Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    غزہ کے جبالیہ کیمپ پر تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے، لبنان کی جانب سے اسرائیلی فوج پر اینٹی ٹینک میزائل سے حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے، دوسری جانب اسرئیلی فضائیہ نے الجبالیہ پناہ گزین کیپ کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔

    فوٹو الجزیرہ
    الجزیرہ کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں واقع جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں متعدد شہادتوں کی اطلاعات ہیں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک مکمل رہائشی بلاک منہدم ہوا ہے جس کے اندر بہت سے لوگ موجود تھے، تباہی ناقابل بیان ہے۔

    فوٹو الجزیرہ

    فلسطینی صحافیوں اور ٹی وی کریو کی جانب سے شیئر کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ جبالیہ کیمپ کے رہائشی اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے ملبے کے نیچے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکال رہے ہیں لوگوں کو کئی لاشیں ملی ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے،کچھ شدید زخمیوں کو اسٹریچر حتیٰ کہ گدوں پر بھی لے جایا جا رہا ہے، جبالیہ کیمپ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ہم ملبے کے نیچے سے آوازیں سن سکتے ہیں‘۔

    فوٹو الجزیرہ

    واضح رہے کہ جبالیہ غزہ کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔ غزہ کے شمال میں واقع یہ گنجان آباد کیمپ 1.4 مربع کلومیٹر (0.5 مربع میل) کے رقبے پر محیط ہے اقوام متحدہ کے مطابق کیمپ میں تقریباً 116,000 رجسٹرڈ مہاجرین موجود ہیں اسے دو دنوں میں دو بار اسرائیلی فضائی حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    فوٹو الجزیرہ
    خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں اور ان کا دائرہ محفوظ قرار دیے جانے والے جنوبی حصوں میں بھی پھیلا دیا گیا ہے 58 روز سے جاری ان کارروائیوں کے دوران اب تک 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں اسرائیلی جارحیت سے ہزاروں گھر بھی تباہ ہوئے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ خطے کے قدیم ثقافتی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہےیہ خطہ قدیم زمانے سے مصر، یونان، روم، بازنطینی اور مسلم ریاستوں کے زیرتحت تجارت اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔

    Heritage for Peace نامی ادارے کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 100 سے زائد ثقافتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ تباہ ہوچکے ہیں ان میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری بھی شامل ہے جبکہ دنیا کا تیسرا قدیم ترین چرچ آف Saint Porphyrius، 2 ہزار سال قدیم رومی قبرستان، رفح میوزیم اور دیگر قدیم ثقافتی مقامات اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے نوادرات، تاریخی مقامات، میوزیمز اور لائبریریوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔

    Heritage for Peace کے صدر Isber Sabrine نے کہا کہ اگر غزہ کی ثقافت کا خاتمہ ہوگیا تو یہ غزہ کے رہائشیوں کی شناخت کے لیے بہت بڑا نقصان ہوگا ہمارا ادارہ غزہ کے ثقافتی مراکز کی حالت کے بارے میں سروے اور مانیٹرنگ جاری رکھے گا غزہ کے عوام کو اپنی تاریخ بیان کرنے والی ثقافت کو بچانے کا حق حاصل ہے، جو اس سرزمین کے لیے بہت اہم ہے۔

    1954 کے ہیگ معاہدے کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیل نے جنگ کے دوران ان مقامات کو محفوظ رکھنے پر اتفاق کیا تھا مگر ماضی میں بھی اسرائیلی حملوں میں ان مقامات کو نقصان پہنچا تھا مگر اب جو تباہی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ثقافتی تاریخ کے نقصان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کریں۔

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد سے اسرائیلی کی غزہ اور دیگر قابض علاقوں پر بدترین بمباری جاری ہے،حماس کا کہنا ہےکہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے، فلسطینی تنظیم کی جانب سے اسرائیلی فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں

    اسرائیل کی جانب سے غزہ کے گنجان آباد جنوبی حصوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جہاں شمالی غزہ سے جبری انخلا کے بعد فلسطینیوں کی اکثریت پناہ لیے ہوئے ہیں، صیہونی فورسز کی جانب سے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےاس کے علاوہ اسرائیلی فورسز کی خان یونس کے علاقے میں بھی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ ترین کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے ایک گھر میں چھاپہ مار کر 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا-

    خان یونس میں قطری تعاون سے تعمیر "حمد سٹی ” کی تباہی کے ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے اور ترک ٹی وی کی صحافی ربا خالد لائیو کوریج کے دوران اپنا گھر تباہ ہوتے دیکھ کر آبدیدہ ہو گئیں ادھر اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ کے شیخ عکرمہ کے گھر پر بھی چھاپا مارا، شیخ عکرمہ صابری مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور فلسطینی علما اور مبلغین کی انجمن کے بانی و صدر بھی ہیں۔

    غزہ میں سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل کا عرب میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 700 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہو چکے ہیں جبکہ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 16 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق غزہ 52 روز سے بجلی سے محروم ہے، جنوبی غزہ کے عمارتوں اور کیمبس میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جنوبی غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 7 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نےغزہ کے اسپتال کے دورے کے بعد اظہارِ خیال میں کہا کہ جنوبی غزہ میں النصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں، گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں، مریضوں کا علاج زمین پر کیا جارہا ہے۔

  • ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    ریاستی انتخابات:بی جے پی تین مرکزی ریاستوں جبکہ کانگریس ایک ریاست میں کامیاب

    بھارت میں ریاستی انتخابات میں انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کی تین مرکزی ریاستوں میں کامیابی حاصل کر لی جبکہ کانگریس صرف تلنگانہ میں جیت حاصل کرسکی۔

    باغی ٹی وی : مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کرتے ہوئے مخالف کو آسانی سے شکست دی بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال 230 رکنی ریاستی اسمبلی میں 164 نشستوں حاصل کرکے آگے ہے، بی جے پی کو حکومت بنانے کیلئے 116 سیٹیں درکار ہیں، اسی طرح کانگریس اسمبلی میں 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    بی جے پی چھتیس گڑھ میں 55 سیٹیں حاصل کرچکی ہے جو کہ 90 کے اکثریتی نمبر سے صرف چند ہی قدم دور ہے کانگریس، اس دوران 35 سیٹوں حاصل کرچکی ہے راجستھان میں بی جے پی اس وقت 115 سیٹوں سے آگے ہے جبکہ کانگریس 69 سیٹوں پر ہے جبکہ جنوبی ریاست تلنگانہ میں کانگریس فی الحال 64 سیٹیں حاصل کرپائی ہے جبکہ بھارتیہ راشٹریہ سمیتھی (بی آر ایس) 40 سیٹوں پر ہے۔

    ادارہِ امن و تعلیم کے زیر اہتمام 4 روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    واضح رہے کہ 2018 میں کانگریس نے تین اہم ریاستی انتخابات راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کامیابی حاصل کی، تین ماہ بعد بی جے پی نے قومی سطح پر اور تینوں ریاستوں میں عام انتخابات میں کلین سویپ کیا، ہندوستان میں ریاستی انتخابات ریاست یا علاقے کے مخصوص خدشات پر لڑے جاتے ہیں، جبکہ عام انتخابات زیادہ قومی سطح کے مسائل کے گرد گھومتے ہیں بی جے پی ریاستی انتخابات میں اکثر ناکام رہی ہے،آج تک، پارٹی نے بھارت کی 28 ریاستوں میں سے 15 پر حکومت کی ہے اور ان میں سے صرف نو پر براہ راست حکومت ہےباقی چھوٹے شراکت دار ساتھ اتحاد میں تھے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • پاکستان ترقی پذیر ممالک کے  موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران وزیراعظم

    دبئی: نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ پائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

    باغی ٹی وی : منعقدہ کوپ28 کے موقع پر اسکائی نیوز عربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے لئے موسمیاتی مالیات کے لئے ایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے اور ترقی یافتہ دنیا کی طرف سے اقوام متحدہ کے کوپ 28 اجلاس میں پاکستان کے اس کردار کو تسلیم کیا گیا ہے پاکستان کی طرف سے کوپ27 میں لاس اور ڈیمیج فنڈ کی وکالت کی گئی تھی تاکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی چیلنجز کے سامنا کرنے میں تخفیف اور خطرے میں کمی کے حوالے سے مدد کی جا سکے۔

    نگران وزیر اعظم نے کہا کہ لاس اور ڈیمیج فنڈ کی آپریشنلائزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اخلاقی طور پر اس دلیل کو قبول کیا ہے کہ دنیا کو ان ممالک کی حمایت کرنی چاہیے جو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے-

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے 30 بلین امریکی ڈالر کے اعلان کے ذریعے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال کرنا درست سمت میں ایک اچھا آغاز ہے ابتدائی طور پر فنڈنگ ​​کو عالمی بینک جیسی کثیر الجہتی تنظیم کے ذریعے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ عملدرآمد کے عمل کا تیزی سے آغازکیا جا سکے۔

    اسرائیلی اور غزہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم پر سب سے پیش پیش رہا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف بے پناہ تشدد اور جارحیت کو فوری بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی راہداری کے قیام کا مطالبہ کیا ہےپائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7 دہائیوں سے حل طلب ہے کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کے لئے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے،نگران وزیر اعظم

  • بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا

    دبئی: بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا ہے-

    باغی ٹی وی: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش، مختلف بین الاقوامی عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے موجود ملکی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے بنگلہ دیش کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ پلیٹ فارم (BCDP) کا آغاز کر رہا ہے۔

    اس تعاون میں ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن، کثیر الجہتی سرمایہ کاری کی گارنٹی ایجنسی، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، فرانسیسی ترقیاتی ایجنسی ”Française de Développement“، یورپی یونین، گرین کلائمیٹ فنڈ، حکومت جنوبی کوریا، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی، اور برطانیہ شامل ہیں، جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور ان کے مطابق ڈھالنے کی قوم کی صلاحیت کو بڑھانا ہے یہ باہمی تعاون کمزور کمیونٹیز پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

    سفارتی سطح پر پاکستان کی بھارت کو بڑی شکست

    ایشیا میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی شراکت داری جنوری 2023 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی طرف سےمنظور شدہ 1.4 بلین ڈالر کی لچک اور پائیداری کی سہولت کےساتھ،عالمی بینک کیجانب سے گرین اینڈ کلائمیٹ ریسیلینٹ ڈویلپمنٹ پالیسی کریڈٹس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری موسمیاتی منصوبے کی فنڈنگ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

    اس شراکت داری کا مقصد ماحولیاتی تحفظات کو عوامی منصوبہ بندی، مقامی ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دینا، تباہی کے خطرات کی مالی امداد کو بڑھانا، فضائی آلودگی سے نمٹنا اور گرین بانڈ کی مالی اعانت کے لیے پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہےاس تعاون کے کلیدی اجزاء میں بنگلہ دیش کے موسمیاتی ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے بی سی ڈی پی کی تشکیل، پراجیکٹ کی تیاری کیلئے فیسلیٹی کا قیام، اور پالیسی پر مبنی قرض دینا شامل ہیں۔

    نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ: شاداب خان انجری کا شکار

    عالمی بینک سبز اور موسمیاتی لچکدار ترقی کے لیے 1 بلین ڈالر کا تعاون کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین اور یورپی انویسٹمنٹ بینک نے بنگلہ دیش کو قابل تجدید توانائی کی سہولت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں ادارے 381.5 ملین ڈالر کے قرض کے ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

    دیگر تنظیمیں جیسے Agence Française de Développement، JICA، UNDP، اور نجی شعبے بھی اس کوشش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اس تعاون کو مالیاتی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، موسمیاتی خطرے کے انتظام کو بڑھانے اور بنگلہ دیش کی طرف اضافی موسمیاتی مالیات کو راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے-

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی …

    بین وزارتی اور انٹر ایجنسی کوآرڈینیشن۔ بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں سے ایک ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی موافقت اور آفات کے خطرے سے متعلق تیاری میں پیش پیش رہا ہے۔ حکومتی تال میل کو بڑھانے کے لیے، ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت (MoEFCC) نے وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک بین وزارتی پلیٹ فارم کے طور پر قومی کمیٹی برائے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی (NCECC) تشکیل دی ہے۔ این سی ای سی سی قومی آب و ہوا کی حکمت عملیوں کے نفاذ کی پیشرفت کی نگرانی کرے گا، حکمت عملیوں پر عمل درآمد کے لیے مسائل کے بارے میں رہنمائی اور حل فراہم کرے گا اور ماحولیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی کانفرنسوں میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد پر غور کرے گا۔

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ …

  • زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے ،اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپالی میں نے

    علینا عترت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی معروف ادیبہ اور شاعرہ علینا عترت صاحبہ کا تعلق اترپردیش کے ضلع بجنور کے نگینہ سے انہوں نے انگریزی ادب اور تاریخ میں ایم اے کیا ہے اور بی ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے وہ اس وقت درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ” سورج تم جائو” 2014 میں شائع ہوا جسے اردو اکادمی دہلی اور اردو اکادمی بہار کی جانب سے انعامات سے نوازا گیا ہے۔ ان کی پہلی تخلیق عالمی سہارا میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی تخلیقات ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہوچکی ہیں۔علینا عترت مینا نقوی اور نصرت مہدی کی بہن ہیں اور وہ اس وقت دہلی میں مقیم ہیں۔

    علینا عترت کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹھیک ہے جاؤ تعلق نہ رکھیں گے ہم بھی
    تم بھی وعدہ کرو اب یاد نہیں آؤ گے

    زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
    اپنے ہونے کی کھبر سب سے چھپا لی میں نے

    تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملے
    ایسے سناٹوں سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے

    جب بھی فرصت ملی ہنگامۂ دنیا سے مجھے
    میری تنہائی کو بس تیرا پتہ یاد آیا

    ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹی کا
    ابھی کمہار کی نیت بدل بھی سکتی ہے

    ہر ایک سجدے میں دل کو ترا خیال آیا
    یہ اک گناہ عبادت میں بار بار ہوا

    جن کے مضبوط ارادے بنے پہچان ان کی
    منزلیں آپ ہی ہو جاتی ہیں آسان ان کی

    ہجر کی رات اور پورا چاند
    کس قدر ہے یہ اہتمام غلط

    اداسی شام تنہائی کسک یادوں کی بے چینی
    مجھے سب سونپ کر سورج اتر جاتا ہے پانی میں

    ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں
    ان چراغوں سے جل گئے شاید

    مرے وجود میں شامل تھا وہ ہوا کی طرح
    سو ہر طرف تھا مرے بس مری نظر میں نہ تھا

    بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
    خاک جب اوڑھ لی اور خاک بچھا لی میں نے

    پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانب
    میں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے

    جانے کب کیسے گرفتار محبت ہوئے ہم
    جانے کب ڈھل گئے اقرار میں انکار کے رنگ

    بن آواز پکاریں ہر دم نام ترا
    شاید ہم بھی پاگل ہونے والے ہیں

    بند رہتے ہیں جو الفاظ کتابوں میں صدا
    گردش وقت مٹا دیتی ہے پہچان ان کی

    عجب سی کشمکش تمام عمر ساتھ ساتھ تھی
    رکھا جو روح کا بھرم تو جسم میرا مر گیا

    شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئے
    بس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا

    دل کے گلشن میں ترے پیار کی خوشبو پا کر
    رنگ رخسار پہ پھولوں سے کھلا کرتے ہیں

    اب بھی اکثر شب تنہائی میں کچھ تحریریں
    چاند کے عکس سے ہو جاتی ہیں روشن روشن

    کسی کے واسطے تصویر انتظار تھے ہم
    وہ آ گیا پہ کہاں ختم انتظار ہوا

    عیاں تھے جذبۂ دل اور بیاں تھے سارے خیال
    کوئی بھی پردہ نہ تھا جب کے تھے حجاب میں ہم

    وہ اک چراغ جو جلتا ہے روشنی کے لیے
    اسی کے زیر تحفظ ہے تیرگی کا وجود

    کوئی ملا ہی نہیں جس سے حال دل کہتے
    ملا تو رہ گئے لفظوں کے انتخاب میں ہم

    موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں
    ہر حسیں منظر بہت جلدی بدل جاتا ہے کیوں

    بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی
    سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی

    اندھیری شب کا یہ خواب منظر مجھے اجالوں سے بھر رہا ہے
    یہ رات اتنی طویل کر دے کہ تا قیامت سحر نہ آئے

    گہرے سمندروں میں اترنے کی لے کے آس
    بیٹھے ہوئے ہے ایک کنارے ہمارے خواب

    خواہشیں خواب دکھاتی ہیں ترے ملنے کا
    خواب سے کہہ دے کہ تعبیر کی صورت آئے

    کچھ کڑے ٹکراؤ دے جاتی ہے اکثر روشنی
    جوں چمک اٹھتی ہے کوئی برق تلواروں کے بیچ

    کوزہ گر نے جب میری مٹی سے کی تخلیق نو
    ہو گئے خود جذب مجھ میں آگ اور پانی ہوا

    ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانند
    فکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی

  • ہماری زمین سے 13 گنا بڑا  سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،ویسے تو سیارے کا حجم حیران کن نہیں مگر بہت ٹھنڈے بونے ستارے کے گرد اس کا گھومنا سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے-

    پین اسٹیٹ کے ماہر فلکیات سوراتھ مہادیون نے کہا،کہ "ہم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو اپنے ستارے کے مقابلے بہت بڑا ہے، ایل ایچ ایس 3154 نامی یہ ستارہ زمین سے تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر ہمارے نسبتاً قریب ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)،یہ ستارہ کائنات کے چند سب سے چھوٹے اور ٹھنڈے ستاروں میں سے ایک ہے،سورج اس ستارے سے ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔

    اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات گومنڈور اسٹیفانسن نے کہا کہ یہ بمشکل ایک ستارہ ہے،اس میں ستارہ مانے جانے والے ہائیڈروجن فیوژن کو سپورٹ کرنے کے کٹ آف کے بالکل اوپر ایک ماس ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں، کیونکہ ہم نے کبھی اتنے بڑے سیارے کے اتنے چھوٹے ستارے کے گرد گھومنے کی توقع نہیں کی تھی ستارے گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے تشکیل پاتے ہیں اور یہ بادل اپنی کشش ثقل کے باعث ٹھنڈے اور ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بننے والے ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے گیس اور گرد کے ٹکڑے بتدریج سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مگر اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ سیارے بننے کے لیے اس مادے کی مقدار میزبان ستارے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کسی چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے، مگر ایسا سیارہ اب دریافت ہو چکا ہے تو اب ہمیں سیاروں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اس سیارے کو ایل ایچ ایس 3154 بی کا نام دیا گیا ہے اور اسے Habitable Zone Planet Finder کے ذریعے دریافت کیا گیا ، یہ سسٹم ایسے سیاروں کو دریافت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ٹھنڈے ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    ایسے سیاروں میں سیال پانی کی موجودگی کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے جسے زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے ایل ایچ ایس 3154 بی کا مشاہدہ کرنے سے دریافت ہوا کہ وہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب ہے اور وہ محض 3.7 دنوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سیارے کے ایک سال کا دورانیہ 4 دن سے بھی کم ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے اندرونی سیارے عطارد کے سورج سے بھی زیادہ قریب ہے۔
    science
    فوٹو:روئٹرز
    یہ سیارہ سائز اور ساخت میں نیپچون جیسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے چار گیسی سیاروں میں سب سے چھوٹا ہے۔ نیپچون کا قطر زمین سے تقریباً چار گنا ہے۔ سیارے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار نے محققین کو اس کے قطر کی پیمائش کرنے کے قابل نہیں بنایا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ یہ زمین سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

    محققین کے مطابق اگر کوئی ستارہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پھر سیارے کو خود کو گرم رکھنے کے لیے اس کے قریب آنا پڑتا ہے تاکہ سیال پانی برقرار رہ سکے ابھی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ آخر اتنے چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ کیسے بن گیا جس کے بعد ہم کائنات تشکیل پانے کے عمل کے بارے میں زیادہ سمجھ سکیں گے۔

  • غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈ روس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال ‘ناقابل تصور’ ہے۔
    سربراہ ڈبلیو ایچ او ٹیڈ روس ایڈہانوم نے صیہونی بمباری سے تباہ حال غزہ کے ایک اسپتال کا دورہ کیا جس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی غزہ میں انصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں اور اسپتال میں گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے اب تک فلسطین کے طبی مراکز پر 335 حملے کیے، غزہ میں 164 طبی مراکز اور مغربی کنارے میں 171 طبی مراکز کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ٹیڈ روس ایڈہانوم نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کا علاج زمین پر کیا جا رہا ہے، مریض درد سے چیخ رہے ہیں اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے کیلئے الفاظ تک نہیں مل رہے۔ دوسری جانب عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ غزہ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں پر ترک ڈاکٹروں اور طلبا نے غزہ سے اظہاریکجہتی کیلئے استنبول میں خاموشی مارچ کیا۔ ڈاکٹروں نے لال رنگ کے ہینڈ پرنٹ کے نشانات والے سفید کوٹ پہنے ہوئے تھے جن پر ‘ڈاکٹر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں’ کا پیغام بھی درج تھا۔ واضح رہے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ 2 روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور 7 اکتوبر سے جاری بمباری میں اب تک 15 ہزار 200 سے زائد افراز شہید اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • آج معذور افراد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    آج معذور افراد کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

    ہر سال 3 دسمبر کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو اقوام متحدہ نے معذور افراد کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ان کے حقوق، شمولیت اور بہبود کو فروغ دینے کے لیے نامزد کیا ہے، معذور افراد کے عالمی دن کا اعلان پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1992 میں کیا تھا۔ اس کا مقصد معذوری کے مسائل کی بہتر تفہیم کی حوصلہ افزائی کرنا اور معذور افراد کے وقار، حقوق اور بہبود کے لیے تعاون کو متحرک کرنا ہے۔
    IDPD کا مقصد معذور افراد کو درپیش منفرد چیلنجوں کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے، جس سے ایک زیادہ جامع اور سمجھنے والے معاشرے کو فروغ دیا جائے۔ یہ دن سماجی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں سمیت زندگی کے تمام پہلوؤں میں معذور افراد کی مکمل اور موثر شرکت کی وکالت کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ جو معذور افراد کی کامیابیوں اور شراکت کو منانے کا ایک موقع ہے، ان کی لچک، قابلیت اور متنوع صلاحیتوں کو تسلیم کرنا ہے، یہ دن معذور افراد کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے ایک کال ٹو ایکشن ہے، مساوی مواقع، رسائی اور عدم امتیاز پر زور دیتا ہے۔ ہر سالIDPD معذوری کے حقوق کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ایک مخصوص تھیم اپناتا ہے ، جن میں رسائی، روزگار، تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے موضوعات شامل ہیں، دنیا بھر میں حکومتیں، تنظیمیں اور کمیونٹیز مختلف سرگرمیوں کے ساتھ معذور افراد کا عالمی دن مناتی ہیں۔ ان میں سیمینار، ورکشاپس، آرٹ کی نمائشیں، ثقافتی تقریبات، اور مباحثے شامل ہو سکتے ہیں جن کا مقصد تفہیم اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔
    اس دن، لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ معذور افراد کو درپیش چیلنجوں پر غور کریں اور ایک زیادہ قابل رسائی اور جامع دنیا بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ چاہے وہ پالیسی میں تبدیلیوں کی وکالت کر رہا ہو، کمیونٹیز میں رسائی کو فروغ دینا ہو، یا محض ایک زیادہ جامع ذہنیت کو فروغ دینا ہو، ہر کوئی مثبت اثر ڈالنے میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ معذور افراد کا عالمی دن ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے کہ تنوع اور شمولیت ہر ایک کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ معذور افراد کی منفرد شراکت کو تسلیم کرنے اور ان کی قدر کرتے ہوئے، ہم اجتماعی طور پر ایک ایسی دنیا کی تعمیر کے لیے کام کر سکتے ہیں جہاں ہر کسی کو یکساں مواقع میسر ہوں اور وہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں مکمل طور پر حصہ لے سکیں۔

  • جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ سمتھ کس کے ساتھ ہے؟

    جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر غزہ میں عارضی جنگ بندی کے حوالے سے کی گئی یونیسیف کی ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوال کرنے والے لوگوں کے تمام شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے بتادوں کہ میں واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی حامی ہوں۔ برطانوی فلمساز نے لکھا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ میں نے یونیسیف کے لیے 20 سال سے زیادہ عرصے کام کیا ہے اور اس پورے عرصے کے دوران میں نے پوری دنیا میں بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے مہم کی حمایت کی ہے۔اُنہوں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔یاد رہے کہ اکتوبر میں جمائما گولڈ اسمتھ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی تھیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ تھا اور ایک اسرائیلی بچہ تھا اور تصویر میں دونوں ہی بچے جنگ سے متاثرہ نظر آ رہے تھے۔


    س سے قبل جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایک پر دو بچوں کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں سے ایک فلسطینی بچہ ہے اور ایک اسرائیلی بچہ ہے اور دونوں ہی جنگ سے متاثرہ ہیں۔اُنہوں نے یہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اس تنازع کے دونوں طرف کے معصوم انسانوں خصوصاً بچوں کے ساتھ ہوں۔
    واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک 6150 بچوں اور 4 ہزار خواتین سمیت کم از کم 15ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

  • غزہ: اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر حملوں کا آغاز

    غزہ: اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر حملوں کا آغاز

    اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر انسانیت سوز مظالم کا آغاز کر دیا ہیں۔ جبالیہ کیمپ اور خان یونس میں رہائشی عمارتوں پربمباری کر دی۔غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 60 فیصد مکانات اور رہائشی یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ دو روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیاہے۔7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 15 ہزار 207 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اب تک زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار 650 سے متجاوز ہو چکی ہے، اسرائیلی حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین کی ہے۔غزہ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنے انسانیت سوز مظالم پھر شروع کر دیے، جبالیہ کیمپ اور خان یونس میں دو رہائشی عمارتوں پراسرائیلی طیاروں کی بمباری سے 250 جبکہ دیگر واقعات میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔
    اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں محصور متاثرین کیلئے رفاح کراسنگ سے عالمی انسانی امداد کی ترسیل پر ایک روز کی بندش کے بعد عالمی دباؤ کے بعد امدادی سامان کے 50 ٹرک غزہ میں داخل ہو گئے۔دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں میں ڈیڈ لاک آ گیا ہے، اسرائیل نے قطر سے اپنے مذاکرات کار بھی واپس بلا لیے ہیں۔ اسرائیل نے الزام لگایا کہ حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور تمام یرغمالی خواتین اور بچوں کو رہا نہیں کیا۔اسرائیلی وزیردفاع نےحماس پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حماس کے پاس اب بھی 15 خواتین اور 2 بچے ہیں۔جواب میں حماس نے اسرائیلی الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تمام خواتین اور بچوں کو رہا کردیا گیا ہے۔