Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ  کی  واشنگٹن آمد پر احتجاج

    سکھ برادری کا بھارتی وزیر خارجہ کی واشنگٹن آمد پر احتجاج

    واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی آمد کے خلاف سکھ برادری کے رہنماؤں نے شدید احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک مظاہرین نے خالصتان تحریک کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارتی وزیر خارجہ کی ملاقات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں اور ان کی پالیسیاں سکھوں کے خلاف سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔مظاہرین نے اپنے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پرچم پر تلواروں سے حملہ کیا اور نعرے لگائے کہ بھارت کی حکومت سکھوں کے خلاف عالمی سطح پر جرائم میں ملوث ہے۔ یہ احتجاج واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ایس جے شنکر کی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی موجودگی میں سخت احتجاج کیا۔

    احتجاج کے دوران ڈاکٹر بخشش سنگھ سندھو نے کہا کہ "ایس جے شنکر بھارت میں سکھوں کے خلاف سازشوں میں ملوث ہیں اور ان کے اقدامات عالمی سطح پر سکھوں کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے بھی شدید الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ایس جے شنکر نہ صرف بھارت میں سکھوں کے خلاف ظلم کی حمایت کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے میں بھارت کی پالیسیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔

    مظاہرین نے اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھی نعرے لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی کو فروغ دے رہی ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ مظاہرین نے ایس جے شنکر کے ساتھ ملاقات کرنے والے امریکی حکام پر بھی تنقید کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ کے خلاف عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔بھارت کی حکومت عالمی سطح پر سکھوں کے خلاف نسل کشی کی سازش کر رہی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری کو ایک سخت موقف اپنانا ہوگا۔

    اس احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک بھارت اپنے سکھ شہریوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتا، تب تک اس کے حکام کو عالمی سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

  • خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    برطانیہ کی ایک نجی جیل میں ایک خاتون جیل افسر کو مبینہ طور پر ایک قیدی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے کیمرے میں پکڑے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ویلنگبورو کے نجی جیل "فائیو ویلز” میں پیش آیا، جہاں جیل افسر اور ایک ٹیٹو والے قیدی کے درمیان غیر مناسب تعلقات قائم ہونے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔مذکورہ خاتون جیل افسر اور قیدی کے جنسی تعلقات کی ویڈیو ایک کیمرے میں ریکارڈ ہو گئی، جس میں دونوں کو جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو جیل میں دیگر قیدیوں اور باہر موجود افراد تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون افسر کو معطل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قیدی کو بھی جیل کے دوسرے حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کو ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں برطانیہ کے جیل نظام میں اس نوعیت کا دوسرا سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک شادی شدہ جیل گارڈ کو ایک قیدی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ویڈیو میں پکڑا گیا تھا، جس نے برطانوی جیل انتظامیہ کو مزید تحقیقات کی ضرورت کا احساس دلایا۔

    اس تازہ واقعے نے جیل کے نظام میں اخلاقی قدروں اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد جیل کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے سکینڈلز کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویوں کی سرکوبی کی جا سکے۔دوسری جانب، جیل افسر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس کے ممکنہ قانونی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون افسر کو کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ جیل کے نظم و ضبط اور اخلاقی دائرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    یہ واقعہ جیل کے اندر اخلاقی اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات جیل کے عملے کی جانب سے ان کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو نہ صرف جیل کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس سکینڈل کے بعد، جیل کے حکام نے اپنی پالیسیاں مزید سخت کرنے اور ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بلاول بھٹو ، سیاست کے اسٹیج پر نیا انداز، رنبیر کپور سے موازنہ، آئندہ کے ’ہینڈسم وزیرِاعظم‘ قرار

  • چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک شخص نے اپنی گاڑی ایک اسپورٹس سینٹر میں ورزش کرنے والی بھیڑ پر چڑھا دی، جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ہو گئے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق، اس شخص کو جمعہ کے روز موت کی سزا سنائی گئی۔

    62 سالہ فان ویچیئو نے گزشتہ ماہ اپنے غصے میں آ کر اپنی گاڑی اسپورٹس سینٹر کی کھلی جگہ پر ورزش کرنے والوں پر چڑھائی تھی، جو کہ چین میں ایک دہائی میں عوامی لوگوں کے خلاف سب سے زیادہ ہلاکتوں والی کارروائی تھی۔فان کو ژوہائی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ میں سزا سنائی گئی۔ وہ پہلے ہی دن اپنے جرم کا اعتراف کر چکا تھا، اور سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، اس کے اعترافی بیان کے بعد عدالت نے فیصلہ سنایا۔

    11 نومبر کی شام 8 بجے کے قریب فان ویچیئو نے اپنی گاڑی ایک اسپورٹس سینٹر میں ورزش کر رہے لوگوں پر چڑھائی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اس کی ناکام شادی اور طلاق کے فیصلے پر غصے کی حالت میں کیا گیا۔ اس کی نظر میں طلاق کا فیصلہ غیر منصفانہ تھا، جس کی وجہ سے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔فان کی گاڑی ژوہائی اسپورٹس سینٹر کے میدان میں دوڑتے ہوئے متعدد افراد کو ٹکرا گئی۔ پولیس نے حملے کے بعد فان کو گاڑی میں پایا، جو خود کو چاقو سے زخمی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ "عدالت نے فیصلہ سنایا کہ ملزم فان ویچیئو کا مجرمانہ رویہ قابلِ مذمت ہے، اس جرم کی نوعیت انتہائی ظالمانہ تھی اور اس کے ارتکاب کا طریقہ بھی انتہائی سفاک تھا۔”

    یہ حملہ 2014 کے بعد چین میں سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ تھا، جب سنکیانگ علاقے میں کئی حملے ہوئے تھے۔چینی صدر شی جن پنگ نے اس حملے کو "انتہائی بربریت” قرار دیا تھا اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

  • اٹلی کی خاتون صحافی  تہران میں گرفتار

    اٹلی کی خاتون صحافی تہران میں گرفتار

    اٹلی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اٹالین صحافی سیسیلیا سالا تہران میں گرفتار ہو گئی ہیں۔ سالا ایرانی دارالحکومت میں رپورٹنگ کر رہی تھیں جب 19 دسمبر کو تہران پولیس نے انہیں روکا اور گرفتار کر لیا۔

    وزارت خارجہ نے کہا کہ اٹلی کی حکومت ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سیسیلیا سالا کی قانونی حیثیت کو واضح کیا جا سکے اور ان کی حراست کی صورتحال کی جانچ کی جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکام نے صحافی کو اپنے رشتہ داروں سے بات کرنے کی اجازت دی تھی اور حالیہ دنوں میں اٹلی کی سفیر پاولا آماڈئی نے جیل میں جا کر ان کی حراست کی حالت کا جائزہ لیا۔

    سیسیلیا سالا اٹلی کے مشہور اخبار "ایل فولیئو” کی رپورٹر ہیں، جس نے خبر دی ہے کہ وہ تہران کی ایون جیل میں قید ہیں۔ اخبار کے مطابق، سالا ایران میں "ایک باقاعدہ ویزا” پر موجود تھیں اور ایک ملک پر رپورٹنگ کر رہی تھیں جسے وہ بخوبی جانتی ہیں اور پسند کرتی ہیں۔ اس کے باوجود، ایران میں اظہار رائے کی آزادی پر دباؤ اور صحافیوں کے لیے خطرات کا سامنا ہے۔”ایل فولیئو” کے ایڈیٹر، کلاوڈیو سیراسا، نے اخبار میں لکھا کہ "صحافت جرم نہیں ہے۔ آئیے سیسیلیا سالا کو گھر واپس لائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "وہ ایون جیل میں ہیں۔ تو تہران نے ہر اس چیز کو چیلنج کیا ہے جسے مغرب ناقابلِ تذکرہ سمجھتا ہے: ہماری آزادی۔” سیراسا نے بتایا کہ اخبار نے سالا کی گرفتاری کی خبر شائع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ان کے سفارتی حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس خبر کو شائع کرنے سے ان کی رہائی کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔

    چورا میڈیا، جو ایک اور اٹالین میڈیا آؤٹ لیٹ ہے اور جہاں سالا بھی کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ سالا 12 دسمبر کو روم سے ایران روانہ ہوئی تھیں اور ان کے پاس صحافت کے لیے ایک قانونی ویزا تھا۔ چورا میڈیا نے بتایا کہ "انہوں نے ایران میں متعدد انٹرویوز کیے اور چورا نیوز کے لیے ‘اسٹوریز’ پوڈکاسٹ کے تین ایپیسوڈز تیار کیے۔”

    اٹلی کے وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ "پورا حکومت” سالا کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ "ایران کے ساتھ مذاکرات عوامی رائے اور عوامی غصے کی طاقت سے نہیں بلکہ اعلیٰ سطحی سیاسی اور سفارتی کوششوں سے حل ہوں گے۔” سیسیلیا سالا کا انسٹاگرام اکاؤنٹ حالیہ دنوں میں ایران میں ملنے والی خواتین کے بارے میں پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔ اٹلی کے حکام کی کوشش ہے کہ جلد از جلد ان کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

  • ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایپ کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو مؤخر کرے، جو کہ آئندہ ماہ نافذ ہونے والی ہے۔ جمعہ کے روز ایک قانونی دائرہ میں ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر سے ان کی انتظامیہ کو "مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے” کا موقع ملے گا۔ٹرمپ کی یہ درخواست بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے متصادم ہے، جس نے جمعہ کو اپنے مؤقف میں ٹک ٹاک کی موجودگی کو امریکی قومی سلامتی کے لیے "سنگین” خطرہ قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک چین کی کمپنی کا حصہ ہے اور اس کی موجودگی امریکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور عالمی سیاست میں چین کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کہ آیا اپریل میں کانگریس کے منظور کردہ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون سے امریکی آئین کے پہلے ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے 10 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو گھنٹے مختص کیے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس مقدمے پر مختلف گروپوں اور حکام کی طرف سے دو درجن سے زیادہ قانونی مؤقف درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں، تاہم انہوں نے "دوست عدالت” کی حیثیت سے اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کے نفاذ کی تاریخ کو مؤخر کرے تاکہ ان کی آنے والی انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی مذاکراتی حل تلاش کر سکے۔

    اپنی قانونی درخواست میں ٹرمپ نے اس مقدمے میں آئین کے پہلے ترمیمی سوالات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کی تاریخ 19 جنوری تک مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ ٹک ٹاک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے امریکہ میں ٹک ٹاک کی مکمل بندش کو روکا جا سکے گا اور امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو بچایا جا سکے گا۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ وہ اپنے "قوی انتخابی مینڈیٹ” کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر اہل ہیں اور انہوں نے خود کو سوشل میڈیا کا ایک "انتہائی طاقتور، کامیاب، اور اثر رسوخ رکھنے والا صارف” قرار دیا۔

    جمعہ کو بائیڈن انتظامیہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بایپارٹیز گروپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں اپنی قانونی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے تحت کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنی کے ساتھ ٹک ٹاک کے تعلقات امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک "امریکہ کے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے”، اور چین "اس ایپ کو خفیہ طور پر اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے”۔ اس کا ایک مقصد امریکہ میں انتشار اور غلط اطلاعات پھیلانا ہو سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان موجود کشمکش کو واضح کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب 170 ملین امریکی ٹک ٹاک کا استعمال خبریں اور تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بھی ٹک ٹاک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عدالت نے روک دیا تھا۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ ان کے لیے "بدقسمتی سے وقت کی غیر موزوںیت” پیدا کرتا ہے اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو منظم کرنے میں مشکل پیدا ہوگی۔ ٹرمپ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پابندی کو مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کا حل تلاش کر سکے، جو نہ صرف قومی سلامتی کی حفاظت کرے بلکہ ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی بچایا جا سکے۔

    اب اس مقدمے کی سماعت اور اس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا، قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو واضح کرے گا۔

  • طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    قازقستان میں آذربائیجان کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور حادثے میں متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور اس کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، جو افراد اس حادثے میں متاثر ہوئے ہیں، انہیں فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔”دوسری جانب روسی پارلیمنٹ کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی، ہم کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے معلومات صرف روسی ایوی ایشن حکام کی طرف سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔”

    یہ حادثہ 25 دسمبر کو پیش آیا، جب آذربائیجان کے ایئر لائن کا ایک مسافر طیارہ باکو سے چیچنیا کے شہر گروزنی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طیارہ قازقستان کے شہر اکتاو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ روسی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری یادروف نے اس حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ "حادثے کے دن گروزنی میں پیچیدہ صورتحال تھی۔ اس دن یوکرین کے لڑاکا ڈرون گروزنی اور ویلادیکاوکاز پر حملے کر رہے تھے، جس سے ایوی ایشن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔”

    روسی میڈیا نے بتایا کہ حادثے کے روز صبح کے وقت تین لڑاکا ڈرونز کو روکا گیا تھا۔ اس کے برعکس، آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ گروزنی کے ایئرپورٹ کے قریب دو پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کیے گئے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر آذربائیجان کا مسافر طیارہ ان پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا۔

    آذربائیجان کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک حادثہ تھا جس میں طیارہ پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا، جو کہ روسی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ یہ سسٹم دشمن طیاروں اور دیگر فضائی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ حادثہ اب بین الاقوامی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔ آذربائیجان اور روس کے درمیان اس واقعے کے حوالے سے سیاسی و سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔اس وقت تک، طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، اور متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف اور معاوضے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،62 میں سے 26 افراد زندہ بچ گئے

  • اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    اسرائیل نے شمالی غزہ میں اسپتال زبردستی خالی کرا لیا

    شمالی غزہ کے آخری اسپتالوں میں سے ایک کو اسرائیلی فوج نے زبردستی خالی کرا لیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی زندگیاں خظرے میں پڑ گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمال ادواں اسپتال کے نرسنگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ عید صباح نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صیہونی فوج نے انتظامیہ کو مریضوں اور عملے کو صحن میں داخل کرنے کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اسرائیلی فوجی اسپتال میں داخل ہوئے اور باقی مریضوں کو بھی نکال دیا۔اسرائیلی فوج نےکہا تھا کہ وہ اسپتال کے علاقے میں ایک آپریشن کر رہی ہے، جسے اس نے ‘حماس کے دہشت گردوں کا گڑھ’ قرار دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے آپریشن شروع کرنے سے قبل ہسپتال سے شہریوں، مریضوں اور طبی عملے کے اسپتال خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔فوج نے یہ نہیں بتایا کہ مریضوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔ تاہم اس ہفتے کے اوائل میں ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا تھا کہ وہ کمال ادوان اسپتال میں موجود افراد کو قریبی انڈونیشیا کے اسپتال منتقل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈاکٹر صباح کا کہنا تھا کہ یہ خطرناک ہے کیونکہ آئی سی یو میں ایسے مریض ہیں جو کوما میں ہیں اور انہیں وینٹیلیشن مشینوں کی ضرورت ہے اور انہیں منتقل کرنے سے وہ خطرے میں پڑ جائیں گے ان مریضوں کی منتقلی صرف خصوصی گاڑیوں میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ چند گھنٹے قبل کمال ادوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے کہا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں پانچ طبی عملے سمیت تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری
    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • 35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    35 افراد کو کچلنے والے شخص کو سزائے موت

    چین کی ایک عدالت نے جنوبی شہر ژوہائی میں تیز رفتار گاڑی لوگوں پر چڑھا کر 35 افراد کو ہلاک کرنے جرم میں ایک شخص کو سزائے موت دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ے مطابق 12 نومبر کو 62 سالہ فین نامی کار ڈرائیور نے جان بوجھ کر ایک ایس یو وی اسپورٹس سینٹر کے باہر ورزش کرنے والے لوگوں پر چڑھا دی تھی۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق آج (جمعہ) کے روز عدالت میں ان پر درج کیس کی سماعت ہوئی اور آج ہی انہیں سزا سنائی گئی۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرم کے عزائم بہت زیادہ خوفناک اور جرم کی نوعیت انتہائی سنگین تھی، واقعے کے سنگین نتائج ہیں جس سے معاشرے کو شدید خطرہ لاحق ہوا ۔واقعے کے بعد پولیس نے مجرم کو اپنی کار سے زخمی حالت میں حراست میں لیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دوران سماعت حادثے میں چل بسنے ہونے والے افراد کے اہل خانہ، عہدیداروں اور شہریوں کے سامنے فین نے جرم قبول کیا۔سماعت کے دوران عدالت کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ فین نے یہ اقدام طلاق، اس کے بعد جائیداد کی تقسیم سے مطمئن نہ ہونے کے بعد اٹھایا۔واضح رہے کہ 12 نومبر کو چین کے جنوبی شہر ژوہائی میں ایک تیز رفتار گاڑی اسپورٹس سینٹر کے باہر لوگوں پر چڑھ دوڑی تھی، جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک اور 43 زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ 62 سالہ فین نامی مشتبہ کار ڈرائیور اپنی کار میں چاقو سے خود کو زخمی کرنے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    سنچورین ٹیسٹ: دوسرا دن ختم، جنوبی افریقا کو برتری

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کا اردل روم، افسران و اہلکار پیش

    وزیراعظم نے اہم فصلوں سے متعلق 8 رکنی کابینہ کمیٹی بنا دی

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

  • سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کا پاکستان کیلئے پروازوں کے آغاز کا فیصلہ

    سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کا پاکستان کیلئے پروازوں کے آغاز کا فیصلہ

    سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کا پاکستان کیلئے پروازوں کے آغاز کا فیصلہ، سعودی ائیرلائن کی جانب سے ابتدائی طور پر ایک پاکستانی شہر کیلئے پروازوں کی بکنگ شروع کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق حالیہ چند برسوں کے دوران سعودی عرب میں خاصی مقبولیت حاصل کرنے والی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” اب پاکستان کیلئے بھی پروازیں شروع کرنے کیلئے تیار ہے۔سعودی عرب کی کم قیمت ائیرلائن کے طور پر مشہور "فلائی اے ڈیل” ابتدائی طور پر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کیلئے پروازیں چلائے گی۔ اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کی پاکستان کیلئے پروازوں کا آغاز اگلے سال کے دوسرے ماہ سے ہو گا۔ سعودی عرب کے 2 شہروں سے پاکستان کے شہر کراچی کیلئے پروازیں چلائی جائیں گی۔سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانی سعودی دارالحکومت ریاض اور سعودی عرب کے سب سے بڑے تجارتی مرکز جدہ سے کراچی تک سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔سعودی ائیرلائن "فلائی اے ڈیل” ہفتہ وار بنیاد پر پاکستان کیلئے 2 پروازیں آپریٹ کرے گی۔ بتایا گیا ہے کہ کراچی کے لیے فلائی اے ڈیل کی پروازوں کے ٹکٹ ایئر لائن کی موبائل ایپ، ویب سائٹ اور مقامی ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے دستیاب ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اپنے قیام کے صرف 7 سالوں کے اندر "فلائی اے ڈیل” دنیا کے کئی ممالک تک اپنا فلائٹ آپریشن پھیلانے میں کامیاب رہی ہے۔فلائی اے ڈیل اس وقت دبئی، عمان، استنبول اور قاہرة کے لیے اپنی پروازیں آپریٹ کر رہی ہے۔ ان مقامات کے بعد اب فلائی اے ڈیل سعودی عرب کے مختلف شہروں جیسے ریاض، جدہ اور دمام سمیت دیگر شہروں کے لیے پروازیں آپریٹ کرتی ہے اور اپنے نیٹ ورک کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کیلئے بھی پروازیں شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

  • اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے ماسکو کے لیے پروازیں معطل کر دیں

    اسرائیلی ایئر لائن ایلوم نے اپنی پروازوں کو ماسکو کے لیے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا ہے،

    یہ فیصلہ آذربائیجان کے طیارہ حادثہ کے ایک دن بعد کیا گیا، آذربائیجان کی ایئر لائنز کا ایک طیارہ، جس میں 67 افراد سوار تھے، آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے روس کے چیچنیا کے شہر گروزنی جا رہا تھا اور راستے میں قازقستان کے شہر آکتاؤ کے قریب 3 کلومیٹر کے فاصلے پر گر کر تباہ ہو گیا۔قازقستان کے حکام کے مطابق، اس حادثے میں طیارے کے 38 مسافر ہلاک ہو گئے، جبکہ 29 افراد زندہ بچ گئے۔ آذربائیجان اور قازقستان کی حکومتوں نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    اسرائیلی روزنامہ کے مطابق، ایلوم نے یہ فیصلہ آذربائیجان کے طیارے کے حادثے کے بعد کیا، جسے قازقستان میں روسی فضائی دفاعی نظام کے بارے میں تحقیقات کے دوران ملنے والی معلومات سے جوڑا جا رہا ہے۔آذربائیجان کے سینئر حکام نے جمعرات کو تصدیق کی کہ آذربائیجان ایئر لائنز کے طیارے کا حادثہ روسی میزائل سسٹم کی وجہ سے ہوا تھا۔

    آذربائیجانی میڈیا نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے نتائج کے مطابق، یہ طیارہ روسی میزائل سسٹم سے حملے کا شکار ہوا تھا جب وہ گروزنی کے قریب پہنچ رہا تھا۔ اس حادثے اور اس سے جڑی تحقیقات نے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے اور اس کے اثرات کو عالمی فضائی سلامتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