Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    عراق میں ہزار وں پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ، دونوں ممالک میں تناو

    پاکستان اور عراق کے تعلقات میں پاکستانی زائرین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے تناؤ آ رہا ہے۔

    حالیہ پیش رفت نے ایک پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے جو قانونی زائرین کے ساتھ غیر قانونی پاکستانیوں کی موجودگی کو بھی شامل کرتا ہے۔ عراقی حکومت نے غیر قانونی ہجرت کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسیاں اپنائی ہیں جن میں زائرین کی تمام داخلی راستوں پر تفتیش، ان کے پاسپورٹس کو قبضے میں لینا اور گروپوں کے سفر کی زیادہ نگرانی شامل ہے۔اگرچہ ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی ہجرت کو روکنا ہے، لیکن ان کا اثر قانونی زائرین پر بھی پڑا ہے جو اب غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے اتنی ہی نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر بوجھ ڈال دیا ہے۔عراقی حکومت خاص طور پر اس لیے متنبہ ہے کیونکہ عراق میں تقریباً 40,000 سے 50,000 پاکستانی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں جن میں سے بیشتر انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کے ذریعے عراق پہنچے ہیں۔

    غیر قانونی بحران اور اس کا اثر

    عراق کی سخت امیگریشن تدابیر کی بنیاد غیر قانونی ہجرت ہے۔ پاکستان کے کئی غریب علاقوں جیسے وزیرآباد، گجرات، گجرانوالہ، پاراچنار اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے نوجوان پاکستانیوں کو انسانی اسمگلروں کا شکار بنایا جاتا ہے۔یہ غیر قانونی تارکین وطن اکثر اپنے ویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد عراق میں غیر قانونی طور پر کام کرتے ہیں اور انہیں زیادہ تنخواہوں کا وعدہ کیا جاتا ہےجو کبھی $700 ماہانہ تک پہنچتی تھی۔تاہم، جب سے ان تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، ان کی اجرتیں کم ہو کر $300 سے $400 ماہانہ تک پہنچ چکی ہیں، اور وہ شدید استحصال اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2023 میں عراق میں کم از کم 50 پاکستانی کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کی وجہ یہ خطرناک کام کے حالات تھے اور 2024 میں بھی تقریباً اتنے ہی افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عراق کی بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں پاکستان نے گجرات اور گجرانوالہ جیسے علاقوں میں سرگرم انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورک کے کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان غیر قانونی نیٹ ورکوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی وسعت اور مقامی ایجنٹوں اور سرحدی سیکیورٹی اہلکاروں کی مداخلت کی وجہ سے قانون کی عملداری کو یقینی بنانا مشکل ہو گیا ہے۔

    انسانی بحران کا بڑھنا

    غیر قانونی تارکین وطن کو عراق میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، وہ ان کی زندگی اور کام کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں چھپ کر رہتے ہیں، جہاں وہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی گرفتاری اور بدسلوکی کا شکار رہتے ہیں۔بعض اوقات یہ افراد اسمگلروں اور عراقی حکام کے ہاتھوں تشدد اور حتیٰ کہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ڈی پورٹیشن کا عمل بھی سست اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گرفتار شدگان طویل عرصے تک بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔پاکستانی زائرین جو مذہبی مقصد کے لیے عراق آتے ہیں، ان کے لیے عراقی حکومت کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ داخلے اور اخراج کے وقت پاسپورٹس کو ضبط کرنے کا عمل ایک اہم لاجسٹک مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستانی زائرین جو گروپوں میں سفر کرتے ہیں اور جن کا ایک مخصوص رہنما (سالار) ہوتا ہے، اکثر پاسپورٹ کی واپسی میں تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی ناقص کارکردگی نے زائرین اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    مفاہمت کا معاہدہ: مسئلے کا حل

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کے سفر کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ عراق کی غیر قانونی ہجرت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں دونوں حکومتیں ایک مفاہمت کا معاہدہ (MoU) تیار کر رہی ہیں جس کے تحت پاکستانی عازمین کو ایمرجنسی کی صورت میں گروپ سے علیحدہ ہونے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ زائرین کو درپیش سخت سفری پابندیوں میں کمی لائی جا سکے۔پاکستان نے پاسپورٹ کی ضبطی کے عمل پر بھی اعتراض اٹھایا ہے اور عراقی حکام سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹمز کی جانچ کریں تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے اور پاسپورٹس کی واپسی کے عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔عراق نے اس عمل کا جائزہ لینے کی کچھ آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کب تک اس پر عملدرآمد ہوگا۔ مزید برآں، پاسپورٹس کی تاخیر اور گم ہونے کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں،تاہم، انسانی اسمگلنگ کا بڑا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔عراقی حکام نے اسمگلروں اور ایجنٹوں کے کردار کو تسلیم کیا ہے لیکن ان نیٹ ورکوں کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان نے غیر قانونی ٹور آپریٹرز اور انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔ دونوں ملکوں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے ان قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے جو زائرین کو استحصال سے بچا سکیں۔

    آگے کا راستہ: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت

    پاکستان سے عراق جانے والے غیر قانونی تارکین وطن، خاص طور پر وہ نوجوان جو بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عراق جاتے ہیں، نے زائرین کے سفر کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی عازمین اور غیر قانونی تارکین وطن دونوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پاکستان اور عراق کو متعدد اقدامات پر تعاون کرنا ہوگا۔ان میں زائرین کے سفر کے قانونی فریم ورک کو بہتر بنانا، ایجنٹوں کے مافیا کے خلاف کارروائی کرنا، پاسپورٹ کے انتظام کے نظام کو بہتر بنانا اور غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مؤثر ڈی پورٹیشن میکانزم بنانا شامل ہے۔جب کہ دونوں حکومتیں مفاہمت کے معاہدے کے تفصیلات پر بات چیت کر رہی ہیں، یہ واضح ہے کہ زائرین کے سفر کا مستقبل مؤثر دو طرفہ تعاون پر منحصر ہے۔ اگرچہ کچھ مسائل کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو انسانی اسمگلنگ کو روکنے، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں طرف کے ادارہ جاتی میکانزم کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو۔صرف مسلسل تعاون کے ذریعے دونوں ممالک یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ زائرین کا سفر روحانی اور محفوظ رہے، جو استحصال اور مشکلات سے آزاد ہو۔

    اراکین پارلیمنٹ اور اہل خانہ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات طلب

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • بنگلہ دیش کا  بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    بنگلہ دیش کا بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ

    ڈھاکا: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کےلئے بھارت سے مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ حسینہ واجد رواں برس اگست میں اپنی حکومت کے اختتام کے بعد بنگلہ دیش سے بھارت فرار ہوگئی تھیں تاہم اب شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے بنگلہ دیشن نے بھارت کو درخواست دی جس کی بنگلہ دیشی قائم مقام وزیرِ خارجہ توحید حسین نے تصدیق بھی کردی۔

    ڈھاکا میں صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو آگاہ کر دیا ہے کہ شیخ حسینہ عدالتی عمل کےلئے یہاں مطلوب ہیں شیخ حسینہ مفرور ہیں، انہیں بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے، یہ درخواست ایک نوٹ وربل کے ذریعے بھیجی گئی ہے لیکن اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    بھارتی حکومت کی جانب سے توحید حسین کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم توقع کی جارہی ہے کہ بھارت اس معاملے پر جلد جواب دے گا۔

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال
    اس سے قبل بنگلہ دیش کے قائم مقام وزیرِ داخلہ جہانگیر عالم نے کہا تھا کہ ان کی وزارت نے شیخ حسینہ کی واپسی کےلئے وزارتِ خارجہ کو خط بھیجا ہے،بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حوالگی کا معاہدہ موجود ہے اور اس معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس لایا جا سکتا ہے۔
    لکی مروت میں سی ٹی ڈی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، ایک دہشتگرد ہلاک

  • دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال

    دمشق: شام کے دارالحکومت دمشق ائیرپورٹ کا فضائی آپریشن بحال ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: شام پر اپوزیشن فورسز کے قبضے اور بشار الاسد کے ملک سے فرار کے 16 دن بعد دمشق انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر طیاروں کی آمد و رفت بحال ہوگئی ہے تاہم شیڈول آپریشن کی بحالی کا باقاعدہ افتتاح جلد ہوگا۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ سے قطر ائیر کی خصوصی پرواز کیو آر 3250 نے پہلی بین الاقوامی پرواز کے طور پر پیر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے دمشق انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہلی لینڈنگ کی، اس سے قبل ایک اندرون ملک پرواز آر بی 112 دمشق سے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کے لیے آپریٹ کی گئی جس میں 32 مسافروں نے حلب کا سفر کیا۔

    8 دسمبر 2024 کو اپوزیشن فورسز کے دمشق پر قبضےکے دوران سابق صدر بشار الاسد کے فرار کے بعد دمشق ہوائی اڈے کو بندکر دیا گیا تھا، شام کی فضائی حدود بھی بند کردی گئی تھی، نئی عبوری حکومت نے 15 دسمبر کو شامی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھول دی تھی۔
    ڈیرہ غازی خان: گیس بحران نے شہریوں کو سردیوں میں بے بس کر دیا
    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی
    بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماوں کی مذاکرات میں شریک نہ ہونے کی وجہ بتادی

  • ٹرمپ کا  امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    ٹرمپ کا امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    واشنگٹن: امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سرزمین میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ‌ٹرمپ نے کہا ہے کہ کم از کم کچھ عرصے کے لیے وہ ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک عوامی خطاب کے دوران کہا کہ امریکی صدارتی مہم کے دوران ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز کے ویوز اربوں میں تھے،یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کی مخالفت کے حوالے سے اب تک کا سب سے زیادہ ٹھوس اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ پہلے ایوان نمائندگان کانگریس نے 20 اپریل اور پھر سینیٹ نے 24 اپریل 2024 کو ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری دی تھی اس امریکی قانون کے تحت ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک امریکا میں کمپنی کو فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہےاس مدت میں کمپنی کو فروخت نہ کرنے پر امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    ٹک ٹاک اور بائیٹ ڈانس کی جانب سے مئی 2024 میں اس قانون کو ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی کورٹ آف اپیلز میں چیلنج کیا گیا اور 16 ستمبر کو اس کی پہلی سماعت ہوئی،6 دسمبر کو عدالت کے تینوں ججوں نے متفقہ فیصلے میں ٹک ٹاک کی اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے۔

    کورٹ آف اپیلز کے 3 ججوں پر مشتمل پینل نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو جواز قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کے قانون کو برقرار رکھا تھاعدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاک کی جانب سے ایک بار پھر اسی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون پر عملدرآمد عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی،مگر 13 دسمبر کو کورٹ آف ایپلز نے ٹک ٹاک کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

    گزشتہ دنوں ٹک ٹاک نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور امریکا کی اعلیٰ عدالت نے مقدمے کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے مگر امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اگر ٹک ٹاک کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا جاتا یا قانون کے اطلاق کو عارضی طور پر ملتوی نہیں کیا جاتا تو پھر اس سوشل میڈیا ایپ کو 19 جنوری کو پابندی کا سامنا ہوگا۔
    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا
    وفاقی وزیر تجارت کی کینیا کے ہائی کمشنر سے اہم ملاقات
    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

  • سعودی عرب نے افغانستان  میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    کابل: افغانستان میں 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے سعودی عرب نے پہلی بار کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے سفارت خانہ بند کردیا تھا بعد ازاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ برس فروری میں سعودی سفارتی عملہ واپس اپنے وطن چلا گیا تھا تاہم اب دوبارہ کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    سعودی سفارتی خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کو سفارتی خادمات کی فراہمی کے لیے کابل میں سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہےافغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں، سفارتی مشن کا آغاز اس کی غمازی کرتا ہے۔

    طالبان حکومت نے بھی سعودی عرب کے سفارتی مشن کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • شام:  عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    دمشق: شام میں بشار الاسد کی حکومت کا ےختہ الٹنے والے باغی رہنما اور عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح المعروف ابو محمد الجولانی نے ملک کی نئی ملٹری پالیسی جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ شام میں بغاوت کے بعد بننے والی عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح سے آج سعودی وفد، ترک وزیر خارجہ اور اقلیتی دروز فرقے کے رہنما نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور بغاوت کے بعد شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

    احمد الشراح نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جلد ہی شام کے مسلح دھڑے خود کو تحلیل کرکے شامی فوج میں داخل ہونے کا اعلان کرنا شروع کر دیں گے ریاستی کنٹرول سے باہر ملک میں ہتھیار رکھنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے چاہے وہ انقلابی دھڑوں سے ہوں یا ایس ڈی ایف کے علاقے میں موجود دھڑے ہوں، ملک میں مختلف گروہوں کے پاس موجود اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں آ جا ئیں گے اور یہ ملک میں قیام امن کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    اقلیتی دروز فرقے کے رہنما سے ملاقات کے بعد احمد الشراح کا کہنا تھا کہ ہم فرقوں اور اقلیتوں کے جان و مال اور مقدس مقامات کی حفاظت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ملک میں فرقہ ورانہ فسادات اور ملک کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی "بیرونی” کوششوں کو بھی ناکام بنائیں گے۔

  • اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اسرائیل 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامند

    اتوار کے روز اسرائیل نے عمر قید کی سزا پانے والے تقریباً 200 فلسطینیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم ان قیدیوں کی شناخت پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹ اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ تنازع کا ایک اہم نکتہ فلسطینی قیدیوں کی تعداد سے متعلق ہے جن کا اسرائیل مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاہدے سے نکل جائیں اسرائیل نے 65 فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کو ویٹو کرنے کے حق کا مطالبہ کیا حماس کو یہ لگتا ہے کہ اسرائیل کا یہ مطالبہ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہے۔

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے اسرائیل کے ایک باخبر سیاسی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ مروان برغوثی جو فلسطینی رہنماوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں کو حتمی معاہدہ ہونے کے باوجود رہا نہیں کیا جائے گا۔

    قبل ازیں اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے پہلے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں کیونکہ اسرائیل جامع معاہدے کے بجائے جزوی معاہدے پر غور کر رہا ہے، اسرائیل اور حماس کے مابین جاری جنگ کو روکنے کے اشارے موجود ہیں جس کے لیے کئی دنوں سے مذاکرات جاری ہیں لیکن ایک حتمی معاہدہ ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آیا –

    حماس نے ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست حوالے کی ہے جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں 250 قیدی شامل ہیں جبکہ اسرائیل نے 34 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،اسرائیل کچھ شخصیات کی رہائی سے انکار کرتا آ رہا ہے جن میں تحریک الفتح کے رہنما مروان برغوثی شامل ہیں۔ اسی طرح جن دیگر مسائل پر تنازع جاری ہے ان میں رفح کراسنگ سے اسرائیلی فوج کے ہٹنے کا معاملہ بھی ہے۔

    اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکی صدر جو بائیڈن کی مدت ختم ہونے سے قبل ایک جامع ڈیل طے پانے کے امکان کو مسترد کر دیا انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل ایک جزوی معاہدے کے ساتھ آگے بڑھنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے جس میں معلومات یا ضمانتوں کے بدلے کچھ قیدیوں کو رہا کرنا بھی شامل ہے

  • اینکرپرسن آفتاب اقبال دبئی میں گرفتار

    اینکرپرسن آفتاب اقبال دبئی میں گرفتار

    دبئی: پاکستان کے مشہور اینکرپرسن آفتاب اقبال کو دبئی ایئرپورٹ سے گرفتار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    آفتاب اقبال کے بھائی جنید اقبال نے تصدیق کی ہے کہ آفتاب اقبال کو کل رات دبئی ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔جنید اقبال کا کہنا تھا کہ "میرے بڑے بھائی آفتاب اقبال کو دبئی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا، اور اس کے بعد سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ ہمیں ابھی تک ان کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکیں۔” جنید اقبال کی اس بیان کے بعد پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس گرفتاری کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

    اب تک اس گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں، پاکستانی میڈیا آفتاب اقبال کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے بھی حکام سے ان کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ کے حوالے سے صارفین مختلف تبصرے کر رہے ہیں اور اس گرفتاری کے پس منظر پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    https://x.com/jforjunaidiqbal/status/1871128510024282183

    صحافی نجم ولی خان نے ایکس پر کہا کہ اینکر پرسن آفتاب اقبال دوبئی میں گرفتار۔ بارہ گھنٹوں سے نامعلوم جگہ پر۔ جنید اقبال سمیت فیملی پریشان۔ وہ مانچسٹر سے واپس یو اے ای پہنچے تھے کہ انہیں detain کر لیا گیا۔ سفارتخانہ نوٹس لے۔

    https://x.com/najamwalikhan/status/1871132477269725428

  • ماہرین نفسیات کے مطابق وہ رویے جو طلاق کروا دیتے ہیں

    ماہرین نفسیات کے مطابق وہ رویے جو طلاق کروا دیتے ہیں

    شادی محبت، ارادوں اور سہاروں سے تقویت پاتا ہے لیکن ان سب سے نظراندازی رشتے کو کمزور کردیتی ہے،شوہر اور بیوی کے درمیان تعلقات کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور جب وہ نہیں ہوتا تو نتیجہ تباہ کن ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی و ی: ایوولوشنری سائکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں شادی شدہ جوڑے کے رویوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں ایسے بنیادی رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو جوڑے کو طلاق کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

    مطالعہ میں شامل اکثر شرکا نے اطلاع دی کہ تعلقات میں سب سے زیادہ نقصان دہ رویہ دیکھ بھال کی کمی ہے اس میں غفلت، لاتعلقی اور جذباتی طور پر سطح پر قطع تعلق ہونا شامل ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا کہایک اور شدید نقصان دہ رویہ جب کوئی زوج اپنے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا یا بحیثیت والدین اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

    علاوہ ازیں دوسرے ساتھی کے رویے کو کنٹرول کرنا یعنی اپنی مرضی دوسرے پر مسلط کرنا، اس کی آزادی کو محدود کرنا بھی شادی میں زہر گھول دیتا ہے اور نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ کے ایک ماہر نفسیات ہاورڈ مارک مَین نے لندن کی ایک کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ شادی سے پہلے ہی ہونے والی بیوی کی بات چیت سن کر اور ان کے حالات دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ شادی نبھانے والی باتیں ان میں پائی جاتی ہیں یا نہیں وہ کہتے ہیں وہ کئی سال سے یہ کام کر رہیں اور اب تک سینکڑوں جوڑوں کے متعلق اندازے لگا کر انہیں بتا چکے ہیں اور ان کے ۹۰ فیصد اندازے درست نکلے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں طلاق کی بڑی وجہ بات چیت اور تعلقات کا یکسر ختم کر دینا ہوتا ہے(Communication Breakdown)۔ اگر تعلقات جلد بازی اور غصہ میں یکدم توڑے نہ جائیں اور تعلقات بگڑنے کے بعد بھی بول چال جاری رکھیں اور کچھ عرصہ اکٹھے رہتے رہیں تو طلاق ہوتے ہوتے بھی بچ جاتی ہے جب و ہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر سمجھنے سے انکار کردیتے ہیں ، اپنی ضد پر اڑ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سننے کے روادار نہیں رہتے تو اس کا نتیجہ طلاق ہوتا ہے۔

    ان کے مطابق دوسری وجہ طلاق کے باہمی احترام کا فقدان ہوتاہے۔ وہ ایک دوسرے کے کردار پرحملہ کرتے ہیں اورہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ ایک فریق دوسرے کو مسلسل نیچا دکھانے اورذلیل کرنے کے درپے رہتاہے اگر ایک نے دوسرے کے ہاتھ سے بیس میٹھی کاشیں کھائی ہوں اور ایک کڑوی آ جائے تو پچھلی بیس کویکسر بھلا کرایک کڑوی کو باربار دہراتا رہے گا اورہمدردی حاصل کرنے کے لئے گھر کے باہر کے افراد کوبھی بتانا شروع کر دے گا یاکر دے گی، ایسے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کامسئلہ بناکر ڈٹ جاتے ہیں اور ان کے والدین بھی اسے اپنی عزت کا مسئلہ بنا کر صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیتے ہیں۔

  • امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    امریکی عدالت میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی مجرم قرار

    پیگاسس اسپائی ویئر کا معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر چھا یا ہوا ہے اور ہندوستان میں اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

    امریکی عدالت نے اسرائیل کی معروف اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ کو پیگاسس کے ذریعے 1400 واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں 300 ہندوستانی افراد شامل ہیں۔ ان میں اہم شخصیات جیسے صحافی، سیاستدان، سرکاری افسران اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں۔امریکی عدالت میں این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کی سماعت جج فلِس ہیملٹن نے کی۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ نے امریکی قوانین کی خلاف ورزی کی اور متاثرین کو نشانہ بنانے کے لیے اس نے اپنے اسپائی ویئر کا استعمال کیا۔ عدالت نے کمپنی کو ان کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال کئی اہم شخصیات کے خلاف کیا گیا تھا۔ ان میں اپوزیشن کے رہنما، مرکزی وزراء، سرکاری افسران، اور سماجی کارکن شامل تھے۔ 2021 میں انکشاف ہوا کہ پیگاسس کے ذریعے 300 سے زیادہ ہندوستانی موبائل نمبروں کو ٹارگٹ کیا گیا تھا، جن میں دو مرکزی وزراء، تین اپوزیشن رہنما، متعدد صحافی، اور کاروباری شخصیات بھی شامل تھے۔یہ انکشافات ہندوستان میں سیاسی ہلچل کا سبب بنے تھے اور مودی حکومت پر شدید سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اپوزیشن نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کی نگرانی کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کر رہی ہے۔

    پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال دنیا بھر کی حکومتوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کے لیے کیا گیا تھا۔ 2021 میں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا اور امریکی اداروں پر اس کے پروڈکٹس خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔این ایس او گروپ نے ہمیشہ اپنے موقف کا دفاع کیا ہے اور واضح کیا کہ اس کی مصنوعات صرف حکومتوں اور سرکاری ایجنسیوں کے لیے دستیاب ہیں، نہ کہ فرد یا غیر سرکاری اداروں کے لیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسپائی ویئر فراہم کرنا تھا۔ تاہم، اس کے باوجود پیگاسس کے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

    ہندوستانی حکومت نے ہمیشہ پیگاسس کے ذریعے جاسوسی کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت نے کسی قسم کی جاسوسی کی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے 2017 میں اسرائیل سے ہتھیاروں کی خریداری کے ساتھ جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والا سوفٹ وئیر اسپائی وئیرخریدنے کا بھی معاہدہ کیا بھارتی حکومت اوراسرائیل کے ہتھیاروں کی خریدی کے معاہدے میں اسپائی وئیرکی خریداری بھی شامل تھی۔

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔ پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    9 مئی سانحہ: ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے مزید 11 ملزمان جیل منتقل

    اسپتال میں علاج کیلئے آئی خاتون کے ساتھ سکیورٹی گارڈ کی زیادتی