Baaghi TV

Category: صحت

  • کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2  سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    لندن: برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین کا کہناہے کہ کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے جان لیوا امراض سے بچنے کیلئے مچھی کھانا عادت بنا لیں-

    باغی ٹی وی : East Anglia یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مچھلی کھانے سے لوگوں کو صحت مند رہنے میں مدد ملتی ہےمچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جس کو کھانے سے وزن کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوتا ہے، اگر بڑے پیمانے پر مچھلی کھانے کو یقینی بنایا جائے تو ذیابیطس اور کینسر کے لاکھوں کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔

    تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہےاسی طرح آنتوں کے کینسر کا خطرہ 42 فیصد تک گھٹ جاتا ہے مچھلی کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کی مخصوص اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے جبکہ معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے، غذا کے ذریعے امراض کی روک تھام کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے اور خرچہ بھی کم ہوتا ہے۔ 

    اس سے قبل دسمبر 2023 میں جرنل سرکولیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کھانے کی عادت امراض قلب سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے،جن افراد کے قریبی رشتے داروں کو امراض قلب کا سامنا ہوتا ہے، وہ مچھلی کو اکثر کھا کر دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔

  • کے پی میں صحت کارڈ کا استعمال سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ

    کے پی میں صحت کارڈ کا استعمال سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ

    پشاور: خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ کے ذریعے علاج کی متعدد طبی سہولیات کو سرکاری اسپتالوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یکم رمضان المبارک سے صوبہ بھر میں صحت کارڈ پلس پر خدمات کی بحالی سے متعلق انشورنس کمپنی کے زونل ہیڈز کے نام مراسلے لکھے گئے تھے،مراسلے پشاور اور سوات زون کے زونل ہیڈ کے نام لکھے گئے،مراسلے میں لکھا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ 7 مارچ کو وزیراعلیٰ ہاﺅس میں اجلاس ہوا، جس میں علی امین گنڈا پور نے انشورنس کمپنی کو صحت کارڈ پلس کی بحالی کی ہدایت کی۔

    مراسلے میں کہا گیا تھا کہ صحت کارڈ کی بحالی خیبرپختونخوا کے 100 فیصد آبادی کے لئے کی گئی ہے۔ یکم رمضان المبارک سے صوبہ بھر میں صحت کارڈ پلس پر خدمات بحال ہوجائیں گی،مریضوں کی سہولیات کیلئے تمام اسپتالوں میں کاؤنٹرز کا قیام یقینی بنایا جائے، اسپتالوں میں پروگرام کی برانڈنگ اور ہیلپ لائن نمبرز کی نمائش کی جائے، تمام مریضوں کو بلا تعطل خدمات فراہم کی جائیں۔

    مسلم لیگ ن نے کابینہ کیلئے اپنے نام فائنل کر لئے

    تاہم اب انشورنس کمپنی نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق صحت کارڈ پر سی سیکشن، انجیو گرافی، اپینڈیکس کا علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا پتھری، ٹانسل، آنکھ اور ناک کا علاج بھی سرکاری اسپتال میں ہوگا۔

    بابراعظم جلد شادی کرنے والے ہیں،محمد رضوان

    رمضان ریلیف پیکج کاحجم بڑھا دیا گیا

  • سماعت سے محروم بچوں کے لئے  بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے خوشخبری، حکومت نے ایک بار پھر مفت آپریشن کا اعلان کر دیا

    پاکستان بیت المال نے اس ضمن میں بڑا فیصلہ کیا ہے،کوکلیئرامپلانٹ تیار کرنے والی ایک معروف کمپنی ”کاکلئیر فاؤنڈیشن آسٹریلیا“ کے ساتھ باہمی مفاہمتی یادداشت کے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت 154 سماعت سے محروم گونگے بہرے بچوں کوکامیاب زندگی کے سفر پر گامزن کرتے ہوئے انھیں دوبارہ سے بولنے اور سننے کے قابل بنانے کے لیے کاکلئیر امپلانٹ کے ذریعے علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت انفرادی طور ایک بچے کے کاکلئیر امپلانٹ کے لیے 23لاکھ روپے تک کی معاونت کی جائیگی۔ جس میں سے 15لاکھ روپے پاکستان بیت المال جب کہ بقایا رقم آسٹریلین کمپنی ادا کرے گی۔

