Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    چاند ایک ‘نئے دور’ میں داخل ہو گیا ہے،سائنسدان

    کینزس: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی سائنس دانوں کی جانب سے اس دور کو ’لونر(قمری) اینتھروپوسین‘ کا نام دیا گیا ہےاینتھروپوسین وہ ارضیاتی عمر ہوتی ہے جس کو بطور اس دور کے دیکھا جاتا ہے جب انسانی سرگرمیاں موسم اور ماحول کو اثر انداز کرنے کے لیے غالب رہی ہوں،چاند کے نئے دور کے متعلق محققین کی جانب سے کی جانے والی یہ بحث نیچر جیو سائنس میں بطور کمنٹ آرٹیکل کے طور پر شائع ہوئی۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے چاند کی سرزمین کو بدلا ہے اور اس حد تک بدلنے کا ارادہ کیا ہے کہ یہ مصنوعی سیارچوں (سیٹلائٹ) کے نئے دور کے طور پر سمجھا جائےانسانیت کا آئندہ برسوں میں چاند کے ماحول کو مزید تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں چاند کی سطح پر واپس جانا اور انسانوں کو دوبارہ اتارنا شامل ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یہ واضح کرنے کا ایک اہم طریقہ ہو گا کہ چاند کی سطح غیر متغیر نہیں ہے اور انسانیت نے اسے کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے، اس دور کی ابتداء 1959 میں ہوئی جب روس کا لُونا 2 خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا اسپیس کرافٹ بنا۔

    یونیورسٹی آف کینزس سے تعلق رکھنے والے ارضیاتی محقق اور تحقیق کے سربراہ مصنف جسٹن ہولکومب کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل زمین پر اینتھروپوسین کے متعلق ہونے والے مباحثے جیسا ہے، جس میں یہ مطالعہ کیا گیا کہ انسانوں نے اس سیارے کو کتنا متاثر کیا ہے،زمین پر اتفاق رائے یہ ہے کہ انتھروپوسین کا آغاز ماضی میں کسی وقت ہوا، چاہے سیکڑوں ہزار سال پہلے ہو یا 1950 کی دہائی میں۔

    شائع ہونے والے اس تبصرے میں سائنس دانوں نے بتایا کہ قمری اینتھروپوسین کی ابتدا ہوچکی ہے لیکن سائنس دان چاند کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں یا اس کی شناخت کو اس وقت تک قائم رکھنا چاہتے ہیں جب تک سائنس دان انسانی سرگرمیوں کے سبب بننے والے چاند کے ہالے کی پیمائش کر سکیں، اور اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔

    انسان چاند کی سطح پر پہلے ہی بہت کچرا پھیلا چکا ہے اس کچرے میں پہلی بار چاند پر اترتے وقت گالف کی گیندیں اور جھنڈے شامل ہیں جو وہاں پر چھوڑے گئے تھے اس میں انسانی فضلا اور دیگر کچرا بھی شامل ہے۔

    مزید یہ کہ انسانیت چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لئے کام کر رہی ہے، کیونکہ انسان چاند کی سطح کو تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے اور لوگ اس سطح کو کھود کر وہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں-

    "ثقافتی عمل چاند پر ارضیاتی عمل کے قدرتی پس منظر کو پیچھے چھوڑنا شروع کر رہے ہیں،” ہالکومب نے کہا۔ "ان عملوں میں حرکت پذیر تلچھٹ شامل ہیں، جسے ہم چاند پر ‘ریگولتھ’ کہتے ہیں۔ عام طور پر، ان عملوں میں meteoroid اثرات اور بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ تاہم، جب ہم روورز، لینڈرز اور انسانی نقل و حرکت کے اثرات پر غور کرتے ہیں، تو وہ ریگولتھ کو نمایاں طور پر پریشان کرتے ہیں۔

    "نئی خلائی دوڑ کے تناظر میں، چاند کا منظر 50 سالوں میں بالکل مختلف ہو جائے گا متعدد ممالک موجود ہوں گے، جس سے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمارا مقصد قمری جامد افسانہ کو دور کرنا اور اپنے اثرات کی اہمیت پر زور دینا ہے، نہ صرف ماضی میں بلکہ جاری اور مستقبل میں۔ ہم چاند کی سطح پر اپنے اثرات کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔”

  • یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام

    یورپی یونین غزہ میں جنگ بندی کے معاملے پر اتفاق رائے کرنے میں تیسری بار ناکام ہو گیا-

    باغی ٹی وی: یورپی کونسل کے صدر چارلس مشل نے بیلجیئن دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے رہنماؤں کے 2 روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کی،یورپی یونین کے سربراہان اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے شروع کرنے کے دن 7 اکتوبر کے بعد اپنے تیسرے اجلاس میں غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے پر اتفاق رائے نہیں کر سکے، مشل نے کہا کہ اجلاس کے اہم ترین ایجنڈے میں سے ایک اسرائیل ،فلسطین تنازعہ تھا۔

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    جھڑپوں میں وقفے کے بارے میں کچھ رکن ممالک کے درمیان مختلف خیالات پائے جانے کا ذکر کرنے والے مشل نے کہا، "کچھ ‘انسانی ہمدردی کی بنیاد’ اور کچھ ‘انسانی بنیادوں پر جنگ بندی’ چاہتے ہیں، تاہم مشل نے یہ بھی واضح کیا کہ انسانی امداد کے عزم اور دو ریاستی حل کی جانب سیاسی عمل کے عزم کو تمام رہنماؤں نے قبول کیا ہے۔

    اس طرح 7 اکتوبر سے اب تک تیسری بار یکجا ہونے والے یورپی یونین کے سربراہان فائر بندی کی اپیل کرنے کے معاملے میں ایک بار پھر ناکام رہے ہیں۔

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں کمی

  • معروف بھارتی گلوکار 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    معروف بھارتی گلوکار 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

    ممبئی: بالی ووڈ انڈسٹری کے مقبول گلوکار 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ انڈسٹری کے مقبول ترین گیت ’تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں‘ کو اپنی آواز دینے والے انوپ گھوسل کولکتا میں چل بسے، ان کی عمر 77 برس تھی،وہ گزشتہ کئی دنوں سے کولکتہ کے پرائیویٹ اسپتال میں زیر علاج تھے، متعدد جسمانی اعضا کا ناکارہ ہونا اُن کی موت کی وجہ بنا، انہوں نے پسماندگان میں 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں-

    انوپ گھوسل بنگالی گلوکار تھے، انہیں 1983 کی فلم معصوم کے گانے ’ تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں‘سے شہرت پائیانہیں ستیہ جیت رائے کی موسیقی پر مبنی گانوں نے بھی امر کیا، انوپ گھوسل نے 2011 میں مغربی بنگال کی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور ترمول کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب قرار پائے تھے۔

    وہاج علی ایشیا کی 10 مقبول ترین شوبز شخصیات میں شامل

    ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے اُن کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی اور کہا کہ انوپ گھوسل نے بنگالی، ہندی اور دیگر زبانوں میں کئی گانے گائے ہیں۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

  • فلم ’ڈنکی‘ کو انڈین سینسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دیدی

    فلم ’ڈنکی‘ کو انڈین سینسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دیدی

    ممبئی: بالی وڈ اداکار شاہ رخ خان کی نئی کامیڈی ڈراما فلم ’ڈنکی‘ کو انڈین سینسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دے دی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق سینسر بورڈ نے فلم میں بہت معمولی کٹ لگائے ہیں جس سے فلم کی کہانی پر کوئی اثر نہیں پڑتا، سینسر بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے سرٹیفکیٹ کے مطابق فلم کا مجموعی دورانیہ دو گھنٹے 41 منٹ اور 24 سیکنڈ ہے –

    ’ڈنکی‘ محبت اور دوستی کی ایک ایسی کہانی ہے جسے جذباتی کہانی اور کامیڈی مناظر کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا،فلم ایک کامیڈی ڈراما ہے جس میں غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے لوگوں کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور اسے 21 دسمبر کو پوری دنیا میں ریلیز کیا جائے گافلم میں شاہ رخ خان کے ساتھ تاپسی پنوں، بومن ایرانی، وکی کوشل، وکرم کوچھر اور انیل گروور جیسے بہترین اداکار موجود ہیں۔

    وہاج علی ایشیا کی 10 مقبول ترین شوبز شخصیات میں شامل

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

    تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

  • ٹی 20 ورلڈ کپ: آئندہ برس پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا

    دبئی: آئندہ برس ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ نیویارک میں کرایا جائے گا-

    باغی ٹی وی: برطانوی اخبار کے مطابق پاک بھارت میچ سے متعلق اتفاق آئی سی سی اور آر گنائزنگ کمیٹی کے درمیان ہوا ہے،دبئی میں آئی سی سی اجلاس میں شیڈول کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے، ایزن ہاور اسٹیڈیم نیویارک سے 25 کلومیٹر دور لانگ آئی لینڈ میں ہے پاک بھارت میچ کے لیے اسٹیڈیم میں 34 ہزار شائقین موجود ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق امریکی شہر فلوریڈا اور ٹیکساس بھی ورلڈ کپ مقابلوں کے میز بان ہوں گے جبکہ ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی بارباڈوس کرے گا،جبکہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2024 کے مشترکہ میزبان امریکا اور ویسٹ انڈیز ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی کا معاہدہ سائن کرلیا ہے ، پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان "ہوسٹنگ رائٹس ایگریگیمنٹ” پر دستخط دبئی میں ہوئے، معاہدے پر دستخط ذکا اشرف اور آئی سی سی کے کونسل جنرل جوناتھن ہال نے کیے،پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی پر حکومت کو پہلے ہی آگاہ کرچکا ہے-

    قبل ازیں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے حالیہ ملاقات میں پی سی بی کو بھرپور حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی،یاد رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی پاکستان کو سونپی گئی ہے۔

  • کینیڈا  کا  پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    کینیڈا کا پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا فیصلہ

    ٹورنٹو: کینیڈا نے لاکھوں غیر قانونی امیگرنٹس کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کینیڈا کے وفاقی وزیر امیگریشن مارک ملر نے اعلان کیا کہ کینیڈا میں قانونی دستاویزات کے بغیر رہنے والے افراد کو مستقل رہائشی کارڈ جاری کیا جائے گا اور اس طرح وہ قانونی حیثیت حاصل کر لیں گے، اس فیصلے سے لاکھوں پناہ گزینوں کو فائدہ پہنچے گا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے ورک پرمٹ یا بین الاقوامی طلبہ کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔

    مارک ملر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بعض تعلیمی ادارے ”پپی ملز“ کے طور پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے سسٹم کے اندر دھوکہ دہی اور بدسلوکی سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا یہاں پپی ملز کی اصطلاح ڈگریوں کے بے دریغ جاری کیے جانے اور اداروں میں سہولت سے زیادہ طالب علموں کی موجودگی کیلئے استعمال کی گئی ہے،صوبوں میں، پپی ملز کی طرح ڈپلومہ ہولڈرز موجود ہیں جو صرف ڈپلومہ حاصل کر رہے ہیں اور یہ طالب علم کیلئے جائز تجربہ نہیں ہے۔

    مارک ملر نے بین الاقوامی طلبا کو ممکنہ خطرات اور استحصال سے بچانے کے لیے حکومت کے عزم پر زور دیا،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صوبے کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وفاقی حکومت مداخلت کے لیے تیار ہے، بہت ہو چکا، اگر صوبے اور علاقے یہ نہیں کر سکتے تو ہم ان کے لیے کریں گے۔

    وزیرِ امیگریشن کے مطابق غیر قانونی قیام پذیر امیگرنٹس کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کینیڈا میں 2025 تک پانچ لاکھ افراد کو امیگریشن دینے کے منصوبے کا حصہ ہے، حکومت کینیڈا کے نئے فیصلے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    کینیڈین حکومت نے بین الاقوامی طلباء کے لیے 20 گھنٹے کام کی حد پر لگائی گئی پابندی پر عارضی امتناع کی مدت بڑھا دی ہے، طلبا اب 30 اپریل 2024 تک کیمپس سے باہر ہفتے میں 20 گھنٹے سے زیادہ کام کرنے کے اہل ہیں کینیڈا کی نئی اسٹوڈنٹ ویزا پالیسی میں متوقع طلبا کے لیے مالی ضرورت کو بڑھا کر 20,635 ڈالرز کر دیا جائے گا، جو کہ دیرینہ10,000 ڈالرز کی حد سے دوگنی ہے،علاوہ ازیں اب 18 ماہ کا مزید ورک پرمٹ حاصل کرنے کا اصول جنوری سے ختم کر دیا گیا ہے۔

    حکومت اس حوالے سے آئندہ موسمِ بہار میں باضابطہ تجویز کابینہ میں رکھے گی کینیڈا کی حکومت اگلے تین سال میں پناہ گزینوں کی مدد سے متعلق پروگرام کے تحت ایسے 51 ہزار 615 پناہ گزینوں کا خیر مقدم کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے جنہیں تحفظ کی اشد ضرورت ہے ان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے ارکان، مشکل اور خطرناک حالات سے دوچار خواتین اور لڑکیاں، انسانی اسمگلنگ اور اذیت کا شکار ہونے والے افراد، روہنگیا پناہ گزین اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن شامل ہیں۔

  • کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے

    کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے

    کویت کے امیر شیخ نواف ا لاحمد الصباح وفات پاگئے،نواف الاحمد الصباح کی عمر 86برس تھی،

    کویت کے سرکاری میڈیا کی جانب سے امیر کویت شیخ نواف الاحمد الصباح کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے، وہ علیل تھے اور ایک ماہ سے زیر علاج تھے، گزشتہ ماہ انہیں علاج کے لئے ہسپتال داخل کروایا گیا تھا تا ہم اسکے بعد انکی بیماری کے حوالہ سے کسی کو کچھ نہیں بتایا گیا،

    کویت کے سرکاری میڈیا کے مطابق امیر کویت شیخ نواف الاحمد الصباح نے مارچ 2021 میں بھی ایک غیر واضح بیماری کے علاج کی غرض سے امریکا کا دورہ کیا تھا،شیخ نواف الاحمد الصباح 2020 میں شیخ صباح الاحمد الصباح کی وفات کے بعد کویت کے امیر بنے تھے، امیر بننے سے پہلے شیخ نواف الاحمد الصباح کویت کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع بھی رہ چکے تھے

    سرکاری ویب سائٹ کے مطابق امیر کویت شیخ نواف 25 جون، 1937 کو کویت شہر میں متھانہ کمپلیکس کے مقام فراز الشویخ میں پیدا ہوئے تھے، وہ کویت کے دسویں حکمران شیخ احمد الجابر المبارک الصباح کے چھٹے بیٹے ہیں جو 1921 سے 1950 تک کویت کے امیر رہے.

    نگراں وزیراعظم کا امیر کویت کی وفات پر اظہار افسوس
    نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے امیر کویت شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے، نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ امیر کویت کی وفات کا سن کر دلی طور پر افسردہ ہوں،پاکستان غم کی اس گھڑی میں کویت کے شاہی خاندان اور کویتی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، اللہ شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے،پاک کویت تعلقات کی مضبوطی پر شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،

  • دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    پاکستانی حکام کی غفلت ، دبئی میں دنیا کے سامنے رسوائی اٹھانا پڑ گئی، وفد کانفرنس میں تو پہنچ گیا مگر خط نہ لے کر گیا، واجبات کی بھی عدم ادائیگی کی وجہ سے پاکستانی وفد کو ذلت اٹھانا پڑی، دبئی میں کانفرنس میں پاکستانی وفدنے صرف "سامعین” کی حد تک شرکت کی، نہ بولنے کا موقع ملا، نہ ڈائس پر بنے سٹیج پر پاکستانی پرچم لگایا گیا،وزیر آئی ٹی کی مبینہ غفلت،نااہلی کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف کانفرنس میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کانفرنس میں جانے کے اخراجات ،وہ بھی قومی خزانے سے ضیاع ہوا،

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کا آغاز 20 نومبر سے ہوا تھا جو 15 دسمبر تک جاری رہی، کانفرنس میں پاکستان نے بھی شرکت کی تا ہم پاکستان کو دوران کانفرنس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیر آئی ٹی نے وفد کو ایک خط دینا تھا ، وفد نے شرکت سے قبل وزیر آئی ٹی کو خط دیا تا ہم وہ خط ان کی میز پر ہی پڑا ر ہ گیا، خط پر دستخط نہ ہو سکے جس کی وجہ سے کانفرنس کے آخری روز کانفرنس میں شریک ممالک کے پرچم سٹیج پر لگائے گئے تاہم پاکستان کا پرچم نہیں لگایا گیا، پاکستان نے واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی ، کانفرنس میں شریک پاکستانی وفد کانفرنس کے دوران تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے،
    pakistani

    دبئی میں ہونے والی کانفرنس میں آخری روز شریک تمام ممالک کو بین الاقوامی دستاویز پر دستخط کرنے اور وصول کرنے کے لئے ڈائس پر بلایا گیا تا ہم پاکستان کو ڈائس پر نہیں بلایا گیا،پاکستانی مندوبین دیگر ممالک کے مندوبین کو ڈائس پر جاتا دیکھتے رہے،تاہم انہیں نہیں بلایا گیا ،اس کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسکی میڈیا میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ،حالانکہ یہ کانفرنس دنیا میں ٹیلی کام کے لئے اہم ترین کانفرنس تھی، آئی ٹی یو بھی دنیا کی اہم ترین اور پرانی تنظیم ہے ،پاکستان ماضی میں اس تنظیم کی کانفرنسز میں شریک ہو چکا ہے،یہ کانفرنس چار ہفتے جاری رہتی ہے اور دنیا میں ٹیلی کام تبدیلیوں پر بات چیت کی جاتی ہے .
    it

    رواں برس دبئی میں ہونیوالی کانفرنس چار ہفتے جاری رہی، ان چار ہفتوں میں ایک بار بھی پاکستانی وفد کے موجود ہونے کے باوجود پاکستانی پرچم ڈائس پر نمایاں نہیں کیا گیا بلکہ واجبات ادا نہ ہونے کی وجہ سے پہلے روز پاکستان کا نام سکرین پر "ڈیفالٹر” کے طور پر دکھایا گیا،اگر واجبات ادا نہ کئے ہوں تا کانفرنس میں شرکت کی جاسکتی ہے لیکن اس میں نہ تو گفتگو کا موقع دیا جاتا ہے اور نہ ہی ووٹنگ کا،کانفرنس کے لئے پاکستانی وفد نے خاص طور پر سپارکو سے پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین کام کیا گیا تا ہم حکومت کی غفلت کی وجہ سے پاکستانی مندوب کو شرمندگی اٹھانا پڑی،حکومت نے سرکاری خط کے ساتھ وفد کو نہیں بھیجا تھا،جسے "اسناد” کہاجاتا ہے،پاکستانی وفد نے وزیر آئی ٹی کو کئی بار یاددہانی کروائی کہ خط پر دستخط کر دیں تا ہم انہوں نے ایک ماہ تک خط پاس رکھا اور جب کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی ،تیس منٹ قبل وزیر آئی ٹی نے خط پر دستخط کئے،چار ہفتے تک خط پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا کانفرنس میں نہیں لگایا گیا،

    عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسز ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جاتی ہیں، عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسوں کے ایجنڈے کا عمومی دائرہ کار چار سے چھ سال پہلے قائم کیا جاتا ہے، جس کا حتمی ایجنڈا ITU کونسل نے کانفرنس سے دو سال پہلے، رکن ممالک کی اکثریت کی رضامندی سے طے کیا تھا.

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس سپیکٹرم شیئرنگ اور تکنیکی جدت طرازی کو سپورٹ کرنے کے لیے ITU ریڈیو ریگولیشنز پر نظر ثانی کرتی ہے۔اپ ڈیٹ شدہ معاہدہ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، زندگی کی حفاظت، خلا اور زمین کے مشاہدے کے لیے نیا سپیکٹرم مختص کرتا ہے۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے رکن ممالک نے دبئی میں عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس 2023 (WRC-23) کے اختتام پر، زمین اور خلا دونوں پر ریڈیو فریکوئنسی سپیکٹرم کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے عالمی معاہدے پر نظرثانی پر اتفاق کیا۔ریڈیو ریگولیشنز کو اپ ڈیٹ کرنے کا معاہدہ تکنیکی جدت، عالمی رابطے کو گہرا کرنے، خلا پر مبنی ریڈیو وسائل تک رسائی اور ان کے مساوی استعمال کو بڑھانے اور سمندر، ہوا اور زمین پر حفاظت کو بڑھانے کے لیے نئے سپیکٹرم وسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

    آئی ٹی یو کے سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈن مارٹن نے کہا، "WRC-23 دنیا کو سب کے لیے زیادہ مربوط، پائیدار، مساوی اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک ٹھوس راستے پر ڈالتا ہے۔ ریڈیو سروسز عالمگیر رابطے اور پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی کے حصول کے لیے آئی ٹی یو کے جاری کام کی رفتار پر استوار ہیں۔”کل 151 رکن ممالک نے WRC-23 فائنل ایکٹس پر دستخط کیے ہیں،

    انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین ، اقوام متحدہ کی معلومات اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے لیے خصوصی ایجنسی ہے، جو 193 رکن ممالک اور 900 سے زیادہ کمپنیوں، یونیورسٹیوں، اور بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ مل کر ICTs میں جدت طرازی کرتی ہے۔ یہ 150 سال پہلے قائم کی گئی،

    نوٹ، اس خبر پر وزیر آئی ٹی اگر موقف دینا چاہیں گے تو اسے باغی ٹی وی پر من و عن شائع کیا جائے گا

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں مزید 25.9 بلین شیکل (7 بلین ڈالر) کا اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں 7 بلین ڈالر کی منظوری دی تاکہ غزہ جنگ کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے جیسا کہ فوجی ارکانِ محفوظہ کے لیے معاوضہ اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لیے ہنگامی رہائش –

    کنیسیٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 2023 کے بجٹ کو بڑھا کر 510 بلین شیکل ($ 139 بلین) کر دینے والی اس ترمیم کی توثیق 59 قانون سازوں نے حق میں ووٹ دے کر کی جبکہ 45 نے مخالفت کی اسرائیل نے مئی میں 2024 کے بجٹ کے ساتھ 2023 کا اصل بجٹ پاس کیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے سات اکتوبرکے بعد اسرائیلی فوج کوایک دن میں دوسرا بڑا جانی نقصان پہنچایا ہےاسرائیلی عسکری، سیاسی اورعوامی حلقوں میں اس حملے پر بحث جاری ہے جس میں ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج میں گولانی بریگیڈ کو "تکلیف دہ دھچکے” کا نشانہ بنایا گیا جب وہ منگل کے روز غزہ کی پٹی کے مشرق میں واقع الشجاعیہ محلے میں "القسام” بریگیڈ کی گوریلا کارروائی کا شکار ہو ابتدائی طور پر اس حملے میں نو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ جھڑپ اڑھائی گھنٹے تک جاری ہی۔

    بغیر اجازت انٹرویو شہریوں کی پرائیویسی میں دخل اندازی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    اخباری نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل یائر بلے نے اس واقعے کے بعد اپنے سپاہیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ "حملہ تکلیف دہ تھا ہم نے اچھے دوستوں، جنگجوؤں اور لیڈروں کو کھو دیا‘‘۔