Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بنگلا دیش میں خواجہ سراؤں کی علیحدہ  مسجد تعمیرکردی گئی

    بنگلا دیش میں خواجہ سراؤں کی علیحدہ مسجد تعمیرکردی گئی

    ڈھاکا: بنگلادیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے حکم پر خواجہ سراؤں کی علیحدہ مسجد کی تعمیر کے لیے فراہم کردہ زمین پر مسجد تعمیر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خواجہ سراؤں کی تنظیم کے سربراہ نے بنگلادیشی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم آزادانہ طور پر اپنے رب کی باجماعت عبادت کرسکتے ہیں، ہمیں مساجد میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا تھا اور ہم گھر پر ہی نماز کی ادائیگی پر مجبور تھے تاہم اب ہم اللہ کے گھر میں اس کی عبادت کرسکتے ہیں جس کا ثواب دگنا ہوگا-

    واضح رہے کہ بنگلادیش میں اس سے قبل ایک این جی او نے خواجہ سراؤں کےلیےایک مدرسہ اسکول بھی بنایا تھا جس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ بنیادی انگریزی، حساب اور سائنس کی تعلیم بھی دی جاتی تھی، بنگلادیش میں سرکاری طور پر خواجہ سراؤں کو اپنی شنا خت اپنے جینڈر کے اعتبار سے کروانے کی اجازت ہے، کئی خواجہ سرا سیاست میں بھی سرگرم ہیں۔

    چوہدی سالک بشام حملے میں ہلاک چینی انجینیئرزکی میتیں لے کر چین پہنچ گئے

    لنڈی کوتل: نوجوانوں کا بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنا

    سیالکوٹ:خلق محمدی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام ,سحر و افطاردسترخوان پروگرام سالہا سال سے جاری

  • ترکیہ ،بلدیاتی انتخابات، حکمران جماعت کو شکست، ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے،ترک صدر

    ترکیہ ،بلدیاتی انتخابات، حکمران جماعت کو شکست، ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے،ترک صدر

    ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور ان کی جماعت کو بڑا دھچکا لگ گیا

    ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول سمیت ملک کے 9 شہروں میں میئر کی نشستوں پر حزبِ اختلاف کے امیدوار آگے ہیں، استنبول کے میئر امام اوغلو کو تقریباً 10 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے،انقرہ میں موجودہ اپوزیشن میئر منصور یاواش کی جیت کا جشن منانے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے،مجموعی طور پر بلدیاتی انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی کو 340 اور اپوزیشن کی جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی کو 240 اضلاع میں برتری ہے

    تک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی اپنا احتساب کرےگی،31 مارچ ہمارےلیےاختتام نہیں ٹرننگ پوائنٹ ہے، ترک عوام نے ووٹ کے ذریعےسیاست دانوں کواپنا پیغام پہنچادیا، مئی الیکشن میں جیت کے 9ماہ بعد ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے، اے کے پارٹی اور پیپلز الائنس نے الیکشن کی بھرپور تیاری کی تھی، ہم انتخابات کے نتائج کا پارٹی میں جائزہ لیں گےاور اپنا احتساب کریں گے۔

  • عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے

    عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے

    لندن: عالمی شہرت یافتہ برطانوی ناول نگاراورشاعرہ شارلٹ برونٹے 21 اپریل 1816 میں پیدا ہوئی اور 31 مارچ 1855 میں برسلز میں ڈلیوری کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی اس طرح وہ دنیا سے بے اولاد چلی گئی لیکن ان کے شاہکار ناول ”جین آئیر“ نے اسے ادب کی دنیا میں ہمیشہ کے لیےزندہ کردیا۔

    برونٹے کے والد کا نام پیٹرک برونٹے والدہ کا نام ماریا برانویل اور شوہر کا نام آرتھر بیل نکولس ہے۔ وہ ایک غریب خاندان میں پیداہوئی اس نے معاشی تنگدستی کی وجہ سے نوکرانی کا کام بھی کیا لیکن اس کے باوجود اس نے تعلیم بھی حاصل کی اور تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہوئی لیکن اس کی شہرت اور خوشحالی کا آغاز اس کے ناول جین آئر سے ہوا یہ ایک شاہکار ناول ہے جس کا اردو سمیت دنیاکی کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اس ناول پر 10 فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں ۔ اس کے دیگر مشہور ناولوں میں شرلی، ایما، پروفیسر اور ویلٹ شامل ہیں

  • کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2  سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے بچنے کا ماہرین نے آسان حل بتا دیا

    لندن: برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین کا کہناہے کہ کینسر اور ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے جان لیوا امراض سے بچنے کیلئے مچھی کھانا عادت بنا لیں-

    باغی ٹی وی : East Anglia یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ مچھلی کھانے سے لوگوں کو صحت مند رہنے میں مدد ملتی ہےمچھلی پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جس کو کھانے سے وزن کو صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنا ممکن ہوتا ہے، اگر بڑے پیمانے پر مچھلی کھانے کو یقینی بنایا جائے تو ذیابیطس اور کینسر کے لاکھوں کیسز کی روک تھام ممکن ہے۔

    تحقیق کے مطابق ہر ہفتے 2 بار مچھلی کھانے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہو جاتا ہےاسی طرح آنتوں کے کینسر کا خطرہ 42 فیصد تک گھٹ جاتا ہے مچھلی کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کی مخصوص اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے جبکہ معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے، غذا کے ذریعے امراض کی روک تھام کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے اور خرچہ بھی کم ہوتا ہے۔ 

    اس سے قبل دسمبر 2023 میں جرنل سرکولیشن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ مچھلی کھانے کی عادت امراض قلب سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے،جن افراد کے قریبی رشتے داروں کو امراض قلب کا سامنا ہوتا ہے، وہ مچھلی کو اکثر کھا کر دل کی بیماریوں کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔

  • سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کو ایک بار پھر دھمکی دیدی

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کو ایک بار پھر دھمکی دیدی

    واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نومبر کے صدارتی انتخاب میں اُنہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو بڑی خرابیاں پیدا ہوں گی اور شاید ملک ہی باقی نہ رہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 5 نومبر 2024 امریکا کی تاریخ کا اہم ترین دن ہوگا اس وقت ملک کی حالت بہت خراب ہیں، عوام کے پاس 5 نومبر 2024 کو بہتر تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کا موقع ہوگا، اگر درستی یقینی بنانے والی تبدیلیاں نہ آئیں تو پھر ملک ہی نہیں رہے گا۔

    جب اس انٹرویو کے حوالے سے امریکا بھر میں شدید ردعمل دکھائی دیا تو ڈونلڈ کی انتخابی مہم کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے معروف جریدے نیوز ویک کے نام ایک ای میل میں کہا کہ قانون کی علمداری اور امریکیوں کی سلامتی کے بغیر یہ ملک بھی باقی نہ رہے گا ترجمان کا کہنا تھا کہ سابق صدر صرف یہ کہہ رہے تھے کہ ملک کو حقیقی استحکام کی ضرورت ہے جو صرف اُن کی فتح کی صورت میں واقع ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن پہلے بھی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ صدر منتخب نہ ہوئے تو ملک میں خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا میں پھر کبھی جمہوریت کا سورج طلوع ہی نہ ہو، ان ریمارکس پر بھی انہیں شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد میں ٹرمپ کو خود وضاحت کرنا پڑی تھی کہ اُن کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ملک کو استحکام کی ضرورت ہے جو صرف اُن کی فتح کی صورت میں آسکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران میکسیکو کے صدر آندے مینیوئل لوپیز اوبراڈور کی طرف سے تارکینِ وطن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز پر بھی بات کی،فاکس نیوز کے پروگرام ون نیشن کے تحت لوپیز اوبراڈور نے غیر قانونی تارکینِ وطن کا قضیہ ختم کرنے کے لیے چار تجاویز پیش کی تھیں ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو جنوبی امریکا اور کیریبیئن کے غریب ممالک کے لیے سالانہ 20 ارب ڈالر کی امداد کا بندوبست کرنا چاہیے، وینزویلا پر سے پابندیاں اٹھالی جانی چاہئیں، کیوبا پر سے بھی پابندیاں ختم کردینی چاہئیں اور امریکا میں آباد میکسیکو کے ایسے باشندوں کو سکونت کا حق دیا جائے جو اگرچہ غیر رجسٹرڈ ہیں تاہم قانون پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

  • انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ کملا داس ثریا

    انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ کملا داس ثریا

    کملا داس ثریا

    تاریخ پیدائش:31 مارچ 1934ء

    کملا داس ہندوستان میں انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ تھیں ملیالم ادب میں ان کو مادھوی کٹی کہا جاتا تھا۔ ان کو انگریزی اور ملیالم ادب میں کمال حاصل تھا۔

    خاندانی پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کملا داس 31مارچ 1934 کو بھارت کے شہر کیرالا کے ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد وی ایم نائر اور والدہ اس دور کی مشہور ملیالم شاعرہ بالامانیمیمّا تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اے کے انتھونی بھی ان کے رشتہ دار بتا‎‎ئے جاتے ہیں۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کملا داس ثریا کی ادبی زندگی کا آغاز 8 سال کی عمر میں ہی ہو گیا تھا جب انہوں نے وکٹر ہیوگو کی تحریروں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کی پہلی کتاب ”سمران کلکتہ“ تھی جس نے ان کو انقلابی ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان کی تحریروں میں مردوں کے تسلط والے سماج میں خواتین کی بے بسی کا ذکر ہے اور ان کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پڑھنے والوں کو عدم مساوات کو ختم کرنے پر سوچنے پر راغب کیا۔

    قبول اسلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کئی برس اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد کملا داس نے اسلام قبول کر لیا جس کے باعث بھارت اور کیرالہ کے ادبی و سماجی حلقوں میں ایک طوفان آ گیا تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد ان کا نام ثریا رکھا گیا۔ اپنے قبول اسلام کی بڑی وجہ جو وہ بیان کیا کرتی تھیں وہ ان کے الفاظ میں ”اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے ہیں وہ جان کر میں حیران ہوں میرے قبول اسلام کے پس پردہ اسلام کی جانب سے خواتین کو دیے جانے والے حقوق کا بڑا کردار ہے۔“
    31مئی 2009 کو پونا کے جہانگیر ہسپتال میں ان کی وفات ہوئی ۔ اس وقت ان کی عمر 75 برس تھی۔

    مشہور تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔ (1)این اٹروڈکشن
    ۔ (2)دی ڈیزیڈنٹ
    ۔ (3)الفابیٹ آف لسٹ
    ۔ (4)اونلی سول نوز ہاؤ ٹو سنگ
    ۔ (5)مائی سٹوری (خود نوشت)

    منقول

  • بوم سپر سونک کے تجرباتی طیارے  کی پہلی آزمائشی پرواز مکمل

    بوم سپر سونک کے تجرباتی طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز مکمل

    نیویارک: دہائیوں کی کوششوں کے بعد امریکی کمپنی بوم سپر سونک کے تجرباتی طیارے نے اپنی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی ہے، کمپنی نے کمرشل پروازوں کے لیے رواں دہائی کے اختتام تک کا ہدف طے کر رکھا ہے،اگرچہ یہ طیارہ ابھی مکمل طور پر تیار نہیں مگر کمپنی کو 130 آرڈر مل چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ایکس بی 1 نامی طیارے نے کیلیفورنیا میں آزمائشی اڑان بھری، اس طیارے پر 2014 سے کام جاری ہے اور کمپنی کے مطابق آئندہ چند ماہ بہت اہم ثابت ہوں گےاس طیارے نے پہلی پرواز میں تمام تر اہداف حاصل کیے،اسے 7100 فٹ کی بلندی پر 273 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑایا گیا تھا، جو بظاہر کمرشل طیاروں سے بہت کم ہے۔

    مگر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو Blake Scholl کے مطابق آئندہ 5 سے 7 ماہ کے دوران 10 سے 15 مزید آزمائشی پروازیں ہوں گی جس کے دوران ہم ساؤنڈ بیرئیر توڑ دیں گے،آسان الفاظ میں اس طیارے کو آواز کی رفتار (760 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے اڑایا جائے گا، مستقبل میں یہ طیارہ 1300 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے سفر کر سکے گا، یہ ٹیکنالوجی ماضی کے سپر سونک طیاروں سے بہت زیادہ بہتر ہے یہ طیارہ 100 فیصد ماحول دوست ایندھن پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ابھی یہ ایندھن زیادہ مقدار میں تیار نہیں ہوتا۔

    ایکس بی 1 کو کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے جبکہ پرواز کے لیے اگیومینٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی کی مدد بھی لی جائے گی اس طیارے کے آگے لمبی ناک نکلی ہوئی ہے جس میں 2 کیمرے نصب ہیں جو پرواز کے راستے اور دیگر کاموں میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

  • برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

    مینا کماری
    31 مارچ 1972: تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری یکم اگست 1933 میں بمبئی کے ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی ان کے والد کا نام علی بخش اور ماں کا نام اقبال بانو تھا۔ ماں نے اس کا نام ماہ جبین بانو رکھا جبکہ گھر میں اسے منجو کے نام سے پکارا جاتا تھا اور فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد وہ فلمی نام مینا کماری کے نام سے مشھور ہوئی۔ مینا کماری جتنی خوب صورت تھی زندگی میں اسے اتنے ہی دکھ اور غم ملے۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے باپ علی بخش نے ایک یتیم خانہ میں چھوڑدیا اس کی وجہ یہ تھی کہ علی بخش کو پہلے دو بیٹیاں تھیں جن کے بعد اسے بیٹے کی شدید خواہش ہوئی لیکن تیسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے غصے کے طور پر اپنی بیٹی کو یتیم خانہ میں داخل کرا دیا مگر اپنی بیوی کے رونے اور ممتا کی تڑپنے کی وجہ سے کچھ روز بعد بیٹی کو اپنے گھر واپس لے آیا۔ ماہ جبیں نے چار سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا جس میں اسے بے بی مینا کا نام دیا گیا وہ جب سن بلوغت کو پہنچی تو اسے فلمساز وجے بھٹ نے اپنی فلم ”بچوں کا کھیل“میں مینا کماری کا نام دیا۔ مینا کماری فلمی دنیا ایک عظیم اداکارہ کا مقام حاصل کر لیا وہ ہندستان کی پہلی اداکارہ تھی جس کو فلم بیجوباورا میں بہترین اداکاری کی وجہ سے فلم فیئرایوارڈ دیا گیا۔ جبکہ مجموعی طور پر اس نے چار فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے۔ مینا کماری کی مشہور فلموں میں بیجو باورا، صاحب بیوی غلام، یہودی، دل ایک مندر، پرینتیا، کاجل ، کوہ نور ، دل اپنا اور پریت پرائی ، آرتی، میں چپ رہوں گی اور آزاد شامل ہیں ۔

    مینا کماری نے 1952 میں فلمساز کمال امروہوی سے اس کی دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی ۔ 1964 میں کمال امروہوی کے درمیان شدید اختلافات کے باعث علیحدگی ہو گئی ۔ مینا کماری کو بچپن سے ہی شاعری سے دلچسپی تھی لیکن زمانے کے دکھ درد کے باعث خود بھی شاعرہ بن گئی اور ناز تخلص اختیار کیا مرزا غالب اس کا پسندیدہ شاعر تھا جبکہ شاعری میں وہ گلزار سے مشاورت کرتی تھی۔ اس کی شاعری اس کی زندگی کے دکھ اور غموں کی تفسیر بن گئی تھی جبکہ غمگین اداکاری ک وجہ سے اسے ملکہ جذبات کے خطاب سے نوازا گیا۔ 31 مارچ 1972 میں تنہائی کے عالم میں اس کی وفات ہوئی کیوں کہ اس کو اولاد نہیں تھی ۔

    مینا کماریناز کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاند تنہا ہے آسماں تنہا
    دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

  • اقوام متحدہ کی رپورٹ: ہر شخص سالانہ 79 کلوگرام خوراک ضائع کرتا ہے

    اقوام متحدہ کی رپورٹ: ہر شخص سالانہ 79 کلوگرام خوراک ضائع کرتا ہے

    اقوام متحدہ کے فوڈ ویسٹ انڈیکس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 19 فیصد فضلہ کے طور پر ضائع کیا گیا ہے جو تقریباً 1.05 ارب میٹرک ٹن خوراک کے برابر ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2030 تک خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے ہدف سے متعلق ممالک کی جانب سے اٹھائے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی خوراک کے کُل فضلے میں 60 فیصد حصہ گھرانوں کا اور 30 فیصد ریسٹورنٹس کا بنتا ہے۔
    مقامی حکومتوں، اداروں اور صنعتی گروپس کی اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ شراکت داری سے عالمی سطح پر کھانے کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2022 میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب کھانے کے پیکٹ پھینکے گئے۔ خاندانوں اور کمپنیوں نے ایک ٹریلین سے زائد مالیت کا کھانا پھینکا جبکہ تقریباً آٹھ سو ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔

  • رمضان المبارک کےآخری عشرے کا آغاز،حرمین شریفین  میں اعتکاف شروع

    رمضان المبارک کےآخری عشرے کا آغاز،حرمین شریفین میں اعتکاف شروع

    مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں رمضان المبارک کے آخری عشرے کا آغاز ہوگیا ہے –

    باغی ٹی وی : حرمین شریفین (مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ) سمیت تمام مساجد میں مغرب کے بعد اعتکاف کا آغاز ہوگیا ہے حرمین انتظامیہ نے اعتکاف کے لیے پورٹل کے ذریعے ہزاروں پرمٹ جاری کیے ہیں، معتکفین کے لیے خصوصی دروازے مقرر کیے گئے ہیں اور تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

    معتکفین کو آب زم زم کی فراہمی کے ساتھ تلاوت کے لیے قرآن کریم کے نسخےبڑی تعداد میں رکھےگئے ہیں، آج سےلاکھوں عمرہ زائرین مسجدالحرام اور مسجد نبویﷺ میں قیام اللیل میں شریک ہوں گے۔

    قبل ازیں ادارہ امور رہنمائی اور فیلڈ گائیڈنس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالمحسن الغامدی نے بتایا تھا کہ ’اعتکاف کے لیے مخصوص جگہ کو معتکفین کے استقبال کے تیار کرلیا گیا ہے جہاں 2500 مرد اور 500 خواتین کی گنجائش ہے، معتکفین کو روزانہ تین کھانے فراہم کیے جائیں گے جنہیں صحت کے معیار اور ضوابط کے مطابق تیار جائے گا، معتکفین کو ایک کمبل، تکیہ، ذاتی استعمال کی اشیا اور سلیپنگ ماسک فراہم کیا جائے گا۔ اعتکاف کے دوران مرد اور خواتین کے لیے طبی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