Baaghi TV

Category: صحت

  • وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی  سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات میں 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    وزن کم کروانے کے لیے کی جانے والی سرجری سے کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہونے کا امکان ۔

    باغی ٹی وی: جیسا کے آپ سب جانتے ہیں کے موٹاپا ایک بیماری ہے اور اس بیماری سے آج کل ہر کوئی بچنے کی بھرپور کوشش میں لگا ہوا ہے ۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بہت سے لوگ سرجری بھی کرواتے ہیں جس سے وہ اپنے موٹاپے سے با آسانی چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔اسی سرجری کے حوالے سے امریکی ریاست وِسکونسِن میں قائم گُنڈرسن لوتھرن ہیلتھ کیئر سسٹم کے محققین نے تقریباً 3776 موٹاپے کا شکار بالغ العمر افراد کا مطالعہ کیا ہے ۔ان میں سے کچھ موٹاپے میں مبتلا افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنے موٹاپے کو ختم کرنے کے لیے سرجری کروائی ہیں ۔ان افراد کی تعداد لگ بھگ 1620 ہے ۔
    اس حوالے سے محققین کا کہنا تھا کہ سرجری کرانے والے ان تمام افراد کا مطالعہ دس سال سے زیادہ عرصے تک کیا تاکہ سرجری کرانے والے اور نہیں کرانے والوں کے درمیان کینسر کی شرح کا موازنہ کرنے میں آسانی ہو جاۓ۔کینسر بہت سنگین بیماری ہے ۔یہ بیماری بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے ۔

    مزید یہ کہ تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ۔ان کو باقی افراد کی نسبت کینسر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن ایک اور اہم بات یہ کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ ان کی موت اس بیماری سے واقع ہو ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے وزن کم کرانے کے لئے سرجری کرائی ہوتی ہے ۔جو لوگ موٹاپے کو ختم کرنے کے لئے سرجری کرواتے ہیں تو ان کو اس قسم کے کینسر ۔گردوں کے سرطان ۔چھاتی کے سرطان ۔تھائرائیڈ کینسر ۔پھیپھڑوں کے کینسر کے امکانات میں کمی سے ہوتا ہے ۔تاہم ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کروانے کے لیے کی جانے سرجری کے نتیجے میں موٹاپے کا شکار افراد میں کینسر لاحق ہونے کے خطرات تقریباً 50 فی صد تک کم ہوجاتے ہیں ۔

  • سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    سینے کی جلن اور تیزابیت کا سبب بننے والی غذائیں

    تیزابیت کے سبب سینے میں پیدا ہونے والی کی جلن ایک ایسی پریشانی ہے جو کہ عموماً ہرشخص کے کبھی نا کبھی اور بعض کو عموماً درپیش رہتی ہے۔ سینے کی جلن کی بنیادی وجہ تیزابیت ہی ہے جب آپ کا پیٹ خوراک کو ہضم کرنے سے انکارکردیتا ہے تو خوراک کو ہضم کرنے والا تیزازب آپ کے کھانے کی نالی میں آجاتا ہے جس سے آپ کو سینے میں اور بعض اوقات حلق میں بھی جلن محسوس ہوتی رہتی ہے-

     

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    معدے کی تیزابیت کی علامات:

    گیسٹرو ایسو فیزل ریفلکس ڈیزیز (جی ای آر ڈی) ، ایسی حالت ہے جس میں جلن کا احساس ایک علامت ہوتی ہے۔ پیٹ میں موجود تیزاب غذائی نالی میں چلا جاتا ہے اور درد کا سبب بنتا ہے اس درد کو اسٹرنم یا چھاتی کی ہڈی کے پیچھے جلن کے احساس کے طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے ، ایسڈ ریفلیکس کا درد کئی بار غلط فہمی کے طور پر دل کے دورے کے درد کے لئے لے لیا جاتا ہے۔

    جلن کا درد نچلے سینے میں رہ سکتا ہے یا یہ گلے کے پچھلے حصے تک جاسکتا ہے اور واٹر بریش کے ساتھ وابستہ ہوسکتا ہے ، جو گلے کےپچھلےحصےمیں ایک کھٹا ذائقہ ہےاگر گلے میں لیرنکس (آواز پیدا کرنے والا باکس) کے قریب جلن ہو تو ، اس سے کھانسی کےواقعات ہوسکتے ہیں ۔ طویل عرصے تک ریفلکس کافی شدید ہوسکتا ہے کہ تیزاب دانتوں پر تامچینی باندھ دیتا ہے اور اس کی خرابی کا سبب بنتا ہے بھاری کھانے ، آگے جھکاؤ ، یا سیدھا لیٹنے کے بعد علامات اکثر خراب ہوجاتی ہیں۔ متاثرہ افراد اکثر جلن کے ساتھ نیند سے بیدار ہو سکتے ہیں۔

    معدے کی تیزابیت سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:

    سینے کی جلن پیچیدگیوں کے بغیر نہیں ہے اگر نظرانداز کیا جائے تو ، اکثر جلن اور غذائی نالی کی سوزش سے السر ہوسکتے ہیں ، ایسے چھوٹے چھوٹے حصے جہاں پر سے ٹشو خراب ہو جاتے ہیں۔ ان سے شدید خون بہہ سکتا ہے اس کے علاوہ ، زخم بننا جی ای آر ڈی کی دیگر اہم پیچیدگیاں ہیں غذائی نالی کے استر کے خلیوں کی قسم میں ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ ایسڈ ریفلیکس کے نتیجے میں ہوسکتا ہے ، جس کو بیریٹ ایسوفیگس کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو کہ غذائی نالی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرہ سے وابستہ ہے۔

    فاسٹ فوڈ کے فوائد

    سینے میں جلن، تیزابیت، الٹی یا ابکائی جیسی کیفیت اگر ہفتے میں دو سے زائد بار محسوس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ صحت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے، کیوںکہ آپ ایسیڈیٹی یعنی تیزابیت کا شکار ہیں طبی ماہرین کے مطابق خوراک میں تھوڑی سی تبدیلی کھانے کی مقدار اور کھانے کے اوقات کار میں تبدیلی کر کے سینے کی جلن اور تیزابیت کی دیگر علامات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے مسالوں، تیل اور چکنائی والی غذائیں مکمل طور پر چھوڑ کر زیادہ الکلائن والی غذائیں یعنی پھل، سبزیاں اور خشک میوہ جات کے استعمال سے تیزابیت کی شکایت کم کی جا سکتی ہے۔

    تیزابیت سے بچاؤ کے لیے مندرجہ ذیل غذاؤں سے پرہیز ضروری ہے-

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    چاکلیٹ اور چکنائی والی غذائیں:
    چاکلیٹ بھی سینے میں جلن کا باعث بنتی ہے، اس میں موجود کیفین، کوکوا پاؤڈر اور دیگر کیمیائی اجزا نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔جب کھانا پیٹ میں زیادہ دیر تک رہتا ہے تو جواباً جسم زیادہ تیزاب پیدا کرتا ہے وہ تمام کھانے جن میں چکنائی زیادہ ہو وہ مضرصحت ہیں، جیسے تلی ہوئی غذائیں،اس کے علاوہ دودھ اور دہی سے تیار کردہ مصنوعات جو نظام ہاضمہ کو سست کر دیتی ہیں، صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

    مرچ مسالے اور لہسن :
    مرچ مسالوں سے بھر پور غذاؤں کا استعمال جسم میں ایسڈ ریفلکس کو مزید تیز اور کھانوں میں موجود ’کیپساسین‘ نظامِ ہاضمہ کو سست کر دیتا ہے، اسی لیے اِن کا استعمال بھی کم سے کم کرنا چاہیے اس کے علاوہ لہسن کا استعمال بھی تیزابیت کو بڑھا دیتا ہے، بالخصوص کچّا لہسن صحت مند لوگوں میں سینے کی جلن اور پیٹ کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔یہ تیزاب کی پیداوار کو متحرک کرتا ہے جس سے سینے کی جلن کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔

    کیفین اور سافٹ ڈرنکس :
    وہ تمام غذائیں جن میں کیفین کی مقدار زیادہ ہو ان سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ تیزابیت کی شکایت کو دور کیا جاسکے اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس، چائے اور کافی کے استعمال کو بھی کم سے کم کر دینا چاہیے تاکہ تیزابیت کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

    وٹامن سی کیوں ضروری ہے؟

    علاوہ ازیں تنگ کپڑوں کے استعمال سے گریز کیجئے اگر آپ کے پیٹ کے گرد بیلٹ کس کر بندھی یا آپ کی قمیض یا جینز بہت چست ہے تو تو آپ کو تیزابیت کی شکایت ہوگی لہذا تنگ کپڑوں کو ترک کرکے نارمل کپڑے استعمال کیجئے۔

    سگریٹ اور شراب کا استعمال آپ کے نظامِ انہضام کو کمزور کرتا ہے لہذا اسے ترک کردینا ہی بہترہے ان دونوں اشیا میں شامل الکحل اور نیکوٹین آپ کے جسم کے تمام امور کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے-

  • تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے دوران کینسر کے علاج کے لیے تجرباتی دوا استعمال کرنے والے تمام مریض شفایاب ہو گئے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیا ہے میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سنٹر کی طرف سے کئے گئے ایک چھوٹے سے کلینیکل ٹرائل میں پتہ چلا کہ ریکٹل کینسر کے ہر ایک مریض کو جس نے تجرباتی امیونو تھراپی کا علاج حاصل کیا تھا کینسر سے شفا یاب ہو گئے ہیں-

    خلانوردوں کا طبّی معائنہ: ڈاکٹروں کا ہولوگرامز کے ذریعے عالمی خلائی اسٹیشن کا…

    ریکٹل کینسر کے 18 مریضوں کو صرف تجرباتی طور پر ڈوسٹر الیماب نامی دوا 6 ماہ تک دی گئی، جس کے نتیجے میں حیرت انگیز طور پر تمام مریض شفایاب ہو گئے ایک خاتون ساشا روتھ نے نیویارک ٹائم کو بتایا کہ اس کلینیکل ٹرائل کے بعد مجھے ڈاکٹرز نے کینسر سے شفا یاب ہونے کی خوشخبری سنائی میں نے جب اپنے خاندان کو بتایا توانہوں نے مجھ پر یقین نہیں کیا-

    یہی قابل ذکر نتائج آج تک 14 مریضوں میں دیکھے جائیں گے یہ مطالعہ اتوار کو نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوا۔ تمام مریضوں کو ملاشی کا کینسر مقامی طور پر اعلی درجے کے مرحلے میں تھا، جس میں ایک نایاب اتپریورتن تھا جسے مماثل مرمت کی کمی (MMRd) کہا جاتا ہے۔

    محققین نے کہا کہ انہیں دوا ساز کمپنی GlaxoSmithKline کی طرف سے dostarlimab نامی امیونو تھراپی دوائی کے ساتھ چھ ماہ کا علاج دیا گیا، جس نے تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کرنے میں مدد کی۔ ان میں سے ہر ایک میں کینسر غائب ہو گیا –

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    میموریل سلون کیٹیرنگ سینٹر سے وابستہ ماہر نے بتایا کہ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا کہ تجربے کے دوران کینسر کے تمام مریض شفایاب ہوئے ہوں میرا خیال ہے یہ کینسر کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

    تجربے میں استعمال کی گئی دوا لینے سے قبل ریکٹل کینسر سے متاثرہ افراد کیموتھراپی، ریڈئیشن اور دیگر سرجریوں سے گزرے تھے، جن کے نتیجے میں انہیں کئی جسمانی تکالیف کا سامنا تھا، لیکن حالیہ تحقیق اور تجربے کے بعد انہیں اب مزید کسی قسم کے علاج کی ضرورت نہیں ہے۔

    کینسر کی ماہر ڈاکٹر ہانا سانوف نے بتایا کہ تجربے میں استعمال ہونے والی یہ ایمیونوتھراپی کی دوا ہے۔ اس قسم کی ادویہ کینسر کا خود شکار کرنے کے بجائے مریض کی قوت مدافعت سے یہ کام کرواتی ہیں۔

    مچھروں کو مفلوج کرنیوالی مچھردانی

  • عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    عراق میں خون بہنے والے جان لیوا بخار کی وبا ٹوٹ پڑی

    بغداد: عراق کے بعض حصوں میں ایسے بخار کی وبا پھیل رہی ہے جس میں جس میں بدن سے خون رِستا ہے اور آخر کار تیزی سے بگڑتا ہوا مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ماہرین نے اسے کریمیئن کانگو ہیمریجک فیور (سی سی ایچ ایف ) کا نام دیا ہے جو جانوروں کی جُوں (ٹِک) سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے یہ بیماری نیرو وائرس سے پھیلتی ہے اور مریض بخار، شدید دردِ سر، متلی، قے، بدن میں اینٹھن اور شدید کیفیت میں ٹیکے والے مقامات اور ناک سے بھی خون پھوٹنے لگتا ہے۔

    تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    سال 2020 اور 2021 میں اس وبا نے عراق پر پنجے گاڑ دیئے تھے یہی وجہ ہے کہ عراقی محکمہ صحت نے جانوروں کے فارم اور کمیلوں میں بڑے پیمانے پر حفاظتی اسپرے کی مہم چلائی ہے۔

    یہ وبا پالتو مویشیوں مثلاً گائے اور بکری سے انسانوں تک منتقل ہوئی ہے خواہ وہ فارم میں ہوں یا جنگلی ماحول سے وابستہ ہوں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے سی سی ایچ ایف کے کل 111 مریضوں اور ان میں سے 19 اموات کی تصدیق کردی ہے۔ سب سے زیادہ اموات ذی قار صوبے میں ہوئی ہیں۔

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ سی سی ایچ ایف کیڑے کے کاٹنے یا پھر متاثرہ جانور کے ذبح ہونے کے فوراً بعد خون یا گوشت سے بھی انسانوں تک پہنچ سکتا ہے 2021 میں بھی ایک صوبے میں 16 کیس نمودار ہوئے جن میں سے سات افراد جاں بحق ہرئے تھے-

  • متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : اماراتی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سخت نگرانی سے منکی پاکس کے کیسز کی شناخت ممکن ہوئی، امارات میں کورونا وائرس کے مقابلے میں منکی پاکس کا پھیلاؤکم ہے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو…

    وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو صحتیابی تک اسپتال میں رکھاجائےگا، مریض سے ملنے والے افراد کو 21 روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ منکی پاکس 11 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    یورپ میں ایک اورخطرناک بیماری پھیلنا شروع

  • تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے بعد نکال لی گئی

    شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال مستونگ میں سرجن نے تین کلو وزنی رسولی کامیاب آپریشن کے ذریعے نکال لی۔

    ہسپتال کے پبلک ریلیشن آفیسر کیطرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بروز جمعرات 26 مئی 2022 کوسرجن ڈاکٹر مریم سلیم اور انکی ٹیم نے ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل آپریشن انتہائی مہارت سے سر انجام دیا۔ اس کامیاب آپریشن میں تین (03) کلو وزنی رسولی بریسٹ سے نکال لی گئی جو کہ سائز میں بھی بہت بڑی تھی۔ الحمد للہ مریضہ کی طبیعت اب بہت بہتر ہے۔

    دریں اثنا ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید احمد میروانی اور ہسپتال کے پی آر آفیسر ارباب اویس کاسی نے سرجن ڈاکٹر مریم سلیم اور انکی ٹیم کی بہترین کارکردگی کو بہت سراہا اور کامیاب آپریشن پر انکو مبارکباد دی اور سی ای او نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھی ہم ڈاکٹرز سے اسی طرح کی بہترین کارکردگی کی امید رکھتے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    پی آر آفیسر نے مزید کہا کہ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سعید میروانی نے چارج سنبھالنے کے بعد مختصر مدت میں ہسپتال میں قابل تعریف کام کیے ہیں، انکی کوشش ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹرز، سرجنز اور دیگر اسٹاف کو کام کرنے کے لیے تمام تر ضروری مشینری، ہر قسم کی ادویات اور دیگر ساز وسامان کے ساتھ ساتھ تمام تر سہولیات میسر ہو تاکہ ڈاکٹرز و سرجنز ہر قسم کا علاج اور بڑے آپریشنز بخوبی کرسکے۔ سی ای او کی کاوشوں اور ڈاکٹروں کی محنت کا ہی ثمر ہے کہ آج ایک بہت بڑا آپریشن کامیابی سے ہسپتال میں سرانجام پایا ہے۔ عوام کا اعتماد اور تعاون رہا تو آئندہ بھی یہاں کی غریب عوام کواپنے علاج معالجے اور کسی بھی قسم کے آپریشن کیلئے مستونگ سے باہر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، انکو انکی دہلیز پر ہی طب کے حوالے سے ہسپتال ھذا میں ہر قسم کی سہولت میسر ہوگی۔

  • پاکستان اور ایران کے درمیان  صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق

    پاکستان اور ایران کے درمیان صحت کے شعبوں میں کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سویٹزرلینڈ کے شہر میں جنیوا میں جاری ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی ایرانی وزیرصحت اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر بہرام عین اللہی سے ملاقات ہوئی ہے۔

    پاکستانی جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کیلئے ایران کا اسپیشل فائرفائٹنگ ٹینکر…

    ملاقات میں دونوں برادر ممالک میں دوطرفہ تعاون کو مزیز بڑھانے اور صحت کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہےاس ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کےقیام کا فیصلہ ہوا ہےجس میں پاکستان کی جانب سےڈی جی ہیلتھ اور ایران کی جانب سےوزیر صحت کے خصوصی معاون فوکل پرسن ہوں گے اس کے علاوہ دونوں اطراف متعدی امراض پر قابو پانے کیلئے سرحد پار تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    ایران کا پاسداران انقلاب کےسینئیر کرنل کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

    اس ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران دیرینہ برادرانہ تعلقات سےمستفید ہو رہے ہیں صحت عامہ کا عالمی تحفظ دونوں ممالک کا کلیدی مقصد اورمشن ہےدونوں ممالک صحت عامہ کے عالمی امور و مسائل پریکساں مؤقف رکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ قومی صحت کی نظام کی مضبوطی کیلئے بین الاقوامی تعاون اور معاونت میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے جس کے لئے ہمیں عالمی ادارہ صحت کے عالمی ترقی کے ایجنڈا میں صحت کے فروغ کو اولین ترجیحات میں رکھتے ہوے اقدامات کو یقینی بنانا ہو گا۔

    ایران میں ایف 7 لڑاکا طیارہ گرکر تباہ،2 پائلٹ ہلاک

  • لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور میں بھی منکی پو کس کے دو کیسز رپورٹ

    لاہور: پاکستان میں بھی منکی پاکس کے دو کیسز سامنے آگئے ہیں-

    باغی ٹی وی :پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر ہیلتھ الرٹ جاری کیا ہے-

    باخبر ذرائع کے مطابق لاہور میں منکی پوکس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں متاثرہ افراد کو فی الحال الگ تھلگ کر دیا گیا ہے اور اور فی الحال ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں-

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    واضح رہے کہ قبل ازیں پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے ہدایت کی تھی کہ صحت عامہ سے منسلک تمام قومی و صوبائی حکام منکی پوکس کے مشتبہ متاثرین کی جانچ کے لیے ہائی الرٹ پر رہیں۔ جبکہ ایئرپورٹس سمیت داخلی راستوں پر مسافروں کی نگرانی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

    جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا تھا کہ حفاظتی اقدامات کے لیے وقت پر تشخیص اہم ہے لہذا تمام سرکاری و نجی ہسپتال متاثرین کے علاج اور آئسولیشن (مریض کو تنہائی میں رکھنے) کے انتظامات کریں۔ این آئی ایچ نے یہ بھی وضاحت کی ہے فی الحال پاکستان میں منکی پوکس کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں ہے۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صوبے میں ’منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے‘ کے پیش نظر محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دیا تھا انہوں نے کہا تھاکہ ‘منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں۔ ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا تھا کہ افریقہ کے باہر منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے اور عام طور پر افریقہ میں اس کے متاثرین کی تشخیص نہیں کی جاتی۔ برطانیہ میں اب تک منکی پوکس کے 56 متاثرین سامنے آئے ہیں جن کی جلد پر دانے نکلتے ہیں اور انھیں بخار کی شکایت ہوتی ہے۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں اس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ماہرین کو ڈر ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن وسیع پیمانے پر آبادی کو درپیش خطرہ کم بتایا گیا ہے مرکزی اور مغربی افریقہ کے دوردراز علاقوں میں یہ وائرس عام ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے کہا تھا کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا تھا کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہےاس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں –

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، سوجن، کمر میں درد، پٹھوں میں درد اور عام طور کسی بھی چیز کا دل نہ چاہنا شامل ہیں ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں دانے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ دانے میں بدلنے سے قبل یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بعد میں یہ دانے سوکھ کر گر جاتے ہیں لیکن بعد میں زخموں سے داغ پڑ سکتے ہیں انفیکشن عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور 14 سے 21 دنوں کے درمیان رہتا ہے۔

    جب کوئی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوتا ہے تو اس میں منکی پوکس پھیل سکتا ہے۔ یہ وائرس ٹوٹی اور پھٹی ہوئی جلد،سانس کی نالی یا آنکھوں، ناک یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتا ہےاسے پہلے جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا، لیکن یہ جنسی تعلقات کے دوران براہ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ایک نایاب وائرل انفیکشن ہے جو اثرات کے اعتبار سے عام طور پر ہلکا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تر لوگ چند ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں وائرس لوگوں کے درمیان آسانی سے نہیں پھیلتا اور اس لیے اس کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کے حوالے سے خطرہ بہت کم بتایا جاتا ہے منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں۔

  • کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی مہم

    پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا ۔

    کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکاء کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔

    سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔

    سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔

    انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلاٸی جاۓ تو یقینا حکومت آٸندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ​​ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف NHSRC ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

  • پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس ضمن میں قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے منکی پوکس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا

    وفاقی اور صوبائی حکام منکی پاکس مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ملک کے داخلی راستوں بشمول ایئر پورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں،سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی،ماہرین قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،منکی پاکس جانوروں کے بعد اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے،منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانے اور رطوبت لگنے سے لگتا ہے، اسپتالوں میں طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ بھی دیا گیا،

    منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنیزم وضع کیاجائے،مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات بروقت اٹھائے جائیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے منکی پوکس مرض کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی ہدایت کر دی،

    قبل ازیں سندھ کے محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ،محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بیماری کے 111 کیسز انگلینڈ اور امریکہ میں رپورٹ ہوگئے پاکستان میں بھی منکی پاکس بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے منکی پاکس کی علامات میں سر اور پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے منکی پاکس سے چہرے اور جسم پر پھوڑے ظاہر ہو سکتے ہیں

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے منکی پاکس سے نمٹنے کے لیے ضرور ی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وبازدہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کی جانی چاہیے بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    ہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں

    ورپ اور مغرب میں‌ بندروں کی مہلک بیماری انسانوں میں پھیلنے لگی