Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • جنوبی کوریا ، پارلیمنٹ میں  قائمقام صدرکیخلاف بھی مواخذے کی قرارداد منظور

    جنوبی کوریا ، پارلیمنٹ میں قائمقام صدرکیخلاف بھی مواخذے کی قرارداد منظور

    جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے قائم مقام صدر ہان ڈک سو کے خلاف مواخذے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ قرارداد جنوبی کوریا کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس میں اپوزیشن نے ہان ڈک سو کے خلاف آئینی ججوں کی تقرری کے معاملے پر کارروائی کی درخواست کی تھی۔
    قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق صدر یون سک یول کے خلاف آئینی ججوں کی تقرری سے انکار کر دیا تھا، جس پر اپوزیشن نے ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن کا موقف تھا کہ حکومت کی جانب سے آئینی ججوں کی تقرری میں تاخیر اور دیگر اہم فیصلوں کے باعث ملک میں جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

    اپوزیشن کی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دو آزاد تحقیقاتی ادارے تشکیل دیے جائیں جو معزول صدر یون سک یول کے مارشل لا اور خاتون اول کے مبینہ رشوت کے معاملات کی تحقیقات کریں۔ اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ اس نوعیت کے سنگین الزامات سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے ان معاملات کی کھلی اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

    یہ پہلی بار ہے کہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں کسی قائم مقام صدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کی گئی ہو۔ ہان ڈک سو، جو کہ جنوبی کوریا کے وزیراعظم بھی ہیں، کے خلاف اپوزیشن نے اس تحریک کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس قرارداد کی منظوری کے بعد ہان ڈک سو کی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں، اور یہ پیشرفت جنوبی کوریا کے سیاسی منظر نامے میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    اس سے قبل جنوبی کوریا میں سابق صدر یون سک یول کے خلاف بھی مواخذے کی تحریکیں پیش کی گئی تھیں۔ اپوزیشن نے سابق صدر کے فیصلے کے خلاف دو مختلف تحریکیں پیش کی تھیں، جن میں ایک مارشل لا لگانے کے فیصلے کے خلاف تھی۔ پہلی تحریک ناکام ہو گئی تھی، لیکن دوسری تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں صدر یون کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

    جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں یہ تبدیلی ایک اہم لمحہ ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اس اقدام نے نہ صرف قائم مقام صدر ہان ڈک سو بلکہ پورے حکومت کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اس دوران، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی قانونی بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو ملک میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔جنوبی کوریا میں سیاسی کشیدگی اور عدم اعتماد کے بڑھتے ہوئے ماحول میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کس سمت میں پیش رفت کرتی ہے۔ ملک کی معیشت، عوامی مفاد اور جمہوری اداروں کی استحکام کے لیے اس سیاسی بحران کا حل نکالنا ضروری ہوگا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم پر مقدمہ،اہلیہ گواہوں کو دھمکانے لگیں،تحقیقات کا حکم

    اسرائیلی وزیراعظم پر مقدمہ،اہلیہ گواہوں کو دھمکانے لگیں،تحقیقات کا حکم

    اسرائیل کی اٹارنی جنرل گلی بہاراؤ میاراہ نے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی بیوی سارہ نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے مقدمہ کی سماعت کے دوران گواہوں کو دھمکایا ہے۔

    اٹارنی جنرل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، "یووڈا شو کے نتائج کے بارے میں گواہ پر دباؤ ڈالنے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے شبہ میں تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہیے۔” یہ شو اسرائیل کے چینل 12 پر پچھلے ہفتے نشر کیا گیا تھا۔چینل 12 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سارہ نیتن یاہو نے اپنے شوہر کے کرمنل ٹرائل میں گواہ کو دھمکایا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سارہ نیتن یاہو نے اٹارنی جنرل اور نائب ریاستی وکیل کو بھی ہراساں کیا۔سی این این نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے اس پر تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    تحقیقات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل، وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنی بیوی کا دفاع کرتے ہوئے ایک ویڈیو خطاب میں چینل 12 کی رپورٹ کو "جانبدار” اور "جھوٹا پراپیگنڈا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا: "میں چاہوں گا کہ چینل 12 یا دیگر اشتعال انگیز چینل اس بات کی تحقیقات کریں کہ بائیں بازو کے کیمپ کے بارے میں کیا ہو رہا ہے، لیکن اس کا امکان نہیں ہے۔ یہ سچ میں کبھی نہیں ہوگا۔”

    اسرائیل کے وزیرِ انصاف یاریو لیون نے اٹارنی جنرل کے حکم پر تنقید کی ، انہوں نے کہا، "جبکہ اسرائیلی شہری توقع رکھتے ہیں کہ جو پولیس کمشنر کو دھمکیاں دیں گے یا مزاحمت کی اپیل کریں گے، ان سے تفتیش کی جائے، اٹارنی جنرل اور ریاستی وکیل گلی گلی گوسپ پر مبنی ٹیلی ویژن کی رپورٹوں کے بعد تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔”

    انتہاپسند وزیرِ قومی سلامتی اٹامار بین-گویر نے بھی گلی بہاراؤ-میاراہ پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، "جو حکومت کے وزیروں اور ان کے خاندانوں کو سیاسی طور پر تعاقب کرے، وہ اٹارنی جنرل کے طور پر خدمات انجام نہیں دے سکتا۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ابھی تک کچھ لوگ سر ریت میں چھپائے بیٹھے ہیں اور اس حقیقت کو سمجھنے سے انکار کر رہے ہیں۔”

    بنیامن نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کا مقدمہ جنوری 2020 میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد وہ اسرائیل کے پہلے وزیرِ اعظم بنے جو عدالت میں مجرم کے طور پر پیش ہوئے۔ ان پر فراڈ، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات ہیں، جنہیں انہوں نے بار بار مسترد کیا ہے۔نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں الزامات عائد ہیں۔ کیس 1000 میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر ملکی کاروباری افراد سے سگار اور شیمپین جیسے تحائف حاصل کیے، جس کے نتیجے میں فراڈ اور اعتماد کی خلاف ورزی کی گئی۔ کیس 2000 میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ایک بڑے اخبار میں اپنے لیے موافق کوریج حاصل کرنے کی کوشش کی، بدلے میں ایک اور اخبار کی سرکولیشن کم کرنے کے لیے۔سب سے سنگین کیس، کیس 4000 میں، ان پر رشوت، فراڈ اور بدعنوانی کا الزام ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دوست شاؤل ایلووچ، جو ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بیذیک کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر تھے، کو 250 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ریگولیٹری فوائد پہنچائے۔نیتن یاہو نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور ان پر "جھوٹے الزامات” کا دعویٰ کیا ہے۔

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    نواز شریف کے پوتے کی نکاح کی تقریب میں تلاوت، ویڈیو وائرل

  • آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ قازقستان میں تباہ ہونے والے طیارے کو روسی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق امریکی حکام نے بھی طیارے کے میزائل کا نشانہ بننے کے امکان کے ابتدائی اشارے ملنے کا کہہ دیا ہے،رپورٹ کے مطابق طیارے نے اس علاقے سے اپنا رُخ تبدیل کیا جہاں روسی دفاعی نظام نصب ہے جبکہ قازق حکام کا کہنا ہےکہ طیارہ حادثے کی تحقیقات ابھی کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکیں۔آذربائیجان کے طیارے کی کرئش ہونے کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جس سے اس بات کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں کہ روسی اینٹی ایئرکرافٹ سسٹم نے اس طیارے کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق، تحقیقات میں یہ ممکنہ طور پر ایک "غلط شناخت” کا معاملہ ہو سکتا ہے، جہاں روسی فوجی یونٹس نے غیر ارادی طور پر اس طیارے کو نشانہ بنایا۔

    یہ حادثہ کرسمس کے دن قازقستان کے شہر آکٹاؤ کے قریب پیش آیا، جس میں 67 افراد میں سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس حادثے کے حوالے سے اہم معلومات ہیں جن میں سے ایک دوسرے بلیک باکس کا ملنا ہے، جو اس حادثے کی اصل وجہ کے بارے میں اہم تفصیلات فراہم کر سکتی ہے۔

    طیارہ باکو سے گروزنی (روس) جا رہا تھا، اور یہ آکٹاؤ کے قریب ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ روسی میڈیا کے مطابق طیارہ گروزنی میں شدید دھند کے باعث راستہ تبدیل کر رہا تھا۔فلائٹ ریزلٹ ویب سائٹ کے مطابق، یہ پرواز مقامی وقت کے مطابق 7:55 پر روانہ ہوئی تھی اور تقریباً 2.5 گھنٹے بعد حادثہ پیش آیا۔ حکام نے یہ وضاحت نہیں کی کہ طیارہ کس وجہ سے کاسپین سمندر کے اوپر سے گزر رہا تھا، جب کہ باکو اور گروزنی سمندر کے مغرب میں اور آکٹاؤ اس کے مشرق میں واقع ہیں۔

    دوسرے بلیک باکس کو حادثے کے مقام سے تلاش کر لیا گیا ہے، جس سے تحقیقات میں مزید مدد ملنے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان بلیک باکسز کو پڑھنے میں تقریباً دو ہفتے لگیں گے۔قازقستان کے نائب وزیر اعظم، کاناٹ بوزمبایف نے بتایا کہ ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے جس میں قازقستان، آذربائیجان اور روس کے نمائندے شامل ہوں گے، تاہم روس اور آذربائیجان کے حکام کو فرانزک تحقیقات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    حادثے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو پائلٹ اور ایک فضائی میزبان بھی شامل تھے۔ 29 افراد بچ گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق، طیارے میں سوار 37 آذربائیجانی شہری، 16 روسی، 6 کازاخ اور 3 قرغز شہری شامل تھے۔

    طیارے کے حادثے کے بعد، جو ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں، ان میں طیارے کے جسم میں شگاف نظر آ رہے ہیں جو ممکنہ طور پر شیل یا ملبے سے ہونے والے نقصان کی علامات ہو سکتی ہیں۔ آذربائیجان ایئرلائنز نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ حادثہ پرندوں کے ٹکرانے کی وجہ سے پیش آیا تھا، تاہم روسی ایوی ایشن حکام نے بھی اسی وجہ کو حادثے کی توجیہہ کے طور پر پیش کیا تھا۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے کے حوالے سے قیاس آرائیاں نہ کریں، جب تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہوں۔ روس، آذربائیجان اور قازقستان کے ماہرین اس حادثے کی تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں، اور اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    وزیراعظم کی آذربائیجان کے سفارت خانے آمد،طیارہ حادثے پر اظہار افسوس

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

  • بنگلہ دیش: 2009 کی ناکام فوجی بغاوت اورقتل عام کی تحقیقات کا حکم

    بنگلہ دیش: 2009 کی ناکام فوجی بغاوت اورقتل عام کی تحقیقات کا حکم

    بنگلہ دیش نے 2009 میں ناکام فوجی بغاوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کا حکم دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پُرتشدد بغاوت کے باعث جنوبی ایشیا کی قوم میں صدمے کی لہر دوڑ گئی تھی اور بغاوت کرنے والوں کو فوج کی طرف سے کچلنے کے ساتھ ختم ہوا تھا، اس دوران متعدد شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔لیکن یہ تحقیقات شیخ حسینہ کے دور میں کی گئی تھیں جنہیں اگست میں ایک انقلاب کے ذریعے وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا اور وہ پرانے حلیف بھارت بھاگ گئیں تھیں۔بغاوت جس میں کئی لوگ مارے گئے، اس کی سابقہ سرکاری تحقیقات میں عام فوجیوں میں برسوں سے پائے جانے والے غصے کو وجہ ٹھہرایا گیا جب کہ اہلکاروں نے محسوس کیا کہ تنخواہوں میں اضافے اور بہتر برتاؤ کے لیے ان کی اپیلوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔اس کے زوال کے بعد سے تشدد میں مارے گئے فوجیوں کے اہل خانہ تحقیقات کو دوبارہ کھولنے کی مہم چلا رہے ہیں۔انہوں نے بارہا شیخ حسینہ پر الزام لگایا کہ وہ بغاوت کے خطرے سے دوچار رہنے والے ملک میں خود کو مضبوط کرنے کے لیے فوج کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔مظاہرین نے اس سازش میں بھارت کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا ہے۔ان دعووں کی وجہ سے بھارت کے مشتعل ہونے کا خدشہ ہے جب کہ اس نے فوری طور پر الزامات کا جواب نہیں دیا۔انکوائری کمیشن کے سربراہ اے ایل ایم فضل الرحمٰن نے صحافیوں کو بتایا ہمارا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا اس سانحے میں کسی بیرنی عنصر کا کردار تھا یا نہیں جب کہ قومی اور عالمی سازش کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔باغیوں نے فروری 2009 میں بیرکوں میں قتل و غارت گری شروع کرنے سے قبل نیم فوجی فورس بنگلہ دیش رائفلز (بی ڈی آر) کے ہیڈکوارٹر سے ہزاروں ہتھیار چرا لیے تھے۔آرمی کی جانب سے کچلے جانے سے قبل بغاوت تیزی سے پھیلی اور ہزاروں فوجیوں نے ہتھیاروں پر قبضہ کر لیا اور باغیوں سے وفاداری کا عہد کیا گیا۔اس قتل عام کے بعد ہزاروں افراد کو پکڑ کر خصوصی فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا جب کہ شییخ حسینہ کی اس وقت کی نو منتخب حکومت نے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی۔سیکڑوں فوجیوں کو موت سے لے کر چند سال تک قید کی سزائیں دی گئیں جب کہ اقوام متحدہ نے بنیادی معیارات پر پورا نہ اترنے پر سزا دینے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔شیخ حسینہ کی آہنی ہاتھوں والی حکمرانی کو نئی دہلی کی حمایت حاصل تھی اور 77 سالہ سابق وزیر اعظم ان دنوں بھارت میں ہی رہ رہی ہیں جب کہ اس سے دونوں ملک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا ہے۔یاد رہے کہ پیر کے روز بنگلہ دیش نے کہا کہ اس نے بھارت سے حسینہ واجد کو واپس بھیجنے کی درخواست کی ہے تاکہ وہ قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم“ کے الزامات کا سامنا کریں۔

    سال2024 پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ 808 ارب کی وصولیاں

    وزیر داخلہ سندھ کی سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت

    میزائل حملےکے نتیجے میں آزربائیجان کا مسافر طیارہ تباہ ہوا

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

  • میزائل حملےکے نتیجے میں آزربائیجان کا مسافر طیارہ تباہ ہوا

    میزائل حملےکے نتیجے میں آزربائیجان کا مسافر طیارہ تباہ ہوا

    آذر بائیجان کا مسافر طیارہ بدھ کو قازقستان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا جس میں 38 افراد ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ میزائل سے ہی تباہ ہوا.آذربائیجان کا مسافر بردار طیارہ باکو سےچیچنیا جا رہا تھا کہ قازقستان ائیر پورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔طیارے میں عملے سمیت 67 افراد موجود تھے۔مسافروں کا تعلق آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور روس سے ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ پرندہ ٹکرانے کے بعد طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے دوران حادثہ ہوا۔ آذربائیجان کا مسافر طیارہ مبینہ طورپر میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی یا چیچن فورس نے مبینہ طور پر آذربائیجان کے طیارے کو غلطی سے نشانہ بنایا،طیارہ سطح سے فضا میں مارکرنیوالے میزائل کانشانہ بنا۔ذرائع کے مطابق میزائل فضا میں پھٹنے سے ٹکڑے مسافر طیارے کے پچھلے حصے پر لگے، پائلٹ نے طیارے کو گروزنی میں دوبار لینڈ کرنے کی ناکام کوشش کی، تیسری بارلینڈنگ کی کوشش کے دوران مسافروں نے دوران پرواز دھماکے کی آواز سنی۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

  • عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ اسرائیلی حملے میں بال بال بچ گئے

    اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے، مغربی ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کے ساتھ حوثی گروپ سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، حملے کے دوران عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس بال بال بچ گئے۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کا کہنا تھا کہ صنعا کے ہوائی اڈے اور ساحلی پٹی پر تین بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ حوثیوں سے جڑے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں فوجی تنصیبات، ہزیز اور راس کناتب میں بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔یمن کے صنعا ایئرپورٹ میں اسرائیلی دھماکوں کے وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی موجود تھے۔یمن کے صحافی حسین ال بخیتی نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ دارالحکومت صنعا میں ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں اسرائیل نے کنٹرول ٹاورز کو نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ یمن اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک بڑی کارروائی کرے گا۔دریں اثنا، عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ وہ اور ان کے اقوام متحدہ کے ساتھی صنعا ایئرپورٹ پر موجود تھے، جب اسے اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا کہ ’ حملے سے ہمارے جہاز کے عملے کا ایک رکن زخمی ہوا ہے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود 2 افراد کی موت کی اطلاع ہے۔’

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

  • سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ چل بسے

    نئی دہلی: بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ آج 26 دسمبر 2024 کو طویل علالت کے بعد چل بسے۔ ان کی عمر 91 سال تھی اور انہوں نے بھارت کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ منموہن سنگھ بھارت کے 13ویں وزیراعظم تھے، جو 2004 سے 2014 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کی موت کی خبر بھارت بھر میں سوگ کی لہر دوڑا گئی ہے۔

    ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی سیاسی زندگی میں بھارت کی اقتصادی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہیں ایک ماہر معیشت اور اقتصادی اصلاحات کے علمبردار کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ ان کی زیر قیادت بھارت نے 1991 میں اقتصادی آزادکاری کی راہ اپنائی تھی، جس نے ملک کی معیشت کو نئی رفتار دی اور اسے عالمی سطح پر مضبوط کیا۔

    منموہن سنگھ نے پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، بعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں 1991 میں بھارت کے وزیر خزانہ کے طور پر تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے اقتصادی اصلاحات کی اہم پالیسیوں کو نافذ کیا۔

    ان کی قیادت میں بھارت نے عالمی اقتصادی بحران کے دوران بھی معیشت کی استحکام کے لئے متعدد اقدامات کئے، اور انہیں ایک فنی معیشت دان کے طور پر دنیا بھر میں عزت دی گئی۔ ان کی زیر قیادت حکومت نے بھارت کو عالمی اقتصادی فورمز پر ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر پیش کیا۔

    منموہن سنگھ کی سیاست میں ایک اور اہم پہلو ان کا نرم اور متوازن طرز عمل تھا۔ وہ ہمیشہ ایک محنتی اور کم گو رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کے اسلوب میں کبھی بھی سیاست میں جارحیت اور ہنگامہ آرائی کی جگہ نہیں تھی۔

    منموہن سنگھ کے انتقال پر بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، اور دیگر اہم سیاسی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ملک بھر سے سیاسی، سماجی، اور عوامی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    منموہن سنگھ کے انتقال کے بعد ان کے خاندان، دوستوں اور سیاسی ساتھیوں میں گہرا رنج و غم پایا جاتا ہے۔ ان کی یادیں اور خدمات بھارت کی سیاست میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

    سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی خدمات کی جھلکیاں:
    1991 میں بھارت کے وزیر خزانہ کے طور پر اقتصادی اصلاحات کی بنیاد رکھی۔
    2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیراعظم رہے۔
    عالمی سطح پر بھارت کی اقتصادی پوزیشن کو مستحکم کیا۔
    سیاست میں نرم مزاج اور مدبرانہ رویے کے حامل رہنما کے طور پر مشہور۔
    بھارت میں سوشل سیکیورٹی اسکیموں اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کی توسیع کی۔
    سابق وزیراعظم کی موت پر بھارت میں ایک قومی سوگ کی کیفیت ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل  دیوالیہ ہو سکتے ہیں،رپورٹ

    شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل دیوالیہ ہو سکتے ہیں،رپورٹ

    واشنگٹن: شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل 2025 میں دیوالیہ ہو سکتے ہیں، ان کی اس وقت کوئی خاطر خواہ آمدنی نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی: نیوز 18 کے مطابق شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد سٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس کے ساتھ 80 ملین پاؤنڈز کا معاہدہ کیا تھا لیکن حالیہ اطلاعات کے مطابق ان کے مالی معاملات کے حوالے سے تشویش پیدا ہو رہی ہے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے مالی معاملات پر یہ خبریں ان کے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

    نیوز 18 کے مطابق نیٹ فلکس کے ساتھ ان کا معاہدہ اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے اب تک اس معاہدے کے تحت جو چار پروجیکٹس ریلیز ہوئے ہیں ان میں "پولو”، "ہارٹ آف انویکٹس”، "لائیو ٹو لیڈ” اور "ہیری اینڈ میگھن ڈاکیومینٹری سیریز” شامل ہیں، میگھن مارکل کا کنگ شو بھی 2025 میں متوقع ہے۔

    کراچی میں تنگوانی کا رہائشی قتل، گاؤں میں سوگ کی فضا

    شاہی تجزیہ کار رچرڈ فٹزویلیمز نے خبردار کیا ہے کہ نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدے کی تجدید ان کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے جی بی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا "ان کا کام کو الگ الگ کرنے کا طریقہ کامیاب ثابت ہوا ہے، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ میگھن کا ککنگ شو نیٹ فلکس پر ہٹ ہو، نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدے کی تجدید اگلے سال کے لیے نہایت ضروری ہے، اور آنے والے چند ماہ ان کے مالی معاملات کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔”

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ

    انہوں نے مزید کہا ” شاہی جوڑے نے کچھ عرصہ پہلے سپاٹیفائی کا معاہدہ کھو دیا تھا، اور ایسا کچھ خاص نظر نہیں آ رہا جو ان کی مالی حالت کو بہتر کرے جب امریکن رویرا آرچرڈ اور میگھن کا ککنگ شو ریلیز ہوگا، تو یہ ان کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔”

    ہانیہ عامر کی امریکا میں ایونٹ سے نکالنے جانے پر وضاحت

  • ہانیہ عامر کی امریکا میں  ایونٹ سے نکالنے جانے پر وضاحت

    ہانیہ عامر کی امریکا میں ایونٹ سے نکالنے جانے پر وضاحت

    ڈیلاس: پاکستان کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے امریکا میں مداحوں کے ساتھ ملاقات کے دوران اچانک ختم ہونے والے ایونٹ پر وضاحت دے دی۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ہانیہ عامر ان دنوں ساتھی اداکار فہد مصطفیٰ کیساتھ امریکا کے دورے پر موجود ہیں جہاں انہوں نے مداحوں کے ساتھ ملاقات کے دوران اچانک ختم ہونے والے ایونٹ پر وضاحت دے دی، انسٹاگرام اسٹوری پر ہانیہ نے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی محبت اور حمایت کو سراہا، اور اس واقعے کی تفصیلات بیان کیں جس کی وجہ سے تقریب غیر متوقع طور پر ختم ہوئی اور مداحوں میں غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔

    ہانیہ نے بتایا کہ اس ایونٹ کے ایک منتظم نے ان کی خاتون مینیجر کے ساتھ بدتمیزی کی، جس کے بعد صورتحال خراب ہو گئی، ان کی خاتون مینیجر بیک اسٹیج چلی گئی جس کے پیچھے وہ اور فہد بھی گئے تاکہ اسے دیکھ سکیں کہ وہ ٹھیک ہے اور کیا ہوا ہے؟اس کے بعد ہم نے بیک اسٹیج ہی مداحوں کے ساتھ تصاویر بنانے کا فیصلہ کیا کہ اسی دوران انتظامیہ کا وہی شخص جس نے ان کی مینیجر سے بدتمیزی کی بھاگتا ہوا آیا اور نام لے کر پکارتے ہوئے ہمیں ایونٹ سے باہر نکلنے کو کہا۔

    میں نے بھارت جاکر بھارتیوں کو کام کے عوض معاوضہ دیا،وارث بیگ

    اداکار کا کہنا تھا کہ منتظم نے نامناسب رویہ اپنایا، نام لے کر پکارا، اور حفاظتی پروٹوکول منسوخ کر دیئے، یہاں تک کہ ہمیں ہراساں کیا گیا اور لوگوں کو اسے روکنا پڑا جس کے بعد انہیں خود واپسی کا انتظام کر کے اپنی حفاظت کرتے ہوئے ہوٹل پہنچنا پڑا، عہدے کا اختیار کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ کسی اور کی عزت پامال کرےخاص طور پر خواتین کو مردوں کےغالب شعبوں میں کام کرنےپر نشانہ بنایا جائے۔

    مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    ہانیہ نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ بغیر حقائق جانے کسی بھی خاتون فنکار پر انگلی نہ اٹھائی جائے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے ہانیہ نے کہا کہ وہ ان سے پیار کرتی ہیں اور انہیں افسوس ہے کہ تقریب ایسے ختم ہوئی۔

  • مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    مستقبل میں بھارت سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا، رپورٹ

    اسلام آباد: زمین مختلف مذاہب کا گھر ہے، جن میں ہندومت، اسلام، عیسائیت، بدھ مت، جین مت، زرتشت اور سکھ مت شامل ہیں،لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ 2050 تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی کس ملک میں ہوگی؟

    باغی ٹی وی : پیو ریسرچ سینٹر کے نئے مذہبی تخمینوں کے اعداد و شمار کے مطابق آنے والی دہائیوں میں، ہندوستان کو دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے دو میں سے سب سے زیادہ آبادی رکھنے کا اعزاز حاصل ہوگا – اسلام اور ہندو ازم،ہندوستان پہلے ہی دنیا کے بیشتر ہندوؤں کا گھر ہے 2010 میں، دنیا کے 94% ہندو ہندوستان میں رہتے تھے، اور یہ 2050 میں درست رہنے کی امید ہے، جب 1.3 بلین ہندوؤں کے ملک میں رہنے کا امکان ہے۔

    دنیا میں موجود 1445 سال پرانی کمپنی جس نے 2 عالمی جنگیں دیکھیں

    پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق، ہندوستان 2050 تک سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا جبکہ اب تک انڈونیشیا مسلم آبادی والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن بھارت 2050 تک 311 ملین نفوس کے ساتھ انڈونیشیا کو پیچھے چھوڑ دے گا اور سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک بن جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق آبادی میں ان اضافوں کا تخمینہ 2010-2050 تک لگایا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان 273 ملین تعداد کے ساتھ دوسرا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہوگا پاکستان کے بعد 2010 سے اب تک مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد والا ملک انڈونیشیا ہے جو 2050 تک 257 ملین مسلمانوں کی آبادی ساتھ تیسرے نمبر پر آنے کا امکان ہے۔

    فیروز خان کی دوسری اہلیہ کے ہمراہ خوشگوار موڈ میں تصاویر وائرل

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا مذہبی گروہ بن جائے گا 2050 تک ہندوستان میں 31 کروڑ مسلمان ہوں گے جو عالمی مسلم آبادی کا 11 فیصد بنتے ہیں،اس اہم متوقع نمو کی بڑی وجہ دیگر مذہبی گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی کم عمری میں شادی اور طرز معاشرت ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندوؤں کی سب سے زیادہ آبادی برقرار رہے گی، جو بڑھ کر 1.03 بلین ہو جائے گی، پیو ریسرچ سنٹر کی ایک تحقیق میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی بڑی وجہ کم عمری اور اعلی شرح پیدائش کو قرار دیا گیا ہے،مسلمانوں کی اوسط عمر 22 سال ہے جب کہ ہندوؤں کی اوسط عمر 26 سال اور عیسائیوں کی 28 سال ہے۔

    کریتی سینن کی بوائے فرینڈ سے تعلقات کی افواہیں پھر گردش کرنے لگیں

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں مسلمان خواتین کے اوسطاً 3.2 بچے ہیں، جب کہ ہندو خواتین کے 2.5 بچے ہیں، اور عیسائی خواتین کے اوسطاً 2.3 بچے ہیں مسلم آبادی کے اضافے سے بھارت کی ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی میں تنوع پیدا ہوگا، جو ملکی ثقافت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی مختلف شعبوں، جیسے کاروبار، صنعت، اور دستکاری میں نئی صلاحیتیں اور مواقع پیدا کر سکتی ہے تاہم بڑھتی مسلم آبادی کے ذریعے حکومت پر سماجی انصاف، تعلیم، اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے دباؤ میں بھی بڑھ سکتا ہے۔

    کتنا حق مہر دیا گیا؟جویریہ سعود نے 19 ویں سالگرہ پر یادگارویڈیو جاری کردی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر حکومت اور عوام مل کر تعلیم، روزگار، اور سماجی ہم آہنگی پر توجہ دیں تو یہ اضافہ بھارت کے لیے ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ چیلنجز اور تنازعات پیدا کر سکتا ہے،متوازن پالیسیاں اور عوامی شعور اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آزادی کےبعد تقریباً 70 سالوں میں مذہبی تشدد نے ہزاروں مزید جانیں لے لی ہیں،جن میں جدید ہندوستان کے بانی مہاتما گاندھی کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی شامل ہیں، مذہبی پابندیوں کے بارے میں پیو ریسرچ سینٹر کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان دنیا میں مذہب سے متعلق سماج دشمنیوں کی اعلیٰ ترین سطحوں میں سے ایک ہے۔

    عمران خان حکومت کی تعریف کرنے پر مجبور

    یہاں تک کہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی مذہبی عدم برداشت کے الزامات لگائے گئے ہیں، جو 2002 میں ریاست گجرات میں مسلم مخالف تشدد کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، جس میں کچھ اندازوں کے مطابق 2,000 افراد ہلاک ہوئے تھے مودی، جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے کیونکہ وہ ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی جانب سے تشدد کا ارتکاب کیا گیا تھا۔

    ایف بی آر کی ٹیکس وصولی میں انسانی مداخلت کم کر رہے ہیں، وزیر خزانہ