Baaghi TV

Category: صحت

  • سردی کی شدت اور امراض سے بچانے والے پھل اور سبزیاں

    سردی کی شدت اور امراض سے بچانے والے پھل اور سبزیاں

    کراچی: سردیوں کی آمد آمد ہے جس میں نزلہ زکام سمیت کئی مسائل سر اٹھاتے ہیں۔ تاہم بزرگوں نے کہا ہے کہ ہر موسم کا پھل اور سبزی کھانے سے اسی موسم کے منفی اثرات سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
    سردیوں میں ہاتھ پیر سن ہونا عام بات ہے جس کے بہت سے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں نارنجی کا رس ایک بہترین ٹانک ثابت ہوسکتا ہے۔
    بالخصوص ایسے بزرگ جو ہاتھ پیر سن ہونے کی شکایت کرتے ہیں اگر دن میں ایک مرتبہ ایک گلاس اورنج جوس پیا جائے تو اس سے خون کی باریک رگیں کھلنے لگتی ہیں اور خون کا بہاؤ بہت بہتر ہونے لگتا ہے۔ اس ضمن میں ہزاروں افراد پر ایک سروے کیا گیا تو اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے۔ اب جان لیجے کہ دورانِ خون بڑھنے سے خود سردی کی شدت کم محسوس ہونے لگتی ہے۔
    لیکن یاد رہے کہ چکوترا (گریپ فروٹ)، لیموں، کینو اور سنگترے کا رس بھی یکساں فائدہ دے سکتا ہے۔ یہ تمام لذیذ پھل وٹامن سی سے مالا مال ہیں جو بدن کے اندرونی دفاعی (امنیاتی) نظام کو مضبوط کرتے ہیں اور ہمیں سردی اور اس سے وابستہ امراض سے بچاتے ہیں۔
    دوسرا پھل سیب ہے جو فائبراور کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس سے مالامال ہے۔ سردیوں میں اس پھل کا استعمال قدرتی طور پر آپ کو مضبوط بناکر سردی اور اس کی تکالیف سے بچاتا ہے۔
    تیسرا پھل کیوی ہے جو قدرے مہنگا تو ہے لیکن یہ بھی سردیوں سے بچاتا ہے۔ کیوی میں موجود اہم اجزا سردی کی بے چینی دور کرتے ہیں اور گہری نیند لاتے ہیں۔ وہ خواتین و حضرات جو بے خوابی میں مبتلا ہیں وہ سونے سے ایک گھنٹہ قبل کیوی کے دو پھل کھائیں تو اس سے اچھی اور گہری نیند آتی ہے۔
    دوسری جانب ایسی کئی سبزیاں ہیں جن کا استعمال سردیوں میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ان میں شاخ گوبھی، سبزچائےاور سرخ مرچیں بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کا استعمال سردی کے حملوں اور اس سے وابستہ امراض سے بچاتا ہے۔
    لیکن اس تناظر میں لہسن کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ لہسن بھی عین وہی کردار ادا کرتا ہے جو نارنجی اور دیگر کھٹے رس دار پھل کرتے ہیں۔ یہ دورانِ خون کو تیز کرتے ہیں اور سردی سے بچاتے ہیں۔ اس لیے سردیوں میں لہسن کا استعمال بڑھادینا ہی اصل فائدہ ہے۔
    دوسری جانب سرخ شملہ مرچ بھی سردی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ بھی وٹامن سی سے مالامال ہے۔ اس لیے سردیوں میں سرخ شملہ بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔
    ادرک میں کئی اجزا ایسے ہوتے ہیں جو گلے کی خراش دور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ادرک اندرونی سوزش کو بھی کم کرتی ہے۔ سردیوں میں ادرک کی چائے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ کولیسٹرول میں کمی کے علاوہ یہ جوڑوں کا درد بھی دور کرسکتی ہے۔

  • آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن

    آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن

    آیل آر بی ٹی ،اندھیرے میں امید کی ایک کرن
    آنکھیں انسانی وجود کا بہترین، انمول حصہ اور بینائی رب العالمین کی بہت بڑی نعمت ہے، آنکھوں کی قدر بینائی سے محروم افراد ہی جان سکتے ہیں، آنکھ کی حفاظت کریں گے تو ہماری بینائی بھی محفوظ رہے گی اور اگر حفاظت نہیں کریں گے تو پھر آنکھ میں خرابی کے بعد بینائی جانے کا بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، پاکستان میں اندھا پن کی زیادہ بیماریاں سفید موتیا، کالا موتیا، شوگر کے پردے پر اثرات، نور والے پردے کی عمر کے ساتھ ساتھ متاثر ہونا زیادہ چیلنجز ہیں۔ بروقت آنکھ کا معائنہ مستند آئی ڈاکٹر سے اس بیماری کی سٹیج کے حساب سے معائنہ اور علاج انتہائی ضروری ہے آنکھ میں ذرا سی بھی تکلیف پر فوری معالج سے رجوع کرنا چاہئے، تا ہم پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو غریب عوام کا بھلا کر کے نیکیاں سمیٹ رہے ہیں، انہی میں سے ایک ایل آر بی ٹی کا نام بھی سامنے آیا ہے،

    ایل آر بی ٹی ،لیٹن رحمت اللہ بینوویلنٹ ٹرسٹ کے زیر انتظام لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں آنکھوں کے امراض کے لئے ہسپتال قائم کیا گیا ہے ، یہ اسپتال ایل آر بی ٹی کے نام سے معروف ہے اور امراض چشم کے حوالے سے پاکستان کا سب سے جدید ترین اسپتال کہلایا جاتا ہے۔یہ فلاحی اسپتال ہے مریضوں سے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ ایل آر بی ٹی کے چیئرمین نجم الثاقب حمید کا کہنا تھا کہ ایل آر بی ٹی تیس سال قبل قائم کیا گیا تھا ،غریب لوگوں کے لئے یہ ادارہ بنایا گیا ہے، یہ اس زمانے کے اندر آنکھوں کا مرض بہت ایشو تھا، جسٹس ر عامر رضا خان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں جس کو ڈیل نہ کر سکیں، لوگ اس کے لئے ڈونیٹ کرتے ہیں، کروڑوں کی امداد ملتی ہے، یہ سب اللہ کی طرف سے اور لوگوں کی دعائیں ہیں، لوگوں کو فائدہ ہو تو پھر بات کرتے ہیں

    https://www.youtube.com/watch?v=RFecOiNUBL0

    لیفٹیننٹ کرنل ر معین رؤف کا کہنا تھا کہ سنگل سٹوری سے چلتا ہوا اسوقت 135 بیڈز کا ہسپتال ہے اور اس میں صرف آنکھ کا علاج کیا جاتا ہے، یہ ٹوٹلی رفاہی ادارہ ہے ،ایل آر بی ٹی اندھے پن اور آنکھوں کی دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی مشکلات اور تکالیف کو ختم کرنے کے لئے قائم کیا گیا جو پاکستان میں ایک بہتر طریقے سے کام کر رہا ہے،

    پاکستان بینائی سے محروم اور نابینا افراد کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ غریب افراد جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور انکی دہاڑی کم ہوتی ہے وہ آنکھوں کا علاج نہیں کروا سکتے ، اس ضمن میں ایل آر بی ٹی میں انہیں سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ،بینائی سے محروم ہزاروں افراد کے آپریشن کئے جا چکے ہیں، سرکاری ہسپتال جہاں مریضوں کو وقت دیا جاتا ہے اور انکا وقت پر آپریشن یا علاج نہیں ہوتا وہ ایل آر بی ٹی میں آتے ہیں

    ایل آر بی ٹی میں خواتین و مرد حضرات کے لئے جو علاج کے لئے آتے ہیں ،الگ الگ وارڈز بنائے گئے ہیں، ہسپتال کا بہترین نظام ہے، بہترین مشینری اور قابل ڈاکٹر ہسپتال میں موجود ہیں،دور دراز علاقوں سے لوگ چیک اپ کے لئے آتے ہیں اور انکا علاج کیا جاتا ہے،

    انسان جو مر چکا ہے اگر اس نے اپنی زندگی میں آنکھ عطیہ کرنے کا کہا ہے تو وہ دوسرے مریض کو لگا دی جاتی ہے، کسی مریض سے کوئی پیسے نہیں لئے جاتے ، مکمل علاج فری ہوتا ہے ،ہسپتال میں آنیوالوں کو بھی کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا،صفائی ستھرائی کے انتظامات دیکھ کر آنیوالے مریض بھی دنگ رہ جاتے ہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نیک کام کرنے والوں کا ہاتھ بٹایا جائے اور مخلوق خدا کی نیک کام میں مدد کی جائے،

  • فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک، انہیں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

    فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک، انہیں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

    فضائی آلودگی بچوں کے لیے بہت خطرناک ہے۔ درحقیقت، آلودگی بڑوں کے مقابلے بچوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ ان کے جسم کے اہم اعضاء یا پھیپھڑوں کی نشوونما جاری ہے بالغوں کے مقابلے بچوں میں سانس کے مسائل بہت آسانی سے پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، ایسے وقتوں میں، جب اردگرد کی ہوا بہت آلودہ ہو، بچوں کا زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

    فضائی آلودگی س محفوظ رکھنے کیلئے بچوں کو چہرے کے ماسک پہننے کی ترغیب دیں،جب بھی آپ کے بچے گھر سے باہر نکلنے والے ہوں تو انہیں ماسک پہننے کو کہیں نیز ان کو اس کی اہمیت بھی سمجھائیں۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    بچوں کو باہر کی آلودگی سے بچانا چاہیے کیونکہ یہ ان کی صحت پر مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے انہیں آلودہ ہوا کے رابطے میں آنے سے روکنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انہیں زیادہ تر وقت گھر کے اندر رکھا جائے، آپ انہیں ان کی پسند کے کچھ تخلیقی آرٹ ورک میں مصروف کر سکتے ہیں۔ جب بچے گھر پر ہوں تو یقینی بنائیں کہ وہ صرف ٹی وی یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے بجائے فیملی کے ساتھ معیاری وقت گزار رہے ہیں۔

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    گھر کے اندر فضائی آلودگی کو کم کرنے اور صاف ہوا کو سانس لینے کے لیے اپنے گھر میں ایلو ویرا، اسپائیڈر پلانٹ، بانس کھجور اور دیگر مختلف پودے رکھیں۔

    بچوں کو فضائی آلودگی کے منفی اثرات سے بچانا ہے تو آپ کو ان کی خوراک کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ کو بچوں کی خوراک میں زیادہ وٹامن سی شامل کرنا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے سبزیاں کھائیں جیسے ساگ، گوبھی وغیرہ۔ انہیں آملہ، موسمبی یا امرود دیں، یہ وٹامن ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کو فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

  • روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے   ماہرین

    روزانہ چائے اور کافی کا استعمال فالج اور دماغی بیماریوں سے بچاتا ہے ماہرین

    چینی طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ روزانہ 2 سے 3 کپ کافی یا 3 سے 5 کپ چائے پیتے ہیں، ان میں فالج اور ڈیمنشیا (دماغی بیماریوں کے مجموعے) کا امکان بھی بہت کم رہ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین میں 50 سے 74 سال کی عمر کے صحت مند افراد پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کافی پینا فالج سے متاثر ہونے کے بعد ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے تیان جن میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں یوکے بائیو بینک کے 3 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی، جن کی خدمات 2006 سے 2010 تک حاصل کی گئی اور 2020 تک ان کی مانیٹرنگ کی گئی۔

    ان رضاکاروں نے کافی اور چائے کے استعمال کو خود رپورٹ کیا اور تحقیق کی مدت کے دوران 5079 افراد ڈیمینشیا اور 10 ہزار 53 کو کم از کم ایک بار فالج کا سامنا ہوا۔

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

    تیانجن میڈیکل یونیورسٹی چین کے یوآن ژانگ اور ان کے ساتھیوں نے ان ہی اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا، جس پر انہیں معلوم ہوا کہ روزانہ باقاعدگی سے چائے اور کافی پینے والوں میں یہ مشروبات نہ پینے والوں کی نسبت فالج کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا بہترین اثرات اُن رضاکاروں میں دیکھے گئے جو روزانہ 2 سے 3 کپ کافی، 3 سے 5 کپ چائے یا مجموعی طور پر چائے اور کافی کے 4 سے 6 کپ پیتے ہیں۔

    ان افراد میں فالج کا خطرہ، چائے اور کافی نہ پینے والوں کے مقابلے میں 32 فیصد کم جبکہ ڈیمنشیا کا خطرہ 28 فیصد کم دیکھا گیا چائے اور کافی، دونوں کا اہم ترین مشترکہ جزو ’’کیفین‘‘ ہے جو اعصابی خلیوں اور دماغ کے درمیان پیغام رسانی کی رفتار بڑھاتے ہوئے دماغ کو کو عارضی طور پر تقویت پہنچاتا ہےایک کپ کافی میں اوسطاً 40 ملی گرام جبکہ چائے کے ایک کپ میں 11 گرام کیفین ہوتی ہے۔

    پچھلے دس سال میں مختصر پیمانے پر کیے گئے بعض مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کیفین کا استعمال ڈیمنشیا سے بچانے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے تازہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے جس میں ادھیڑ عمر اور بوڑھے افراد کی ایک وسیع تعداد کو شامل کیا گیا ہے۔

    اگرچہ نئی تحقیق سے بھی ڈیمنشیا اور فالج سے بچاؤ میں کیفین کی اہمیت واضح ہوئی ہے لیکن اب بھی یہ جاننا باقی ہے کہ کیفین کس طرح سے دماغ اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنا کر ہمیں اہم دماغی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ معتدل مقدار میں کافی اور چائے کا الگ الگ یا اکٹھے استعمال فالج اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    اس تحقیق کی تفصیلات ’’پبلک لائبریری آف سائنس‘‘ (پی ایل او ایس) نیٹ ورک کے آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

    اس سے قبل جریدے جرنل جے اے سی سی: کلینکل Electrophysiology میں شائع کی گئی 2018 میں آسٹریلیا کے الفریڈ ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چائے یا کافی پینے کی عادت دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے یا کافی میں موجود کیفین مرکزی اعصابی نظام کو حرکت میں لاکر ایڈی نوسین نامی کیمیکل کے اثرات کو بلاک کرتا ہے جو کہ atrial fibrillation یا اطاقی فائبرلیشن کا باعث بنتا ہے ا طاقی فائبرلیشن دل کی دھڑکن کا سب سے عام مرض ہے جس میں دل بہت تیزی سے دھڑکتا ہے اور علاج نہ کرایا جائے تو فالج بھی ہوسکتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کیفین سے دل کی دھڑکن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، تاہم کافی اور چائے وغیرہ اس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایڈی نوسین کو بلاک کرنے کی خصوصیت ہے اس حوالے سے روزانہ 3 کپ ان مشروبات کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

  • ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیابیطس کا مرض اس وقت وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42کروڑ 22لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق چالیس سال قبل کے اعدادوشمار کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ مرض پہلے کے مقابلے میں چار گنا بڑھا ہے۔ صرف پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد اس مرض کے سبب معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ایک سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی آٹھویں بڑی وجہ ہے اور 2005ء کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔ اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

    ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

    ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں جسمانی محنت کی کمی، موٹاپا اور غیر متوازن غذا شامل ہیں جن کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اس مرض کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 25برسوں میں یہ تعداد 14ملین تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ذیابیطس پر مؤثر کنٹرول کے لیے متوازن غذا، منصوبہ بندی، باقاعدہ ورزش اور ادویات کا استعمال ضروری ہے۔

    ذیابیطس کی معروف علامات میں تھکاوٹ کا احساس،بھوک اور پیاس میں اضافہ ، پیشاب کی زیادتی، ہاتھوں یا پیروں کا سن ہونا یا جھنجھناہٹ، انفیکشن کا با ر بار ہونا، بینائی میں دھندلاپن، زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا، خشک کھردری جلد/خارش کا ہونا اور جنسی مسائل شامل ہیں۔ لہٰذا کسی ایک یا زائد علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

    چونکہ ذیابیطس کے بارے میں شوگر ٹیسٹ / سکریننگ سے ہی معلوم ہوتا ہے، اس لیے ایسے افراد جن کی عمر چالیس برس سے زائد ہو، خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس موجود ہو، خواتین جن کو دوران حمل ذیابیطس ہو چکی ہو، خواتین جنہوں نے 9پونڈ سے زیادہ وزن کے بچے کو جنم دیا ہو اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو احتیاطاًسکریننگ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ بیماری کی صورت میں بروقت علم ہو سکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    ذیابیطس ٹائپ 1۔ بچپن یا اوائل عمری میں ہوتی ہے، اس میں انسولین قدرتی طور پر جسم میں کم پیدا ہوتی ہے ، اس کا علاج انسولین کے بغیر ممکن نہیں۔

    دوسری قسم کو ذیابیطس ٹائپ 2کہا جاتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں میں دس میں سے کم از کم نو ٹائپ 2میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بڑی عمر کے افراد میں ہوتی ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم میں بنتے والی قدرتی انسولین موثر طور پر استعمال نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

    لو بلڈ شوگر کی علامات میں کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا، جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپاہٹ محسوس ہونا، چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ، دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا اور مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا شامل ہے ۔اس کا امکان ان مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے جن میں حال ہی میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہو۔ اگر مریض مکمل طور پر ہوش و حواس میں ہو تو اسے کوئی میٹھا مشروب یا کوئی گلوکوز ٹیبلیٹس دینی چاہیے۔

    ذیابیطس کے شکار افراد اکثر اپنے ساتھ گلوکوز کی ڈوز یا کوئی میٹھی چیز رکھتے ہیں، جس کا ڈاکٹر بھی انہیں مشورہ دیتے ہیں۔ اگر مریض کچھ کھانے یا پینے کے بعد فوری طور پر حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے تو اسے ایسی غذا دیں جو آہستگی سے کاربوہائیڈریٹ ریلیز کرتی ہو جیسے سینڈوچ، پھل کا ایک ٹکڑا، بسکٹ اور دودھ وغیرہ۔ اس کے بعد مریض کا گلوکوز لیول چیک کریں۔ اگر حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    بلڈ شوگر بڑھنے کی علامات میں بہت زیادہ پیاس، بہت زیادہ پیشاب آنا (خاص طور پر رات کو)، وزن میں کمی، جلد پر خارش، زخموں کا دیر سے بھرنا اور مریض پر ہر وقت غنودگی طاری رہنا جو بے ہوشی کا باعث بن جائے شامل ہیں۔ اگر مریض گر جائے اور آپ کو بلڈ شوگر میں اضافے کا شبہ ہو تو فوری طور پر اس کی سانس چیک کرنی چاہیے اور ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال کرنی چاہیے۔ اگر مریض صحیح سانس نہیں لے رہا ہو تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں، اس پوزیشن میں اس کی سانس کی گزرگاہ کھل جائے گی۔ اگر وہ پہلو کے بل لیٹ نہیں پا رہا تو اس کے حواس، سانس اور دھڑکن کو چیک کریں۔ طبی امداد کے آنے تک بار بار مریض کو چیک کرتے رہیں۔

    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتائے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
    ذیابطیس کے مریضوں کیلئے کونسے پھل مفید ہیں؟
    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    یہاں ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتا رہے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    سبز سیب:
    سبز سیب ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سُپر فوڈ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پھل زنک، آئرن اور دیگر ٹریس میٹلز سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ سبز سیب میں چینی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ سُرخ سیب کا انتخاب نہ کریں کیونکہ ان میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

    موسمبی:
    سائٹرک پھل ذیابیطس پر حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر موسمبی میں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ موسمبی وٹامن سی، فلیوونائڈ اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔

    ناشپاتی:
    ناشپاتی کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر کی سطح کو جلدی نہیں بڑھا سکتا۔ یہ وٹامن اے، سی، ای، بی1، بی2، بی3 اور بی9 سے بھرپور ہے۔ ناشپاتی میں پوٹاشیم، کیلشیم اور زنک کی اعلیٰ مقدار ہوتی ہے۔ ناشپاتی کو ریشے دار ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور کیروٹینائڈز ہوتے ہیں۔

    جامن:
    جامن شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اس میں وٹامن اے، سی، گروپ بی اور ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہائی بلڈ شوگر لیول کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    امرود:
    کم گلیسیمک انڈیکس ہونے کے علاوہ امرود میں سوڈیم کی مقدار کم اور پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریض کی صحت کے لیے ضروری ہے امرود میں بھی موسمبی کے مقابلے چار گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے-

    ذیابیطس کی روک تھام کرنے والی 9 غذائی عادات

    ذیابیطس سے بچاﺅ یا لاحق ہونے پر اسے پھیلنے سے روکنا زیادہ مشکل نہیں اور طبی سائنس نے اس کے حوالے سے چند غذائی عادات پر زور دیا ہے۔

    گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینا
    ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں (ہفتے میں کم از کم 11 بار) ان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 13 فیصد کم ہوتا ہے۔ گھر میں بنے کھانے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جو ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    اجناس کا زیادہ استعمال
    جو لوگ دلیہ، گندم اور دیگر اجناس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں کیا گیا تھا۔

    اخروٹ کا روزانہ استعمال
    امریکا کی یالے یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تشکیل کا خطرہ ہو تو وہ تین ماہ تک روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کا استعمال کرے تو اس کی خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور یہ دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخروٹ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے۔

    غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلوں کی شمولیت
    یہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ منرل ذیابیطس کے شکار افراد کے دل اور گردوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھانے سے گردے کے افعال میں خرابی آنا سست ہوجاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    غذائی تجربات سے گریز
    امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کھانوں میں بہت زیادہ تنوع پسند کرتے ہیں ان میں میٹابولک صحت خراب ہوتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ مخصوص غذاﺅں تک ہی محدود رہتے ہیں وہ عام طور پر صحت بخش کھانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ان میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    دہی کا استعمال
    روزانہ دہی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ اٹھارہ فیصد تک کم کردیتا ہے اور یہ بات ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں سامنے آئی۔ محققین کے مطابق دہی میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاہم پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ دہی کے استعمال سے نقصان کوئی نہیں ہوتا ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ دن بھر میں 6 بار کم مقدار میں کھانا کھائیں مگر زیادہ مقدار میں کم تعداد میں غذا زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ چیک ریپبلک کی ایک تحقیق کے مطابق کم مقدا رمیں زیادہ بار غذا کا استعمال کچھ اتنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس تین بار میں پیٹ بھر کر کھالینا بلڈشوگر میں کمی لاتا ہے اور جسمانی وزن بھی متاثر نہیں ہوتا اور ہاں بھوک بھی محسوس نہیں ہوتی۔

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پھلوں کا بہتر انتخاب
    جو لوگ جوسز کی بجائے پھل خاص طور پر بلیو بیریز، سیب اور انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ہفتے میں کم از کم دو بار تو ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق پھلوں کے جوس جتنے بھی صحت بخش قرار دیئے جائیں مگر وہ میٹابولزم امراض بالخصوص ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔

    جبکہ کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا مریض بننے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کرنا جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت دل اور ذیابیطس جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

  • نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے    تحقیق

    نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے تحقیق

    امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں تاہم نمک کا استعمال کم اور روزانہ کم از کم ایک کیلے کو کھانا عادت بنا کر اس جان لیوا امراض قلب کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق جس کے نتائج طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے ہیں ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا میں نمک کا کم استعمال اور پوٹاشیم کی زیادہ مقدار امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں لوگوں میں یہ الجھن پیدا ہوئی تھی کہ کیا واقعی غذا میں نمک کا کم استعمال مفید ہے یا اس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہےاس تحقیق میں 10 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ڈیٹا سے ثابت ہوا کہ نمک کا کم استعمال دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ ہماری تحقیق کے لیے 6 بڑی تحقیقی رپورٹس کے معیاری ڈیٹا کو استعمال کیا گیا تھا جن میں نمک کی مقدار کے اثرات پر جانچ پڑتال کی گئی تھی ہمارے نتائج سے دل کی شریانوں سے جڑے امراض کے حوالے سے نمک یا سوڈیم کے کردار کو واضح کرنے میں مدد ملے گی، نمک کا کم استعمال امراض قلب سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق سوڈیم وہ جز ہے جو کھانے میں استعمال ہونے والے نمک اور کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے، مگر اس کی زیادہ مقدار اکثر پراسیس فوڈز کا حصہ ہوتی ہےاس کے مقابلے میں پوٹاشیم قدرتی طور پر پھلوں (جیسے کیلوں)، سبز پتوں والی سبزیوں، بیجوں، گریاں، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات اور نشاستہ دار سبزیوں میں موجود ہوتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ پوٹاشیم سوڈیم سے متضاد اثرات مرتب کرتا ہے یعنی خون کی شریانوں کو پرسکون رکھنے میں مدد اور سوڈیم کے جسم سے اخراج کو بڑھاتا ہے جبکہ بلڈ پریشر کو بھی کم کرتا ہےاس تحقیق میں 6 بڑی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جس میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے اخراج، امراض قلب کی شرح، اور دیگر پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    یہ ڈیٹا رضاکاروں کے متعدد بار حاصل کیے گئے پیشاب کے نمونوں سے اکٹھا کیا گیا تھا جس کو محققین نے سوڈیم کے جزوبدن بنانے کا سب سے قابل اعتبار طریقہ کار قرار دیا یہ نمونے 10 ہزار سے زیادہ صحت مند بالغ افراد سے حاصل کیے گئے تھے اور بعد ازاں لگ بھگ 9 سال تک ان میں امراض قلب کی شرح کی مانیٹرنگ کی گئی ان رضاکاروں میں سے 571 کو فالج، ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض قلب کا سامنا ہوا۔

    محققین نے دریافت کیا کہ نمک کا زیادہ استعمال امراض قلب کا خطرہ بڑھانے سے نمایاں حد تک منسلک ہے طبی ماہرین دن بھر میں 2300 ملی گرام نمک کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں یہ مقدار ایک چائے کے چمچ نمک کے برابر سمجھی جاسکتی ہے مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسم سے روزانہ ہر ایک ہزار ملی گرام سوڈیم کا اخراج امراض قلب کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھا دیتا ہے اس کے مقابلے میں روزانہ کی بنیاد پر ہر ایک ہزار پوٹاشیم کے کا اخراج امراض قلب کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہوجاتا ہے طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق سے غذا میں بہت زیادہ نمک کے استعمال کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں۔

  • یورپ اور ایشیا میں برڈ فلو وائرس پھیلنے لگا

    یورپ اور ایشیا میں برڈ فلو وائرس پھیلنے لگا

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا زور تھما نہیں کہ اب یورپ اور ایشیا میں برڈ فلو وائرس کا خطرہ سر اٹھانے لگا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جانوروں کی صحت کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ یورپ اور ایشیاء میں برڈ فلو وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، برڈ فلو وائرس کے یورپ اور ایشیائی ممالک میں متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ان ممالک میں لاکھوں مرغیوں کو تلف کردیا گیا ہے جب کہ پولٹری انڈسٹری کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

    عالمی ادارے کے مطابق وائرس انسانوں میں منتقل ہورہا ہے، چین میں 21 افراد میں برڈ فلو وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ جنوبی کوریا میں لاکھوں مرغیوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی جن کو تلف کردیا گیا ہے اس کے علاوہ جاپان کی وزارت زراعت کی جانب سے جاری بیان میں بھی پولٹری فارم میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یورپی ملک ناروے میں برڈ فلو وائرس کی خطرناک قسم H5N1 کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ بیلجئیم، فرانس اور ہالینڈ نے وائرس کی کیسز سامنے آنے کے بعد پولٹری مصنوعات کو انڈور رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ 11 نومبر کو ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے یورپ میں کورونا وائرس کے باعث اموات میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں عالمی وبا کے کیسز اور اس سے اموات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے خطے میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی اموات کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    عالمی وبا سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران دنیا بھر میں 31 لاکھ نئے کیسز سامنے آئے یعنی نئے کیسز میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے ایک فیصد اضافہ دیکھا گیا ہےمتعدی مرض کے نئے رپورٹ ہونے کیسز میں تقریباً 2 تہائی یعنی 19 لاکھ کیسز کی تشخیص یورپ میں ہوئی جبکہ یہاں کورونا کے نئے مریضوں تعداد میں 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہےوہ ممالک جہاں دنیا بھر کے مقابلے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں ان میں امریکا، برطانیہ، روس، ترکی اور جرمنی شامل ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس کے باعث اموات میں 4 فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور یہ کمی یورپ کے علاوہ دنیا کے تمام خطوں میں ریکارڈ کی گئی یورپی خطے میں موجود 61 ممالک جن میں روس بھی شامل ہے اور یہ وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے، یہاں کیسز کی شرح میں 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، یہاں گزشتہ ہفتے کورونا کیسز کی تعداد 10 فیصد تھی امریکی براعظموں میں کورونا کیسز کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او نے بتایا تھا کہ یہاں مثبت کیسز اور اموات کی شرح میں بالترتیب 5 فیصد اور 14 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، لیکن امریکا میں سب سے زیادہ تعداد میں کیسز رپورٹ ہوئے۔

    امریکی ادویہ ساز کمپنی فائزر نے امریکی محکمہ خوراک و ادویات سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بالغان کے لیے کورونا وائرس بوسٹر لگوانے کی منظوری دی جائےڈبلیو ایچ او نے ممالک سے درخواست کی ہے کہ کم از کم رواں سال کے اختتام تک کورونا بوسٹر کو مزید فروغ نہ دیں، تقریباً 60 ممالک میں بوسٹر کو تیزی سے فروغ دیا جارہا ہےجنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کے خطوں میں ویکسین کی کمی کے باوجود کورونا وائرس سے اموات کی تعداد میں تقریباً 3 فیصد کمی آئی ہے-

    قبل ازیں ڈبلیو ایچ او یورپ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگے نے کہا تھا کہ یورپ ایک بار پھر عالمی وبا کورونا وائرس کا مرکز بن رہا ہےانہوں نے خبردار کیا کہ اگر کورونا وائرس کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہ اٹھائے گئے تو خطے میں فروری تک مزید 5 لاکھ اموات سامنے آسکتی ہیں۔

  • اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    رات کی رانی Night blooming Jasmine ایک چھوٹا سا خوشبو دار پھول ہے لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ ناصرف خوبصورت ہے بلکہ اس میں صحت کے مختلف فوائد بھی ہیں اس پودے میں اینٹی آکسیڈینٹ، اینٹی سوزش اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہیں اس کی خوشبیو خواب آور ہے سر درد کو دور کرتی ہے اعصابی تناؤ اور ذہنی تھکاوٹ کو ختم کرتی ہے اختلاج قلب میں بھی مفید ہے-

    خشک کھانسی:
    ماہرین کے مطابق رات کی رانی کے چند پتّے لیں اور اُنہیں پیس لیں پپھر اس کا رس نکال کر شہد کے ساتھ پانی میں ڈال کر پی لیں، ایسا کرنے سے خشک کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور بےچینی:
    رات کی رانی کا تیل ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور بےچینی کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دماغ میں سیرٹونن کی سطح کو بڑھانے اور موڈ کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    نزلہ زکام:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کی رانی کے پتّوں اور پھولوں کو پانی میں اُبالیں اور پھر اُسمیں تُلسی کے چند پتّے بھی شامل کرلیں، اس کو اتنا پکائیں کہ یہ قہوہ بن جائے اور پھر اُس قہوے کو پی لیں، موسم سرما میں روزانہ یہ قہوہ پینے سے آپ کو نزلے زکام کی شکایت نہیں ہوگی۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    بخار:
    3 گرام چھال اور 2 گرام پتے تلسی کے 2-3 پتوں کے ساتھ لیں اسے پانی میں ابالیں اور دن میں دو بار پی لیں بخار میں بے حد مفید ہے-

    رات کی رانی کے پھول میں رات کو کیوں خوشبو ہوتی ہے؟

    رات کی رانی منفرد نہیں بلکہ بہت سے اور پھول بھی ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ اگر کسی ایسی جگہ پر جائیں بہت سے پھول ہوں تو آپ کو وہاں پر دن کے مختلف اوقات میں خوشبو میں فرق محسوس ہو گا۔

    پھول خوشبو کیوں دیتے ہیں۔ پھولوں کی خوشبوایوولیوشن کی بڑی اچھی مثال ہے۔ جب پھول میں پولن ہوں تو خوشبو ان جانوروں کو اٹریکٹ کرنے کا طریقہ ہے جو اس پولن کو بکھیر سکیں۔ ماحول میں جس طرح کی حیات ہو گی، پھول کی خوشبو بھی اسی کے مطابق ملے گی۔ ایسے پھول جو رات کو خوشبو دیتے ہیں، وہ ہیں جن کو پولینیٹ کرنے والے جاندار رات کو ایکٹو ہوتے ہیں، جیسا کہ پتنگے یا چمگادڑ۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    زمین پر رہنے والی زندگی، خواہ وہ حیوان ہوں، نباتات یا بیکٹیریا، سراکیڈئین ردھم میں ہیں۔ یعنی چوبیس گھنٹے کے سائیکل میں ان کے سونے، کھانے پینے، دماغی ایکٹیویٹی، خلیاتی نظام، ہارمون پروڈکشن وغیرہ کے سائیکل اپنے آپ کو اس کے مطابق آہنگ رکھتے ہیں۔ اس لئے رات کی رانی ہو یا کوئی اور پھول، اس کی خوشبو اس سائیکل کے ایک معین وقت میں ہی ملے گی۔

    اس کی افزائش موسم بہار و برسات میں بذریعہ قلم کی جاتی ہےمئی سے اکتوبر تک خوشگوار موسم کی راتوں کو بہت دور دور تک خوشبو بکھیرتا ہےاسی لئے اسکو رات کی رانی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا چونکہ بہت نازک مزاج ہے، اس لئے شدید گرم اور خشک موسم میں پتے وائرس کا شکار ہوتے ہیں سردی میں بھی اسکی نشوونما رک جاتی ہے۔ معتدل گرم اور مرطوب آب و ہوا میں بہتر افزائش کرتا ہے۔ آرائش اراضی میں جھاڑی دار پودوں کےساتھ متبادل لگایا جاسکتا ہے۔
    اس کو فنگس پوڈر اور نیم اسپرے کرتا رہنا چاہئے

  • خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون میں پائے جانے والے ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین کی مقدار سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ 19 سال پہلے ہی لگایا جاسکتا ہے، چاہے تب اس بیماری کا معمولی خطرہ بھی نہ ہو۔

    باغی ٹی وی : ’’نیچر کمیونی کیشنز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’فولسٹیٹن‘‘ (follistatin) نامی پروٹین و 1980ء کے عشرے میں دریافت کیا گیا تھا ویسے تو یہ تقریباً تمام جسمانی بافتوں (ٹشوز) سے خارج ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار جگر (لیور) سے خارج ہوتی ہے Follistatin پٹھوں کے ریشوں کی تشکیل اور نشوونما کے لیے ضروری ہے-

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    تحقیق کے مطابق اب تک تولید اور استحالہ (میٹابولزم) کے حوالے سے اس پروٹین پر خاصی تحقیق ہوچکی ہے جبکہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کے خون میں بھی اس پروٹین کی زیادہ مقدار دیکھی جاچکی ہے علاوہ ازیں، کچھ سال پہلے جانوروں پر مطالعات سے معلوم ہوا کہ انسولین کی کارکردگی متاثر کرنے میں بھی یہی پروٹین ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    تازہ تحقیق میں ماہرین نے سویڈن میں برسوں سے جاری ایک مطالعے ’’مالمو ڈائٹ اینڈ کینسر کارڈیوویسکیولر کوہورٹ‘‘ میں شریک 5000 افراد کے خون میں فولسٹیٹن پروٹین کی مقدار کا مطالعہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار اوسط سے زیادہ رہی، وہ کئی سال بعد ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہوئے۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    ایسے لوگوں میں ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے کا زیادہ سے زیادہ وقفہ 19 سال نوٹ کیا گیا، یعنی ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے 19 سال پہلے ہی ان کے خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معمول سے بڑھ چکی تھی۔

    تحقیق مین ماہرین کو ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان افراد کے ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا مکمل دارومدار، ان کے خون میں فولسٹیٹن کی اضافی مقدار پر تھا چاہے وہ جسمانی لحاظ سے مکمل صحت مند ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ خون میں فولسٹیٹن کی مقدار معلوم کرنے کےلیے سادہ بلڈ ٹیسٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے جس سے کسی صحت مند شخص کے بارے میں بھی پتا چل سکے گا کہ کئی سال بعد وہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا واضح امکان رکھتا ہے یا نہیں۔

    واضح رہے کہ انسولین ہی وہ ہارمون ہے جو شکر (گلوکوز) سے توانائی حاصل کرنے میں خلیوں کے کام آتا ہے۔ انسولین کی کارکردگی متاثر ہونے کی وجہ سے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس ہوتی ہے جو مرتے دم تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

  • ڈینگی وائرس کنٹرول سے باہر: پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ڈینگی وائرس کنٹرول سے باہر: پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    لاہور: ڈینگی کی روک تھام کے لیے پنجاب بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لئے صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لئے شہری میاں صابر نے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

    درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت نے ڈینگی کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، حکومت کی جانب سے ڈینگی اسپرے بھی نہیں کروایا گیا، عدالت حکومت کو فوری ڈینگی اسپرے کروانے کے احکامات جاری کرے اور صوبے میں فوری ڈینگی پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کروانے کے لیے حکومت کو ہدایات جاری کرے۔

    لاہور کے بعد پشاور میں بھی ڈینگی دوا کی قلت

    خیال رہے کہ ڈینگی اور دوا کی قلت دونوں پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگیا بخار کی جن دواؤں کی قلت پیدا ہوئی ہے ان کی متبادل دوائیں بھی نایاب ہوگئی ہیں جس کے باعث مریض اور ان کے اہل خانہ پریشان ہیں۔

    چوبیس گھنٹوں میں پنجاب میں ڈینگی سے 371 افراد متاثر ہوئے 283 کیسز لاہور میں رپورٹ ہوئے تاہم اسلام آباد میں ڈینگی کیسز کم ہونے کا رجحان جاری ہے جہاں ایک دن میں 45 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی گزشتہ روز کے پی میں ڈینگی کے 150 سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے، پشاور میں 10 مریض وینٹی لیٹرز پر زیر علاج ہیں-