Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بائیڈن انتظامیہ کی یکطرفہ پالیسی سے سابق امریکی صدر اور  عہدیدار پریشان

    بائیڈن انتظامیہ کی یکطرفہ پالیسی سے سابق امریکی صدر اور عہدیدار پریشان

    بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل پالیسی سے متعلق کئی امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ کئی لوگوں نے حکومتی پالیسی سے متعلق اپنے تحفظات اور خدشات کا بھی اظہار کردیا۔ عرب نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں نے انہیں بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ میں اسرائیل پالیسی سے متعلق فیصلوں کے موقع پر عربوں کی زندگی کے مقابلے میں اسرائیلیوں کی زندگی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر کے عہدے پر براجمان جوبائیڈن امریکا کو ورلڈ وار تھری کی طرف لے کر جارہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی نااہلی کی وجہ سے امریکا خطرے میں جا رہا ہے۔ بائیڈن کواندازہ ہی نہیں کہ وہ ملک کوعالمی تنازع کی طرف دھکیل رہےہیں،
    انھوں نے کہا کہ بائیڈن کو خبر کرتا ہوں کہ اسرائیل اور یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل عالمی تنازع جنم دے گی۔فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے سے متعلق خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ کشیدگی کی روک تھام کیلئے اسرائیلی اور عرب قیادت سے ملاقاتیں کرکے جنگ بندی اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے اقدامات کریں گے۔
    رپورٹ کے مطابق اردن کی جانب سے چار فریقی اجلاس منسوخ کرنے کے بعد جو بائیڈن کے اسرائیلی وزیر اعظم سے یکطرفہ ملاقات کرکے واپسی کے فیصلے پر کئی امریکی عہدیدار اور سفارت کار حیرت میں مبتلا ہو گئے تھے۔امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں کا خیال ہے کہ مزید فلسطینیوں کی ہلاکتوں کیلئے اسرائیل کو فوجی آپریشن کیلئے گرین سگنل دیکر صدر جو بائیڈن معاملے کو مزید بدتر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
    عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے خاص عہدیداروں کو ایک انٹرنل ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ہدایت نامے میں انہیں اسرائیل اور فلسطین کے حالیہ تنازعے سے متعلق ’جنگ بندی‘، ’شدت میں کمی‘ اور ’تحمل کا مظاہرہ‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ عرب میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ امریکی عہدیداروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح بائیڈن انتظامیہ کے ایک ٹولے نے اسرائیل کیلئے اپنے غیر مشروط حمایت کا اعادہ اور بے گناہ فلسطینیوں کو نظر انداز کیا ہے اس سے کئی لوگ بے چینی کا شکار ہوکر اپنے عہدے چھوڑنے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق بائیڈن انتظامیہ میں کچھ عرب عہدیدار بھی تعینات ہیں انہوں نے بھی بائیڈن کی اسرائیل نواز پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ ہفنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیاکہ موجودہ امریکی سفارت کاروں کی جانب سے بیجھے گئے ایک خفیہ اختلافی خط (Dissent cable) میں اسرائیل سے متعلق یکطرفہ امریکی مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق انسانی بنیادوں پر جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کو امریکا کی جانب سے ویٹو کرنے کے بعد کچھ عہدیدار اور سفارت کاروں نے اپنے عہدے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار حالیہ اسرائیل فلسطین تنازع پر بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل نواز پالیسی سے اختلاف پر احتجاجاً اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ تازہ رپورٹ کے مطابق مزید عہدیدار بھی اسی قسم کی اقدام کی تیاری کر رہے ہیں۔

  • رفح کراسنگ کو فعال رکھنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے،جوبائیڈن

    رفح کراسنگ کو فعال رکھنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے،جوبائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ غزہ کے شہریوں کو خوراک، پانی اور طبی دیکھ بھال تک رسائی حاصل رہے گی، بغیر اسے حماس کی طرف سے ہٹایا جائے گا۔ انہوں نے انسانی امداد کے پہلے قافلے کے گزرنے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ "ہم رفح کراسنگ کو فعال رکھنے کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ غزہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری امداد کی مسلسل نقل و حرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔”
    اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے ہفتے کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کی درخواست کی جس نے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے، اور مطالبہ کیا کہ "اس خوفناک ڈراؤنے خواب کو ختم کرنے کے لیے کارروائی” کی جائے.
    قاہرہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جب تنازع اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گیا، گوٹیرس نے کہا کہ 2.4 ملین افراد پر مشتمل فلسطینی انکلیو "انسانی تباہی” سے گزر رہا ہے جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اس میٹنگ کو بتایا جس میں مصر، عراق، اردن اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ اٹلی، اسپین اور فلسطینیوں کے رہنما بھی شامل تھے، "ہم ایک ایسے خطے کے قلب میں مل رہے ہیں جو درد سے دوچار ہے اور ایک قدم آگے ہے۔” اس خونریزی کا آغاز 7 اکتوبر کو ہوا جب حماس نے غزہ کی سرحد پار کر کے اسرائیل پر حملہ کیا، جس نے 1948 میں ریاست کے قیام کے بعد سے اسرائیلی سرزمین پر سب سے مہلک حملے میں 1,400 سے زائد افراد کو ہلاک کیا، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

  • اسرائیل کا  مغربی کنارے کی مسجد کے نیچے عسکریت پسندوں کے کمپاؤنڈ پر حملہ

    اسرائیل کا مغربی کنارے کی مسجد کے نیچے عسکریت پسندوں کے کمپاؤنڈ پر حملہ

    اسرائیلی طیاروں نے اتوار کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک مسجد کے نیچے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا جس کے بارے میں فوج کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند حملوں کو منظم کرنے کے لیے استعمال کر رہے تھے، اور فلسطینی طبی ماہرین نے بتایا کہ کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ مغربی کنارے پر حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی کا دوسرا حملہ ہے، جہاں غزہ سے حماس کے بندوق برداروں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں ہلاکت خیز ہنگامہ آرائی کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔
    اسرائیل نے کہا کہ جنین پناہ گزین کیمپ میں الانصار مسجد کے نیچے کا کمپاؤنڈ حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے کارکنوں کا تھا جو حالیہ مہینوں میں حملوں کے ذمہ دار تھے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا، "حال ہی میں انٹیل موصول ہوا تھا جس نے اشارہ کیا تھا کہ دہشت گرد، بے اثر کر دیا گیا تھا، ایک آسنن دہشت گرد حملے کو منظم کر رہے تھے،” فوج نے ایک بیان میں کہا۔ فوج نے ایسی تصاویر جاری کیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے نیچے ایک بنکر کا داخلی راستہ دکھایا گیا ہے۔ اس نے ایک خاکہ بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اسلحہ کہاں رکھا ہوا ہے۔
    جنین پناہ گزین کیمپ، جو کہ فلسطینی عسکریت پسندوں کا گڑھ ہے، اس سال کے شروع میں ایک بڑی اسرائیلی فوجی کارروائی کا مرکز تھا۔ سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج میں فضائی حملے کا منظر دکھایا گیا ہے، جس میں مسجد کی بیرونی دیواروں میں سے ایک میں ایک بڑا سوراخ دکھایا گیا ہے، جو ملبے سے گھرا ہوا ہے۔ کئی درجن فلسطینی نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں، جب کہ پس منظر میں ایمبولینس کے سائرن بج رہے ہیں۔فلسطینی ہلال احمر ایمبولینس سروس نے بتایا کہ کم از کم ایک فلسطینی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے۔ اس نے پہلے کہا تھا کہ دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب کیمپ کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہیں اسرائیلی فوج کی طرف سے انتباہات موصول ہوئے ہیں کہ وہ کیمپ میں آنے والے دراندازی کی وجہ سے عسکریت پسندوں سے دور رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے کوئی تاریخ نہیں بتائی۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے ہنگامے کے بعد، جس نے غزہ پر دو ہفتوں کی مہلک اسرائیلی بمباری کی ہے، مغربی کنارے میں کم از کم 84 فلسطینی اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔ جمعرات کو اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے وسطی شہر تلکرم کے قریب ایک پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا اور فضائی حملہ کیا۔ فوج نے کہا کہ چھاپے کا مقصد مشتبہ افراد کو پکڑنا اور ہتھیاروں کو ضبط کرنا تھا۔ فلسطینیوں نے بتایا کہ کم از کم 12 ہلاک ہوئے۔

  • غزہ پر حملوں میں سب سے زیادہ شہید ہونے والے بچے اور خواتین ہیں

    غزہ پر حملوں میں سب سے زیادہ شہید ہونے والے بچے اور خواتین ہیں

    اسرائیل کے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے غزہ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 4 ہزار 385 ہوگئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں سے متاثرہ ہونے والے افراد میں 70 فیصد بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کے فلسطینی شہدا میں 1756 بچے اور 976 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی بمباری سے 13 ہزار 651 فلسطینی زخمی ہیں۔
    عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اب تک 21 صحافی بھی شہید ہوئے ہیں، ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو ہفتوں کے دوران سال 2014 کی 50 روزہ اسرائیل فلسطین جنگ میں ہونے والی اموات کے نسبت 84 فیصد زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔
    غزہ میں فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجےمیں بےگھر افراد کی تعداد 14 لاکھ سےبڑھ گئی ہے، غزہ میں بےگھر افراد کی نصف تعداد نے217 عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ ادھر مصر کی رفح کراسنگ سے امدادی ٹرک غزہ کے جنوبی علاقے میں پہنچ گئے، اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی خوراک نے 20 امدادی ٹرکوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہےکہ غزہ میں کھانا، پانی، بجلی اور ایندھن نہیں ہے، غزہ کی تشویش ناک صورتحال میں مزید فوری امداد درکار ہے۔
    فلسطینی وزارت صحت نے امداد میں ایندھن شامل نہ ہونے کو بیماروں اور زخمیوں کی جانوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور عالمی برادری اور مصر سے غزہ امداد میں ایندھن بھی شامل کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

  • بھارتی فوجی افسران کے موبائل ہیک کر کے حساس ڈیٹا پاکستان بھجوانے کے الزام میں شہری گرفتار

    بھارتی فوجی افسران کے موبائل ہیک کر کے حساس ڈیٹا پاکستان بھجوانے کے الزام میں شہری گرفتار

    بھارتی فوج بارے حساس معلومات پاکستان بھیجنے کے الزام میں ایک شہری کو بھارت سے گرفتار کیا گیا ہے

    انسداد دہشت گردی فورس گجرات نے کاروائی کی ہے اور حساس معلومات پاکستان بھیجنے کے الزام میں تاراپور سے شنکرمانیشوری نامی شخص کو حراست میں لیاہے، حکام کا کہنا ہے کہ شنکر پاکستانی تھا جس نے بعد میں بھارتی شہریت لی،شنکر نے بھارتی فوج کے بارے میں حساس معلومات پاکستان بھجوائی ہیں،حکام کے مطابق شنکر نے بھارتی فوج کے افسرا ن کے موبائل فون کو ہیک کیا اور اسکے لئے جدید طریقہ استعمال کیا گیا، بھارتی فوج کے افسران کے ملنے والے موبائل فونز سے ملنے والی معلومات کو شنکر نے پاکستان بھجوایا

    گجرات انسداد دہشت گردی فورس کے ایس پی اوم پرکاش جٹ کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی حساس معلومات پاکستان بھجوانے کے جرم میں ہم نے ایک ممکنہ پاکستانی ایجنٹ کو گرفتار کیا ہے،جو بھارتی سم کارڈ پر واٹس ایپ استعمال کر رہا تھا جس سے معلومات پاکستان بھجوائی گئی ہیں،شنکر بھارتی فوجی افسران کے موبائل فون سے معلومات لیتا تھا، جو سم وہ چلا تھا وہ محمد ثقلین کے نام پر ہے،

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنکر پاکستانی تھا، بھارت آیا اور یہاں بھارتی شہریت لے لی ، اسکے خاندان کے لوگ پاکستان میں ہیں، الزام عائد کیا گیا کہ وہ بھارت میں رہ کر جاسوسی کر رہا تھا،

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے

    لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے

  • بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے ہم جنس پرست جوڑے کی منگنی

    بھارتی سپریم کورٹ کے سامنے ہم جنس پرست جوڑے کی منگنی

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے انکار کیا تو ہم جنس پرست جوڑے نے بھارتی سپریم کورٹ کے باہر جا کر منگنی کر لی اور ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا دی

    بھارتی سپریم کورٹ نے چند روز قبل فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کو قرار نہیں دے سکتے اس ضمن میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنی چاہیے، ایسے جوڑوں کو تحفظ بھی فراہم کیا جائے،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک ہم جنس پرست جوڑے نے بھارتی سپریم کورٹ کے باہر جا کر منگنی کر لی اور ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا کر تصویر ٹویٹ کر دی

    پی ایچ ڈی طالب علم اننیا کوٹیا اور وکیل اتکرش نے سپریم کورٹ کے باہر منگنی کی، اننیا لندن سکول آف اکنامکس میں زیر تعلیم ہیں، دونوں نے سوشل میڈیا پر اپنی منگنی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے منگنی کر لی ہے،اننیا نے اپنی پوسٹ کے کیپشن پر لکھا کہ ہم اپنے حقوق کیلئے دوبارہ آئیں گے

    واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • حماس نے  دو امریکی یرغمالیوں کو  ریڈ کراس کے حوالے کردیا

    حماس نے دو امریکی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا

    مذاکرات سے آگاہ ایک سفارتی ذرائع کے مطابق حماس کی جانب سے دو امریکی یرغمالیوں، ایک ماں اور اس کی بیٹی کو رہا کیا جا رہا ہے جبکہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور وہ باہر جانے کے راستے پر ہیں۔ سی این این کو اسی ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو "انسانی بنیادوں” پر رہا کیا جا رہا ہے کیونکہ ماں کی صحت خراب ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ غزہ چھوڑ کر مصر جائیں گے یا اسرائیل اور یہ قطر اور حماس کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ ہے جو 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل سے تقریبا 200 افراد کے اغوا کے بعد شروع ہوا تھا۔


    جبکہ حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک بیان میں کہا کہ قطرکی کوششوں کے جواب میں القسام بریگیڈ نے دو امریکی شہریوں (ایک ماں اور اس کی بیٹی) کو انسانی وجوہات کی بنا پر رہا کیا اور امریکی عوام اور دنیا کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ بائیڈن اور ان کی فاشسٹ انتظامیہ کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سی این این نے ریڈ کراس سے رابطہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ یرغمالیوں کو یرغمال بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

    تاہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے عالمی رہنماؤں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان حالیہ دنوں میں امریکی صدر جو بائیڈن، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کے اسرائیل کا دورہ کرنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس نے رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے حملے میں 1400 سے زائد افراد کو ہلاک کیا تھا جن میں عام شہری اور فوجی بھی شامل تھے۔

    جبکہ یہ اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ میں عسکریت پسندوں کا سب سے مہلک حملہ تھا اور اس نے ملک کی سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس کی ایک حیرت انگیز ناکامی کا انکشاف کیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر مسلسل فضائی حملے کیے ہیں اور فلسطینی علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے ایک تباہ کن انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3785 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 1524 بچے، 1000 خواتین اور 120 بزرگ شامل ہیں۔ تقریبا 12,500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسرائیل، حماس تنازع؛ بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی
    صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا
    آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 368 رنز کا ریکارڈہدف دے دیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    خیال رہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حماس کے مہلک حملے پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جنگی جرم کے مترادف ہے۔ جمعے کے روز اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی اکثریت زندہ ہے۔ سی این این آزادانہ طور پر آئی ڈی ایف کے دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ حماس کی جانب سے متعدد غیر ملکی شہریوں کو بھی اغوا کیا گیا جن میں امریکہ، میکسیکو، برازیل اور تھائی لینڈ کے شہری بھی شامل ہیں۔ تمام یرغمالیوں کی حیثیت، مقام اور شناخت کے بارے میں معلومات نایاب ہیں۔ ان میں سے کچھ کی شناخت ان خاندانوں نے کی ہے جو آن لائن ویڈیوز سے انہیں پہچانتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی واپسی کے لیے بے چین درخواستیں اٹھرہی ہیں۔

  • اسرائیل،  حماس  تنازع؛  بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی

    اسرائیل، حماس تنازع؛ بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع پر بائیڈن انتظامیہ کے رویے پر ایجنسی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جبکہ سی این این نے لکھا ہے کہ جوش پال جو بیورو آف پولیٹیکل ملٹری افیئرز میں 11 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں، نے اپنے لنکڈ ان پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے "اسرائیل کو ہماری مسلسل مہلک امداد کے بارے میں پالیسی اختلاف کی وجہ سے” استعفیٰ دیا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ حماس کا اسرائیل پر حملہ محض ایک سازش نہیں تھی۔ یہ بدبختی کا ایک مجموعہ تھا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ایران سے منسلک گروہوں جیسے حزب اللہ یا خود ایران کی طرف سے ممکنہ اضافہ موجودہ المیے کا مزید مضحکہ خیز فائدہ ہوگا۔ لیکن میں اپنی روح کی گہرائیوں سے یقین رکھتا ہوں کہ اسرائیل جو ردعمل لے رہا ہے، اور اس کے ساتھ اس ردعمل کے لیے اور قبضے کی حیثیت کے لیے امریکی حمایت، اسرائیلی اور فلسطینی عوام دونوں کے لیے زیادہ سے زیادہ گہرے مصائب کا باعث بنے گی اور یہ طویل مدتی امریکی مفاد میں نہیں ہے۔

    پال کہتے ہیں کہ اس انتظامیہ کا ردعمل اور کانگریس کا بھی ردعمل ایک جذباتی رد عمل ہے جو تصدیقی تعصب، سیاسی سہولت، فکری دیوالیہ پن اور بیوروکریٹک جمود پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتہائی مایوس کن اور مکمل طور پر حیرت انگیز ہے۔ دہائیوں سے اسی نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ امن کے لئے سلامتی نہ تو سلامتی کی طرف لے جاتی ہے اور نہ ہی امن کی طرف لے جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک فریق کی اندھی حمایت دونوں اطراف کے عوام کے مفادات کے لیے طویل المیعاد طور پر تباہ کن ہے۔ پال کا کہنا تھا کہ وہ ایسے پالیسی فیصلوں کی حمایت نہیں کر سکتے جن میں ہتھیار بھیجنا بھی شامل ہو، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ ‘دور اندیشی، تباہ کن، غیر منصفانہ اور ان اقدار سے متصادم ہیں جن کی ہم کھلے عام حمایت کرتے ہیں۔

    جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان میٹ ملر کا کہنا تھا کہ ادارہ اس بات کی تعریف کرتا ہے کہ ملازمین کے عقائد مختلف ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر کا کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں، ہم توقع کرتے ہیں، ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ اس محکمے میں کام کرنے والے مختلف افراد کے مختلف سیاسی عقائد ہیں، ان کے ذاتی عقائد مختلف ہیں، امریکی پالیسی کے بارے میں مختلف عقائد ہیں’۔

    انہوں نے کہا کہ اس مخصوص تنقید کے حوالے سے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم ان کو اپنے دفاع کے لیے درکار سیکیورٹی معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا ان کا حق نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، میرے خیال میں کوئی بھی ملک ایسا کرے گا۔ لیکن صدر اور وزیر خارجہ نے اس بارے میں بہت واضح طور پر بات کی ہے کہ ہم اسرائیل سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے دفاع میں تمام بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے گا۔ امریکی حکام نے بارہا اسرائیل کی "ذمہ داری” کی حمایت کی ہے … وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے الفاظ میں حماس کے ان حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی کوشش کرنا کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو، لیکن "اسے ایسا اس طرح کرنے کی ضرورت ہے جو انسانی زندگی اور انسانی وقار کے لئے ہماری مشترکہ اقدار کی تصدیق کرے، شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لئے ہر ممکن احتیاط ی تدابیر اختیار کرنا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا
    آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 368 رنز کا ریکارڈہدف دے دیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کرتا ہے اور انتظامیہ اضافی سکیورٹی امداد کی درخواست کرنے کے لیے تیار ہے۔ نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پال نے کہا کہ امریکی ہتھیاروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ہاتھوں سے دور رکھنے کے لیے قانونی محافظ ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے جبکہ غزہ میں پانی، خوراک، طبی دیکھ بھال اور بجلی بند کر دی گئی ہے۔ جمعرات کے روز پال نے سی این این کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ فی الحال اس مسئلے پر بحث کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پال نے کہا، "ماضی میں، محکمہ خارجہ میں انسانی حقوق کے ذمہ داروں کی طرف سے مؤثر یا کم از کم آواز میں دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ ان میں سے کچھ معاملات کو دیکھیں اور جلد بازی نہ کریں،” انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس عام طور پر اضافی نگرانی پیش کرتی ہے، لیکن اس معاملے میں ، "کانگریس کی کوئی مخالفت نہیں تھی۔

  • ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے

    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے

    امریکی عالمی شہرت یافتہ ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطنیوں کے حق میں احتجاج کرنے پر ڈونرز نے فنڈنگ میں کٹوتی کی ہے، یونیورسٹی کے طلبا نے اسرائیل کو حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا

    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج کے دوران کہا تھا کہ حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل کا حملہ اسرائیل کا جرم ہے،حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا اور اب تک مسلسل بمباری جاری ہے.

    وکٹوریہ سیکریٹ کے سابق سی ای اولیزلی ویکسز نے این جی او ،ویکسز فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی کے مابین شراکت داری کے خاتمے کا اعلان کیا ہے وہیں اسرائیلی ارب پتی ایڈن اوفر جس کی دولت کا تخمینہ 20 ملین امریکی ڈالر ہے، نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو بورڈ سے استعفیٰ دے دیا ہے

    یونیورسٹی کے ساتھ شراکت کے خاتمے بارے ویکسز فاؤنڈیشن نے ایک خط میں تنقید کی اور کہا کہ ہارورڈ کی قیادت کی جانب سے معصوم شہریوں کے قتل کے سلسلے میں واضح اور غیر واضح اقدام اٹھانے کی افسوسناک ناکامی سے ہم حیران اور ناگوار ہیں”،خط میں طلبا تنظیموں کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا،

    حماس کے حملوں کے تین دن بعد ہی یونیورسٹی کے طلبا نے احتجاج کیا تھا ،یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہماری یونیورسٹی نفرت کو مسترد کرتی ہے،

    این بی سی کی رپورٹ کے مطابق معروف امریکی قانونی فرم ڈیوس پولک نے ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹیوں میں قانون کے تین طالب علموں سے اسرائیل،حماس تنازعہ کے بارے میں بات کرنے پر انکی ملازمت ختم کر دی ہے، قانونی فرم کی جانب سے کہا گیاکہ طلبا کے بیانات ہماری فرم کی اقدار کے خلاف ہیں، ای میل میں جن طلبا کی ملازمت منسوخ کی گئی انکے نام نہیں لکھے گئے،طلبا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آج کے واقعات خلاف میں نہیں ہو رہے، گزشتہ دو دہائیوں سے غزہ میں لاکھوں فلسطینی کھلی جیل میں رہ رہے ہیں.اسرائیل غزہ میں قتل عام کر رہاہے،اسرائیلی حکومت اس کی قصور وار ہے، ہم یونیورسٹی انتطامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کی جاری تباہی کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔

    حماس کے حملوں کے تناظر میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر اسرائیل کے فوجی ردعمل کی حمایت کی ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی،انہوں نے غزہ میں فلسطینی شہریوں کی مدد کے لیے 100 ملین ڈالر کے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا۔

    امریکہ کی تین بڑی یونیورسٹیوں ہارورڈ، سٹینفورڈ اور نیویارک یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسر بھی اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور حملوں پر پھٹ پڑے،طلباء اور پروفیسر کا کہنا ہے ہم یہودیوں کو ہمیشہ مظلوم قوم سمجھتے رہے لیکن ہم غلط تھے، ہارورڈ یونیورسٹی میں اسرائیل کے خلاف باقاعدہ مہم چل پڑی ہے،طلباء غزہ میں جاری صورتحال کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں،امریکہ میں تیزی سے اسرائیل مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کی وائس پریزیڈنٹ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے پولیس ڈپارٹمنٹ نے کیمپس میں سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طالب علموں کو اظہار رائے کی آزادی ہے، لیکن یہ آزادی طلبہ تنظیموں کے لیے نہیں ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • کینیڈا نے بھارت سے سفارتکاروں کو بلایا واپس

    کینیڈا نے بھارت سے سفارتکاروں کو بلایا واپس

    کینیڈا نے بھارت سے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا لیا ہے

    کینیڈا اور بھارت کے مابین خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کو لے کر تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں، کینیڈا نے بھارت سے اپنے 41 سفارتکاروں کو واپس بلا لیا ہے، کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا چولی نے سفارتکاروں کو واپس بلانے کے ساتھ کہا کہ کینیڈا جوابی کاروائی نہیں کرے گا،کینیڈین وزیرخارجہ میلان جولی کے مطابق بھارت نے 20 اکتوبر کو 21 کینیڈین سفارتکاروں اور ان کے اہلخانہ کا سفارتی استثنیٰ ختم ہونے سے متعلق باضابطہ طور پرآگاہ کر دیا ہے،

    دوسری جانب آسٹریلین انٹیلیجنس چیف نے پردیپ سنگھ نجر کے قتل میں را کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے، اے بی سی نیوز پر تہلکہ خیز انٹرویو نشر ہوا ہے،کینیڈا کے الزامات درست ثابت ہو گئے،تصدیق کے بعد بھارت کو قتل کا زمہ دار ٹھہرایا گیا،حال ہی میں فائیو آئیز کے نمائندگان نے کیلی فورنیا میں ملاقات میں بھی مائیک برجیس کی جانب سے کینیڈین موقف کی تائید کی تھی، نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق مودی سرکار سکھ رہنما کے قتل میں براہِ راست ملوث ہے،معروف بھارتی تجزیہ نگار اویناش پلی وال کی جانب سے بھی مائیک برجیس کے بیان کی تائید کی گئی

    کینڈین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ہم سفارتی استثنیٰ کی حکمرانی کو توڑنے دیں گے تو دنیا کا کوئی سفارتکار محفوظ نہیں رہے گا اسی وجہ سے ہم بھارت کی کارروائی کا کوئی جواب نہیں دینے جا رہے

    واضح رہے کہ ہردیب کا قتل رواں سال جون میں کیا گیا تھا،اس قتل کے بعد خالصتان کے حامیوں نے کہا تھا کہ اس قتل میں بھارت کا ہاتھ ہے،ماہ ستمبر میں کینیڈا کے وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں آ کر خالصتانی رہنما کے قتل کا الزام بھارت پر لگایا،

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    طیارہ حادثے میں بھارتی ارب پتی صنعتکار کی بیٹے سمیت موت ہو گئی،