Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    سلمان خان کے گھر کی سیکورٹی میں اضافہ،کرنٹ والی باڑ نصب

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر اپنے گھر کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، سلمان خان کو گزشتہ کچھ عرصے سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد انہوں نے اپنے ممبئی میں واقع گلیکسی اپارٹمنٹ کی سیکیورٹی میں اضافہ کر لیا ہے۔سلمان خان کے گلیکسی اپارٹمنٹ کی سیکیورٹی میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جس میں بلٹ پروف شیشے اور کرنٹ والی باڑ لگائی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سلمان خان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب انہیں مختلف گروپوں سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔یہ سیکیورٹی اقدامات بھارتی سیاستدان بابا صدیق کے قتل کے بعد کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کے لیے مزید تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ سوشل میڈیا پر سلمان خان کے گھر کے باہر کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں، جن میں ان سیکیورٹی اقدامات کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    صرف سلمان خان کے ممبئی والے گھر کی سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ ان کے مہاراشٹرا میں واقع فارم ہاؤس کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ ان دونوں مقامات پر سیکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور جدید ترین حفاظتی آلات نصب کیے گئے ہیں۔بھارتی حکومت کی جانب سے سلمان خان کو وائی پلس سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت انہیں مسلسل پولیس کی نگرانی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی ایک خصوصی گاڑی بھی سلمان خان کے ہمراہ رہتی ہے تاکہ ان کی حفاظت کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ سلمان خان کو لارنش بشنوئی گینگ کی جانب سے کئی مرتبہ قتل کی دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں۔ گزشتہ سال ان کے گھر کے باہر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد ان کی سیکیورٹی کو بڑھا دیا گیا تھا۔ ان واقعات کے بعد سلمان خان کی زندگی کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے سبب ان کے لیے اس سطح کی سیکیورٹی کے اقدامات ضروری سمجھے گئے۔سلمان خان کے لیے اس وقت یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ بن چکا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اہل خانہ کو تحفظ فراہم کر سکیں۔ ان کی طرف سے کیے گئے سیکیورٹی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، حج سفارشات منظور

    وزارتوں،اداروں کو ضم،ڈیڑھ لاکھ آسامیوں کو ختم کیا جا رہا، وزیر خزنہ

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے مختلف آپشنز پر کام

  • ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    برطانیہ کے ماہرین نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ ہومپیو وائرس ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کی اہم تفصیلات فراہم کرے، جس کی وجہ سے چینی اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں اس وائرس کی موجودہ قسم کے بارے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی برطانوی عوام کے لیے ممکنہ خطرات کا صحیح طور پر اندازہ لگا سکیں۔

    برطانوی ماہر وائرس ڈاکٹر اینڈریو کیچ پول نے کہا، "ہمیں وائرس کے اس مخصوص اسٹین کی تفصیلات کی ضرورت ہے جو چین میں گردش کر رہا ہے تاکہ ہم صحیح طور پر اس کے اثرات کا تجزیہ کر سکیں۔” ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "چین میں اس وائرس کے پھیلاؤ کی شدت معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔”برطانوی صحت کے حکام نے اس وائرس کے پھیلاؤ کو اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ ماہ کے دوران ہومپیو وائرس کے کیسز میں دوگنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ حالیہ برطانوی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق، ایک اندازے کے مطابق ہر 20 سانس کی بیماریوں میں سے ایک کی وجہ ایچ ایم پی وی ہو سکتی ہے۔

    ڈاکٹر کیچ پول نے مزید کہا کہ "ہومپیو وائرس عام طور پر سردیوں کے موسم میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ لگتا ہے کہ چین میں اس وائرس کے سنجیدہ کیسز کی شرح معمول سے زیادہ ہو سکتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنے کے لیے مزید معلومات کی ضرورت ہے کہ آیا یہ وائرس معمول کے گردش کرنے والے اسٹینز ہیں یا چین میں جو وائرس پھیل رہا ہے وہ کچھ مختلف ہے۔”اس وائرس کے عام علامات نزلہ اور کھانسی ہیں، لیکن کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد جیسے بچے، بزرگ اور بیمار لوگ اس سے زیادہ سنگین بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

    چین نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی اسپتالوں کی بھرپور تصاویر اور ویڈیوز کو کم اہمیت دی ہے اور کہا ہے کہ یہ وائرس گزشتہ سال کے مقابلے میں کم سنگین ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین نے چین میں جاری صورتحال کو 2019 میں کووڈ-19 کے آغاز کے ساتھ مماثلت قرار دیا ہے، جب چین نے ابتدائی طور پر وائرس کی شدت کو کم کر کے پیش کیا تھا۔برطانوی ماہرین نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ چینی اسپتالوں میں جو منظر دکھائی دے رہے ہیں، وہ برطانیہ کے اسپتالوں سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

    ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایچ ایم پی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر ان لوگوں کو جو کمزور مدافعتی نظام رکھتے ہیں۔ پروفیسر جایا ڈنٹس نے کہا، "ہمیں اس وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے محتاط اور متوازن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں ٹیسٹ کرانا، گھر پر رہنا اور دوسروں سے دور رہنا چاہیے، عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہیے اور اپنے کمزور افراد کی حفاظت کرنی چاہیے۔”

    چین سے مزید شفاف معلومات کی درخواست عالمی ماہرین کی جانب سے کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سنجیہ سنانییکے نے کہا، "چین کے لیے اس پھیلاؤ پر جلدی معلومات فراہم کرنا بہت ضروری ہے، بشمول اس بات کے کہ کس گروہ میں اس کا زیادہ اثر ہو رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمیں جینیاتی ڈیٹا کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ ایچ ایم پی وی ہی اس کا سبب ہے اور آیا اس میں کوئی اہم تغیرات تو نہیں ہوئے ہیں۔”

    امریکہ میں بھی ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں دسمبر کے آخر میں مثبت ٹیسٹ کی شرح دگنا ہو گئی۔ تاہم، امریکی سی ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ چین میں ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہیں فی الحال امریکہ میں اس کے پھیلاؤ کے بارے میں زیادہ تشویش نہیں ہے۔

    ہومپیو وائرس پہلی بار 2001 میں سامنے آیا تھا اور عام طور پر نزلہ یا سردی کے جیسے علامات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، اس کے شدید کیسز میں برونکائٹس، برونکائیولائٹس اور نمونیا جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں سانس کی تکلیف، شدید کھانسی اور سانس کا مسئلہ شامل ہیں۔ بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد اس کے شدید اثرات کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایچ ایم پی وی عموماً ہلکا وائرس ہے، اس لیے اس کا عین موت کا شرح معلوم نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے 10 سے 30 فیصد مریض اس وائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر سنانییکے نے خبردار کیا کہ چین میں ایچ ایم پی وی کے کیسز میں اضافہ ایک "خراب فلو سیزن” کے مترادف ہے اور اس کے عالمی سطح پر پھیلنے کا امکان کم ہے۔

    اگرچہ ایچ ایم پی وی ایک عام وائرس سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ اور چین میں بڑھتی ہوئی شدت نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین نے چین سے مزید معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ وائرس کی نوعیت اور اس کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

    بھارت میں انسانی میٹا نیومو وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

    چین میں پھیلنے والا وائرس 2 دہائیوں سے پاکستان میں موجود ؟

    چین : کورونا جیسا وائرس ’ایچ ایم پی وی‘ پھیلنے کی اطلاعات

    بھارت میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ،علاج کی نئی تکنیک دریافت

  • راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے  نئے سال کا آغاز

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    ممبئی: راکھی ساونت نے عمرہ کی ادائیگی سے اپنے نئے سال کا آغاز کیا ہے-

    باغی ٹی وی: معروف بھارتی اداکارہ ، رقاصہ راکھی ساونت نے دو سال قبل دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ایک ہندوستانی مسلمان عادل درانی سے شادی کی تھی اور اپنا نام بدل کر فاطمہ رکھ دیا تھا ان کی شادی کامیاب نہیں ہوئی تاہم، راکھی نے اسلامی روایات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا عمل جاری رکھا اور گزشتہ سال اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد عمرہ ادا کیا۔

    اب راکھی ساونت نے نئے سال کے آغاز پر عمرہ ادا کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے، فی الحال راکھی ساونت مدینہ میں ہیں جہاں سے وہ خانہ کعبہ جائیں گی اور عمرہ ادا کریں گی،اپنی ویڈیو میں راکھی نے کہا،دنیا نیا سال منا رہی ہے، اور ہم یہاں زیارت پر ہیں، اپنے نئے سال کا آغاز اس روحانی سفر کے ساتھ کرنا میرے لیے بہت خوش کن ہے۔

    مقدمہ ہارنے پر شخص نے اپنے وکیل کو اغوا کرلیا

    ویڈیو میں راکھی کہتی ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ 2025 میرے لیے حیرت انگیز ہوگا کیونکہ میں نے اس کی شروعات عمرے سے کی ہے لوگ دعا کر رہے ہیں، اور میں اپنے تمام دوستوں اور ضرورت مندوں کے لیے دعا کر رہی ہوں، سب کو عقیدت اور سکون کے ساتھ عمرہ ادا کرتے ہوئے دیکھ کر بہت سکون کا احساس ہورہا ہے۔

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

  • مقدمہ ہارنے پر شخص نے اپنے  وکیل کو اغوا کرلیا

    مقدمہ ہارنے پر شخص نے اپنے وکیل کو اغوا کرلیا

    قاہرہ: مصر میں ایک شخص نے مقدمہ ہارنے پر اپنے ہی وکیل کو اغوا کرلیا۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کے مطابق وکیل نے اپنے موکل مصری شہری سے 3 لاکھ پاؤنڈ کی بھاری فیس وصول کی تھی اغواء ہونے کے بعد وکیل کی اہلیہ نے پولیس کو اطلاع دی –

    گیزا میں پولیس کو زینب نامی خاتون کی طرف سے ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے 68 سالہ شوہر وکیل کو ان کے ایک مؤکل 73 سالہ ٹھیکیدار فتحی ع نے اغواء کرلیا زمین کے ایک حصے سے متعلق تنازع کا کیس ہارنے پر ٹھیکیدار نے وکیل کو اپنے گھر میں قید کرلیا ہے۔

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    رپورٹ کے مطابق پولیس وکیل کو رہا کرانے میں کامیاب ہوگئی پولیس نے اغوا کار مؤکل کو بھی گرفتار کرلیا گیزا گورنریٹ میں پبلک پراسیکیوشن ایک ٹھیکیدار پر وکیل کو اغوا کرنے اور حراست میں لینے کا الزام لگانے کے لیے وسیع تحقیقات شروع کر رہا ہے موکل نے وکیل کو اپنے کیس کے لیے تین لاکھ پاؤنڈ ادا کیے تھے تاہم اتنی بڑی رقم کے باوجود وکیل کیس ہار گیا تھا۔

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

    استغاثہ نے درخواست کی ہے کہ سیکیورٹی سروسز واقعے کی تحقیقات کریں اور متاثرہ شخص کو واقعے سے متعلق اس کے بیانات سننے کے لیے طلب کریں۔

  • افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    افغان خواتین سے یکجہتی،انگلینڈ کا افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    لندن: انگلینڈنے چیمپئنز ٹرافی میں افغانستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : سابق لیبر رہنما جیریمی کاربن اور ریفارم کے رہنما نائیجل فراگ سمیت 160 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے انگلش کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہےکہ ای سی بی کو 26 فروری کو افغانستان کے خلاف گروپ میچ کھیلنے سے انکارکرنا چاہیے، افغانستان کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ ظلم کے خلاف عدم برداشت کا واضح پیغام ہوگا، ای سی بی سےگزارش کرتے ہیں کہ افغان خواتین سے یکجہتی کا مضبوط پیغام دیں۔

    دوسری جانب انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ کا کہنا ہے کہ افغانستا ن کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کرسکتے، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ طالبان کے خواتین کے ساتھ سلوک کی سخت مذمت کرتا ہے،کرکٹ بہت سے افغان اور بےگھر افغانیوں کے لیے امیدکا ایک ذریعہ ہے، تمام ممبر ممالک کے ساتھ مشترکہ فیصلے کی حمایت کریں گے۔

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

    پیار ہو تو ایسا،شادی شدہ خاتون چھ بچے چھوڑ کر بھکاری کے ساتھ رفوچکر

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

  • برازیلین ماڈل کو پالتوکتے نے ناک پر  کاٹ لیا

    برازیلین ماڈل کو پالتوکتے نے ناک پر کاٹ لیا

    برازیلین ماڈل جولیانا آئسن کے لیے نیو ایئر نائٹ کا جشن ایک خوفناک حادثے میں بدل گیا جب ان کے پالتو کتے نے ان کی ناک پر کاٹ لیا۔

    39 سالہ ماڈل جو کہ کتے پالنے کی شوقین ہیں، یہ واقعہ میکسیکو سٹی میں پیش آیا۔ برازیل کی مشہور ماڈل کی نیو ایئر پارٹی خوشی کے بجائے ایک دردناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جولیانا آئسن اپنی نیو ایئر کی تقریبات میں مصروف تھیں کہ ان کے پالتو کتے نے اچانک ان کی ناک پر حملہ کیا اور انہیں شدید زخمی کر دیا۔ فوری طور پر جولیانا کو میکسیکو سٹی کے فوی اینجلس اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی ناک کی سرجری کی گئی،ناک کی کامیاب سرجری کے بعد، جولیانا آئسن نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے اپنی سرجری کی تفصیلات اور خوشی کا اظہار کیا۔ ویڈیو میں جولیانا نے کہا، "دیکھو کتے کے کاٹنے کا کیا نتیجہ نکلا؟ میرا ناک زخمی تھا اور اس میں بیکٹیریا بھر گئے تھے، اس لیے سرجری کی ضرورت پڑی تاکہ اسے ٹھیک کیا جا سکے اور نئی شکل دی جا سکے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ، "خدا کا شکر ہے کہ پلاسٹک سرجن نے کہا کہ میری ناک پر کوئی نشان نہیں رہے گا۔” جولیانا نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں اپنی ناک کی مزید سرجری کی ضرورت نہیں ہوگی، اور اب وہ اپنی ناک کی مکمل بحالی کے بعد خوش ہیں۔

    یاد رہے کہ جولیانا آئسن نے 2015ء میں برازیل کے اس وقت کے صدر دلما روسیف کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے برہنہ ہو کر بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔ اس احتجاج کے دوران انہوں نے برازیل کی حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا تھا جس نے انہیں عالمی سطح پر شہرت دی۔

    جولیانا آئسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پالتو کتے سے محبت کرتی ہیں اور اسے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا اور وہ اس واقعہ سے مکمل طور پر شفا یاب ہو چکی ہیں۔

    پاکستانی کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف حکومتی پذیرائی نہ ملنے پر مایوس

    سول انجینئر راہول کمار کا قتل، سی سی ٹی وی کی مدد سے قاتل گرفتار

    پیار ہو تو ایسا،شادی شدہ خاتون چھ بچے چھوڑ کر بھکاری کے ساتھ رفوچکر

  • پیار ہو تو ایسا،شادی شدہ خاتون چھ بچے چھوڑ کر بھکاری کے ساتھ رفوچکر

    پیار ہو تو ایسا،شادی شدہ خاتون چھ بچے چھوڑ کر بھکاری کے ساتھ رفوچکر

    پیار ہو تو ایسا،اتر پردیش کے ضلع ہرپال پور میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس میں 36 سالہ خاتون اپنے شوہر راجو اور 6 بچوں کو چھوڑ کر ایک بھکاری کے ساتھ فرار ہو گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق راجو نامی شہری نے اپنی بیوی کے بھکاری کے ساتھ بھاگ جانے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق راجو، جو کہ 45 سال کا ہے، نے اپنی شکایت میں بتایا کہ وہ اپنی بیوی راجیشوری اور 6 بچوں کے ساتھ ہرپال پور کے علاقے میں رہتا تھا۔ اس دوران محلے میں 45 سالہ ننھے پنڈت نامی شخص آ کر بھیک مانگتا تھا اور کبھی کبھار راجیشوری سے بات کرتا تھا۔ راجو کا کہنا تھا کہ اس بھکاری کے ساتھ بیوی کی فون پر بھی بات چیت ہوتی تھی، جس سے اسے شک ہونے لگا تھا۔راجو نے بتایا کہ 3 جنوری 2025 کی دوپہر تقریباً 2 بجے اس کی بیوی نے اپنی بیٹی خوشبو کو بتایا کہ وہ کپڑے اور سبزی خریدنے بازار جا رہی ہے، مگر اس کے بعد وہ واپس نہیں آئی۔ راجو نے اس کے بعد اپنی بیوی کو ہر جگہ تلاش کیا، مگر وہ کہیں بھی نہیں ملی۔ راجو کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی بھکاری ننھے پنڈت کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔

    راجو نے مزید کہا کہ اس نے ایک بھینس بیچ کر جو رقم حاصل کی تھی، وہ بھی اس کی بیوی اپنے ساتھ لے گئی۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فرار ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا۔پولیس نے راجو کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بھارتی پولیس کے مطابق، ننھے پنڈت اور خاتون کی تلاش کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔راجو کی شکایت کے مطابق، اس کی بیوی کا بھکاری کے ساتھ یہ تعلق طویل عرصے سے تھا اور پولیس کو شک ہے کہ یہ فرار کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔

    اس واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلادی ہے اور مقامی افراد میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ ایک غیر متوقع اور جذباتی فیصلہ تھا، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ اس میں کچھ خفیہ وجوہات ہو سکتی ہیں، جن کے بارے میں ابھی تک معلومات نہیں مل سکیں۔پولیس کی تفتیش ابھی جاری ہے اور جب تک دونوں ملزمان گرفتار نہیں ہوتے، یہ واقعہ علاقہ میں موضوع بحث بنا رہے گا۔ تاہم، راجو نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

    پی ایس ایل 10 کے ڈرافٹ کیلیے غیر ملکی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز سامنے آگئیں

    ٹک ٹاکر بسمہ بی بی پر شوہر کے قتل کا الزام ثابت، عدالت نے سزا سنا دی

  • بیلجیئم: وزیرِ اعظم کے دفتر میں چاقو کے ساتھ گھسنے والا گرفتار

    بیلجیئم: وزیرِ اعظم کے دفتر میں چاقو کے ساتھ گھسنے والا گرفتار

    بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پیر کی صبح ایک شخص کو وزیرِ اعظم کے دفتر کے باہر سے چاقو کے ساتھ حراست میں لے لیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حراست میں لیا جانے والا شخص وزیرِ اعظم کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

    مقامی پولیس کے مطابق، مسلح شخص نے دفتر کے باہر سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں سے تلخ کلامی کی اور انہیں دھمکیاں بھی دیں۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا اور علاقے کو سیل کر دیا۔ ابتدائی طور پر اس شخص کے عزائم اور اس کے مقصد کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں، تاہم اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس وقت وزیرِ اعظم الیگزینڈر ڈی کرو اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے، وزیرِ اعظم نے بعد میں سوشل میڈیا پر فوج اور پولیس افسران کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی بروقت کارروائی کی بدولت ممکنہ سانحے کو روکا جا سکا۔

    برسلز میں وزیرِ اعظم کے دفتر کے قریب کئی اہم دفاتر بھی واقع ہیں، جن میں یورپی یونین کے مختلف ادارے اور بیلجیئم کی حکومت کے دیگر دفاتر شامل ہیں۔ اس علاقے میں متعدد وزیروں کے دفاتر بھی وزیرِ اعظم کے دفتر کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے یہ مقام سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔اس واقعے نے بیلجیئم کے دارالحکومت میں سیکیورٹی کی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں، اور حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس واقعے کے پس پردہ وجوہات اور اس شخص کے عزائم کا پتا چلایا جا سکے۔

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی اسکواڈز کے اعلان کی آخری تاریخ

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    چین کے علاقے تبت میں آج صبح 7.1 شدت کے زلزلے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں متعدد عمارتیں گر گئیں اور 53 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس زلزلے نے نہ صرف چین بلکہ نیپال اور بھارت کے بعض حصوں میں بھی شدید اثرات مرتب کیے۔

    چین کے زلزلہ نیٹ ورک سینٹر کے مطابق، یہ زلزلہ چین کے تبت کے علاقے ٹنگری کاؤنٹی کے قریب آیا تھا، جس کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر بتائی گئی ہے، چینی وقت کے مطابق یہ زلزلہ صبح 9 بج کر 5 منٹ پر آیا اور اس کے فوراً بعد متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جنہوں نے مزید تباہی مچائی۔چینی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹنگری کاؤنٹی میں متعدد مکانات اور عمارتیں گرنے کے باعث کم از کم 53 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس کے سبب ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بھی اس زلزلے کے شدید اثرات محسوس کیے گئے اور عمارتیں لرزنے لگیں۔ نیپال میں زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں بھی شہر میں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اگرچہ ابھی تک نیپال میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی

    بھارت کے شمالی علاقے اور بہار ریاست میں بھی زلزلے کے اثرات محسوس کیے گئے۔ بھارت میں زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی ریاست بہار میں اس زلزلے کے دوران عمارتیں چند سیکنڈز تک لرزتی رہیں، تاہم وہاں بھی کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    چینی میڈیا کے مطابق یہ زلزلہ گزشتہ پانچ سالوں میں تبت میں آنے والا سب سے طاقتور اور خطرناک زلزلہ تھا۔ تبت کے پہاڑی علاقے میں اس طرح کے قدرتی آفات کا سامنا معمول کی بات ہے، لیکن اس بار زلزلے کی شدت اور اس کی تباہی نے تمام علاقے کو چونکا دیا ہے۔چینی حکام نے فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے اور فوج کو بھی ہنگامی طور پر روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو بچایا جا سکے اور امداد فراہم کی جا سکے۔

    زلزلے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے چین کے متاثرہ علاقوں کے لیے اظہار ہمدردی اور امداد کی پیشکش کی گئی ہے۔ کئی ممالک نے چینی حکام سے رابطہ کیا اور ان کی مدد کے لیے تیار ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔تبت میں اس شدید زلزلے نے جہاں ایک طرف علاقے میں خوف و ہراس پیدا کیا، وہیں دوسری جانب حکومتی اور مقامی امدادی ٹیموں کی فوری کارروائی سے متاثرین کی مدد کی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

    جمائما جنوبی افریقا میں پہاڑی سے گر کر زخمی

    پاکستان کاچین میں زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر تعزیت کا اظہار
    اسلام آباد: پاکستان نے چین کے علاقے ژیژانگ (Xizang) میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام نے چین کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے دعائیں کی ہیں۔پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم ژیژانگ میں زلزلے کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسردہ ہیں اور ہم چین کے عوام و حکومت کے ساتھ اس دردناک موقع پر کھڑے ہیں۔ ہم اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔”پاکستان نے چین کی حکومت کو مکمل حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم چین کے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہماری دعائیں زخمیوں کے ساتھ ہیں اور ہم ان کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لیے بھی دعاگو ہیں جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔”مزید برآں، پاکستان نے چین کی حکومت اور امدادی اداروں کو نیک تمناؤں کے ساتھ حوصلہ افزائی کی ہے، پاکستانی حکومت نے امدادی کوششوں کی کامیابی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا عہد کیا اور امید ظاہر کی کہ چین اس سانحے کے بعد جلد از جلد اپنے شہریوں کی بحالی کی طرف قدم اٹھائے گا۔پاکستان کے عوام نے بھی اس سانحے کے حوالے سے چین کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے پیغامات جاری کیے ہیں۔