٹ ہوئے ہیں.


    قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے جاری اعلامیہ کے مطابق: 180 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ شرح فیصد 2.95 ریکارڈ کیا گیا ہے.

  • ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    ملک میں 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کا شکار ہے

    دماغی فعلیات (فزیالوجی) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کم ازکم 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی طبعی دماغی مرض کی شکار ہے جن میں دردِ سر عام کیفیت ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی یومِ دماغی صحت کی مناسبت سے کہی ہے۔

    ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق: ہر سال، 22 جولائی دماغی صحت کے عالمی دن کے لیے وقف ہے،اس سال ورلڈ فیڈریشن آف نیورولوجی (ڈیلیو ایف این) نے دماغی صحت بہتر بنانے اور دماغی و اعصابی بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے کی مشترکہ کوشش پر توجہ مرکوز کی ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں دماغی امراض روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اسکے باوجو کہ ملکی سطح پر آبادی کی بنیاد پر دماغی امراض کی کوئی مربوط تحقیق نہیں ہوئی اسکے باوجود ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کی 10 فیصد آبادی مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہے۔

    22 کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف50 کے قریب مراکز میں نیورولوجسٹ کی سہولتیں میسر ہیں۔ پاکستان میں 1998 کے بعد سے نیشنل ہیلتھ سروے نہیں کیا جاسکاجبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں دماغی امراض سمیت مختلف بیماریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پروفیسر واسع نے کہا کہ بیماریوں کے بوجھ میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے مریضوں کے اہلخانہ پر معاشی ناہمواریوں کا بھی سامنا ہے۔

    ڈاکٹر نادر نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ہر سال 9 ملین افراد فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف دماغی امراض میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے اگر اس صورتحال کا بروقت تدارک نہیں کیا گیا توآنے والے دنوں میں دماغی امراض اور اموات کی شرح میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی سطح پر فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ آنے والی نسل کو آلودگی سے بچایا جا سکے۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت آلودگی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے صاف ہوا،ماحول کی صفائی اور شجر کاری کا کوئی انتظام نہیں جس سے آلودگی پر قابو پایا جاسکے،ہمارے شہروں میں صنعتی زون قائم ہونے کی وجہ سے زہر آلود دھواں سانس اور دیگر زہنی امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسانی دماغ کو صاف ستھرا اور پرسکون ماحول درکار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں انسان کا بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام مضبوط ہوتا جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ماحول دوستی کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر کوئی انتظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ آئندہ سالوں میں دماغی امراض کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی اضافے کا امکان ہے۔

    اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے پریس کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جسمانی معذوری کی نمبر ایک وجہ دماغی امراض ہیں،امراض کے نتیجے میں اموات ہونے میں دماغی امراض کا بوجھ دوسرے نمبر پر ہے،ہر تین میں سے ایک انسان کو دماغی مرض لاحق ہے۔

    دنیا بھر میں دماغی امراض بہت بڑی تعداد میں انسان صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مائیگرین (درد شقیقہ) دنیا کے تقریبا تین بلین انسانوں کی روزمرہ زندگی نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکے مختلف تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر پرائمری قسم کے سر درد 50 سال سے کم عمر کے انسانوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں اور اسطرح کے سر درد کی وجہ سے جہاں انسان کی معیار زندگی خراب ہو جایا کرتی ہے وہیں بیماری کی وجہ سے روز مرہ کام کاج متاثر ہونے کے بعد ایک معاشی بحران کا باعث بن جایا کرتا ہے۔ فالج، کمزور یادداشت(الزائمر)، رعشہ، مرگی سمیت دیگر دماغی امراض پاکستان سمیت دنیا بھی کی آبادی میں بڑے تناسب سے پائے جاتے ہیں۔ ان دماغی عارضہ کے باعث جہاں جسمانی نظام صحت خرابی کا شکار ہو جاتا ہے وہیں ان امراض کے باعث خاندان سمیت معاشرے کو صحت مند انسانوں کی کمی واقع ہو جایا کرتی ہیں جسکے باعث فرد، خاندان و معاشرے ایک معاشی بحران کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

