Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کرنیوالا صحافی اسرائیلی حملے میں‌شہید

    اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کرنیوالا صحافی اسرائیلی حملے میں‌شہید

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے گھر رپورٹنگ کے لیے جانے والے صحافی کو اسرائیلی فوج نے شہید کر دیا

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الجزیرہ سے منسلک صحافی شمالی غزہ میں اسماعیل ہنیہ کے گھر کے قریب رپورٹنگ کررہے تھے کہ اس دوران فضائی حملہ کیا گیا،صحافی اسماعیل ہنیہ کے گھر گئے اور اس کی قربانیوں پر مبنی رپورٹنگ کر رہے تھے کہ اسی دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا گیا،اس دوران دو صحافی شہید ہو گئے.

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 108 صحافی اور 165 میڈیا ورکر شہید کیے جاچکے ہیں،اسماعیل ہنیہ کو گزشتہ ایران میں نشانہ بنایا گیا تھا، اسماعیل ہنیہ کی موت پر ایران نے کہا ہے کہ ہم بدلہ لیں گے، حماس نے اسرائیل پر موت کا الزام لگایا ہے.

  • بھارت میں بارشوں کےبعد لینڈ سلائیڈنگ،150 ہلاکتیں

    بھارت میں بارشوں کےبعد لینڈ سلائیڈنگ،150 ہلاکتیں

    بھارت میں طوفانی بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ سے 150 سے زائد ہلاکتیں، کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے

    لینڈ سلائیڈنگ کے واقعہ کے بعد اب تک 158 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، 200 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جنکی تلاش جاری ہے،بھارت کی ریاست کیرالہ میں گزشتہ دنوں ہونے والے طوفانی بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ نے بڑی تباہی مچا دی ہے، ابتر صورتحال کے باعث ریاست کے 8 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ مٹی کے تودے گرنے سے کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، کیرالہ حکومت نے اس سانحے کے بعد دو روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

    سب سے زیادہ تباہی ضلع ویاناڈ میں ہوئی، جہاں سینکڑوں مکانات تباہ ہو گئے جب کہ اسکولوں کو بھی نقصان پہنچا ہے،مٹی کے تودے گرنے سے کئی مکانات، دکانیں اور گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جب کہ کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔متاثرین کے اہل خانہ ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں، ڈرون اور ڈاگ سکواڈ کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، وہ جگہ (منڈکئی) جہاں یہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، وہ انتہائی خطرے والے آفت زدہ علاقے میں آتی ہے اور وہاں لوگ نہیں رہتے۔ وہاں سے مٹی، پتھر اور چٹانیں چورلمالا تک جا گریں، جو اس جگہ سے 6 کلومیٹر دور ہے جہاں سے لینڈ سلائیڈ ہوئی تھی، یہ کوئی حساس جگہ نہیں ہے اور یہاں لوگ برسوں سے رہ رہے ہیں، اس کے پیش نظر یہاں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے

    راہل گاندھی نے کیرالہ میں بھارتی فوج کے ذریعہ چلائی جانے والی ریسکیو مہم کی تعریف کی ،راہول کا کہنا تھا کہ فوج وہاں بہت اچھا کام کر رہی ہے میرے خیال سے یہ بہت ضروری ہے کہ اس مشکل وقت میں ہم وائناڈ کی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، ہم ان کی ہر ممکن مدد کریں، میں حکومت سے بھی درخواست کروں گا کہ وائناڈ کی عوام کو ہر سطح پر مدد پہنچائی جائے۔

    کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کا کہنا ہے کہ دو دنوں کے اندر مجموعی طور پر 1592 لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے، پہلے مرحلہ میں 68 خاندانوں کے 206 لوگوں کو تین کیمپوں میں پہنچایا گیا، ان میں 75 مرد، 88 خواتین اور 43 بچے شامل ہیں۔ دوسرے مرحلہ میں لاپتہ ہوئے اور اپنے گھروں میں پھنسے 1386 لوگوں کو بچایا گیا، ان میں مجموعی طور پر 528 مرد، 559 خواتین اور 299 بچے شامل ہیں ، 201 افراد کو اسپتال پہنچایا گیا ہے، جن میں سے 90 لوگوں کا علاج اب بھی جاری ہے، وائناڈ ضلع میں موجودہ وقت میں 82 راحتی کیمپوں میں مجموعی طور پر 8017 لوگ مقیم ہیں، جن میں 19 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ بحری، برّی، فضائی اور این ڈی آر ایف کے جوان لگاتار لوگوں کی جان بچانے کی مہم میں مصروف ہیں۔ جو گھر ملبے میں دب گئے ہیں، وہاں سے بڑے بڑے پتھروں کو ہٹایا جا رہا ہے

    واضح رہے کہ وائناڈ میں لینڈ سلائڈنگ کا پہلا واقعہ منگل کی شب 2 بجے پیش آیا تھا۔ اس کے بعد صبح 4.10 بجے دوسری مرتبہ لینڈ سلائڈنگ ہوا۔ اس دوران لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ تباہی کی نذر ہو گئے۔ اس قدرتی آفت کے بعد سے ہر طرف خوفناک منظر دکھائی پڑ رہا ہے۔ منڈکئی میں سب سے زیادہ تباہی مچی ہے جہاں مقامی لوگوں کے چہروں پر بے بسی اور مایوسی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔

    اڈانی گروپ متاثرین کی مدد کے لیے آگے آیا ہے، اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے کیرالہ کے ریلیف فنڈ میں 5 کروڑ روپے کا عطیہ دیا ہے،

  • اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بیروت اور تہران حملوں پر تشویش

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی بیروت اور تہران حملوں پر تشویش

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بیروت اور تہران میں ہونے والے حالیہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارے کے سربراہ کے ترجمان کے مطابق یہ حملے علاقائی کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہیں اور امن و استحکام کے لیے بڑا چیلنج پیش کرتے ہیں۔سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ تہران اور بیروت میں ہونے والے حملے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی امن و امان کے لیے بھی خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر پہنچنے کے مقاصد کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو بھی دیکھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
    اسٹیفن ڈوجارک نے فریقین پر زور دیا کہ وہ طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا ماننا ہے کہ صرف مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔بیروت اور تہران میں ہونے والے حملے خطے میں پہلے سے موجود تنازعات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
    اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہیں اور مختلف ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے اس تشویش کا اظہار عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ تمام فریقین کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن و امان بحال ہو سکے۔اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تحمل اور صبر کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے بچیں جو کہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اقوام متحدہ اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کریں۔یہ بیان عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کسی بھی قسم کے تشدد اور کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

  • اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کوئی معلومات نہیں، حماس کے ساتھ محاذ آرائی جاری رہے گی، اسرائیلی ترجمان

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کوئی معلومات نہیں، حماس کے ساتھ محاذ آرائی جاری رہے گی، اسرائیلی ترجمان

    اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے حوالے سے اسرائیل کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا اور اس حوالے سے کوئی بیان اسرائیلی فوج جاری کرے گی۔ترجمان نے حماس کے رویے پر بھی بات کی، یہ کہتے ہوئے کہ حماس کسی بھی معاہدے پر اتفاق کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایرانی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور اس وقت جاری جنگ حماس کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ اسرائیلی حکومت نے قیدیوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
    ترجمان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حزب اللّٰہ کے سینئر رہنما فواد شکری کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ایران اور حزب اللّٰہ کے ساتھ ہر طرح کی محاذ آرائی کے لیے تیار ہیں۔اسرائیل کی جانب سے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف تنظیموں کے ساتھ اسرائیل کی محاذ آرائی جاری ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کی جانب سے کسی تصدیق یا انکار کے بغیر بیان دینا صورتحال کی نزاکت کو ظاہر کرتا ہے۔ حزب اللّٰہ کے رہنما فواد شکری کی شہادت کے حوالے سے اسرائیلی اعتراف مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، جس سے خطے میں مزید تنازعات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
    ترجمان کے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسرائیل قیدیوں کے تبادلے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو جنگی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کسی بھی حالت میں اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اپنی سیکیورٹی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعے میں اس وقت مزید شدت آئی ہے جب حماس نے اسرائیلی سرزمین پر حملے کیے ہیں اور اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اس پس منظر میں اسرائیلی حکومت کے ترجمان کا بیان صورتحال کی سنگینی کو مزید بڑھا رہا ہے۔

  • ایران: ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

    ایران: ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

    تہران: ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے آج ایرانی پارلیمنٹ میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ یہ تقریب ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ پزشکیان کو ایران کے اصلاح پسند حلقوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔حلف برداری کی اس پرشکوہ تقریب میں 80 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل تھے۔ یہ بین الاقوامی شرکت ایران کی عالمی سطح پر اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔70 سالہ ڈاکٹر پزشکیان، جو پیشے کے لحاظ سے ایک ہارٹ سرجن ہیں، کا انتخاب حالیہ ہفتوں میں ہوا۔ یہ انتخاب غیر معمولی حالات میں ہوا، کیونکہ سابق صدر ابراہیم رئیسی کی مئی 2023 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد قبل از وقت انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔ اس حادثے میں ایران کے وزیر خارجہ امیر حسین سمیت 6 دیگر اہم حکومتی شخصیات بھی جاں بحق ہوئی تھیں۔
    پزشکیان کے انتخاب کو ایران کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سماجی انصاف، متوازن ترقی اور اصلاحات پر زور دیا تھا۔ خاص طور پر، انہوں نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیا ہے، حجاب پر سختی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور ایران کی ‘اخلاقی پولیس’ کو ‘غیر اخلاقی’ قرار دیا ہے۔بین الاقوامی سطح پر، پزشکیان نے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور جوہری معاہدے کو بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا مقصد ایران پر عائد عالمی پابندیوں کو ختم کروانا ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ملک کے اندر، نئے صدر نے معیشت میں شفافیت لانے، بدعنوانی کے خاتمے، صحت کے شعبے میں بہتری اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
    پزشکیان کو سابق اصلاح پسند صدور حسن روحانی اور محمد خاتمی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ سابق وزیر خارجہ جواد ظریف بھی ان کے حامیوں میں شامل ہیں۔ یہ حمایت ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی مضبوطی کا اشارہ دیتی ہے۔ایران کے آئین کے مطابق، نئے صدر کو اگلے دو ہفتوں میں اپنی کابینہ کا اعلان کرنا ہوگا۔ یہ انتخاب ان کی پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں مزید واضح تصویر پیش کرے گا۔پزشکیان کی صدارت ایران کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتی ہے، جہاں وہ اندرونی اصلاحات اور بین الاقوامی تعلقات میں بہتری کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کر پاتے ہیں اور ایران کی سیاسی اور معاشی صورتحال میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

  • دہشتگردی کا پرچار،پاکستانی نژاد انجم کو برطانوی عدالت نے سنائی سزا

    دہشتگردی کا پرچار،پاکستانی نژاد انجم کو برطانوی عدالت نے سنائی سزا

    برطانوای عدالت نے پاکستانی نژاد انجم چوہدری کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے.

    انجم چوہدری کو 26 سال قید سزا دہشتگردی کا الزام ثابت ہونے پر دی گئی، انجم چوہدری پر شدت پسند تنظیم المہاجرون کی سربراہی کا الزام ہے،24 جولائی کو انجم کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا، انجم کو گزشتہ برس 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا،انجم چوہدری کو 85 برس عمر سے زائد ہونے پر ہی رہا کیا جاسکے گا،انجم چوہدری پر دہشت گرد تنظیم کو ہدایات دینے کا مقدمہ وولچ کراؤن کورٹ میں برطانوی انسداد دہشتگردی قانون کے تحت چلایا گیا،انجم چوہدری پر کالعدم المہاجرون کو بطور نگراں ہدایات دینے کا الزام تھا،

    استغاثہ نے بتایا کہ انجم چوہدری 2014 سے دہشت گرد گروپ کو ہدایت دے رہا تھا اور آن لائن میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کی ترغیب دیتا تھا۔ استغاثہ نے بتایا کہ وہ جولائی 2023 کے آخر تک المہاجرون کے رہنما کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس نے اسلامک تھنکرز سوسائٹی نامی امریکہ میں قائم ایک آفس شاٹ سے آن لائن تقریریں کیں، جو ٹرائلز کے دوران کمرہ عدالت میں چلائی گئیں۔

    المہاجرون جو مختلف نام استعمال کر رہی تھی 2010 میں دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔ استغاثہ کے مطابق، المہاجرون نے باقاعدگی سے اپنا نام تبدیل کیا۔

    ایک برطانوی پاکستانی، انجم چوہدری جس کی عمر 57 برس ہے، جو ایلفورڈ، ایسٹ لندن کا رہائشی ہے، کو کینیڈا کے ایڈمنٹن کے رہائشی حسین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب حسین گزشتہ سال 17 جولائی کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچے تھے،مقدمے کی سماعت کے دوران، انجم چودھری نے کہا کہ وہ المہاجرون کے اصل تین ارکان میں سے ایک ہیں، جس کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی تھی،

    انجم چوہدری کو اس سے قبل داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،2016 میں، انجم چوہدری کو داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم، اس کی آدھی سزا پوری کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انجم چوہدری نے ایسٹ لندن میں اپنی رہائش گاہ سے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر پریس ریلیز بھیجنا شروع کردی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران، اس نے عدالت کو بتایا کہ رہائی کے بعد اس نے "اسلام کا پرچار” کرنے کی پوری کوشش جاری رکھی۔ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انجم چودھری نے ایک سال میں 40 سے زیادہ لیکچر دیے۔ ان میں سے کچھ لیکچرز میں، پیروکاروں کی تعداد محدود تھی لیکن دوسروں میں برازیل اور افغانستان جیسے علاقوں سے سامعین نے سنے،تاہم، اس گروپ میں دو امریکی خفیہ قانون نافذ کرنے والے افسران گھسے جنہوں نے اس کی تقریریں ریکارڈ کیں۔ان تقریروں میں سے ایک میں، انجم چودھری نے فخر کیا کہ ان پر "برطانیہ میں نمبر ایک بنیاد پرست” کا لیبل لگایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ میرے لیے اعزاز کا بیج ہے۔ یہ میرے سینے پر ایک تمغہ ہے۔ آپ مجھے کیا بلانا چاہتے ہیں؟ ایک انتہا پسند؟ جنونی۔ یہ سب۔”

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • دھوکہ دہی، ڈومینیکا نے 19 پاکستانیوں سمیت 68 افراد کی شہریت کی منسوخ

    دھوکہ دہی، ڈومینیکا نے 19 پاکستانیوں سمیت 68 افراد کی شہریت کی منسوخ

    ڈومینیکا نے 19 پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ جائیداد کے دھوکہ دہی کی وجہ سے منسوخ کر دیئے گئے ہیں

    ڈومینکا نے جن پاکستانیوں کے پاسپورٹ منسوخ کئے ہیں ان میں مہرین غضنفر،حرا سجاد،شمائلہ حیدر،ظفر احمد چودھری،عزیر نجم،سلمان نعیم، احمد فرید،زاہد،اسامہ،عتیق الرحمان،شاہد،شفقت،شہزاد،حسن حیدر،فیصل،محمد عامر ،فاطمہ،ہدی احمد شامل ہیں، ڈومینکا نے کل 68 پاسپورٹ منسوخ کئے ہیں جن میں سے 19 پاکستانی ہیں،باقی عراق،مصر،افغانستان،شام و دیگر ممالک کے افراد شامل ہیں.

    ڈومینیکا نے سی آئی پی اسکینڈل کے درمیان 68 افراد کی شہریت منسوخ کردی ہے،ڈومینیکا نے شہریت سے محرومی کا حکم نامہ جاری کیا ہے، جس میں 68 افراد کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے جنہوں نے ملک کے شہریت بذریعہ سرمایہ کاری پروگرام (سی آئی پی) کے ذریعے اپنی حیثیت حاصل کی تھی۔ وزیر برائے شہریت مریم بلانچارڈ کے دستخط شدہ اور 6 جون 2024 کو گزٹ شدہ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ان افراد نے دھوکہ دہی، جھوٹی نمائندگی، یا کسی مادی حقیقت کو چھپانے کے ذریعے رجسٹریشن یا سرٹیفکیٹ آف نیچرلائزیشن حاصل کیا۔
    متاثرہ افراد میں سے نصف (53%) عراقی نژاد ہیں، اس کے بعد پاکستانی (21%)، مصری اور ایرانی (6% ہر ایک)، نائجیرین اور شامی (4%)، افغانی (3%) اور ایک سوڈانی اور ایک اردنی شہری (1% ہر ایک)۔ حکم نامے میں شامل افراد نے نومبر 2019 اور مئی 2022 کے درمیان شہریت حاصل کی۔

    یہ اقدام ڈومینیکا کے وزیر اعظم روزویلٹ اسکرٹ کی طرف سے کیریبین سرمایہ کاری سمٹ کے شرکاء کو متنبہ کرنے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے کہ ان کی حکومت نے قانون سازی کی ہے ، ڈومینیکا نے اپنے فیصلے کے پیچھے دھوکہ دہی کی سرگرمی کا حوالہ دیا، ڈومینیکا نے اپنے قومی مفاد کے دفاع میں پیش قدمی کی ہے اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھوکہ دہی کرنے والے شہریوں کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے ہیں

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/07/Citizenship-Deprivation-Order-2024-SRO-No.4-of-2024-1.pdf”]

  • ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا،اسرائیل کی دھمکی

    ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا،اسرائیل کی دھمکی

    اسرائیلی وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردگان کو دھمکی دہے کہ ترک صدر کا انجام صدام حسین کی طرح ہو گا

    ترک صدر طیب اردوان کے بیان پر اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاتس نے دھمکی دی ہے کہ ارداان تم صدام حسین کا انجام یاد کرو ،اگر تم نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی غلطی کی تو تمہارا انجام بھی صدام جیسے ہوگا ،اس دھمکی کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروفا کا ردعمل سامنے آیا ہے،تو وہیں ترک وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کا انجام ہٹلر کی طرح ہونے کا اعلان کیا ہے ،آق پارٹی کے ترجمان عمر چیلک کا کہنا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ کاٹز نے ہٹلر کے وزیر خارجہ ربینٹرپ کو اپنا آئیڈل مان رکھا ہے۔ تم صدام حسین کے خلاف کامیاب ہو سکتے ہو لیکن صدر رجب طیب ایردوان ایک کامیاب سلیف میڈ سیاستدان ہے جس کی جڑیں ہمیشہ ترک قوم میں رہی ہیں۔ تمہارے ان خوابوں سے پہلے ہم اپنے خواب پورے کریں گے اور تمہاری نیندوں سے خراب کر دیں گے”

    ڈچ انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان گیرٹ وائلڈرز کا کہنا تھا کہ ترک صدر نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے. ترکیے کو نیٹو سے نکال دینا چاہیے،اسرائیل کے مرکزی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ کا کہنا تھا کہ ترک صدر ایردوان مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ ہے۔ نیٹو اسرائیل کے خلاف ایردوان کی دھمکیوں کی مذمت کرے اور اسے حماس کی حمایت ختم کرنے پر مجبور کرے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ ترکیہ، لیبیا اور ناگورنو کاراباخ کی طرح اسرائیل میں بھی داخل ہوسکتاہے، ہمارے پاس ایسا نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں، ہمیں بس مضبوط ہونا ہے تاکہ ہم یہ کرسکیں۔وقت آگیا ہے کہ اب ترکی فوجی لحاظ سے طاقتور ہوجائے ،کیوں کہ فلسطین کے بعد اسرائیل کی نظریں ترکی پر ہیں،اگر اسرائیل باز نا آیا تو ہماری فوجیں اسرائیل میں گھسیں گی ،جیسے اس سے قبل ترک فوجیں آزربائیجان کی مدد کے لیے کارا باخ میں گھسی تھیں اور آرمینیا کے عیسائیوں سے کاراباخ صوبہ آزاد کرایا تھا ،اور جیسے لیبیا کی مدد کے لیے ترک فوجیں وہاں گئیں تھیں اور باغیوں کا قلع قمع کیا تھا

    اگرچہ ترک صدر پر کافی تنقید کی جارہی ہے کہ وہ محض دھمکیاں لگا رہے ہیں اور عملا غزہ کی مدد نہیں کررہے لیکن ایک نیٹو ملک کی اسرائیل کو دھمکی اور پھر ترک صدر کو صدام کی طرح قتل کرنے کی اسرائیلی دھمکی مشرق وسطیٰ میں خون ریز عالمی جنگ کا اشارہ دے رہی ہے جو غزہ جنگ کی شکل میں لبنان ایران یمن سعودی عرب شام عراق تک پھیل چکی ہے ،اردگان کے تازہ بیان کے بعد ترکی سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اردگان گزشتہ دس ماہ میں غاصب اسرائیل کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرتے رہے ہیں تو یہ حملہ کرنے کی کیا منطق ہے ؟ اردگان کو اپنے بیان پر شدید سبکی کا سامنا ہے ،غزہ میں جاری نسل کشی کے دوران ترکی سے اسرائیل سپلائی جاری رہی ہے،اب ترک صدر کو غزہ کے مسلمانوں سے ہمدردی جاگ اٹھی ہے،

    دوسری جانب اسرائیلی دہشت گرد درندوں نے غزہ سے اغوا کیے گئے 50 مسلمانوں کو اسرائیلی جیل میںجنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا ،اسرائیلی پولیس نے جیل کے ذمہ دار یہودی دہشت گردوں کو گرفتار کیا ،تو اسرائیلی متشدد یہودی وزیروں نے اس جیل پر صہیونی درندوں کے ساتھ دھاوا بول دیا ،جنہوں نے اس جیل میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کو شہید کرنے کا مطالبہ کیا اسرائیلی جیلوں میں 20000 سے زائد نہتے فلسطینی مسلمان قید ہیں ،جن میں 3000 بچے اور خواتین شامل ہیں،گزشتہ 297 دنوں میں صرف فلسطین کے مغربی پٹی سے 10000 فلسطینی گرفتار کیے گئے ہیں

  • نازیبا تصاویر وائرل کرنے پرخواتین کا وی لاگر پر تشدد

    نازیبا تصاویر وائرل کرنے پرخواتین کا وی لاگر پر تشدد

    خواتین کی نازیبا تصاویر وائرل کرنا مہنگا پڑ گیا، خواتین نے وی لاگر کو تشدد کو نشانہ بنا ڈالا

    واقعہ بھارت کا ہے،بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع پلکڑ میں خواتین نے ایک وی لاگر کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے،خواتین نے الزام عائد کیا کہ وی لاگر نے انہیں نازیبا تصاویر بھیجی تھیں،اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا،خواتین نے وی لاگر کو پکڑ کر رسیوں سے باندھا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا، خواتین کے مطابق وی لاگر نے ان کی تصاویر کو ایڈیٹ کیا اور فحش تصاویر بنا کر انہیں سوشل میڈیاپر وائرل کیا،خواتین نے وی لاگر کو ڈھونڈا، اور تلاش کرنے کے بعد اسکو تشدد کا نشانہ بنایا،اسی دوران کسی نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس موقع پر پہنچی اور وی لاگر سے خواتین کی جان چھڑوائی، بعد ازاں پولیس نے کاروائی کی اور دونوں فریقین کے خلاف الگ الگ مقدمہ درج کر لیا

  • دہلی،بارشی پانی سے تہہ خانے میں تین طلبا کی موت،کوچنگ سنٹر کا مالک گرفتار

    دہلی،بارشی پانی سے تہہ خانے میں تین طلبا کی موت،کوچنگ سنٹر کا مالک گرفتار

    بھارت میں شدید بارش، کوچنگ سنٹر میں پانی بھر جانے سے دو خواتین طلبا سمیت تین ہلاک ہو گئے ہیں

    واقعہ دہلی میں پیش آیا،دہلی کے علاقے اولڈ راجندرنگر میں کوچنگ سنٹر کے تہہ خانے میں پانی جمع ہونے سے تین طلبا کی موت ہو گئی ہے، طلبا خود کو پانی سے نکالنے کی کوشش کر تے رہے لیکن انہیں ناکامی ہوئی،واقعہ ہفتہ کی شب پیش آیا، طلبا جب کوچنگ سنٹر آئے تو وہ بے خبر تھے کہ یہاں کیا ہونے والا ہے،اچانک بارش ہوئی اور بارشی پانی تہہ خانے میں داخل ہو گیا،اس دوران کچھ طلبا تہہ خانے سے باہر نکل آئے اور کچھ پھنس گئے، جب پانی تہہ خانے میں گیا تو 30 سے 35 طلبا موجود تھے، اسی دوران ایک گاڑی گزری ،سڑک پر تین فٹ سے زیادہ پانی تھا، گاڑی گزرنے سے پانی شدید تیزی کے ساتھ تہہ خانے میں بھرنا شروع ہو گیا،موقع پر موجود طلبا کا کہنا تھاکہ پانی داخل ہونے سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے، پانی داخل ہونے کی وجہ سے طلبا شدید پریشانی کا شکار ہوئے،جو نکل سکتے تھے وہ نکلے لیکن تین طلبا پھنس گئے، جن میں دو خواتین طلبا بھی شامل تھیں، انہوں نے پانی سے نکلنے کی کوشش کی، مدد مانگی لیکن کوئی مدد کو نہ پہنچ سکا اور تینوں کی موت ہو گئی.

    بھارتی میڈیا کے مطابق طلبا کو راؤ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ملحقہ عمارت کے تہہ خانوں میں پڑھایا جاتا ہے، وہاں لائبریری ہے ، طلباء 3500 روپے ممبر شپ فیس لی جاتی ہے لیکن وہاں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں،تہہ خانے میں لائبریری کا صرف ایک دروازہ ہے۔ داخلہ فنگر پرنٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ بجلی کی خرابی یا کسی خرابی کی صورت میں ان دروازوں سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے طلباء کو اے سی، وائی فائی جیسی چھوٹی سہولتوں کا لالچ دے کر موت کے منہ میں پہنچایا جاتا ہے

    واقعہ کے بعد راشٹریہ پرواسی منچ نے دہلی حکومت اور کوچنگ سینٹر کے مالکان کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے تو وہیں طلبا احتجاج کر رہے ہیں، دہلی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور راؤ آئی اے ایس اسٹڈی سرکل کے مالک اور کوآرڈینیٹر کو گرفتار کر لیا ہے،تہہ خانے میں پانی بھرنے سے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی شرییا یادو، تلنگانہ کی تانیا سونی اور کیرالا کے نوین ڈالوِن کی موت نے طلبا کو مشتعل کردیا ،دہلی کی حکومت پر بارش کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری سے نپٹنے کے موثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے،دہلی کی حکومت نے طلبہ کے شدید احتجاج پر شہر بھر میں بیسمنٹ میں قائم 13 کوچنگ سینٹر سیل کردیے ہیں۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل