Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کو جمعرات کی صبح ممبئی کے پوش باندرہ ویسٹ محلے میں ان کے گھر پر چاقو سے وار کرنے والے شخص نے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا،

    پولیس ذرائع کے مطابق سیف علی خان کے گھریلو عملے کے ایک رکن نے بیان دیا کہ مسٹر خان کے چار سالہ بیٹے جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس نے بتایا کہ چاقو بردار حملہ آور پہلے لڑکے کے کمرے میں داخل ہوا۔اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا،اس مطالبے کے بعد ہونے والے حملے میں تین افراد – 54 سالہ سیف علی خان، نرس اور ایک اور عملے کا رکن زخمی ہو گئے۔ سیف علی خان پر چھ بار وار کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹیں آئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اداکار کی طبی حالت اب مستحکم ہے۔

    سیف علی خان اور ان کا خاندان ، اہلیہ اداکار کرینہ کپور خان اور ان کے بیٹے ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں ،چار منزلہ اپارٹمنٹ باندرہ ویسٹ میں ہے۔ پولیس ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور جو اپارٹمنٹ میں چوری کرنا چاہتا تھا – ملحقہ راستے سے کمپاؤنڈ میں داخل ہوا۔ اسے اداکار کے گھر کی سیڑھی سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا تھا۔ اسے ٹی شرٹ اور جینز میں دیکھا جا سکتا ہے، اس کے کندھے پر نارنجی رنگ کا اسکارف ہے۔ جہانگیر کی دیکھ بھال کرنے والی نرس، ایلیاما فلیپس، جو چار سال سے سیف علی خان گھرانے کے ساتھ ہیں، سب سے پہلے اس نے چور کی آواز سنی ۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ وہ جمعرات کی صبح گھر میں شور کی آواز سے بیدار ہوئی تھی۔ یہ تقریباً 2 بجے کا وقت تھا، ، جہانگیر کو سونے کے تین گھنٹے بعد۔ہ اس نے باتھ روم کا دروازہ کھلا اور لائٹ آن دیکھی، اور سب سے پہلے یہ سمجھا کہ کرینہ کپور خان اپنے چھوٹے بیٹے کو دیکھ رہی ہیں۔ "…پھر میں سونے کے لیے واپس چلی گئی لیکن، دوبارہ، میں نے محسوس کیا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ تو میں دوبارہ بیدار ہوئی اور دیکھا کہ ایک آدمی باتھ روم سے نکل کر لڑکے کے کمرے میں چلا گیا ہے۔”اس موقع پر اس نے اس کا سامنا کیا – اس نے جواب میں اپنی طرف انگلی اٹھائی اور ہندی میں کہا، ‘آواز مت نکالو’ – اور اس نے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔اور جب اس نے چور کے ساتھ مزاحمت کی تو 56 سالہ نرس کی کلائیوں اور ہاتھوں پر چوٹیں آئیں۔

    نرس کے بیان کے مطابق، اس نے پھر چیخ ماری، جس نےسیف علی خان کو چوکنا کر دیا جس نے گھسنے والے سے لڑنے کی بھی کوشش کی۔ اس لڑائی میں ملزم نے چھ بار وار کیا ، اور چھری کا ڈھائی انچ کا ٹکڑا ٹوٹ کر سیف علی خان ریڑھ کی ہڈی میں جا لگا۔

    اس حملے نے ہائی پروفائل عمارت میں ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈز کے ردعمل کے بارے میں سخت سوالات کو جنم دیا ہے، کہ کیسے ایک چور اداکار کے گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • ویپ  نے 26 سالہ سابق اداکار پال دانن کی جان لے لی

    ویپ نے 26 سالہ سابق اداکار پال دانن کی جان لے لی

    ہالی اوکس کے سابق اداکار پال دانن 46 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی :1997 سے 2001 تک سول پیٹرک کا کردار ادا کرنے والے ہالی اوکس کے سابق اداکار پال دانن 46 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، ان کی انتظامیہ کی ٹیم نے تصدیق کی ٹی وی اسٹار کی المناک موت کا اعلان آج (16 جنوری) کیا گیا، اس کی عمر صرف 46 سال تھی اور وہ نشے کی لت میں مبتلا تھا، یہاں تک کہ ویپ کرنے کی عادت کے بعد اسے موت کا سامنا کرنا پڑا تھا –

    اگرچہ ان کی موت کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے، تاہم اداکار نے اس سال کے شروع میں سانس کے مسئلے سے متعلق اپنے خوفناک تجربے کو شیئر کیا تھا، جس کی وجہ اس نے ویپ کی لت کو قرار دیا تھا۔

    مریم نواز کی فیک تصاویرمعاملہ:ملزمان کے فونز سے شہباز گل اور عمران ریاض خان کی پوسٹیں برآمد

    انتظامی کمپنی، انڈیپنڈنٹ کریٹیو مینجمنٹ نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہم صرف 46 سال کی عمر میں پال دانن کے انتقال کی المناک خبر سنا رہے ہیں”غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک پال بہت سے لوگوں کے لیے روشنی کا مینار تھا۔”

    دانن نے 2005 اور 2006 میں سیلیبریٹی لو آئی لینڈ کے ساتھ ساتھ 2017 میں مشہور شخصیت بگ برادر کے ذریعے شہرت حاصل کی،مینجمنٹ کمپنی نے کہا کہ دانن کی بے وقت موت ان تمام لوگوں کی زندگیوں میں ناقابل تلافی خلا چھوڑ دے گی جو اسے جانتے تھےاس مشکل وقت کے دوران، ہم پال کے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے احترام اور رازداری کی درخواست کرتے ہیں۔

    علی امین گنڈا پور ٹی وی پر جھوٹی بڑھکیں ماررہے ہیں، ترجمان جے یو آئی

    اداکار نے اپنی صحت کے مسائل کے بارے میں عوامی طور پر بات کی تھی،انہوں نے The Sun on Sundayکو بتایا کہ ڈاکٹرز نے انہیں سگریٹ نوشی مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیا۔ باقاعدہ سگریٹ چھوڑنے کے بعد، دانن نے بتایا کہ وہ ڈسپوزایبل vapes کا "جنون” ہو گیا تھا۔

  • میڈرڈ کشتی   حادثہ ، 12 پاکستانیوں کو مبینہ طور پر قتل کرنے کا انکشاف

    میڈرڈ کشتی حادثہ ، 12 پاکستانیوں کو مبینہ طور پر قتل کرنے کا انکشاف

    میڈرڈ میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی جس میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 غیرملکی سوار تھے،تارکینِ وطن کو مبینہ طور پر قتل کردیا گیا، مقتولین میں 12 کا تعلق گجرات سے تھا۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق تارکین وطن کی کشتی ماریطانیہ سے اسپین جارہی تھی، مراکشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی میں سوار 36 افراد کو بچالیا گیا ہے، کشتی میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 غیرملکی تارکین سوار تھے،ڈوبنے والی کشتی میں سوار 50 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کشتی میں 66 پاکستانی سوار تھے جن میں سے 44 کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے،سمندری حدود میں درجنوں تارکینِ وطن کو مبینہ طور پر قتل کرکے لاشیں سمندر میں پھینک دی گئی ہیں، جن میں 12 افراد کا تعلق پاکستان کے علاقے گجرات سے ہے۔

    وہ ممالک جن کی پروازوں پر برطانیہ میں پابندی عائد

    رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلرز نے 2 جنوری کو ایک کشتی موریطانیہ سے اسپین کے لیے روانہ کی جسے مراکش کی حدود میں لے جا کران انسانی اسمگلر نے روک لیا اور جو لوگ سوار تھے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق انسانی اسمگلرز نے 2 جنوری کو ایک کشتی موریطانیہ سے اسپین کے لیے روانہ کی جسے مراکش کی حدود میں لے جا کران انسانی اسمگلر نے روک لیا اور جو لوگ سوار تھے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے پیسوں کا مطالبہ کیا،پاکستان کے غیر قانونی تار کین نے اپنے اہل خانہ سے رقم بھیجنے کے لیے رابطہ کیا اور انسانی اسمگلروں سے مزید وقت مانگا، جس کے بعد مزید پیسوں کا بندوبست کرنے کے لیے انسانی اسمگلرزاور پاکستانی نوجوانوں کے اہل خانہ کے درمیان 8 دن تک رابطہ رہا۔

    پنجاب پولیس کو 43 ارب روپے کے فنڈ جاری

    رپورٹ کے مطابق اس کے بعد اس واقعے میں 44 افراد کی موت واقع ہو گئی، جن میں سے 12 نوجوانوں کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات سے ہے،غیرملکی ایجنٹوں نے سمندر میں دیگر ایجنٹوں سے رقم مانگی تھی، رقم نہ ملنے پر کشتی کو آٹھ روز تک سمندر میں کھڑا کردیا گیا ، جس سے متعدد پاکستانی اورغیرملکی تارکین بھوک پیاس سے مرگئے اسمگلرز کا سہولت کاروں کے ذریعے پاکستان کے تارکین وطن کے اہل خانہ سے بھی رابطہ ہوا ہے، اس پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    ادھر موریطانیہ سے میڈرڈ اسپین جانے والے غیر ملکی تارکین وطن کی کشتی کو حادثے سے متعلق دلخراش تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں تصدیق کی گی ہے کہ ان میں سے بیشتر پاکستانی نوجوانوں کو انسانی اسمگلروں نے مراکش کی سمندری حدود میں قتل کیا ہے جبکہ کچھ لوگ بھوک اور پیاس سے جاں بحق ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں تیونس میں تارکین وطن کی 2 کشتیاں ڈوب گئیں جس کے نتیجے میں 27 افراد ہلاک ہوگئے تھے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی کشتیاں تیونس میں سیفکس (Sfax)شہر کے قریب ڈوب گئیں جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 83 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ

    واضح رہے کہ تیونس میں اکثر غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتیوں کو حادثات پیش آتے ہیں اور گزشتہ ماہ بھی تیونس کے کوسٹ گارڈ حکام کو 2 مختلف حادثات میں ڈوبنے والے 30 تارکین وطن کی لاشیں ملی تھیں۔

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

  • وہ ممالک جن کی پروازوں  پر برطانیہ میں پابندی عائد

    وہ ممالک جن کی پروازوں پر برطانیہ میں پابندی عائد

    ایوی ایشن انڈسٹری کے ضوابط میں 2025 میں بھی نرمی نہیں ہوئی میں پہلے کی طرح سخت ہیں ، بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ حفاظتی معیارات پر پورا اترنے میں ناکامی کی صورت میں ایئر لائنز کو یو کے ایئر سیفٹی لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: آپریشنل پروٹوکول کی پیروی کرنے اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے طے کردہ بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ حفاظتی معیارات پر پورا اترنے میں ناکامی کی صورت میں ایئر لائنز کو کام کرنے پر پابندی اور UK ایئر سیفٹی لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

    2020 میں یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد، برطانیہ کی حکومت نے ہوائی سفر کے لیے ایک نیا فریم ورک قائم کرنے کے لیے 31 دسمبر 2020 سے مستقبل کے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا۔

    سیاسی معاملات پر بات سیاستدانوں سے کریں، بیرسٹر گوہر کی ملاقات کا احوال

    تیسرے ملک کے آپریٹرز کو اب ایک UK-Part TCO سرٹیفکیٹ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کی طرف سے جاری کردہ غیر ملکی کیریئر پرمٹ رکھنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ کوئی بھی تجارتی پرواز برطانیہ سے یا اس کے اندر سفر کر سکے۔

    سی اے اے اور یو کے ایئر سیفٹی کمیٹی کے مشورے کے مطابق، 138 کیریئرز کو خراب حفاظتی کارکردگی کی وجہ سے اس وقت برطانیہ کی فضائی حدود میں تجارتی پروازیں چلانے سے منع کیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    دی انڈیپنڈنٹ کے سفری نمائندے سائمن کیلڈر نے کہا کہحقیقت میں، اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ان ایئر لائنز میں سے زیادہ تر یورپی یونین یا برطانیہ کے لیے پرواز کر سکیں لیکن یہ فہرست کیریئرز کی ایک آسان گائیڈ فراہم کرتی ہے کہ وہ باقی دنیا میں سفر کرتے وقت محتاط رہیں۔

    مسافروں کی حفاظت اور برطانیہ کے لیے اڑان بھرنے پر پابندی عائد کردہ ایئر لائنز یہ ہیں۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی اضافہ

    ان ایئرلائنز پر برطانیہ میں کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ،افغانستان، انگولا ،جمہوری جمہوریہ کانگو ،کانگو ، کوموروس ،آرمینیا،ایران ،عراق ،کرغزستان،لائبیریا،لیبیا،نیپال،نارتھ کوریا-پاکستان(ایئر بلیو لمیٹڈ، ایئرسیال، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، سیرین ایئر پرائیویٹ لمیٹڈ ویژن ایئر انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ،) سوڈان، سرینام،وینزویلا وغیرہ کی ائیر لائنز شامل ہیں-

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

  • معاہدے کے بعد اسرائیل کا غزہ پر بڑا حملہ،45 شہید

    معاہدے کے بعد اسرائیل کا غزہ پر بڑا حملہ،45 شہید

    غزہ میں "آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق” کے ڈائریکٹر رافت صالحہ اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    حکام کے مطابق، رافت صالحہ 12 جنوری کو اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آ گئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ان کی بیوی اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ حملہ غزہ کے شہر دیر البلح میں ان کے پناہ گزین گھر پر کیا گیا تھا۔ رافت صالحہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں فوری طور پر "الاقصی” اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق نے اسرائیل کو اس حملے کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ غزہ کے شہریوں کے خلاف اسرائیل کے مسلسل جرائم کا حصہ ہے۔ کمیشن نے اس قتل کو ایک انتہائی سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل سے جواب طلب کیا ہے۔

    اسی دوران،بدھ کو حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی یرغمالی معاہدے پر اتفاق ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل کے حملوں میں غزہ کے مختلف حصوں میں مزید جانی نقصان ہوا۔ غزہ کی شہری دفاعی ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 20 افراد شیخ رڈوان کے رہائشی علاقے میں ایک حملے میں ہلاک ہوئے، جبکہ ایک دوسرے حملے میں 15 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ، الغزہ سٹی کے دیگر علاقوں میں بھی بمباری کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ "الآہلی” اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فاضل نعیم نے کہا کہ اسپتال میں زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری حملے اور جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، ان حملوں کی شدت کم ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ان کے مطابق، غزہ میں اگلے 70 گھنٹے بہت سخت اور خونریز ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے پر بدھ کو بات چیت ہوئی تھی۔ معاہدے کے تحت، اسرائیل کی طرف سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد، اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کر دیے تھے، جس سے علاقے کی بڑی حد تباہ ہو گئی تھی۔ اس جنگ میں 46,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے بیشتر بچے اور عورتیں ہیں۔ اس کے علاوہ، غزہ کی صحت کے نظام پر بھی شدید دباؤ ہے، اور اسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنا مشکل ہو چکا ہے۔

    اس معاہدے پر دنیا بھر میں ردعمل آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک اہم قدم ہے اور تمام فریقوں سے درخواست کی کہ وہ اس معاہدے کی مکمل تعمیل کریں۔ اس کے علاوہ، ترکی، لبنان، اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد ممالک نے اس معاہدے کی حمایت کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔

    یہ معاہدہ تین مراحل میں مکمل ہوگا۔حماس اور اس کے اتحادی جنگجو گروپ پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کو رہا کریں گے جن میں عام شہری اور خواتین فوجی، بچے، بوڑھے اور بیمار شامل ہیں۔ حماس اور اس کے اتحادیوں کے پاس 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل سے اٹھائے گئے 250 میں سے 94 افراد ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق، ان میں سے کم از کم 34 ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ حقیقی تعداد زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ یرغمالیوں میں سے 81 مرد اور 13 خواتین ہیں۔ حماس نے 2014 سے مزید چار یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم دو ہلاک ہو چکے ہیں۔غزہ میں 44 یرغمالیوں کا تعلق اسرائیل سے ہے، جب کہ آٹھ تھائی لینڈ، ایک نیپال اور ایک تنزانیہ سے ہے۔ غزہ میں سات امریکی یرغمال بنائے گئے ہیں۔ جن تین امریکیوں کو زندہ سمجھا جاتا ہے وہ ایڈن الیگزینڈر، ساگوئی ڈیکل-چن اور کیتھ سیگل ہیں۔ چار دیگر کو مردہ قرار دیا جا چکا ہے اور ان کی باقیات کو واپس کرنا ابھی باقی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ غزہ میں موجود امریکی یرغمالیوں کو پہلے مرحلے میں رہا کیا جائے گا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس نے معاہدے کے بعض حصوں پر عمل نہیں کیا، اور اس کی وجہ سے اسرائیل نے کابینہ کے اجلاس کو ملتوی کیا۔ حماس نے تاہم کہا کہ وہ معاہدے کی تکمیل کے لیے تیار ہے۔اس معاہدے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا بھی ذکر ہے۔ اسرائیل نے 1,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں وہ قیدی شامل ہیں جو حماس کے حملے میں ملوث نہیں تھے۔

  • سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    ممبئی:بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کا قریبی دوست اس دنیا میں نہ رہا جس کے بعد خاندان کے افراد غم میں مبتلا ہوگئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ اداکار سلمان خان کا پالتو کتا ’ٹورو‘ چل بسا جس کی خبر اداکار کی دوست اور اداکارہ لولیا ونتور نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شئیر کی،اور لکھا کہ ٹورو کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،اداکارہ نے ایک ویڈیو بھی شئیر کی جس میں سلمان خان کے پالتو کتے کے مختلف کلپس کو جوڑ کر دکھایا گیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان جانوروں سے بہت محبت کرتے ہیں اور اکثر سوشل میڈیا پر اپنے کتے ٹورو کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے رہتے تھے، انہوں نے ٹورو کو ایک وفادار اور محبت کرنے والا دوست سمجھا۔

    واضح رہے کہ سلمان خان ان دنوں اپنی نئی فلم سکندر کی شوٹنگ میں مصروف ہیں وہ اس فلم میں رشمیکا منڈنا کے ساتھ اداکا رہ کرتے نظر آئیں گے، جس کی ہدایت کاری اے آر مروگاداس کر رہے ہیں سلمان فلم میں دو مختلف کرداروں میں دکھائی دیں گے، مداحوں کو ان کی نئی فلم آںے کا بے صبری سے انتظار ہے۔

  • جمائما گولڈ اسمتھ  کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

    جمائما گولڈ اسمتھ کی برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں پر تنقید

    لندن:بانی پی ٹی آئی عمرا ن خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے برطانیہ میں جنسی جرائم کو مسلمانوں سے جوڑنے والوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے-

    باغی ٹی وی: جمائما گولڈ اسمتھ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ برطانیہ میں جنسی زیادتی تمام کمیونٹیز، سماجی و اقتصادی پسِ منظر، مختلف نسلوں اور عقائد پر محیط ہے 1970ء سے 2015ء کے دوران انگلینڈ اور ویلز میں کیتھولک چرچ میں بچوں کے جنسی استحصال کے 3 ہزار واقعات پیش آئے جن میں سے 936 واقعات مبینہ طور پر پیڈو فائلز (بچوں سے زیادتی کے) تھے۔

    جمائما گولڈ اسمتھ نے لکھا ہے کہ ان واقعات میں 133 مجرموں کو سزائیں سنائی گئیں اور 52 پادریوں کو برطرف کیا گیا2016ء کے بعد سے ہر سال 100 سے زیادہ جنسی زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

    وینا ملک کے نئے فوٹو شوٹ کی چرچے

    جمائما نے لکھا کہ برطانیہ کے بورڈنگ اسکولز میں 2012ء سے 2018ء کے دوران ہزاروں مبینہ متاثرین سامنے آئے، صرف 2012ء سے اب تک 425 ملزمان پکڑے گئے جن میں سے 160 پر فردِ جرم عائد کی گئی، ان مقدمات میں سے 171 مقدمات ایسے تھے جن میں بچوں کے ساتھ تاریخی بدسلوکی سے کی گئی تھی اور کم از کم 125 ملزمان تو حالیہ واقعات میں ملوث تھے۔

    اُنہوں نے لکھا کہ 1997ء سے 2013ء کے دوران یو کے ایشین گرومنگ گینگز کے کم از کم 1400 متاثرین سامنے آئے، ان واقعات میں 60 بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سزا سنائی گئی۔

    ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    جمائما نے کہا کہ مندرجہ بالا تمام واقعات کے متاثرین کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے کیونکہ ایسے معاملات اکثر سالوں تک رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے اور متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے میں متعدد بار ناکام ہوئے،ان تمام واقعات میں خطرہ مختلف کمیونٹیز کے مرد ہیں جو کہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں-

  • ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    ایران سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ حکومت کا ابتدائی 100 دن کا منصوبہ پیش

    نیو یارک: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (یو اے این آئی) کی جانب سے ٹرمپ حکومت کی نئی مدت کے پہلے 100 دنوں کے دوران ایران کے بارے میں امریکی پالیسی کو از سر نو تشکیل دینے کی سفارشات شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران (UANI) امریکا میں وہ تنظیم ہے جو ایران کو ایک علاقائی سپر پاور بننے کے اپنے عزائم کو حاصل کرنے سے روکنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا میں یہ غیر جانبدار تنظیم تہران کو عالمی سطح پر دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام کا ایک بڑا ذریعہ سمجھتی ہے مذکورہ تنظیم کا منصوبہ امریکی حکومت کے لیے قومی طاقت کے چار اہم محوروں پر مبنی ”جامع حکمت عملی“ پر انحصار کرتا ہے، یہ چار محور سفارتی، معلوماتی، فوجی اور اقتصادی ہیں۔

    ٹیسٹ فاسٹ بولر میر حمزہ فیلڈنگ کے دوران زخمی

    اس کی اہم سفارشات میں اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ لگانے کے طریقہ کار کو فعال کرنا، ایران سے ایٹمی پروگرام میں ”زیرو افزودگی یا دوبارہ پروسیسنگ“ کی پالیسی پر عمل کرنا شامل ہے۔

    تہران پر دباؤ کو بڑھانے کے لیے اتحادیوں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد تشکیل دینا۔ ایرانی عوام کی مدد کے لیے ”ڈیموکریسی فنڈ“ بنانے کے لیے ایرانی اثاثوں کو ضبط اور ری ڈائریکٹ کرنا۔

    امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے پر ایرانی پاسداران انقلاب اور ایرانی خفیہ ایجنسی کی تنصیبات کے خلاف فوجی حملے کرنا۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    امریکی پابندیوں سے بچنے والے پورے ایرانی گھوسٹ بیڑے کی نشاندہی کرنا اور پائلٹس کیلئے انعامی پروگرام شروع کرنا کہ وہ اپنے جہازوں پر ایرانی تیل کی نقل و حمل نہ کریں۔

    اس تنظیم کا کہنا ہے کہ قومی طاقت کے اوزار (DIME) پر مبنی اس جامع نقطہ نظر کے ذریعے ٹرمپ حکومت ایرانی حکومت کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ ایرانی عوام کو ان کی اپنی خواہشات کا احساس کرنے کے لیے جگہ فراہم کر سکتی ہے پہلے 100 دنوں کے اندر ان سفارشات پر عمل کرنا شروع کر کے آنے والی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اسلامی جمہوریہ کو اپنی دہائیوں سے جاری جارحیت اور جبر کی مہم کی اصل قیمت کا سامنا کرنا پڑے۔
    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری
    دوسری جانب ایرانی صدرمسعود پیزشکیان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات ”ایرانوفوبیا“ کو فروغ دینے کی کوشش ہیں اور ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کی مسلسل تردید کی گئی ہے۔

    ٹرمپ حلف برداری تقریب کے 20 دعوت نامے ملے، سلمان اکرم راجہ

    اپنے غیرملکی میڈیا انٹرویو میں مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی ٹرمپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی اور اکتوبر میں سوئس سفارت کاروں کے ذریعے امریکہ کو تحریری یقین دہانی بھیجی تھی۔

  • سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ  میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

    کیا باراک اوباما اور مشیل اوباما طلاق کے قریب ہیں؟ حالیہ خبروں کے بعد کچھ مداحوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ دونوں کے درمیان کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب یہ خبر آئی کہ مشیل اوباما اپنے شوہر کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گی۔

    باراک اور مشیل اوباما کے دفتر نے اس ہفتے ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ "سابق صدر باراک اوباما 60ویں حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ تاہم، سابق خاتون اول مشیل اوباما اس تقریب میں شریک نہیں ہوں گی۔” اس کے علاوہ، مشیل اوباما 9 جنوری کو سابق صدر جمی کارٹر کی تدفین میں بھی موجود نہیں تھیں، اور ان کی غیر موجودگی کو ‘شیڈول میں تضاد’ کے طور پر بیان کیا گیا۔

    یہ دونوں بڑی غیر حاضریاں بعض مداحوں میں تشویش پیدا کر رہی ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "میں تو کہہ رہا ہوں، اوباما کی طلاق ہونے والی ہے۔” ایک اور نے کہا، "اوباما کی طلاق 2025 کی پیش گوئیوں میں شامل نہیں تھی، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ ہو سکتی ہے۔” ایک اور نے دعویٰ کیا، "مشیل اور باراک کے درمیان اب کچھ ٹھیک نہیں ہے! وہ طلاق لینے والے ہیں! وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں!”

    تاہم، کچھ لوگ ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مشیل اوباما شاید ایک سیاسی بیان دے رہی ہیں۔ ایک شخص نے لکھا، "میں ان کی شادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، لیکن یہ واضح ہے کہ مشیل اوباما یہ غیر حاضریاں ایک خاص سیاسی مقصد کے تحت کر رہی ہیں۔ وہ جمی کارٹر کی تدفین کو طلاق کا اعلان کرنے کے لیے منتخب نہیں کر سکتیں۔”ایک اور صارف نے کہا، "مشیل اوباما اپنی والدہ کی موت پر غم میں ہیں، اور وہ سیاسی شخصیت نہیں ہیں۔ لوگ ٹک ٹاک کی افواہوں پر یقین کر رہے ہیں کہ وہ اور باراک طلاق لے رہے ہیں کیونکہ مشیل نے ایک جنازہ میں شرکت نہیں کی اور ایک مجرم کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی۔”

    باراک اور مشیل اوباما کی ملاقات 1989 میں ہوئی تھی جب دونوں شکاگو کے ایک قانون دفتر میں کام کرتے تھے، اور 1992 میں انہوں نے شادی کی۔ انہوں نے 1998 میں اپنی پہلی بیٹی مالیا اور 2001 میں دوسری بیٹی ساشا کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ دونوں کی شادی طویل مدت سے برقرار ہے، لیکن انہوں نے اپنی مشکلات کو بھی کھل کر شیئر کیا ہے۔ جب ان کے بچے پیدا ہوئے تھے، تو وہ باراک کے چھ گھنٹے کے کام کا سفر اور اس کے طویل دوروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہو گئے تھے۔ باراک نے اپنی 2020 کی یادداشت ‘اے پرومسڈ لینڈ’ میں ایک موقع پر مشیل کا ذکر کیا جس میں وہ تھکن کی حالت میں کہہ رہی تھیں، "یہ وہ نہیں ہے جو میں نے سوچا تھا باراک، مجھے لگتا ہے کہ میں یہ سب اکیلے کر رہی ہوں۔”

    باراک کے صدر بننے سے پہلے مشیل کو اس بات پر اعتراض تھا کہ باراک کو صدر بننے کے لیے سیاست میں شامل ہونا چاہیے، لیکن جب وہ یہ سمجھیں کہ اس کا اثر نوجوان سیاہ فام بچوں پر پڑے گا تو وہ اس خیال کو اپنائیں۔

    اگرچہ وائٹ ہاؤس میں آٹھ سال گزارنے کے دوران دونوں کے درمیان اختلافات بھی ہوئے، لیکن وہ اپنی شادی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ باراک نے اپنی کتاب میں کہا کہ وائٹ ہاؤس کے ابتدائی سالوں میں ان کی بیوی میں ایک "دباؤ” تھا، جو "نہایت نرم لیکن مستقل” تھا۔تاہم، 2017 میں دو مدت کی صدارت کے خاتمے کے بعد، دونوں نے اپنے تعلقات کو دوبارہ استوار کیا اور ایک دوسرے کی کمپنی کا لطف اٹھایا۔ باراک نے اپنی کتاب میں لکھا کہ "ہم نے اپنے دوستوں کو دوبارہ زندہ کیا اور ایک دوسرے سے محبت دوبارہ دریافت کی۔”

    مشیل اوباما نے اپنے پوڈکاسٹ ‘دی لائٹ’ میں بھی اس بات کا ذکر کیا کہ کئی بار وہ باراک کو "کھڑکی سے باہر دھکیلنے” کے بارے میں سوچتی تھیں، لیکن اس نے یہ بھی کہا کہ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ تعلق ختم نہیں کیا۔مشیل نے کہا، "آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ ایسے لمحات آئیں گے جب آپ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ چھوڑ دیں، اور یہ لمحات طویل عرصے تک چل سکتے ہیں۔ ہمارے درمیان بہت مضبوط شادی ہے۔ اگر میں نے اس پر ہار مان لی ہوتی، تو میں اس خوبصورتی سے محروم ہو جاتی جو اس کے اندر تھی۔”

  • انیل مسرت،صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی پروگرام میں نہ گھسنے دیا گیا،صحافیوں پر بھی پابندی

    انیل مسرت،صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی پروگرام میں نہ گھسنے دیا گیا،صحافیوں پر بھی پابندی

    پاکستان میں بحران کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت میں ایک اہم بریفنگ کا اہتمام کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں جاری سیاسی حالات اور جمہوریت کے تحفظ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام "فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان یوکے” نے کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنماؤں سمیت دیگر سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔تاہم پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں اور صحافیوں کو داخلے کی اجازت نہ ملی

    تقریب میں شہزاد اکبر، اظہر مشوانی، ذلفی بخاری اور دیگر سیاسی شخصیات نے خطاب کیا، جبکہ برطانوی پارلیمنٹ کے بعض اراکین بھی موجود تھے۔ تاہم، رپورٹس کے مطابق اس بریفنگ کے دوران تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر کو تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا، جس کے بعد تقریب بدنظمی کا شکار ہو گئی۔ اس دوران متعدد صحافیوں کو بھی شرکت سے روکا گیا، جس نے اس تقریب کے ماحول کو متاثر کیا۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ ڈین ہینن نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان میں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان میں تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ملک میں جمہوریت کی فضا قائم ہو سکے۔

    تقریب کے اختتام پر صحافیوں کے ایک گروپ نے منتظمین سے احتجاج کیا، جس کا مقصد ان افراد کو تقریب میں شرکت سے روکنے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنا تھا۔ صحافیوں نے اس اقدام کو غیر جمہوری اور آزادی صحافت کے خلاف قرار دیا۔

    بزنس ٹائیکون انیل مسرت اور عمران خان کے جگری دوست صاحبزادہ جہانگیر کو پی ٹی آئی کی تقریب میں دو بار کوشش کے باوجود بھی گھسنے نہیں دیا گیا ،تو وہیں صحافیوں کو بھی نہیں جانے دیا گیا جس پر صحافیوں نے احتجاج کیا ، پی ٹی آئی کی جانب سے پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ پر مبنی تقریب کی وجہ سے صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی، برطانیہ سے خاتون صحافی سفینہ خان نے ایکس پر ویڈیو شیئر کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر ہال میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کو ہال میں نہیں جانے دیا گیا، سفینہ خان کا کہنا تھا کہ انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر جو عمران خان کے قریبی ہیں اور یہاں لندن میں وہ پروگراموں کی قیادت کرتے تھے آج ان کو پی ٹی آئی پروگرام میں ہی داخل نہیں ہونے دیا گیا، دروازے بند کر دیئے گئے،

    ڈاکٹر شمع جونیجو ایکس پر لکھتی ہیں کہ آج برطانوی پارلیمنٹ کے ایک کمیٹی روم میں پاکستان میں ہیومن رائٹس کی پابندیوں کا رنڈی رونا رونے والے زلفی بخاری نے اپنی ہی پارٹی پی ٹی آئی کے بانی سینئر رہنماؤں کے ایونٹ میں داخلے پر پابندی لگوا دی ،یہ تو حالت ہے ان کی اپنی tyranny اور fascism کی-

    سفینہ خان کا کہنا تھا کہ صحافی جو بہت سارے جن کو دعوت نہیں ملی تھی، زلفی بخاری اور دیگر نے انکو اندر جانے دیا، کسی صحافی کو اندر نہیں جانے دیا گیا، مرتضیٰ علی شاہ اندر گئے ، خوف یہ تھا کہ ہم پاکستان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کو ایکسپوز کریں گے، اسلئے ہمارے نام لے کر کہا گیا کہ ہمیں اندر نہیں جانے دیں گے، میڈیا سے خوف تھا، مرتضیٰ علی شاہ کو بھی دعوت نہیں تھی لیکن وہ اندر گئے، دو صحافی انوائیٹڈ تھے آفیشلی پتہ نہیں وہ پی ٹی آئی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،

    ایک اور صحافی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ہو رہا ہے، برطانوی پارلیمنٹ کے کمیٹی روم میں ،بطور پرائیویٹ ایونٹ پی ٹی آئی نے پروگرام کیاکوئی سوال نہ کرے اس لیے صحافیوں کو نہیں جانے دینا، بغیر دعوت نامے کے لوگ گئے ، صحافیوں کو باہر بھیجنے کا کہا گیا، ہم نے یہاں احتجاج کیا، جس پر آرگنائزر نے سیکورٹی بلا لی اور کہا کہ انکو واپس بھیجیں، پارلیمنٹ کی کمیٹی روم میں آج جو کچھ ہوا ٹارگٹ کر کے پی ٹی آئی نے صحافیوں کو باہر نکلوایا تا کہ جو پروپیگنڈہ ہونا ہے اسکو پھیلایا جا سکے،

    https://x.com/BaaghiTV/status/1879772988758949939

    آرگنائزر سفینہ فیصل نے پروگرام آرگنائزر تھیں، سفینہ فیصل سے صحافیوں نے سوال کئے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیئے، انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر کو نکالے جانے پر انہوں نے کہا کہ وہ لیٹ ہو گئے جس وجہ سے سیکورٹی نے انہیں اندر نہیں جانے دیا،30 اراکین پارلیمنٹ تھے،