    شرکا نے کہا کہ عالمی یوم دماغ 2022 کے موقع پر آئیں سب مل کر دماغی امراض کے حوالے سے “آگاہی” پیدا کریں کیونکہ دماغی صحت ذہنی، سماجی و جسمانی تندرستی کے لیے “بنیاد” ہے۔ دماغی امراض سے “بچاؤ” کیلئے مشترکہ کوششیں کریں کیونکہ دماغ کے بہت سے امراض سے “بچاؤ” ممکن ہے۔ ان امراض کے حوالے سے وکالت کریں تاکہ عالمی سطح پر ہونیوالی دماغی صحت کی کوششوں کا حصہ بنیں۔

  • کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    کورونا وائرس: تین افراد انتقال کرگئے

    ملک بھر میں کورونا وائرس کی شرح میں مسلسل تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔
    جس کے بعد کورونا مثبت کیسز کی شرح2.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

    قومی ادارہ برائے صحت (این آئی ایچ) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 21,315 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے599 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    این آئی ایچ کے مطابق پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح دو اعشاریہ آٹھ ایک فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
    تاہم وائرس سے مزید 3 افراد انتقال کر گئے
    جبکہ 170 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک ہے
    کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ ماسک پہننا اور ویکسین لگوانا بھی ضروری ہے۔

  • کورونا وبا: ملک بھر میں 236 نئے کیس رپورٹ

    قومی ادارہ صحت کے مطابق ملک بھر میں کیئے گئے ٹیسٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 236 مزید نئے کیسز مثبت آئے ہیں۔ جبکہ شرح فیصد 1.55 رہی۔

    این آئی ایچ نے بتایا: اس وقت پاکستان میں 152 مریضوں کی طبیعت تشویشناک ہے۔ 

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کی وبا کا خاتمہ فلحال ممکن نہیں ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیدروس نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے کورونا کیسز کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وبا کا خاتمہ قریب نہیں ہے۔

    ادھر وائٹ ہاؤس نے کورونا کے نئے ویریئنٹ بی اے 5 سے نمٹنے کیلیے بوسٹر شاٹس لگوانے اور ٹیسٹس کروانے کی نئی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

    چین میں کورونا کیس رپورٹ ہونے پر شہر "وگانگ” میں تین دن کا لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔

  • دوستوں سے رابطہ رکھنا صحت کے لئے بھی مفید قرار

    دوستوں سے رابطہ رکھنا صحت کے لئے بھی مفید قرار

    کراچی : سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اپنے دوستوں، عزیزوں اور شناسا افراد کو اگر صرف ہیلو کی ای میل، کوئی مسیج، یا سوشل میڈیا پیغام دیا جائے تو نہ صرف وہ اسے پسند کرتے ہیں بلکہ یہ ان کی نفسیاتی صحت کے لیے بہتر ہوسکتا ہے۔

    امریکی نفسیاتی تنظیم کے مطابق آپ کے حلقے میں شامل افراد سماجی اکائیوں کی طرح ہی ہیں۔ اگر ہم انہیں خیریت اور مزاج پرسی کا کوئی پیغام بھیجتے ہیں تو نہ صرف آپ کے دوست اسے پسند کرتے ہیں بلکہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک تجربے میں شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ یاد کریں کہ ایک طویل عرصے بعد آخری مرتبہ انہوں نے اپنے کس جاننے والے یا کسی دوست کو فون، ٹیکسٹ، سوشل میڈیا یا ای میل پر’ہیلو ہائے‘ کے لیے رابطہ کیا تھا۔ دوسرے گروہ کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ یاد کرکے بتائیں کہ ان کے کسی دوست نے کب انہی ذرائع سے ان کی مزاج پرسی کی تھی۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ ایک سے سات درجے تک اس کو نمبر دیں جن میں اچھا لگنا، شکر گزار ہونا، اور خوشی محسوس کرنے جیسے درجے شامل تھے جو رابطے کے وقت انہیں محسوس ہوئے۔

    تیسرے تجربے میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے کسی ایسے دوست یا جاننے والا کا انتخاب کریں جس سے رابطہ کئے عرصہ گزر گیا ہے۔ اب اسے ایک چھوٹا پیغام بھیجیں یا پھر پیغام کے ساتھ کوئی چھوٹا سا تحفہ بھی روانہ کریں۔ اس تجربے کو بھی سات درجوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کو کہا گیا۔

    حیرت انگیز طور پر جنہیں پیغام موصول ہوا وہ بہت مسرور تھے لیکن جنہوں نے پیغام بھیجا تھا یا دوست کی خبر لی تھی انہوں نے ہمیشہ اسے وہ اہمیت نہ دی جو پیغام موصول کرنے والے نے محسوس کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے کہا ہے کہ اپنے پرانے دوستوں، جامعہ کے یاروں اور قریبی عزیزوں سے رابطہ کرتے رہیں کیونکہ وہ اسے انمول سمجھتے ہیں۔

    دوسری جانب صحت پر اس کے مثبت اور بہترین اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

  • وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع  ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی ماہرین

    نیو یارک: سائنس دانوں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے وٹامن سپلیمنٹ کا مجموعہ آپ کو تندرست نہیں رکھ سکتا-

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت نہیں ملے کہ ملٹی وٹامن اور مائیکرو نیوٹرینٹ سپلیمنٹ کے امراضِ قلب اور کینسر کو ٹال سکتے ہیں ایک وٹامن، دو یا پھر بہت سارے وٹامن کے مجموعوں کے ان دو امراض میں کمی یا بچاؤ کے ’واضح ثبوت‘ نہیں ملے البتہ حاملہ خواتین کو ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے لوگ وٹامن کو جادوئی گولیاں سمجھتے ہیں جو کہ درست نہیں ان کے اثرات نہیں ہوتے بلکہ یہ رقم کا ضیاع ہے-

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    اس ضمن میں سائنسدانوں کی ٹیم نے کل 54 تحقیقات اور مطالعوں پر غور کیا ہے جو برس ہا برس جاری رہیں اور ان پر خاصی رقم بھی صرف کی گئی تھی سائنسدانوں نے واضح کیا کہ ہم وٹامن سپلیمںٹ سے منع نہیں کررہے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان سے زیادہ امیدیں نہ لگائی جائیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ بعض سپلیمںٹ کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیٹا کیروٹین والی گولیاں ممکنہ طور پر پھیپھڑے کے سرطان کی وجہ بن سکتی ہیں جبکہ وٹامن ای کے امراضِ قلب سے بچاؤ یا سرطان سے بچانے میں کوئی خاص کردار سامنے نہیں آسکا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ ادویہ سے وابستہ ڈاکٹر جیفرے لنڈر کہتے ہیں کہ ورزش اور محتاظ غذا کے زیادہ بہتر اثرات ہوتے ہیں

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین نے کہا ہے کہ پھل اور سبزیاں کھانا انسانوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور وہ کینسر اور امراضِ قلب کے خطرات کم کرسکتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دواؤں کے مقابلے میں پھلوں اور سبزیوں میں وٹامن، مفید اجزا، فائبر اور دیگر فائٹوکیمیکلز ہوتے ہیں جو ملکر صحت کو بہتر رکھتےہیں۔ اس کے مقابلے میں الگ تھلگ وٹامن اپنی تاثیر کھودیتا ہے تاہم حاملہ خواتین میں فولک ایسڈ کے زبردست فوائد ہوتےہیں جنہیں لازمی قرار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ فولک ایسڈ بچے کی تندرست نشوونما میں اہم کردار کرتا ہے۔

    رپورٹ کی شریک مصنفہ ڈاکٹر جینی جیا کا کہنا ہے کہ طرزِ زندگی بدل کر امراض سے بچا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سادہ اور مناسب صحت بخش غذا پر زور دیا کیونکہ امریکی صنعتی غذاؤں کی ترجیح میں صحت کا عنصر شامل نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ورزش پر بھی زور دیا جسے انہوں نے جادوئی نسخہ قرار دیا۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

  • یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

    یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ

    یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت زیادہ سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ
    پنجاب ہیلتھ انیشیٹیو مینجمنٹ کمپنی میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کی صورتحال کا جائزہ اجلاس ہوا

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت اجلاس میں قومی صحت کارڈ کے تحت مریضوں کو فراہم کردہ طبی سہولیات کا جائزہ لیا گیا اجلاس میں سابق پرنسپل سمز پروفیسر محمود ایاز، سابق پروفیسر آف میڈیسن کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری اور پروفیسر غیاث النبی نے شرکت کی ،سی ای او پی ایچ آئی ایم سی ڈاکٹر علی رزاق کی جانب سے شرکاء کو قومی صحت کارڈ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،قومی صحت کارڈ کے تحت دستیاب تمام طبی سہولیات پر تبادلہ خیال کیا گیا

    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب کی عوام کو اس پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گے یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے انفراسٹرکچر اپگریڈ کریں گے اس پروگرام کے تحت پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ طبی سہولیات کے سلسلہ میں مقابلہ کی فضا قائم ہوگی۔ یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام کے تحت سرکاری ہسپتالوں کے وسائل میں اضافہ ہوگا۔

    قبل ازیں ڈائریا کے بڑھتے کیسز.لاہور میں بڑے پیمانے پر سروسز ہسپتال سے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا گیا ،کمشنر لاہور آفس اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن پاکستان کا باہمی اشتراک ، ہیڈ ڈبلیو ایچ او پاکستان ڈاکٹر پلیتھامہیپالا نےکمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کے حوالے پانچ لاکھ آگاہی پمفلٹس کیے کمشنر لاہور اور ہیڈ ڈبلیو ایچ او پاکستان نے سروسز ہسپتال ایمرجنسی میں آگاہی مواد بھی تقسیم کیا ،کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کا کہنا تھا کہ اسہال اور ہیضہ سے حفاظتی تدابیر پر عمل کر کے مکمل بچاو ممکن ہے۔۔شہری پانی ابال کر یا کلورین شدہ پانی پئییں ۔ کھانے سے پہلے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں کھانا اچھی طرح پکائیں۔گوشت سبزی کو صاف پانی سے دھوکر استعمال کریں۔

    ڈاکٹر پلیتتھا مہیپالا کا کہنا تھا کہ مون سون میں اسہال و ہیضہ سے بچاو کیلئے حفاظتی تدابیر پر عمل کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔پانی سٹور کے تمام ذرائع کی مستقل کلورینیشن کو جاری رہنا ناگزیر ہے کلورینیشن اور بغیر کلورینیشن ایریاز کی باقاعدگی سے ٹیسٹنگ و نتائج پر گہری نظر رکھی جائے

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    کمشنر لاہور نے کلورینیٹڈ ٹیسٹنگ و نتائج کو ٹاسک فورس کے ٹی او آر میں شامل کرنے کی ہدایت کردی کمشنر لاہور نے ڈائریا کیسز پر فوری اقدامات اور آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی تھی ۔کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں اسہال و ہیضہ کی تشخیص اور علاج معالجے کی سہولت موجود ہے ۔انتہائی اقدامات کے تحت بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے گھروں میں گولیاں تقسیم کیجارہی ہیں۔شہر میں ایکیوٹ واٹری ڈائریا کیسز پر سنجیدہ اقدامات اٹھا رہے ہیں ۔۔تمام محکمے س ڈیٹا شیرنگ حکمت عملی اور سینٹرل ایڈوائزری پر عمل کریں ،سروسز ہسپتال آگاہی مہم میں کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان ۔ہیڈ آف ڈبلیو ایچ او پاکستان ڈاکٹر پلیتھا مہیپالا ۔ہیڈ ڈبلیو ایچ او پنجاب ڈاکٹر جمشید۔ایم ایس سروسز ڈاکٹر عامر مفتی۔سی ای او ہیلتھ اتھارٹی لاہور۔و دیگر افسران کی شرکت۔

    علاوہ ازیں محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے سنٹرل ماڈل سکول ریٹی گن میں ڈینگی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، سیمینار میں ڈی سی لاہور عمر شیر، سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر، ڈی ای او ملک احسان اور دیگر افسران نے شرکت کی،تقریب میں سکولوں کے سربراہان نے بھی شرکت کی، ڈی سی لاہور عمر شیر چٹھہ کا کہنا تھا کہ ڈینگی کی روک تھام کو یقینی بنانا ہو گا.ڈینگی کے تدارک کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں.سکولوں میں ڈینگی کے بارے زیادہ سے زیادہ آگاہی دی جائے. سکولوں کے گراؤنڈز میں بارشی پانی کو کھڑا نہ ہونے دیا جائے. بارشی پانی کھڑا ہونے کی صورت میں فوری نکالا جائے. کھڑا پانی چونکہ مچھر کی افزائش کا امکان ہوتا ہے.سکولوں اور گھروں کی چھتوں کی چیکنگ یقینی بنائی جائے.ٹب، صحن اور ائیر کولرز میں پانی جمع نہ ہونے دیں.ڈینگی سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر کو اپنائیں.جہاں کہیں ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہو، فوری تلف کریں.ڈینگی سپرے کا عمل بھی جاری رکھیں. تمام محکموں نے ملکر ڈینگی کا تدارک کرنا ہے.

  • پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    پمز: 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کی جائے گی۔ وزیرصحت، عبدالقادر پٹیل

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل نے ملازمین کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے انہیں خوشبری سنائی کہ: ملازمین کی سول سرونٹس برقرار رکھنے کے لیے پمز کے 2018 کے وزارت صحت کے ماتحت منسک ادارہ کی حیثیت بحال کروانے کیلئے ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔
    ان خیالات کا اظہار وزیر صحت نے پمز ملازمین کے احتجاج میں جاکر کیا جس پر ملازمین نے دس روز سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے اس عمل کو سراہا۔
    واضح رہے کہ: پمز ملازمین نے متنازع قانون ایم ٹی آئی کیخلاف دس روز سے احتجاج کررہے تھے۔ تاہم اب وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد ملازمین نے اوپی ڈیز کی سروسز بحال کردی ہیں۔

    پمز کے ایک ملازم وسیم ارشاد کے مطابق: وزیر صحت عبدالقادر پٹیل پمز ہسپتال میں تشریف لائے اور ایم ٹی آئی جیسے کالے قانون کا خاتمہ کر نے کی یقین دہانی کرائی ۔
    انہوں نے مزید کہا: وزیر صحت نے کہا بہت جلد ترمیمی بل سینٹ سے منظور کروا کر پمز کے 2018 والے وفاقی سٹیٹس کو بحال کیا جاے گا لہذا نکی اس یقین دہانی پر احتجاج پیر تک موخر کرنے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  • رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ زید اسپتال رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا اسپتال ترجمان کا کہنا ہےکہ اسپتال میں کانگو وائرس کے3 مزید مشتبہ مریض زیر علاج ہیں دوسری جانب محکمہ صحت نے بتایا ہےکہ وائرس کی تصدیق کے لیے مریضوں کےنمونے قومی ادارہ صحت کوبھیج دیئےگئے ہیں۔

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اس وائرس کی چار اقسام ہیں –

    ڈینگی وائرس(Dengue)، ایبولا وائرس(Ebola)، لیسا وائرس(LASSA)، ریفٹی ویلی وائرسRiftVally)

    اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور جنوبی امریکا ‘مشرقی یورپ‘ایشاء اورمشرقی وسطی میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتہ انہی علاقوں سے چلا اسی وجہ سے اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے1944کو کریمیا میں سامنے آنے کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

    ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکسTick ( ایک قسم کا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کانگو میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑ ا مشکل ہے کیوںکہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔
    مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں جانورمنڈی میں بچوں کوتفریحی کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلے کے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

    جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستیں والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے *حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کوکاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں جانوروں کی نقل وحمل کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں، خصوصاً مذبح خانوں ،قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں مذبح میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشان دہی کر سکیں مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا