Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

    پاکستانی نامور مصنفہ بیپسی سدھوا امریکا میں چل بسیں

    پاکستان کی معروف مصنفہ اور ادبی دنیا کی مشہور شخصیت، بیپسی سدھوا، 86 سال کی عمر میں امریکا کے شہر ہیوسٹن میں انتقال کر گئیں۔ بیپسی سدھوا 11 اگست 1938 کو بھارت کے شہر لاہور میں پیدا ہوئیں، اور وہ کئی دہائیوں تک ادبی دنیا میں اپنی منفرد تحریروں کی وجہ سے نمایاں رہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے ان اہم ترین مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ادب میں نئی جہتیں متعارف کرائیں۔

    بیپسی سدھوا نے کئی اہم ناول، کہانیاں اور افسانے لکھے، جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔ ان کا سب سے مشہور اور اہم ناول Ice Candy Man (جو بعد میں Cracking India کے نام سے انگریزی میں ترجمہ ہوا) کو عالمی سطح پر بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بی بی سی کی جانب سے اس ناول کو "نئی دنیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والے 100 بہترین ناولوں” کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔بیپسی سدھوا کی تحریروں میں پاکستان اور بھارت کی تقسیم کے وقت کے انسانی المیے، ثقافتی تناؤ اور جنگوں کی تلخ حقیقتوں کو سچائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی کہانیاں انسانی تعلقات، نسلی اور مذہبی اختلافات، اور سماجی انصاف کے مسائل پر گہری نظر ڈالتی ہیں۔

    بیپسی سدھوا کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تھا، جو پاکستان کا ایک اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہے۔ ان کی زندگی اور تحریریں ادب کی دنیا میں ہمیشہ ایک رہنمائی کی حیثیت رکھیں گی۔بیپسی سدھوا کے اہل خانہ کے مطابق، ان کی آخری رسومات تین دن بعد ہیوسٹن میں ادا کی جائیں گی۔ ان کی موت ادبی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے اور ان کے مداحوں اور شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    ان کے انتقال پر پاکستانی ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی تخلیقات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ان کے کام کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے گا۔

  • جنرل ساحر شمشادکی دورہ کویت کے دوران ولی عہد سے ملاقات

    جنرل ساحر شمشادکی دورہ کویت کے دوران ولی عہد سے ملاقات

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کویت کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ولی عہد،کویت کے نائب وزیر اعظم اوروزیر دفاع سے ملاقاتیں کیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں دو طرفہ امور سمیت دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا،دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کیلئےنئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زو دیا گیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے مبارک العبداللہ جوائنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کا بھی دورہ کیا،جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اکیڈمی میں جاری تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اس سے قبل پی این ایس رسدگار اور پی این ایس عظمت نے کویت کی بندرگاہ الشویخ کا دورہ کیا، جبکہ پاکستان میری ٹائیم سیکیورٹی ایجنسی کے جہاز "دشت” نے عراق کی بندرگاہ ام قصر کا دورہ کیا۔ دونوں بندرگاہوں پر آمد کے موقع پر پاکستانی سفارتی اور میزبان بحریہ کے اعلیٰ حکام نے پاک بحریہ کے جہازوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ مشن کمانڈر نے جہازوں کے کمانڈنگ افسرز کے ہمراہ دونوں ممالک کی بحری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، میری ٹائیم سیکیورٹی میں تعاون، اور بحری افواج کے مابین رابطے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بعد ازاں، کویتی اور عراقی بحریہ کے جہازوں کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی گئیں۔ مشقوں کا مقصد بحری افواج کے درمیان باہمی تعاون کو بہتر بنانے اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو فروغ دینا تھا۔ پاک بحریہ کے فلوٹیلا کا کویت اور عراق کا دورہ دوست ممالک کے ساتھ موجودہ سفارتی اور بحری تعلقات کو مزید فروغ دے گا.

    کرنٹ سے بچے کی موت، والد کا کے الیکٹرک پر 48 لاکھ جرمانہ الخدمت کو دینے کا اعلان

    جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے پلیئنگ الیون کا اعلان

    بھارتی گلوکار جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا

  • بھارتی گلوکار جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا

    بھارتی گلوکار جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان کر دیا

    بھارتی پنجابی گلوکار جیسی گِل نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کردیا، جس پر ان کے مداح خوش دکھائی دے رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جیسی گِل نے پاکستان آنے کا اعلان حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران پاکستان مداح سے فون پر بات کرنے کے دوران کیا۔جیسی گِل نے پاکستانی مداح لڑکی سے میزبان عمران اشرف کی مدد سے فون پر بات کی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور شائقین عمران اشرف کی تعریفیں کرتے دکھائی دیے۔عمران اشرف کے پروگرام میں ایک لڑکی ان کی اور جیسی گِل کی تصویر بنا کر لائی تھیں اور لڑکی کا دعویٰ تھا کہ وہ جیسی گل کی سب سے بڑی مداح ہیں۔پروگرام کے دوران لڑکی نے عمران اشرف سے درخواست کی کہ وہ ان کی فون پر جیسی گِل سے بات کروادیں۔لڑکی کی فرمائش پر عمران اشرف نے کہا کہ جیسی گِل ان دنوں کینیڈا میں مقیم ہیں اور پاکستان اور کینیڈا کے درمیان وقت کا فرق ہوتا ہے لیکن وہ انہیں فون کرکے کوشش کر سکتے ہیں۔بعد ازاں عمران اشرف نے اپنا فون اٹھاکر جیسی گِل کو کال ملائی اور بھارتی گلوکار نے ان کی کال اٹینڈ کرلی۔عمران اشرف نے بھارتی گلوکار سے پنجابی زبان میں بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کی مداح لڑکی ان کے شو میں آئی ہوئی ہیں اور وہ ان سے بات کرنا چاہتی ہیں۔اس کے بعد عمران اشرف نے فون مداح لڑکی کو دیا، جس پر لڑکی جذباتی ہوکر رونے لگیں اور وہ جیسی گِل سے بات ہی نہیں کر پا رہی تھیں۔جیسی گِل نے لڑکی سے بھی پنجابی زبان میں بات کی اور بعد ازاں انہوں نے ہندی اور اردو زبان میں بات کرنا شروع کی اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ وہ جلد ہی پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جیسی گِل نے فون کال کے دوران عمران اشرف اور مداح لڑکی کو درخوست کی کہ وہ سوشل میڈیا پر مذکورہ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے انہیں بھی پوسٹ میں مینشن کریں۔فون کال کے دوران جیسی گِل نے مداح لڑکی کو خوش کرنے کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان بھی کیا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے مذکورہ اعلان حقیقتا کیا یا پھر مداح لڑکی کو خوش کرنے کے لیے انہوں ںے ایسا کہا۔

    کندھ کوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید

    کندھ کوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید

    چیمپئنز ٹی20 کپ کا ٹائٹل اے بی ایل اسٹالینز کے نام

  • ہونڈا، نسان اور متسوبشی  نے ملکر کام کرنے کا اعلان کر دیا

    ہونڈا، نسان اور متسوبشی نے ملکر کام کرنے کا اعلان کر دیا

    ہونڈا، نسان اور متسوبشی نے عالمی مسابقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی ہولڈنگ کمپنی کے تحت شراکت داری کا اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ہونڈا اور نسان کے مشترکہ بیان کے مطابق، یہ اتحاد ان تینوں کمپنیوں کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی کار ساز کمپنی بننے کی راہ پر گامزن کرے گا۔یہ انضمام، جو اگست 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے، ہونڈا اور نسان کے حالیہ تعاون پر مبنی ہے، جس میں زیرو ایمیشن اور خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ کاوشیں شامل ہیں۔متسوبشی اور صارفین کے تجربے پر اس شراکت داری کے اثرات کے بارے میں کچھ واضح نہیں ہے۔ ہونڈا کے توشہیرو میبے نے زور دیا کہ ابھی بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے۔تاہم، نسان کے سی ای او ماکوتو اُچیدا نے اس اتحاد کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ جدید مصنوعات فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ انضمام ٹیسلا اور BYD جیسے ای وی رہنماؤں کے ساتھ مقابلے کے لیے کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

    کندھ کوٹ: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید

    بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کو ‘مشرقی پاکستان’ قرار دے دیا

    چیمپئنز ٹی20 کپ کا ٹائٹل اے بی ایل اسٹالینز کے نام

  • بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کو ‘مشرقی پاکستان’ قرار دے دیا

    بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کو ‘مشرقی پاکستان’ قرار دے دیا

    بھارتی میڈیا نے بنگلہ دیش کو ‘مشرقی پاکستان’ قرار دے دیابھارتی میڈیا کو پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان بڑھتے تعلقات سے جلن ہونے لگی

    بھارتی میڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے بڑھتے تعلقات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، خاص طور پر بھارتی صحافی پالکی شرما نے بنگلہ دیش کو "مشرقی پاکستان” قرار دے دیا۔ بھارتی ٹی وی چینل ‘فرسٹ پوسٹ’ میں اپنے پروگرام کے دوران، پالکی شرما نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان ملاقات پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے بڑھتے تعلقات "مشرقی پاکستان کی واپسی” ہیں۔

    پالکی شرما نے اس ملاقات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب آپ اپنے سابقہ دوست کو اپنے دشمن کے ساتھ کھڑا دیکھتے ہیں تو بریک اپ بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی بندرگاہوں پر پاکستانی جہازوں کی جانچ پڑتال ختم کرنے اور ویزا پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق، یہ اقدامات پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں گرمجوشی کو ظاہر کرتے ہیں، جسے بھارتی میڈیا ہضم کرنے میں ناکام ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت مزید سنجیدہ ہو گیا جب دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے تعلقات پر بھارتی میڈیا نے شدید ردعمل ظاہر کیا، اور اس پیش رفت کو بھارت کے لیے ایک "چٹکی” کے طور پر پیش کیا۔

  • سائبر فراڈ،غریبوں کے نام پر بنے بینک اکاؤنٹ فروخت کرنے والا گرفتار

    سائبر فراڈ،غریبوں کے نام پر بنے بینک اکاؤنٹ فروخت کرنے والا گرفتار

    بھارت میں بھوپال کی کولار پولیس نے ایک بڑے سائبر فراڈ اور اکاؤنٹ بیچنے والے گروہ کا پردہ فاش کیا ہے، جس میں ایک مرکزی ملزم راہل سریواستو عرف ببلو، جو کہ محض ساتویں کلاس تک پڑھا لکھا ہے، نے غریب مزدوروں کے کاغذات استعمال کر کے فرضی بینک اکاؤنٹس کھولے اور انہیں سائبر فراڈ کرنے والوں کو فروخت کیا۔

    ملزمین کے قبضے سے پولیس نے بڑی تعداد میں مشتبہ اشیاء برآمد کی ہیں، جن میں 3 کارڈ سوائپ مشینیں، 6 موبائل فون، 34 کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز، 20 چیک، 24 چیک بک، 6 پاس بک، 77 سم کارڈز، 2 ڈائریاں، 12 اے ٹی ایم کارڈز، 1 لیپ ٹاپ، 2 وائی فائی راؤٹرز اور 8 لاکھ روپے نقدی شامل ہیں۔ملزمان کا گروہ آدھار اور پین کارڈ بنوانے کے بہانے غریب مزدوروں کے کاغذات حاصل کرتا تھا اور ان سے فرضی بینک اکاؤنٹس کھلواتے تھے۔ پھر یہ اکاؤنٹ سائبر فراڈ کرنے والوں کو فروخت کیے جاتے تھے۔ مرکزی ملزم راہل سریواستو نے اعتراف کیا کہ وہ 45 ہزار روپے میں دو اکاؤنٹس فروخت کرتا تھا، جس میں ایک اکاؤنٹ خود اس کا تھا اور دوسرا اس کی بیوی کا۔

    پولیس تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ راہل سریواستو کو اس کاروبار کا آئیڈیا گھنشیام سنگرولے نے دیا تھا، جو ایک اور ملزم ہے۔ گھنشیام نے راہل کو باگسیونیا کے علاقے میں رہنے والے لیو ان پارٹنرز، نکیتا پرجاپتی اور نتیش پرجاپتی سے ملوایا، جنہوں نے فرضی اکاؤنٹس کھولنے کا کام شروع کیا تھا۔ ان افراد نے مزدوروں اور غریبوں کو لالچ دے کر ان کے دستاویزات حاصل کیے اور ان سے اکاؤنٹس کھلوائے، جو بعد میں بیچ دیے گئے۔پولیس نے 19 دسمبر 2024 کو بینک آف مہاراشٹر کی کولار روڈ برانچ سے ایک ای میل موصول ہونے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھی۔ ای میل میں بتایا گیا تھا کہ راہل سریواستو کے دو بینک اکاؤنٹس میں تین مہینے کے دوران تقریباً تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔ پولیس نے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کیں اور ملزم سے تفتیش کی، جس کے بعد اس نے اس سارے گروہ کے بارے میں پولیس کو آگاہ کیا۔

    ایڈیشنل ڈی سی پی ملکیت سنگھ کے مطابق، پولیس نے ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم، اس کی بیوی، ایک لڑکا اور ایک لڑکی، جو لیو ان پارٹنرز تھے، کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ سینکڑوں اکاؤنٹس بیچ چکا تھا، اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس گروہ کے مزید افراد تک پہنچا جا سکے۔اس انکشاف کے بعد پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آدھار اور دیگر اہم دستاویزات کی حفاظت کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

  • 13 ہزار تنخواہ پر سرکاری ملازم،لگژری کار،شاندار طرز زندگی،گرل فرینڈ کوتحفہ میں فلیٹ

    13 ہزار تنخواہ پر سرکاری ملازم،لگژری کار،شاندار طرز زندگی،گرل فرینڈ کوتحفہ میں فلیٹ

    بھارتی مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک سرکاری ملازم جس کی تنخواہ صرف 13 ہزار تھی ،کے شاندار طرزِ زندگی نے لوگوں کو حیران کن حد تک چونکا دیا۔ ہرش کمار کشرساگر، جو صرف 13,000 روپے ماہانہ کی تنخواہ پر کام کر رہا تھا، اچانک لگژری گاڑیوں کی سواری کرتے ہوئے اور ایک شاندار فلیٹ خرید کر اپنی گرل فرینڈ کو تحفے میں دے رہا تھا، جس نے اُس کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔یہ حیران کن کہانی اس وقت سامنے آئی جب یہ معلوم ہوا کہ ہرش کمار کشرساگر اور اس کے ساتھی نے مبینہ طور پر حکومت کو 21 کروڑ 59 لاکھ 38 ہزار روپے کا دھوکہ دیا تھا۔ ان دونوں نے انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے چھترپتی سمبھاجی نگر کے محکمہ جاتی اسپورٹس کمپلیکس سے یہ رقم چوری کی تھی۔

    مذکورہ ملزم نے چوری کی رقم سے نہ صرف ایک مہنگی بی ایم ڈبلیو کار اور ایک بی ایم ڈبلیو موٹر سائیکل خریدی، بلکہ اپنی گرل فرینڈ کے لیے ایئرپورٹ کے قریب ایک 4 بی ایچ کے فلیٹ بھی خریدا۔ اس کے علاوہ، اس نے شہر کے ایک مشہور جیولر سے ہیروں سے جڑی ہوئی عینک بھی خریدی تھی۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس اسکیم میں ایک خاتون کنٹریکٹ ورکر کے شوہر نے بھی 35 لاکھ روپے کی ایس یو وی خریدی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، ہرش کمار انل کشرساگر ایس یو وی لے کر فرار ہو چکا ہے۔

    دوران تحقیقات انکشاف ہوا کہ ملزمان نے انڈین بینک میں اسپورٹس کمپلیکس کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ کھولا تھا جس کا مقصد سرکاری فنڈز کو ہڑپنا تھا۔ اس اکاؤنٹ میں لین دین کرنے کے لیے ڈپٹی اسپورٹس ڈائریکٹر کے دستخط شدہ چیک درکار تھے۔ تاہم، ہرش کمار کشرساگر، یشودا شیٹی، اور اس کے شوہر بی کے جیون، جو کہ اس کمپلیکس کے کنٹریکٹ ملازمین تھے، نے بینک کو فراہم کرنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں۔اس کے بعد، ان دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت کو فعال کیا اور اس اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر رقوم منتقل کرنا شروع کر دیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو چھ ماہ بعد اس دھوکہ دہی کا علم ہوا،

    اب اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے ہرش کمار کشرساگر اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ محکمہ اسپورٹس کمپلیکس کے اندر ہونے والی اس دھوکہ دہی کے پیچھے تمام ملزمان کے کردار کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    ڈپٹی وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی داتا دربار آمد

    فوجی عدالتیں ، پاکستان نے کبھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، عطا تارڑ

  • عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد وزیر خارجہ پاکستان کے میزائل پروگرام پر بات کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایک اہم موقع پر سامنے آیا ہے، جب امریکا نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تنقید شروع کی ہے اور اس سے متعلق مختلف پابندیاں عائد کی ہیں۔رچرڈ گرینل کا کہنا تھا کہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک سے امریکا مختلف انداز میں ڈیل کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے میزائل پروگرام کے حوالے سے بات چیت کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موجودہ بائیڈن انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو کام گزشتہ چار سالوں میں نہ کر سکے، وہ اب بائیڈن انتظامیہ کے آخری 45 دنوں میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    امریکا نے پاکستان کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مبینہ تعاون کرنے کے الزام میں چار پاکستانی اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان اداروں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈیولپمنٹ کمپلیکس اور کراچی میں قائم تین کمپنیاں اختر اینڈ سنز، ایفیلی ایٹس انٹرنیشنل اور روک سائیڈ انٹرپرائیزز شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ان پابندیوں کو ان اداروں کی جانب سے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے معاونت فراہم کرنے کے باعث عائد کیا۔

    قبل ازیں امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان فائنر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں سے لیس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ امریکا جیسے دور دراز کے اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں پر پاکستان نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی فیصلے کو متعصبانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقصد جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ان کی میزائل صلاحیت کا استعمال دفاعی مقاصد کے لیے کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے۔پاکستانی حکومت نے مزید کہا کہ یہ امریکی پابندیاں کسی بھی طرح پاکستان کے دفاعی پروگرامز کو محدود نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ان کی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی اثر ڈال سکتی ہیں۔

    رچرڈ گرینل نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ ان الزامات سے مماثلت رکھتے ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی عائد کیے گئے تھے۔ گرینل نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ سابق وزیراعظم کو رہا کیا جائے، کیونکہ ان کے کیس میں سیاسی پہلو بہت نمایاں ہے۔

    حوثیوں کا اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملہ،بھگدڑ سے 24 زخمی

    پاکستانی میزائل پروگرام،امریکی دھمکیاں،قوم یکجا

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

  • جنوبی افریقہ میں دنیا کی سب سے گہری  سونے کی کان،درجہ حرارت  150 ڈگری

    جنوبی افریقہ میں دنیا کی سب سے گہری سونے کی کان،درجہ حرارت 150 ڈگری

    جنوبی افریقہ کے صوبے گوتینگ میں واقع میپونیگ سونے کی کان دنیا کی سب سے گہری سونے کی کان ہے، جو تقریباً 4 کلومیٹر گہری ہے۔ اس کی گہرائی ہی اسے ایک منفرد مقام دیتی ہے اور دنیا کی دیگر کانوں سے ممتاز بناتی ہے۔ اس گہرائی میں کام کرنا نہ صرف تکنیکی طور پر چیلنج ہے، بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ انسان کی محنت، عزم اور جدید ٹیکنالوجی کا ایک شاندار نمونہ بھی ہے۔

    میپونیگ کان کی ایک اور خاصیت اس میں موجود بے حد درجہ حرارت ہے جو زمین کی سطح سے تقریباً 4 کلومیٹر نیچے پہنچ کر 150 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ درجہ حرارت کسی بھی انسان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ لیکن، اس شدید گرمی کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ تقریباً 6000 ٹن برف کو زیر زمین ذخائر میں ڈالا جاتا ہے تاکہ کان کے اندر کے درجہ حرارت کو کم کیا جا سکے اور کارکنوں کے لیے کام کرنا ممکن بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، جدید ترین ہوا کے نظام اور ٹھنڈا کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    میپونیگ سونے کی کان ہر سال تقریباً 8,000 کلوگرام سونا پیدا کرتی ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی سونے کی پیداوار میں شامل ہے۔ اس کان سے سونا نکالنے کے لیے تقریباً 5400 میٹرک ٹن پتھروں کو توڑا جاتا ہے۔ ان پتھروں میں سونا دفون ہوتا ہے، اور انہیں نکالنا ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔میپونیگ گولڈ مائن نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ پوری دنیا کی سونے کی پیداوار میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ کان عالمی سطح پر دنیا کے سونے کی کل پیداوار کا تقریباً 16% فراہم کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میپونیگ کان عالمی کان کنی کی صنعت کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

    اس کان کی کامیابی صرف اس کے سونے کی پیداوار کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ یہ جدید ٹیکنالوجی اور محنتی کارکنوں کے امتزاج کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ کان کنی کے شعبے میں اس کا کردار ایک ٹیکنالوجی اور محنت کا خوبصورت امتزاج ہے، جہاں انسان اور مشینیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں تاکہ زمین کی گہرائیوں سے سونا نکالا جا سکے۔یہ کان نہ صرف سونے کی پیداوار کے لیے مشہور ہے بلکہ یہ انسان کی ٹیکنیکی صلاحیت اور مشکلات کے باوجود عزم کے ساتھ کام کرنے کی علامت بھی بن چکی ہے۔ یہاں کے کارکن ہر دن شدید حالات میں کام کرتے ہیں، جس کی بدولت یہ کان دنیا کی سب سے اہم سونے کی کانوں میں شمار کی جاتی ہے۔

    میپونیگ گولڈ مائن کی کہانی نہ صرف سونے کے لیے محنت اور جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ یہ اس بات کی بھی غمازی کرتی ہے کہ انسان اگر اپنی محنت، ٹیکنالوجی اور عزم کو یکجا کرے تو وہ کسی بھی مشکل پر قابو پا سکتا ہے۔ یہ کان ایک جیت کی مثال ہے جو دنیا کے سامنے اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ تکنیکی ترقی اور انسان کی محنت کا امتزاج کسی بھی چیلنج کو کامیابی میں بدل سکتا ہے۔

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟

    کرسمس ٹری کو آگ لگانے پر دمشق میں ہنگامے

  • کرسمس ٹری کو آگ لگانے پر دمشق میں ہنگامے

    کرسمس ٹری کو آگ لگانے پر دمشق میں ہنگامے

    دمشق: کرسمس کے موقع پر شامی دارالحکومت دمشق کے مسیحی علاقوں میں اُس وقت احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جب ایک اور شہر میں نامعلوم افراد نے کرسمس ٹری کو نذرِ آتش کر دیا۔

    یہ واقعہ پیر کی شام اُس وقت پیش آیا جب ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں چند افراد مسیحی اکثریتی شہر "سوقیلبیہ” میں کرسمس کے درخت کو جلاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ شہر حما کے قریب واقع ہے۔ اس واقعے کے بعد دمشق میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ویڈیو میں ایک مسلح شخص کو درخت کے قریب کھڑے ہو کر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "کل صبح آپ کو درخت دوبارہ مکمل حالت میں نظر آئے گا”۔ تاہم، اس بات کا کوئی پتہ نہیں چل سکا کہ درخت کو آگ کس نے لگائی۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا ہے جب تین ہفتے قبل باغی گروپوں نے شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے ایک کامیاب مہم چلائی تھی۔

    دمشق میں مظاہرہ کرنے والے مسیحیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں مسیحیوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک 24 سالہ کیتھولک باشندہ جارج نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عبادت گاہوں اور ملک میں رہنے والے مسیحیوں کی حفاظت کی جائے”۔اس سے قبل بشار الاسد کے دور حکومت میں مسیحیوں کو اپنی مذہبی رسومات منانے کی اجازت تھی، لیکن وہ بھی دیگر شامیوں کی طرح حکومتی جابرانہ پالیسیوں کا شکار تھے۔ تاہم، شامی حکومت کے خاتمے کے بعد اب شامی مسیحی اس بات سے پریشان ہیں کہ کیا نیا حکومتی سیٹ اپ ان کی حفاظت کی ضمانت دے گا۔

    شام میں اب اسلامی باغی گروپ "حیات تحریر الشام” کا کنٹرول ہے، جس کی قیادت احمد الشرعہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس گروپ کا سابقہ نام "ابو محمد الجولانی” تھا اور یہ گروپ 2016 میں خود کو دوبارہ منظم کر چکا ہے۔ حیات تحریر الشام نے عوامی طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اقلیتی برادریوں، بشمول مسیحیوں، کی حفاظت کرے گا، تاہم کرسمس کے موقع پر ابھی تک اس گروپ کی طرف سے کوئی خاص تحفظات کے اعلان نہیں کیے گئے ہیں۔

    دمشق کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اس سال حیات تحریر الشام نے کرسمس کی تقریبات پر کوئی پابندیاں عائد نہیں کیں، لیکن مسیحی ابھی بھی غیر متشدد مسلح گروپوں کے حملوں کا خوف محسوس کر رہے ہیں۔ جارج نے کہا کہ "اگر بہتر حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا جاتا تو ہمیں زیادہ سکون ملتا، لیکن اب بھی حفاظتی انتظامات مکمل نہیں ہیں”۔

    شام کے مختلف علاقوں میں کرسمس کے درخت اور دیگر تزئینات دیکھنے کو مل رہی ہیں، لیکن لوگ اپنی تقریبات کو محدود کر رہے ہیں اور ان میں خود سے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔یہ واقعات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب لبنان اور فلسطین میں بھی کرسمس کی تقریبات غیر معمولی طور پر غمگین اور غیر یقینی ماحول میں منائی جا رہی ہیں، جہاں مسیحی کمیونٹیز کے سامنے مختلف نوعیت کے چیلنجز ہیں۔

    ہسپتال کھلنے کی تقریب پر گینگ کا حملہ، دو صحافیوں کی موت

    پاکستان میں مسیحی برادری امن اور سکون سے رہ رہی ہے،وزیراعظم