Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • جنگ بندی معاہدہ برقرار،حماس کا  یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان

    جنگ بندی معاہدہ برقرار،حماس کا یرغمالیوں کی رہائی کا اعلان

    غزہ میں حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے فیصلے پر عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔ حماس کے مطابق، ان کے نمائندوں نے قاہرہ میں مصری اور قطری ثالث کاروں سے جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کی ہے۔ اس بات چیت کے دوران فلسطینیوں کے لیے ضروری سامان جیسے رہائش، خیمے، طبی امداد، ایندھن اور دیگر ضروریات کی فراہمی پر بھی گفتگو کی گئی۔

    حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ مصری اور قطری ثالث کاروں کے ساتھ بات چیت مثبت رہی اور ثالث کاروں نے اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ حماس طے شدہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق قیدیوں کے تبادلے اور دیگر شرائط پر عمل درآمد کرے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزیوں پر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ہفتے تک یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہوئی تو جنگ بندی معاہدہ ختم کردیا جائے گا۔

    حماس کے اس حالیہ اعلان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر تنازعہ میں کمی آ سکتی ہے۔

  • رنویر الٰہ آبادیہ کا متنازع بیان ، عرفی جاوید، راکھی ساونت بھی مشکل میں پڑ گئیں

    رنویر الٰہ آبادیہ کا متنازع بیان ، عرفی جاوید، راکھی ساونت بھی مشکل میں پڑ گئیں

    بھارت میں رنویر الٰہ آبادیہ کے متنازع بیان پر پولیس تحقیقات میں شو کے متعدد افراد کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی یوٹیوبر اور پوڈکاسٹر رنویر الٰہ آبادیہ نے کامیڈین سمے رائنا کے شو میں ایک انتہائی غیر مناسب سوال پوچھا جس پر ملک بھر میں غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

    رنویر الٰہ آبادیہ کا سوال تھا کہ کیا آپ اپنے والدین کو اپنی ساری زندگی جنسی تعلقات میں مشغول دیکھنا پسند کریں گے یا ایک بار میں ان کی زندگی روکنے کے لئے آپ اس میں شامل ہوں گے؟“ اس سوال کے بعد شو کا ویڈیو کلپ وائرل ہوگیا اور فوری طور پر اس پر احتجا ج شروع ہوگیا۔

    حسینہ واجد کی حکومت نےے انسانیت کے خلاف جرائم کیے

    مہاراشٹر سائبر پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا اور اس کے تحت شو کے میزبان سمے رائنا، رنویر الٰہ آبادیہ اور دیگر مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو طلب کر لیا ہے جنہوں نے اس شو میں حصہ لیا ان میں مزاحیہ اداکار تنمے بھٹ، اداکارہ راکھی ساونت، انٹر نیٹ پرسنالٹی عرفی جاوید، اداکار سدھانت چترویدی اور سوشل میڈیا سیلیبریٹی دیپک کلال شامل ہیں۔

    پولیس نے شو کے حوالے سے فحش مواد نشر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 30 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جن میں شو کے ججز، شرکا، منتظمین اور دیگر لوگ شامل ہیں، اس میں کہا گیا ہے کہ شو میں شریک افراد نے غیر مہذب اور گندی زبان کا استعمال کیا، اور ایک شریک نے اروناچل پردیش کے بارے میں متنازعہ ریمارکس بھی کیے۔

    آئی سی سی نےشاہین شاہ آفریدی،سعود شکیل اور کامران غلام پر جرمانہ عائد کر دیا

    دوسری جانب مہاراشٹر خواتین کمیشن کی چیئرپرسن روپالی چاکنکر نے کہا کہ کمیشن نے پولیس کو شو کی نشریات روکنے اور اس پر ضروری قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن اس معاملے پر رپورٹ طلب کرے گا۔

    اسی دوران، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے میں سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا اس کے بعد ان کی ریاست میں بھی رنویر الٰہ آبادیہ اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،پولیس نے شو میں شامل دیگر افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں، جن میں آشیش چنچلانی اور اپوروا مکھیجا شامل ہیں یہ معاملہ ابھی بھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور اس پر مزید کارروائی کی توقع ہے۔

    امریکا کےریویرامنصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے،سعودی سفیر

  • حسینہ واجد کی حکومت نےے انسانیت کے خلاف جرائم کیے

    حسینہ واجد کی حکومت نےے انسانیت کے خلاف جرائم کیے

    جنیوا: اقوام متحدہ نے بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں رہنے کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کیے-

    یو این رپورٹ میں گزشتہ سال یکم جولائی سے 15 اگست تک بنگلادیش میں پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کا کہنا ہےکہ ان کے پاس یہ بات کہنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ شیخ حسینہ حکومت انسانیت کے خلاف جرائم، قتل، تشدد، قید و بند اور بہت سے انسانیت سوز اقدامات میں ملوث رہی ہے۔

    کراچی میں حادثات،شرجیل میمن کا ایکشن،سڑکوں پر گاڑیوں کیلئے پالیسی آ گئی

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ حکومت نے یہ جرائم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پارٹی کے پرتشدد عناصر کے ساتھ مل کر کیے جب کہ بنگلادیش کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز بھی ان سب اقدامات میں شامل رہی ہیں جن میں ملک میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج پر منصوبہ بندی کے تحت کریک ڈاؤن کیا گیا اور دیگر عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، یہ تمام اقدامات شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے کیے،بنگلادیش میں گزشتہ سال 45 دنوں تک ہونے والے احتجاج میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 1400 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 12 سے 13 فیصد کم عمرشامل ہیں۔

    امریکا کےریویرامنصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے،سعودی سفیر

    واضح رہےکہ بنگلادیش میں شدید احتجاج کے بعد 77 سالہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئی تھیں جب کہ انہیں پہلے ہی انسانیت کے خلاف جرائم پر بنگلادیش کی عدالتوں سے گرفتاری کے وارنٹس کا سامنا ہے۔

  • امریکا کےریویرامنصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے،سعودی سفیر

    امریکا کےریویرامنصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے،سعودی سفیر

    لندن: برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی کسی بھی ملک بشمول سعودی عرب منتقلی کےساتھ ٹرمپ کا ‘ریویرا’ (ساحلی تفریحی مقام) منصوبہ قابل قبول نہیں۔

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم سے نیتن یاہو واشنگٹن میں ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں اپنا منصوبہ پیش کیا تھا،کہا تھا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو کریں گے تاہم فلسطینیوں کو وہاں سے دوسرے ممالک میں بسائیں گے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تجویز بھی رکھی تھی کہ فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں بسایا جائے گا کیوں یہ ممالک امریکا سے مالی امداد لیتے ہیں اس لیے آمادہ ہوجائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو فلسطینی، حماس، عرب ممالک،پاکستان، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک بھی مسترد کرچکے ہیں۔

    اب برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو سختی سے رد کیا ہے،شہزادہ خالد بن بندر نےکہا کہ سعودی عرب کو امریکا کےریویرا (ساحلی تفریحی مقام) منصوبے پر اعتراض نہیں مگرفلسطینیوں کو غزہ سے نہ نکالاجائے۔

    سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

    شہزادہ خالد کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کامؤقف ہے وہ غزہ میں ریویرا بنانےکا خیر مقدم کرے گا، میرا خیال ہے غزہ میں ریویرا بنانا زبردست بات ہوگی مگر یہ منصوبہ غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے بغیر بنایا جائے، فلسطینیوں کی کسی بھی ملک بشمول سعودی عرب منتقلی کے ساتھ’ریویرا’ قبول نہیں-

    انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں فلسطین کی سرزمین فلسطینیوں کی ہے اور یہ ان کا علاقہ ہے، امریکاغزہ میں صورتحال تبدیل کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں مگر وہاں فلسطینیوں کا حق ہے کہ انہیں وہاں رہنے دیا جائے۔

