Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا: 15 سالہ طالبہ کی اسکول میں فائرنگ، ٹیچر اور طالبعلم ہلاک،متعدد زخمی

    امریکا کے سکول میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، امریکی ریاست وسکونسن کے اسکول میں 15 سالہ طالبہ کی فائرنگ سے ٹیچر اور نوجوان طالب علم ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق وسکونسن کے ایک اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں اب تک ایک ٹیچر اور ایک طالب علم کی موت ہوچکی ہے جب کہ 6 زخمی افراد ہیں پولیس چیف کے مطابق ریاست وسکونسن کےاسکول میں فائرنگ کرنے والی اسکول طالبہ نکلی، 15 سالہ حملہ آور اسی اسکول کی طالبہ ہے جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مارکر خودکشی کرلی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 15 سالہ طالبہ نٹالی رپناؤ نے اسکول ہال میں داخل ہو کر اچانک فائرنگ کردی، حملہ آور طالبہ نے خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کرلی، پولیس نٹالی رپناؤ کے والد سے رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پولیس نے میڈیسن شہرکے اسکول میں فائرنگ کی جگہ سےہینڈگن برآمدکی ہے جب کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات اور حملہ آور کے خاندان سے بھی تفتیش جاری ہے، زخمیوں میں شامل 2 طلبہ کی حالت تشویشناک ہے اور 2کو اسپتال سےڈسچارج کردیاگیا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے’”ناقابل قبول‘ قرار دیا اور گن کنٹرول قوانین کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیراعظم حمزہ یوسف کا انتخاب نہ لڑنے کا اعلان

    سکاٹ لینڈ کے سابق وزیرِاعظم اور معروف سیاستدان حمزہ یوسف نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں سکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات میں اپنے ایم ایس پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے یہ بات اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے شیئر کی، جس میں کہا کہ وہ 15 سال کی سیاسی خدمات کے بعد آگے بڑھنے کا وقت سمجھتے ہیں۔

    حمزہ یوسف نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "میرے والدین تارکین وطن تھے، اور میں کبھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ میں اتنی شاندار سیاسی سفر پر گامزن ہوں گا۔” انہوں نے اپنے تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کے سفر میں ان کا ساتھ دیا۔یوسف نے مزید کہا کہ 2026 میں وہ سکاٹش پارلیمنٹ کے انتخابات کے دوران اپنی ایم ایس پی کی سیٹ چھوڑ دیں گے تاکہ نئے سیاستدانوں کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔ ان کا کہنا تھا، "15 سال کی خدمت کے بعد، یہ وقت صحیح ہے کہ میں آگے بڑھوں اور دنیا کے سامنے کچھ نئی ذمہ داریاں اور چیلنجز اپنانے کا موقع تلاش کروں۔”

    حمزہ یوسف نے 2023 کے مارچ میں سکاٹ لینڈ کے وزیرِاعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، لیکن مئی 2024 میں انہوں نے "بیوٹ ہاؤس ایگریمنٹ” کے ٹوٹنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس دوران ان کا سیاسی سفر خاصا مشکل رہا، خاص طور پر گرین پارٹی کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کے بعد۔یوسف نے اس بارے میں مزید کہا کہ "بیوٹ ہاؤس ایگریمنٹ کے حوالے سے مختلف چیلنجز اور پارٹی کے اندرونی اختلافات نے ان کے استعفیٰ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔” ان کا کہنا تھا، "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا، لیکن میں نے سوچا کہ اس صورت میں میرا استعفیٰ دینا درست ہے تاکہ میری جانشینی کسی رکاوٹ کے بغیر ممکن ہو سکے۔”

    حمزہ یوسف کی سیاسی زندگی میں کئی اہم وزارتیں شامل ہیں۔ انہوں نے سکاٹش حکومت میں صحت، انصاف، اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم محکموں میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2012 سے 2016 تک یوسف وزیرِیورپ اور بین الاقوامی ترقی کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر/X پر ایک انٹرویو شیئر کیا جس میں کہا کہ وہ اب "فرنٹ لائن سیاست” سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تاکہ نئے سیاستدانوں کے لیے جگہ بن سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے تجربات کا فائدہ اُٹھا کر عالمی سطح پر اپنی خدمات پیش کریں۔ "اب میں دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل کے لیے اپنی بصیرت اور تجربات سے مدد کرنا چاہتا ہوں۔” یوسف نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ناکامیوں اور کامیابیوں دونوں سے بہت کچھ سیکھا ہے، اور وہ اس علم کو عالمی سطح پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

    حمزہ یوسف کا یہ فیصلہ سکاٹ لینڈ کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کے استعفیٰ کے اعلان کے بعد، سکاٹ لینڈ کی سیاست میں ایک نئی قیادت کے امکانات روشن ہو گئے ہیں، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ مستقبل میں کون سی شخصیت ان کی جگہ لے گی۔

  • فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، نیویارک کے ایک امریکی جج نے ان کی ‘ہش منی’ کیس میں سزا منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اس فیصلے سے ٹرمپ کو ایک اور سنگین قانونی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ اب وہ 20 جنوری 2025 کو حلف اٹھانے کے باوجود سزا یافتہ صدر کے طور پر تاریخ رقم کریں گے۔رپورٹس کے مطابق نیویارک کی عدالت میں جج جوآن مرچن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکس اسکینڈل چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا۔ جج مرچن نے ٹرمپ کے وکیلوں کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اس طرح کے ایک ہی نوعیت کے کیس کو منسوخ کیا تھا۔ٹرمپ کے وکیلوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ٹرمپ کی حکومت میں کام کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ آئے گی، تاہم جج نے ان دلائل کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کی سزا کو برقرار رکھا۔

    یاد رہے کہ یہ کیس 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران فحش فلم کی اداکارہ اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ ٹرمپ کے مبینہ تعلقات سے جڑا ہوا ہے، جسے چھپانے کے لیے ٹرمپ پر 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مئی 2024 میں مین ہٹن کی جیوری نے ٹرمپ کو 34 مختلف الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی صدر یا سابق صدر کو کسی مجرمانہ کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہو۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ان کے 2024 میں ہونے والے انتخابات کی مہم کے دوران بھی ہو رہا ہے۔ٹرمپ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ایک سیاسی سازش ہے جس کا مقصد انہیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ اپنے تعلقات کو عوامی سطح پر چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں تبدیلی کی۔ اس معاملے کو امریکا کی عدلیہ میں ایک اہم قانونی اور سیاسی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک صدر یا سابق صدر کو مجرمانہ الزام کا سامنا ہے۔

    دوران پرواز ہوائی جہاز میں فحش فلم چل گئی

    ہاں،ٹرمپ نے جنسی تعلقات قائم کیے تھے، فحش فلموں کی اداکارہ کی تصدیق

    فحش فلموں کی اداکارہ اپنے کمرے میں پراسرار حالت میں مردہ پائی گئی

    رکن اسمبلی دوران اجلاس موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    فحش فلمیں دیکھنے والے ٹاپ 20 ممالک میں مسلمان ملک کا نام بھی آ گیا

  • یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    13 دسمبر کو یونان کے جزیرہ کریٹ کے جنوب میں ایک افسوسناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے اپنی دردناک کہانیاں اور حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر اس حادثے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    حادثے کے حوالے سے بچ جانے والے پاکستانیوں نے بتایا کہ یہ حادثہ 13 دسمبر کی رات، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا۔ ان کے مطابق سمندر میں حالات انتہائی خراب تھے اور کشتی پر 84 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی غیر قانونی طور پر لیبیا سے یونان جا رہی تھی، اور بدقسمتی سے اس حادثے میں کئی پاکستانیوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ متاثرین کے مطابق حادثے کے دوران درجنوں پاکستانیوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔متاثرین نے مزید بتایا کہ جس کشتی پر وہ سوار تھے، اس کا نہ انجن صحیح کام کر رہا تھا، نہ واکی ٹاکی (رابطہ کے آلات) درست تھے، اور نہ ہی کشتی کے کپتان کا رویہ مناسب تھا۔ ان کے مطابق کشتی کے حادثے کے بعد ایک کارگو شپ نے انہیں بچایا، لیکن اس دوران ان کے کپڑے، موبائل اور جوتے سمندر میں بہہ گئے۔ اس وقت ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں، نہ جوتے، اور نہ ہی ضروری سامان۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یونان کے ایک پناہ گزینی کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں انہیں عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے، جہاں وہ ڈیڑھ دو ماہ تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ پھر 11 دسمبر کو ان کی کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، اور 13 دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    یونان میں پاکستان کے سفیر، عامر آفتاب قریشی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی اب بھی لاپتا ہیں، اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، مگر بچ جانے کی امیدیں کم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا تاکہ ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات کے لیے آرام دہ حالات فراہم کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ یہ پانچ کشتیاں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے روانہ ہوئی تھیں، جن پر پاکستانی شہری سوار تھے۔ ان کشتیوں کو ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ان کشتیاں میں پاکستانی بچے بھی شامل تھے، جو اس خوفناک حادثے میں شامل ہوئے۔یونان میں ہونے والا یہ کشتی حادثہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس میں پاکستانیوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات اور بچ جانے والوں کے انکشافات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے سفر کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے،

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

  • ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    ماسکو کے ریازان اسکو پروسپیکٹ پر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:11 بجے پیش آیا۔

    گواہوں کے مطابق، دھماکے سے کچھ گھنٹے پہلے ایک نامعلوم شخص نے ایک الیکٹرک سکوٹر عمارت کے داخلی دروازے کے قریب پارک کیا تھا جس کے ہینڈل پر ایک نامعلوم مواد سے بنا ہینڈ میڈ بم (آئی ای ڈی) موجود تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں روسی فوج کے ریڈی ایشن، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کرئیلوف بھی شامل ہیں۔ دوسری ہلاکت ان کے معاون کی ہو سکتی ہے۔مقامی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، دھماکے نے عمارت کے داخلی دروازوں کو اڑایا اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ جنرل کی سرکاری گاڑی بھی اس دھماکے میں تباہ ہو گئی۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ دور سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمبار یا ان کے معاونین دھماکے کے مقام سے دور تھے اور شاید انہوں نے عمارت کے داخلی کیمرے تک رسائی حاصل کی، جو بہت سے رہائشیوں کے لیے دستیاب ہیں۔روس کے ٹیلی گرام چینل "ماش” کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت لیفٹیننٹ جنرل کے ڈرائیور کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ صبح 6 بجے جنرل کو لینے آیا تھا تاکہ انہیں کام پر لے جا سکے۔

    رشوت لینے کے الزم میں پولیس کانسٹیبل گرفتار

    فی الحال، بم ڈسپوزل ماہرین ریازان اسکو پروسپیکٹ پر واقع عمارت کے ارد گرد کی علاقے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سکوٹر، جس پر آئی ای ڈی منسلک تھا، کو فرانزک معائنہ کے لیے بھیجا جائے گا۔اس واقعے نے ماسکو میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس دھماکے کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی مخصوص مقصد کے تحت کیا گیا تھا یا یہ ایک وسیع تر دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ تھا۔

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • ایندھن کی قلت کے باعث ایران پاور پلانٹس بند کرنے پر مجبور

    ایندھن کی قلت کے باعث ایران پاور پلانٹس بند کرنے پر مجبور

    ایران نے ایندھن کی قلت کے باعث کئی پاور پلانٹس کو بند کردیا، جس کی طلب سخت سرد موسم کے دوران تیزی سے بڑھی ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے رپورٹ کیا کہ مغربی صوبہ لرستان نے گیس سے چلنے والے ایک پلانٹ کو جزوی طور پر بند کر دیا کیونکہ گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی کھپت میں اضافہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق تیل کی کم کھپت کے حامی ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایندھن کی قلت پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اگلے سال یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔میڈیا کے مطابق یہ اقدامات اتوار کو شمالی صوبے گلستان کے پلانٹس بند کرنے کے بعد ہوا۔پورے ملک میں درجہ حرارت صفر سے نیچے تک ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت تہران سمیت 20 سے زائد صوبوں میں اسکولوں اور سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ تازہ احکامات میں اصفہان اور مغربی آذربائیجان صوبے سردی کی شدت کے سبب اسکولوں اور سرکاری عمارتوں کو بند کرنا شامل ہیں جبکہ تہران سمیت ملک بھر میں بجلی کی بندش سے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ارنا کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ پابندیوں سے 24 گھنٹوں میں 20 لاکھ مکعب میٹر گیس اور 100 میگا واٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے۔

    سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

  • جنسی زیادتی اسکینڈل،اینگلیکن چرچ کے سینئر پادری پر استعفے کا دباو

    جنسی زیادتی اسکینڈل،اینگلیکن چرچ کے سینئر پادری پر استعفے کا دباو

    جنسی زیادتی کے اسکینڈل کے بعد جلد ہی عارضی طور پر دنیا کے اینگلیکن چرچ کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والے برطانیہ کے سینیئر پادری اسٹیفن کوٹرل کو ایک اور کیس کا بروقت نہ بتانے پر استعفے کے مطالبے کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارےکے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی تحقیقات کے مطابق 2010 میں چلمسفورڈ کے بشپ بننے پر اسٹیفن کوٹریل کو بتایا گیا تھا کہ ڈیوڈ ٹیوڈر 1988 میں دو مجرمانہ مقدمات میں نامزد تھے۔ڈیوڈ ٹیوڈر کو پہلے ٹرائل میں ایک 15 سالہ لڑکی پر حملہ کرنے کے مقدمے میں بری کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ڈیوڈ ٹیوڈر 3 لڑکیوں پر حملہ کرنے میں قصوروار پائے گئے تھے اور انہیں دوسرے کیس میں 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا لیکن تکنیکی بنیادوں پر اس کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔چرچ نے ڈیوڈ ٹیوڈر پر پابندی لگا دی تھی لیکن انہیں 5 سال بعد واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔بی بی سی کے مطابق 7 خواتین نے الزام لگایا ہے کہ ڈیوڈ ٹیوڈر نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔یارک اسٹیفن کوٹریل کے آرچ پشب جو کہ اینگلیکن چرچ کے دوسرے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں نئے سال کے آغاز میں چند ماہ کے لیے چرچ کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کینٹربری کے پادری جسٹن ویلبی کے استعفے کے بعد کیا گیا ہے۔جسٹن ویلبی نے اس وقت استعفیٰ دیا جب ایک آزاد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انہیں 2013 میں چرچ سے منسلک ایک وکیل کی دہائیوں پر محیط زیادتی کو حکام کے سامنے باقاعدہ طور پر رپورٹ کرنا چاہیے تھا اور وہ ایسا کر سکتے تھے۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چرچ آف انگلینڈ نے برطانیہ، زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے ’جسمانی، جنسی، نفسیاتی اور روحانی حملوں‘ کو چھپایا۔اب نیو کاسل کی بشپ ہیلن این ہارٹلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسٹیفن کوٹرل اپنے عہدے سے مستعفی ہوں کیونکہ ان پر یہ الزامات ہیں کہ انہوں نے چلمسفورڈ کے بشپ کے طور پر اپنی مدت کے دوران ایک جنسی زیادتی کے معاملے کو مناسب انداز میں سامنے نہیں لایا۔اسٹیفین کوٹریل کا کہنا تھا کہ ’ اس حوالے سے پہلے کارروائی نہ کرنے پر وہ معذرت خواہ ہیں،’ تاہم انہوں نے اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔’انہوں نے کہا’ 2019 میں جب ایک نیا کیس پولیس کے پاس آیا تو میں نے پہلی فرصت میں ڈیوڈ ٹیوڈر کو عہدے سے معطل کر دیا۔’جب تک ان کے خلاف نئی شکایات درج نہ کی جاتیں، ڈیوڈ ٹیوڈر کو عہدے سے ہٹانا قانونی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

  • جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمنی کے چانسلر اولف شولز ہفتوں سے جاری بحران کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہے جس کے بعد یورپ کی سب سے بڑی معیشت والے ملک میں 23 فروری کو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں پہلے سے ہی متوقع ناکامی نے صدر فرینک والٹر اسٹین میئر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے اور انتخابات کا باضابطہ حکم دینے کی اجازت دی۔66 سالہ اولف شولز سابق چانسلر انجیلا مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے قدامت پسند اپوزیشن لیڈر فریڈرک مرز سے انتخابات میں بہت پیچھے رہے تھے۔اہم ووٹنگ شعلہ بیان تقاریر کے بعد ہوئی جس میں سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی جس سے آئندہ انتخابات کی مہم میں ہونے والی گرما گرمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تین سال سے زائد عرصے تک اولف شولز کی سربراہی میں بننے والا 3 جماعتی حکمران اتحاد 6 نومبر کو ٹوٹ گیا جس دن ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس کا انتخاب جیتا۔سیاسی ہنگامہ آرائی نے جرمنی کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ وہ توانائی کی بھاری قیمتوں اور چین سے سخت مسابقت کی وجہ سے لڑکھڑاتی معیشت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔برلن کو بڑے جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے جب کہ یہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کا مخالف ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے نیٹو اور مستقبل کے تجارتی تعلقات کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔یہ معاملات ایوان زیریں میں ووٹنگ سے قبل اولف شولز، اپوزیشن لیڈر مرز اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے درمیان گرما گرم بحث کا مرکز تھے، ایوان میں 394 اراکین پارلیمان نے 207 کے مقابلے میں شولز کے خلاف ووٹ دیا جب کہ 116 ارکان غیر حاضر رہے۔

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    سربراہ حیات تحریرالشام احمد الشارع نے شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق احمد الشارع نے اعلان کیا ہے کہ شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کر دیا جائے گا اور صرف نئی شامی ریاستی فوج کو ہتھیار لے جانے کی اجازت ہو گی۔اسرائیلی حملوں پر ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو مداخلت کرنے اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ شام جلد ہی کسی بھی وقت اسرائیل کے ساتھ کسی تنازع میں جانے کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے۔اسرائیلی شام پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ 8 دسمبر کو الاسد حکومت کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔شدید فضائی حملے کر کے اسرائیل ملک کی فوجی صلاحیتوں کو کم کر رہا ہے لیکن خاص طور پر، وہ ملک کے فضائی دفاع اور فضائیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ نئی شامی انتظامیہ اسرائیلی حملوں اور جارحیت کے لیے انتہائی کمزور ہو جائے۔اسرائیل کے جاری فضائی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جو 1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان طے پایا تھا۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

  • روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے 2025 سے بھارتیوں کو بغیر ویزا انٹری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اگست 2023 سے روس کے لیے ای-ویزا کے بھی اہل ہیں، جس کے اجرا میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ روس اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے روس نے بھارتی شہریوں کو ویزے کے بغیر انٹری دینے کی اجازت دے دی ہے۔جون 2023 میں دونوں ممالک نے ویزا پابندیوں میں کمی کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم اب روس کے نئے ویزا قوانین نافذ ہونے کے بعد بھارتی شہری بغیر ویزا روس کا سفر کر سکیں گے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں روس نے بھارتیوں کو 9,500 ای-ویزا جاری کیے، اس برس 60 ہزار سے زیادہ بھارتیوں نے ماسکو کا سفر کیا، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فی صد زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اس وقت روس ویزا فری انٹری کی سہولت صرف چین اور ایران کے مسافروں کو دیتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ بھی اس سہولت پر غور کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ 2025 سے اس کا آغاز ہو جائے گا۔ روس کے ساتھ بھارت کے ان قریبی روابط پر امریکا ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

    تنگوانی: دو افراد دن دہاڑے اغوا، پولیس خاموش تماشائی

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی