Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پی ایس ایل کی  ٹیموں کے نئے خریدار مل گئے

    پی ایس ایل کی ٹیموں کے نئے خریدار مل گئے

    پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے آغاز سے قبل بورڈ نے 11ویں ایڈیشن کیلئے 2 نئی فرنچائزز کے خریدار ڈھونڈ نکالے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کرکٹ میں متحرک 2 پاکستانی شخصیات پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، جس پر بات چیت جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات میں سے کوئی ایک پی ایس ایل ٹیم خرید سکتا ہے جبکہ ملکی کرکٹ کے ایک اہم اسٹیک ہولڈر کو بھی ٹیم خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اسی طرح بورڈ کی خواہش ہے کہ مسقبل میں پی ایس ایل کے بعض میچز کا انعقاد بھی امریکا میں کرایا جائے، اس حوالے سے لیگ کے سربراہ سلمان نصیر ان دنوں امریکا کے مختلف شہروں کا دورہ کر رہے ہیں۔

    قبل ازیں چیئرمین محسن نقوی بطور ملکی وزیر داخلہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلیے وہاں گئے تھے، جہاں انہوں نے امریکی کرکٹ میں متحرک دو پاکستانی آفیشلز سے ملاقات بھی کی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی کرکٹ لیگ میں بیشتر ٹیم مالکان بھارتی ہیں، کرکٹ ایسوسی ایشن کا بھی یہی حال ہے، ایسے میں پاکستان کیلئے وہاں جلد قدم جمانا آسان نہیں ہوگا، البتہ بڑی مارکیٹ کو تنہا بھارت کیلیے چھوڑ دینا بھی مناسب نہیں، اسی لیے پی سی بی مختلف راہیں تلاش کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن میں 2 نئی ٹیمیں بھی شامل ہوں گی۔

  • جنرل ساحر شمشاد کی اطالوی وزیر دفاع، اعلی عسکری قیادت سے ملاقات

    جنرل ساحر شمشاد کی اطالوی وزیر دفاع، اعلی عسکری قیادت سے ملاقات

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد نے اطالوی وزیر دفاع اور عسکری قیادت سے ملاقات کی، جس میں جیو اسٹریٹجک صورتحال، دفاع اور سیکیورٹی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے پر غور کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اٹلی جنرل ساحر شمشاد کے سرکاری دورے پر ہیں، جنہوں نے اطالوی وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل لوسیانو پورٹولانو، اطالوی فوج کے چیف آف اسٹاف جنیل کارمین اور لیونارڈو کے چیف ایگزیکٹو افسر کارلو گوالڈارونی سے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں کے دوران جیو اسٹریٹجک صورتحال پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے پر بھی غور ہوا۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ اٹلی کی سول اور عسکری قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا.قبل ازیں اطالوی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر چاق و چوبند فوجی دستے نے جنرل ساحر شمشاد کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    پاکستان میں کرنسی کی گردش 9.4 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات 5 لاکھ روپے کرنے کی منظوری

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

  • ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    ٹرمپ نے اہم ایجنسیوں کے کئی عہدیداروں کوبرطرف کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم سرکاری اداروں کے آزادنہ حیثیت میں کام کرنے والے انسپکٹر جنرل کو برطرف کر دیا۔

    امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے اس معاملے سے باخبر افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن ایجنسیوں کے حکام کو برطرف کیا گیا ان میں دفاع، ریاست، نقل و حمل، سابق فوجیوں کے امور، ہاؤسنگ اور اربن ڈیولپمنٹ، داخلہ اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔نیویارک ٹائمز نے کہا کہ برطرفی کے احکامات نے 17 ایجنسیوں کو متاثر کیا لیکن محکمہ انصاف کے انسپکٹر جنرل مائیکل ہورووٹز برطرفی سے محفوٖظ رہے۔واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ برطرفی کے احکامات بظاہر ان وفاقی قانون کی خلاف ورزی لگتے ہیں جن کے تحت کانگریس کو انسپکٹر جنرل کو برطرف کرنے کے ادارے سے متعلق 30 دن کا نوٹس موصول کرنا ہوگا۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر رپورٹس پر رد عمل دینے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

    واضح رہے کہ انسپکٹر جنرل ایک آزاد عہدہ ہے جو ضیاع، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعال سے متعلق آڈٹ، تحقیقات اور الزامات کے حوالے سے کام کرتا ہے، انہیں صدر یا متعلقہ ایجنسی کا سربراہ ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کس نے نامزد یا مقرر کیا۔برطرف کیے جانے والوں میں سے زیادہ تر کو ٹرمپ کے 2017-2021 کے پہلے دور میں مقرر کیا گیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ افراد کو وائٹ ہاؤس عملے کے ڈائریکٹر کی جانب سے ای میلز کے ذریعے فیصلے سے مطلع کیا گیا تھا کہ انہیں فوری طور پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہ و مراعات 5 لاکھ روپے کرنے کی منظوری

    بلوچستان کے 25 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کل ہوں گے

    سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

  • کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    کینیڈین امیگریشن، 2027 تک کینیڈا میں عارضی رہائشیوں کی تعداد میں کمی

    کینیڈا نے 2025-2027 کے امیگریشن لیولز پلان کا اعلان کیا ہے، جس میں پہلی بار عارضی رہائشیوں، خاص طور پر بین الاقوامی طلباء اور غیر ملکی ورکرز، کے لیے کنٹرولڈ اہداف شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مستقل رہائشیوں کے لیے بھی اہداف متعین کیے گئے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کینیڈا کی آبادی حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھی ہے اور اپریل 2024 تک 41 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ 2023 میں ہونے والے 98 فیصد آبادی کے اضافے کا سبب امیگریشن تھا، جس میں سے 60 فیصد عارضی رہائشیوں پر مشتمل تھا۔کینیڈا اپنے مستقل رہائشی اہداف کو 2025 میں 500,000 سے کم کر کے 395,000، 2026 میں 380,000 اور 2027 میں 365,000 تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔امیگریشن پلان عارضی رہائشیوں کی تعداد کو 2026 کے آخر تک کینیڈا کی کل آبادی کے 5 فیصد تک محدود کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ستمبر میں اعلان کردہ اقدامات کے تحت، کینیڈا کی عارضی آبادی آئندہ چند سالوں میں کم ہو جائے گی کیونکہ زیادہ عارضی رہائشی مستقل رہائشی بن جائیں گے یا کینیڈا چھوڑ دیں گے۔

    2025 میں کینیڈا کی عارضی آبادی 445,901 کی کمی کا سامنا کرے گی، 2026 میں یہ کمی 445,662 تک پہنچے گی، جبکہ 2027 میں معمولی اضافہ 17,439 دیکھا جائے گا۔ اناہداف مختصر مدتی سیاحوں یا موسمی ورکرز کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ صرف نئے عارضی رہائشیوں کے اعدادوشمار پر مشتمل ہیں۔نئے عارضی رہائشیوں کے اہداف 2025 میں 673,650، 2026 میں 516,600، اور 2027 میں 543,600 مقرر کیے گئے ہیں۔ 2025 کے لیے بین الاقوامی طلباء کے اہداف (صرف نئے داخلے) کُل نئے عارضی رہائشیوں کے 45 فیصد پر مشتمل ہیں۔

    2026 اور 2027 میں بین الاقوامی طلباء بالترتیب 59 فیصد اور 56 فیصد عارضی رہائشیوں کی اکثریت ہوں گے، جبکہ باقی عارضی ورکرز کو دیا جائے گا۔2025 میں مستقل رہائشی کے طور پر داخل ہونے والوں میں 40 فیصد سے زیادہ تعداد ان افراد کی ہوگی جو پہلے ہی کینیڈا میں طلباء یا ورکرز کے طور پر موجود ہیں۔یہ کمی گزشتہ سال کے دوران مختلف تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں، جن میں بین الاقوامی طلباء کے لیے حد بندی اور عارضی غیر ملکی ورکرز کے لیے سخت معیار شامل ہیں، تاکہ پروگراموں کی تعداد میں کمی اور ان کی شفافیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

    2025-2027 کے امیگریشن لیولز پلان کے مطابق، 2025 اور 2026 میں کینیڈا کی آبادی میں 0.2 فیصد کی معمولی کمی متوقع ہے، جبکہ 2027 میں یہ دوبارہ 0.8 فیصد اضافے کی طرف لوٹ آئے گی۔ یہ پیشگوئیاں کم اہداف، قدرتی آبادی میں کمی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔

    کینیڈا میں موجود افراد کے لیے

    کینیڈا نے ملک میں موجود طلباء اور ورکرز کو مستقل رہائشی حیثیت دینے کے لیے منصوبہ بنایا ہے۔ 2025 میں مستقل رہائشی داخلوں کے 40 فیصد سے زیادہ ان افراد پر مشتمل ہوں گے، جو پہلے ہی کینیڈا میں مقیم، تربیت یافتہ، اور معاشی نظام میں ضم ہیں۔ یہ افراد کینیڈا کی معیشت اور افرادی قوت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • سوڈان:سعودی اسپتال پر بمباری ،عمارت تباہ،30  افراد ہلاک،کئی زخمی

    سوڈان:سعودی اسپتال پر بمباری ،عمارت تباہ،30 افراد ہلاک،کئی زخمی

    پورٹ سوڈان شمالی دارفور کے محصور دارالحکومت الفشر میں حملے میں 30 افراد ہلاک،کئی زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کے مطابق ایک طبی ذریعے نے ہفتے کے روز بتایا کہ سوڈان کے دارفور علاقے میں الفشر کے آخری کام کرنے والے اسپتالوں میں سے ایک پر ڈرون حملے میں 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

    ذرائع نے جوابی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ کی شام سعودی اسپتال پر بمباری سے اسپتال کی عمارت "تباہ” ہوگئی جہاں ہنگامی حالات میں علاج کیا جاتا تھافوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سوڈان کے متحارب فریقوں میں سے کس نے حملہ کیا تھا۔

    ضلع خیبر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن،4 خوارج ہلاک ، 2 زخمی

    اپریل 2023 سے، سوڈانی فوج نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ جنگ ​​میں ہے، جنہوں نے دارفور کے تقریباً پورے وسیع مغربی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے انہوں نے مئی سے شمالی دارفور کے ریاستی دارالحکومت الفشر کا محاصرہ کر رکھا ہے، لیکن وہ شہر پر دعویٰ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جہاں اسے فوج سے منسلک ملیشیا کی مزاحمت کا سامنا ہے-

    طبی ذرائع کے مطابق، اسی عمارت کو "چند ہفتے قبل” ایک RSF ڈرون نے نشانہ بنایا تھا۔

    پاکستان میں اس وقت دو طرح کی سیاست ہورہی ہے،عظمیٰ بخاری

    الفشر میں صحت کی دیکھ بھال پر حملے بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں، جہاں طبی خیراتی ادارے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے اس ماہ کہا تھا کہ سعودی ہسپتال "واحد سرکاری ہسپتال ہے جس میں جراحی کی صلاحیت ابھی تک موجود ہے”۔

    باقاعدہ فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان 21 ماہ کی لڑائی کے دوران سوڈان بھر میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ 20لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے جبکہ لک بھر میں، 80 فیصد تک صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات متاثر ہو ئی ہیں –

    2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    الفشر کے آس پاس کے علاقے میں، قحط نے پہلے ہی تین بے گھر کیمپوں – زمزم، ابوشوق اور السلام – میں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق قحط مئی تک شہر سمیت پانچ مزید علاقوں تک پھیلنے کی توقع ہے۔

  • 2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    عالمی سیاحت کی صنعت نے کورونا وبا کے بعد خود کو تیزی سے سنبھالا ہے اور 2024 میں بین الاقوامی سیاحت کی تعداد 1.4 ارب تک پہنچ گئی، جو 2019 کے دوران کی جانے والی سیاحت کے قریب 99% تھی۔ اس کے نتیجے میں سیاحت کی صنعت میں 1.9 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر سیاح نے اوسطاً 1000 ڈالر سے زائد خرچ کیے۔

    دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیاحت یورپ میں ہوئی جہاں 747 ملین سیاحوں نے 2024 میں یورپ کا سفر کیا۔ روس کے یوکرین پر حملے کے باوجود یہ تعداد خاص طور پر متاثر کن رہی۔ فرانس 2024 میں دنیا کا سب سے زیادہ سیاحت کرنے والا ملک رہا، جہاں 100 ملین سیاحوں نے قدم رکھا۔ اس کے بعد اسپین تھا جسے 98 ملین سیاحوں نے اپنی منزل بنایا۔فرانس کی سیاحت کے محکمے "اٹو فرانس” نے اس سال کو فرانس کی سیاحت کے لیے ایک غیر معمولی سال قرار دیا اور 2025 کے لیے روشن امکانات کی امید ظاہر کی۔ فرانس کی سیاحت کے لیے اہم عوامل میں 2024 کے اولمپک کھیل، پیرس کی مشہور نوٹرے ڈیم کی دوبارہ کھلنا اور نورمنڈی میں ڈی ڈے لینڈنگز کی 80 ویں سالگرہ شامل تھیں۔

    ایشیا اور بحرالکاہل میں 316 ملین سیاحوں نے 2024 میں سفر کیا، جب کہ 213 ملین افراد نے امریکہ اور 95 ملین افراد نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا۔ افریقہ میں 74 ملین افراد نے سیاحت کی۔ انٹرنیشنل اینٹارکٹیکا کی سیاحت کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔

    چھوٹے ممالک میں بھی سیاحت کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قطر نے 137% کے اضافے کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں اہم کامیابی حاصل کی، جس کا بڑا سبب اس کی انفراسٹرکچر میں کی جانے والی سرمایہ کاری تھی۔ قطر ایئر ویز کو 2024 میں دنیا کی بہترین ایئر لائن کا درجہ ملا، جبکہ دوحہ کے حماد بین الاقوامی ہوائی اڈے نے دنیا کے بہترین ہوائی اڈے کا اعزاز حاصل کیا۔

    2024 کی سیاحت کی واپسی کے ساتھ ساتھ عالمی سیاحت میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا۔ اسپین جیسے مقامات جہاں سیاحت بڑھ رہی ہے، وہاں مقامی عوام نے سیاحوں کے خلاف متعدد احتجاجات کیے ہیں، جیسے بارسلونا میں پانی کی پستول سے سیاحوں کو نشانہ بنانا اور سیویلے میں سیاحوں کے لیے انٹری فیس لگانے کی تجویز۔

    اٹلی میں وینس اور فلورنس جیسے شہر بڑے سیاحتی گروپوں پر پابندی لگا چکے ہیں۔ دیگر احتیاطی تدابیر میں رات کے وقت سوئمنگ پر پابندی، سیاحتی مقامات پر "ٹریفک لائٹس” کا نظام، اور ساحلوں پر بیچ کے مخصوص جگہوں کو رات سے پہلے ریزرو کرنے کی ممانعت شامل ہیں۔

    ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کے ماہرین نے 2025 میں سیاحت کے توازن اور پائیداری کو اہم قرار دیا اور کم معروف مقامات کی دریافت کی ترغیب دی۔فرانس نے بھی اپنی سیاحت کی حکمت عملی کو پائیدار بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا، اور کہا کہ اس کا مقصد فرانس کو دنیا کا سب سے زیادہ پائیدار سیاحتی مقام بنانا ہے۔سیاحت کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے، مگر اس کی ترقی کو ماحولیاتی توازن اور پائیدار طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگا۔

    تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تصاویر:برطانیہ اور آئرلینڈ میں طوفان ایووین کی تباہی، نظام زندگی درہم برہم

  • تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تھائی لینڈ میں سینکڑوں ہم جنس جوڑوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کیا ہے

    تھائی لینڈ نے ایشیا کے سب سے بڑے ملک کے طور پر ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دی، اور جنوب مشرقی ایشیا میں یہ پہلا ملک بن گیا جہاں مساوی شادی کے حقوق دیے گئے ہیں۔بنکاک کے ایک شاپنگ مال میں ایک بڑی ہم جنس پرست شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں لوگوں نے شادی کے رجسٹریشن کرائے۔ یہ قانون کے نفاذ کا آغاز تھا اور اس دن کو کئی سالوں کی جدوجہد اور ہم جنس شادیوں کے قانون کی منظوری کے لیے کی گئی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

    پورش ایپیواتسایری اور آرم پاناتکول 17 سال سے ایک ساتھ ہیں، لیکن ان کی منگنی گیارہ سال پہلے ہوئی تھی۔ پورش نے اس دن کو "تھائی لینڈ میں مساوات کی شروعات” قرار دیا اور کہا، "ذاتی طور پر، مجھے لگتا ہے کہ یہ محبت کے لئے ایک نیا باب ہے۔ یہ ایک طرح سے لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ محبت معمولی چیز ہے۔ ہر محبت ایک ہی جیسی ہوتی ہے، ہر محبت کے اندر ایک جیسا جذبہ ہوتا ہے۔”

    تھائی لینڈ کا ہم جنس شادی کا بل گزشتہ جون میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جس کے بعد تھائی لینڈ تائیوان اور نیپال کے بعد ایشیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے یہ قانون منظور کیا۔تھائی لینڈ عالمی سطح پرہم جنس پرستوں کے حقوق اور عوامی رویوں میں ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے، جو اس کے پڑوسی ممالک سے مختلف ہے جہاں زیادہ تر ممالک ہم جنس حقوق کے مخالف ہیں۔ عوامی سروے بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تھائی عوام کی اکثریت مساوی شادی کے حق میں ہے۔تاہم، تھائی لینڈ ایک قدامت پسند بدھ مت معاشرتی ڈھانچے کا حامل ملک ہے، جس میں اکثر خاندانوں کی ساخت پدر شاہی ہے۔ پورش اور آرم دونوں کا ماننا ہے کہ مساوات کے قانون کے نفاذ کے باوجود، اس معاشرتی تبدیلی کے لئے مزید وقت درکار ہے تاکہ مکمل قبولیت اور برداشت ممکن ہو سکے۔

    "ہمیں مزید انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ قانون نے تو یہ تسلیم کر لیا کہ محبت سب کی ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن اب ہمیں معاشرتی قبولیت کی ضرورت ہے,” پورش نے کہا۔

    پورش اور آرم کی شادی کی تقریب ایک جدید شاپنگ سینٹر میں ہوئی، جہاں دونوں خاندانوں نے اس خصوصی لمحے کو یادگار بنایا۔ تھائی روایات کے مطابق، خاندانوں نے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحیہ اور دل کو چھو جانے والی رسم ادا کی، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے اور محبت کا اظہار کرتے۔پورش نے کہا، "جو کچھ میں اب محسوس کرتا ہوں وہ ہے لوگوں اور خاندانوں کے درمیان قریبیت۔”آرم نے مسکرا کر کہا، "محبت بس محبت ہوتی ہے۔”

    تھائی لینڈ نے جمعرات کو ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ہم جنس اور ٹرانسجینڈر جوڑوں کے لئے مساوی ازدواجی قانون نافذ کیا، جس کے تحت تقریباً 2,000 جوڑوں نے شادی کی۔ تھائی وزارت داخلہ کے مطابق، جمعرات کی دوپہر 4:30 بجے تک 1,754 ہم جنس جوڑوں نے ملک کے 800 سے زائد ضلعی دفاتر میں شادی کے بندھن میں بندھ چکے تھے۔ اس موقع پر خوشی کے آنسو اور گلے ملنے کا منظر تھا۔

    بینکاک کے بنگراگ ضلع دفتر میں سب سے پہلے شادی کرنے والی جوڑی میں سمالی سودسائنیٹ (64 سال) اور تھانافون چوک ہونسنگ (59 سال) شامل تھے، جنہوں نے اپنے انگوٹھیوں کے ساتھ میڈیا کے سامنے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ "ہم بہت خوش ہیں، ہم اس دن کا 10 سالوں سے انتظار کر رہے تھے”، تھانافون نے کہا۔جوڑے کا کہنا تھا کہ ہم جنس شادی کے قانونی ہونے سے ان کی عزت نفس میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ بھی وہی حقوق حاصل کر سکتے ہیں جو ایک مرد اور عورت کے شادی شدہ جوڑے کو ملتے ہیں۔

    بینکاک کے سیام پیراگون مال میں ایک اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں درجنوں جوڑوں نے روایتی اور جدید لباس میں شرکت کی۔ اس تقریب کا اہتمام بینکاک پرائیڈ اور شہر کی انتظامیہ نے کیا تھا۔31 سالہ ٹرانس مین کیون پہتھائی تھانونکھیت نے اپنی بیوی میپل ناتھنیچا کلنٹگاورن سے شادی کی اور کہا کہ "یہ لمحہ بہت خوشی کا ہے، دل بہت تیز دھڑک رہا ہے”۔ ان کے والد 65 سالہ فورنچائی نے کہا، "میں ہمیشہ سے اسے قبول کرتا ہوں، جو بھی ہو، میرے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    نیا ازدواجی قانون "مرد”، "عورت”، "شوہر” اور "بیوی” کے بجائے جنس نیوٹرل اصطلاحات استعمال کرتا ہے اور اس سے ٹرانسجینڈر افراد کو شادی کرنے کا حق حاصل ہے، نیز شادی شدہ جوڑوں کو اپنانے اور وراثت کے حقوق بھی دیے جاتے ہیں۔تھائی وزیر اعظم نے ایک پوسٹ میں کہا، "آج، رنگین پرچم فخر سے تھائی لینڈ پر لہر رہا ہے۔”

    تھائی لینڈ نے حالیہ برسوں میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لئے اپنی رواداری کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے، اور مقامی میڈیا میں ہونے والے عوامی سروے بھی مساوی شادیوں کے لیے وسیع عوامی حمایت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، تھائی معاشرے کا بیشتر حصہ روایتی اور قدامت پسند ہے، اور ایل جی بی ٹی کیو افراد ابھی بھی روزمرہ زندگی میں رکاوٹوں اور امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔سابق تھائی وزیر اعظم، سریتھا تھاویسن، جنہوں نے اس شادی کی تقریب میں شرکت کی، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک نیا تبصرہ کیا جو حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں صرف دو جنسیں ہیں۔ "حال ہی میں ایک ملک کے رہنما نے کہا کہ صرف دو جنسیں ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس سے کہیں زیادہ کھلے ذہن کے لوگ ہیں،” سریتھا نے کہا۔

  • معاہدے کی خلاف ورزی،اسرائیل کاجنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے کا اعلان

    معاہدے کی خلاف ورزی،اسرائیل کاجنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے کا اعلان

    تل ابیب:اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبرساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا علاقے سے اسرائیلی فوج کا انخلا لبنانی فوج کی تعیناتی اور معاہدے پر عمل درآمد پر منحصر ہے معاہدے کے تحت جنوبی لبنان سے پیر کی صبح 4 بجے تک اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنجگوؤں کا انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی ہونی ہے۔

    دوسری جانب جنگ بندی معاہدے کے باوجود فلسطین میں بھی اسرائیل کی دہشت گردی جاری ہے,قباطیہ میں ایک گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملے میں دو افراد شہید ہوگئے جنین میں پانچ روز سے جاری اسرائیلی آپریشن کے دوران 14 فلسطینی شہید اور 40 سے زائد فلسطینی زخمی ہیں،جبکہ 3 ہزار فلسطینی خاندان جبری نقل مکانی پر مجبور کردئیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب پولیس کی کارکردگی سے ناخوش، سینئر افسران کو سخت تنبیہ جاری

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 47 ہزار 283 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب حماس کی جانب سے چار مزید اسرائیلی یرغمالی خواتین کو رہا کردیا گیا، حماس نے یرغمالی خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، چاروں اسرائیلی یرغمالیوں نے فوجی وردی پہن رکھی ہے۔

    رہا کی جانے والی فوجی یرغمالی خواتین کے نام کارینا اریئیو، ڈینیئلا گلبوہ، نعما لیوی، اور لیری الباگ ہیں اور یہ سب ایک فوجی یونٹ کی رکن تھیں، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے وقت یہ چاروں اسرائیلی فوج کی خواتین سپاہی غزہ کے قریب تعینات تھیں چار اسرائیلی یرغمالیوں کی تصاویر پہلی بار سامنے آئی ہیں،یہ تمام چار خواتین فوجی یونیفارم میں ملبوس ہیں اور ان کے گرد مسلح حماس کے جنگجو ہیں ان خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا جو انہیں سرحدوں تک لے جائیں گی جہاں انہیں اسرائیلی فوج کے حوا لے کیا جائے گا۔

    حماس نے فوجی وردی پہنے چار یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا

    حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اسرائیل کی طرف سے رہا ہونے والے 200 فلسطینی قیدیوں میں سے 70 کو غزہ اور مغربی کنارے سے باہر منتقل کر دیا جائے گا آج کی یرغمالیوں کی رہائی پچھلے ہفتے تین اسرائیلی یرغمالیوں کی ان کے خاندانوں سے ملاقات کے بعد ہو رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔غزہ میں ایک ہنگامہ خیز ہجوم کے درمیان، اسرائیلی یرغمالیوں کو مسلح نقاب پوش افراد نے ریڈ کراس کے حوالے کیا، جہاں سے انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور وہ جنوبی اسرائیل میں داخل ہوئے۔

    پی سی بی نے سہ ملکی سیریز کیلئے شیڈول کا اعلان کر دیا

  • حماس نے  فوجی وردی پہنے چار یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا

    حماس نے فوجی وردی پہنے چار یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا

    حماس کی جانب سے چار مزید اسرائیلی یرغمالی خواتین کو رہا کردیا گیا، حماس نے یرغمالی خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، چاروں اسرائیلی یرغمالیوں نے فوجی وردی پہن رکھی ہے۔

    رہا کی جانے والی فوجی یرغمالی خواتین کے نام کارینا اریئیو، ڈینیئلا گلبوہ، نعما لیوی، اور لیری الباگ ہیں اور یہ سب ایک فوجی یونٹ کی رکن تھیں، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے وقت یہ چاروں اسرائیلی فوج کی خواتین سپاہی غزہ کے قریب تعینات تھیں۔ چار اسرائیلی یرغمالیوں کی تصاویر پہلی بار سامنے آئی ہیں،یہ تمام چار خواتین فوجی یونیفارم میں ملبوس ہیں اور ان کے گرد مسلح حماس کے جنگجو ہیں۔ ان خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا جو انہیں سرحدوں تک لے جائیں گی جہاں انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اسرائیل کی طرف سے رہا ہونے والے 200 فلسطینی قیدیوں میں سے 70 کو غزہ اور مغربی کنارے سے باہر منتقل کر دیا جائے گا۔

    آج کی یرغمالیوں کی رہائی پچھلے ہفتے تین اسرائیلی یرغمالیوں کی ان کے خاندانوں سے ملاقات کے بعد ہو رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔غزہ میں ایک ہنگامہ خیز ہجوم کے درمیان، اسرائیلی یرغمالیوں کو مسلح نقاب پوش افراد نے ریڈ کراس کے حوالے کیا، جہاں سے انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور وہ جنوبی اسرائیل میں داخل ہوئے۔

    قبل ازیں گزشتہ ہفتے حماس کے ہاتھوں رہائی پانے والی تین یرغمالیوں میں سے ایک، 28 سالہ برطانوی اسرائیلی ایمیلی ڈاماری تھی، جو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران ہاتھ پر گولی لگنے کے بعد غزہ لے جائی گئی تھی۔دوسری دو یرغمالیوں میں 31 سالہ ڈورون اسٹینبریچر شامل ہیں، جو اسرائیل کے جنوبی علاقے کے کیبوتز کفار عزا سے اغوا ہوئے تھے، اور 24 سالہ رومی گونن، جو سپرنووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کی گئی تھیں۔یہ تینوں ابھی ہسپتال میں علاج کروا رہی ہیں۔ ایمیلی ڈاماری نے رہائی کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر اپنے خاندان اور اپنے "دنیا کے بہترین دوستوں” کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیرِ اعظم نے سنوکر چیمپئن محمد آصف کو دیا 25 لاکھ کا انعام

    بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

  • آئی سی سی نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر 2024 کا اعلان کر دیا

    آئی سی سی نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر 2024 کا اعلان کر دیا

    دبئی:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل( آئی سی سی) ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر 2024ء کا اعلان کردیا گیا-

    باغی ٹی وی : انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر 2024ء کا اعلان کردیا، جس میں بھارت سے 3، جنوبی افریقا سے 2 جبکہ پاکستان، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ سے ایک ایک کھلاڑی شامل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں جنوی افریقا کی لورا وولوارڈٹ کو کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں سمرتی مندھانا، چماری اتھاپتھو، ہیلی میتھیوز، نیٹ اسکیور برنٹ، میلی کیر، ریچا گوشا (وکٹ کیپر)، مریزین کیپ، اورلا پرینڈرگاسٹ، دیپتی شرما اور سعدیہ اقبال شامل ہیں۔

    sports

    اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویمنز ون ڈے انٹرنیشنل کی ٹیم برائے 2024 کا اعلان تھا جس میں کوئی پاکستان کھلاڑی شامل نہیں تھی،آئی سی سی نے مینز ون ڈے ٹیم آف دی ایئر کا بھی اعلان کیا تھا، جس میں پاکستان سے 3 کھلاڑی صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف ٹیم کا حصہ ہیں۔

    بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

    پی سی بی نے سہ ملکی سیریز کیلئے شیڈول کا اعلان کر دیا

    آئی سی سی نے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر 2024 کا اعلان کر دیا