    مشی خان کا ڈکی بھائی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

  • سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

    سمندر میں تباہ ہونے والی آبدوز ’ٹائٹن‘ کے پھٹنے کی خوفناک آڈیو جاری

    امریکی سائنٹیفک ایجنسی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموس فیرک ایڈمنسٹریشن نے ٹائی ٹینک کے ملبے کی طرف سفر کے دوران تباہ ہونے والی آبدوز ٹائٹن کی تباہی کے وقت کی خوفناک آڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ادارے کی جانب سے جاری کردہ 20 سیکنڈ کی آڈیو میں کسی چیز کے پھٹنے کی آواز ہے اور پھر ایک شور سنائی دیتا ہے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائی ٹینک کے ملبے کی جانب سفر کے دوران تباہ آبدوز ٹائٹن کی تباہی کے وقت کی آوازیں ہیں۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق اس ریکارڈنگ کو ایک مورڈ پیوسیو ایکوسٹک کے ذریعے حاصل کیا گیا جہاں سے تقریباً 900 میل دور اوشین گیٹ کی آبدوز پانی کے دباؤ میں پھنس گئی تھی اس حوالے سے امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا اس کلپ سے پتا چلتا ہے کہ یہ ٹائٹن کے آبدوز کے پھٹنے کی آواز کے اخراج کے صوتی اخراج کا مجموعہ ہے۔

    امریکی بحریہ کا طیارہ سان ڈیاگو بے میں حادثے کا شکار

    واضح رہے کہ اوشین گیٹ Expeditions کی تیار کردہ یہ آبدوز گزشتہ سال18 جون کو بحر اوقیانوس میں ٹائی ٹینک کی جانب جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی اس کے نتیجے میں ٹائٹن آبدوز میں سوار کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اسٹاکٹن رش، دو پاکستانی شہری شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد سمیت ہیمش ہارڈنگ اور پال ہنری نارجیولیٹ ہلاک ہو گئےتھےکئی دن کی تلاش کے بعد اس کا ملبہ دریافت ہوا تھا اور حکام نے بتایا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آبدوز ٹائٹن لاپتا ہونے کے فوراً بعد ہی تباہ ہوگئی تھی۔

    شوبز چھوڑنے کیلئے مولانا طارق جمیل نے 3 کروڑ روپے کی آفر کی

  • امریکی بحریہ کا طیارہ سان ڈیاگو بے میں حادثے کا شکار

    امریکی بحریہ کا طیارہ سان ڈیاگو بے میں حادثے کا شکار

    امریکی بحریہ کا ایک طیارہ سان ڈیاگو بے کے قریب شیلٹر آئی لینڈ میں لینڈنگ کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔

    یو ایس نیوی کے مطابق حادثہ 11 فروری 2025 کو صبح 10:15 بجے پیش آیا، جب EA-18G Growler طیارہ شیلٹر آئی لینڈ کے قریب زمین پر گر گیا۔ یہ طیارہ ایف 18 سپر ہارنٹ کی ایک قسم ہے اور الیکٹرانک اٹیک اسکواڈرن (VAQ) 135 کا حصہ تھا، جو واشنگٹن کے نیول ایئر اسٹیشن Whidbey Island پر تعینات تھا۔حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹس کو فوری طور پر بچا لیا گیا اور انہیں ہل کرسٹ کے یو سی سان ڈیاگو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں پائلٹس ایجکٹ کرنے میں کامیاب رہے اور ایک منٹ تک پانی میں رہنے کے بعد مچھلی پکڑنے والے ایک جہاز نے انہیں بچا لیا۔اس حادثے کے بعد، یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نیول بیس Coronado نے ایک ہنگامی آپریشن سینٹر قائم کیا ہے اور اس حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔

    امریکا میں ایک ماہ کے اندر پیش آنے والے فضائی حادثات

    یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا جب امریکا میں حالیہ مہینوں کے دوران فضائی حادثات کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے
    11 فروری: ایریزونا کے اسکاٹسڈیل ایئرپورٹ پر دو طیارے آپس میں ٹکرا گئے۔ اس حادثے میں ایک نجی جیٹ طیارہ رن وے پر کھڑے طیارے سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جیٹ طیارے کا پائلٹ ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوگئے۔
    3 فروری: ہیوسٹن سے نیویارک جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز کے انجن میں آگ لگ گئی، جس کے بعد فوری طور پر پرواز کو خالی کروانا پڑا۔
    یکم فروری: فلڈیلفیا میں روزویلٹ مال کے قریب لیر جیٹ 55 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ طیارہ اسپرنگ فیلڈ برینسن نیشنل ایئرپورٹ جا رہا تھا۔
    30 جنوری: واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی ایئرلائنز کے طیارے اور ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم ہوگیا۔ اس حادثے میں دونوں طیارے فضا میں ٹکرا کر دریا میں گر گئے، جس کے نتیجے میں تمام 67 افراد ہلاک ہو گئے۔

    یہ فضائی حادثات اور ان کی تحقیقات امریکی فضائی حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور حکام اس بارے میں مزید تفتیش کر رہے ہیں۔

  • بھارت میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ

    بھارت میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ

    بھارت میں گزشتہ سال کے دوران مذہبی اقلیتی گروپوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومتی ہندو قوم پرست پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی طرف سے بھی نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی۔

    واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارہ "انڈیا ہیٹ لیب” کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں مسلمانوں اور عیسائی اقلیتی گروپوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں کے واقعات کی تعداد 1,165 تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال 668 تھی، یعنی 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں سے تقریباً 98 فیصد مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا،رپورٹ میں کہا گیا کہ "2024 میں بھارت میں نفرت انگیز تقریر ایک خطرناک راستے پر چلی، جو حکومتی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وسیع تر ہندو قوم پرست تحریک کے نظریاتی عزائم سے جڑی ہوئی ہے۔”

    وزیراعظم مودی، جو گزشتہ سال انتخابات میں تیسری مدت کے لیے منتخب ہوئے، پر طویل عرصے سے الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کے خلاف تشویش ناک فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا ہے اور تشدد کے واقعات کو ہوا دی ہے۔ ان کی ہندو قوم پرست پارٹی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جو کہ آئینی طور پر ایک سیکولر ملک ہے، اور ان کی جماعت پر یہ الزام ہے کہ وہ اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کو نظر انداز کر رہی ہے۔مودی اور ان کی بی جے پی نے بار بار کہا ہے کہ وہ اقلیتی گروپوں کے خلاف تفریق نہیں کرتے۔

    رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال نفرت انگیز تقریروں نے "ہندو قوم پرستی کے دیرینہ تصورات” کو مزید تقویت دی، جیسے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو "غیر ملکی” اور "حملہ آور” کے طور پر پیش کیا گیا، جو بھارت میں اپنی موجودگی کا کوئی جائز حق نہیں رکھتے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بی جے پی نے گزشتہ سال نفرت انگیز تقریروں کے تقریباً 30 فیصد واقعات کی تنظیم کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے، اور پارٹی کے رہنماؤں نے 452 نفرت انگیز تقریریں کیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 350 فیصد اضافہ تھا۔ ان تقریروں کا بیشتر حصہ عام انتخابات کی مہم کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔مودی پر ماضی میں انتخابی مہموں کے دوران اسلام مخالف بیانات دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے، "یہ اعلیٰ سطح کی نفرت انگیز تقریریں (مودی اور طاقتور علاقائی رہنماؤں کی طرف سے) مزید مقامی بی جے پی رہنماؤں، ہندو دائیں بازو کی تنظیموں اور مذہبی شخصیات کی طرف سے بڑھاوا دی گئیں، جو ایسی ہی تقریریں کمیونٹی اور عوامی سطح پر پھیلاتے ہیں۔”

    مودی کے تحت ہندو قوم پرستوں کو حکومت کے اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا ہے، جس سے انہیں وہ طاقت حاصل ہوئی ہے کہ وہ قانون سازی میں ایسے تبدیلیاں کریں جو حقوق گروپوں کے مطابق مسلمانوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ بھارت کی سابقہ اسلامی حکمرانوں کی تاریخ کو بدلنے کے لیے نصاب کو دوبارہ لکھا گیا، مغل دور کے ناموں والے شہروں اور سڑکوں کو دوبارہ نام دیا گیا اور مسلمانوں کی جائیدادوں کو حکام کی طرف سے حکومت کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کے الزام میں مسمار کر دیا گیا۔

    2019 میں، مودی نے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختاری ختم کر دی – جو بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے – اور اسے دہلی کے براہ راست کنٹرول میں لے لیا۔ اسی سال، ان کی حکومت نے ایک متنازعہ شہریت قانون منظور کیا، جس میں مسلم پناہ گزینوں کو شامل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے خونریز فسادات ہوئے۔بھارت میں نفرت انگیز تقریر کو کئی دفعات کے تحت قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے،تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں نفرت انگیز تقریر میں اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ عدلیہ اس بارے میں کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہے، حالانکہ مختلف قوانین کے تحت اس کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے۔

    اناس تنویر، ایک وکیل اور انڈین سول لبرٹیز یونین کے بانی نے کہا، "عدلیہ نے نفرت انگیز تقریر کے خلاف واضح ممانعت کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے۔”

    انڈیا ہیٹ لیب، جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک سنٹر فار اسٹڈیز آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کا ایک منصوبہ ہے، دنیا کی سب سے بڑی جموکری میں نفرت انگیز تقریر کے بارے میں سالانہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق نفرت انگیز تقریر کی تعریف کرتا ہے، جو کسی بھی قسم کی تقریر، تحریر یا رویے کو ظاہر کرتا ہے جو کسی شخص کے مذہب کی بنیاد پر حملہ آور یا امتیازی زبان استعمال کرتا ہو۔

  • مصر اور اردن فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو پر متفق

    مصر اور اردن فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو پر متفق

    مصر اور اردن نے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے اہم معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی دوبارہ تعمیر پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کیا گیا۔

    مصری صدارتی دفتر نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں فلسطینیوں کی بے دخلی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں کی موجودگی کے بغیر تعمیر نو کا عمل نہیں کیا جا سکتا۔اس ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعاون کی خواہش بھی ظاہر کی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔

    اردن، مصر اور سعودی عرب پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں جس میں فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کا ذکر تھا۔ اس حوالے سے اردن کے شاہ عبداللہ نے گزشتہ دنوں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور ان کی سرزمین کا تحفظ اہم ہے۔

    یہ اقدام مصر اور اردن کی طرف سے فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کے عزم کا مظہر ہے اور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی نظر میں مشرق وسطیٰ کے امن کا راستہ فلسطینیوں کے حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔

  • راس الخیمہ: کاکروچ نکلنے پر ریسٹورنٹ پر 1 لاکھ درہم جرمانہ

    راس الخیمہ: کاکروچ نکلنے پر ریسٹورنٹ پر 1 لاکھ درہم جرمانہ

    راس الخیمہ کے ایک ریسٹورنٹ پر 1 لاکھ درہم کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا، جب ایک خاتون گاہک کو اپنی سی فوڈ سوپ میں کاکروچ ملا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق متحدہ عرب مارات کی ریاست راس الخیمہ کے ایک ریسٹورنٹ پر واقعے کی تحقیقات کے دوران حکام نے ریسٹورنٹ میں متعدد حفظانِ صحت کی خلاف ورزیاں اور غیر معیاری فوڈ ہینڈلنگ کے شواہد دریافت کیے۔عدالتی فیصلے کے تحت ریسٹورنٹ کے مالک پر 1 لاکھ درہم اور ایک ملازم پر 5 ہزار درہم کا جرمانہ عائد کیا گیا۔یہ کارروائی فوڈ سیفٹی انسپکٹرز کی رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی۔

    آفاق احمد کیخلاف دہشتگردی و دیگر دفعات کا ایک اور مقدمہ

    الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز ، بجلی نرخ میں کمی متوقع

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے تو ریکارڈ بنتے ہے، محمد رضوان کی پریس کانفرنس

  • یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات "فوری طور پر” شروع ہوں گے، یہ اعلان انھوں نے بدھ کی صبح روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک "طویل اور انتہائی نتیجہ خیز” ٹیلی فون کال کے بعد کیا۔

    یہ کال، جو ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں صدور کے درمیان پہلی معروف بات چیت تھی، اس وقت ہوئی جب ٹرمپ اپنے مشیروں کو یہ واضح کر رہے تھے کہ وہ یوکرین کے تنازعے کو جلدی سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ منگل کو ایک قیدیوں کے تبادلے کا عمل اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوششیں کی جا سکتی ہیں، جو اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہونے والی ہے۔

    اب جب کہ دونوں رہنما طویل خاموشی کے بعد ایک دوسرے سے بات چیت دوبارہ شروع کر رہے ہیں، ٹرمپ کے امن منصوبے کے خاکے کی تفصیلات زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس بات چیت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا، "ہم نے یوکرین، مشرق وسطیٰ، توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈالر کی طاقت اور دیگر مختلف موضوعات پر بات کی۔””ہم نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، اور ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے متعلقہ ٹیمیں فوراً مذاکرات شروع کریں گی، اور ہم یوکرین کے صدر زیلنسکی کو فون کر کے انہیں اس بات چیت سے آگاہ کریں گے، جو میں ابھی کر رہا ہوں۔” ٹرمپ نے لکھا۔

    واشنگٹن اور ماسکو نے اس کال کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ہم آہنگی کا تاثر دیا۔کریملن نے کہا کہ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان تقریبا 90 منٹ تک بات چیت ہوئی۔

    ٹرمپ نے کئی ہفتوں سے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ پیوٹن سے بات کرنا چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کے تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔

    اسی دوران، امریکی حکام اس ہفتے یورپ میں موجود ہیں اور انہوں نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح کرنا شروع کر دیا ہے۔ برسلز میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفاعی سکریٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ یوکرین کا نیٹو میں شمولیت غیر حقیقت پسندانہ ہے اور امریکی انتظامیہ اب یورپی اور یوکرینی سلامتی کو ترجیح نہیں دے گی، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنا دھیان امریکی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور چین کے ساتھ جنگ کو روکنے پر مرکوز کرے گی۔

    اس کے علاوہ، ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ ایک معاہدے پر بات کی تھی جس کے تحت امریکہ یوکرین کے قیمتی معدنیات تک رسائی حاصل کرے گا، بدلے میں امریکہ یوکرین کو اپنی امداد جاری رکھے گا۔ٹرمپ نے پیوٹن سے بات کرنے کے فوراً بعد زیلنسکی کے ساتھ بھی بات کی۔

    ان کے پیشرو، صدر جو بائیڈن نے گزشتہ تین سالوں میں اپنے روسی ہم منصب سے بات نہیں کی تھی، کیونکہ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ ایک جنگی مجرم سمجھے جانے والے رہنما سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    روس کا دورہ کرنے والے آخری امریکی صدر براک اوباما تھے، جو 2013 میں G20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس گئے تھے۔ پیوٹن نے آخری بار 2015 میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، جب وہ اقوام متحدہ کی بات چیت کے لیے وہاں آئے تھے۔

    اس دوران، اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے ٹرمپ کی ٹیم کے ایک رکن اسٹیو وٹکوف نے بدھ کو پیوٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکی قیدی مارک فوگل کی رہائی ایک اشارہ ہے کہ روسی جنگ کے مستقبل میں کیا ممکنہ امکانات ہو سکتے ہیں۔

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری