Baaghi TV

Category: صحت

  • 12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    12 سال سے زائد عمر کے تمام افراد کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں ویکسین ضرور لگوائیں۔ ثاقب منان

    فیصل آباد(عثمان صادق)سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب ثاقب منان نے ہدایت کی کہ ریچ ایوری ڈور(ریڈ)کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں بھی 12 سال سے زائد عمر کے رہ جانے والے افراد کو ویکسین لگانے کے لئے ٹیمیں سرگرم عمل رہنی چاہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ویکسینیٹ ہونے سے وباء کی روک تھام یقینی ہو۔انہوں نے یہ ہدایت ڈی سی آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ریڈ مہم کے اہداف پر بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹرکاشف محمود،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز امداد اللہ چوہدری، سیکرٹری آرٹی اے محمد سروراور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے مہم کے اہداف اور حاصل کردہ ٹارگٹس کا تفصیلی جائزہ لیا اور سرکاری ونجی سکولوں وکالجوں میں طالب علموں کی کوریج کو تیز کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے آؤٹ ریچ اور فکسڈ ٹیموں کو متحرک رکھنے اور ابھی تک کم پروفارمنس والے علاقوں پر فوکس کرکے ہدف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے بتایا کہ ضلع میں ریڈ مہم تیز رفتاری سے جاری ہے اور اب تک مہم کے دوران ساڑھے 7 لاکھ افراد کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کی جاچکی ہے جبکہ مہم کے اختتام تک 10 لاکھ افراد کی ویکسینیشن ہوجائے گی جبکہ مہم سے قبل بھی ویکسینیشن کا عمل بلا تعطل جاری تھا اور 12 نومبر تک ضلع میں مجموعی طور پر 50 لاکھ افراد ویکسینٹ ہوجائیں گے۔انہوں نے میڈیا کے توسط سے عوام الناس سے پرزور اپیل کی کہ رہ جانے والے افراد اپنی قومی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ویکسین لگوائیں کیونکہ کورونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ریڈ کمپین کے دوران ضلع زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے ٹاپ اضلاع میں شامل ہے جس کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے بتایا کہ ضلع کے 48 سرکاری اور 85 نجی کالجز کے تمام طالب علموں کو تقریبا دونوں ڈوزلگ چکی ہیں تاہم فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر میں داخلہ کے لئے اپلائی کرنے والوں (ویکسینیشن نہ ہونے کے حامل) کو فیس ووچر دینے سے قبل ویکسین لگائی جارہی ہے۔بعدازاں سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے محلہ شریف پورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاکر آؤٹ ریچ وفکسڈ ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔

  • والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    والدین اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواکر مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد

    فیصل آباد(عثمان صادق)ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کہا ہے کہ والدین صحت مند معاشرے کے قیام کے سلسلے میں 15 نومبر سے شروع ہونے والی خسرہ روبیلا کیچ اپ مہم میں 9 ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگواکر بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں۔مہم کی کامیابی کے سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل ہیں تاہم میڈیا نمائندگان والدین کو بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن لازمی کرانے کا پیغام عام کریں تاکہ قوم کے مستقبل کی صحت کا تحفظ یقینی ہوسکے۔انہوں نے یہ بات مقامی ہوٹل میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت اور پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کے اشتراک سے ”خسرہ وروبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم میں ذرائع ابلاغ کے کردارو ذمہ داری“پر منعقدہ مشاورتی سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر کامران رشید، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر کاشف محمود،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،یونیسف کی ریجنل کوارڈینیٹر ڈاکٹر سرینا،ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ ڈاکٹر مدثر،پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ سے ڈاکٹر مشتاق،چیئرمین پرائیویٹ سکولز الائنس صداقت لودھی، ہیلتھ ایجوکیشن آفیسر شفیق احمد آصف اور محکمہ صحت کے دیگر افسران کے علاوہ میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ والدین میں ان کے بچوں کوخسرہ اورروبیلا سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا اپنا اہم اور جاندار کردار اداکرے کیونکہ لوگ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں دیگر آگاہی پروگرامز کادائرہ بھی وسیع کیا جائے تاکہ ہر والدین میں 9ماہ سے 15 سال تک کی عمر کے بچوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ویکسینیشن کرانے کا احساس برقراررہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا ایک قومی فرض بھی ہے لہذا 15.نومبر سے شروع ہونے والی خصوصی مہم کے سلسلے میں میڈیا سے وابستہ حضرات معاشرے تک یہ ذمہ داری ادا کرنے کا پیغام اجاگر کریں تاکہ تمام بچوں کی ویکسینیشن یقینی ہو۔ڈپٹی کمشنر نے میڈیا ورکشاپ کے انعقاد کو سراہا اور مہم کی کامیابی کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ڈی ایچ او نے ملٹی میڈیا بریفنگ کے ذریعے خسرہ اور روبیلا کے پھیلاؤ کی وجوہات اور ویکسینیشن لازمی کرانے پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران 2500 ویکسینیٹرز فرائض انجام دیں گے اور33 لاکھ بچوں کو ٹیکے لگانے کے لئے فکس پوائنٹ بنانے کے ساتھ سکولوں میں انتظامات جبکہ ہیلتھ مراکز پر بھی یہ سہولت بلامعاوضہ دستیاب ہوگی۔انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ مہم کی سو فیصد کامیابی کے لئے تعاون کریں۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے نمائندہ نے بتایا کہ اس مہم کے بعد روبیلا کا انجکشن بھی روٹین کے ای پی آئی پروگرام میں شامل ہوگا جبکہ خسرہ کا ٹیکہ پہلے بھی 9 ماہ اور 15 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو لگایا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 15 سال تک کے بچوں کو ٹیکے لگانے کا مقصد نئی نسل کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خسرہ روبیلا مہم کے دوران 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ والدین کو بچوں کی مفت ویکسینیشن کا پیغام پہنچائیں تاکہ وہ قریبی مرکز صحت سے یہ سہولت حاصل کرسکیں۔ڈاکٹر سرینا نے بتایا کہ یونیسف بچوں کی صحت پر خدمات انجام دینے والا عالمی ادارہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ حفاظتی ٹیکہ جات موثر ہیں لہذا والدین کے شک وشہبات دور کرنے کے لئے بھی مہم کو وسیع کیا جائے۔سی ای او ہیلتھ نے میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ورکشاپ کے انعقاد کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مہم کے دوران بھی والدین کی آگاہی کے لئے تمام تر تشہیری ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پاکستان کے کئی شہروں میں ڈینگی کے کیسز بڑھ رہے ہیں جس سے صورتحال تشویشناک ہورہی ہے ڈینگی ایک بخار ہے جو اس وقت ایک وبائی بیماری کی شکل۔اختیار کر چکا ہے یہ بات عام ہے کہ ڈینگی مچھر کی افزائش صاف پانی میں ہوتی ہے لیکن آج کل گندگی کا ڈھیر اتنا زیادہ بڑھ گیا ہے کہ ہر جگہ مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے پاکستان کے کئی شہروں اور علاقوں میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے اور اموات واقع ہو رہی ہیں اور یہ عام بیماری مہلک بیماری میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے –

    ڈینگی بخار کو بریک بون فیور بھی کہتے ہیں کیونکہ اس بخار کے دارون ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے اس سے جسم میں انفیکشن ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر اسحے بروقت کنٹرول نہ کیا جائےتو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اس بخار کا ٹیسٹ کروانا بہت ضروری ہوتا ہے ڈینگی مچھر کے کاٹنے کے بعد اس کی علامات ٣ سے چار دن میں ظاہر ہونے لگتی ہیں وہ علامات درج ذیل ہیں-

    جسم میں ہڈیوں اور پٹھوں میں شدید درد ہونا کمزوری محسوس ہونا جسم میں پانی کی کمی ہونا مستقل بخار رہنا جسم کے اعضاء کا صحیح کام نہ کرنا چکر اُلغی اور متلی آناجس کی کچھ عام علامات میں قے، شدید سر درد، متلی، خارش، جوڑوں کا درد، پٹھوں میں درد، آنکھوں میں درد اور سوجن شامل ہیں اگر ان علامات کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو تھکاوٹ، قے میں خون، مسلسل قے، مسوڑھوں سے خون بہنا، بے چینی اور پیٹ میں شدید درد جیسے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ڈینگی کا کوئی خاص علاج دستیاب نہیں ہے تاہم کچھ موثر گھریلو علاج ہیں جو آپ کو ڈینگی بخار سے تیزی سے صحتیاب ہونے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    موسمی کا جوس:
    وٹامن سی قوت مدافعت بڑھانے میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ موسمی کا جوس پینے سے آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے اور آپ کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد ملے گی۔

    پپیتے کے پتے:
    پپیتے کے پتے ڈینگی بخار کے علاج کے لیے بہترین علاج ہیں یہ ان علامات کو دور کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور پلیٹلیٹ کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد کرتا ہے آپ اس کے پتوں کو پیس کر دن میں دو بار پی سکتے ہیں۔

    ناریل پانی:
    ڈینگی الٹی کا باعث بن سکتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی کمی ہوسکتی ہے، اس سے بچنے کے لیےاپنی غذا میں ناریل کا پانی شامل کر سکتے ہیں۔

    میتھی:
    میتھی ایک طاقتور درد کش دوا ہیں۔ آپ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور اگلی صبح وہ پانی پی لیں، اس سے آپ کو ڈینگی بخار سے جلد صحتیاب ہونے میں مدد ملے گی۔

    نیم کے پتے:
    نیم کے پتے اپنی دواؤں کی خصوصیات کے لیے مشہور ہیں، یہ جسم میں وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔ یہ سفید خون کے پلیٹلیٹ کی تعداد کو بڑھانے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔ آپ نیم کے کچھ پتوں کو پانی میں پیس سکتے ہیں اور اس کا پانی پی سکتے ہیں۔

  • خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی مصنوعات سے دمے کی شدت کم ہو سکتی ہے؟

    خمیر شدہ سویابین کی غذائی مصنوعات سے دمے کی علامات اور شدت میں کمی آتی ہے-

    باغی ٹی وی : تجربات کے دوران چوہوں کو خمیری سویابین سے بنا ہوا ایک غذائی سپلیمنٹ کھلایا گیا جو ’’اِمیوبیلنس‘‘ کے نام سے دستیاب ہے اس سپلیمنٹ میں ’آئسوفلیوونز‘ کہلانے والے اہم غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جنہیں نظامِ ہاضمہ کے علاوہ دماغ اور ہڈیوں کےلیے بھی مفید سمجھا ہے جبکہ یہ کینسر کی بعض اقسام کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے۔

    انڈے پروٹین کا پاور ہاؤس، نہار منہ اُبلا انڈا کھانا صحت کے لئے کتنا ضروری؟

    حالیہ برسوں میں کچھ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا تھا کہ سویابین کے استعمال سے دمے کی شدت بھی کم ہوتی ہے، لیکن اس حوالے سے 2015 میں شائع ہونے والی ایک طویل طبّی آزمائش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

    اسی تسلسل میں ریسرچ جرنل ’’نیوٹریئنٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ سویابین والے فوڈ سپلیمنٹ کے استعمال سے چوہوں میں سانس کی نالی میں الرجی کم ہوتی دیکھی گئی تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان نتائج کی انسانوں میں تصدیق ہونا باقی ہے۔

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    اس کے علاوہ، دمے سے متعلق خون کے سفید خلیات (اِیوسینوفلز)، پھیپھڑوں کی رگوں میں سوزش اور بلغم بننے کی مقدار میں بھی کمی کا مشاہدہ ہوا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دمہ اور سانس کی دیگر تکالیف میں خمیر شدہ سویابین میں شامل فائبرز کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس حوالے سے انہوں نے مزید محتاط اور فیصلہ کن انسانی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دمے کی صورت میں سویابین کے فوائد کی حتمی طور پر تائید یا تردید ہوسکے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    دمہ کیا ہے ؟
    دمہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو آپ کے پھیپڑوں پر اثر انداز ہو تی ہے۔ دمہ کی سب سے عام علامت سانس سے سیٹی کی آوازوں کا نکلنا ،کھانسی ہونا اور سانس لینے میں دشواری پیش آنا ہے،یہ علامتیں صحت کے کسی اور مسئلے کے باعث بھی ہو سکتی ہیں۔ اس لئے پہلی مرتبہ آپکے ڈاکٹر کے لئے اس مرض کی تشخیص تھوڑی مشکل ہو گی،بالخصوص شیر خوار اور بہت چھوٹے بچوں میں۔

    دمہ آپ کےپھپھڑے عمر بھر کے لئے متاثر کر سکتا ہے۔ کبھی تو آپ اس سے نجات پر سکون محسوس کریں اور کبھی آپ کی حالت دمہ کے باعث بہت خراب ہو جائے گی۔

    دمےکے شناخت کی کئی علامتیں ہیں جیسےسانس لیتے وقت سیٹی کی آواز آنا، کھانسی،سانس پھولنا، سینے کا درد،نیند میں بے چینی یا پریشانی ہونا،تھکان اور بچوں کو دودھ پینے میں تکلیف ہونا وغیرہ۔اندرونی وبیرونی الرجی،دھول مٹی ،موسم کی تبدیلی اورسانس کی نالیوں میں انفیکشن سے دمہ اور بیڑی سگریٹ کے استعمال اورہوائی آلودگی ۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    دمے کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص علاج نہیں ہے مگر اسے مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔جسمانی جانچ اور میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے سے دمے کی پہچان ہوتی ہے۔خون کی جانچ،ایکسرے،خون میں آکسیجن کی مقدار ،پھیپھڑوں کی حرکت کی جانچ،اسپائرومیٹری اور الرجی ٹیسٹ کے ذریعے دمے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

    دمے کی روک تھا م دو طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ایک علاج اور دوسرے احتیاط سے۔احتیاط یہ ہے کہ مریض کو اپنے روزمرہ کے معمولات تبدیل کرنا ہوں گے۔اگر وہ کسی بھی قسم کے نشے کا عادی ہوتو فوراًاسے چھوڑ دے،دھول، مٹی اورفضائی آلودگی سے بچیں اور موسم کی تبدیلی سے نقصان ہوتا ہوتو اس کے لیے محفوظ اقدامات اختیار کریں۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    ساتھ ہی ایک بات یہ بھی ذہن نشین رہے کہ نہ صرف سگریٹ چھوڑنا ہے بلکہ اسے استعمال کرنے والے افراد کی صحبت سے بھی بچناہوگا ،کیوں کہ اس کا دھواں دوسروں کے لیے بھی مضرہے۔

    دمے کے علاج کے لیے سب سے زیادہ دو چیزیں استعمال ہوتی ہے۔ایک میٹرڈ ڈوز اِن ہیلر اور دوسرے پاؤڈر اِن ہیلر۔ان دواؤں میں امید افزا بات یہ ہے کہ ان کے مضراثرات نہیں ہوتے۔اس لیے کہ اِ ن ہیلر (دمہ کا پمپ)سے دی جانے والی ادویہ کی بہت کم مقدار خون میں شامل ہوتی ہے۔سانس کی نالی جس جگہ خراب ہوتی ہے یہ دوائیں اسی جگہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ اِن ہیلر سانس کی نالیوں کو مزید خراب ہونے سے روکتا ہے۔

    اگر اِن ہیلر بند کردیاجائے اور فوری طور پر آرام کے لیے گولی و انجیکشن کا استعما ل بار بار کیاجائے ،جسے اسٹیرائیڈ کہا جاتا ہےتو ذہن نشین رہے کہ یہ ادویہ خون میں شامل ہوکر مزیدنقصان کا سبب بنتی ہیں ، جیسےہڈیوں کمزور ہونا،دیگراعضائے جسمانی کا متاثر ہونا وغیرہ ۔

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

  • مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے      نئی تحقیق

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

    سویڈن: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ سائنسدانوں کا اصرار ہے کہ مسلسل بے خوابی سے عین اسی طرح کا فالج ہوسکتا ہے جو تمباکونوشی اور بلند بلڈ پریشر سے لاحق ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فالج کی ایک قسم نازک دماغی رگ یا رگوں میں خون کا جمع ہونا ہے جس سے رگ غبارے کی طرح پھول جاتی ہے پھر یہ رگ پھٹ جاتی ہے اور ہیمریج یا جریانِ خون لاحق ہوجاتا ہے جو کئی مرتبہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے طبی زبان میں اسے انٹرکرینیئل انیوریزم بھی کہا جاتا ہے۔

    الٹرا پروسیسڈ کھانے کیا ہیں؟ان کے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟

    ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں تین فیصد بالغان اس عمل سے گزرتے ہیں لیکن خوش قسمتی سے صرف ڈھائی فیصد کیسز میں رگ پھٹ پڑتی ہے جسے ہم ایک قسم کا فالج کہہ سکتے ہیں اس میں رگ سے خون بہہ کر دماغ اور کھوپڑی کےدرمیان جمع ہوتا رہتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔

    اسٹاک ہوم میں واقع کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر سوسانہ لارسن اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ سگریٹ نوشی اور ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ دیگر کئی وجوہ میں بے خوابی بھی شامل ہے جو اس خطرے کو بڑھاسکتی ہے۔

    "گھی” جلد کو شفاف اور چمکدار بناتا ہے ،جانئے گھی سے خوبصورتی بڑھانے کا…

    سائنسدانوں نے 6300 اور پھر 4200 کیسز ایسے دیکھے جن کا جینیاتی تعلق تھا یعنی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جریانِ خون والا فالج ہوا تھا محتاط اندازے کےبعد معلوم ہوا کہ 24 فیصد جین کا تعلق اس جین سے نکلا جو نیند کی کمی کی وجہ بنتے ہیں۔

    اس سے قبل بے خوابی اور ہیمریج کے درمیان تعلق سامنے نہیں آیا تھا تاہم اس تحقیق سے اتنا ضرور پتا چلا ہے کہ خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہےتاہم ماہرین نے اس پر مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

    تاہم 2016 میں ہی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک سائنسی جائزے کے بعد کہا گیا تھا کہ نیند کی کمی اور خرابی نیند سے بلڈ پریشر میں اضافہ ضرور ہوسکتا ہے –

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ۔
    2019 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نیورالوجسٹ ڈاکٹر نتالیہ راسٹ کا کہنا ہے کہ بے خوابی اور دل کے دورے کے درمیان تعلق پر یہ سب سے بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق ہےانہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک مکمل نتائج پر نہیں پہنچے لیکن اب تک کی تحقیق کے مطابق نیند پوری کرنا اشد ضروری ہے۔

    بے خوابی کی تین بڑی علامات

    امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے رسالے میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 5 لاکھ چینیوں سے بے خوابی کی تین بڑی علامات کے متعلق سوال کیے گئے۔

    1۔ کیا انہیں نیند آنے اور اسے برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے؟

    2۔ کیا وہ صبح بہت جلدی اٹھ جاتے ہیں اور دوبارہ نہیں سو پاتے؟

    3۔ کیا نیند کی کمی کے باعث وہ دن کو کام پر پوری توجہ نہیں دے پاتے؟

    دس سال بعد ریسرچرز نے تحقیق میں حصہ لینے والوں کے دل کی صحت کا معائنہ کیا، انہیں معلوم ہوا کہ جن افراد میں یہ تینوں علامات موجود تھیں انہیں دل کی تکلیف کے 22 فیصد امکانات زیادہ تھے جبکہ 10 فیصد کو دل کے دورے کا امکان ان افراد کی نسبت زیادہ تھا جو اچھی نیند لیتے تھے سگریٹ نوشی، جسمانی طور پر متحرک ہونے اور شراب نوشی جیسے معاملات کو بھی اس تحقیق میں شامل کیا گیا پھر بھی نتائج میں کوئی فرق نہیں پڑا۔

    سائنسدانوں نے ایک ایک سوال کے حوالے سے الگ تحقیقات کیں تو یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ نیند کی کمی کے باعث کام پر توجہ مرکوز نہیں کر سکتے تھے ان میں 13 فیصد کے دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کے امکانات تھے۔

    جن افراد نے جلدی اٹھا جانے اور پھر نیند نہ آنے کا جواب ہاں میں دیا تھا ان میں 7 فیصد جبکہ جنہوں نے سونے اور نیند کو برقرار رکھنے میں مشکلات کی شکایت کی تھی ان میں 9 فیصد کو دل کی تکلیف میں مبتلا ہونے کا امکان ان لوگوں کی نسبت زیادہ سامنے آیا جو نیند پوری کرتے تھے۔

    تحقیق کرنے والوں میں شامل پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر لمنگ لی کا کہنا ہے کہ بے خوابی کی علامات اور دل کے دورے کے درمیان تعلق نوجوانوں میں اور نارمل بلڈ پریشر والوں میں اور بھی زیادہ تھا۔

    2017 میں سونے میں مشکلات کے شکار ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا تو ان میں سے 27 فیصد میں دل کی تکلیف یا دورے کے امکانات پائے گئے تھے۔

    بے خوابی دور کرنے کے آسان ترین ٹوٹکے:

    گرم دودھ اور شہد کا استعمال
    رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ بہترین نیند لانے کا زبردست گھریلو ٹوٹکا ہے۔ دودھ میں ایک امینو ایسڈ ٹرائیپٹوفان موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون سیروٹونین کی مقدار بڑھاتا ہے جو دماغ کو نیند کے سگنلز بھیجتا ہے۔ کاربوہائیڈیٹس جیسے شہد اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔

    نیند دوست ماحول بنانا
    جو لوگ بے خوابی کا شکار ہوں، ان کے لیے پرسکون اور نیند والا ماحول بہتر ثابت ہوتا ہے، اس کے لیے موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت تمام تر ڈیوائسز کو کمرے سے باہر یا کم از کم بستر سے دور رکھ دیں، کیونکہ ان پر آنے والے نوٹیفکیشن نیند میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔

    ورزش کو آزمائیں
    اگر کسی قسم کی بے چینی رات کو جگائے رکھتی ہے تو یوگا، مراقبہ یا ڈائری لکھنے کی کوشش کریں، تائی چی بھی ذہنی تناؤ میں کمی لانے والی طاقتور ورزش ہے، ایک تحقیق کے مطابق اس ورزش کی عادت لوگوں کو جلد سلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    سونے کا وقت طے کرلیں
    اگر آپ اکثر رات کو جاگتے رہتے ہیں تو آپ کے آسان ترین گھریلو نسخہ وقت طے کرلینا ہے، یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو ترجیح بنالیں، اسی طرح سونے سے قبل مطالعہ یا موسیقی سننا بھی دماغ کو سکون پہنچا کر نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔

    نیم گرم پانی سے نہانا
    ویسے یہ طریقہ گرمیوں میں تو کارآمد نہیں تاہم سردیوں میں سونے سے ڈیڑھ سے دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے نہانے کی عادت اچھی نیند کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

    ادویات کو دیکھیں
    متعدد ادویات نیند پر اثرانداز ہوکر بے خوابی کا باعث بنتی ہیں، اگر آپ کسی مرض کا شکار ہیں اور اکثر آپ کو نیند کا مسئلہ درپیش ہے تو اپنے ڈاکٹر سے بات کرکے ادویات یا ان کی مقدار میں تبدیلی کا مشورہ لیں۔

  • لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی خوفناک حد تک پھیل گیا

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں ڈینگی خوفناک حد تک پھیل گیا

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں سال ڈینگی کے 15 ہزار 789 کیسز سامنے آئے ۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت پنجاب نےبتایا کہ گزشتہ روز لاہورسمیت پنجاب بھرمیں ڈینگی کے 493 کیسز سامنے آئے ، صرف لاہور سے ڈینگی کے 358 کیسز رپورٹ ہوئے ، لاہور میں اب تک 11 ہزار 705 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 51 افراد جاں بحق ہوئے ۔

    راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 71 افراد ڈینگی میں مبتلا ہوئے جس کے بعد شہر میں ڈینگی متاثرین کی تعداد دو ہزار 311 ہو گئی ، نجی ٹی وی کے مطابق ہولی فیملی ہسپتال میں 27 ، بینظیر بھٹو ہسپتال میں 19 ، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 25 مریض زیر علاج ہیں ۔ الائیڈ ہسپتال کے 274 بستروں پر 208 ڈینگی مریض موجود ہیں ۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

  • اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے زائد

    اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے زائد

    اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرگئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ او اسلام آباد ڈاکٹر ضعیم ضیاء کے مطابق گزشتہ روز ڈینگی کے مزید 91 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد کر 3083 ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد کے کل کیسز میں سے 1824 کا تعلق دیہی جب کہ 1259 کا شہری علاقوں سے ہے جبکہ اسلام آباد میں ڈینگی سے اب تک 11 افراد انتقال کرچکے ہیں۔

    ڈینگی کے سب سے زیادہ 757 کیسز ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی میں لائے گئے، فیڈرل جنرل اسپتال میں335، پمز میں 282 ،پولی کلینک میں 108، بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں 144،ڈی ایچ کیو اسپتال راولپنڈی میں37 مریض لائے گئے، اس کے علاوہ نجی اسپتالوں و لیبارٹریز میں بھی 1400 سے زائد مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی۔

    ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات –

    ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیر

    ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھرکے کاٹنے سےہوتا ہے یہ ہڈی توڑ بخار، ڈینڈی فیور، ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ذیادہ تر ٹراپیکل اور سب۔ٹراپیکل موسمی حالات میں شہری علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ تمام عمر کے افراد جو کہ متاثرہ مچھر تک رسائی رکھتے ہیں اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    یہ بیماری ذیادہ تر ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے ٹراپیکل علاقوں میں بارشوں کے موسم میں ہوتے ہیں جہاں وہ مخصوص مچھر ذیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ مادہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے وائرس کے خون میں داخل ہونے اور علامات ظاہر ہونے تک کا دورانیہ 14۔3 دن ہے جبکہ بیماری کا دورانیہ 7۔3 دن ہے۔

    علامات میں شدید سر درد، ہڈیوں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھ کے پیچھے شدید درد، جسم پر ریشم اور مختلف اشکال اور سائز کے نیل پڑ جانا، ناک سے خون نکلنا، مسوڑوں سے خون رسنا، پیشاب میں خون آنا اور بازو پر پٹی باندھنے والا ٹیسٹ پوزیٹو آنا قابل ذکر ہیں

    کورونا وائرس کے بعد ڈینگی وائرس میں بھی جینیاتی تبدیلی کا انکشاف

    ماہرین صحت کے مطابق ڈینگی کے مرض میں مبتلا 80 فیصد افراد کو اسپتال میں علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اور ان کا علاج گھر پر ممکن ہے۔

    ڈینگی مچھر صبح روشنی ہونے سے پہلے اور شام میں اندھیرا ہونے سے دو گھنٹے قبل زیادہ متحرک ہوتا ہے، اس کی افزائش آگست سے اکتوبر کے مہینے کے دوران میں ہوتی ہے اور سرد موسم میں ڈینگی کی کی افزائش نسل رک جاتی ہے۔

    ڈینگی کا مرض مچھر کے ذریعے مریض سے کسی بھی دوسرے شخص کو منتقل ہوسکتا ہے۔

    طبی ماہرین کہتے ہیں کہ مرض میں مبتلا مریضوں کے خون میں پلیٹیٹس کی تعداد 50 ہزار سے کم ہونے لگے تو وہ علاج کے لیے اسپتال جائیں ۔

    اس وائرس میں مبتلا ذیادہ تر افراد بالکل تندرست ہو جاتے ہیں۔ جبکہ شرح اموات 5۔1 فیصد ہے جو کہ مکمل علاج سے 1 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ تاہم اگر بلڈ پریشر خاصا کم ہو جائے تو اموات کی شرح بڑھ کر 26 فیصد تک چلی جاتی ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    پورے بازوں والی قمیضیں پہنیں اور پوری ٹانگوں کو ڈھانپنے والی پینٹس کا استعمال کریں ، اپنے کپڑوں پر مچھر مار ادویات یا سپرے(پرمیتھرن) کا چھڑکاؤ کریں۔

    ای۔پی۔اے سے منظور شدہ مچھر مار ادویات جیسا کہ ڈیٹ کا استعمال کریں ، اگر آپ کے علاقے میں مچھر کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

    اپنے گھروں میں، برتنوں میں، ٹوٹے ہوئے ٹائروں میں، گلدانوں میں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ ڈینگی کے بخار کی ویکسین لگوائیں ۔

  • منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    اکثر اوقات بار بار منہ سوکھنے کی شکایات سامنے آتی ہیں جسے ہم پانی کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ماہرین نے بتایا ہے کہ بار بار منہ سوکھنے کی ایک بڑی وجہ شوگر بھی ہوسکتی ہے۔

    امریکی یونیورسٹی ’امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن‘ میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق خون میں شو گر کی سطح غیر متوازن اور اکثر اوقات زیادہ رہنا منہ کے ہر وقت خشک رہنے کا سبب بنتا ہے، ماہرین کے مطابق بغیر کچھ کیے تھکاوٹ کا محسوس ہونا اور جسمانی وزن کا متوازن ہونے کے باوجود بھی اگر منہ خشک رہتا ہے تو یقیناً یہ ذیابطیس کی علامت ہے۔

    ورزش سے کینسر جیسے خطرناک مرض کو بھی قابو پایا جا سکتا تحقیق

    ماہرین کے مطابق جب خون میں گلوکوز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو گردوں کی صلاحیت میں کمی آتی ہے، ایسے میں گردے مائع کو جذب کرنے کے بجائے پیشاب کی زیادتی کی مدد سے جسم میں سے پانی کو خارج کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جسم پانی کی کمی کا شکار ہو جا تا ہے اور منہ بار بار خشک ہو نے لگتا ہے۔

    پاکستان میں شوگر فری آموں‌ کی تین اقسام متعارف ، امریکہ تاحال شوگرفری سیب لانے میں‌ ناکام

    ماہرین کے مطابق منہ کے خشک ہونے کے سبب غذا کو ہضم کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ منہ میں تھوک کم مقدار میں پیدا ہونے لگتا ہے، اور اس کے نتیجے میں غذا کو ہضم ہونے میں درکار وقت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ایسی علامات کے ظاہر ہوتے ہی فوراً اپنا تفصیلی طبی معائنہ کروانا چاہیے، بڑھی ہوئی شوگر کی تشخیص ہونے کے نتیجے میں اسے کنٹرول کرنے کے لیے مناسب غذا کا استعمال، روزانہ کی بنیاد پر ورزش اور معالج کی جانب سے تجویز کی گئی ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔

    شوگر کے مریض کون سی چیز کب کیسے اور کتنی کھائیں

    دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر طبی معائنے میں ذیابطیس کی علامات ظاہر نہ ہوں تو ایسی صورت میں بار بار منہ سوکھنے کی شکایت سے بچنے کے لیے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچائیں کیفین والے مشروبات مثلاً چائے کافی سے پرہیز کریں، مرغن، مسالے دار، مرچوں والی، نمکین اور میٹھی غذاؤں سے پرہیز کریں۔

    شوگر جیسی خطرناک بیماری کا آسان گھریلو علاج

  • بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    بچوں کی پیدائش آپریشن سے کیوں؟ نئی تحقیق میں وجہ سامنے آگئی

    ایک عرصے سے آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تاہم اب امریکا میں ہونیوالی نئی تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ حمل کے دوران ڈپریشن اور ذہنی بے چینی یا انزائٹی سے آپریشن سے بچے کی پیدائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق یہ تحقیق مشی گن یونیورسٹی کے ماہرین نے کی اس سے قبل مزاج اور ذہنی بے چینی سے منسلک امراض کو حاملہ خواتین میں بچے کے کم پیدائشی وزن اور قبل از وقت پیدائش سے جوڑا جاتا ہے مگر اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کے نتیجے میں حاملہ خواتین میں آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے اس بات کی اہمیت کا پھر اعادہ ہوتا ہے کہ حاملہ خواتین میں ڈپریشن اور انزائٹی امراض کی بہتر شناخت اور علاج کی ضرورت ہے یہ سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ کس طرح مزاج سے جڑے ذہنی امراض آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرہ بڑھاتے ہیں جس کے ماں اور نومولود پر مختصر اور طویل المعیاد اثرات پہلے ہی ثابت ہوچکے ہیں۔

    اس تحقیق میں 2008 سے 2017 کے دوران 15 سے 44 سال کی خواتین کے ہاں 3 لاکھ 60 ہزار بچوں کی ہسپتال میں پیدائش کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا محققین کے مطابق حمل کے دوران ڈپریشن اور انزائٹی کے ماں اور بچے پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشن سے پہلے بچے کی پیدائش کے بعد زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ اگلی بار بھی بچے کی پیدائش اسی طریقے سے ہوگی، جبکہ اس طریقہ کار سے متعدد خطرات بشمول بلڈ کلاٹس کا امکان، انفیکشن اور دیگر جڑے ہوئے ہیں۔

    تحقیق میں شامل محققین کہنا تھا کہ ذہنی امراض اور آپریشن سے بچے کی پیدائش کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟-

    واضح رہے کہ پاکستان میں آپریشن کے زریعے بچوں کی پیدائش کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجوہات اکثر بچے کو جنم دینے والی ماؤں کو بھی پتہ نہیں ہوتیں جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں آپریشن کے زریعے بچے کی ولادت کا تناسب 15 فیصد سے تجاوز نہیں ہونا چاہئے پاکستان میں اس کا کیا تناسب ہے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں کیونکہ سرکاری سطح پر ہسپتالوں سے ریکارڈ اکھٹا نہیں کیا جاتا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آپریشن سے بچوں کی ولادت کا تناسب پاکستان میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے ؟-

    اس حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، ” بعض اوقات کھبی کوئی مسلئہ ہوا مثلاً کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ethical practice نہیں ہے۔‘‘

  • ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات    طبی ماہرین

    ڈبل روٹی کے انسانی صحت پر منفی اثرات طبی ماہرین

    عام طور پر لوگ صبح ناشتے میں ڈبل روٹی کا استعمال کرتے ہیں جو کہ ماہرین کے مطابق صحت کئے انتہائی نقصان دہ ہے طبی ماہرین کے مطابق عام عوام میں ایک یہ بھی تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈبل روٹی مریضوں کے کھانے کے لیے بہترین اور نرم غذا ہے جبکہ یہ تاثر نہایت غلط ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹارچ اور کاربوہائیڈریٹس کی زیادتی ہونے کے سبب ڈبل روٹی کا استعمال معدے اور نظام ہاضمہ کے لیے نہایت نقصان ثابت ہوتا ہے، ڈبل روٹی میں فائبر اور گندم میں پائے جانے والی غذائیت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں انسان متعدد بیماریوں میں گھِر سکتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    اسرائیل میں وائٹ بریڈ یعنی کہ عام دستیاب ڈبل روٹی پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائٹ بریڈ کے استعمال سے معدے اور آنتوں سے متعلق متعدد شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں قبض کی شکایت سر فہر ست ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

    اس تحقیق میں وائٹ اور براؤن بریڈ کے درمیان موازنہ بھی کیا گیا کہ وائٹ اور براؤن بریڈ میں سے کون سی بریڈ صحت کے لیے زیادہ بہتر اور نقصان دہ ہے تحقیق میں شامل رضاکاروں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک گروپ کے افراد کو سفید یعنی ریفائن آٹے سے بنی وائٹ بریڈ جبکہ دوسرے گروپ کو براؤن یعنی کے مکمل غذائی اجزاء سے تیار کی گئی براؤن بریڈ استعمال کروایا گیا اور بعد ازاں دونوں گروپس کے رضاکاروں کے صحت سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے۔

    صحت کا خزانہ سفید مرچ کے حیران کن فوائد

    تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج سے معلوم ہوا کہ دونوں طرح کی ڈبل روٹی کے فوائد صحت پر یکساں تھے البتہ براؤن بریڈ کو وزن کم کرنے اور آنتوں کے کینسر میں مبتلا افراد کے لیے قدرے بہتر جبکہ وائٹ بریڈ کو قبض، معدے میں درد اور نظام ہاضمہ سے متعلق دیگر چھوٹی موٹی شکایت کا سبب پایا گیا۔

    سونف اور الائچی کا استعمال انسانی صحت سمیت خوبصورتی کیلئے نہایت مفید