Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ میں ادا کر دی گئی

    اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ دوحہ کی مسجد امام محمد بن عبدالوہاب میں ادا کی گئی،نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،حماس کے سینئر رہنما اور کمانڈر شیخ خلیل الحیہ نے نماز جنازہ پڑھائی . پاکستان سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان حماس رہنما کے نماز جنازہ میں شریک ہوئے،اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ میں شرکت کیلئے ترک وزیرِ خارجہ بھی دوحہ پہنچے تھے، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد بھی نماز جنازہ کے موقع پر موجود تھے.نماز میں قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے بھی شرکت کی،افغانستان کے نائب وزیراعظم برائے سیاسی امور محترم مولوی عبدالکبیر کی قیادت میں افغان وفد نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی.جنازے میں حماس کے تمام سینئر قائدین سمیت قطر کے بادشاہ قطر کے وزراء ، ترک وزیر خارجہ اور 50 مسلمان ملکوں سے سفیروں سمیت ہر ملک ہر قوم ہر نسل کے لوگ شریک ہوئے ،جگہ کی قلت اور عوام کے جم غفیر کی وجہ سے مسجد محمد بن عبدالوھاب کے راستے بند ہوگئے ،ہزاروں لوگ خواہش کے باوجود جم غفیر اور رش کی وجہ شریک نا ہوسکے ،بحرین عمان کویت سعودی عرب یو اے ای سمیت دنیا کے کئی ممالک سے لوگ گاڑیوں اور جہازوں کے ذریعے جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے ،قطر کے شہر لوسیل میں واقع قطر کے شاہی قبرستان میں شہید اسماعیل ھنیہ کو دفن کیا جائے گا

    گزشتہ رات سے ہی قطر کے دارالحکومت دوحہ کے حماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نماز جنازہ میں شرکت کے لیے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں، نماز جنازہ میں کئی ممالک کے حکام نے شرکت کی ہے۔اس دوران دوحہ میں کچھ سڑکیں اور گلیاں ٹریفک کے لیے بند تھیں، قطر کی سیکیورٹی فورسز نے خاص طور پر محمد بن عبدالوہاب مسجد کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے، قومی اور بین الاقوامی میڈیا تنظیموں کے پریس کے ارکان بھی مسجد کے ارد گرد موجود تھے.

    قبل ازیں گزشتہ روز حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جسد خاکی ایران سے قطر پہنچا دیا گیا تھا،اس دوران دوحہ میں ان کے گھر پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے،اسماعیل ہنیہ اور انکے ساتھی کے جسد خاکی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے، حماس رہنما خالد مشعل نے دونوں میتوں کو وصول کیا، بعد ازاں شہید ہنیہ کی بیوہ نے انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ آخری دیدار کرتے ہوئے کہا کہ "سلم علی کل شہداء الغزہ” کہ غزہ کے تمام شہداء کو سلام کہنا۔ہم نے آپ سے عزم ہمت اور صبر سیکھا ہے ،اللہ آپ کی شہادت قبول فرمائے ،آپ کو جنت میں اعلی مقام ملے ،ہم آپ کا مشن کبھی نہیں چھوڑیں گے

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا مطلب مقدس سرزمین کی فتح ہوگا،بیٹی اسماعیل ہنیہ
    حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ان کی بیٹی خولہ اسماعیل ہنیہ اور بہو ایناس ہنیہ کا پیغام سامنے آیا ہے، حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کی بیٹی خولہ اسماعیل کا کہنا تھا کہ ” ہم اللّٰہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے والد کو شہادت سے نوازا، ہمارے والد جہاد کر رہے تھے اس لیے شہیدوں میں ان کا انتخاب ہونے پر ہم اللّٰہ کے شکر گزار ہیں اور جنت میں ان کے بلند درجات کے لیے دعا گو ہیں،اسرائیلی حکومت اگر یہ سوچتی ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کرکے اُنہیں سکون ملے گا یا وہ جشن منائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا بلکہ خدا کی قسم میرے والد کا خون حشر کے دن تک ان کا پیچھا کرے گا، اللّٰہ نے چاہا تو اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا مطلب مقدس سرزمین کی فتح ہوگا۔

    ہم اللّٰہ کی رضا پر راضی،ملاقات جنت میں ہو گی، بہو اسماعیل ہنیہ
    دوسری جانب اسماعیل ہنیہ کی بہو ایناس ہنیہ کا کہنا ہے کہ ہم اللّٰہ کی رضا پر راضی ہیں، دل خدا کی مرضی اور تقدیر سے مطمئن ہے، میں ایک ایسے شخص کے جانے کا افسوس کررہی ہوں جس کی اچھائیوں سے زمین و آسمان بھر جاتے ہیں،شہید بزرگ قائد کی موت پر ہم سب افسردہ ہیں لیکن ہمارا ایمان ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اور ان شاء اللّٰہ ملاقات جنت میں ہوگی۔

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • امریکہ کا اسرائیل کیلئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    امریکہ کا اسرائیل کیلئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ

    امریکہ نے اسرائیل کے لئے خطے میں مزید فوجی امداد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے
    امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم سے بات چیت کے بعد کیا، اسرائیلی وزیراعظم نے جوبائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سے رابطہ کیا تھا اور اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے بچانے کیلئے مزید دفاعی سامان بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کے بعد امریکہ نے اسرائیل کی مزید مدد کا فیصلہ کیا،وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں سے اسرائیل کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا

    ایران اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر امریکا نے روزویلٹ نامی جنگی بحری بیڑہ بھی خلیج فارس میں پہنچا دیا ہے،امریکی اخبار کے مطابق بحری بیڑے کے ساتھ 6 میزائل بردار جہاز بھی موجود ہیں جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں 5 امریکی جنگی بحری جہاز پہلے سے ہی تعینات ہیں، امریکی جاسوس طیاروں کی شام، لبنان اور اسرائیل کی ساحلی پٹیوں پر پرواز کا سلسلہ بھی جاری ہے،امریکی بحریہ کے جاسوس طیاروں نے شام، لبنان اور اسرائیل کی ساحلی پٹی پر 4 گھنٹے تک پرواز کی اور انٹیلی جنس ڈیٹا جمع کیا۔

    امریکی صدر کا اسرائیلی وزیراعظم پر یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کیلئے زور
    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل غزہ جنگ بندی میں مذاکرات میں مددگار نہیں ہوگا،امریکی صدر نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر اظہار تشویش کیا اور کہا کہ انکی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے،امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم پر یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کیلئے زور دیا

    دوسری جانب ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل باقری کا کہنا ہے کہ ایران اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے طریقہ کا جائزہ لے رہا ہے اسرائیل کوپچھتانا پڑےگا، اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا

    اردن کا تجارتی پروازوں کو 45 منٹ کا اضافی ایندھن لے جانے کا حکم
    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اردن نے فضائی مشنوں کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں ملک کی تمام تجارتی پروازوں کو آپریشنل وجوہات کی بنا پر 45 منٹ کا اضافی ایندھن لے جانے کا کہا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کے خطرے کی وجہ سے اردن کی فضائی حدود کی ممکنہ رکاوٹوں یا بندش کے خلاف احتیاط کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اردن کی حکومت نے اپنی خودمختاری کے دفاع اور اس عمل میں ممکنہ طور پر اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے کسی بھی میزائل یا ڈرون کو روکنے کے اپنے ارادے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت نے کئی طرح کے رد عمل کو جنم دیا ہے، کچھ نے اردن کے فعال موقف کی تعریف کی اور کچھ نے اسرائیل کا ساتھ دینے پر تنقید کی ہے.

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • مساجد کی حفاظت کیلیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائیگا۔برطانوی وزیراعظم

    مساجد کی حفاظت کیلیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائیگا۔برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ مسلم کمیونٹی اور مساجد کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

    برطانیہ میں بچوں کے قتل کے بعد دائیں بازو کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کئیر اسٹارمر کا کہنا تھا دائیں بازو والے مساجد پر حملے کرکے اپنا آپ دکھا رہے ہیں، بدامنی پھیلانے کے پیچھے بدمعاش گروہ ملوث ہے،پولیس فورسز پُرتشدد واقعات سے ملکر نمٹیں گی، مسلم کمیونٹی کی حفاظت کیلئے ہر وہ قدم اٹھایا جائے گا جو ضروری ہو،بڑے پیمانے پر بےامنی چند بے عقل افراد کے اقدام سے پھیلی، سڑکوں پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نامناسب سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نقل و حرکت محدود کرنے کیلئے انٹیلی جنس کا اشتراک اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا سہارا لیں گے۔

    دوسری جانب مسلم کونسل آف برٹن نے اپیل کی کہ مسلم کمیونٹی اور مساجد کی حفاظت کیلئے اضافی اقدامات کیے جائیں۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کے شمال مغربی علاقے ساؤتھ پورٹ میں ایک مسجد کے باہر پولیس اور ہجوم کے ساتھ پرتشدد جھڑپ ہو ئی تھی، مرسی سائیڈ پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر پرتشدد مظاہروں کے پیچھے انگلش ڈیفنس لیگ کا ہاتھ ہے، غصے اور جھوٹی آن لائن افواہوں سے متاثر ہو کر انہوں نے پولیس پر بوتلوں اور پتھروں سے حملہ کیا،جہاں یہ واقعہ ہوا وہ مسجد کے قریب ہے، اسی مقام پر تین لڑکیوں کو تشدد کر کے مار دیا گیا تھا،علاقے میں ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا کہ پولیس پر حملہ کیا گیا، اسی دوران پر تشدد ہجوم نے مسجد پر پتھراؤ کیا، کاروں کو آگ لگائی، دکانوں کو نقصان پہنچایا،واقعہ میں 22 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، پولیس کے مطابق پر تشدد افراد کا تعلق انگلش ڈیفنس لیگ سے ہے، جو کہ ایک انتہائی دائیں بازو کی تنظیم ہے۔

    بارش کی کوریج کے لیے پانی میں "گھسنے” والی خاتون رپورٹر کی ویڈیو وائرل

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

  • پیرس اولمپکس،باکسنگ ایونٹ میں خاتون کے مقابلے میں خواجہ سرا

    پیرس اولمپکس،باکسنگ ایونٹ میں خاتون کے مقابلے میں خواجہ سرا

    پیرس اولمپکس کے باکسنگ ایونٹ میں خاتون کے مقابلے میں خواجہ سرا کو اتارنے پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے

    الجزائر کی ایمان خلیف نے اطالوی باکسر انجلینا کارینی کو صرف 46 سیکنڈ میں رنگ چھوڑنے پر مجبور کردیا،کارینی نے انکشاف کیا کہ ایمان خلیف کے مکے ان کے پورے کیرئیر میں کھائے مکوں سے زیادہ سخت اور مشکل تھے،مقابلے کے ابتدائی مراحل میں کارینی کو ایمان خلیف کے ایک مکے نے ان کی چِن سٹریپ کو بھی اکھاڑ پھینکا ،اس موقع پر اطالوی باکسر کارینی نے ایمان خلیف سے مصافحہ نہیں کیا اور انکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے جنسی اہلیت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے گزشتہ سال الجزائر کی باکسر ایمان خلیف کو تائیوان کے لن یو ٹنگ کے ساتھ دہلی میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ سے نااہل قرار دے دیا تھا،اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کافی ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور صارفین نے اولمپکس جینڈر پالیسیز پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے پیرس اولمپکس میں خواجہ سرا باکسرز کو اجازت دینے پر سخت تنقید کی،اور کہا کہ خواتین کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے، یہ عورتوں کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے

    اس واقعہ نے الجزائر کے عوام میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے،انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی ہم وطن کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے، صحافی اور الجزائرکی حقوقِ نسواں کی تحریک کی کارکن کنزا خاطو کہا کہ ایمان پر جنسی طور پر متنازعے ہونے کا الزام لگایا گیا ہے، ہم سب ایمان کے ساتھ آپ کے ساتھ ہیں نتیجہ کچھ بھی ہو،

  • اسماعیل ہنیہ کی دوحہ میں نماز جنازہ و تدفین آج،پاکستان ،ترکی میں سوگ کا اعلان

    اسماعیل ہنیہ کی دوحہ میں نماز جنازہ و تدفین آج،پاکستان ،ترکی میں سوگ کا اعلان

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کا جسد خاکی ایران سے قطر پہنچا دیا گیا اس دوران دوحہ میں ان کے گھر پہنچنے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    اسماعیل ہنیہ اور انکے ساتھی کے جسد خاکی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے، حماس رہنما خالد مشعل نے دونوں میتوں کو وصول کیا، بعد ازاں شہید ہنیہ کی بیوہ نے انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ آخری دیدار کرتے ہوئے کہا کہ "سلم علی کل شہداء الغزہ” کہ غزہ کے تمام شہداء کو سلام کہنا۔ہم نے آپ سے عزم ہمت اور صبر سیکھا ہے ،اللہ آپ کی شہادت قبول فرمائے ،آپ کو جنت میں اعلی مقام ملے ،ہم آپ کا مشن کبھی نہیں چھوڑیں گے

    اسماعیل ہنی کی نماز جنازہ آج بعد از نمازجمعہ دوحہ میں ادا کی جائیگی اور تدفین کی جائیگی،نماز جنازہ دوحہ کی امام محمد بن عبدالوہاب مسجد میں ادا کی جائیگی

    قبل ازیں تہران میں اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ،اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قاتلانہ حملے میں مار دیا گیا تھا، ایران اور حماس نے امریکہ و اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے،

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،ترک صدر کا آج سوگ کا اعلان
    ترک صدر طیب اردوان نے آج ترکی میں سوگ کا اعلان کیا ہے، ترک صدر کا کہنا تھا کہ فلسطینی کاز کے لیے ہماری حمایت اور اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی وجہ سے آج جمعہ کو یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔میں اسماعیل ھنیہ اور تمام فلسطینی شہداء کو عزت و احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں اور میں اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے فلسطینی عوام سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔

    دوسری جانب نیو یارک ٹائمز کے بعد ایکسیون نے بھی موساد ایجنٹوں کے حوالے کے ساتھ رپورٹ شائع کر دی۔ کسی بھی اہم شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے بم کمرے میں ایک ماہ پہلے نصب کیا گیا تھا۔ اس بم میں ایک ہائی ٹیک ڈیوائس تھی جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔ جب ایران میں موساد کے ایجنٹوں کو اطلاع ملی کہ ھنیہ کمرے میں ہے تو انہوں نے ریموٹ کنٹرول سے بم کو دھماکہ خیز مواد سے کمرے کو اڑا دیا۔ ایران نے اپنی شعیہ پراکسیز شام سے عراق، یمن سے لبنان تک پھیلا رکھی ہیں لیکن اس کے اپنے گھر میں موساد اتنا کنٹرول رکھتی ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی شخصیت کو اڑا سکتے ہیں چاہے وہ خامنہ ای ہی کیوں نہ ہو۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،پاکستان بھر میں یوم سوگ،نماز جمعہ کے بعد غائبانہ نماز جنازہ ادا کیا جائیگا
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آج پاکستان میں بھی یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم پر وزیراعظم کی زیرِصدارت حکومت اور اتحادی جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا،اجلاس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم، آئی پی پی، مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ ضیا اور نیشنل پارٹی کے سربراہان و سینئر نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج بعد نماز جمعہ پورے ملک میں اسماعیل ہنیہ شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آج ملک بھرمیں یوم سوگ منایا جائے گا،اجلاس میں حماس کے لیڈر اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا گیا،اجلاس میں کہا گیا کہ یہ واقعہ خطے میں امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ سازش ہے، ایسے واقعات دنیا کے امن کو تباہ کرنے اورخطے میں کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں،اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے فلسطین میں اسرائیل کے ریاستی ظلم و بربریت کو امت مسلمہ کے لیے المیہ قرار دیا،اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ نہتے فلسطینیوں کی انسانی ہمدردی کے تحت امداد تک فوری رسائی یقینی بنائی جائے، پارلیمنٹ میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی قرارداد پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اجلاس کے شرکا نے فلسطین میں 9 ماہ سے نہتے لوگوں پر جاری اسرائیلی ظلم و بربریت پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی مظالم کی مذمت اور نہتے فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، شرکا کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی بربریت پر بین الاقوامی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، عالمی برادری کو مصلحت سے نکل کر ظلم کی و بربریت روکنےکے لیےدو ٹوک مؤقف اپنانا ہوگا، اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اپنی خاموشی توڑے، عالمی برادری صہیونی قوتوں کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی فی الفور روکے،اسرائیل کو جنگی جرائم اور فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • آئی پی آئی کی امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کی اپیل

    آئی پی آئی کی امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کی اپیل

    آزاد میڈیا کے عالمی نیٹ ورک انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی) نے امریکا سے صحافیوں کی جاسوسی کے نئے عالمی معاہدے کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں آزادی صحافت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور کئی ممالک میں صحافیوں کی حفاظت خطرے میں ہے۔
    آئی پی آئی نے اپنے تازہ ترین بیان میں، جو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ (سابقہ ایکس) پر جاری کیا گیا، امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ جاسوسی و نگرانی کے اس نئے عالمی معاہدے کو مسترد کرے۔ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ حکومتوں کو وسیع پیمانے پر جاسوسی اور نگرانی کے اختیارات دے گا، جو کہ آزادی صحافت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔آئی پی آئی کے ڈائریکٹر جنرل باربرا ٹریونیئن نے اس موقع پر کہا، "یہ معاہدہ نہ صرف صحافیوں کی آزادی کو محدود کرے گا بلکہ آمرانہ حکومتوں کو پریس کو نشانہ بنانے اور دبانے کے لیے مزید آلات فراہم کرے گا۔ ہم امریکا سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس خطرناک معاہدے کو مسترد کرے اور دنیا بھر میں صحافیوں، آزادی صحافت اور جمہوریت کے حق میں کھڑا ہو۔”

    معاہدے کی تفصیلات ابھی تک عوامی نہیں کی گئی ہیں، لیکن ذرائع کے مطابق اس میں حکومتوں کو صحافیوں کے ڈیجیٹل مواصلات کی نگرانی، ان کے ذرائع کی شناخت، اور حساس معلومات تک رسائی کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز ہے۔ یہ اقدامات بظاہر قومی سلامتی کے نام پر کیے جا رہے ہیں، لیکن تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار رائے اور صحافتی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔آئی پی آئی نے اپنے بیان میں دنیا بھر کی مختلف صحافتی تنظیموں کو بھی ٹیگ کیا ہے، جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف)، اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) شامل ہیں۔ ان تنظیموں سے اس مہم میں شامل ہونے اور اپنی آواز بلند کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    صحافتی آزادی کے ماہر اور سابق صحافی ڈاکٹر علی احمد نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ معاہدہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ اگر امریکا جیسی جمہوری ریاست اس قسم کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں آمرانہ حکومتوں کو صحافیوں پر دباؤ بڑھانے کا بہانہ دے سکتا ہے۔”واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں کئی ممالک میں صحافیوں پر حملے، ان کی گرفتاریاں اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، صرف گزشتہ سال 100 سے زائد صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے یا قید کیے گئے۔

    آئی پی آئی کے اس اقدام کو عالمی سطح پر صحافتی برادری کی جانب سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔ کئی ممالک کے صحافتی اداروں نے بھی اس مہم میں شمولیت کا اعلان کیا ہے اور اپنی حکومتوں سے اس معاہدے کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس معاملے پر امریکی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے نجی طور پر کہا ہے کہ حکومت صحافتی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گی جو اس بنیادی حق کو متاثر کرے۔

    آئی پی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مزید آگاہی پھیلانے کے لیے ایک عالمی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں ایک آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں دنیا بھر کے صحافی اور میڈیا ماہرین شرکت کریں گے۔یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف صحافیوں کی آزادی بلکہ عام شہریوں کی رازداری اور آزادی اظہار رائے کے حقوق بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ آئی پی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرے گی۔

  • بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد

    بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد

    ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی حکومت نے جماعت اسلامی اور اس کی طلبا تنظیم پر پابندی عائد کردی ہے، ان کو عسکری اور دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت نے حالیہ طلبا احتجاج میں تشدد کے واقعات کے بعد جماعت اسلامی اور اس کی طلبا ونگ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی لگا دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں طلبا مظاہروں میں تشدد کی ذمہ دار ہیں۔پچھلے ماہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف طلبا نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کے کریک ڈاؤن میں 200 سے زیادہ افراد جاں بحق اور 10 ہزار سے زائد گرفتار ہوئے تھے۔بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں کے لیے 97 فیصد اوپن میرٹ مقرر کیا ہے، جس کے بعد طلبا نے احتجاج شروع کیا۔ مظاہرین نے اپنے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ تنازع بنگلہ دیش میں حکومت اور طلبا تنظیموں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کی وجہ سے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ بم دو ماہ قبل اِس اہم ترین عمارت میں اسمگل کیا گیا تھا۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی تہران میں واقع یہ گیسٹ ہاؤس ایک بڑے کمپاؤنڈ کا حصہ ہے جس کی سیکیورٹی پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے۔ بم کو ریموٹ کنٹرول سے اُس وقت پھاڑا گیا جب اسماعیل ہنیہ کی اپنے کمرے میں موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔ دھماکے میں ان کا ذاتی محافظ بھی شہید ہوا۔ دھماکے سے عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور باہری دیوار جزوی طور پر گر گئی۔
    رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ تہران کے دوروں کے دوران کئی مرتبہ اس گیسٹ ہاؤس میں قیام کر چکے تھے۔ ایرانی حکام، حماس اور کئی امریکی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں نے حملے کے فوراً بعد امریکا اور دیگر مغربی حکومتوں کے ساتھ آپریشن کی تفصیلات شیئر کیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بم کو گیسٹ ہاؤس میں کیسے پہنچایا گیا، یہ ابھی واضح نہیں ہے، لیکن اسماعیل ہنیہ کے قتل کی پلاننگ اور کمپاؤنڈ کی نگرانی بظاہر کئی مہینوں تک کی گئی تھی۔ اسماعیل ہنیہ سے ملحقہ کمرے میں فلسطینی اسلامک جہاد کے رہنما زیاد النخالا ٹھہرے ہوئے تھے لیکن ان کے کمرے کو کچھ بھی نہیں ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا ہدف صرف اسماعیل ہنیہ تھے۔

  • پیرس اولمپکس ، تقریب کےد وران خاتون وزیر کا صدر کو بوسہ

    پیرس اولمپکس ، تقریب کےد وران خاتون وزیر کا صدر کو بوسہ

    پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور وزیر کھیل ایمیلی اوڈیا کاسٹیرا کی تصویر سامنے آنے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے

    پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے دوران خاتون وزیر جن کی عمر 46 برس ہے، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور فرانسیسی صدر کو گرم جوشی کے ساتھ پکڑ کر گردن پر بوسہ دیا، اس دوران فرانسیسی صدر نے بھی انہیں گرم جوشی سے پکڑا ہوا تھا، تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کی جا رہی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی خاتون وزیر کو بوسہ دیا ،اس موقع پر فرانس کے وزیراعظم گیبریل اٹل بھی وہاں موجود تھے

    سب سے پہلے اس تصویر کو شائع کرنے والے فرانسیسی میگزین نے اس بوسے کو عجیب کہا اور دعویٰ کیا کہ خاتون وزیر اوڈیا کاسٹیرا اپنی طرف توجہ مبذول کرنا پسند کرتی ہیں،خاتون وزیر ایک سابق ٹینس کھلاڑی ہیں اور وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکی تھیں اور شاید اس کی وجہ افتتاحی تقریب میں فخر اورخوشی کا احساس تھا۔

    اس تصویر کے سامنے آنے کے بعد فرانس میں سوشل میڈیا پر کافی بحث بھی کی جارہی ہے،ایک صارف نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا ہے کہ مجھے یہ تصویر غیر مہذب لگتی ہے، یہ صدر اور وزیر کے لائق نہیں ہے، ایک اور صارف نے تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا

  • حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی، نماز جنازہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی
    نماز جنازہ تہران یونیورسٹی میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، نماز جنازہ میں اعلی ایرانی سول حکام ، سرکاری عہدیداروں ور ایرانی پاسداران انقلاب کے افسروں اور جوانوں نے شرکت کی،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اسماعیل ہنیہ کے جسد خاکی کو قطر لے کر جایا جائے گا،اسماعیل ہنیہ کو کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سپردِ خاک کیا جائے گا ،ایران کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کے بیٹوں سے تعزیت کی،حماس ترجمان خلیل الحیہ تہران میں موجود ہیں۔ نماز جنازہ میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، اس موقع پر شرکا نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی بھی کی.شرکا نے فلسطین کے جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے.

    گزشتہ روز ایران میں اسماعیل ہنیہ اپنے گارڈ سمیت قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئے تھے،وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ایران گئے تھے.

    بیٹے کو واٹس ایپ کال سے اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن کا پتہ لگایا،اہم انکشاف
    یورپی مبصر برائے مشرق وسطی ایلیاجے میگنیئر کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل کا جاسوسی سافٹ ویئر استعمال کیا گیا، اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کو واٹس ایپ پیغام میں جدید ترین اسپائی ویئر لگائے،اسپائی سافٹ ویئر نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن بتائی، اسماعیل ہنیہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی کال کے بعد قتل کیا گیا، کال کے دوران اسماعیل ہنیہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے بعد اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا،

    تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے،عبدالسلام ہنیہ
    حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے عبدالسلام ہنیہ کا ویڈیو بیان سامنے آیا ہے، اسماعیل ہنیہ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ہمیں والد کی موت کی خبر ملی، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں میرے والد کو شہادت کی موت نصیب ہوئی، کوئی بھی شخص جو جہاد کے راستے پر چلتا ہے، اس کا انجام شہادت ہوتا ہے یا پھر وہ غازی ہوتا ہے ،حماس رہنما کے بیے عبدالسلام ہنیہ نے اپنے والد کے قاتلوں کو ویڈیو میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے والد کے قاتلوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم چاہے کتنے ہی رہنماؤں کا قتل کر دو، تم فلسطینی عوام کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی ہمارے انقلاب کو روک سکتے ہو

    اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی قوم سے خطاب کیا جس میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ،اسرائیلی وزیراعظم کا خطاب اسرائیلی ٹی وی پر پانچ منٹ نشر کیا گیا، اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں حماس رہنما کے قتل بارے کوئی ذکر نہیں کیا،تاہم بیروت میں حزب اللہ کے رہنما کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے دباؤ میں آجاتا تو کبھی بھی حماس کے رہنماؤں اور دیگر ہزاروں دہشتگردوں کو ختم نہیں کرسکتا تھا، آنے والے دن اسرائیل کے لیے چیلنجنگ ہیں، اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے،حماس، حزب اللّٰہ اور حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے ہی، اسرائیل نے حزب اللّٰہ چیف آف اسٹاف فواد شکر سے بدلہ لے لیا ہے، اسرائیل پر حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے،اسرائیل نے ایران کی پراکسیز کو منہ توڑ ردعمل دیا ہے، اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور طاقت سے جواب دے گا

    اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں نشانہ بنانے کی وجہ بیان کی ہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران میں اسماعیل ہنیہ کی سیکورٹی کی ذمہ داری ایران حکومت کی تھی، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو اسماعیل ہنیہ کو قطر میں ہی قتل کردیا جاتا لیکن اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کرنے کی دو وجوہات تھیں ،ایک یہ کہ حماس کے سربراہ کو ایران میں نشانہ بنانا تھا اور اسکے بعد یہ دیکھنا تھا کہ ایران اس کا جواب کیسے دیتا ہے؟

    اسماعیل ہنیہ کو کس مقام پر نشانہ بنایا گیا،تصویر سامنے آ گئی
    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے مقام کی تصویر سامنے آئی ہے، امریکی میڈیا نے اس مقام کی تصویر جاری کی جہاں اسماعیل ہنیہ ٹھہرے ہوئے تھے اور انہیں نشانہ بنایا گیا،امریکی اخبار کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے یہ تصویر ہم سے شیئر کی ہے،تاہم ایرانی میڈیا نے ابھی تک اس تصویر بارے کوئی تبصرہ نہیں کیا، اسماعیل ہنیہ ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا،یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسماعیل ھنیہ ایرانی صدر کی رہائش گاہ سے 750 میٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر تھے جہاں انہیں شہید کیا گیا.

    اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کےکمانڈر کی عدم شرکت
    ایران آبزرور نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ میں ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے شرکت نہیں کی، ایران آبزورر کے ایکس اکاؤنٹ پر نماز جنازہ کی ادائیگی کی تصویرپوسٹ کی گئی، ساتھ کہا گیا کہ تہران میں اسماعیل ہنیہ کے نماز جنازہ کے دوران ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے کمانڈروں میں سے کوئی بھی نہیں دیکھا گیا۔اس کا مطلب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے…

    https://twitter.com/IranObserver0/status/1818935106494497137

    دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے تہران میں اسرائیل کے ہاتھوں اسماعیل ھنیہ کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مزاحمت کے عظیم محاذ کے وفادار مجاہدین کے غصے اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھے گی۔اسکے بعد ہم اسرائیل کو مزید جلائیں گے،

    ایران کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ رات ایرانی صدر نے تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے نائب خلیل الحیا سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور کہا کہ ہم مضبوط عزم کے ساتھ مزاحمتی محور بالخصوص فلسطینی عوام اور غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل اپنی تمام "مجرمانہ پالیسیوں” میں ناکام رہا ہے اور اسماعیل ہنیہ کے قتل کو "ان کے آخری انجام تک پہنچنے کا نتیجہ” سمجھتا ہے۔

    علاوہ ازیں تہران کے مشہور والیاسر اسکوائر کی دیوار پر ایک نئی تصویر لگائی گئی ہے جس میں ایران کے نئے صدر مسعود ،حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں، جنہیں قتل کر دیا گیا تھا۔یہ تصویر، جو ایرانی پارلیمنٹ میں دونوں کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تھی،

    حماس کے عسکری رہنما محمد ضیف 13 جولائی کو فضائی حملے میں مارے گئے،اسرائیل کا دعویٰ
    علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے محمد ضیف گزشتہ ماہ خان یونس پر فضائی حملے کے دوران مارا گیا تھا۔
    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس جائزوں کے بعد وہ اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب ہوئی کہ حماس کی عسکری شاخ کے کمانڈر محمد ضعیف غزہ کی پٹی میں خان یونس پر 13 جولائی (23 جولائی) کو اسرائیلی فوج کے جنگجوؤں کے حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ "حماس نے پہلے ضعیف کی موت کی تردید کی تھی اور اس نئی خبر پر ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ 13 جولائی کے حملے میں الضیف نہیں بچ سکے، جنگ کا مقصد پورا ہوگیا ہے،واضح رہے کہ حماس کے عسکری رہنما محمد الضیف ابراہیم المصری نے 7 اکتوبر کو طوفان الاقصیٰ آپریشن شروع کیا تھا

    اسرائیل اسماعیل ھنیہ پر پہلے بھی قاتلانہ حملے کر چکا تھا، 2003 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شیخ احمد یاسین شہید اور اسماعیل ھنیہ زخمی ہوئے تھے، 2006 میں غزہ میں ھنیہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ قاتلانہ حملے کے نتیجے میں اس کا ایک ساتھی جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، 2014 میں اسرائیل نے غزہ میں ھنیہ کے گھر کو بار بار نشانہ بنایا۔ 2024 میں اسرائیلی فورسز نے ہنیہ کو اس وقت قتل کر دیا، جب وہ ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے۔

    سعودی عرب کا اسماعیل ہنیہ کی شہادت پراسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم
    سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ایران کے قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری سے گفتگو میں صیہونی حکومت کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے، علاقائی حالات کو بحرانی اور خطرناک قرار دیا۔خبر رساں ادارے ارنا کے مطقب قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ امیر فیصل بن فرحان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا،انہوں نے ایران کے نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں سعودی عرب کے وفد کی شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جعلی صیہونی حکومت نے تمام ریڈ لائنوں کو پار کرتے ہوئے، اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا اور ایران کی قومی سلامتی کے خلاف جارحیت کرکے علاقے میں امن و پائیداری کو سنجیدہ خطرے میں ڈال دیا ہے،انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنے قانونی جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے جعلی صیہونی حکومت کے خلاف پچھتانے پر مجبور کرنے والا اور فیصلہ کن اقدام کرے گا تاکہ غاصب صیہونی حکومت کے مسلسل جنون کو ابدی پشیمانی میں بدل دیا جائے،سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی صیہونی حکومت کے ہاتھوں اسماعیل ہنیہ کے قتل اور اسلامی جمہوریہ ایران کی ارضی سالمیت کے خلاف جارحیت کی مذمت کی اور خطے کی صورتحال کو نازک اور خطرناک قرار دیا،انہوں نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتا ہے، انہوں نے اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ خیال کے جاری رہنے پربھی زور دیا۔