Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    ندا فاضلی

    نام مقتداحسن فاضلی اور تخلص نداؔ ہے 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ندا فاضلی دعاڈبائیوی کے صاحبزادے ہیں بی اے تک تعلیم حاصل کی بمبئی میں فلمی نغمہ نگاری کرتے ہیں ان کا شعری مجموعہ ’’لفظوں کا پل‘‘ کے نام سے چھپ گیا ہے ان کی دیگر تصانیف کے نام یہ ہیں:

    ’’کھویا ہوا سا کچھ‘‘، ’’دیواروں کے باہر‘‘، ’’دیواروں کے بیچ‘‘(خود نوشت)، ’’شہر میرے ساتھ چل تو‘‘، ’’مورناچ‘‘(مجموعہ کلام)، ’’ملاقاتیں‘‘ (خاکے)۔ مہاراشٹر اردو اکادمی، بمبئی اور ساہتیہ پریشد ، بھوپال سے ان کی کتابوں پر انعامات ملے۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق، صفحہ: 335

    ندا فاضلی:
    ۔۔۔۔۔۔
    سورداس کی نظموں سے
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعر بننے کی ترغیب حاصل ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔
    ٍیہ اس وقت کی بات ہے جب تقسیم کے بعد ان کا پورا کنبہ ہندوستان سے پاکستان منتقل ہو گیا تھا لیکن ندا فاضلی نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ایک دن جب وہ ایک مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تبھی انہوں نے سورداس کی ایک نظم سنی جس میں رادھا اور کرشن کی علیحدگی کو بیان کیا گیا تھا۔ یہ نظم سن کر ندا فاضلی اتنے جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے اسی لمحے فیصلہ کیا کہ وہ بطور شاعر اپنی شناخت بنائیں گے۔

    12 اکتوبر 1938 میں دہلی میں پیدا ہونے والے ندا فاضلی کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ ان کے گھر میں اردو اور فارسی دیوان کے مجموعے بھرے پڑے تھے۔ ان کے والد بھی شعر و شاعری میں دلچسپی لیا کرتے تھے اور ان کا اپنا ایک شعری مجموعہ بھی تھا، جسے ندا فاضلی اکثر پڑھا کرتے تھے۔ ندا فاضلی نے گوالیار کالج سے گریجویٹ کی تعلیم مکمل کی اور اپنے خوابوں کو ایک نئی شکل دینے کے لیے وہ سال 1964 میں ممبئی چلے گئے۔ یہاں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس درمیان انہوں نے دھرم يگ اور بلٹز جیسے اخباروں میں لکھنا شروع کر دیا۔

    اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے ندا فاضلی تھوڑے ہی وقت میں لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی دوران اردو ادب کے کچھ ترقی پسند مصنفین اور شاعروں سے کافی متاثر ہوئے اور انہیں ندا فاضلی کے اندر ایک ابھرتا ہوا شاعر دکھائی دیا۔ انہوں نے ندا فاضلی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش کی اور انہیں مشاعروں میں آنے کی دعوت دی۔ ان دنوں اردو ادب کی تحریروں کی ایک حد مقرر تھی۔ آہستہ آہستہ فاضلی نے اردو ادب کی حدود کو توڑتے ہوئے اپنی تحریر کا ایک الگ انداز بنایا۔

    ندا فاضلی مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے جس سے انہیں پورے ملک میں شہرت حاصل ہوئی۔ ستر کی دہائی میں ممبئی میں اپنے بڑھتے اخراجات کو دیکھ کر انہوں نے فلموں کے لئے بھی گیت لکھنا شروع کر دیئے لیکن فلموں کی ناکامی کے بعد انہیں اپنا فلمی کیریئر ڈوبتا نظر آیا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ تقریباً دس برسوں تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کےبعد ندا فاضلی کی 1980 میں ریلیز فلم ’آپ تو ایسے نہ تھے‘ کے اپنے نغمہ ’تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے‘ کی کامیابی کے بعد بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

    اس فلم کی کامیابی کے بعد ندا فاضلی کو اچھی فلموں کے آفر ملنے شروع ہوگئے۔ ان فلموں میں ’بیوی او بیوی، آہستہ آہستہ اور نذرانہ پیار کا‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ موسیقار خیام کی موسیقی میں آشا بھونسلے اور بھوپندر سنگھ کی آواز میں فلم آہستہ آہستہ کا یہ نغمہ ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘ ناظرین کے درمیان آج بھی بہت مقبول ہے۔ سال 1983 ندافاضلی کے فلمی کیرئیر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ فلم رضیہ سلطان کی تخلیق کے دوران نغمہ نگار جاں نثار اختر کی اچانک موت کے بعد فلمساز کمال امروہی نے ندا فاضلی سے فلم کے باقی گیت لکھنے کی پیشکش کی۔ اس فلم کے بعد وہ بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں قائم ہو گئے۔

    شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ نے ندا فاضلی کے لئے متعدد نغمات گائے جن میں 1999 میں آئی فلم ’سرفروش‘ کا یہ نغمہ ’ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے‘ بھی شامل ہے۔ ان دونوں فنکاروں کی جوڑی بہترین مثال ہیں۔ ندا فاضلی کے شعری مجموعوں میں مور ناچ، ہم قدم اور سفر میں دھوپ ہوگی اہم ہیں۔ ادب اور فلمی دنیا کو اپنے نغموں سے مسحور کرنے والے ندا فاضلی آٹھ فروری 2016 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    ندا فاضلی: ’
    ۔۔۔۔۔۔
    دنیا جسے کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔
    جادو کا کھلونا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    جے پرکاش نارائن
    ۔۔۔۔۔۔
    ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ والد شاعر تھے لہذا بڑے بھائی کے قافیہ سے ملا کر ان کا نام رکھا گیا مقتدیٰ حسن۔ ان کا بچپن اور لڑکپن مدھیہ پردیش کے گوالیار میں گزرا اور انہوں نے تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔

    مقتدیٰ حسن بچپن ہی سے شاعری میں اپنے ہاتھ آزمانے لگے تھے اور ’ندا فاضلی‘ ان کا تخلص ہے۔ ندا کے معنی ہیں آواز اور فاضلی کشمیر کے علاقہ فاضلہ سے آیا ہے جہاں سے ان کے آبا و عزداد دہلی آئے تھے۔ ندا فاضلی کے اردو-ہندی ادب میں مکمل طور آنے کا سبب ایک حادثہ مانا جاتا ہے۔

    کہتے ہیں وہ کالج میں تھے تو اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھنے والی لڑکی سے انہوں نے یکطرفہ، انجانا اور انکہا رشتہ قائم کر لیا تھا۔ وہ آج کل کا دور نہیں تھا جہاں اظہار محبت بغیر شرم و حیا کر دیا جاتا ہے۔ تب تو اتنی بندشیں تھیں کہ احساسات کا اپھان سماجی بندھنوں کی دہلیز کو آسانی سے پار ہی نہیں کر پاتا تھا۔

    ایسی ہی کیفیت میں مقتدیٰ حسن کے دل کے آنگن میں ایک بیج پھوٹ کر پودا بن گیا۔ اچانک کالج کے نوٹس بورڈ پر ایک نوٹ چسپاں ہوا جس نے ندا فاضلی پر بم کا سا دھماکہ کر دیا۔ انگریزی میں نوٹس بورڈ پر جو لکھا تھا اس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے، ’کماری ٹنڈن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی ہے۔‘ اس خبر سے ندا اندر تک لرز گئے اور بہت غمزدہ ہوئے۔ لیکن اپنی تکلیف کے اظہار کے لئے ان کے پاس نہ تو الفاظ تھے اور نہ ہی سلیقہ۔ انہوں نے جو کوچھ محسوس کیا اسے لکھنے کی کوشش کی لیکن اپنے دکھ کو پوری طرح ظاہر کرنے میں ناکام رہے۔

    کافی جد و جہد کے بعد ایک بات انہیں سمجھ آئی کہ قصور الفاظ میں نہیں بلکہ لکھنے کے طریقہ میں ہے۔ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں اس میں ایسا کچھ بھی نہیں جو ان کی اندر کی تکلیف کو نمایاں کر سکے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ صبح کے وقت مندر کے پاس سے گزر رہے تھے تو کسی کو سورداس کے ایک بھجن گاتے سنا۔

    بس پھر کیا تھا؟ مقتدیٰ کو لگا کہ ان کے اندر کی تکلیف ظاہر کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے۔ اس کے بعد تو ان پر کبیر داس، تلسی داس، سور داس، بابا فرید وغیرہ صوفی دور کے شاعروں کو پڑھنے کا جنون سوار ہو گیا۔ وہ جتنا ان شاعروں کو پڑھتے گئے، اس نتیجہ پر پہنچتے گئے کہ ان شاعروں کی سیدھی سادی بغیر لاگ لپیٹ کی دو ٹوک زبان والی تخلیقات بہت موثر ہیں بس یہیں سے ندا فاضلی ایک عظیم شاعر بننے کی راہ پر قدم بڑھا چکے تھے۔
    بانگی دیکھیں:
    خدا خاموش ہے! تم آؤ تو تخلیق ہو دنیا
    میں اتنے سارے کاموں کو اکیلا کر نہیں سکتا
    سادہ زبان ہمیشہ کے لئے ندا فاضلی کا طرز بیاں بن گئی۔ ہندو مسلم قومی فسادات سے تنگ آکر ان کے والدین پاکستان میں جا بسے لیکن ندا ہندوستان سے نہیں گئے۔ روزگار کی تلاش میں وہ کئی شہروں میں بھٹکے لیکن کام کہاں ملتا! شاعری چلتی رہی، دراصل قسمت نے ندا کے لئے کچھ اور ہی لکھا ہوا تھا۔
    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے…
    ایسی نظموں تک ندا فاضلی یوں ہی نہیں پہنچے۔ بھوپال، الہ آباد، دہلی نہیں بلکہ ممبئی ہندی اور اردو ادب کا گڑھ تھا۔ سال 1964 میں ندا کام کی تلاش میں ممبئی پہنچ گئے۔ دھرم یُگ، بلِٹز، ساریکا جیتی میگزینوں کے لئے انہوں نے مضمون لکھنے شروع کئے، جلد ہی وہ شائع بھی ہونے لگے۔ ان کے آسان زبان والے اور موثر مضامین نے جلد ہی انہیں عزت اور شہرت دلا دی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے۔ یہ ندا ہی کہہ سکتے تھے:
    دیوتا ہے کوئی ہم میں نہ فرشتہ کوئی
    چھو کے مت دیکھنا، ہر رنگ اتر جاتا ہے
    ملنے جلنے کا سلیقہ ہے ضروری ورنہ
    آدمی چند ملاقاتوں میں مر جاتا ہے
    ندا کی زیر بحث کتابوں میں لفظوں کے پھول، مور ناچ، آنکھ اور خواب کے درمیان، کھویا ہوا سا کچھ، آنکھوں بھر آکاش اور سفر میں دھوپ تو ہوگی، دیواروں کے بیچ، دیواروں کے باہر، ملاقاتیں، تماشہ میرے آگے شامل ہیں۔
    انہوں نے کچھ عمدہ شاعروں پر لکھی کتابوں کو ادارت بھی کی جن میں بشیر بدر: نئی غزل کا نام، جانسار اختر: ایک جوان موت، داغ دہلوی: غزل کا ایک اسکول، محمد علی دہلوی: شبدوں کا چترکار، جگر مراد آبادی: محبتوں کا شاعر، کافی مشہور ہوئیں۔
    اپنی ادبی خدمات کے لئے وہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، قومی ایکتا ایوارڈ، مدھیہ پردیش حکومت کے میر تقی میر ایوارڈ، خسروں ایوارڈ، مہاراشٹر اردو اکادمی ایوارڈ، بہار اردو اکادمی ایوارڈ، اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ، ہندی اردو سنگم جیسے متعدد ایوارڈوں سے نوازے گئے۔ فلمی نغموں کے لئے بھی انہیں کئی مرتبہ ایوارڈوں سے نوازا گیا تھا۔
    بطور شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا سفر کتنا شاندار تھا یہ ان کے گیتوں، غزلوں اور شاعری کو سن کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں کمال امروہی جب فلم رضیہ سلطان بنا رہے تھے تو گیت لکھنے کی ذمہ داری جانسار اختر پر تھی، اچانک وہ انتقال کر گئے۔ جانسار اختر بھی گوالیار سے ہی تھے اور انہوں نے کمال امروہی سے صد فیصد درست اردو بولنے والے کے طور پر ندا کا ذکر کیا ہوا تھا۔
    کمال امروہی نے جان نسار اختر کی بات کی قدر کرتے ہوئے ندا فاضلی سے رابطہ قائم کیا اور انہیں فلم کے بقیہ دو نغمے تخلیق کرنے کو کہا … اور پھر ندا نے کیا نغمے تخلیق کئے۔ یہ گانے تھے، پہلا-
    ’تیرا ہجر میرا نصیب ہے
    تیرا غم ہی میری حیات ہے
    مجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں
    تو کہیں بھی ہو میرے ساتھ ہے…‘
    اور دوسرا گانا تھا
    ’آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے
    دل ہوا کس کا گرفتار خدا خیر کرے
    جانے یہ کون میری روح سے چھوکر گزرا
    ایک قیامت ہوئی بے دار خدا خیر کرے..‘
    اور اس طرح اتنے شاندار نغموں سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں کے لئے گیت تخلیق کئے۔ ایسی فلموں میں سرفروش، آہستہ آہستہ، اس رات کی صبح نہیں، سُر وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ہندو ہو یا مسلم دونوں طرف کی انتہا پسندی کے سخت مخالف تھے۔
    ندا فاضلی کے اس شعر پر تنازعہ بھی کھڑا کیا گیا
    گھر سے مسجد ہے بڑی دور چلو یوں کر لیں
    کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
    ندا فاضلی ایک مشاعرے میں شرکت کے لئے جب پاکستان گئے تو انہیں کچھ انتہاپسندوں نے گھیر لیا اور پوچھا کہ کیا آپ بچے کو اللہ سے بڑا سمجھتے ہیں؟ ندا کا جواب تھا کہ مجھے تو صرف اتنا پتہ ہے کہ مسجد انسان کے ہاتھ بناتے ہیں جبکہ بچے کو اللہ اپنے ہاتھوں سے بناتا ہے۔
    اردو ہندی کے اس عظیم شاعر نے 8 فروری 2016 کو اس دنیا کو الوداع کہا۔ کاش ’آدمی کی تلاش‘ عنوان والی ان کی نظم کی شروعات کچھ یوں ہوتی،
    ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید
    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو، یہیں کہیں ہوگا
    کاش اس طرح ڈھونڈنے پر وہ مل جاتے۔
    یہ مضمون آج تک پر ہندی میں شائع ہو چکا ہے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا
    کوئی جلدی میں کوئی دیر سے جانے والا

    بڑے بڑے غم کھڑے ہوئے تھے رستہ روکے راہوں میں
    چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے ہی ہم نے دل کو شاد کیا

    اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا
    وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

    ذہانتوں کو کہاں کرب سے فرار ملا
    جسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
    کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

    اس کا قصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ
    وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا

    اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
    یوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا خدا کرو

    پر شور راستوں سے گزرنا محال تھا
    ہٹ کر چلے تو آپ ہی اپنے سزا ہوئے

    جس سے بھی ملیں جھک کے ملیں ہنس کے ہوں رخصت
    اخلاق بھی اس شہر میں پیشہ نظر آئے

    دیکھا ہوا سا کچھ ہے تو سوچا ہوا سا کچھ
    ہر وقت میرے ساتھ ہے الجھا ہوا سا کچھ

    چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب
    سوچتے رہتے ہیں کس راہ گزر کے ہم ہیں

    کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
    کہاں ہے شہر میں اب کوئی زندگی کی طرف

    زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
    مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے

    فہرست مرنے والوں کی قاتل کے پاس ہے
    میں اپنے ہی مزار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں

    اس کو کھو دینے کا احساس تو کم باقی ہے
    جو ہوا وہ نہ ہوا ہوتا یہ غم باقی ہے

    ہنستے ہوئے چہروں سے ہے بازار کی زینت
    رونے کی یہاں ویسے بھی فرصت نہیں ملتی

    نہ جانے کون سا منظر نظر میں رہتا ہے
    تمام عمر مسافر سفر میں رہتا ہے

    دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
    زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

    یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
    مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

    تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
    جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے

  • محمد رضوان کی غزہ سے متعلق ٹوئٹ پر آئی سی سی کا ردعمل

    محمد رضوان کی غزہ سے متعلق ٹوئٹ پر آئی سی سی کا ردعمل

    دبئی: قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی جانب مین آف دی میچ ایوارڈ غزہ کے بہن بھائیوں کے نام کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بیان جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے آئی لینڈرز کے خلاف جیت کے بعد اپنا مین آف دی میچ کا ایواڈ غزہ میں اسرائیل کی جارحانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کے نام کیا تھا جس پر بھارتی میڈیا سے خوب شور مچایا اور آئی سی سی سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گُپتا نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا آئی سی سی اس کی اجازت دیتا ہے؟ کیا کرکٹرز کو آئی سی سی ایونٹس کے دوران سیاسی اور مذہبی بیانات دینے پر پابندی نہیں؟، مجھے یاد ہے کہ ورلڈکپ 2019 کے دوران مہندرا سنگھ دھونی کو اپنے دستانے سے آرمی کا نشان ہٹانے کو کہا گیا تھا۔

    ذکا اشرف آج بی سی سی آئی کی دعوت پر بھارت روانہ ہوں …

    جس پر پاکستانی مداحوں نےجواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ دھونی کی جانب سے فوجی دستانے پہننے کا عمل گراؤنڈ میں کیا گیا جبکہ رضوان سوشل میڈیا پر آزاد ہیں اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے،جہاں بھارتی صحافی کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی وہیں آئی سی سی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا-

    آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا کے خلاف پاکستان کی جیت کے بعد غزہ سے متعلق رضوان کی ٹوئٹ ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت اسرائیل کے فلسطین پر مظالم کی حمایت کرتی ہے جبکہ کئی بھارتی اداکاروں کو فلسطینیوں کی حمایت پر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

    ورلڈ کپ 2023: بھارت نے افغانستا ن کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی،

  • ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    لکھنو: آئی سی سی ورلڈکپ کے دسویں میچ میں آسٹریلیا کیخلاف جنوبی افریقا کی بیٹنگ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: لکھنو کے بھارت رتن شری اٹل بہاری واجپائی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ حریف کو جلد از جلد آؤٹ کریں اور ایونٹ میں پہلی کامیابی سمیٹیں، ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، ایلکس کیری کی جگہ جوش انگلس جبکہ کیمرون گرین کی جگہ مارکس اسٹوئنس کی پلئینگ الیون میں واپسی ہوئی ہے۔
    ں
    اس موقع پر جنوبی افریقی ٹیم کے کپتان ٹمبا باؤما نے کہا کہ ابتدا ہی سے کینگروز کیخلاف جارحانہ کھیل جاری رکھیں گے تاکہ آسٹریلیا کو پریشر میں لائیں۔

    آسٹریلیا کا اسکواڈ

    کپتان پیٹ کمنز، ڈیوڈ وارنر، مچل مارش، اسٹیو اسمتھ، مارنس لیبوشین، جوش انگلس، مارکس اسٹوئنس، گلین میکسویل، مچل اسٹارک، ایڈم زمپا اور جوش ہیزل ووڈ

    جنوبی افریقہ کا اسکواڈ

    کپتان ٹمبا باؤما، کوئنٹن ڈی کوک، راسی وین ڈیر ڈوسن، ایڈن مارکرم، ہینرک کلاسن، ڈیوڈ ملر، مارکو جانسن، کاگیسو ربادا، کیشو مہاراج، لونگی نگیڈی اور تبریز شمسی

  • اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لڑائی چھٹے روز بھی جاری ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، غزہ میں 12 سو کے قریب اموات ہو چکی ہیں،اب اسرائیل نے غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کرلی ، 3لاکھ صہیونی فوجی ، ٹینک اور بھاری فوجی سازوسامان سرحد پر پہنچادیا گیا، اسرائیل کی جانب سے کلسٹر بموں، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے،غزہ کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے،ایندھن کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہےبجلی کی پیداوار کا واحد پلانٹ بند ہو گیا ہے،اقوام متحدہ کے 11 ارکان، ہلال احمر اور ریڈ کراس کے 5 رضا کار بھی حملوں میں مارے گئے ہیں

    الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق غزہ کے حوالہ سے وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہیدوں کی تعداد 1200 ہو گئی ہے جبکہ پانچ ہزار سے زائد زخمی ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں تین لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں،بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،کل ایک دن میں 75 ہزار کے قریب افراد بے گھر ہوئے،

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل جنگی قوانین کا احترام کرے،امریکا میں یہودی امریکیوں سے ملاقات کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل غصے کے باوجود جنگی قوانین کا احترام کرے، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے ایران کو بھی پیغام دیا کہ وہ خود کو اس جنگ سے دور رکھے

    اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ کی صورتحال تباہ کن ہو چکی ہے، غزہ میں خوراک،پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے،بجلی بھی بندہو چکی ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر فاسفورس بم بھی برسائے ہیں،دوسری جانب اسرائیل کے ڈیمانا میں نیوکلیائی پلانٹ کے پاس فائرنگ کی بھی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر اسرائیلی نیو کلیئر پلانٹ کے قریب حملہ لبنان کی جانب سے کیا گیا ہے،اگر اس پلانٹ پر حماس یا حزب اللہ کا قبضہ ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، اسرائیل کی جانب سے نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے حوالہ سے مکمل خاموشی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نیوکلیئر پلانٹ کے پاس فائرنگ کے بعد سیکورٹی فورسز متحرک ہوئیں،فائرنگ کس نے کی ابھی تک سامنے نہیں آ سکا،

    دوسری جانب بھارت نے اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان کیا ہے، بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے بھارتی شہریوں کی واپسی کے لئے آپریشن شروع کر رہے ہیں، جو لوگ واپس آنا چاہتے ہیں انکے لئے اسپیشل چارٹر فلائٹ کا انتظام کر رہے ہیں،ہم بھارتی شہریوں کی حفاظت کریں گے، بھارتی شہری رجسٹریشن کروائیں، اسکے بعد سب کو واپس لایا جائے گا، ممبئی میں اسرائیل کے قونصلٹ کے مطابق اسرائیل میں 20 ہزار کے قریب بھارتی شہری رہ رہے ہیں

    دوسری جانب اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے حماس کے ساتھ یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کے لئے بات چیت شروع کر دی ہے تا ہم ابھی تک مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،ترک صدر نے علاقائی رہنماؤں کے ساتھ بھی فون پر بات چیت کی،ترکی دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اورحماس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    بھارتی اداکارہ نصرت اسرائیل سے پہنچیں ممبئی،بتایا آنکھوں دیکھا حال

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تسلیم کر لیا ہے کہ حماس کے حملے کی اطلاعات تھیں لیکن ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ حملہ اتنی شدت سے ہو گا، خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل کو حملے کے بارے میں کچھ روز قبل اطلاع ملی تھی لیکن اسرائیل نے اسے نظر انداز کیا تھا،اسرائیل نے ملنے والی اطلاع کو اہمیت نہیں دی تھی،ترجمان اسرائیلی فوج ڈینیئل ہاگری کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے حماس کے اسرائیل پرحملے کے خفیہ اشارے مل گئے تھے مگر اتنے بڑے حملے کی تیاری ہو رہی ہے اس کی خبر نہ ہو سکی،

  • نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    جدہ:سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف وطن پاکستان واپسی کے لیے لندن سے سعودی عرب پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق نوازشریف ساتھیوں کے ہمراہ ہیتھرو ائیرپورٹ سے سعودی ائیرلائن کی پروازایس وی 116 سے جدہ پہنچےوہ بوئنگ 787 ڈریم لائنرمیں سوارتھےجدہ روانگی سے قبل لندن میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے باہر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد نے نوازشریف کو الوداع کہا۔

    لیگی ذرائع کے مطابق سعودی ائر لائن کی پرواز 4 ہزار 750 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرکے 5 گھنٹے 27 منٹ میں رات 12بجے جدہ انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچی جدہ پہنچنے پر ائرپورٹ پرنوازشریف کا والہانہ استقبال کیا گیا۔

    ملک میں مزید بارشوں اور برفباری کا امکان

    سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے نواز شریف 17 یا 18 اکتوبر کو دبئی پہنچیں گے اور وہاں 3 دن قیام کے بعد 21 اکتوبر کو لاہور کے لیے روانہ ہوں گے جبکہ ان کی دبئی میں بھی متعدد ملاقاتیں طے ہیں نوازشریف کے پاکستان آنے کے لیے دبئی سے اسپیشل طیارہ بُک کروا لیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق نواز شریف جس خصوصی پرواز سے پاکستان پہنچیں گے اسے ’امیدِ پاکستان‘ کا نام دیا جائے گا۔

    میانوالی: گاڑی نہر میں گرنے سے 7 افراد جاں بحق

    نواز شریف 21 اکتوبر کو پاکستان جانے کے لیے دبئی سے لیگی کارکنوں اور صحافیوں کے ساتھ روانہ ہوں گے،یہ خصوصی پرواز دبئی سے اسلام آباد پہنچ کر آدھے گھنٹے بعد لاہور کے لیے اڑان بھرے گی۔

  • ترک اور ایرانی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

    ترک اور ایرانی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

    تہران،انقرہ: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا-

    باغی ٹی وی: ٹیلیفونک رابطے میں تینوں رہنماؤں نے فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،ایرانی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے تہران اور ریاض کے درمیان امن سمجھوتے کے بعد ایرانی صدر اور سعودی ولی عہد کے درمیان یہ پہلا رابطہ ہوا ہے بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کے معاملے پر اتفاق کیا گیا،یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا ٹیلیفونک رابطہ ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر نے غزہ اور گرد ونواح میں جاری کشیدگی پرتبادلہ خیال کیاسعودی ولی عہد نے موقف دہرایا کہ کشیدگی روکنے کیلئے سعودی عرب تمام بین الاقوامی اورعلاقائی فریقین کے ساتھ رابطے کیلئے ہرممکن کوششں کررہا ہےمحمد بن سلمان نے شہریوں کو نشانہ بنانے سمیت معصوم جانیں لینے مسترد کرنے کے سعودی موقف اوربین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کومدنظر رکھنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے غزہ کی پٹی میں حالات کی سنگینی پرگہری تشویش کا اظہارکیاسعودی ولی عہد نے فلسطینی کازکی سپورٹ اورحصول امن کی کوششوں سےمتعلق مملکت کے موقف پربھی زوردیا جو فلسطینی عوام کے جائزحقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

    برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ترک صدر طیب اردوان کا بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں غزہ اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیاسعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کشیدگی روکنے کیلئے مشترکہ کوششیں کر رہا ہے،ولی عہد نے کہا کہ مملکت اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

    ترک ایوان صدر کا کہنا ہے کہ اردوان نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ ترکی نے اسرائیل فلسطین تنازع سے متاثرہ شہریوں کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے کام شروع کر دیا ہےترکیہ نے تنازع میں ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

    کرکٹر محمد رضوان نے اپنا ایوارڈ فلسطینیوں کے نام کر دیا

  • برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد

    لندن: برطانیہ میں فلسطین کا جھنڈا لہرانے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی –

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کی سڑکوں پر فلسطین کے جھنڈے کو لہرانا جرم کے زمرے میں شامل کر لیا گیا اور برطانوی وزیر داخلہ نے فلسطینی پرچم لہرانے کو دہشت گردوں کی حمایت قرار دے دیا،برطانوی وزارت داخلہ نے اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے پیش نظر مختلف اقدامات کر لیے اور پولیس کو اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو زبردستی روکنے کا حکم دے دیا گیا اس حوالے سے برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے پولیس چیف کو خط لکھ دیا۔

    گزشتہ روز شیفلڈ ٹاؤن ہال کی عمارت پر اسرائیلی جھنڈا اتار کر فلسطینی جھنڈا لہرانے کا برطانوی حکومت نے سخت نوٹس لیا اور پولیس نے اسرائیلی پرچم اتارنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریومین نے کہا کہ حماس کے حق میں نعرے لگانے والوں پر پابندی پر غور کر رہے ہیں جب کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے نعروں کو بھی جرم تصور کرنے کی تجویز ہے۔

    حماس کے حملوں میں اسرائیلی ہلاکتیں 12 سو سے بڑھ گئیں

    کینیڈین حکومت نئی دہلی کے ساتھ کشیدہ سفارتی صورتحال کو حل کرنے کی کوششیں کر …

    حیدرآباد،دکن:بابر اعظم نے گراؤنڈ سٹاف کو اپنی شرٹ تحفے میں دیدی

    واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے 2021 میں حماس کو دہشت گرد گروپ تسلیم کر کے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم اب فلسطینی پرچم لہرانے کو بھی حماس کی حمایت کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نریندر مودی سٹیڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والا گرفتار

    نریندر مودی سٹیڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والا گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران پاک بھارت میچ کے موقع پر سٹیڈیم کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    پولیس کو ای میل کے توسط سے دھمکی دی گئی تھی جس میں احمد آباد کے نریندر مودی سٹیڈیم جہاں پاک بھارت میچ ہونا ہے کو اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی،14 اکتوبر کو میچ کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے، ورلڈ کپ کے دیگر میچوں کے علاوہ فائنل بھی اسی سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، اس سٹیڈیم کو اڑانے کی دھمکی دینے والے شخص تک پولیس پہنچ گئی ہےا ور اسے حراست میں لے لیا ہے

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، ملزم کو گجرات سے گرفتار کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں، ملزم نے ایک ای میل کی تھی جس میں کہا تھا کہ سٹیڈیم میں دھماکہ ہو گا،ملزم مدھیہ پردیش کا رہائشی ہے اور راجکوٹ کے علاقے میں مقیم تھا، ملزم نے اپنے موبائل فون سے ای میل کی تھی.

    دہلی میں ایئر پورٹ پر وستارا ایئرلائن کی پرواز کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    تعلیمی اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی کے بعد سکول بند

    تاج محل کو اڑانے کی دھمکی

    دہلی ایئرپورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی

    ممبئی کی فائیو سٹار ہوٹلز کو اڑانے کی دھمکی

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    واضح رہے کہ دھمکی والی ای میل میں بھی کہا گیا تھا کہ سٹیڈیم پر حملے کے لئے بندے تعینات ہو چکے ہیں، ہم مودی کو بھی اڑائیں گے، بھارت میں سب کچھ بیچا جاتا ہے، اور ہم نے بھی خریدا ہے، جتنی مرضی سیکورٹی میں رہو ہم سے نہیں بچ سکتے

    دھمکی بھری ای میل پر بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ ای میل ملنے کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے، احمد آباد میں سیکورٹی ادارو ں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے میچ کی سیکورٹی اور بڑھائیں گے،

  • کرکٹر محمد رضوان نے اپنا ایوارڈ فلسطینیوں کے نام کر دیا

    کرکٹر محمد رضوان نے اپنا ایوارڈ فلسطینیوں کے نام کر دیا

    حیدرآباد،دکن: آئی سی سی ورلڈکپ میں سری لنکا کیخلاف شاندار فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے اپنا ایوارڈ غزہ کے مظلوم فلسطینوں کے نام کردیا۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز سری لنکا کے ورلڈکپ میں تاریخی فتح میں گرین شرٹس کو جیت دلوانے والے محمد رضوان نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ غزہ کے اپنے بہن بھائیوں کے نام کرتا ہوں، قومی ٹیم کی جیت میں حصہ ڈالنے پر بےحد خوشی ہے، ٹارگٹ آسان پر پوری قوم اور خاص طور پر عبداللہ شفیق اور حسن علی نے اہم کردار ادا کیا تھا ساتھ انہوں نے حیدرآباد دکن میں حیرت انگیز مہمان نوازی اور تعاون پر شائقین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    گزشتہ روز راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم حیدرآباد میں سری لنکا کیخلاف پاکستان نے ریکارڈ ساز جیت درج کی تھی، اس میچ میں آئی لینڈرز نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 344 رنز بنائے، کوشال مینڈس 122 اور سمارا وکرما 108 رنز بناکر نمایاں رہےہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم نے 4 وکٹوں کےنقصان پر 49 ویں اوور میں 345 رنز کا پہاڑ جیسا ٹارگٹ حاصل کرلیا، عبداللہ شفیق نے 113 جبکہ محمد رضوان 131 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    اٹلی میں 2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    پاکستانی بیٹنگ کی خاص بات ورلڈکپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے والے عبد اللہ شفیق اور وکٹ کیپر محمد رضوان کی شاندار سنچریاں تھیں جن کی بدولت گرین شرٹس نے اتنا بڑا ہدف کامیابی سے حاصل کیا اور محمد رضوان کو شاندار بلے بازی کا میچ کا بہترین کھلاڑی بھی قرار دیا گیا، پاکستان نے سری لنکا کی جانب سے دیا گیا 345 رنز کا ہدف صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر کے ورلڈکپ کی 48 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا ٹوٹل 10 گیندوں قبل حاصل کر لیا۔

    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

  • اٹلی میں  2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    اٹلی میں 2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    نیپلز: اٹلی کے نیپلز میں ایک مقبرہ دریافت ہوا ہے جو کہ تقریباً 2,000 سال پرانا ہے اور قدیم رومی دور سے تعلق رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں شہر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو اپ ڈیٹ کے دوران کاشت شدہ اراضی کےاندر ایک مقبرہ دریافت ہوا، ابتدائی معائنے ےاندازہ لگایا گیا ہےکہ مقبرہ تقریباً 2,000 سال پرانا ہے،مقبرے کے داخلی درواز ے کو ٹف سلیب کے ساتھ سیل کیا گیا تھا اندر داخل ہونے پر مقبرے کی دیواروں پر سجاوٹ کے طور پر شاندار آرٹ کا انکشاف ہوا ان آرٹس میں تین سروں والے کتے، سربیرس کی ایک قابل ذکر نمائندگی ہے جس کی وجہ سے اس مقبرے کو ‘سربیرس کا مقبرہ’ کہا جاتا ہے۔

    اٹلی میں 2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    سربیرس جسے علم الہیات میں “Hound of Hedes” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، عالم ارواح کے دروازوں کی حفاظت کرتا تھا تاکہ مرنے والوں کی روحوں کو فرار ہونے سے روکا جا سکے اس مقبرے میں افسانوی مناظر کی تصویریں بھی بنی ہوئی ہیں جن میں اکتھیوسینٹورس (ichthyocentaurs) کی بھی تصویر شامل ہے جو انسانوں کے اوپری جسم، گھوڑوں کی اگلی ٹانگیں اور مچھلی کی دم کی حامل مخلوق ہےچیمبر کے مقبرے کی مکمل کھدائی فی الحال جاری ہے اور ماہرین آثار قدیمہ اس مقبرے کے اردگرد متعلقہ آثار قدیمہ کو بھی تلاش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    مغربی ہواؤں کا سسٹم داخل،ملک بھر میں بارشوں اوربرفباری کا امکان