کانپور: شوہر نے بیوی کو بغیر اجازت بھنویں بنوانے پر طلاق دے دی۔
باغی ٹی وی : یہ حیرت انگیز واقعہ بھارت میں پیش آیا،بھارتی میڈیا کے مطابق جوڑے کا تعلق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور سے ہے، غیر معمولی واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب خاتون نے اپنی طلاق کے حوالے سے پولیس کو آگاہ کیا خاتون گل سائبہ کی شادی محمد سالم سے گزشتہ سال کے آغاز میں ہوئی تھی خاتون نے پولیس کو شکایت درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کا شوہر رواں سال اگست میں سعودی عرب چلا گیا تھا جس کے بعد ان کے سسرال والوں نے انہیں جہیز کیلئے ہرا سا ں کرناشروع کردیا دوسری جانب اس کے شوہر پرانےخیالات کے ہیں اور وہ اس کےفیشن کرنےپر اکثر اعتراض کرتے رہتے تھے۔
خاتون نے بتایا کہ کچھ روز قبل وہ اپنے شوہر سے ویڈیو کال پر بات کررہی تھیں کہ ان کے شوہر نے بغیر اجازت بھنویں بنانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ بغیر پوچھے کیوں بنوائی ہیں؟ اب میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں اس کے بعد شو ہر نے ویڈیو کال پر ہی تین بار طلاق دے دی۔
پولیس کے مطابق خاتون کی شکایت پر شوہر سمیت ساس اور مزید 5 سسرالیوں کیخلاف ایف آئی آر درج کروالی گئی ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے 60 یرغمالی لاپتہ ہو گئے ہیں۔
باغی ٹی وی: عرب نشریاتی ادارے کے مطابق حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر بتایا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے دوران یرغمال بنائے جانے والے 60 قیدی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے لاپتہ ہو گئے ہیں، اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 60 لاپتا اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 23 کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں غزہ میں اسرائیل کی شدید بمباری اور جارحیت کی وجہ سے وہ کبھی بھی یرغمالیوں کی لاشوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ایسا لگتا ہے کہ قابض اسرائیل کی غزہ کے خلاف مسلسل جارحیت کی وجہ سے ہم ان تک کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔
گزشتہ روز 2 امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ان کا ملک یرغمال بنائے گئے افراد کی تلاش میں غزہ کی فضا میں مسلسل ڈرونز طیاروں کے ذریعے ان کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے، واضح رہے کہ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے 239 شہریوں کو یرغمال بنایا تھا جن میں سے چار شہریوں کو رہا کیا جاچکا ہے جبکہ حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ چند روز میں مزید غیر ملکی یرغمالیوں کو انسانی ہمدردی کی بنا پر رہا کر دے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سےاب تک ڈھائی ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اسرائیلی فوج نے 2 نومبر کو غزہ میں زمینی کارروائی شروع کی تھی اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق غزہ پٹی میں براہ راست لڑائی جاری ہے، رات گئے اسرائیلی حملے میں حماس کے فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں ایک بار پھر شمالی غزہ میں موجود فلسطینی شہریوں کو جنوب میں منتقل نہ ہونے پر نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ کے رہائشیوں کو جنوب کی طرف جانے کے لیے مختصر وقت دیں گے صلاح الدین اسٹریٹ پر مقامی وقت کے مطابق 5 نومبر کو صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ٹریفک کی اجازت ہوگی، تاکہ عام شہری جنوبی غزہ میں جاسکیں۔
اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق شمالی غزہ میں 3 لاکھ بے گھر افراد موجود ہیں جن کو وہاں مشکل حالات کا سامنا ہے بیشتر افراد کو ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں جبکہ دیگر کے خیال میں جنوب کی جانب سفر کرنا محفوظ نہیں کیونکہ اسرائیلی فوج پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 4 نومبر کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران اب تک اس کے 29 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
کولکتہ: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ون ڈے ورلڈکپ کے 13 ویں ایڈیشن کا 37 واں میں میچ بھارت نے جنوبی افریقا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا۔
باغی ٹی وی : کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں آج بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان میچ کھیلا جارہا ہے،ٹاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بھارتی کپتان روہت شرما کا کہنا تھا کہ دونوں ٹیموں نے ورلڈکپ کے دوران بہترین کرکٹ کھیلی ہے اچھا میچ دیکھنے کو ملے گا، ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔
دوسری طرف پروٹیز کپتان ٹیمبا باووما نے کہا کہ اگر ٹاس جیت جاتے تو پہلے بیٹنگ کرتے،ٹیم میں تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تبریز شمسی کو ٹیم میں واپس لایا گیا ہے-
اسرائیل میں ہزاروں افراد اپنے ہی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
باغی ٹی وی: اسرائیلی عوام کی جانب سے7 اکتوبر کے حملے اور یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر شدید تنقید کی جارہی ہے، اس کے علاوہ اسرائیل کے جنگی رد عمل پر احتجاج بھی جاری ہے مقبو ضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے باہر عوام کی بڑی تعداد کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا اور وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکی شہر نیو یارک میں سینکڑوں افراد نے احتجاج کرکے ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے واشنگٹن میں بھی ہزاروں افراد کا فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کیا گیا احتجاج میں مظاہرین نے فلسطین کو آزاد کرو اور اسرائیل دہشتگرد ریاست کے نعرے لگائے اور احتجاج کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کے گرد سکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔
ادھربرطانیہ میں بھی سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لندن کے پکاڈلی سرکس پر دھرنا دیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کامطالبہ کیا،دھرنا دینے پر لندن پولیس کی جانب سے 29 مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیااس کے علاوہ پیرس میں بھی ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ بندی کے حق میں مارچ کیا گیا جبکہ برلن مظاہرے میں غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ناروے، آسٹریلیا، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ایران، قطر اور عراق میں بھی مظاہرے کیے گئے جبکہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں چلی اور وینیزیلامیں بھی احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔
واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک 3 ہزار 900 بچوں اور 2 ہزار 509 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 488 ہو گئی ہے جب کہ 6 ہزار 360 بچوں اور 4 ہزار 891 خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 24 ہزار 158 سے تجاوز کر چکی ہے۔
آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کے دوران دہلی میں بدترین فضائی آلودگی سے ٹیموں کو دشواری کا سامنا ہے-
باغی ٹی وی: فضائی آلودگی میں بھارتی دارالحکومت نئی دلی دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اور اسموگ کی وجہ سے ٹیموں کو شدید دشواری کا سامنا ہےسری لنکا نے ہفتے کو ارون جیٹلے اسٹیڈیم میں شیڈول ٹریننگ سیشن منسوخ کر دیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا کے ٹیم ڈاکٹر نے کھلاڑیوں کو شدید آلودگی کی وجہ سے ٹریننگ سے روکا جبکہ بنگلا دیشی اسکواڈ نے ماسک کے ساتھ ٹریننگ کی، بنگلا دیش نے جمعہ کو اپنا ٹریننگ سیشن منسوخ کیا تھا۔
6 نومبر کو دلی میں سری لنکا اور بنگلا دیش کی ٹیموں کے درمیان میچ شیڈول ہے اور اس سے قبل آئی سی سی نے دلی میں فضائی آلود گی کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بھارتی بورڈ کے ساتھ مل کر ماہرین کی اس حوالے سے رائے لے رہے ہیں، کھلاڑیوں کی صحت کی حفاظت کا خیال رکھیں گے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگلے دو روز میں بھی دہلی میں آلودگی میں بہتری کا امکان نہیں ہے، ائیر کوالٹی انڈیکس کا بڑھنا میچ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جبکہ انتظامیہ کھلاڑیوں کو ڈگ آوٹ کی بجائے ڈریسنگ روم میں بٹھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے نئی دلی میں اسٹیڈیم کے اطراف کے علاقوں میں چھڑکاؤ کرنے کا بھی پلان بنایا گیا ہے جبکہ دہلی میں جمعرات کو ائیر ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی تھی۔
جب وہ اٹھتے ہیں مٹانے خم میخانے کا نام
شورش مئے سے چمک جاتا ہے پیمانے کا نام
اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے بانی، ممتاز ادیب، دانش ور ، شاعر اور سیاسی رہنما سید سجاد ظہیر 5 نومبر 1905 میں ریاست اودھ کے چیف جسٹس سر وزیر خان کے گھر میں پیدا ہوئے ان کا تعلق لکھنؤ کے ایک ذی علم گھرانے سے تھا 1936ء میں انہوں نے لندن میں انجمن ترقی پسند مصنّفین کی بنیاد رکھی جو بہت جلد اردو کی مقبول ترین ادبی تحریک بن گئی۔
قیام پاکستان کے بعد پاکستان چلے آئے جہاں وہ کچھ عرصے راولپنڈی سازش کیس کے سلسلہ میں پابند سلاسل بھی رہےاس مقدمے سے رہائی کے بعد جولائی 1955ء میں وہ بھارت واپس چلے گئے جہاں بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے ان سے بھارت میں سکونت اختیار کرنے کی درخواست کی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سید سجاد ظہیر دوبارہ بھارت کے شہری بن گئے۔
سید سجاد ظہیر نے 13 ستمبر 1973ء کو سوویت یونین کے شہر الماتے قازقستان میں وفات پائی جہاں وہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ان کی تصانیف میں لندن کی ایک رات، روشنائی اور پگھلا نیلم خصوصاً قابل ذکر ہیں ، سجاد ظہیر ایک شاعر بھی تھے لیکن ان کی دوسری کتابیں اتنی اہم ہوگئیں کہ ان کا نام شاعر کی حیثیت سے لیا نہیں جاتا۔ انہوں نے پہلی غزل 1952ء میں سنٹرل جیل حیدرآباد میں تخلیق کئے گئے، جو ’’شاہراہ‘‘ کے ستمبر 1955ء کے شمارے میں شائع ہوئے، بہر حال چند اشعار دیکھئے:۔
جب وہ اٹھتے ہیں مٹانے خم کا میخانے کا نام
شورش مئے سے چمک جاتا ہے پیمانے کا نام
تجھے کیا بتائیں ہمدم اسے پوچھ مت دوبارہ
کسی اور کا نہیں تھا وہ قصور تھا ہمارا
وہ قتیل رقص و رم تھی وہ شہید زیروبم تھی
میری موج مضطرب کو نہ ملا مگر کنارا
اسرائیلی فوج نے غزہ میں المغازی کیمپ پر رات کی تاریکی میں بڑا فضائی حملہ کردیا، حملے میں 51فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔
باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے پانچویں ہفتے میں داخل ہو گئے،حملے کے بعد دھماکے بھی سنے گئے، المیغاذی کیمپ پر حملے میں 51 فلسطینی شہید ہوگئے، شہدا میں بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی افواج کی جانب سے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ بنے اقوام متحدہ کے الفخورا اسکول پر بھی بمباری کی گئی تھی۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں اور ایندھن کی قلت سے غزہ کے 16 اسپتالوں اور 32 طبی مراکز میں کام رک چکا ہے۔
حماس نے بھی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے، اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم نے تل ابیب کے آسمان پر کئی راکٹوں کو نشانہ بنایاحماس کے مسلح ونگ، القسام بریگیڈز نے الشطی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ کی ویڈیو جاری کردی، فوٹیج میں اسرائیل ٹینک کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے حماس کے القسام بریگیڈز کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، حماس کے مواصلاتی مرکز، بنکرز اور سرنگوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فورس حماس کے چیف يحیٰ السینوار کو تلاش کرکے ختم کر دے گی، اسرائیلی حملوں میں حماس کے 12 کمانڈرز مارے گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فورسز نےغزہ شہر کا مکمل گھیراؤ کر رکھا ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں وقفہ حاصل کرنے پر پیش رفت ہوئی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حملوں میں وقفے کے لیے اسرائیل سے بات چیت جاری ہے امریکی صدر نے جنگ میں وقفے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے عرب رہنماؤں کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا جنگ بندی سے حماس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملے گا۔
خیال رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک 3 ہزار 900 بچوں اور 2 ہزار 509 خواتین سمیت شہید فلسطینیوں کی تعداد 9 ہزار 488 ہو گئی ہے جبکہ 6 ہزار 360 بچوں اور 4 ہزار 891 خواتین سمیت زخمیوں کی تعداد 24 ہزار 158 سے تجاوز کر چکی ہےاب تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 36 صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں دوسری جانب 150 سے زائد میڈیکل اسٹاف جاں بحق اور 28 ایمبولینس تباہ ہو چکی ہیں جبکہ 50 سے زائد کو نقصان پہنچ چکا ہےاسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر سے اب تک اسپتالوں اور صحت مراکز پر 82 حملے کیے گئے ہیں،غزہ میں 16 اسپتال مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں اور 32 طبی مراکز کا کام رک چکا ہے۔
عرب میڈیا کی جانب سے اسرائیلی اعداد شمار کی بنیاد پر شائع ایک تخمینے کے مطابق غزہ میں ہر گھنٹے میں نصف تعداد میں بچوں سمیت 15 فلسطینی شہید ہو رہےہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں ہر گھنٹے زخمیوں کی تعداد 35افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، ہر گھنٹے غزہ پر گرائے جانے والے بموں کی تعداد 42 ہے اور ہر گھنٹے 12 عمارتیں تباہ ہو رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لئے متحرک ہیں، انٹونی بلنکن نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کے بعد عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب وزراء خارجہ سے ملاقات کی، سعودی عرب، یو اے ای سمیت دیگر ممالک کے وزرا خارجہ اجلاس میں موجو د تھے،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے عرب رہنماؤں نے جنگ بندی کے لئے اور غزہ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے تعاون طلب کیا ہے،امریکی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کا کردار اہم ہے،بلنکن نے عمان میں حکام سے ملاقاتیں کیں،انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ سے بھی ملاقات کی اور غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، اقوام متحدہ کے تقریبا 70 اہلکاروں کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت ہو چکی ہے، اقوام متحدہ کے پاس خوراک،ادویات کی کمی ہو چکی ہے،امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے عرب رہنماؤں سے ملاقات کی تو عرب رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فلسطینی عوام کو سزا نہ دی جائے،ایک طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری ہے ایسے میں امریکی وزیر خارجہ کو عربوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسرائیل حماس کو کچلنے کے لئے چار ہفتوں سے مسلسل حملے کر رہا مگر اسے ناکامی ہوئی،عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں امریکہ کے وزیر خارجہ کو غصےکی بڑھتی لہر کا سامنا کرنا پڑا،بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کی بات کی تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اسکو رد کر دیاہے، عمان میں بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ ان تمام کوششوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر توقف کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی
مصری وزیر خارجہ سامح شکری، جن کا ملک غزہ کی پٹی سے وہاں جانے کے لیے امداد کے واحد راستے کے طور پر کام کر رہا ہے، نے "فوری اور جامع جنگ بندی” کا مطالبہ کیا۔
حماس نے ہفتے کو دیر گئے کہا کہ غزہ سے دوہری شہریوں اور غیر ملکیوں کا انخلاء اس وقت تک معطل رکھا جا رہا ہے جب تک کہ اسرائیل کچھ زخمی فلسطینیوں کو رفح پہنچنے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ وہ مصر میں ہسپتال میں علاج کے لیے سرحد عبور کر سکیں۔
اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعدعلاقے کا دورہ کیا اور اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی۔وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے اندر لڑ رہی ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ شہر کو "حماس کا مرکز” کے طور پر بیان کرتی ہے، لیکن امدادی معاونت کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے کہا کہ شہر اور ملحقہ علاقوں میں 350,000 سے 400,000 کے درمیان شہری مقیم ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے 7 اکتوبر سے لے کر اب تک فلسطینی سرزمین پر 12,000 اہداف کو نشانہ بنایا ہے،
امریکی وزیر خارجہ ترکی بھی جائیں گے اور ترک صدر سے ملاقات کر یں گے،ترکی نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیاہے،ترک وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل حملوں کے بعد ترکی نے پنے سفیر کو مشاورت کے بعد واپس بلایا ہے، ترکی میں موجود اسرائیلی سفیر بھی سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیل واپس جا چکا ہے،غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکی ملک ہونڈرورس،چلی، کولمبیا اپنے سفیر اسرائیل سے واپس بلا چکے ہیں،سفیر واپس بلائے جانے کے اقدام کا فلسطین نے خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیگر ممالک سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کوبین الاقوامی جرائم کی عدالت میں لے کر جائیں گے،صحافیوں سے گفتگو میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیلئے لکیرکھینچ دی ہے ان سے اب کوئی بات نہیں ہوسکتی، نیتن یاہو ناقابل بھروسہ ہیں نیتن یاہو جوکچھ کررہےہیں اس کی بائبل، توریت اورنہ ہی زبور اجازت دیتی ہے، نیتن یاہو اسرائیلی عوام کی حمایت کھوچکےہیں
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے کچھ دن قبل کے دورہ ایران کی خبر سامنے آئی ہے، اسماعیل ہنیہ نے دورہ تہران میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی،حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے اسماعیل ہنیہ کے دورہ ایران کی مزید تفصیل نہیں بتائی
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حماس حملے کی ذمہ داری کیوں لینی چاہئے؟
سات اکتوبر کو ہفتے کے دن حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا،اس حملے کو تقریبا چار ہفتے ہو چکے،حملے میں تقریبا 1400 اسرائیلی مارے جا چکے ہیں، سینکڑوں افراد کو حماس نے یرغمال بنا لیا، اب بھی حماس کے حملوں میں اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہو رہے ہیں، دنیا جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہے، یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف تل ابیب میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تاہم اسرائیلی وزیراعظم خاموش ہیں،
یروشلم پوسٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو،انتہائی بے حس، لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں،حماس کے حملوں میں چودہ سو اسرائیلیوں کی جانیں گئیں لیکن نیتن یاہو نے کسی ایک شخص کے جنازے میں شرکت نہیں کی، سینکٹروں یرغمال بنائے گئے ابھی تک اسرائیلی وزیراعظم نے یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کی،حماس کے حموں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے ان میں سے کئی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں تا ہم نیتن یاہو نے کسی بھی زخمی کی ابھی تک عیادت نہیں کی،حماس کے مسلسل حملوں کے بعد اسرائیل میں 21 ہزار کے قریب افراد بے گھرہوئے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے کسی بھی بے گھر افراد کا حال تک نہیں پوچھا،نیتن یاہو نے یرغمال بنائے گئے افراد میں سے صرف 13 خاندانوں کے ساتھ دو ملاقاتیں کیں ،لیکن انکی رہائی کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، 227 سے زائد افراد حماس کے قبضے میں ہیں، انکے خاندان اذیت کا شکار ہیں لیکن نیتن یاہو حملوں پر حملے کروا رہے ہیں
یروشلم پوسٹ لکھتا ہے کہ نیتن یاہو کے پاس ابھی تک تین الفاظ ہیں: "میں ذمہ دار ہوں” – حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع سمیت فوجی حکام نے ناکامی کا سہرا اپنے سر لیا، اور کہا کہ ہم ناکام ہوئے،انٹیلی جنیس چیف، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ،اوسی سدرن کمانڈ سمیت سب نے اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا،یہاں تک کہ وزیرخزانہ تک نے بھی کچھ انٹرویو میں کہا کہ حماس کے حملوں کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن اب الزام تراشی کا وقت نہیں،نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ ہم سب کو فی الوقت جواب دینے کی ضرورت ہے
نیتن یاہو کس طرح ایک اور سانحے کا الزام اپنے سر لینے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ میں ذمہ دار ہوں لیکن اسکے ساتھ ہی کہا کہ اسرائیل کے مستقبل کی سلامتی کے لیے،نیتن یاہو واضح کر رہے تھے کہ وہ ماضی کے لئے نہیں بلکہ مستقبل کی بات کر رہے ہیں،اور سوچ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد اگلے دن کیا ہو گا،نیتن یاہو کی اپنے دور حکومت میں ہونے والی ہر آفت سے دور رہنے کی ایک طویل تاریخ ہے، جن میں سے تازہ ترین 2021 میں ماؤنٹ میرون پر مہلک ہجوم کا کچلنا تھا، جس میں 45 افراد کی جانیں گئیں۔ گزشتہ سال اس آفت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے سرکاری کمیشن کے سامنے اپنی گواہی میں وزیر اعظم سے پوچھا گیا تھا کہ ‘جو شخص گزشتہ 12 سالوں سے حکومت کا سربراہ تھا، کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ عوامی اور اخلاقی طور پر ذمہ دار ہیں؟ اس آفت کے لیے؟” اس پر نیتن یاہونے جواب دیا، "کسی کو اس چیز کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔”
اسی طرح کی ذہنیت میں، نیتن یاہو جنگ کے بعد کی انکوائری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور اس لیے وہ "میں ذمہ دار ہوں” کے الفاظ کہنے سے گریز کر رہے ہیں تاکہ یہ مخصوص الفاظ کبھی بھی کسی پروٹوکول میں ریکارڈ نہ ہوں۔ نیتن یاہو کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک، نتن ایشیل نے اس ہفتے صحافیوں کو ایک تفصیلی پیغام بھیجا جس میں براہ راست ذمہ داری اور وزارتی ذمہ داری کے درمیان قانونی فرق کی وضاحت کی گئی،پیغام میں کہا گیا کہ "اگر کوئی سپاہی محافظ ڈیوٹی کے لیے حاضر ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے اور دہشت گرد آرمی بیس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کیا وزیراعظم ذمہ دار ہیں؟
اگرچہ نیتن یاہو ذمہ داری لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس کی سیاسی پروپیگنڈہ ٹیم پہلے دن سے ہی ناکامی کو دوسروں پر ڈالنے کی کوشش میں کام کر رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق، جنگ کے آغاز پر، وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ آئی ڈی ایف اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینئر رہنماؤں کے بیانات کے اقتباسات جمع کریں، دونوں عوامی ذرائع کے ساتھ ساتھ خفیہ سیکیورٹی میٹنگوں سے، جس میں انہوں نے خطرے کی شدت اور حماس کی صلاحیتوں اور ارادوں کو کم کیا۔ ان ذرائع کے مطابق، جن لوگوں کے بیانات اور گفتگو کو جانچنے کی ہدایت کی گئی تھی ان کی فہرست طویل ہے، اور اس میں آئی ڈی ایف کے موجودہ اور سابق چیف آف اسٹاف، جیسے بینی گانٹز اور گاڈی آئزن کوٹ شامل ہیں، جو دونوں اس وقت ہنگامی جنگ کا حصہ ہیں۔ماضی کے وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپڈ، وزرائے دفاع،اس طرح کے لوگ شامل ہیں جن کے بیانات کو دیکھا جا رہا ہے تا کہ کسی بھی طرح نیتن یاہو کو حماس کے حملوں کی ذمہ داری سے بچایا جا سکے اور اگر انکوائری ہو تو اس میں ان بیانات کو پیش کر کے فوج کی طرف اور انٹیلی جینس اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے جنہوں نے حماس کے حملوںکی وارننگ، اطلاع کو نظر انداز کیا .
ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی نمائش منسوخ کر دی گئی،
اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش استنبول میں ہونا تھی جسے منسوخ کر دیا گیا ہے، ترک منتظمین نے اسرائیلی فنکاروں کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے،سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اسرائیلی فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش منسوخ کی گئی ہے،اسرائیلی فنکار گور ایری کی نمائش "شکل دی بیوٹی” کو ہٹا دیا گیا، تاہم، طالبان کے زیر اقتدار افغانستان کی فنکارہ لیلا احمد زئی، جو فی الحال جرمنی میں مقیم ہیں ، نمائش کی جگہ پر موجود ہیں۔فینارو نے دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ "تمام ترک فنکار جن سے ہم ملے وہ ایک ساتھ کام کرنا چاہتے تھے۔ پچھلے دو سالوں میں ہم ترک فنکاروں کو یہاں اسرائیللائے تھے، جسے ترک ثقافتی اسٹیبلشمنٹ نے سراہا تھا۔
اسرائیلی فنکاروں بوز کازمین، انجلیکا شیر، اور فینارو، اور حنان ابو حسین کے فن پارے اس وقت نمائش کے لیے پیش ہونا تھا،فینارو نے کہا، "اسرائیل اور اس کے فنکاروں کو اب تنہائی کا سامنا ہے،” ہمیں اپنی آواز سنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرنا چاہیے۔
اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کی تجویز پاگل پن ہے،ریپبلکن سینیٹر
فلوریڈا کے ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ بندی کے کسی بھی مطالبے کی مذمت کرتے ہوئے ایسی تجویز کو "پاگل اور خطرناک” قرار دیا۔سکاٹ نے حماس کے ایک اہلکار کی ایک ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیطانی دہشت گردانہ حملوں کو دہرائیں گے، جیسا کہ اکتوبر کے اوائل میں اسرائیلی شہریوں پر کیا گیا تھا، اس لیے جنگ بندی کا مطالبہ پاگل اور خطرناک ہے،‘‘ سکاٹ نے کہا۔ حماس کے ارکان دہشت گرد ہیں جو اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اس گھناؤنے خطرے کو ختم کر دینا چاہیے۔‘‘
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کی تردید کی ہے کیونکہ اسرائیل غزہ میں حماس پرحملے جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیل میں جنگ کے بارے میں، سکاٹ نے جی سیون ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر کے ابتدائی دہشت گردانہ حملے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائیں، جس میں مبینہ طور پر ایران کی پشت پناہی تھی۔سکاٹ نے ایک خط میں کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ حماس اور فلسطینی جہاد کے دہشت گردوں کی طرف سے معصوم شہریوں پر کیے جانے والے وحشیانہ حملوں کے پیچھے ایرانی حکومت کا ہاتھ ہے۔” "امریکہ اور ہمارے اتحادی اس حقیقت کو ایک سیکنڈ کے لیے نظر انداز نہیں کر سکتے۔”سکاٹ نے ستمبر میں امریکی-ایران قیدیوں کے تبادلے میں ایرانی حکومت کے 6 بلین ڈالر کے اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر بائیڈن انتظامیہ پر بھی تنقید کی ہے۔فلوریڈا کے سینیٹر نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی سب سے زیادہ "اسرائیل نواز” امریکی صدر قرار دیا تھا۔سکاٹ نے کہا، "امریکہ نےداعش کو شکست دی، امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں اپنے صحیح گھر میں منتقل کیا.
اسرائیلی ماں نے انکشاف کیا کہ اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور شوہر کو لے جایا گیا
ایک اسرائیلی ماں جس کی بیٹی کو حماس نے اس کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا تھا اور جس کے شوہر کو اغوا کر لیا گیا تھا، اس نے جو کچھ ہوا اس کا ایک ہولناک بیان شیئر کیا ہے۔خاتون نے فیس بک اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ حماس نے جب حملہ کیا تو اسکے سامنے اسکی بیٹی کو قتل کیا گیا اور اسکے شوہر کو حماس اہلکار ساتھ لے گئے، وہ خاموش تھی لیکن اب خاموش نہیں رہ سکتی، اسرائیلی وزیراعظم میرے شوہر کو بازیاب کروائیں
اسرائیل کا حماس رہنما کے گھر پر میزائل حملہ
اسرائیل نے حماس کے رہنما کے گھر پر میزائل داغا ہے،حماس سے وابستہ الاقصیٰ ریڈیو نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے غزہ کے گھر پر میزائل داغا ،یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس کے خاندان کا کوئی فرد اس وقت گھر میں موجود تھا جب حملہ کیا گیا،حماس کے سیاسی سربراہ ہنیہ 2019 سے غزہ کی پٹی سے باہر ہیں، جو ترکی اور قطر کے درمیان مقیم ہیں۔دوسری جانب غزہ شہر کے شمال میں اسامہ بن زید بوائز اسکول میں، اسرائیلی ٹینک کی گولہ باری کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے "دہشت گردوں کا خاتمہ” کیا ہے اور گزشتہ روز شمالی غزہ میں سرنگوں کی تلاش کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے ہتھیار برآمد کیے ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے 15 عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیا، ان میں سے کئی کو ہلاک کیا اور حماس کے تین مشاہداتی مراکز کو تباہ کر دیا،
برسوں تک نیتن یاہو نے حماس کو سہارا دیا،ٹائمز آف اسرائیل کا دعویٰ
برسوں سے، بنجمن نیتن یاہو کی زیرقیادت مختلف حکومتوں نے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے درمیان طاقت کو تقسیم کر دیا – فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور ایسی حرکتیں کیں جس سے حماس گروپ کو تقویت ملی۔خیال یہ تھا کہ عباس یا فلسطینی اتھارٹی کی مغربی کنارے کی حکومت میں شامل کسی اور کو فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی سے روکا جائے۔اس طرح، عباس کو نقصان پہنچانے کی اس کوشش کے دوران، حماس کو محض ایک عسکری گروپ سے ایک ایسی تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا جس کے ساتھ اسرائیل نے مصر کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کیے، اور جس کو بیرون ملک سے نقد رقم وصول کرنے کی اجازت تھی۔
حماس کو اسرائیل نے غزہ کے مزدوروں کو دیے گئے ورک پرمٹ کی تعداد میں اضافے کے بارے میں بات چیت میں بھی شامل کیا، جس سے غزہ میں پیسہ بہایا جاتا رہا،
اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ یہ اجازت نامے، جو غزہ کے مزدوروں کو انکلیو سے زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، امن برقرار رکھنے میں مدد کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔ 2021 میں نیتن یاہو کی پانچویں حکومت کے خاتمے کے بعد، تقریباً 2,000-3,000 ورک پرمٹ غزہ کے باشندوں کو جاری کیے گئے تھے۔ یہ تعداد 5,000 تک پہنچ گئی اور بینیٹ لیپڈ حکومت کے دوران تیزی سے بڑھ کر 10,000 تک پہنچ گئی۔جنوری 2023 میں نیتن یاہو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد، ورک پرمٹس کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی ہے۔
مزید برآں، 2014 کے بعد سے، نیتن یاہو کی قیادت والی حکومتوں نے غزہ سے آگ لگانے والے غباروں اور راکٹ فائر کی طرف عملی طور پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔دریں اثنا، اسرائیل نے پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اپنی نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے، 2018 سے لاکھوں قطری نقدی رکھنے والے کو اپنی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے۔
زیادہ تر وقت، اسرائیلی پالیسی فلسطینی اتھارٹی کو بوجھ اور حماس کو اثاثہ سمجھتی تھی۔ انتہائی دائیں بازو کے MK Bezalel Smotrich، جو اب سخت گیر حکومت میں وزیر خزانہ اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے رہنما ہیں، نے 2015 میں خود ایسا کہا تھا۔
مختلف رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 2019 کے اوائل میں ایک اجلاس میں بھی ایسا ہی نقطہ نظر پیش کیا تھا، جب ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ جو لوگ فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غزہ میں رقوم کی منتقلی کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے درمیان علیحدگی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ غزہ میں ہیں۔ مغربی کنارے اور غزہ میں حماس فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔اگرچہ نیتن یاہو اس قسم کے بیانات عوامی یا سرکاری طور پر نہیں دیتے ہیں، لیکن ان کے الفاظ اس پالیسی کے مطابق ہیں جو انہوں نے نافذ کی تھی۔اسی پیغام کو دائیں بازو کے مبصرین نے دہرایا، جنہوں نے اس معاملے پر بریفنگ حاصل کی ہو یا لیکوڈ کے اعلیٰ افسران سے بات کی اور پیغام کو سمجھا۔
اس پالیسی سے تقویت پا کر، حماس مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا، اسرائیل کا "پرل ہاربر”، جو اس کی تاریخ کا سب سے خونریز دن تھا – جب عسکریت پسندوں نے سرحد پار کی، سینکڑوں اسرائیلیوں کو ذبح کیا اور ہزاروں راکٹوں کو برسایا.بڑی تعداد میں شہریوں کو اغوا کر لیا۔
ابھی چند روز قبل، کان پبلک براڈکاسٹر کے ایک رپورٹر اسف پوزیلوف نے مندرجہ ذیل ٹویٹ کیا: "اسلامک جہاد تنظیم نے سرحد کے بالکل قریب ایک شور مچانے والی مشق شروع کی ہے، جس میں انہوں نے میزائل داغنے، اسرائیل میں گھسنے اور فوجیوں کو اغوا کرنے کی مشق کی۔ ”
اسلامی جہاد اور حماس کے درمیان فرق اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ جہاں تک ریاست اسرائیل کا تعلق ہے تو یہ علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے اور وہاں کی تمام تر تربیت اور سرگرمیوں کی ذمہ دار وہی ہے۔حماس مضبوط ہو گئی اور اس نے امن کے ان خوابوں کو استعمال کیا جس کے لیے اسرائیلی اس کی تربیت کے لیے بہت زیادہ ترس رہے تھے، اور سینکڑوں اسرائیلیوں نے اس بڑے پیمانے پر کوتاہی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔اسرائیل میں شہری آبادی پر ہونے والی دہشت گردی اس قدر زبردست ہے کہ اس سے لگنے والے زخم برسوں تک مندمل نہیں ہوں گے، یہ ایک چیلنج غزہ میں اغوا ہونے والے درجنوں افراد کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہے۔
نیتن یاہو نے گزشتہ 13 سالوں میں جس طرح سے غزہ کا انتظام کیا ہے، اس سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ آگے جا کر کوئی واضح پالیسی ہو گی۔
بنگلورو: سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ میں شدید بارش کی پیشگوئی کر دی گئی۔
باغی ٹی وی: دونوں ٹیموں کے درمیان میچ 9 نومبر جمعرات کے روز بنگلور میں کھیلا جائے گا جہاں 70 فیصد بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہےبھارتی صحافی کے مطابق بنگلور میں چار روز تک لگاتار بارشیں جس کی وجہ سے گراونڈ کی آؤٹ فیلڈ متاثر ہونے کا خدشہ ہے دونوں ٹیموں کے مابین میچ بارش کی نذر ہونے کی صورت میں پاکستان کو فائدہ ہو گا، اگر قومی ٹیم انگلینڈ کو آخری میچ میں شکست دے دیتی ہے تو وہ سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔
بھارت میں جاری ورلڈکپ کے 13 ویں ایڈیشن کا گروپ سٹیج اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ میگا ایونٹ میں موجود تقریباً تمام ٹیمیں آدھے سے زیادہ میچز کھیل چکی ہیں آئی سی سی ورلڈکپ کے پوائنٹس ٹیبل کی بات کی جائے تو ناقابل شکست بھارت سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن چکی ہے۔ پوائنٹس ٹیبل میں دوسری پوزیشن پر براجمان جنوبی افریقہ بھی ایک میچ جیتنے کے بعد اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گی ورلڈکپ پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائی کرنے کیلئے بقیہ میچز میں اب بھی جان مارنا پڑے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میچ والے دن 38 فیصد گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے موسم کا حال بتانے والی ویب سائٹ ایکو ویدر کے مطابق 9 نومبر کو ڈیڑھ گھنٹہ بارش ہونے کا امکان ہے جبکہ شام تک بارش کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کو کوالیفائی کرنے کیلئے اپنے بقیہ 2 میچز جیتنے کے بعد کسی معجزے کا انتظار کرنا ہوگا نیوزی لینڈ اور سری لنکا میچ واش آؤٹ ہونے کی صورت میں پاکستان کو سنہری موقع مل جائے گا۔
بنگلورو: نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے کہا ہے کہ پاکستان جس طرح کھیل رہا تھا ہمیں جیتنے کیلئے450رنزبنانے چاہئیں تھے-
باغی ٹی وی: پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میچ کا پہلا ہاف شاندار رہا، راچن نے خوبصورتی سے بلے بازی کی ،اگر آپ کو ایک یا دو وکٹیں ملتیں اور آپ بائیں اور دائیں امتزاج کے لحاظ سے اس میں سے شارٹ سائیڈ نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو چیزیں تیزی سے بدل سکتی تھیں لیکن ہم آج ایسا نہیں کر سکے اور پاکستان نے اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا پاکستان جس طرح کھیل رہا تھا ہمیں جیتنے کیلئے450رنزبنانے چاہئیں تھے ، فخر زمان نے خوبصورتی سے کھیلا، وہ آج اس نتیجے کے مستحق تھے ،اگلا میچ جیتنے کی کوشش کریں گے۔
واضح رہے کہ فخر زمان نے آج نیوزی لینڈ کے خلاف 81 گیندوں پر 126 رن کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، ان کی اننگز میں 11 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے،جس کے باعث پاکستان نے نیوزی لینڈ کو بارش سے متاثرہ میچ میں 21 رنز سے شکست دی ہے۔
جس کے بعد عالمی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو ہرانے کے بعد پاکستان پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر آ گیا پاکستان نے 8 میچز کھیلنے کے بعد 8 پوائنٹس حاصل کئے ہیں، قومی ٹیم کو چار میچوں میں فتح جب کہ چار میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے قومی ٹیم کا رن ریٹ 0.04 ہے، نیوزی لینڈ بہتر رن ریٹ کی وجہ سے پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر کھڑا ہے۔