Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سسرال میں  4 افراد کو قتل کرنے والا پولیس کی گولی سے ہلاک

    سسرال میں 4 افراد کو قتل کرنے والا پولیس کی گولی سے ہلاک

    امریکی ریاست نیویارک کے علاقے کوئنز بورو میں ایک گھر میں چاقو کے وار سے دو بچوں سمیت چار افراد قتل اور تین زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق مشتبہ شخص نے پولیس پر بھی حملہ کیا جس سے2 اہلکار زخمی ہوئے، پولیس نے مشتبہ شخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا نیو یارک سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ کوئنز فار راک وے کے علاقے میں ایک لڑکی نے اس واقعے کی اطلاع دینے کے لیے فون کیا اور کہا کہ ’اس کا کزن اس کے اہل خانہ کو قتل کر رہا ہے۔‘

    نیو یارک پولیس کے مطابق 38 سالہ مشتبہ شخص نے موقع پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں پر بھی چاقو سے حملہ کیا اس کے بعد ایک افسر نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا ، ملزم کو گھریلو تشدد کے الزام میں پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، حملے کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ مقتولین میں 12 سالہ لڑکا، 11 سالہ لڑکی، 44 سالہ خاتون اور 30 ​​سال کا ایک مرد شامل ہے۔

    جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور دوسرے جبکہ نئی دہلی پہلے نمبر پر

    بلوچستان، موسیٰ خیل کے جنگلات میں آگ لگ گئی

  • اسرائیل کی تیار کردہ ٹیک مصنوعات پر بڑا سائبر حملہ

    اسرائیل کی تیار کردہ ٹیک مصنوعات پر بڑا سائبر حملہ

    تل ابیب:ایران پر اسرائیل کی تیار کردہ ٹیک مصنوعات پر بڑے سائبر حملے کا الزام عائد کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :بلوم برگ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ ہیکرز نے ایک چھوٹی مغربی پنسلوانیا واٹر اتھارٹی سمیت کئی امریکی اداروں کو نشانہ بنایا ہے جو ایک مخصوص انڈسٹریل کنٹرول ڈیوائس استعمال کرتے ہیں جو کہ اسرائیلی ساختہ ہے۔

    اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ، ایف بی آئی، ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی، سائبرسیکیوریٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی جسے CISA کے نام سے جانا جاتا ہے نے جمعے کو دیر گئے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل کی گئی ایک ایڈوائزری میں کہا کہ متاثرہ ادارےکئی ریستوں پر محیط ہیں تاہم، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی تنظیموں کو ہیک کیا گیا اور نہ ہی ان کی وضاحت کی۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    میونسپل واٹر اتھارٹی آف علیکوپا کے چیئرمین میتھیو موٹس نے 25 نومبر کو دریافت کیا کہ سسٹم ہیک ہوا ہے انہوں نے جمعرات کو کہا کہ وفاقی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ اسی گروپ نے چار دیگر سہولیات اور ایکویریم کو بھی ہیک کیا ہے۔

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں، تاہم، انہیں توقع تھی کہ ریاست کے حمایت یافتہ ایرانی ہیکرز اور فلسطین کے حامی ”ہیکٹیوسٹ“ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر سائبر حملے تیز کریں گے اور واقعی ایسا ہوا ہے۔

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    ہیکرز نے ڈیوائس پر ایک ڈیجیٹل کالنگ کارڈ چھوڑا جس میں کہا گیا کہ تمام اسرائیلی سازوسامان ”ہدف“ ہیں، ملٹی ایجنسی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ ہیکرز نے نیٹ ورکس میں گہرائی تک گھسنے کی کوشش کی تھی یا نہیں۔ انہوں نے جو رسائی حاصل کی اس نے ”عمل اور آلات پر سائبر کے زیادہ گہرے اثرات“ کو فعال کیا۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز، جو خود کو ”سائبر ایوینجرز“ کہتے ہیں، ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور سے وابستہ ہیں، جسے امریکہ نے 2019 میں ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا تھا۔ اس گروپ نے کم از کم 22 نومبر کے بعد سے Unitronics آلات کو نشانہ بنایا ہے Unitronics ڈیوائسز ڈیفالٹ پاس ورڈ کے ساتھ بھیجی جاتی ہیں، ماہرین اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کیونکہ یہ انہیں ہیکنگ کیلئے زیادہ خطرناک بناتا ہے۔

    ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

  • سوشل میڈیا پر فراڈ ،اماراتی ائیر لائن نے صارفین کو خبردار کر دیا

    سوشل میڈیا پر فراڈ ،اماراتی ائیر لائن نے صارفین کو خبردار کر دیا

    یو اے ای: ایمریٹس ائیر لائن نے فیس بک پر گردش کرنے والی خود سے منسوب ایک سرمایہ کاری اسکیم کے بارے میں خبردار کریا ہے۔

    باغی ٹی وی: خلیج ٹائمز کے مطابق فیس بک پر ایک پوسٹ میں ایمریٹس کے اسٹاکس میں سرمایہ کاری کے لیے ایک نئے پلیٹ فارم کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے، پوسٹ میں سی ای او اور ایمریٹس کے جہاز کی تصاویر شامل ہیں اس جعلی اسکیم میں سرمایہ کاروں کو تقریباً 10 فیصد ماہانہ منافع دینے کا وعدہ کیا گیا ہے پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ آپ کے پاس 200 ڈالر سے شروع ہونے والے ایمریٹس کے حصص میں سرمایہ کاری کرکے ماہانہ 9700 ڈالرز کمانے کا منفرد موقع ہے۔‘

    فوٹو خلیج ٹائم

    ایمریٹس کے ترجمان نے خلیج ٹائمز کو دئیے گئے ایک بیان میں عوام کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس جعلی سرمایہ کاری پوسٹ کے بارے میں خبردار کیا، ترجمان نے کہا کہ ہم ایمریٹس میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے گردش کرنے والے جعلی سوشل میڈیا پیج سے آگاہ ہیں، اور ہم احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں، ایمریٹس کے تمام اعلانات ہمارے سرکاری چینلز پر ہوسٹ کیے جاتے ہیں۔

    یہ گمراہ کن پوسٹ پورے ہفتے فیس بک صارفین کی فیس بک فیڈز پر نظر آئی، جنہوں نے اس پر کلک کیا انہیں trademasterhub.com نامی ویب سائٹ کے رجسٹریشن پیج پر بھیج دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ موجود پیغام میں صارفین کو یقین دلایا گیا کہ ہم یہاں ہر قدم پر آپ کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں، رجسٹریشن فارم ممکنہ سرمایہ کاروں کو ایک وعدے کے ساتھ راغب کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیا آپ 250 ڈالر کو 7,500 ڈالر میں تبدیل کرنا چاہیں گے؟ ہمارے سرمایہ کاروں میں سے ایک بتائے گا کہ کیسے۔

    فوٹو : خلیج ٹائمز

    فارم کو مکمل کرنے پر، شرکا کو 24 گھنٹے کے اندر کال بیک کرنے کا کہا جاتا ہے اور اس کے ساتھ شکریہ کا نوٹ موصول ہوتا ہےکال کے دوران، ایک کنسلٹنٹ مبینہ طور پر اکاؤنٹ کھولنے اور فعال کرنے کے عمل میں مدد کرتا ہے، وہ لوگ جو کال کو نظر انداز کرتے ہیں، رجسٹریشن کے عمل کے اختتام کی طرف ایک پریشان کن پیغام نظر آتا ہے، ہماری کال کا جواب دینے کے لیے تیار رہیں کیونکہ آپ کے لیے ایک بونس انتظار کر رہا ہے۔

