Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن پر ’سرکاری کھانے‘ کا جرم ثابت

    اسرائیلی وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن پر ’سرکاری کھانے‘ کا جرم ثابت

    یہودی وزیر اعظم کی اہلیہ سارہ نے سرکاری رقم سے کھانا کھانے کا اعتراف کرتے ہوئے جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے .وزیر اعظم کی اہلیہ کواسرائیل کی ایک عدالت نے وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ کو کھانے کے لیے سرکاری فنڈ استعمال کرنے کا مجرم ٹھرایا ہے۔وزیراعظم کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو کو دوسرے فرد کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا قصوار قرار دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی اہلیہ نے ’پلی بارگین‘ کے تخت جرم قبول کی جس کے بعد عدالت نے انہیں صرف جرمانہ اور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا دے دی۔ عدالت کی جانب سے ان کو ہدایت کی گئی کہ وہ جرمانے اور ہرجانے کی رقم ادا کریں۔

    سارہ نیتن یاہو کو پلی بارگین کے تحت دس ہزار شیکل (2800 ڈالرز) کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے، عدالت کی جانب سے ان کو کہا گیا ہے کہ ریاست کو 45000 شیکل (12،552 ڈالرز) واپس کریں۔اسرائیلی وزیراعظم کی 60 سالہ اہلیہ جرمانے کی رقم نو اقساط میں ادا کریں گی۔

    اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ کے خلاف اس مقدمے کا چالان جون سنہ 2018 میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ سارہ پر چالان میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے سرکاری فنڈ سے ایک لاکھ ڈالرز کی مالیت کا کھانا آرڈر کیا تھا اور اس حقیقت کو چھپایا تھا کہ ان کی رہائش گاہ پر کھانا پکانے کے لیے ایک ملازم ہے۔وزیراعظم بیورو کے سابق ڈپٹی چیف ایزرا سیڈوف نے بھی اپنا جرم تسلیم کیا ہے۔ایزرا سیڈوف کھانے کا آرڈر کرنے کے جرم میں شریک تھے۔ وہ دس ہزار شیکل جرمانہ ادا کریں گے۔ ایزرا کمیونٹی کے لیے 120 گھنٹوں کی رضا کارانہ خدمات بھی پیش کریں گے۔

  • یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    کہیں ٹڈیوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے تو کہیں ان ٹڈیوں سے خوف کھایا جاتا ہے. ٹڈیوں کے سفر کی کہانی بھی چند ماہ قبل شروع ہوئی جب یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کئی اضلاع ٹڈی دل کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے متنبہ کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹڈی دل کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معمول سے چھ سے سات ہفتے پہلے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مئی میں جزائر عرب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سازگار موسمی حالات ملنے پر ٹڈی دل کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔مشرقی یمن سے غول اور لشکر کی صورت میں سعودی عرب ، اردن، کویت، مصر اورسوڈان ہجرت کرنے والے ٹڈی دل نے بعد میں ایران، پاکستان اور انڈیا کے صحرائی علاقوں کا رخ کیا ہے اور پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان سمیت ایران کے جنوب مشرقی صوبوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    ایران سے ٹڈی دل ہجرت کرکے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی وصحرائی علاقوں گوادر، کیچ ،پنجگور، خاران، واشک، چاغی اور نوشکی میں درختوں اور فصلوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے ان علاقوں کو متاثر کیا ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے خشک سالی کا شکار تھے تاہم رواں سال اچھی بارشیں ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے پر فصلیں اچھی آنے پر زمیندار خوش تھے مگر ٹڈی دل کے حملوں نے ان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکر واشک کے علاقوں ناگ، گورگی، باغ سوپک اور حسین زئی پہنچ گئے ہیں مگر سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ زمینداروں کی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی تیار فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کو بار بار درخواست دینے کے باوجود ہنگامی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ 20 دن پہلے دو گاڑیاں سپرے کے لیے فراہم کی گئیں مگر ڈسٹرکٹ واشک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ 43 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ضلع کو دو گاڑیوں سے کور نہیں کیا جا سکتا۔
    صغیر احمد نے 90 کی دہائی میں ٹڈی دل کا اس طرز کا حملہ دیکھا تھا۔ ان کے مطابق مکران، واشک، خاران اور چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے گذشتہ 12 سالوں سے خشک سالی کی لیپٹ میں تھے ۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ آمدن زراعت اور گلہ بانی ہے۔ خشک سالی کے باعث زمیندار اور گلہ بانی سے وابستہ افراد نان شبینہ کے محتاج ہو گئے تھے۔

    پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں 1997 کے بعد پہلی مرتبہ ٹڈی دل نے اس شدت سے یلغار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان سے قبل گوادر اور کیچ کے ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں گوادر، پسنی، تربت، دشت کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل اور بیلہ میں ٹڈی دل کی بڑی تعداد میں موجودگی کی رپورٹس ملیں جس پر ہم نے متاثرہ علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں۔

    اہل پاکستان کے لیے دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ عرب ممالک میں ٹڈیوں کو شوق سے پکا کر کھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین، آئرن، کیلشیم، سوڈیم وغیرہ پایا جاتا ہےٹڈیاں کھانے کے شوقین انہیں ’خشکی کا جھینگا ‘کہتے ہیں۔

  • دنیا کی آبادی کے بڑھنے کی وجہ اوسط عمر میں اضافہ ہے :اقوام متحدہ

    دنیا کی آبادی کے بڑھنے کی وجہ اوسط عمر میں اضافہ ہے :اقوام متحدہ

    دنیا بھر کی موجودہ اور آنے والے سالون میں آبادی سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے. اس رپورٹ کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 9 ارب 70 کروڑ اور 2100 تک 11 ارب ہونے کا امکان ہے۔ افریقی ممالک کی آبادی دو گنا ہو رہی ہے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے محکمہ اقتصادی اور سماجی امور کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 میں دنیا کی آدھی سے زائد آبادی نو ممالک میں رہائش پذیر ہو گی۔ جن میں پاکستان، امریکہ، انڈونیشیا، انڈیا، مصر، نائجیریا، کانگو، ایتھوپیا اورتنزانیہ شامل ہیں۔ دنیا کے سب سے گنجان آبادی والے ملک چین میں آبادی کی شرح 2019 سے 2050 تک 2.2 فیصد تک گر جائے گی یعنی 31.4 ملین تک کم ہو جائے گی۔

    27 ممالک یا علاقے ایسے ہیں جہاں 2010 سے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی کے باعث آبادی میں کم سے کم ایک فیصد کمی آئی ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بیلارُس، ایسٹونیا، جرمنی،ہنگری، اٹلی، جاپان،روس،سربیا، اور یوکرین میں شرح اموات شرح پیدائش سے زیادہ ہے تاہم آبادی میں کمی کا یہ تناسب تارکین وطن کی آمد کے باعث پورا ہو جائے گا۔
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990 میں دنیا میں مجموعی طور پر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت میں 3.2 سے 2.5 تک کمی آئی، اب توقع ہے کہ 2050 تک یہ شرح 2.2 تک آ جائے گی۔جبکہ غریب ممالک سمیت عمومی طور پر متوقع عمر دنیا بھر کی اوسط عمرسے سات سال کم ہو گئی ہے۔دنیا بھر میں 2050 تک متوقع عمر 77.1 سال ہو جائے گی جو کہ اس وقت 72.6 سال ہے۔ 1990 میں متوقع عمر 64.2 سال تھی۔

  • بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارت: دماغی وائرس سے100 سے زیادہ بچے ہلاک

    بھارتی ریاست بہار میں دماغی بیماری کے باعث ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے۔
    بھارتی حکام کےمطابق دماغی بیماری کا تعلق لیچی کے پھل سے جڑے وائرس سے ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہلاکتوں کی اصل وجہ معلوم کرنے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اس بیماری کا ذمہ دار لیچی کے پھل کو ٹھہرا رہی ہےحالانکہ ایسا نہیں ہےبعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ حکومت کا مؤقف لیچی کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔
    ریاست بہاررواں سال جون کے آغاز سے ’ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم‘ نامی وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کر رہی ہے۔ریاست کے شہرمظفرپورمیں واقع کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال میں اب تک 85 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جبکہ ایک نجی ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 18 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی

    چند سال پہلے امریکی محققین نے تصدیق کی تھی کہ دماغی بیماری کا تعلق کسی پھل میں موجود زہریلے مواد سے ہے، تاہم انہوں نے لیچی میں یہ زہر ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔ محققین نے واضح کیا تھا کہ بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مزید تحقیق کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے مرگی، دماغی حالت میں تبدیلی یا پھرموت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس مقامی طور پر ’چمکی بخار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور 2014 میں اس نے 150 لوگوں کی جان لی تھی۔ چمکی بخار 1995 سے ہر سال موسم گرما میں ریاست بہار کے ایک ہی ضلع میں پھیلتا ہے، جو لیچی کے پیدا ہونے کا موسم بھی ہے۔یہ وائرس بنگلہ دیش اور ویتنام کے لیچی اگانے والے علاقوں میں بھی پایا گیا ہے۔

    انڈیا کی شمالی ریاست بہارکا شمار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اس کی آبادی 10 کروڑ ہے اور اس وقت شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں بھی ہے جس کی وجہ سے 78 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے۔

  • سعودی عرب :حرم مکی کے ستونوں کی تاریخ کی دلچسپ کہانی

    سعودی عرب :حرم مکی کے ستونوں کی تاریخ کی دلچسپ کہانی

    حرم مکی جہاں روزانہ ہزاروں لوگ زیارت کے شوق سے جاتے ہیں اور وہاں گزرے ہوئے تمام لمحات ان کی زندگی کی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں .لیکن اس کے باوجود اس حرم کی زیارت کرنے والے اس کے خوبصورت ستونوں کی تاریخ سے شاید واقف نہیں .ان ستونوں کی تاریخ سے متعلق مورخ کیا لکھتے ہیں ذرا ملاحظہ فرمائیں

    عباسی اور ترک دور کے رواقوں کی’مطاف توسیعی پراجیکٹ‘ کے تحت اب دوبارہ بحالی کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ سابق سعودی فرما نروا شاہ عبداللہ کے دور میں شروع ہونے والی مسجد الحرام کی توسیع کے بعد اب یہ سعودی قیادت کے زیر اہتمام عالم اسلام کا مشترکہ ورثہ ہے۔مورخین کے مطابق بارہ سو سال پہلے قدیم دالانوں کی تعمیر کے لیے ٹنوں وزنی سنگ مرمر کے ستونوں کو عراق و شام سے مکہ مکرمہ تک لایا گیا لیکن یہ نا قابل یقین اور پراسرار لگتی ہے۔مکہ کے سابق مشیر اور معروف پاکستانی آرکیٹکٹ سلیم بخاری نے اردو نیوز کو بتایا کہ رواقوں کی دوبارہ بحالی کے کام میں سنگ مر مر اور پتھر کے سینکڑوں برس پرانے ستونوں کو نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا گیا ہے۔ قدیم مطاف کے دالانوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے ستونوں کی تعداد دوس سے تین سو جبکہ ان کی اونچائی لگ بھگ پانچ میٹر تھی۔ نئی تعمیر میں ستونوں کا ڈیزائن اور اونچائی تبدیل کی گئی ہے۔ یہ اونچائی عباسی اور ترک دور سے زیادہ ہے۔ ہر ستون کے نیچے ایک بڑا بیس بھی تعمیر کیا گیا ہے تاہم قدیم اور نئے رواقوں کے ڈیزائن میں کوئی خاص فرق نہیں۔

    حرم مکی کی مختلف ادوار میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔ مطاف کی بڑی توسیع عباسی خلیفہ مہدی کے دور میں کی گئی۔ ترکوں کے دور میں اس توسیع کے اوپر چھت ڈالی گئی، گنبد اور محراب بنائے گئے۔ اسی لیے حرم کے قدیم دالانوں کو ترکوں سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔ بعد ازاں شاہ سعود اور شاہ فہد کے دور میں توسیع ہوئی لیکن سارا توسیعی کام ترکوں اور بنو عباس کے قدیم دالانوں کے باہر کیا گیا تاہم شاہ عبداللہ کے دور میں مطاف کی توسیع کے لیے قدیم دالانوں کو منہدم کرکے دوبارہ بنایا گیا ہے۔عباسی خلیفہ المہدی نے مطاف کے دالانوں کی تعمیر شروع کی۔ اس کے بیٹے موسی الہادی نے اسے مکمل کیا۔ دالانوں کی تعمیر کے لیے شام اور عراق سے سنگ مر مر کے ستون منگوائے گئے۔ ان پر لکڑی کی بیموں کی چھت ڈالی گئی جو تقریباً 800 سال برقرار رہی۔ 1570ء میں لکڑی کی چھت میں آگ لگنے سے سنگ مرمر کے کئی ستون گر گئے اور کچھ چٹخ گئے۔ترک سلطان سلیم دوئم کے حکم پر ٹوٹے ہوئے ستونوں کی جگہ پتھر کے ستون لگائے گئے اور جو ستون چٹخ گئے تھے ان کی مرمت کرتے ہوئے انہیں لوہے کی پتریوں سے باندھا گیا جبکہ کچھ کو پلستر کر کے جوڑا گیا۔
    ایک اندازے کے مطابق قدیم دالانوں میں ہر چار میں سے ایک ستون کی مرمت کی گئی یا اسے پتھر کے ستون سے تبدیل کیا گیا۔ قدیم دلانوں میں عباسی دور کے ستون نصب ہیں تاہم لکڑی کی چھت گرنے کے بعد پکی چھت اور گنبد ترکوں کا کام ہے۔ اس کے لیے لال پتھر وادی فاطمہ سے لائے گئے تھے جو شمیسی کے قریب پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔ اس طرح کے کچھ پتھر اب بھی موجود ہیں۔

    مطاف کے دلانوں میں نصب ستون کتنے پرانے ہیں اور کہاں سے لائے گئے، اس کے پیچھے بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ پہلے خیال تھا کہ یہ ستون شام اور مصر سے لائے گئے ہوں گے لیکن اب ماہرین کا تحقیق کے بعد اس بات پر اتفاق ہے کہ بیشتر ستون غالباً عراق سے لائے گئے کیونکہ شام یا مصر سے ان ستونوں کا مکہ لانا مشکل تھا۔ کوفہ سے ان ستونوں کو بحری راستے سے لایا جا سکتا ہے کیونکہ کوفہ دریا کے قریب ہے۔ کشتی میں ستون لاد کر سمندر کے راستے سعودی بندرگاہ الشعیبہ تک لایا جانا ممکن لگتا ہے۔ بہ نسبت دمشق یا حلب سے کیونکہ ساحلی پٹی بحیرہ احمر کی طرف ہے۔ یا تو ستونوں کو بحری جہاز پر لاد کر پہلے عقبہ کی بندرگاہ بھی لے جایا جاتا اور وہاں سے جدہ کی بندرگاہ لایا جاتا لیکن تاریخ میں اس راستے کا کوئی ذکر نہیں۔ شام سے زمین کے راستے بھی یہ کام ممکن نہیں تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ ستونوں کو بصرہ سے خلیج عرب کے راستے عمان، حضر موت اور یمن سے ہوتے ہوئے الشعیبہ بندرگاہ لایا گیا ہوگا۔ اس زمانے میں الشعیبہ ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی تھی۔

  • امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوج تعینات کرنے سے باز رہے . روس اور چین کا انتباہ

    امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوج تعینات کرنے سے باز رہے . روس اور چین کا انتباہ

    امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوج تعینات کرنے سے باز رہے . روس اور چین کا انتباہ تازرہ ترین اطلات کے مطابق روس اور چین نے امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار فوجیوں کی تعیناتی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ پیر کو امریکہ نے خلیج عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملے کے بعد مزید ایک ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے قائم مقام سیکرٹری دفاع پیٹرک شیناہن نے کہا تھا کہ شرق الاوسط میں فوج کو دفاع کی غرض سے بھیجا جارہا ہے۔

    چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے تمام فریقین کو خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ’ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے خطے کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو. امریکہ پر زور دیا کہ وہ ’شدید دباؤ‘ ڈالنے کے عمل کو تبدیل کرے اور ساتھ میں تہران کو کہا کہ جوہری پروگرام کا معاہدہ آسانی سے نہ چھوڑے۔ادھر امریکہ کے پرانے حریف روس کے ڈپٹی وزیر خارجہ نے منگل کو کہا کہ امریکہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوج کی تعداد میں اضافہ کرنا خطے میں کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ڈپٹی وزیر خارجہ نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مہینے امریکہ کے وزیر خارجہ نے روس کے دورے کے موقع پر کہا تھا، امریکہ کی فوج جنگ کے لیے نہیں بلکہ اس سے بچنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔امریکی محکمہ دفاع نے گذشتہ ہفتے خلیج عمان میں تیل کے ٹینکروں پر حملوں کی تصاویر اور ویڈیو جاری کی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے مطابق ایران ان بحری جہازوں میں سے ایک پر حملہ کرنے میں ملوث ہے۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے جاپان کے تیل بردار بحری جہاز کوکوکا کریجئیس سے نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ ہٹائے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں کہا گیا ہے کہ کیوں مبینہ طور پر یہ بارودی سرنگیں ہٹائی گئی حالانکہ امریکی فوج اس علاقے میں تھی۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کی گئی مزید تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بحری جہاز پر بارودی سرنگیں پھٹی ہیں۔تہران نے ان بحری جہازوں پر حملوں کی تردید کی ہے اور اشارہ کیا کہ واشنگٹن نے ایران پر دباؤ ڈالنے لیے یہ حملے خود کیے ہیں۔دوسری جانب تیل بردار بحری جہاز کوکوکا کریجئیس کے سربراہ نے جمعہ کو کہا کہ عملے نے جہاز پر دوسرے حملے سے پہلے ایک ’اڑتی چیز‘ دیکھی تھی۔

  • ایون مورگن کے 17 چھکے ورلڈ ریکارڈ بنا دیا

    ایون مورگن کے 17 چھکے ورلڈ ریکارڈ بنا دیا

    ورلڈ کپ کے چوبیسویں میچ میں آج میزبان ٹیم انگلینڈ اور افغانستان مدمقابل ہیں. انگلینڈ کے کپتان ایون مورگن نے چوتھے نمبر پربیٹنگ کرتے ہوئے 17 چھکے اور 4 چوکے لگا کر ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا. اس سے پہلے کسی کھلاڑی نے اتنے چھکے نہیں لگائے. 148 رنز بنائے اور رحمت علی کی بال پر آؤٹ ہو گئے.

    بیئرسٹو نے 90 رنز اور روٹ نے 88 رنز بنائے. انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا.

    انگلینڈ نے افغانستان کو جیتنے کے لئے 398 رنز کا ہدف دیا ہے جو کہ افغانستان کے لئے ناممکن سا ہے کیونکہ افغانستان اب تک کوئی میچ نہیں جیتا. افغانستان کی پہلی وکٹ جلد ہی گر گئی ہے اور پہاڑ جیسا ہدف بہت ہی مشکل ہے.

  • سانحہ کرائسٹ چرچ ،مساجد پر حملے کی ویڈیوز کیوں شیئر کیں.عدالت نے شہری کو جیل بھیج دیا

    سانحہ کرائسٹ چرچ ،مساجد پر حملے کی ویڈیوز کیوں شیئر کیں.عدالت نے شہری کو جیل بھیج دیا

    نیوزی لینڈ :عدالت کا رواں سال مارچ میں دو مساجد پر حملے کی ویڈیوز شیئر کرنے والے شخص کو جیل بھیج دیا . کرائسٹ چرچ کی النور اور لین ووڈ مسجد پر آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کرکے 51 نمازیوں کو شہید جبکہ 80 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔اس واقعے کے چند دن بعد نیوزی لینڈ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش بھی کیا تھا اور اُن پر الزامات بھی لگائے گئے تھے۔حملہ آور نے مساجد پر حملے کے دوران واقعے کی ویڈیو فیس بک پر براہ راست چلائی تھی۔دہشت گرد حملے کی اسی ویڈیو کو شیئر کرنے والے افراد میں کرائسٹ چرچ کے 44 سالہ کاروباری شخص فلپ آرپس بھی شامل تھے۔یاد رہے کہ کرائسٹ چرچ پر حملے کے بعد دنیا بھر میں انتہا پسند عیسائیوں کی اسلام دشمنی کی شدید مزمت کی گئی .

    نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اس موقع پر مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کرائسٹ چرچ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کیا تھا. نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو اسلامی دنیا می بہت سراہا گیا .کرائسٹ چرچ پرحملے کے بعد نیوزی لینڈ میں ملک میں انتہا پسندی کے خلاف سخت نفرت پائی جانے لگی .وزیر اعظم نے ملک میں آئندہ ایسے کسی بھی سانحہ سے بچنے کے لیے سخت قانون سازی کی ہے .نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے ملک میں‌مسلمانوں کی مساجد اور دیگر مراکز کی سیکورٹی بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے.

  • ایران کی عالمی اداروں کو دھمکی

    ایران کی عالمی اداروں کو دھمکی

    ایران نے یورینیم کی افزودگی بڑھانے کی دھمکی دے دی

    تفصیلات کے مطابق ایران نے ایٹمی ڈیل کے فریقوں کو معاہدہ بچانے کے لیے دس روز کی مہلت دے دی ہے۔ ستائیس جون کے بعد ایران یورینیم کی افزودگی معینہ حد سے زیادہ کر دے گا۔

    ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ستائیس جون کے بعد ایران افزودہ یورینیم کی پیداوار تین سو کلو سے بڑھا دے گا اور افزودگی کی حد کو بھی بڑھا کر تین اعشاریہ سڑسٹ کر دیا جائے گا۔

    ایرانی ایٹمی ترجمان کا کہنا تھا ہے کہ ڈیل کو بچانے کے لیے اب بھی یورپی ممالک کے پاس کچھ وقت موجود ہے۔

    ادھر جرمن وزیر خارجہ نے ڈیل کو بچانے کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک کچھ نہیں بدلا، ڈیل اب بھی موجود ہے جبکہ نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک ایران ڈیل پر عمل کر رہا ہے، ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں۔

  • 29 سال میں کوششوں کے باوجود بجلی نہ ملنے پر کسان کی خودکشی

    29 سال میں کوششوں کے باوجود بجلی نہ ملنے پر کسان کی خودکشی

    دادا نے 1980 میں بجلی کنکشن کے لئے درخواست دی، مسلسل کوشش کے باوجود بجلی نہیں ملی، کسان نے خود کشی کی کوشش کی تو اسے ہسپتال داخل کروا دیا گیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی نے کی اپنی ہی رائفل سے خودکشی

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر میں مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کسان خود کشی پر مجبور ہیں،.مہاراشٹر کے علاقے بلڈھانا میں ایک کسان نے وزیر توانائی چندرشیکھر باونکُلے کے سامنے خود کشی کرنے کی کوشش کی، خود کشی کرنے سے قبل کسان نے کہا کہ میرے دادا نے 1980 میں بجلی کے لئے درخواست دی تھی، ابھی تک ہمارا کنکشن نہیں لگا. کسان ایشور کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا کسان نے اس سے قبل ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی تھی کی اگر میرے گھر کی بجلی نہ لگائی گئی تو وزیر کے سامنے زہر پی لوں گا، حکام نے توجہ نہ دی اور کسان نے وزیر کے سامنے زہر پی لیا.

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی