Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کردہ قرارداد ویٹو کر دی

    امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کردہ قرارداد ویٹو کر دی

    امریکہ نے جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیریش اور عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔امریکی سفیر رابرٹ وڈ نے کہا کہ یہ قرارداد ’حقیقت سے دور تھی اور اس سے زمین پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی تھی۔‘رابرٹ وڈ نے کہا کہ ’اس قرارداد میں اب بھی غیر مشروط فائر بندی کا مطالبہ شامل ہے جو حماس کو سات اکتوبر جیسی کارروائیوں کے قابل بنا دے گا۔‘ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 13 ارکان نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ برطانیہ غیر حاضر رہا۔امریکا کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ حماس کو اس قابل بنا دے گا جو اس نے 7 اکتوبر کو کیا تھا۔یو اے ای نے قراردار ویٹو کیے جانے پر اظہار مایوسی کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکا اور اسرائیل سمجھتےہیں کہ جنگ بندی سے صرف حماس کو فائدہ ہوگا، امریکا عارضی جنگ بندی کا حامی ہے تاکہ وقفے کے دوران امداد پہنچائی جاسکے۔
    عالمی ادارے کے سربراہ گوتیریش نے غزہ میں 17 ہزار 487 سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

  • دوائیں بنانیوالی پاکستانی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث

    دوائیں بنانیوالی پاکستانی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث

    پاکستان کی ایک دوائیں بنانے والی کمپنی غیرمعیاری سیرپ اور سسپینشن بنانے میں ملوث پائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ”روئٹرز“ کے مطابق عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق امریکہ، مشرقی بحیرہ روم، جنوب مشرقی ایشیا اور مغربی بحرالکاہل کے علاقوں میں بھیجی گئی ان دواؤں کی شناخت کی گئی ہیں ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ غیرمعیاری دوائیں پاکستان میں ”فارمکس لیبارٹریز“ نامی کمپنی تیار کر رہی ہے اور ان کی شناخت پہلی بار مالدیپ میں ہوئی تھی،کچھ مصنوعات بیلیز، فجی اور لاؤس میں بھی پائی گئی ہیں،فارمکس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا-

    ن لیگ کو بھی نئی حلقہ بندیوں پر اعتراض،عدالتی کارروائی کا اعلان

    ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے فعال اجزاء پر مشتمل ان مائع ادویات میں ایتھیلین گلائکول کی ناقابل قبول سطح پائی گئی ہے ایتھیلین گلائکول ایتھنول کی طرح ایک سی این ایس ڈپریسنٹ ہے، اس کے میٹابولائٹس زہریلے ہوتے ہیں اور زیادہ میٹابولک ایسڈوسس، دماغی ورم، دل کی ناکامی ، گردوں کی ناکامی اور ممکنہ طور پر موت کا سبب بنتے ہیں۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سمیت دیگر رہنما پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل

    یہ انتباہ ہندوستان اور انڈونیشیا میں بنی اسی طرح کی آلودہ دوائیوں کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کی انتباہات کی ایک لائن میں تازہ ترین ہے، جو گزشتہ سال دنیا بھر میں تقریباً 300 بچوں کی موت سے منسلک تھیں ایجنسی بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کو پاکستان میں تیار کردہ شربتوں کے حوالے سے کسی منفی واقعات کی اطلاع نہیں ملی، لیکن اس نے ممالک پر زور دیا کہ وہ دسمبر 2021 سے دسمبر 2022 کے درمیان کمپنی کی جانب سے تیار کردہ مصنوعات کی نگرانی اور جانچ کریں۔

    غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

  • غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    غزہ میں حماس کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی فوجی اپنی بینائی کھو نے لگے

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے فوجی اپنی بینائی کھونے لگے ہیں۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ”یروشلم نے کے اے این نیوز“ کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ غزہ میں حماس کے خلاف لڑنے والے سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں کو آنکھوں کی شدید چوٹیں آئی ہیں، جن میں سے کچھ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں آنکھوں کی یہ زیادہ تر چوٹیں جنگ کے دوران ضرورت کے مطابق حفاظتی پوشاک، یعنی آنکھوں کی حفاظت کا سامان نہ پہننے کی وجہ سے آئیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی آنکھیں گولیوں کے ٹکڑوں چھینٹے اور بندوق کے ری کوئل کے قریب منہ ہونے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہوئیں، جبکہ کچھ فوجیوں کو حماس کے جنگجوؤں نے براہ راست نشانہ بنایا ان چوٹوں میں سے 10 سے 15 فیصد کے نتیجے میں ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک بیر شیبہ کے سوروکا میڈیکل سینٹر میں آنکھ کے زخموں والے تقریباً 40 فوجی داخل ہیں، پانچ اس ہفتے کے شروع میں شدید زخموں کے ساتھ اسپتال پہنچے پچھلے 24 گھنٹوں میں مبینہ طور پر 5 میں سے 2 کی سرجری ہوئی ہے۔

    پچھلے مہینے، یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ سوروکا کے ماہرین امراض چشم نے ہر وقت حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت کے بارے میں فوج کے شعور کو بڑھانے کے لیے ایک مختصر ویڈیو تیار کی تھی اسرائیلی فوج نے نیوز رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ فوج کے پاس آنکھوں کی حفاظت کرنے والے آلات کی کمی نہیں ہے آئی ڈی ایف ایسے واقعات کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے جن میں فوجی جنہیں حفاظتی چشمیں پہننے کی ضرورت ہوتی ہے وہ باقاعدگی سے ایسا نہیں کرتے۔

    دوسری جانب”العربیہ” کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 1.9 ملین افراد کے اندرونی طور پر بے گھر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے دوران جنوب کے پرہجوم علاقے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری دفتر برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کے مطابق غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر نے شمال سے انخلاء کا حکم ملنے کے بعد پٹی کے جنوب کا رخ کیا ہے،غزہ کے گنجان آباد جنوب میں خان یونس میں پناہ لینے والے لوگ اس ناممکن فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا دوبارہ انخلاء کریں یا موت یا زخمی ہونے کا خطرہ مول لیں کیونکہ شہر شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

    ادھر مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے،اسرائیل نے کہا تھا جنوب محفوظ رہے گا، لیکن العربیہ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں کارروائی شروع کرنے سے بہت پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی محلوں کو بار بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، اب اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس شہر کے 20 فیصد علاقے کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں یہ شہر بحران سے پہلے 117,000 لوگوں کا مسکن تھا اور اب یہاں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اضافی 50,000 افراد 21 پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں غزہ کے 19 فیصد حصے پر محیط شہر کے مزید مشرقی حصے میں ایک علاقے کے لوگوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر جنوب کی طرف رفح یا دیگر مخصوص مقامات پر چلے جائیں۔

    غزہ میں فلسطینی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں وائرل تصاویر اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زیر حراست درجنوں فلسطینیوں کو شدید سردی میں کپڑے اتار کر کھلے مقامات پر بٹھایا گیا زیر حراست افراد میں بزرگ اور نوجوانوں کے علاوہ بچے بھی شامل ہیں، حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کا تعلق غزہ کے مختلف علاقوں سے ہے،اسرائیلی فوجیوں نے زیرحراست فلسطینیوں کو بغیر کپڑوں کے ہی ٹرکوں میں اسرائیل منتقل کیا۔
    https://x.com/SecKermani/status/1732765834596978924?s=20
    اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں میں مزید 350 سے زائد فلسطینی شہید کر دئیے ہیں ، جبالیہ، خان یونس، المغازی، رفح، بیت لاہیا کے رہائشی علاقوں میں بمباری کی، مسجد کو بھی نشانہ بنایا، فلسطینی میڈیا کے مطابق غزہ میں اب تک 17 ہزار 177 افراد شہید اور 46 ہزار زخمی ہوچکے ہیں،7 ہزار 700 فلسطینی ملبے تلے دبے ہیں، غزہ سٹی میں 52 ہزار مکانات مکمل اور ڈھائی لاکھ سے زائد مکانات جزوی تباہ ہوئے ہیں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 194 مساجد اور تین چرچ تباہ ہوئے ہیں۔

    مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سفاکیت نے ذہنی معذور فلسطینی کو بھی نہ بخشا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک ذہنی معذور فلسطینی کو روک کر اس کی شناخت پوچھی، جس کا وہ جواب نہ دے سکا، ساتھ موجود فلسطینی نے اس کی ذہنی معذوری کا بتایا پھر بھی اسرائیلی فوجیوں نے 34 سالہ طارق پر فائرنگ کر دی، شدید زخمی طارق اسپتال میں زیر علاج ہے7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں 256 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کا کہنا ہےکہ غزہ میں شدید بمباری اور فوجی آپریشن کے سبب صورتحال مایوس کن ہوچکی ہے، غزہ میں شدید بمباری کے سبب ایسی صورتحال ہے کہ امداد کی فراہمی نہیں ہوپارہی۔

  • سعودی عرب کا جنگی طیارہ  گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

    سعودی عرب کا جنگی طیارہ گر کر تباہ ،2 پائلٹس جاں بحق

    ریاض: سعودی عرب کا جنگی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار 2 پائلٹ بھی جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مملکت کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں طیارہ حادثےکی تصدیق کی ہے، حادثے کے باعث طیارے میں سوار دونوں پائلٹ جاں بحق ہوگئے۔

    بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جمعرات 7 دسمبر کی دوپہر مشرقی علاقے کے شاہ عبدالعزیز ظہران ائیربیس سے معمول کی تربیتی پرواز کے دوران ایف 15 ایس ای طیارے کو حادثہ پیش آیا، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

  • ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی:ڈنمارک اور سوئیڈن میں پچھلے کئی ماہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے متعدد واقعات ہوئے تھے جس کے بعد مسلمان ممالک نے ایسی مذموم حرکتوں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی بےحرمتی روکنے کا بل منظور ہو گیا ہے جس کے بعد ڈنمارک میں عوامی مقامات پر قرآن پاک کی بےحرمتی غیرقانونی ہوگئی ہے۔

    مبصرین کے مطابق ڈنمارک نے اس قانون کے ذریعے اپنے آزادی اظہار کے قانون اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعات سے دنیا بھر سمیت ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں بھی اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک کے ہم منصب سے قرآنِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بتایا تھا کہ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے خود اُن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہےوزیر خارجہ نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں قرآن پاک کی بےحرمتی واقعات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، ڈنمارک نے ان گھناؤنے واقعات کی مذمت کی اور مسلم ممالک سے رابطوں میں ہے۔

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں نے ڈنمارک کے ہم منصب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے اسلاموفوبیا پر مبنی واقعات کو بند کرنے پر زور دیا،میں نے مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مذہبی برداشت کے فروغ پر بھی زور دیا۔

  • خلیل جبران  لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    خلیل جبران لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف

    جبران خلیل جبران جو لبنانی نژاد امریکی فنکار، شاعر اور مصنف تھے،خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا، وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ جبران خلیل جبران اپنی کتاب The Prophet کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب 1923ء میں شائع ہوئی اور یہ انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی یہ فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب نہایت مشہور گردانی گئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں

    اسے "غلیظ” کہا جاتا تھا کیونکہ اس کی جلد سیاہ تھی، ذۃین نہیں تھا کیونکہ وہ بمشکل انگریزی بول سکتا تھا۔ جب وہ اس ملک میں پہنچے تو انہیں تارکین وطن کے لیے ایک خصوصی کلاس میں رکھا گیا لیکن، اس کے چند اساتذہ نے اس انداز میں کچھ دیکھا جس میں اس نے اپنے آپ کو ظاہر کیا، اپنی ڈرائنگ کے ذریعے، دنیا کے بارے میں اپنے نظریہ کے ذریعے وہ جلد ہی اپنی نئی زبان پر عبور حاصل کر لے گا۔

    جبران مسیحی اکثریتی شہر بشاری میں پیدا ہوئے، جبران کے والد ایک مسیحی پادری تھےجبکہ جبران کی ماں کملہ کی عمر 30 سال تھی جب جبران کی پیدائش ہوئی، والد جن کو خلیل کے نام سے جانا جاتا ہے کملہ کے تیسرے شوہر تھے غربت کی وجہ سے جبران نے ابتدائی اسکول یا مدرسے کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن پادریوں کے پاس انھوں نے انجیل پڑھی، انھوں نے عربی اور شامی زبان میں انجیل کا مطالعہ کیا اور تفسیر پڑھی۔

    جبران کے والد پہلے مقامی طور پر نوکری بھی کرتے تھے، لیکن بے تحاشہ جوا کھیلنے کی وجہ سے قرض دار ہوئے اور پھر سلطنت عثمانیہ کی ریاست کی جانب سے مقامی طور پر انتظامی امور کی نوکری کی اس زمانے میں جس انتظامی عہدے پر وہ فائز ہوئے وہ ایک دستے کے سپہ سالار کی تھی، جسے جنگجو سردار بھی کہا جاتا تھا۔

    1891ء یا اسی دور میں جبران کے والد پر عوامی شکایات کا انبار لگ گیا اور ریاست کو انھیں معطل کرنا پڑا اور ساتھ ہی ان کی اپنے عملے سمیت احتسابی عمل سے گزرنا پڑا جبران کے والد قید کر لیے گئےاور ان کی خاندانی جائیداد بحق سرکار ضبط کر لی گئی۔ اسی وجہ سے کملہ اور جبران نے امریکا ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا جہاں کملہ کے بھائی رہائش پزیر تھے۔گو جبران کے والد کو 1894ء میں رہا کر دیا گیا مگر کملہ نے جانے کا فیصلہ ترک نہ کیا اور 25 جون، 1895ء کو خلیل، اپنی بہنوں ماریانا اور سلطانہ، اپنے بھائی پیٹر اور جبران سمیت نیویارک ہجرت کی اس کی ماں نے اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ لے جانے کا ایک مشکل فیصلہ کیا تھا –

    جبران کا خاندان بوسٹن کے جنوبی حصے میں رہائش پزیر ہوا، اس حصے میں اس وقت شامی اور لبنانی نژاد امریکیوں کی کثیر تعداد رہائش پزیر تھی امریکا میں جبران کو اسکول میں داخل کروایا گیا اور اسکول کے رجسٹر میں ان کا نام غلطی سے خلیل جبران درج ہوا اور پھر یہی نام ان کا سرکاری کاغذات میں منتقل ہوتا رہا،ویسے ان کا نام جبران خلیل جبران تھا-

    جبران کی والدہ نے کپڑے کی سلائی کا کام شروع کیا اور لیس اور لینن کا کام کر کے گھر گھر جا کر بیچنا شروع کر دیا جبران نے 30 ستمبر 1895ء کو اسکول کی تعلیم شروع کی اسکول کی انتظامیہ نے انھیں ہجرت کرکے آنے والے طالب علموں کی مخصوص جماعت میں داخل کیا تاکہ وہ انگریزی زبان سیکھ سکیں اسکول کے ساتھ ساتھ جبران نے اپنے گھر کے پاس ہی ایک فنون لطیفہ کے اسکول میں بھی داخلہ لے لیا۔

    فنون لطیفہ کے اسکول میں ان کے استاد نے انھیں بوسٹن کے مشہور فنکار، مصور اور ناشر فریڈ ہالینڈ ڈے سے متعارف کروایا،جنھوں نے جبران کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا اور جبران کے فن میں حوصلہ افزائی کی 1898ء میں پہلی بار جبران کی بنائی ہوئے مصوری کے نمونے ایک کتاب کے سرورق کے لیے استعمال کیے گئے۔

    جبران کی ماں اور ان کے بڑے بھائی پیٹر چاہتے تھے کہ جبران اپنی لبنانی ثقافت کا پرچار کرے اور مغربی ثقافت جس سے جبران متاثر تھے کو ترک کر دے، جبران کی مغربی ثقافت سے متاثر ہونے کی وجہ سے پندرہ سال کی عمر میں جبران کو واپس لبنان بجھوا دیا گیا جہاں انھوں نے مسیحی مارونات کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بیروت میں اعلیٰ تعلیم کے لیے منتقل ہوئے۔ بیروت میں اپنے ایک ہم جماعت کے ہمراہ ایک ادبی رسالے کا اجرا کیا اور اپنے تعلیمی ادارے میں “کالج کے شاعر“ کے طور پر مشہور ہوئے۔ یہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے اور 1902ء میں بوسٹن واپس چلے گئےان کی بوسٹن واپسی سے تقریباً دو ہفتے قبل ان کی بہن سلطانہ تپ دق میں مبتلا ہو کر چودہ سال کی عمر میں وفات پاگئی اور اس کے اگلے ہی سال ان کے بھائی پیٹر تپ دق کی وجہ سے اور ماں کینسر میں مبتلا ہو کر فوت ہوئیں۔ جبران کی بہن ماریانہ نے جبران کی دیکھ بال کی اور ماریانہ ایک درزی کے پاس نوکری کرتی رہیں-

    انہوں نے لکھا کہ مصیبت سے مضبوط ترین روحیں نکلی ہیں، سب سے بڑے کردار داغوں سے بھرے ہوئے ہیں،وہ 6 جنوری 1883 کو آج کے لبنان میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا،وہ محبت ،امن اور افہام و تفہیم پر یقین پر یقین رکھتا تھا،ان کا نام خلیل جبران تھا، اور وہ بنیادی طور پر اپنی کتاب "دی پرافٹ” کے لیے جانا جاتا ہے-

    دنیا بھر کی 108 زبانوں میں شائع ہونے والے، دی پرافٹ ” کے حوالے شادیوں، سیاسی تقاریر اور جنازوں میں نقل کیے جاتے ہیں، جان ایف کینیڈی، اندرا گاندھی، ایلوس پریسلے، جان لینن اور ڈیوڈ بووی جیسی متاثر کن بااثر شخصیات بھی ان کی مداح ہیں، وہ بے حد بے باک تھے، منافقت اور بدعنوانی کے زدید خلاف تھے ان کی کتابیں بیروت میں جلا دی گئیں اور امریکہ میں اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں –

    جبران اپنے خاندان کے واحد فرد تھے جنہوں نے علمی تعلیم حاصل کی۔ اس کی بہنوں کو اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کی روایات کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کی وجہ سے۔ جبران، تاہم، اپنے خاندان کی خواتین، خاص طور پر اپنی والدہ کی طاقت سے متاثر تھا۔ ایک بہن، اس کی ماں اور اس کے سوتیلے بھائی کی موت کے بعد، اس کی دوسری بہن، ماریانہ جبران نے کپڑے کی دوکا پر کام کر کے انہیں اور خواد کو پالا-

    اپنی والدہ کے بارے میں خلیل جبران نے لکھا کہ انسانوں کے لبوں پر سب سے خوبصورت لفظ ‘ماں’ ہے، اور سب سے خوبصورت پکار ‘میری ماں’ ہے۔ یہ امید اور پیار سے بھرا ایک لفظ ہے، دل کی گہرائیوں سے نکلنے والا ایک میٹھا اور مہربان لفظ ہے۔ ماں ہی سب کچھ ہے، وہ غم میں ہماری تسلی، غم میں ہماری امید اور کمزوری میں ہماری طاقت ہے۔ محبت، رحم، ہمدردی اور معافی کا۔”

    جبران بعد ازاں خواتین کی آزادی اور تعلیم کی وجہ بنےاس کا ماننا تھا کہ "دوسروں کے حقوق کی حفاظت انسان کا سب سے عظیم اور خوبصورت انجام ہے،نئے تارکین وطن کے لیے ایک نظم میں، انہوں نے لکھا کہ ، "مجھے یقین ہے کہ آپ اس عظیم قوم کے بانیوں سے کہہ سکتے ہیں، ‘میں حاضر ہوں، ایک نوجوان، ایک جوان درخت، جس کی جڑیں لبنان کی پہاڑیوں سے اکھیڑ دی گئیں۔ یہاں بہت گہرائی سے جڑیں ہیں۔ اور میں نتیجہ خیز ہوں گا۔”

    انہوں نے اپنی کتان "دی پرافٹ” میں لکھا کہ آپ اتحاد میں خالی جگہیں ہونے دیں، اور آسمان کی ہوائیں آپ کے درمیان رقص کریں۔ ایک دوسرے سے محبت کرو لیکن محبت کا بندھن نہ بناؤ: اسے اپنی روحوں کے ساحلوں کے درمیان ایک چلتا ہوا سمندر بننے دو۔ ایک دوسرے کا پیالہ بھرو لیکن ایک پیالہ سے نہ پیو۔ اپنی روٹی ایک دوسرے کو دو لیکن ایک ہی روٹی سے مت کھاؤ۔ ایک ساتھ گاؤ اور رقص کرو اور خوش رہو، لیکن تم میں سے ہر ایک کو تنہا رہنے دو، جیسے کہ ایک تار کی تاریں ایک ہی موسیقی کے ساتھ کانپتی ہیں۔ اپنے دل دو، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت میں نہیں۔ کیونکہ صرف زندگی کا ہاتھ ہی آپ کے دلوں کو سمیٹ سکتا ہے۔ اور ایک ساتھ کھڑے ہو جاؤ، لیکن ایک دوسرے کے قریب بھی نہیں: کیونکہ ہیکل کے ستون الگ الگ کھڑے ہیں، اور بلوط کا درخت اور صنوبر ایک دوسرے کے سائے میں نہیں بڑھتے ہیں۔

    جبران خلیل 10 اپریل 1931ء کو نیویارک میں وفات پا گئے۔ ان کی موت جگر کی خرابی اور تپ دق کی وجہ سے ہوئی۔ اپنی موت سے پہلے جبران نے خواہش ظاہر کی کہ انھیں لبنان میں دفن کیا جائے ان کی یہ آخری خواہش 1932ء میں پوری ہوئی جب میری ہاسکل اور جبران کی بہن ماریانہ نے لبنان میں مارسرکاس نامی خانقاہ خرید کر وہاں ان کو دفن کیا اور جبران میوزیم قائم کیا جبران کی قبر کے کتبے پر جو الفاظ کشیدہ کیے گئے وہ کچھ اس طرح ہیں، “ایک جملہ جو میں اپنی قبر کے کتبے پر دیکھنا چاہوں گا میں زندہ ہوں تمھاری طرح اور میں تمھارے ساتھ ہی کھڑا ہوں۔ اپنی آنکھیں بند کرو اور اردگرد مشاہدہ کرو، تم مجھے اپنے سامنے پاؤ گے-

    جبران نے اپنے سٹوڈیو کی تمام اشیاء اور فن پارے میری ہاسکل کے نام وصیت میں سپرد کر دیے اس سٹوڈیو میں ہاسکل کو 23 سال تک اپنے اور جبران کے بیچ ہوئی خط کتابت بھی ملی، جس کے بارے پہلے ہاسکل نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں جلا دیا جائے، لیکن ان کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انھیں محفوظ کر دیا گیا۔ ان خطوط کو میری ہاسکل نے اس کو لکھے گئے جبران کے خطوط سمیت شمالی کیرولائنا کی جامعہ کی لائبریری کو اپنی 1964ء میں وفات سے پہلے سپرد کر دیے۔ بعد ازاں ان خطوط کا کچھ مواد 1972ء میں کتاب Beloved Prophet میں شائع ہوا۔

  • ایرانی صدر سرکاری دورے پر  ماسکوپہنچ گئے

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    ماسکو: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جمعرات کو سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ اقتصادی تعلقات اور اسرائیل-غزہ جنگ سمیت دیگر موضوعات پر بات چیت کریں گے، روسی خبررساں ادارے رشیا ٹوڈے نیوز چینل نے مسٹر رئیسی کے اپنے صدارتی طیارے، معراج ایئرویز A340 سے اترتے ہوئے فوٹیج نشر کی۔

    ایران کے خبررساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے صدر کے اس ایک روزہ دورے میں دوطرفہ امور پر مشاورت بشمول اقتصادی تعاملات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین اور غزہ کی پیش رفت پر بات چیت ہمارے ملک کے صدر کے اہم ایجنڈے میں ہوگی۔

    رئیسی کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ون آن ون ملاقات کر رہے ہیں۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں سربراہان مملکت پریس کو کوئی بیان نہیں دیں گے۔

    جمعرات کو ماسکو روانگی سے قبل تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رئیسی نے کہا کہ ان کا ایک روزہ دورہ غزہ کی پٹی میں لڑائی کو روکنے، محصور علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے اور فلسطینیوں کے جائز حقوق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرے گا،انہوں نے کہا کہ وہ مختلف شعبوں میں روس ایران تعلقات کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے آخری بار 16 اکتوبر کو فون پر بات کی تھی، جب انہوں نے غزہ میں جنگ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا،انہوں نے گزشتہ سال سمرقند، ازبکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ذاتی طور پر ملاقات کی۔

    روس اور ایران شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت سمیت کئی معاملات پر اتحادی ہیں اور دونوں کو مغربی اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہےفروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد سے، دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں، اور ایران نے روسی فوج کو سینکڑوں ڈرونز کے ساتھ ساتھ توپ خانے کا گولہ بارود بھی فراہم کیا ہے۔

    امریکہ نے کہا ہے کہ اسے دونوں ریاستوں کے درمیان "بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری” پر تشویش ہےایران اور روس دونوں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک+ کے رکن ہیں جو تیل کی پیداوار کی سطح کو مربوط کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

    ایران بھی ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جنہیں برکس اقتصادی بلاک میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جو کہ اصل میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل تھا ارجنٹینا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یکم جنوری 2024 کو باضابطہ طور پر شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہہے کہ مسٹر رئیسی کا دورہ مسٹر پیوٹن کے خلیج کے ایک روزہ دورے کے بعد ہوا ہے،روسی صدر بدھ کو سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے تھے ابوظہبی کے قصر الوطن میں ایک سرکاری استقبالیہ میں صدر شیخ محمد نے ان کا استقبال کیا دونوں رہنماؤں نے غزہ، یوکرین اور Cop28 پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیل-فلسطین میں دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا۔

    مسٹر پیوٹن اس کے بعد اسی شام سعودی عرب گئے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا،پیوٹن نے شہزادہ محمد کو بتایا کہ "ہمارے دوستانہ تعلقات کی ترقی کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، خطے میں کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں آپ کے ساتھ معلومات اور جائزوں کا تبادلہ کرنا ہم سب کے لیے بہت اہم ہے۔ روسی صدر نے کہا کہ ہماری ملاقات یقینی طور پر بروقت ہے۔

    شہزادہ محمد نے ایک براہ راست ٹیلی ویژن نشریات کے دوران کہا کہ "مملکت اور روس مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں،پیوٹن نے سعودی ولی عہد کو ماسکو کے دورے کی دعوت بھی دی۔

  • انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں’ہیومن رائٹس واچ’ اور’ایمنسٹی انٹرنیشنل’نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور جرمنی سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی فوری روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ 13 اکتوبر کو جنوبی لبنان میں امریکی، عراقی اور لبنانی صحافیوں پر 13 اکتوبر کا اسرائیلی حملہ صریح جنگی جرم ہے، اسرائیل کو خوب پتہ تھا کہ وہ جن لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے وہ سویلینز ہیں۔

    دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی 13 اکتوبر کو صحافیوں پر اسرائیلی حملے کو ہدف تنقید بنایا اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے اس حملے کی جنگی جرائم کے طور پر تحقیقات کی جائیں، ایک بیان میں ایمنسٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطی اور شمالی افریقا آیا مجذوب نے کہا کہ عالمی قوانین کے تحت اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دینے والے کسی صحافی کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام لگایا ہے کہ 13 اکتوبر کو غزہ پر جس اسرائیلی حملے میں 43 سویلینز شہید ہوئے، اس کیلئے امریکا میں بنا ویپن گائیڈنس سسٹم استعمال ہوا ہے ایمنسٹی نے تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے بعد دیر البلا میں ملبے کا معائنہ کرنے پر وہاں سے امریکا میں بنے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز گائیڈنس سسٹم( جے ڈیم) کے پرزے ملے ہیں۔

    واضح رہے کہ13 اکتوبر کے حملے میں برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے ایسام عبداللہ جاں بحق جبکہ الجزیرہ کے کیمرہ پرسن ایلی براکھیا اور رپورٹر کارمن جوکھادر سمیت دیگر 6 جرنلسٹس زخمی ہوئے تھے۔

    افغان طالبان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین

  • چین میں  ہوائی جہاز سے زیادہ تیز چلنے والی  تیز ترین ٹرین

    چین میں ہوائی جہاز سے زیادہ تیز چلنے والی تیز ترین ٹرین

    چین میں ایسی ٹرین تیار کی جا رہی ہے جس کی رفتار بیشتر طیاروں سے بھی زیادہ ہوگی۔

    باغی ٹی وی : چین ناقابل یقین 621 میل فی گھنٹہ کی تیرتی ٹرین کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جو ہوائی جہاز سے زیادہ تیز چلتی ہے کیونکہ اس نے اسپیڈ ٹیسٹ میں تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا ہے-

    چینی میڈیا کے مطابق اس ٹرین کی اولین آزمائش چند ماہ پہلے کی گئی تھی جس دوران اس نے 281 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا تھا،مگر یہ ٹرین جب تیار ہو جائے گی تو انجینئرز کو توقع ہے کہ یہ 621 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکے گی جبکہ زیادہ تر طیارے 546 سے 574 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں،چین کی جانب سے جس تیز ترین ٹرین کو تیار کیا جا رہا ہے وہ لاہور سے کراچی جتنا فاصلہ 2 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔

    افغان طالبان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین

    یہ ٹرین فضا میں معلق ہو کر سفر کرے گی جس کے لیے ماگلیو ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی ماگلیو ٹیکنالوجی سے ٹرینیں مخصوص مقناطیسی ٹریک پر فضا میں معلق ہو کر تیزرفتاری سے سفر کرتی ہیں فضا میں معلق ہونے کے باعث ٹرین کے لیے رگڑ اور آواز کی آلودگی جیسے مسائل سے بچنا ممکن ہوتا ہے اور اس کی رفتار بھی بڑھتی ہے۔

    چین میں اس طرح کی ایک ٹرین پہلے ہی شنگھائی میں چل رہی ہے جو 19 میل کے ٹریک پر سفر کرتی ہے مگر چین کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو ملک بھر میں توسیع دینے پر کام کیا جا رہا ہے جو کہ چین کے چائنا ریلوے 450 ٹیکنالوجی منصوبے کا حصہ ہے۔

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ماگلیو ٹرینوں سے براہ راست آلودگی کا فضا میں اخراج نہیں ہوتا اور چین کو توقع ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے فضائی آلودگی کے اخراج میں کمی لانےمیں مدد ملے گی اس ٹرین پر ابھی کام جاری ہے اور ابھی اس کی مزید آزمائش بھی ہوگی، تو اسے آپریشنل ہونے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔

  • برطانیہ کا نیا امیگریشن قانون خاندانوں کو تقسیم کرنےکا باعث بن سکتا ہے،برطانوی  قانونی ماہرین

    برطانیہ کا نیا امیگریشن قانون خاندانوں کو تقسیم کرنےکا باعث بن سکتا ہے،برطانوی قانونی ماہرین

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا نیا امیگریشن قانون خاندانوں کو تقسیم کرنےکا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے "دی گارڈین” کے مطابق گزشتہ دنوں برطانوی حکومت کی جانب سے برطانیہ میں آنیوالوں کی تعداد کم کرنے کیلئے قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےبرطانوی وزیر داخلہ جیمز کلیورلی نے پارلیمنٹ میں نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے ہنر مندوں کو والدین اور بچے لانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی –

    جیمز کلیورلی کا قانونی ہجرت پر کریک ڈاؤن کرنے کا منصوبہ بہت سے بین الاقوامی جوڑوں کے لیے الجھن اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے،برطانوی میڈیا کی جانب سے کہا جارہا ہےکہ حکومتی فیصٌلے پر وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کا نیا امیگریشن قانون خاندانوں کو تقسیم کرنےکا باعث بن سکتاہے۔

    افغان طالبان دہشتگرد گروپوں کے خلاف کارروائی کریں،چین

    ہوم سکریٹری نے پیر کو امیگریشن میں کمی لانے کے لیے ایک پانچ نکاتی منصوبے کا اعلان کیا، ڈاؤننگ اسٹریٹ نے بھی نئے امیگریشن قانون کو اب تک کی سب سے بڑی پابندی قراردیا ہے۔

    Cleverly کی بہت سی تبدیلیاں ہنر مند کارکنوں کے لیے برطانیہ کا ویزا حاصل کرنا مشکل بنانے پر مرکوز تھیں لیکن ہوم سکریٹری نے برطانویوں کے لیے غیر ملکی شراکت داروں اور خاندان کے افراد کو ملک میں لانا بھی مشکل بنا دیا، برطانوی میڈیا کے مطابق نئے قانون کے مطابق اسپانسرکرنےکے لیے سالانہ آمدنی 38 ہزار 700 پاؤنڈ ہونی چاہیے جس سے 70 فیصد کارکن اپنےخاندان برطانیہ نہیں لاسکیں گے، اگر پارٹنر پہلے ہی برطانیہ میں ہے تو دونوں کی آمدنی کو مد نظر رکھا جاناچاہیے۔

    حماس کی قید سے رہائی پانیوالے اسرائیلیوں سے ملاقات نیتن یاہو کو مہنگی پڑگئی