    ترجمان بیت المال کے مطابق پاکستان بیت المال کے پاس اس سلسلے میں پہلے ہی سینکڑوں درخواستیں جمع ہیں اور کوکلیئر فاؤنڈیشن کی طرف سے جاری کی گئی گرانٹ سے ان نادار و ضرورت مند گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ایک نئی زندگی ملے گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال نے اس گراں قدر معاونت پر فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین آپریشن کے لئے پاکستان بیت المال میں درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں،درخواست میں بچے کے بہرہ ٹیسٹ کی رپورٹ، ب فارم کی فوٹو کاپی، سی ٹی سکین،ایم آر آئی کی رپورٹ،حفاظتی ٹیکہ جات کے کارڈ کی کاپی،بچے کی دو تصاویر لگانی ہیں، درخواست ایم ڈی بیت المال کے نام پر لکھنی ہے،

  • میو ہسپتال میں گردوں کی پتھریوں کیلئے جدید طریقہ علاج پی سی این ایل اپنا لیا گیا

    میو ہسپتال میں گردوں کی پتھریوں کیلئے جدید طریقہ علاج پی سی این ایل اپنا لیا گیا

    چیئرمین یورالوجی ڈیپاڑٹمنٹ میو ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر فواد نصراللہ نے گردے سے ہر قسم کی پتھریاں نکالنے کا دوبارہ پروسیجر پی سی این ایل (پرکوٹینئیس نیفرو لتھوٹومی) شروع کر دیا گیا ہے۔اس طریقہ علاج میں مریض کی پسلیوں کے نیچے کمر میں متاثرہ جانب نصف انچ کا سوراخ کر کے ٹیوب ڈالی جاتی ہے جس کے ذریعے مائیکرو سکوپ کیمرہ اور جراحی کے جدید آلات کو گزار کر گردے تک پہنچایا جا تا ہے جبکہ اس عمل کی مانیٹر نگ آن لائن کیمرے پر ہوتی ہے اور پتھری کی نشاندہی پر اسے باآسانی ٹکڑوں کی شکل میں تقسیم کر کے نکالا جا سکتاہے۔

    اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر فواد نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ پروسیجر ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے لیکن مریض کو ہسپتال میں زیر علاج نہیں رہنا پڑتا اور چند گھنٹے بعد ہی گھر بھجوا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں گردے سے پتھری نکالنے کا یہ علاج میو ہسپتال میں دستیاب تھا تا ہم بعض وجوہات کی بنا پر یہ طریقہ علاج طویل عرصے سے بند ہو چکا تھا۔وی سی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر محمود ایاز کی کوششوں سے شعبہ یورالوجی میں اب نئی ٹیم آنے سے دوبارہ پی سی این ایل (پرکوٹینئیس نیفرو لتھوٹومی) کا پروسیجر شروع کر دیا گیا ہے۔اس ٹیم میں پروفیسر فواد نصر اللہ کی قیادت میں ڈاکٹر شاہ جہاں خان، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر عمر حنیف، ڈاکٹر غلام غوث،ڈاکٹر عاصمہ اور ڈاکٹر الہی بخش شامل ہیں۔ پروفیسر فواد نصر اللہ نے مزید کہا کہ چند روز کے اندر متعدد کامیاب پروسیجر کیے جا چکے ہیں، اب انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا جس سے مریضوں کو بہت بڑا ریلیف ملے گا اور انہیں بڑے آپریشن سے بھی نجات ملے گی۔انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پنجاب حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق مریضوں کو علاج معالجے کی تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور بالخصوص شعبہ یورالوجی اس ضمن میں تمام وسائل برؤئے کار لائے گا تاکہ گردوں جیسی حساس اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے ڈاکٹرز سے اپیل کی کہ وہ جدید طریقہ علاج کے بارے میں اپنی ریسرچ کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ دنیا بھر میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق ہمارے مریضوں کو بھی جدید سہولتوں سے استفادہ کرنے کی سہولت مل سکے

    کون بنے گا وزیراعظم؟ شہباز شریف،عمر ایوب کے کاغذات جمع

    محمود اچکزئی کو نامزد کر کے عمران خان نے زبردست پیغام دیا ،علی محمد خان

    انتخابی دھاندلی، پی ٹی آئی کا احتجاج،کئی رہنما ،کارکنان گرفتار

    محمود اچکزئی کیلئے عمران خان نے جو الفاظ استعمال کئے ،سب کے سامنے ہیں،خورشید شاہ

    صدارتی انتخابات،عام شہری نے بھی کاغذات جمع کروا دیئے

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    سرفراز بگٹی 41 ووٹ لے کر وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب

  • چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کی زیر صدارت یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کا 10 واں سینڈیکیٹ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن زاہدہ اظہر، سپیشل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ شاہدہ فرخ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جنید رشید، ایم ڈی چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان، پروفیسر ساجد مقبول، پروفیسر طاہر مسعوداحمد، شاہد امتیاز و دیگر سینڈیکیٹ ممبران نے شرکت کی۔

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے 9ویں سینڈیکیٹ اجلاس کے تمام منٹس کی منظوری دی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے 9 ویں سینڈیکیٹ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی پیش کی۔اجلاس کے دوران سینڈیکیٹ ممبران کی جانب سے نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کو چلڈرن ہسپتال لاہور کی بہتری کیلئے بہترین کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران پروفیسر ریاض اور یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے درمیان موروثی بیماریوں بارے ریسرچ کا ایم او یو بھی طے پایا۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران اکیڈمک کونسل کے 11 ویں اجلاس کے تمام فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے زیر تعمیر کمپلیکس پر جاری پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب کے افسران نے اس حوالے سے سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران بریفنگ بھی دی۔سینڈیکیٹ اجلاس کے دوران پروفیسر آف جنیٹکس کی پوسٹ کی منظوری کے علاوہ مختلف سٹیٹوٹری پوزیشنز کی منظوری دی گئی۔اجلاس کے دوران یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کی پوسٹس کی منظوری بھی دی گئی۔

    نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ چلڈرن ہسپتال لاہور کی کوالٹی اینڈ پرفارمینس اسیسمنٹ رپورٹ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر سو فیصد عملدرآمد کروا یا گیا ہے۔ چلڈرن ہسپتال آنے والے مریضوں کے سماعت کے آلے کے علاوہ کوکلیئر پلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت پنجاب چلڈرن ہسپتال لاہور میں مزید بہتری لانے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کو پیپرلیس بنانے کیلئے بنیادی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی قیادت میں چلڈرن ہسپتال لاہور میں ری ویمپنگ کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔ نگران صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہاکہ چلڈرن ہسپتال لاہور بچوں کے علاج و معالجہ کے حوالے سے دنیا کا دوسرا جبکہ ایشیاء کا پہلا بڑا ہسپتال ہے۔ یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز میں کوالٹی ریسرچ پر خاص توجہ دی جا رہی ہے

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

  • ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟

    ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟

    ڈاکٹری نسخے علاج یا موت کے پروانے۔۔؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    گھربیٹھا تھا، دروازے پر دستک ہوئی ،باہرگیا تو قریبی ہمسایہ موجود تھا،اس کے ساتھ ایک بچی تھی جس نے ایک معصوم بچے کو اٹھایا ہواتھاجس کی عمر ایک ماہ تھی،اس ہمسائے نے بتایا کہ یہ میرابچہ ہے اسے کھانسی تھی شہرمیں بچوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹرکودکھایا ہے ،اس نے یہ ٹیکے لکھے ہیں اور یہ لگوانے ہیں ،مہربانی کرکے یہ ٹیکے تو لگادیں،جب معروف ڈاکٹرکالکھاہوانسخہ دیکھاتو ایک جھٹکا سالگا،ایک ماہ کے بچے کیلئے جوٹیکے لکھے گئے تھے وہ تین قسم کی اینٹی بائیوٹک پرمشتمل تھے ،پینے کیلئے الگ سے ایک اور سیرپ کی صورت چوتھی انیٹی بائیوٹک موجود تھی۔ٹیکوں کی جوڈوزلکھی ہوئی تھی وہ کم ازکم ایک سال کے بچے کوبھی نہیں دی جاسکتی تھی اور مزیدستم یہ کہ وہ تمام ادویات کٹ ریٹ والی تھیں جوعام مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں تھیں وہ صرف ڈاکٹرموصوف کے کلینک میں موجود اٹیچ فارمیسی پر دستیاب تھیں ۔
    یہ واقعہ لکھنے کامقصد صرف یہ تھاکہ ہمارے ملک پاکستان میں نامی گرامی ڈاکٹرزعلاج کے نام پرکس طرح انسانی جانوں پر ظلم ڈھارہے ہیں ، پاکستان میں ڈاکٹرز کی جانب سے غیر ضروری طور پر اینٹی بائیوٹکس ادویات کے نسخوں سے متعلق تازہ طبی تحقیق میں ماہرین نے شہریوں کو سنگین خطرات سے خبردار کردیا ہے۔آغا خان یونیورسٹی اور لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کی حال ہی میں مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مریضوں کو اینٹی مائکروبائل ریزسٹینس (AMR) کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے ایم آر کا مطلب یہ ہے کہ بیکٹیریا، وائرس اور پیراسائٹس میں ان ادویات جو ان کے خاتمے کیلئے دی جاتی ہیں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوجاتی ہے ، اس کی بنیادی وجہ ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کو اندھا دھند اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کرانا ہے،عالمی ادارہ صحت کے مطابق صرف سال 2019 میں اینٹی مائکروبائل ریزسٹینس (AMR) سے دس لاکھ سے زائد اموا ت ہوئیں۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے اندھا دھند استعمال کے پیچھے وہ ڈاکٹرز ہیں جو مخصوص ادویات تجویز کرنے کیلئے فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ذاتی فوائد یا مراعات حاصل کرتے ہیں، اس صورت حال کی ایک وجہ اینٹی بائیوٹکس کی میڈیکل اسٹور پر کھلے عام فروخت بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 90 فیصد پرائیویٹ ڈاکٹر ہفتہ وار بنیادوں پر فارماسیوٹیکل سیلز کے نمائندوں سے ملتے ہیں اور یہ کہ پاکستان میں مراعات کو قبول کرنا یا حاصل کرنا معمول کی بات ہے۔رپورٹ کے مطابق اے ایم آر سے متعلق اقوام متحدہ کے انٹر ایجنسی کو آرڈینیٹنگ گروپ کا اندازہ ہے کہ 2050 تک اے ایم آر دنیا بھر میں 10 ملین لوگوں کی موت کا باعث بن سکتا ہے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے)کے جنرل سیکرٹری، اور سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے رکن ڈاکٹر عبدالغفور شورونے تسلیم کیا کہ مفادات کے لئے کچھ ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں کی فروخت بڑھانے کیلئے اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویات تجویز کرنے میں مصروف ہیں، وہ لوگ تحائف، دوروں پر جانے کی پیشکش اور دیگر مالی فوائد کے بدلے میں ایسا کرتے ہیں۔

    عالمی ماہرین ادویات و صحت نے عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال کے رجحان کے بارے میں حال ہی میں شائع ہونے والی اہم تحقیق میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں سن دو ہزارسے اب تک پینسٹھ فیصدسے زائد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت لوگوں کی صحت پر منفی اثرات کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک ہے۔ دنیا کے ستر سے زائد ممالک میں ہونے والی اس نئی تحقیق میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں اضافے کے حوالے سے پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

    امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی اس تحقیق میں محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے غیر محتاط استعمال میں اضافے سے بیماریوں کے خلاف ان ادویات کا اثر کم ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں مختلف بیماریوں کے خلاف اینٹی بائیوٹک ادویات غیر مئوثرثابت ہو رہی ہیں۔ یہ تحقیق حال ہی میں امریکا کی اکیڈمی آف سائنسز کے پروسیڈنگس میں شائع ہوئی ہے۔

    نومبر 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال جاری ہے اور ملک میں 70 فیصد مریض غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس استعمال کر رہے ہیں۔قومی ادارہ صحت کے مطابق اینٹی بائیو ٹکس کے بے دریغ استعمال سے جراثیموں میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے اور ہر سال ہونے والی 25 فیصد اموات کی وجہ اینٹی بائیو ٹکس کا غیر ضرروی استعمال بھی ہے۔

    ستمبر 2022 میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او)نے پاکستانی عوام سے اپنی مرضی سے ادویات استعمال نہ کرنے کی اپیل کی تھی،
    نمائندہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، اینٹی بائیو ٹکس کے بے دریغ استعمال سے جراثیموں میں ان ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ جیسی مہلک بیماری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہی حال رہا تو زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس بیماریوں کے خلاف بے اثر ہو جائیں گی ،ڈبلیو ایچ او کی اپیل کے باوجود پاکستان میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، 2021 کے مقابلے میں 2022 میں اینٹی بایوٹکس کے استعمال میں 17 فیصد اضافہ ہوا ،پاکستانی حکام کے مطابق صرف 2022 میں ہی ملک بھر میں 134.5 ارب روپے کی اینٹی بایوٹکس ادویات خریدی گئیں۔

    اب ذرا اینٹی بائیوٹک کے چیدہ چیدہ نقصانات کو دیکھتے ہیں۔
    ٭غیر محتاط استعمال سے ان کا استعمال بیماریوں کے خلاف کم ہوتا جا رہا ہے
    ٭زیادہ دیر تک اینٹی بائیوٹک کا استعمال بڑی آنت میں کینسر کا سبب بن جاتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کا استعمال ہمیشہ ٹیسٹ و تشخیص کے بعد ہی کیا جائے ٹائیفائیڈ اور یرقان میں اینٹی بائیوٹک کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے جگر کو بھی نقصان پہنچتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کے زیادہ استعمال سے الرجی اور پیٹ خراب ہو جاتا ہے
    ٭ اینٹی بائیوٹک کا بار بار استعمال ان کا اثر کم کر دیتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک کا بار بار استعمال آپ کو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے
    ٭اینٹی بائیوٹک جب خون کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے تو یہ بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے لیکن ہمارے جسم میں کچھ اچھے بیکٹیریا بھی ہوتے ہیں یہ دوا ان کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے جس سے صحت متاثر ہوتی ہے۔
    جنوری 2011 کی رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کے برعکس پاکستان سمیت اکثر ترقی پذیر ملکوں میں اینٹی بائیوٹک ادویات کھلے عام فروخت ہوتی ہیں اور ان کی خرید کے لئے کسی ڈاکٹری نسخے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹک دوا دینے کی صورت میں اس کے نتائج انتہائی خطرناک برآمد ہوسکتے ہیں،ایک حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کواینٹی بائیوٹک دئے جانے سے ان میں شدید اور مہلک علامتیں پیدا ہونے کا خطرہ 40 فی صد تک ہوتاہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چھوٹے بچوں کو اگر اینٹی بائیوٹک دوا کا دوسرا کورس کرایا جائے تو یہ خطرہ 70 فی صد تک بڑھ جاتا ہے ۔

    امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایسے بچوں پر تحقیق کی جو اینٹی بائیوٹک کے استعمال کے بعد دمے یا سانس کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے۔تازہ ترین تحقیقی جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ بچوں میں دمے اور سانس کی بیماریوں کا اینٹی بائیوٹک دواسے گہرا تعلق موجودہے۔ برطانیہ میں دمے میں گیارہ لاکھ بچے مبتلا ہیں ۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی ملک میں اس مرض میں مبتلا بچوں سے زیادہ ہے۔اس سے قبل ہونے والے کئی سائنسی مطالعوں میں بھی یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ بچوں میں دمے کا مرض پیدا ہونے میں اینٹی بائیوٹک ادویات کا بھی ہاتھ ہے، لیکن اس خدشے کو مسترد کرنے والے طبی ماہرین کی تعداد بھی کچھ کم نہیں تھی۔ تاہم اس سلسلے میں تازہ تحقیق زیادہ جامع اور ٹھوس شواہد پیش کرتی ہے۔

    اگرچہ اکثر معالج کم عمر بچوں کو انٹی بائیوٹک دینے سے گریز کرتے ہیں لیکن انفکشن کی شدت اور چھاتی کے امراض میں اس کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔ییل یونیورسٹی کی اس سائنسی تحقیق میں 1400 بچوں کے کیسوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آیا کم عمری میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے وہ چھ برس کی عمر کو پہنچنے تک دمے یا سانس کی کسی بیماری کے مریض تو نہیں بن گئے تھے۔ تحقیق میں یہ امور بھی پیش نظر رکھے گئے کہ آیا متاثرہ بچوں کے والدین یا ان کے خاندان میں دمے کا مرض موجود تو نہیں تھا اور یہ جائزہ بھی لیا گیا کہ اینٹی بائیوٹک کا استعمال چھ ماہ کی عمر سے پہلے ہوا تھا یا بعد میں۔تحقیق سے یہ ظاہر ہوا کہ کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹک دیے جانے سے ان میں عمر بڑھنے پر دمے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    ڈاکٹر کیری رائزنز جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی کا کہنا ہے کہ مطالعے کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے ممکنہ حدتک گریز کرنا چاہیے ، خاص طورپر کم عمر بچوں میں کیونکہ ان کا معدافتی نظام کمزور ہوتا ہے اور جراثیم کش ادویات ان کی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے 87 ممالک سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ اینٹی بائیوٹک ادویات کے غلط اور زیادہ استعمال سے بیماریوں کے ساتھ ساتھ انفیکشنز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    ان تحقیقاتی رپورٹس کا مطالعہ کرنے کے بعدیہ سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹرجو نسخوں میں ادویات لکھ رہے ہیں وہ عوام الناس کو صحت یاب کرنے کی بجائے موت کے منہ میں دھکیل رہے اور ڈاکٹروں کے یہ لکھے ہوئے نسخے موت کے پروانے ثابت ہورہے ہیں ،آخرکب تک عوام کے ساتھ علاج کے نام پر یہ کھلواڑ کھیلا جاتا رہے گا،کیا کوئی ہے جو پاکستانی عوام کو اس مکروہ دھندے میں ملوث مافیاء کے کارندوں سے بچاسکے؟۔

  • پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے جاپان  کا 3.62 ملین ڈالر امدادی فنڈ کا اعلان

    پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے جاپان کا 3.62 ملین ڈالر امدادی فنڈ کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے جاپان نے 3.62 ملین ڈالر گرانٹ کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی :وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان کا کہنا ہے کہ اس گرانٹ سے 21 ملین سے زائد ویکسینز کی خریداری کی جائے گی، جو مہمات کے دوران بچوں کو پلائی جائے گی،حکومت جاپان پولیو کے خاتمے کیلئے 1996 سے پاکستان کے ساتھ تعاون کررہا ہے پاکستان سے پولیو کا خاتمہ میری اور حکومت کی اولین ترجیح ہے چیلننجز کے باوجود رواں سال پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہر بچے تک رسائی ممکن بنائیں گے، چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کررہے ہیں، ملک و قوم کو پولیو وائرس سے ہمیشہ کیلئے نجات دلائیں گے۔

    عام انتخابات 2024 کے امیدواروں کا ڈیٹا جاری

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ملک کے 9 اضلاع کے 9 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ،ترجمان وزارت صحت کا کہنا تھا کہ کوئٹہ، مستونگ، ملتان، پشاور، نوشہرہ، حب کے ایک ایک نمونے میں پولیو وائرس پایا گیا ہے اس کے علاوہ کراچی ملیر، کراچی جنوبی اور ڈی آئی خان کے نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، تمام نمونوں میں پائے جانے والے وائرس کا تعلق سرحد پار سے ہے، وائرس کی منتقلی روکنے کا واحد ذریعہ پولیو ویکسین ہے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر بچوں کو معذوری سے بچایا جاسکتا ہے، والدین اپنے 5 سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو ویکسین لازمی پلوائیں۔

    گوہر جان، برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    دوسری جانب قومی ادارہ صحت کی جانب سے کالی کھانسی کے پھیلاؤ کے خدشات ظاہر کر دیئے ہیں، این آئی ایچ نے وفاقی، صوبائی محکمہ صحت اوراسٹیک ہولڈرز کو انتباہی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا ہے کہ کالی کھانسی کا پھیلائو روکنےاور تدارک کیلئے پیشگی اقدامات کئے جائیں آئندہ چند ماہ میں کالی کھانسی کے کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے،کالی کھانسی کیسز میں اضافہ سے اسپتالوں پر لوڈ بڑھے گاکالی کھانسی ایک سے دوسرے فرد کو لاحق ہو سکتی ہے،کالی کھانسی کا جرثومہ کھانسنے اور چھینکنے سے ہوا میں شامل ہوتا ہے۔

    ملک کے 9 اضلاع کے 9 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت نے پاکستانی کھانسی کے شربت سے متعلق ایک اور الرٹ جاری کردیا ہےڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ لاہور کی فارماسیوٹیکل کمپنی کے بنائے ہوئے کھانسی کے شربت میں زہریلی کثافتیں پائی گئیں غیر معیاری سیرپ مالدیپ، نجی سمیت کئی ممالک میں پایا گیا متعلقہ فارماسیوٹیکل کمپنی کاسیرپ سیکشن پچھلے ماہ بند کر چکے ہیں۔

  • آنکھوں کے انجیکشن سے بینائی جانے کا اسکینڈل،تحقیقاتی رپورٹ پیش

    آنکھوں کے انجیکشن سے بینائی جانے کا اسکینڈل،تحقیقاتی رپورٹ پیش

    آنکھوں کے انجیکشن سے بینائی جانے کا اسکینڈل ،پنجاب حکومت نے ساڑھے تین ماہ بعد اسکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی

    تحقیقاتی رپورٹ میں ڈرگ کنٹرولرز، سرکاری ملازمین کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے،رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو جمع،کمیٹی نے پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز کر دیا، رپورٹ میں کہا گیا کہ 18 ڈرگ کنٹرولرز، ڈپٹی ڈرگ کنٹرولرز، فارمسسٹ اویسٹن انجکشن اسکینڈل میں ملوث ہیں،اویسٹن انجکشن کارگو کے ذریعے مختلف شہروں میں گیا، 66 افراد کی آنکھوں کے انجکشن سے بینائی متاثر ہوئی،انجکشن جھنگ کے سرکاری، پنجاب کے 15 نجی اسپتالوں میں استعمال ہوا، تمام ڈرگ کنٹرولرز انجکشن کو اپنی حدود میں استعمال روکنے میں ناکام رہے،لاہور میں پانچ افراد کی انجکشن لگنے سے بینائی گئی، انجکشن لاہور سے دوسرے شہروں میں غیرقانونی طور پر منتقل ہوتا رہا، شوکت خانم اسپتال اور جینیس فارما کمپنی بغیر لائسنس انجکشن تیار کرتی رہی، لاہور کے ڈرگ کنٹرولر اور فارمسسٹ بغیر لائسنس انجکشن کی تیاری کو روکنے میں ناکام رہے، قصور سے 5،جھنگ سے 4،رحیم یار خان سے 3،گجرانوالہ سے 3 افراد کی بینائی گئی، خانیوال سے 6،بہاولپور سے 8،انجکشن لگنے سے بینائی گئی، ملتان سے بینائی متاثر ہونے کے 19 افراد سامنے آئے،وہاڑی سے 10،شِخوپورہ، سیالکوٹ، راجن پور سے ایک ایک شہری کی بینائی گئی، ملوث سرکاری ملازمین کو 7 روز میں جواب جمع کروانے کی مہلت دی گئی ہے،کہا گیا ہے کہ جواب جمع کروانے سے قاصر رہے تو پیڈا ایکٹ کے تحت سزائیں سنادی جائیں گی،

    پنجاب میں انجکشن سے بینائی متاثرہ افراد کی تعداد 77 ہوگئی۔

     بینائی کے تحفظ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:پروفیسرالفرید ظفر

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    لڑکی سے تعلقات کا شبہہ،نوجوان پر بہیمانہ تشدد ،ڈرل مشین سے جسم میں سوراخ بھی کر دیئے

    موتیے کا آپریشن، ایک دو نہیں چھ مریضوں کی بینائی ہی چلی گئی

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

  • بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    کراچی: بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں کو کورونا کے نئے ویریئنٹ ’جے این ون ‘ کی تشخیص ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کردی گئی ہے، جس کے بعد سندھ بھر میں نئے ویریئنٹ کے کیسز کی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔

    محکمہ صحت کے مطابق جن دو مسافروں کو کورونا کے نئے ویریئنٹ کی تشخیص ہوئی وہ جدہ سے کراچی پہنچے ہیں ایک مسافر کی عمر 28 سال اور تعلق فیصل آباد سے ہے، اسی طرح مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے 25 سال کے نوجوان کو بھی کورونا کے نئے ویریئنٹ کی تشخیص ہوئی۔

    ترجمان محمکہ صحت سندھ کے مطابق کورونا جے این ون ویریئنٹ سے متعلق محکمہ صحت الرٹ ہے، تمام متاثرہ مسافروں کو ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ کرکے سختی سے گھروں میں قرنطینہ کی ہدایت کی جاچکی ہیں جبکہ سندھ کے تمام ڈی ایچ اوز، ٹی ایچ کیوز اور اسپتالوں میں ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

  • بیرون ملک سے آنیوالے مزید 6  افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    بیرون ملک سے آنیوالے مزید 6 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت

    کراچی : بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والےمزید 6 افراد کا کورونا ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ(RAT) مثبت آگیا۔

    باغی ٹی وی: ترجمان کے مطابق 50 سالہ مینگورہ سوات کا رہائشی جدہ سے کراچی پہنچا تھا، جب کہ میرپورماتھیلو ضلع گھوٹکی کا رہائشی 27 سالہ مسافر بھی جدہ سے کراچی پہنچا تھا اس کے علاوہ مینگورہ سوات کا ہی رہائشی 22 سالہ تیسرا مسافر ریاض سے کراچی پہنچا تھا اور چوتھا 40 سالہ رحیم یار خان کا رہائشی بھی سعودی عرب سے کراچی پہنچا، پانچواں مسافر 22 سالہ شخص چارسدہ کا رہائشی ہے جو ریاض سے کراچی پہنچا جب کہ چھٹے68 سالہ مسافر کا تعلق جیکب آباد سے ہے جو جدہ سے کراچی پہنچا-

    اب تک بیرون ملک سے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے والے 15 مسافروں کے ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ مثبت آچکے ہیں، ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کے پندرہ مثبت کیسوں میں سے 11 مسافروں کے پی سی آر ٹیسٹ مثبت جبکہ 4 کے نتائج آنا باقی ہیں 11 مثبت پی سی آر ٹیسٹ کیسز میں سے 2 مسافروں کے کورونا کے ”نئے ویرینٹ جے این ون“ مثبت آئے اب تک جے این ون ویرینٹ کے 7 مثبت کیسز میں سے 2 بیرون ملک کے اور پانچ مقامی ہیں۔

    سندھ کے تمام ڈی ایچ اوز، ٹی ایچ کیوز اور اسپتالوں میں ہدایات جاری کی جاچکی ہیں طبی ماہرین کے مطابق کووڈ 19 کا نیا ویرینٹ جے این ون گزشتہ کووڈ 19 کے جیسا طاقتور نہیں ہےعوام سے اپیل ہے کہ وہ کووڈ 19 کے ممکنہ پھیلاؤ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