Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    غزہ جنگ:اسرائیل کی 2023 کے لیےمزید ضمنی بجٹ کی منظوری

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں مزید 25.9 بلین شیکل (7 بلین ڈالر) کا اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے قومی بجٹ میں 7 بلین ڈالر کی منظوری دی تاکہ غزہ جنگ کے اخراجات کو پورا کیا جا سکے جیسا کہ فوجی ارکانِ محفوظہ کے لیے معاوضہ اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کے لیے ہنگامی رہائش –

    کنیسیٹ کے ایک ترجمان نے کہا کہ 2023 کے بجٹ کو بڑھا کر 510 بلین شیکل ($ 139 بلین) کر دینے والی اس ترمیم کی توثیق 59 قانون سازوں نے حق میں ووٹ دے کر کی جبکہ 45 نے مخالفت کی اسرائیل نے مئی میں 2024 کے بجٹ کے ساتھ 2023 کا اصل بجٹ پاس کیا۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے سات اکتوبرکے بعد اسرائیلی فوج کوایک دن میں دوسرا بڑا جانی نقصان پہنچایا ہےاسرائیلی عسکری، سیاسی اورعوامی حلقوں میں اس حملے پر بحث جاری ہے جس میں ایک درجن کے قریب اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

    ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج میں گولانی بریگیڈ کو "تکلیف دہ دھچکے” کا نشانہ بنایا گیا جب وہ منگل کے روز غزہ کی پٹی کے مشرق میں واقع الشجاعیہ محلے میں "القسام” بریگیڈ کی گوریلا کارروائی کا شکار ہو ابتدائی طور پر اس حملے میں نو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا گیا جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ جھڑپ اڑھائی گھنٹے تک جاری ہی۔

    بغیر اجازت انٹرویو شہریوں کی پرائیویسی میں دخل اندازی ہے،لاہور ہائیکورٹ

    اخباری نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر کرنل یائر بلے نے اس واقعے کے بعد اپنے سپاہیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ "حملہ تکلیف دہ تھا ہم نے اچھے دوستوں، جنگجوؤں اور لیڈروں کو کھو دیا‘‘۔

  • مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج  کی مسجد کی بے حرمتی

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی مسجد کی بے حرمتی

    فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی فوج نے محاصرے کے دوران جنین کیمپ میں مسجد کی بے حُرمتی کی۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے ساتھ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کی اشتعال انگیز کارروائیاں جاری ہیں،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں اسرائیلی فوجی جوتوں سمیت مسجد میں گُھس گئے، مسجد میں اپنی عبادات کیں، اپنے مذہبی تہوار کے گیت بھی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے نشر کیے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735249416452198889?s=20
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735280995539009643?s=20
    اسرائیلی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے فوجیوں کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735309335302176895?s=20
    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کے اسٹاف نے وہائٹ ہاؤس کے باہر غزة میں جنگ بندی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کرے اور غزہ کے معصوم عوام پر بمباری بند کرے،، فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ روکا جائے،، انسانی امداد کو غزہ کے متاثرین تک پہنچایا جائے-
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734875301006495988?s=20
    فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی جارہیت میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 3 ہزار 714 طالب شہید ہوئے ہیں جب کہ 5 ہزار 700 طالب علم زخمی بھی ہوئے ہیں غزہ میں شہید طالب علموں کی تعداد 3 ہزار 679 اور مقبوضہ مغربی کنارے میں 35 طالب علم اسرائیلی جارحیت کا شکار ہوئے ہیں،7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں غزہ میں 209 اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے عہدیدار بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 619 زخمی ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو اساتذہ زخمی ہوئے جب کہ 65 کو گرفتار کیا گیا۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734582481230139715?s=20
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735215074619597012?s=20
    ادھر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ریم السلیم کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں شہید خواتین اور بچوں کی تعداد حالیہ تنازعات میں سب سے زیادہ ہے، غزہ میں شہید فلسطینیوں میں 70 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں غزہ میں مصائب اور ہولناکیوں کی ناقابل بیان سطح کو بیان کرنےکے لیے الفاظ ختم ہو چکے ہیں، اس جہنم میں فلسطینی عورت یا بچہ ہونے کا مطلب ہےکہ انسانیت، حفاظت یا کسی خاص تحفظ کو چھین لیا جائے۔
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1734954161177755720?s=20
    اسرائیلی فوج کی بربریت سے غزہ میں انسان، حیوان، شجر اور حجر کوئی بھی محفوظ نہیں محلے ملبے کا ڈھیر بنانے کے بعد قبرستانوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا قابض فوج نے کئی مقامات پر ٹینکوں اور بلڈوزروں کی مدد سے قبریں بھی رونڈ ڈالیں اور بربریت کی نئی تاریخ رقم کی ہے صہیونی فوج نے الزیتون کالونی میں قبرستان اکھاڑ پھینکے قبروں سے لاشیں نکال پھینکیں اورقبروں کا نام ونشان بھی مٹا دیا –
    https://x.com/TurkiyeUrdu_/status/1735259581339844680?s=20
    اسرائیلی بلڈوزر نے غزہ شہر کے شمال میں جبالیہ کے علاقے میں قبروں کواکھاڑ پھینکا ٹینکوں نے جبالیہ میں الفلوجہ محلے میں قبروں کے پتھروں کو روندنے اور کچلنے کے بعد تباہ کر دیا، اسرائیلی ٹینکوں نے سینکڑوں قبروں کو بلڈوز کر کے ان کے اندر موجود قبروں کو کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ ساتھ ان سے مردہ افراد کی لاشیں نکال دیں۔

  • 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود سپر نووا کی باقیات کی تصاویر جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی:ناسا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں زمین سے 11 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود کیسیوپیا اے (کیس اے) نامی ستارے کے اندر دھول کے خول کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ٹیلی اسکوپ میں نصب نیئر انفرا ریڈ کیمرا (این آئی آر کیم) نے کیس اے کے باقیات کو عکس بند کیا ہے،تصویر میں کیس اے کی باقیات میں موجود جامنی رنگ کی شے کو واضح دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل آئیونائزڈ گیس کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
    https://x.com/NASAWebb/status/1734020677311639828?s=20
    ناسا کے مطابق ، ماہرین فلکیات اب کیس اے مطالعہ میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اپریل 2023 میں، Webb’s MIRI (Mid-Infrared Instrument) نے اس باب کا آغاز کیا، جس میں سپرنووا کے باقیات کے اندرونی خول کے اندر نئی اور غیر متوقع خصوصیات کا انکشاف ہوا۔ ان میں سے بہت سی خصوصیات نئی این آئی آر کیم تصویر میں پوشیدہ ہیں، اور ماہرین فلکیات اس کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
    nasa
    پرڈو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈینی مِلیوسیولجوک کا ناسا کی پریس ریلیز میں کہنا تھا کہ کیس اے تقریباً 340 سال قبل دھماکے سے پھٹا جس کے بعد اس کی جگہ شیشے کی باریک کرچیوں جیسی دھاریاں رہ گئی اتنے برس تک کیس اے پر مطالعہ کرنے کے بعد اب معلومات کا حاصل ہونا ناقابلِ یقین ہے یہ معلومات سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے گی کہ یہ ستارہ پھٹا کیسے۔
    nasa
    پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹیمِ نے پریس ریلیز میں کہا کہ کیس اے کی پہلی تصاویر اپریل میں جاری کی گئی تھیں جن میں ایسی تفصیلات سامنے آئیں جن تک سائنس دانوں کو پہلے رسائی نہیں تھی تصویر میں موجود سفید رنگ سِنکروٹرون شعاعوں سے پیدا ہونے والی روشنی ہے، جو مقناطیسی فیلڈ لائنز کے گرد انتہائی تیزی سے گھومتے ہوئے سفر کرنے والے چارجڈ ذرات کے سبب خارج ہو رہی ہے۔

  • دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی

    شیلیندر

    ہندوستان کے نامور فلمی نغمہ نگار شنکر داس کیسری لال المعروف شیلیندر 30؍اگست 1923ء کو پنجاب کے شہر راولپنڈی (پاکستان) میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ممبئی میں انڈین ریلویز میں نوکری سے کیا تھاملازمت کے سلسلے میں وہ اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔

    اس کے باوجو وہ اپنا زیادہ تر وقت نظمیں لکھنے میں ہی گزارتے تھے جس کی وجہ سے ان کے افسران ان سے ناراض رہتے تھےانہوں نے بالی وڈ میں دو دہائی تک تقریباً 170 فلموں میں زندگی کے ہر فلسفہ اور ہر رنگ پر بے شمار نغمے لکھے جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سےسنے جاتے ہیں ان کےنغموں کی کشش، دھیما پن اور لوچ ایسا تھا جس کی کیفیت سننے والے ہی بیان کرسکتے ہیں، انہوں نے اپنے نغموں کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے،شیلیندر 14؍دسمبر 1966ء کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    آندھی میں اِک دیپ جلایا
    اور پانی میں آگ لگائی

    ہے درد ایسا کہ سہنا ہے مشکل
    دنیا والوں سے کہنا ہے مشکل
    گِھر کے آیا ہے طوفان ایسا
    بچ کے ساحل پہ رہنا ہے مشکل

    دل کو سمبھالا نہ دامن بچایا
    پھیلی جب آگ تب ہوش آیا
    غم کے مارے پکاریں کسے ہم
    ہم سے بچھڑا ہمارا ہی سایہ

    دل اپنا اور پریت پرائی
    کس نے ہے یہ ریت بنائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کھویا کھویا چاند
    کھلا آسمان
    آنکھوں میں ساری رات جائے گی
    تم کو بھی کیسے نیند آئے گی

    کھویا کھویا چاند.

    مستی بھری ہوا جو چلی
    کھل کھل گئی یہ دل کی کلی
    من کی گلی میں ہے کھلبلی
    کہ ان کو تو بلاؤ

    کھویا کھویا چاند.

    تارے چلے نظارے چلے
    سنگ سنگ مرے وہ سارے چلے
    چاروں طرف اشارے چلے
    کسی کے تو ہوجاؤ

    کھویا کھویا چاند.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسے میں کس کو
    کون منائے ؟

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے

    پیار میں جن کے
    سب جگ چھوڑا
    اور ہُوئے بدنام
    اُن کے ہی ھاتھوں
    حال ہوا یہ
    بیٹھے ہیں دل کو تھام
    اپنے کبھی تھے
    اب ہیں پرائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    ایسی ہی رِم جِھم
    ایسی پُھواریں
    ایسی ہی تھی برسات۔۔۔۔
    خود سے جُدا اور
    جگ سے پرائے
    ہم دونوں تھے ساتھ۔۔۔۔
    پھر سو وہ ساون
    اب کیوں نہ آئے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دِل کے میرے
    پاس ہو اتنے
    پِھر بھی ہو کتنی دور
    تم مجھ سے
    میں
    دِل سے پریشاں
    دونوں ہیں مجبور۔۔۔۔
    ایسے میں کس کو
    کون منائے

    دن ڈھل جائے ہائے

    دن ڈھل جائے ہائے
    رات نہ جائے
    تُو تو نہ آئے تیری
    یاد ستائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    پریگنینسی میں خواتین کو متلی اور الٹی کیوں آتی ہے؟تحقیق

    تمام حاملہ خواتین میں سے تقریباً نصف سے دو تہائی کو کسی حد تک خاص طور پر پہلی سہ ماہی میں مارننگ سکنس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی علامات میں متلی اور الٹی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اس مسئلے کے لیے طبی زبان میں مارننگ سکنس (sickness) کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ یہ بیماری دن کے اوائل میں بدترین ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کے کسی بھی وقت حملہ کر سکتی ہے مگر اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے،اب پہلی بار اس کی ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے جس سے اس کے علاج میں مدد مل سکے گی۔

    زیادہ تر خواتین کے لیے، مارننگ سکنس حمل کے چوتھے ہفتے کے آس پاس شروع ہوتی ہے اور 12 سے 14 ہفتوں تک ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم، 5 میں سے 1 عورت اپنی دوسری سہ ماہی میں اس بیماری کو برداشت کرتی ہے، اور چند خواتین کو اپنی حمل کی پوری مدت تک متلی اور الٹی کا سامنا کرنا پڑتا ہے زیادہ تر معاملات میں، مارننگ سکنس عورت یا پیدا ہونے والے بچے کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ تاہم، شدید مارننگ سکنس جس میں وزن میں کمی اور پانی کی کمی شامل ہے، فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔

    امریکا کی سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا کہ ایک مخصوص ہارمون حاملہ خواتین میں متلی اور الٹیوں کی شکایت بڑھانے کا باعث بنتا ہے، 80 فیصد حاملہ خواتین کو قے اور متلی جیسے اثرات کا سامنا ہوتا ہے اور کچھ میں اس کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

    مارننگ سکنس کی علامات میں متلی، بھوک میں کمی،قے،نفسیاتی اثرات، جیسے ڈپریشن اور اضطراب شامل ہیں،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ جی ڈی ایف 15 نامی ہارمون کی سطح حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران نمایاں حد تک بڑھ جاتی ہے،تحقیق میں قے اور متلی جیسی علامات کو اس ہارمون کی سطح میں اضافے سے منسلک کیا گیا ہے۔

    یہ ہارمون دماغ کے ایک بہت چھوٹے حصے پر کام کرتا ہے اور متلی اور تکلیف کی نشاندہی کرتا ہے جو خواتین میں قے کا سبب بنتا ہے، حاملہ خواتین جو جی ڈی ایف 15 کے لیے زیادہ حساس ہیں وہ دن میں 50 بار متلی اور قے کا تجربہ کرسکتی ہیں۔

    انگلینڈ کی کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن او راہیلی کا کہنا ہے کہ ماں اس ہارمون کے بارے میں جتنی زیادہ حساس ہو گی، وہ اتنی ہی زیادہ بیمار ہو سکتی ہے،یہ جاننے سے ہمیں ایک اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسے ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ 100 میں سے ایک یا کبھی کبھار تین حاملہ خواتین ایچ جی سے متاثر ہوتی ہیں، ایک ایسی بیماری جو جنین کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ بہت سی خواتین جو اس کا شکار ہوتی ہیں انھیں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے فلیوئڈز کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

    تحقیق کےمطابق اس ہارمون کی سطح میں کمی یا اس کےافعال کو بلاک کرنے سے مارننگ سکنس کی روک تھام بھی کی جا سکتی ہے ،محققین نے بتایا کہ زیادہ تر حاملہ خواتین کو مارننگ سکنس کا سامنا ہوتا ہے جو خوشگوار تو نہیں ہوتا مگر کچھ خواتین میں اس کی شدت بدترین ہوتی ہے، ہم اب جان چکے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

    ہارمونز کی اعلی سطح، بشمول ایسٹروجن، بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر کم بلڈ پریشر، کاربوہائیڈریٹ کی میٹابولزم میں تبدیلی، بہت زیادہ جسمانی اور کیمیائی تبدیلیاں جو حمل کو متحرک کرتی ہیں،کچھ خواتین کو خدشہ ہے کہ الٹی کی کارروائی سے ان کے پیدا ہونے والے بچے کو خطرہ ہو سکتا ہے الٹی اور ریچنگ پیٹ کے پٹھوں میں دباؤ ڈال سکتی ہے اور مقامی طور پر درد اور درد کا سبب بن سکتی ہے، لیکن الٹی کی جسمانی میکانکس بچے کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔

    متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ اعتدال پسند صبح کی بیماری اسقاط حمل کے کم خطرے سے وابستہ ہے تاہم، طویل الٹی (جو پانی کی کمی اور وزن میں کمی کا باعث بنتی ہے) آپ کے بچے کو مناسب غذائیت سے محروم کر سکتی ہے اور آپ کے بچے کا پیدائش کے وقت کم وزن ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے-

    جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین کے مطابق جب ماں کے پیٹ میں بچے کی نشوونما ہوتی ہے تو ایک ہارمون کی سطح بڑھتی ہے، ماں کا جسم اس ہارمون کا عادی نہیں ہوتاخاتون کا جسم اس ہارمون کے حوالے سے جتنا زیادہ حساس ہوگا، مارننگ سکنس کی شدت اتنی زیادہ ہوگی۔

    تحقیق کے دوران مادہ چوہوں میں اس ہارمون کی سطح میں کمی لانے سے مارننگ سکنس کی روک تھام کا تجربہ کامیاب رہا تھا،اب تحقیقی ٹیم کی جانب سے اس طریقہ کار کو خواتین میں آزمایا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ طریقہ کار مارننگ سکنس کی روک تھام کے لیے کس حد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

    اگرچہ پہلے سامنے آنے والی طبی تحقیقات سے ہم یہ تو جاننے میں کامیاب ہوئے تھے کہ حمل کے دوران اس کیفیت یا بیماری کو جی ڈی ایف 15 سے منسلک کیا جاسکتا ہے، لیکن اب یہ معلوم ہو پایا ہے کہ ہم اس کے بارے اب تک بہت سی چیزوں سے نا واقف تھے۔

    نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں کیمبرج یونیورسٹی، سکاٹ لینڈ، امریکہ اور سری لنکا کے سائنسدانوں نے حصہ لیا، جس سےمعلوم ہوا کہ حمل کےدوران خاتون کی بیماری کا تعلق بچہ دانی میں بننے والے ہارمون کی مقدار سےہےجتنے زیادہ ہار مو ن پیدا ہوں گے اتنی زیادہ بیماری کی علامات ظاہر ہوں گیں۔

    تحقیق میں انہوں نے کیمبرج کے روزی میٹرنٹی ہاسپٹل میں خواتین کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جن خواتین میں جینیاتی قسم ایچ جی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے جبکہ خون کی خرابی بیٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا خواتین جو حمل سے قبل جی ڈی ایف 15 کی بہت زیادہ سطح کا سبب بنتی ہیں، ان میں ہارمون کی سطح کم ہوتی ہے۔ انھیں بہت کم متلی یا قے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج میڈیکل ریسرچ کونسل میں میٹابولک ڈیزیز یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر او راہیلی نے وضاحت کی کہ ہارمون کو ماں کے دماغ میں اس کے انتہائی مخصوص ریسیپٹر تک رسائی سے روکنا بالآخر اس عارضے کے علاج کے لیے ایک مؤثر اور محفوظ طریقہ کی بنیاد بنے گا۔

  • بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گھسنے والے بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے،جسمانی ریمانڈ منظور

    بھارتی پارلیمنٹ میں گزشتہ روز دو افراد کے گھسنے کے واقعہ پر آج لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ آرائی کی جس پر ایوانوں‌کی کاروائی ملتوی کر دی گئی،ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ناقص سکیورٹی کے معاملے پر زبردست ہنگامہ آرائی کی، لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ نے نعرے بازی کرتے ہوئے ہنگامہ کیا،جس کی وجہ سے اسپیکر اوم برلا کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی،ایوان کی کاروائی شرو ع ہوئی تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کھڑے ہو گئے اور ایوان کی سیکورٹی کو لے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، اراکین سپیکر کی کرسی کے سامنےبھی آ گئے جس پر سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا

    راجیہ سبھا میں بھی اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی کی اور وزیر داخلہ سے وضاحت طلب کی، کانگریس، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، اے اے پی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ سیکورٹی کے مسئلہ پر بحث کے دوران نعرے لگاتے رہے،ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کو اسپیکر نے فوری طور پر ایوان سے نکلنے کا حکم دیا تھاجس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی اسپیکر کی نشست کے بالکل سامنے کنویں میں آگئے اور نعرے بازی شروع کردی.

    دوسری جانب لوک سبھا میں سیکورٹی میں غفلت برتنے والے عملے کے آٹھ افراد کو معطل کر دیا گیا ہے، ابتدائی تحقیقات میں آٹھ اراکین سیکورٹی کوتاہی کے ذمہ دار قرار پائے،

    لوک سبھا کے اندر اور باہر سے گرفتار چاروں ملزمان کو آج پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس نے ملزمان کے 15 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تا ہم عدالت نے سات دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،پراسکیوشن نے چاروں ملزمان پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے،

    گزشتہ روز لوک سبھا کے اندر سے دو اور باہرسے دو افراد کوگرفتار کیا گیا تھا، ان سے تحقیقات جاری ہیں، تا ہم اس واقعہ میں دو اور ملزم بھی ہیں جو انکے ساتھ تھے،ایک میاں بیوی گھر سے ملزمان کے ساتھ رابطے میں تھے ،میاں کو گرفتار کر لیا گیا تا ہم خاتون ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکی،پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ساگر شرما لکھنو کا رہائشی ہے، ڈی منورنج کرناٹک سے ہے، پارلیمنٹ کے باہر سے گرفتار خاتون نیلم حصار کی رہائشی ہے،امول شندےلاتور کا رہائشی ہے،ساگر اور ڈی منورنجن نے وزیٹر پاس بی جےپی رکن اسمبلی پرتاپ سہما کے نام پر لئے تھے،پولیس کے مطابق سب ملزمان نے آن لائن میٹنگ کی اور پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا منصوبہ بنایا،اب تک ملزمان کے کسی دہشت گرد گروپ سے تعلق کے کوئی شواہد نہیں ملے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کرنیوالی نیلم کون؟
    نیلم کی عمر 42 سال ہے اور وہ استاد ہے، سول سروسز بھی پڑھ رہی ہے،نیلم ہریانہ کے ضلع جنڈ ضلع کے گاؤں گھسو خورد کی رہائشی ہے، اور وہ پچھلے چھ ماہ سے حصار میں مقیم تھی، وہ سول سروس امتحان کی تیاری کر رہی ہے،نیلم کے گاؤں اور حصار میں جہاں وہ مقیم تھی ،قریبی افراد کا کہنا ہے کہ نیلم کو سیاست سے دلچسپی تھی تاہم پارلیمنٹ کے باہر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے، نیلم کے چھوٹے بھائی رام نواس کا کہنا ہے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ نیلم دہلی گئی ہے،وہ پیر کو گھر آئی تھی اور منگل کو واپس چلی گئی، ہم نے سمجھا حصار گئی لیکن وہ ہمیں بتائے بغیر ہی دہلی پہنچ گئی،نیلم نے کسان تحریک کے احتجاج میں بھی شرکت کی تھی، میرے ایک بڑے بھائی ہیں اور والدین ہیں، والدحلوائی ہیں جبکہ بھائی دودھ کا کام کرتے ہیں.

    indian

    ساگر کے والد بڑھئی، بیٹا جھگڑالو نہیں ہے،والدہ
    پارلیمنٹ کی وزیٹر گیلری میں چھلانگ لگانے والے دو افراد میں سے ساگر لکھنو کا رہائشی ہے، ساگر کا خاندان عالم باغ کے علاقے رام نگر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہے،لکھنو پولیس تحقیقات کے لئے ساگر کے گھر گئی، ساگر کی ماں رانی شرما نے پولیس کو بتایا کہ ساگر کہہ کر نکلا تھاکہ وہ احتجاج کرے گا، ساگر کی چھوٹی بہن کا کہنا تھا کہ بھائی چار دن قبل دہلی گیا تھا تا ہم کچھ بتایا نہیں تھا، وہ دو ماہ گھر رہا ہے اور دو ماہ قبل بنگلورو سے واپس آیا تھا،ساگر کا خاندان 15 برسوں سے لکھنو میں رہ رہا ہے، ساگر کے والد روشن لال بڑھئی ہیں،ساگر کی ماں کے مطابق ان کےبیٹے نے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا،ساگر کی ایک ہی بہن ہے ،ساگر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ساگر بہت سادہ ہے پتہ نہیں دہلی کیسے پہنچا،ہم نہیں جانتے،ساگر کے دہلی پہنچنے پر ساگر کے پڑوسی بھی حیران تھے

    indian

    بیٹے نے غلط کیا تو پھانسی دے دیں، والد ڈی منورنجن
    ڈی منورنجن کرناٹک کے میسور کارہائشی ہے، منورنجن نے 2016 میں انجینئرنگ میں بیچلر مکمل کیا،اس کے بعد اس نے دہلی اور بنگلور کی کچھ کمپنیوں میں ملازمت بھی کی تا ہم اب وہ خاندان کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کر رہا تھا،منورنجن کے والد دیوراجے گوڑا کا کہنا ہے کہ اگر میرےبیٹے نے غلط کیا تو بے شک اسے پھانسی دے دیں ، پارلیمنٹ ہماری ہے جس کو بنانے میں گاندھی اور نہرو جیسے رہنماؤں نے محنت کی تھی، تاہم منورنجن کے والد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انکا بیٹا سچا اور ایماندار ہے،اس کی خواہش تھی کہ وہ معاشرے کےلئے اچھے کام کرے، دوسروں کے کام آئے،

    بھارتی فوج میں بھرتی کا کہہ کر امول شندے پارلیمنٹ پہنچ گیا
    امول شندے جس کی عمر 25 برس ہے اور وہ مہاراشٹر کے جری گاؤں کا باسی ہے،امول شندے نےگریجویشن تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے، اس نے بھارتی فوج اور پولیس میں بھرتی کے لئے امتحان کی تیاری بھی کی ہے،امول کے والدین اور دو بھائی ہیں، جو مزدوری کرتے ہیں، امول اپنے گھر بتا کر نکلا تھا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونے کے لئے جا رہا ہے، وہ پہلے بھی نوکری کی تلاش کے لئے کئی بار گھر سے جا چکا تھا اس لئے گھر والوں کو کسی قسم کا شک نہیں ہوا،

    وکی شرما کے گھر ہوئی تھی ساری منصوبہ بندی
    لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے ساگر، منورنجن،نیلم اور امول شندے دہلی جانے سے قبل گروگرام میں مقیم رہے،للت جا بھی انکے ہمراہ تھا، یہ گروگرام کے سیکٹر سات میں‌وکی کے گھر وہاں ٹھہرے تھے ،وکی شرما کا تعلق حصار سے ہے، نیلم بھی گزشتہ چھ ماہ سے حصار میں ہی رہ رہی تھی،دہلی پولیس کے مطابق وکی شرما اور انکی اہلیہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے،لوک سبھا کے اندر اور باہر احتجاج کرنیوالے وکی شرما کے دوست ہیں،ملزمان جب احتجاج کے لئے گئے تو انکے موبائل ہو سکتا ہے یہاں وکی کے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، اور یہیں منصوبہ بندی کی گئی ہو،پولیس اس ضمن میں تحقیقات کر رہی ہے.

    بے روزگاری،منی پور تشددجیسے واقعات سے پریشان تھے،ملزمان کا بیان
    ملزمان دہلی پولیس کی تحویل میں ہیں، ملزمان نے پولیس کو بیان میں کہا کہ وہ بھارت میں بے روزگاری،کسانوں کے مسائل،منی پورتشدد جیسے واقعات سے پریشان تھے اور احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے تھے،ایوان میں جان بوجھ کر رنگین دھویں کا استعمال کیا جو زہریلا نہیں تھا، صرف اراکین کی توجہ مبذول کروانی تھی کہ وہ مسائل پر بات کریں،ویسے ہماری بات کوئی نہیں سنتا اس لئے یہ طریقہ اپنایا اور سوچا کہ حکومت کو پیغام دیا جائے کہ مسائل حل کریں، تاہم تحقیقاتی ادارے یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ انکے پیچھے کسی کا ہاتھ تو نہیں تھا،

    دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار پانچوں ملزمان فیس بک پر بھگت سنگھ نامی ایک گروپ کا حصہ تھے، اور سب ملزمان تقریبا ایک سال سے آپس میں رابطے میں تھے.

    کسی اپوزیشن رکن نے پاس دیئے ہوتے تو غدار قرار پاتا،رکن کانگریس
    لوک سبھا میں احتجاج کرنیوالے اور گیس پھینکنے والے افراد کو پکڑنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان یا سِکھ ہوتا تو نہ جانے کیا ہو جات؟ اس لیے یہی کہوں گا کہ ایسے لوگوں کو ذات اور مذہب سے ہٹ کر دیکھیں یہ ملک سب کا ہے،نئی پارلیمنٹ میں سیکورٹی کے حوالہ سے خامیاں ہیں، جنہیں دور کر نے کی ضرورت ہے، سیکورٹی کے معاملے پر ہم سب متحد ہیں،انہوں نے بی جے پی کے رکن جس کے پاس لے کر ملزمان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر کسی اپوزیشن کے رکن نے انکو پاس دلائے ہوتے تو اب تک غدار قرار دیا جا چکا ہوتا،مجھے نہیں لگتا کہ جان بوجھ کو رکن پارلیمنٹ نے پاس دئے، غلطی بھی ہو سکتی، ہم بھی پاس بنواتے ہیں، تاہم واقعہ کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے،انہوں نے ملزمان کو پکڑنے کے حوالہ سے بتایا کہ ایک ملزم کو میں نے اکیلے پکڑا،اس نے اچانک سے کچھ نکالا ، بعد میں دھواں پھیلا تو پتہ چلا کہ وہ اسموک بم تھا، اسکے پاس کچھ خطرناک بھی ہو سکتا تھا،سیکورٹی کے حوالہ سے چوکس رہنا ہو گا،

    پارلیمنٹ ہاؤس واقعہ کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے، پولیس کے مطابق سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 120B (مجرمانہ سازش)، 452 (بغیر اجازت کے داخلہ)، 153 (فساد برپا کرنے کے ارادے سے جان بوجھ کر اکسانا)، 186 (سرکاری ملازم کو کام کرنے سے روکنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 16 اور 18 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال،لوک سبھا سیشن کے دوران 2 افراد عمارت میں گھس آئے تھے،بھارتی پارلیمان لوک سبھا کے اندر 2 افراد نے گیلری سے نیچے چھلانگ لگا کر مبینہ طور پر گیس خارج کرنے والی چیزیں پھینک دیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اندر گھسنے والے افراد کے پاس اسموک بم بھی تھے، بھگدڑ مچنے کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا،

    واضح رہے کہ 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا،تاہم بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا تھا،تاہم بعد میں بھارت کے وزارت داخلہ کے سابق افسر انڈر سیکرٹری آر وی ایس مانی نے عدالتی بیان میں کہا تھا کہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے پیچھے خود بھارتی حکومت کا ہاتھ تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین پارلیمان سے منظور کروائے جا سکیں.

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    لاہور کے علاقے سے کٹی ہوئی دو ٹانگیں کچرا کنڈی سے برآمد

    فیس بک نے ٹرمپ کی الیکشن مہم کے اشتہارات ہٹا دئیے

    ہم نسل پرستی کے خلاف سیاہ فام برادری کے ساتھ ہیں، فیس بک کے مالک نے قانونی معاونت کیلئے دس ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کر دیا

    تشدد کو کم کرنے کیلئے فیس بک نے اپنی پالیسی ریوو کرنے کا اعلان کر دیا

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    فیس بک، گوگل، ٹویٹر ڈس انفارمیشن کے خلاف کیے گئے اقدامات کی ماہانہ رپورٹ دیا کریں، یورپی یونین کا مطالبہ

    ٹرمپ کی ٹویٹ پر فیکٹ چیک لگانے پر یورپی یونین نے ٹویٹر کی حمایت کر دی

    بی جے پی بھارت میں فیس بک اور واٹس اپ کو کنٹرول کر کے نفرت پھیلا رہی ہے، راہول گاندھی

  • سعودی ولی عہد  سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات ہوئی ہے

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات سعودی عرب میں ہوئی،ملاقات میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بات چیت کی گئی،سعودی ولی عہد اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات کے حوالہ سے وائٹ ہاؤس نے بیان جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور جیک سلیوان کے درمیان غزہ میں انسانی اقدامات اور فلسطین میں اہم امداد کی ترسیل میں اضافے پر بھی گفتگو کی گئی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اسرائیل کی وار کیبنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے، وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ جیک سلیوان اپنے دورہ اسرائیل کے دوران غزہ میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مزید حملوں کی ضرورت پر بھی بات کریں گے

    دوسری جانب شمالی غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اسکول میں گھس کر وہاں پناہ لیے ہوئے شیرخوار بچوں اور عورتوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا انکشاف ہوا ہے،الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے اسکول شادیہ ابو غزالہ میں گھس کر وہاں پناہ لینے والے فلسطینی مردوں کو چُن چُن کر پکڑا اور الگ کمروں میں لے جا کر فائرنگ کر کے مار ڈالا،عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اسکول کے کمروں میں داخل ہو کر وہاں موجود خواتین اور چھوٹے بچوں پر بھی فائرنگ کی، شیر خوار بچوں کو بھی فائرنگ کر کے قتل کیا.

  • یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    یو این میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

    جنیوا: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : "عرب میڈیا” کے مطابق عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے 193 رکن ممالک میں سے 153 ممالک نے قرارداد کے حق میں جبکہ 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا، 23 ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے، قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں امریکا اور اسرائیل سمیت دیگر شامل ہیں یہ تعداد ان 140 ممالک سے زیادہ ہے جنہوں نے یوکرین پر حملے کرنے کی وجہ سے روس کی مذمتی قراردادوں کی حمایت کی تھی۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ ووٹنگ عالمی امن و سلامتی کی ذمہ دار سلامتی کونسل کی بار بار ناکامی کے بعد ہوئی ہےاسرائیل کے سب سے طاقتور اتحادی اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے ایک، امریکہ نے جمعہ کو فائر بندی کے مسودے کو روکنے کے لیے ویٹو کا استعمال کیا تھاسلامتی کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد ایک ماہ سے زیادہ وقت لگا اس نے نومبر کے وسط میں اس تنازع میں انسانی بنیادوں پر ’تعطل‘ کے لیے چار متن مسترد کیے۔

    فلسطینی مندوب ریاض منصور نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی دن قرار دیا، مذکورہ قرارداد میں امداد کی رسائی اور یرغمال افراد کو غیرمشروط طور پر رہا کرنےکا مطالبہ کیا گیا،اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے غزہ میں جنگ بندی فوری ممکن بنانے پر زور دیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوذمہ دار نہ ٹھہرایا گیا تو اسے جنگ جاری رکھنے کا جواز مل جائےگااسرائیل کا مقصد فلسطین کے پورے تصورکو مٹانا ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اسامہ محمود عبدالخالق محمود نے جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کو سفارتی تحفظ فراہم کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں کے بارے میں کہا کہ یہ افسوسناک کوششیں دوہرے معیار کی ایک گھناؤنی علامت ہیں۔

    صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ ڈینس فرانسز نے کہا کہ انسانی زندگیاں بچانا سب کی ترجیح ہونی چاہیے، ہمیں جنگ کے بنیادی اصولوں اور اقدار سے انحراف نہیں کرنا چاہیے دنیا اس وقت غزہ میں انسانی زندگیوں کےخاتمے کا مشاہدہ کررہی ہے، اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریس نے غزہ کی پٹی میں امن عامہ کی مکمل تباہی کے بارے میں خبردار کیا ہے بہت سے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کی ناکامی کی مذمت کی تھی اور سیکرٹری جنرل نے اتوار کو کونسل کے اختیارات اور ساکھ کو ’کمزور‘ قرار دیا تھا۔

    ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ میں اسرائیل کے نمائندے گیلاد ایردان نے اس قرارداد کو ’منافقانہ قرارداد‘ قرار دیا کہا کہ اس میں حماس کے انسانیت کے خلاف جرائم کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ اس میں حماس کا بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد بھی فلسطین پر اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملوں کا سلسلہ جاری ہے حماس کے 7 اکتوبر اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیل کی بمباری میں 18,400 سے زائد فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

    دوسری جانب "العربیہ” کےمطابق اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے مزید شہری بے گھر ہوں گے اور وسیع پیمانے پر مزید نقل مکانیوں کو خدشہ ہو گا ، اس وقت دنیا میں 114 ملین شہری بے گھر ہو کر در بدر ہیں ان میں سے 40 ملین لوگ درجنوں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہوئے ہیں، ایک بڑی تعداد یوکرین اور سوڈان کے شہریوں کی ہے ۔

    پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے ہر چار سال بعد جنیوا میں ہونے والی تقریب میں کہا کہ اس وقت غزہ میں بھی بڑی تباہی جاری ہے لیکن ابھی تک سلامتی کونسل جنگ بندی کروانے میں ناکام ہے ہم دیکھ رہے ہیں ابھی مزید ہلاکتیں ہوں گی اور مزید شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑے گا اس لیے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ان بحران میں پھنسے فلسطینیوں کو نہ بلائے، عالمی برادری کو چاہیے کہ اوہ غزہ پر اپنی پوری توجہ رکھے ، اس سے اپنی نظریں نہ ہٹائے انہوں نے نقل مکانی کرنے ، بے گھر اور مصائب میں مبتلا ہونے والے کروڑوں لوگوں کے لیے فنڈنگ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پر تشویش ظاہر کی۔

  • امریکی صدر  کا اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ

    امریکی صدر کا اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیدیا جو بلاامتیاز بمباری جیسے انتہائی قدم اُٹھانے پر زور دیتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کو امریکا اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے لیکن غزہ میں بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں پر مسلسل بمباری سے وہ اپنی بین الااقوامی حمایت کھو رہا ہے انتخابی مہم کے لیے فنڈز جمع کرنے کی ایک تقریب سے خطاب میں جو بائیڈن نے اسرائیل کے اس مؤقف کی تائید کی کہ جنگ بندی سے حماس مضبوط ہوگی تاہم امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو صرف جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کی تاکید کی، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اپنی کابینہ کے سخت گیر ارکان کو تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیدیا جو بلاامتیاز بمباری جیسے انتہائی قدم اُٹھانے پر زور دیتے ہیں۔

    بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    دوسری جانب فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے آج 68 ویں روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی صورتحال خوفناک ہے اور اسرائیل تمام رہائشی محلوں کو زمین بوس کررہا ہے،اسرائیل کا ماننا ہے کہ اسے حماس کو کسی بھی طریقے سے ختم کرنے کا پورا حق حاصل ہے،ہم اس وقت دیکھ سکتے ہیں کہ اس طرح کے راستے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔پوری پوری بستیوں کو زمین بوس اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے 18000 سے زیادہ شہری پہلے ہی مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد ہر روز بڑھ رہی ہے۔ان میں سے دو تہائی خواتین اور بچے ہیں اور غزہ کی صورت حال خوفناک حد تک تباہ کن ہوچکی ہے-

    غزہ میں زمینی آپریشن میں مزید 4 افسران سمیت7 اسرائیلی فوجی ہلاک

    اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ مغرب فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اگر ہم ان پوزیشنوں سے جائزہ لیں جو مغرب اس وقت لے رہا ہے تو وہ فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں دکھتاہماری معلومات کے مطابق مغرب اور اسرائیلی بھی موجودہ اسرائیلی قیادت غزہ کو مغربی کنارے کے ساتھ ملانا نہیں چاہتے موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کا قیام زیادہ ناگزیر ہوچکا ہے-

    علاوہ ازیں آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ نے بھی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار جنگ بندی کی مطالبہ کیا، تینوں ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کو شکست دینے کا مطلب فلسطینی معصوم شہریوں کو مسلسل تکلیف میں رکھنا نہیں ہونا چاہیے، فلسطینی عوام کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں۔

    القسام بریگیڈز نے اسرائیلی فوج پر حملوں کی نئی ویڈیو جاری کردی

  • رواں سال بھی برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے ناموں میں "محمد” سرفہرست

    رواں سال بھی برطانیہ میں نوزائیدہ بچوں کے ناموں میں "محمد” سرفہرست

    لندن: برطانیہ میں رواں سال نوزائیدہ بچوں کے نام رکھنے میں سب سے مقبول نام "محمد” رہا ہے-

    باغی ٹی وی :گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ میں محمد نام مقبولیت میں سرفہرست رہا ہے اور زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے ناموں کے ساتھ محمد لگانا لازمی سمجھتے ہیں ،بے بی سینٹر کے شائع کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، اسلامی نام محمد نے اس سال برطانیہ میں لڑکوں کے ناموں میں ایک بار پھر سرفہرست مقام حاصل کر لیا ہے۔

    برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کیے گئے سروے کے مطابق بھی برطانیہ میں مسلمان گھرانوں میں نوزائیدہ بچوں کا نام محمد رکھنے کا رحجان کسی بھی دوسرے نام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے،ویب سائٹ نے 2023 کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے سرفہرست 100 ناموں کی فہرست دی، جس میں محمد ملک کا سب سے مشہور نام ہے، جس کی درجہ بندی یہ کئی سالوں سے برقرار ہے ہر 100 میں سے 24 بچوں کے نام کے ساتھ محمد لگایا گیا جب کہ دیگر ناموں میں علی، احمد، عبداللہ، موسیٰ، عمر اور حمزہ شامل ہیں۔

    سعودی تیل کمپنی آرامکو کی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری

    جبکہ سروے کے مطابق لڑکیوں کے لیے سب سے زیادہ نام فاطمہ، مریم، عائشہ اور زہرہ رکھے گئے،اس سال لیلیٰ نام بھی والدین میں کافی مقبول رہا۔

    جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہونیوالے تنویر سپرا