    فوٹو:خلیج ٹئم
    خلیج ٹائمز کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق ٹریڈ ماسٹر ہب کی ویب سائٹ صرف ایک ماہ پرانی ہے اور اس کے مالکان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں،خلیج ٹائمز کے مطابق Trademasterhub کی ویب سائٹ اس اسکیم کو فروغ دینے والے فیس بک پیج کے ساتھ اب غائب ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں ایک متعلقہ رجحان سامنے آیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اور بیرون ملک مختلف اداروں اور ہائی پروفائل افراد کو مشکوک آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہےحالیہ کیس میں، دبئی میں ایک ہندوستانی رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کو دھوکہ دہی والے تجارتی پلیٹ فارم پر 100,000 ڈالرز کا نقصان ہوااس سے پہلے، شارجہ میں ایک پاکستانی بینکر آر عمران 21,000 ڈالر سے محروم ہو کر اس ریکٹ کا شکار ہوئے۔

  • امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    واشنگٹن: بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے،کئی اہم امریکی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ہفتے کو عہد کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ پر بائیڈن کے مؤقف کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کی مخالفت کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مسلمان امریکیوں نے بائیڈن سے 31 اکتوبر تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا بعد ازاں بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے،بڑی مسلم اور عرب امریکی آبادی کی مخالفت آئندہ انتخابات میں بائیڈن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گےمہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

    امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ”انتخاب کاروں“ (الیکٹورل کالج) کے ایک گروپ کے ذریعے کیا جاتا ہے جنہیں زیادہ تر معاملات میں اس ریاست کی سیاسی جماعتیں منتخب کرتی ہیں، مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    امریکی سیاست پر دو جماعتوں کا غلبہ ہے – ڈیموکریٹس اور ریپبلکن – لیکن آزاد امیدوار بھی صدر کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، ہارورڈ کے سابق پروفیسر اور ممتاز سیاہ فام فلسفی کارنیل ویسٹ، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی ہےگرین پارٹی کے پلیٹ فارم پر دوڑ میں شامل جل سٹین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ 2016 اور 2012 میں بھی امیدوار تھیں۔

    امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں، وہ بائیڈن کو ووٹ دینے سے انکار کو امریکی پالیسی کی تشکیل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے، مسلم کمیونٹی فیصلہ کرے گی کہ دوسرے امیدواروں کا انٹرویو کیسے کیا جائےدوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

    ایک حالیہ سروے میں عرب امریکیوں میں بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جو کہ 2020 میں کافی اکثریت سے گر کر صرف 17 فیصد رہ گئی ہےعرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا مشی گن جیسی ریاستوں میں اہم اثر ہو سکتا ہے، جہاں بائیڈن نے 2.8 فیصد پوائنٹس سے فتح حاصل کی، اور عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 5 فیصد ووٹ عرب امریکی ہیں عام لوگوں کے درمیان، رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکیوں نے محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔

    واضح رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر بھی ہو چکے ہیں تاہم امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

  • بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی  بحری جہازوں پر حملے

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہازوں پر حملے ہوئے ہیں،جبکہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ‘غزہ کے شہریوں کا تحفظ اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ضرورت بھی ہے اس لیے ہم اسرائیل کو مسلسل زور دے کر بتاتے رہیں گے کہ شہریوں کو تحفظ دے اور ان کے لیے امدادی بہاؤ میں تیزی آنے دے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو بحیرہ احمر میں ایک امریکی جنگی بحری جہاز اور متعدد تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا، جو اسرائیل اور حماس کی جنگ سے منسلک مشرق وسطیٰ میں سمندری حملوں میں ممکنہ طور پر ایک بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے بحیرہ احمر میں ہوئےحملوں سے آگاہ ہیں مزید تفصیلات آنے پر شیئر کریں گے تاہم پینٹاگون نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ حملے کس مقام پر ہوئے، البتہ حوثی باغی کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انٹیلی جنس معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے صبح تقریباً 10 بجے یمن کے شہر صنعا میں ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہےحوثیوں کی جانب سے اس حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حوثی فوج کے ایک ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایک اہم بیان جلد ہی جاری کیا جائے گا،اس سے قبل برطانوی فوج نے بھی بغیر کسی تفصیلات بتائے کہا تھا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر ڈرون حملہ اور دھماکے ہوئے ہیں۔

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ غزہ کے شہریوں کا تحفظ اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ضرورت بھی ہےیہ کام اولین ضرورت بھی ہے، اہم ترین بھی، صحیح ترین بھی اور اسرائیل کے لیے سٹریٹجک اہمیت کا بھی حامل بھی۔ ‘ آسٹن نے یہ بات رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

    العربیہ کے مطابق انہوں نے اس موقع پر اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا امریکہ کی عراق میں جنگ سے تقابل کرتے ہوئے کہا امریکہ نے عراق میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف آبادی کے اندر لڑائی لڑی ہے اس کا سبق جو میں نے لمبے عرصے میں عراق میں لڑی جانےوالی جنگ سے سیکھا ہے۔ اس میں شہری جنگ کے حوالے سے ایک دو باتیں بہت اہم ہیں ، کیونکہ انہیں کی وجہ سے ہم داعش کو عراق میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے، میں سمجھتا ہوں حماس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ‘

    لائیڈ آسٹن نے کہا کہ داعش کے شہروں میں بڑے اثرات بن چکے تھے۔ اس لیے بین الاقوامی جنگی اتحاد کو شہروں میں داعش کے خلاف لڑائی میں بہت سخت محنت کرنا پڑی تاکہ شہریوں کوجنگ کےباوجود بچایاجا سکےاور انسانی بنیادوں پر بھی چیزیں آگےبڑھا سکیں ہم نے عراق میں جنگ کے دوران اس چیز کا مشکل ترین وقتوں میں بھی خیال رکھا ۔’

    امریکی وزیر دفاع نے زور دیتے ہوئے کہا ‘ شہروں کے اندر جنگ جیتنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ شہریوں کی ہلاکتیں نہ کریں بلکہ انہیں تحفظ دیں آپ نے اس طرح کی جنگوں میں دیکھا ہے جنگ کا مرکز ثقل شہری آبادی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر آپ انہیں ہی دشمن کے بازوں اور اسلحے کی طرف دھکیل دیں گے تو آپ کی اسلحے کی بنیاد پر ہونے والی فتح سٹریٹیجک شکست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ‘

    انہوں نے کہا اس بارے میں وہ اسرائیلی اعلیٰ عہدے داروں کو بار بار واضح طور پر بتا چکے ہیں میں انہیں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو غزہ میں ہلاکتوں سے بچانا اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے علاوہ حکمت عملی کی ضرورت بھی ہے۔

  • غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ کے جبالیہ کیمپ پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے، لبنان کی جانب سے اسرائیلی فوج پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے، دوسری جانب اسرئیلی فضائیہ نے الجبالیہ پناہ گزین کیپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

    فوٹو الجزیرہ
    الجزیرہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد شہادتوں کی اطلاعات ہیں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک مکمل رہائشی بلاک منہدم ہوا ہے جس کے اندر بہت سے لوگ موجود تھے، تباہی ناقابل بیان ہے۔

    فوٹو الجزیرہ

    فلسطینی صحافیوں اور ٹی وی کریو کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جبالیہ کیمپ کے رہائشی اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکال رہے ہیں لوگوں کو کئی لاشیں ملی ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے،کچھ شدید زخمیوں کو اسٹریچر حتیٰ کہ گدوں پر بھی لے جایا جا رہا ہے، جبالیہ کیمپ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ہم ملبے کے نیچے سے آوازیں سن سکتے ہیں‘۔

    فوٹو الجزیرہ

    واضح رہے کہ جبالیہ غزہ کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔ غزہ کے شمال میں واقع یہ گنجان آباد کیمپ 1.4 مربع کلومیٹر (0.5 مربع میل) کے رقبے پر محیط ہے اقوام متحدہ کے مطابق کیمپ میں تقریباً 116,000 رجسٹرڈ مہاجرین موجود ہیں اسے دو دنوں میں دو بار اسرائیلی فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    فوٹو الجزیرہ
    خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کا دائرہ محفوظ قرار دیے جانے والے جنوبی حصوں میں بھی پھیلا دیا گیا ہے 58 روز سے جاری ان کارروائیوں کے دوران اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں اسرائیلی جارحیت سے ہزاروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے کے قدیم ثقافتی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےیہ خطہ قدیم زمانے سے مصر، یونان، روم، بازنطینی اور مسلم ریاستوں کے زیرتحت تجارت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔

    Heritage for Peace نامی ادارے کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 100 سے زائد ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں ان میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری بھی شامل ہے جبکہ دنیا کا تیسرا قدیم ترین چرچ آف Saint Porphyrius، 2 ہزار سال قدیم رومی قبرستان، رفح میوزیم اور دیگر قدیم ثقافتی مقامات اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے نوادرات، تاریخی مقامات، میوزیمز اور لائبریریوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

    Heritage for Peace کے صدر Isber Sabrine نے کہا کہ اگر غزہ کی ثقافت کا خاتمہ ہوگیا تو یہ غزہ کے رہائشیوں کی شناخت کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا ہمارا ادارہ غزہ کے ثقافتی مراکز کی حالت کے بارے میں سروے اور مانیٹرنگ جاری رکھے گا غزہ کے عوام کو اپنی تاریخ بیان کرنے والی ثقافت کو بچانے کا حق حاصل ہے، جو اس سرزمین کے لیے بہت اہم ہے۔

    1954 کے ہیگ معاہدے کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ان مقامات کو محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا تھا مگر ماضی میں بھی اسرائیلی حملوں میں ان مقامات کو نقصان پہنچا تھا مگر اب جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ثقافتی تاریخ کے نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کریں۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے،حماس کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے، فلسطینی تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں

    اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گنجان آباد جنوبی حصوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں شمالی غزہ سے جبری انخلا کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہیں، صیہونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فورسز کی خان یونس کے علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ ترین کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کر 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا-

    خان یونس میں قطری تعاون سے تعمیر "حمد سٹی ” کی تباہی کے ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے اور ترک ٹی وی کی صحافی ربا خالد لائیو کوریج کے دوران اپنا گھر تباہ ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں ادھر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپا مارا، شیخ عکرمہ صابری مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور فلسطینی علما اور مبلغین کی انجمن کے بانی و صدر بھی ہیں۔

    غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل کا عرب میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ 52 روز سے بجلی سے محروم ہے، جنوبی غزہ کے عمارتوں اور کیمبس میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 7 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نےغزہ کے اسپتال کے دورے کے بعد اظہارِ خیال میں کہا کہ جنوبی غزہ میں النصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں، گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں، مریضوں کا علاج زمین پر کیا جارہا ہے۔

  • ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    بھارت میں ریاستی انتخابات میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی تین مرکزی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی جبکہ کانگریس صرف تلنگانہ میں جیت حاصل کرسکی۔

    باغی ٹی وی : مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کرتے ہوئے مخالف کو آسانی سے شکست دی بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں 164 نشستوں حاصل کرکے آگے ہے، بی جے پی کو حکومت بنانے کیلئے 116 سیٹیں درکار ہیں، اسی طرح کانگریس اسمبلی میں 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    بی جے پی چھتیس گڑھ میں 55 سیٹیں حاصل کرچکی ہے جو کہ 90 کے اکثریتی نمبر سے صرف چند ہی قدم دور ہے کانگریس، اس دوران 35 سیٹوں حاصل کرچکی ہے راجستھان میں بی جے پی اس وقت 115 سیٹوں سے آگے ہے جبکہ کانگریس 69 سیٹوں پر ہے جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں کانگریس فی الحال 64 سیٹیں حاصل کرپائی ہے جبکہ بھارتیہ راشٹریہ سمیتھی (بی آر ایس) 40 سیٹوں پر ہے۔

    ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    واضح رہے کہ 2018 میں کانگریس نے تین اہم ریاستی انتخابات راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کامیابی حاصل کی، تین ماہ بعد بی جے پی نے قومی سطح پر اور تینوں ریاستوں میں عام انتخابات میں کلین سویپ کیا، ہندوستان میں ریاستی انتخابات ریاست یا علاقے کے مخصوص خدشات پر لڑے جاتے ہیں، جبکہ عام انتخابات زیادہ قومی سطح کے مسائل کے گرد گھومتے ہیں بی جے پی ریاستی انتخابات میں اکثر ناکام رہی ہے،آج تک، پارٹی نے بھارت کی 28 ریاستوں میں سے 15 پر حکومت کی ہے اور ان میں سے صرف نو پر براہ راست حکومت ہےباقی چھوٹے شراکت دار ساتھ اتحاد میں تھے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • پاکستان ترقی پذیر ممالک کے  موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    دبئی: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

    باغی ٹی وی : منعقدہ کوپ28 کے موقع پر اسکائی نیوز عربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے لئے موسمیاتی مالیات کے لئے ایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے اور ترقی یافتہ دنیا کی طرف سے اقوام متحدہ کے کوپ 28 اجلاس میں پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کیا گیا ہے پاکستان کی طرف سے کوپ27 میں لاس اور ڈیمیج فنڈ کی وکالت کی گئی تھی تاکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی چیلنجز کے سامنا کرنے میں تخفیف اور خطرے میں کمی کے حوالے سے مدد کی جا سکے۔

    نگران وزیر اعظم نے کہا کہ لاس اور ڈیمیج فنڈ کی آپریشنلائزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اخلاقی طور پر اس دلیل کو قبول کیا ہے کہ دنیا کو ان ممالک کی حمایت کرنی چاہیے جو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے-

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے 30 بلین امریکی ڈالر کے اعلان کے ذریعے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال کرنا درست سمت میں ایک اچھا آغاز ہے ابتدائی طور پر فنڈنگ ​​کو عالمی بینک جیسی کثیر الجہتی تنظیم کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ عملدرآمد کے عمل کا تیزی سے آغازکیا جا سکے۔

    اسرائیلی اور غزہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم پر سب سے پیش پیش رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف بے پناہ تشدد اور جارحیت کو فوری بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا ہےپائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7 دہائیوں سے حل طلب ہے کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    دبئی: بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، مختلف بین الاقوامی عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے موجود ملکی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بنگلہ دیش کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ پلیٹ فارم (BCDP) کا آغاز کر رہا ہے۔

    اس تعاون میں ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن، کثیر الجہتی سرمایہ کاری کی گارنٹی ایجنسی، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی ”Française de Développement“، یورپی یونین، گرین کلائمیٹ فنڈ، حکومت جنوبی کوریا، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، اور برطانیہ شامل ہیں، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے کی قوم کی صلاحیت کو بڑھانا ہے یہ باہمی تعاون کمزور کمیونٹیز پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

    سفارتی سطح پر پاکستان کی بھارت کو بڑی شکست

    ایشیا میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی شراکت داری جنوری 2023 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی طرف سےمنظور شدہ 1.4 بلین ڈالر کی لچک اور پائیداری کی سہولت کےساتھ،عالمی بینک کیجانب سے گرین اینڈ کلائمیٹ ریسیلینٹ ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری موسمیاتی منصوبے کی فنڈنگ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

    اس شراکت داری کا مقصد ماحولیاتی تحفظات کو عوامی منصوبہ بندی، مقامی ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینا، تباہی کے خطرات کی مالی امداد کو بڑھانا، فضائی آلودگی سے نمٹنا اور گرین بانڈ کی مالی اعانت کے لیے پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہےاس تعاون کے کلیدی اجزاء میں بنگلہ دیش کے موسمیاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے بی سی ڈی پی کی تشکیل، پراجیکٹ کی تیاری کیلئے فیسلیٹی کا قیام، اور پالیسی پر مبنی قرض دینا شامل ہیں۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: شاداب خان انجری کا شکار

    عالمی بینک سبز اور موسمیاتی لچکدار ترقی کے لیے 1 بلین ڈالر کا تعاون کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے بنگلہ دیش کو قابل تجدید توانائی کی سہولت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں ادارے 381.5 ملین ڈالر کے قرض کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    دیگر تنظیمیں جیسے Agence Française de Développement، JICA، UNDP، اور نجی شعبے بھی اس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اس تعاون کو مالیاتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، موسمیاتی خطرے کے انتظام کو بڑھانے اور بنگلہ دیش کی طرف اضافی موسمیاتی مالیات کو راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے-

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی …

    بین وزارتی اور انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن۔ بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں سے ایک ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی موافقت اور آفات کے خطرے سے متعلق تیاری میں پیش پیش رہا ہے۔ حکومتی تال میل کو بڑھانے کے لیے، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (MoEFCC) نے وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک بین وزارتی پلیٹ فارم کے طور پر قومی کمیٹی برائے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی (NCECC) تشکیل دی ہے۔ این سی ای سی سی قومی آب و ہوا کی حکمت عملیوں کے نفاذ کی پیشرفت کی نگرانی کرے گا، حکمت عملیوں پر عمل درآمد کے لیے مسائل کے بارے میں رہنمائی اور حل فراہم کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی کانفرنسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد پر غور کرے گا۔

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ …

  • زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    علینا عترت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف ادیبہ اور شاعرہ علینا عترت صاحبہ کا تعلق اترپردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ سے انہوں نے انگریزی ادب اور تاریخ میں ایم اے کیا ہے اور بی ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے وہ اس وقت درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” سورج تم جائو” 2014 میں شائع ہوا جسے اردو اکادمی دہلی اور اردو اکادمی بہار کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا ہے۔ ان کی پہلی تخلیق عالمی سہارا میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی تخلیقات ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔علینا عترت مینا نقوی اور نصرت مہدی کی بہن ہیں اور وہ اس وقت دہلی میں مقیم ہیں۔

    علینا عترت کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھی
    تم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی کھبر سب سے چھپا لی میں نے

    تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملے
    ایسے سناٹوں سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے

    جب بھی فرصت ملی ہنگامۂ دنیا سے مجھے
    میری تنہائی کو بس تیرا پتہ یاد آیا

    ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
    ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

    ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
    یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

    جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی
    منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

    ہجر کی رات اور پورا چاند
    کس قدر ہے یہ اہتمام غلط

    اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی
    مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

    ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں
    ان چراغوں سے جل گئے شاید

    مرے وجود میں شامل تھا وہ ہوا کی طرح
    سو ہر طرف تھا مرے بس مری نظر میں نہ تھا

    بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
    خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے

    پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب
    میں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے

    جانے کب کیسے گرفتار محبت ہوئے ہم
    جانے کب ڈھل گئے اقرار میں انکار کے رنگ

    بن آواز پکاریں ہر دم نام ترا
    شاید ہم بھی پاگل ہونے والے ہیں

    بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں صدا
    گردش وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی

    عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی
    رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

    شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
    بس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا

    دل کے گلشن میں ترے پیار کی خوشبو پا کر
    رنگ رخسار پہ پھولوں سے کھلا کرتے ہیں

    اب بھی اکثر شب تنہائی میں کچھ تحریریں
    چاند کے عکس سے ہو جاتی ہیں روشن روشن

    کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم
    وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

    عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
    کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کے تھے حجاب میں ہم

    وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیے
    اسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود

    کوئی ملا ہی نہیں جس سے حال دل کہتے
    ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

    موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں
    ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

    بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی
    سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

    اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے
    یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

    گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس
    بیٹھے ہوئے ہے ایک کنارے ہمارے خواب

    خواہشیں خواب دکھاتی ہیں ترے ملنے کا
    خواب سے کہہ دے کہ تعبیر کی صورت آئے

    کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی
    جوں چمک اٹھتی ہے کوئی برق تلواروں کے بیچ

    کوزہ گر نے جب میری مٹی سے کی تخلیق نو
    ہو گئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی ہوا

    ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانند
    فکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی