Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سلمان خان کےکراچی میں 3 ماہ قیام کرنے کا انکشاف

    سلمان خان کےکراچی میں 3 ماہ قیام کرنے کا انکشاف

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کے کراچی کے علاقے خداداد کالونی میں 3 ماہ قیام کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سلمان خان کے کچھ عزیز و اقارب کراچی میں مقیم ہیں جن سے ان کے رابطے پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باوجود آج بھی برقرار ہیں۔بھارتی اداکار کے والد سلیم خان کے خداداد کالونی میں مقیم پھوپھی زاد بھائی باری جیلانی نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ہم قیامِ پاکستان کے بعد بھارت کے شہر اندور سے ہجرت کر کے کراچی آئے تھے جبکہ سلیم خان کے دادا اور والد نے بھارت میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ اس وقت اندور پولیس میں اعلی عہدوں پر فائز تھے۔

    انہوں نے سلیم خان کے بھارتی فلم انڈسٹری کا حصہ بننے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ممبئی کے بعد بالی ووڈ انڈسٹری کا دوسرا مرکز اندور شہر ہے اور ہمارے بڑے وہاں محمکہ پولیس میں اعلی عہدوں پر فائز تھے تو جب بھی وہاں کسی فلم کی شوٹنگ ہوتی تھی تو کئی مشہور اداکار ہمارے پاس ٹھہرا کرتے تھے بس اسی طرح ہمارے خاندان کے لوگ بھارتی فلم انڈسٹری کا حصہ بنے۔باری جیلانی نے انکشاف کیا کہ سلمان خان مجھے باری ماموں کہتے ہیں اور میں 1980 سے لے کر اب تک 2 بار بھارت کا دورہ کر چکا ہوں اور دونوں بار بھارت میں سلمان خان کے گھر میں ہی ٹھہرا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہم سلیم خان اور ان کی پوری فیملی سے آج بھی رابطے میں ہیں۔

    باری جیلانی کے بیٹے ندیم نے بتایا کہ سلمان خان، ارباز خان، سہیل خان اور ان کی بہن 1980 کی دہائی میں کراچی آئے تھے اور ہمارے گھر پر 3 ماہ قیام کیا تھا۔ارباز خان یہاں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئے تھے جس کے بعد انہیں 3 ماہ تک کراچی میں رہنا پڑا۔ندیم نے مزید بتایا کہ سلمان خان نے کراچی کے لائٹ ہاس سے پرانی جینز بھی خریدی تھیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میں ممبئی بھی گیا ہوں اور وہاں میں سلمان خان کے گھر ٹھہرا تھا جبکہ کچھ عرصہ پہلے سلمان خان سے میری دبئی میں بھی ملاقات ہوئی تھی اور وہ میری توقع کے برعکس مجھ سے بہت گرم جوشی سے ملے تھے۔

    پیپلزپارٹی ارکان کی اکثریت حکومتی اتحاد سے نکلنے کی رائے دیدی

    کرینہ کپور نے سیف کو کیوں چھریاں ماریں؟ہسپتال رپورٹ،مزید سوالات

    ن لیگ کی حمایت،پی ٹی آئی کے جنید اکبر بلا مقابلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی منتخب

  • شیخ حسینہ کی فسطائیت کا شکار بنگلہ دیش میں قید 178 نیم فوجی اہلکاررہا

    شیخ حسینہ کی فسطائیت کا شکار بنگلہ دیش میں قید 178 نیم فوجی اہلکاررہا

    بنگلہ دیشی عبوری حکومت نے جمعرات کو 16 سال سے قید 178 سابق نیم فوجی اہلکاروں کو جیل سے رہا کر دیا

    ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق،”یہ فوجی اہلکار 2009 کی پرتشدد بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں قید تھے””بغاوت کے خاتمے کے بعد اس میں شامل ہونےکےالزام میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا””ابتدائی طور پر 150 سے زیادہ افراد کو موت کی سزا سنادی گئی تھی””ان مقدمات کی کارروائی کے طریقہ کار، اور ان میں ہونے والی مبینہ کوتاہیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوالات اُٹھائے اور تنقید بھی کی تھی””جمعرات 23 جنوری کو ضمانت پر رہا ہونے والے افراد کوپہلے ہی قتل کے الزام سے بری کیا جا چکا ہے” "انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھتے ہوئےان قیدیوں کے مقدمات بغاوت کے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد بھی التوا کا شکارتھے””ان افراد کی رہائی شیخ حسینہ واجد کی 15سالہ مطلق العنان حکومت کا تختہ الٹنے کے چند ماہ بعد عمل میں آئی ہے”

    16 سال سے جیلوں میں قید نیم فوجی اہلکاروں کی رہائی کی خبر پھیلتے ہی جیلوں کے باہر قیدیوں کے رشتہ داروں نے جمع ہونا شروع کر دیا،رہا ہونے والے 38 سالہ عبدالقاسم نےکہا،”میں اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اپنی فیملی کے پاس واپس جا رہا ہوں۔‘‘ رہا ہونے والے مردوں میں سے ایک کی 40 سالہ شریک حیات شیولی اختر نے اس موقع پر کہا کہ،’یہ سب ایک خواب لگ رہا ہے””اگر حسینہ واجد اقتدار میں ہوتی تو میرے شوہر کبھی بھی جیل سے باہر نہیں آ سکتے تھے۔‘‘”شیخ حسینہ کے دور میں کوئی انصاف نہیں تھا”ہمارے ساتھ، جو ہوا، وہ غیر منصفانہ تھا” "میرے شوہر کو بغاوت یا قتل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا”
    "جب انہیں گرفتار کیا گیا تو وہ بی ڈی آر میں نئے نئے تھے۔‘‘

    "شیخ حسینہ کے دورحکومت میں بنگلہ دیش میں2009ء کی دو روزہ بغاوت کی بنیاد دراصل عام فوجیوں میں برسوں سے پائے جانے والے غصے کو ٹھہرایا گیا”،یہ فوجی اپنی تنخواہوں میں اضافے اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک میں بہتری کی اپیلیں کرتے رہے، جنہیں یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا

    واضح رہے کہ یہ تحقیقات شیخ حسینہ کے دور میں کی گئی تھیں، شیخ حسینہ کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ وہ فوج کو کمزور کرنے اور اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے منصوبے کے تحت بغاوت کو منظم کرنے کی سازش میں خود ملوث تھی،شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے کے بعد سے، تشدد میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کے لیے مہم چلاتے رہے،ان مطالبات پر نئی عبوری حکومت نے گزشتہ ماہ عمل درآمد شروع کیا

    مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹربنانےکا منصوبہ

    ارنب گوسوامی واحد اینکر جو سیف علی خان کیس حل کرنے کے قریب ہے،مبشر لقمان

  • مکیش امبانی کا  بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹربنانےکا منصوبہ

    مکیش امبانی کا بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹربنانےکا منصوبہ

    ایشیا کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز بھارت میں دنیا کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ بھارت کے شہر جام نگر، گجرات میں شروع کیا جائے گا۔ اس ڈیٹا سینٹر کا مقصد بھارت میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے شعبے کو مزید فروغ دینا ہے۔ریلائنس انڈسٹریز کی اس شراکت داری کا مقصد بھارت میں اے آئی کے شعبے میں جدید انفرا اسٹرکچر کا قیام ہے، جس سے نہ صرف بھارت کی ٹیکنالوجی کی صنعت کو ترقی ملے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی اہمیت بڑھے گی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مکیش امبانی کی کمپنی نے اے آئی سیمی کنڈکٹرز خریدنے کے لیے معروف امریکی کمپنی NVIDIA سے شراکت داری کی ہے۔NVIDIA ایک عالمی سطح پر معروف کمپنی ہے جو اے آئی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبے میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ کمپنی نے اکتوبر 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ ریلائنس کے ساتھ بھارت میں اے آئی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں تعاون کرے گی۔ اس کے تحت، NVIDIA کی طرف سے ریلائنس کے ڈیٹا سینٹر کو بلیک ویل اے آئی پراسیسرز فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم، اس سپلائی کے حوالے سے مزید تفصیلات فی الحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ستمبر 2024 میں ریلائنس انڈسٹریز اور NVIDIA نے بھارت میں اے آئی سپر کمپیوٹرز اور لارج لینگوئج ماڈلز (LLMs) کی تیاری کے لیے شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔ اس شراکت داری سے بھارت میں اے آئی کے جدید ترین تکنیکی وسائل کی تیاری اور تحقیق میں تیزی آئے گی، جو کہ عالمی سطح پر بھارتی ٹیکنالوجی کو ایک نئی پہچان دے گا۔بھارتی حکومت بھی اس منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اے آئی منصوبوں کو سپورٹ فراہم کرے گی اور اس کے لیے 10 ہزار کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ سرمایہ کاری بھارت میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور اقتصادی نمو کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

    اگرچہ اس منصوبے کے لیے حکومتی سپورٹ موجود ہے، تاہم بھارت میں چپس تیار کرنے والی صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے لیے برسوں کی محنت اور بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ، عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی کے تیز رفتار مقابلے میں بھارت کو اپنے قدم جمانے کے لیے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔مکیش امبانی کی قیادت میں ریلائنس انڈسٹریز کا یہ منصوبہ بھارت میں نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا انقلاب لانے کی کوشش ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی حیثیت کو بھی مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، تو بھارت اے آئی کی دنیا میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

    سینیما ہال میں اداکار معمر کاتماشا،ساتھی سنبھالتے رہے، اداکار لڑکھڑاتے رہے

    ارنب گوسوامی واحد اینکر جو سیف علی خان کیس حل کرنے کے قریب ہے،مبشر لقمان

  • سیف علی خان حملہ،گرفتار ملزم کے والد نے بیٹے کو بے گناہ کہہ دیا

    سیف علی خان حملہ،گرفتار ملزم کے والد نے بیٹے کو بے گناہ کہہ دیا

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر ہوئے حملے کے بعد وہ مسلسل خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں کچھ اہم معلومات شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، لیلاوتی اسپتال کی جاری کردہ اس میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے کچھ ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جو ملزم شریف الاسلام شہزاد کو بچا سکتی ہیں

    رپورٹ کے مطابق، سیف علی خان پر حملہ کے دوران انہیں پانچ مختلف جگہوں پر چوٹیں آئی ہیں، جن میں پیٹھ، کلائی، گردن، کندھا اور کہنی شامل ہیں۔ ان چوٹوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
    پیٹھ کے بائیں طرف 1-0.5 سینٹی میٹر کا زخم
    بائیں کلائی پر 5 سے 10 سینٹی میٹر کا زخم
    گردن کے دائیں طرف 15-10 سینٹی میٹر کا زخم
    دائیں کندھے پر 5-3 سینٹی میٹر کا زخم
    کہنی پر 5 سینٹی میٹر کا زخم
    یہ میڈیکل رپورٹ ایسی معلومات فراہم کرتی ہے جس کے مطابق ملزم شریف الاسلام شہزاد پر قتل کی کوشش کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیف علی خان کی حالت میں اتنی سنگینی نہیں پائی گئی کہ ملزم پر بی این ایس کی دفعہ 109 کے تحت قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا جا سکے۔

    دوسری جانب، ملزم شریف الاسلام شہزاد اس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور پولیس اس سے تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، ملزم کا مقصد چوری کرنا تھا اور سیف علی خان کے فلیٹ سے ملنے والے فنگر پرنٹس ملزم کے فنگر پرنٹس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ فنگر پرنٹس ڈکٹ پائپ پر پائے گئے جس کا استعمال ملزم نے عمارت پر چڑھنے کے لیے کیا تھا۔

    تاہم دوسری جانب سی سی ٹی وی فوٹیج میں جو شخص دیکھا گیا ہے، اس کی شہزاد سے مشابہت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فوٹیج میں دکھایا گیا شخص شہزاد سے مختلف نظر آ رہا ہے، جس کے باعث اس معاملے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    شریف الاسلام شہزاد کے والد محمد روح الامین فقیر نے اپنے بیٹے کی بے گناہی کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں جو شخص نظر آ رہا ہے، وہ ان کا بیٹا نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کے بیٹے کے بال کبھی اتنے لمبے نہیں ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا بیٹا بنگلہ دیش میں سیاسی بدامنی کی وجہ سے ہندوستان آیا تھا اور یہاں اس کو باضابطہ کام کرنے کی اجازت تھی، جہاں اسے اچھے تنخواہ اور اعزازات ملے۔ میرےبیٹے کو کیس میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے،

    اغوا کا ڈرامہ ،والد سے لیا تاوان،مدرسہ میں پڑھنے والی لڑکی نے استاد کے بیٹے سےکی شادی

    مہاراشٹر میں آرڈیننس فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

  • ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کا دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کیخلاف نیا صدارتی حکم نامہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کے خلاف ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کا مقصد امریکی قومی سلامتی کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس حکم نامے کا عنوان ’امریکا کو غیر ملکی دہشت گردوں اور دیگر قومی سلامتی و عوامی تحفظ کے خطرات سے محفوظ رکھنا‘ رکھا گیا ہے۔

    اس نئے حکم نامے کا بنیادی مقصد ایسے غیر ملکیوں کی شناخت اور جانچ پڑتال کرنا ہے جو امریکا کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس اور حزب اللّٰہ کی حمایت کرتے ہیں، اور ان افراد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی ہے جو ان تنظیموں کے ساتھ وابستہ مظاہروں یا دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے تحت ایسے افراد کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔صدارتی حکم نامے کے مطابق ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمۂ خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ایسے افراد کے بارے میں سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کریں گی تاکہ ان خطرات کی فوری شناخت کی جا سکے جو امریکی قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر ان غیر ملکیوں کو ہدف بنایا جائے گا جو پہلے ہی امریکا میں موجود ہیں اور امریکا مخالف نظریات رکھتے ہیں یا نفرت انگیز نظریات کی ترویج کر رہے ہیں۔

    یہ حکم نامہ خاص طور پر ان غیر ملکیوں کی سخت جانچ کا تقاضا کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور شمالی افریقا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے امریکا آتے ہیں۔ ان افراد کے ویزا کی جانچ بھی سختی سے کی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امریکا میں داخل ہونے والے افراد ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

    مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حکم نامے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نامہ داخلی اور عالمی سطح پر ایک بڑا تنازعہ پیدا کرے گا اور اسے ٹرمپ کے گزشتہ دورِ اقتدار میں جاری کردہ ’مسلم بین‘ کے حکم نامے سے ملتا جلتا سمجھا جا رہا ہے، جس میں مسلمانوں اور ان ممالک کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکا کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد کو امریکی آزادی کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تاکہ وہ نفرت یا تشدد کو فروغ نہ دے سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے ناقدین، شہری حقوق کے ادارے اور مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم گروہ نے اس حکم نامے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکم نسلی امتیاز کو فروغ دے سکتا ہے، مسلمانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور آزادیٔ اظہار پر قدغن لگانے کا باعث بن سکتا ہے۔اس حکم نامے پر آنے والے دنوں میں امریکا اور عالمی سطح پر مزید بحث اور تنازعات کی توقع کی جا رہی ہے

    انسانی اسمگلنگ،سدباب کیلئے وزیرِ اعظم کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم

  • بھیک دینے اور لینے والے پر مقدمہ درج

    بھیک دینے اور لینے والے پر مقدمہ درج

    مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک بھکاری کو بھیک دینے کا معاملہ پولیس اسٹیشن تک پہنچ گیا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس نے ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اندور انتظامیہ شہر کو بھکاریوں سے پاک بنانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہے۔ شہر کی انتظامیہ نے ایک ایسا حکم جاری کیا تھا جس کے تحت بھیک دینے اور لینے والوں کے خلاف کارروائی کی بات کی گئی تھی۔اندور کی انتظامیہ کے اس حکم کے مطابق، اب شہر میں کوئی بھی شخص کسی بھکاری کو بھیک دینے کی صورت میں پولیس کارروائی کا شکار ہو گا۔ اس تازہ واقعے میں بھیک دینے والے شخص کی شناخت نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے پولیس نے اس معاملے میں ایک نامعلوم شخص کے خلاف کارروائی کی ہے۔ پولیس نے دو ایف آئی آر درج کی ہیں، ایک بھیک دینے والے شخص کے خلاف اور دوسری بھکاری کے خلاف۔یہ کارروائی ‘انسداد بھیک دستہ’ کے افسر کی شکایت پر کی گئی ہے، اور پولیس نے بی این ایس (بھارتیہ نیائے سنہیتا) کی دفعہ 223 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جو کسی سرکاری حکم کے خلاف عمل کرنے پر لاگو ہوتا ہے۔

    اندور انتظامیہ کا مقصد شہر کو بھکاریوں سے پاک بنانا ہے، جس کے تحت دسمبر 2024 میں ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں بھیک دینے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے شہر بھر میں بیداری مہم بھی شروع کی تھی۔اندور میں بھیک دینے پر قانون کے مطابق دفعہ 223 کے تحت ایک سال کی سزا اور 2500 روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، یا پھر دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ تازہ کیس میں پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے دو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، مگر ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔‘‘

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اندور میں بھیک دینے اور لینے کے خلاف یہ قانونی کارروائی یکم جنوری 2025 سے نافذ ہو چکی ہے۔ اسی ماہ، اندور کے ضلع مجسٹریٹ آشییش سنگھ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ بھیک نہ دیں اور اس سلسلے میں آگاہی پیدا کریں۔ ضلع مجسٹریٹ نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں بھیک مانگنے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا گیا ہے اور کئی بھکاریوں کی بازآبادکاری بھی کی گئی ہے۔اندور انتظامیہ کی یہ مہم شہر کو صاف ستھرا بنانے اور بھیک مانگنے کے مسئلے کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد عوامی جگہوں پر بھیک مانگنے والوں کی موجودگی کو کم کرنا ہے۔

    مہاراشٹر میں آرڈیننس فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات،الیکشن کمیشن کو 60 دن میں فیصلے کا حکم

  • مہاراشٹر میں آرڈیننس فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    مہاراشٹر میں آرڈیننس فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک، 7 زخمی

    مہاراشٹر کے شہر بھنڈارا کے جواہر نگر میں واقع آرڈیننس فیکٹری میں بدھ کے روز ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 7 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ افسوسناک حادثہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب پیش آیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید افراتفری مچ گئی، اور امدادی کارروائیاں فوراً شروع کر دی گئیں۔حکام کے مطابق، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پانچ کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ فیکٹری کے قریب سے اٹھتا ہوا دھواں پورے علاقے کو گھیر چکا تھا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ دھماکے کے بعد فیکٹری کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد اندر پھنس گئے تھے۔ موقع پر موجود امدادی ٹیموں نے فوری طور پر بچاؤ کا عمل شروع کیا، اور اب تک پانچ افراد کو فیکٹری کے ملبے سے نکال کر بچا لیا گیا ہے۔

    دھماکے کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر نیشنل ہائی ویز نتن گڈکری سمیت دیگر سیاستدانوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ نتن گڈکری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس حادثے میں 8 افراد کی موت ہوئی ہے اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔راج ناتھ سنگھ نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دھماکے کے بعد گہرے دکھ میں ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں اور حکومت کی جانب سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوینڈر فڑنویس نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے بعد کئی افراد فیکٹری کے اندر پھنس گئے تھے، جن میں سے پانچ کو بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، اور ایس ڈی آر ایف (اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسکیو فورس) اور ناگپور میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

    موقع پر موجود افسران کے مطابق، دھماکے کے اسباب کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس حادثے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔ امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ دھماکے کی وجوہات کو جاننے کے لیے تفتیش کا عمل شروع کر دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کےدورہ چین کے ثمرات، چھ ہفتے میں تیز ترین فارن انویسٹمنٹ کا آغاز

  • سیف علی خان کی سیکیورٹی کے لیے ممبئی پولیس کی اضافی تعیناتی

    سیف علی خان کی سیکیورٹی کے لیے ممبئی پولیس کی اضافی تعیناتی

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کی سیکیورٹی کے لیے ممبئی پولیس نے ان کی رہائش گاہ کے باہر خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پولیس نے سیف علی خان کے باندرہ میں واقع گھر کے باہر دو کانسٹیبلوں کو دو شفٹوں میں تعینات کر دیا ہے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    سیف علی خان گزشتہ ہفتے اپنے گھر پر ڈکیتی کی کوشش کے دوران چاقو کے حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق، حملہ آور شرف الاسلام عرف وجے داس، جو کہ ایک بنگلہ دیشی شہری ہے، غیر قانونی طور پر بھارت میں مقیم ہے۔ اس شخص نے سیف علی خان پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں اداکار کو شدید چاقو کے زخم آئے تھے۔پولیس حکام نے بتایا کہ سیف علی خان کی سیکیورٹی کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کی باندرہ ویسٹ میں واقع "ست گرو شرن بلڈنگ” میں رہائش گاہ کے ارد گرد پولیس کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی کے انتظامات میں سی سی ٹی وی کیمرے اور ونڈو گرلز بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی غیر معمولی صورتحال کا فوری نوٹس لیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ 16 جنوری کو سیف علی خان کے گھر پر ایک چوری کی کوشش کی گئی تھی، جس دوران حملہ آور نے سیف علی خان پر چاقو سے چھ مرتبہ حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے بعد، سیف علی خان کو ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی کامیاب سرجری کی گئی۔ کئی روز اسپتال میں رہنے کے بعد، وہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہو کر اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ حملہ کیوں اور کس مقصد کے تحت کیا گیا، اور شرف الاسلام کے غیر قانونی طور پر بھارت میں قیام کی وجوہات بھی معلوم کی جا رہی ہیں۔

    شیر کا بچہ رکھنے کے الزام میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کو سزا

    سندھ اسپورٹس فنڈز کی مبینہ لوٹ مار، اسپیشل افراد کے ساتھ مذاق

  • توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    توہین آمیز خاکے شائع کرنیوالے اخبار کے سابق دفتر پر حملہ،پاکستانی کو ملی سزا

    فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے سامنے دو افراد پر قاتلانہ حملے میں ملوث پاکستانی شہری کو عدالت نے 30 سال قید کی سزا سنادی۔

    یہ واقعہ 2020 میں پیش آیا جب ، ظہیر محمود، نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے سابق دفتر کے باہر دو افراد پر خنجر سے حملہ کیا۔ اس حملے کے پیچھے اس کا خیال تھا کہ اخبار کا دفتر ابھی بھی اس مقام پر موجود ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ دفتر وہاں سے منتقل ہوچکا تھا۔پیرس کی عدالت نے اس حملے کو "اقدام قتل” کے جرم کے طور پر قرار دیتے ہوئے مجرم کو 30 سال کی قید کی سزا سنائی۔ ظہیر محمود پاکستانی دیہی علاقے کا رہائشی ہے اور 2019 میں غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا تھا۔

    عدالت کے فیصلے کے مطابق، ظہیر نے اپنا حملہ کرنے کے لیے اس بات پر یقین رکھا کہ چارلی ہیبڈو کا دفتر ابھی بھی اسی مقام پر موجود ہے اور اس نے اس حملے کے ذریعے اپنے خیالات اور رد عمل کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔

    چارلی ہیبڈو نے 2015 میں توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے، جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اسی سال اس کے دفتر پر القاعدہ سے وابستہ حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فرانسیسی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر اسے سزا کے ساتھ ساتھ فرانس میں دوبارہ داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

    بھارتی ساختہ موبائل فونز،آلات پاکستان کی سائبر سکیورٹی کیلئے بڑا خطرہ بن گئے

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ

  • عالمی فوجداری عدالت ،افغان طالبان رہنماؤں کی گرفتاری  کی درخواست

    عالمی فوجداری عدالت ،افغان طالبان رہنماؤں کی گرفتاری کی درخواست

    دی ہیگ: عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے افغان طالبان کے اہم رہنماؤں، سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور افغان چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق، پراسیکیوٹر کریم خان نے دونوں رہنماؤں کے خلاف ایک سنگین درخواست دی ہے جس میں ان پر خواتین اور لڑکیوں پر مظالم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کے تحت دونوں رہنماؤں کو صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے پاس ان رہنماؤں کے خلاف معقول وجوہات موجود ہیں کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں پر ہونے والے مظالم کے ذمہ دار ہیں، اور ان پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے ان مظالم کو فروغ دیا۔

    یہ درخواست اس وقت آئی ہے جب طالبان حکومت کے زیر اثر افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں اور ان پر ظلم و ستم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی سی سی نے اس سے پہلے بھی افغانستان میں انسانیت کے خلاف جرائم پر تحقیقات شروع کی تھیں اور اب یہ نیا اقدام اس بات کو مزید تقویت دیتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر افغان خواتین کے حقوق کے معاملے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق، آئی سی سی کی طرف سے گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کے بعد طالبان کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔یہ پیشرفت افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت خواتین کی حالت زار اور عالمی برادری کے ردعمل کا سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے گروپ اور اقوام متحدہ مسلسل افغانستان میں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کر رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