Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    پاکستانی وزرا کی تنخواہوں میں بے پناہ اضافہ،امریکا کا ردعمل

    واشنگٹن: پاکستان میں صوبائی وزرا اور مشیروں کی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافے پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا ردعمل سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ میں ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان میں وزرا کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ ہوا ہےابھی ایک ماہ قبل ہی میں نے واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی وزیر خزانہ سے پوچھا تھا کہ ایک ایسے ملک میں یہ اضافہ بالکل ناقابل قبول ہے جہاں اتنی غربت ہو اور پھر آپ یہاں فنڈز یا قرضے مانگنے آتے ہیں۔

    جس پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے مبہم انداز میں کہا کہ مجھے پتا ہے کہ یہ سوال کہیں نہ کہیں ہے مجھے امید ہے کہ ہم جلدی اس تک پہنچیں گے،صحافی نے کہا کہ مجھے بھی امید ہے لیکن اس بارے میں آپ کا کیا تبصرہ ہے۔

    امریکی ترجمان میتھیو ملر نے سوال کیا کہ کس پر؟ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر؟صحافی نے اپنے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اس مشکل وقت پاکستان کی مدد کی لیکن وہاں کے حکمرانوں نے اپنی تنخواہوں میں 900 فیصد اضافہ کرلیا۔

    امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیوملر نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تنخواہوں میں اضافے کا سوال پاکستان کے عوام اور وہاں حکومت کا اپنا معاملہ ہے نہ کہ امریکا کا مسئلہ ہے، اس لیے سوال بھی پاکستانی حکومت سے ہونا چاہیے، امریکا سے نہیں، ہم دنیا بھر میں کسی بھی ملک کے حکومتی ملازمین کی تنخواہوں پر اپنی رائے نہیں دیتے اور ہماری یہ پالیسی پاکستان کے لیے بھی ہوگی۔

    واضح رہے کہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے بعد صوبے کے اراکین اسمبلی، وزرا اور اسمبلی عہدیداران کی تنخواہوں میں 5 سے 10 گنا اضافہ کر دیا گیا ہےپنجاب اسمبلی سے پیر کے روز عوامی نمائندگان کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے بل کی منظوری کے بعد رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھ کر چار لاکھ روپے ہو گئی ہے۔

    سب سے زیادہ اضافہ وزرا اور دیگر عہدیداران کی تنخواہوں میں کیا گیا ہے اس سے قبل پنجاب کے صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے تھی جو بل کی منظوری کے بعد نو لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے وزرا کی تنخواہ میں لگ بھگ 10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اسی طرح پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں بھی لگ بھگ8سے10 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے کر دی گئی ہے اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے بڑھا کر سات لاکھ 75 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

    پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ جو پہلے 83 ہزار روپے ماہانہ تھی اب چار لاکھ 51 ہزار روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے مشیروں کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

    نظر ثانی بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کے سپشل اسسٹنٹ کی تنخواہ بھی ایک لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر چھ لاکھ 65 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

    تنخواہوں پر نظر ثانی کے اس بل کی منظوری پر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کی اکثریتی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

  • ٹام کروز کو امریکی بحریہ  نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا

    ٹام کروز کو امریکی بحریہ نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا

    نیویارک: معروف امریکی اداکار ٹام کروز کو امریکی بحریہ کی جانب سے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہالی ووڈ اداکار ٹام کروز کو منگل کے روز ڈپارٹمنٹ آف نیوی ڈسٹنگویشڈ پبلک سروس (ڈی پی ایس) ایوارڈ سے نوازا گیا، جس میں ٹاپ گن اداکار کی امریکی بحریہ کے لیے ان کے مشہور فلمی کرداروں کے ذریعے لازوال خدمات کو سراہا گیا۔

    بحریہ کے سیکرٹری کارلوس ڈیل ٹورو نے ٹام کروز ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹام کروز کو کئی فلموں کے ذریعے کئی دہائیوں تک بحریہ کی وکالت کے لیے ڈیفنس پبلک سروس ایوارڈ سے نوازنا اعزاز کی بات ہے اداکار کے کام نے نئی نسل کو ہماری بحریہ اور میرین کور میں خدمات انجام دینے کی ترغیب دی ہے‘۔

    ٹام کروز اعلیٰ ایوارڈ وصول کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے، انہوں نے تقریب کے دوران ایک جذباتی تقریر کی، انہوں نے کہا کہ میں زندگی میں ایک بات جانتا ہوں، جو میرے لیے بہت سچی ہے کہ قیادت کرنا خدمت کرنا ہے اور میں اسے اپنے دل سے جانتا ہوں-

    ٹام کروز نے سول ایوارڈ سے نوازے جانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اپنے اردگرد موجود خدمت گزاروں اور خواتین کریو کی بھی تعریف کی ان کی قربانیوں اور لگن کو اجاگر کیاکہا کہ آپ سب کے درمیان ہونا اعزاز کی بات ہے-

  • پشپا 2  پریمیئر میں بھگدڑ سے زخمی بچہ دماغی طور پر مردہ قرار

    پشپا 2 پریمیئر میں بھگدڑ سے زخمی بچہ دماغی طور پر مردہ قرار

    پشپا 2 کے پریمیئر میں بھگدڑ سے زخمی بچے کو دماغی طور پر مردہ قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق حیدرآباد کے پولیس کمشنر نے زخمی ہونے والے 9 سالہ لڑکے کی حالت کے بارے میں ایک اپڈیٹ فراہم کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اسے دماغی طور پر مردہ قرار دیا گیا ہے،سندھیا تھیٹر میں بھگدڑ میں پھنسنے کی وجہ سے 9 سالہ سریتیج کو آکسیجن نہ مل سکی جس کی وجہ سے اس کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    تلنگانہ کے ہیلتھ سیکریٹری نے بتایا تھا کہ لڑکے کی حالت پر گہری نظر رکھی جارہی ہے اور اب بھی اس کے صحت یاب ہونے کی امید ہےتاہم سریتیج کی صحت کے بارے میں تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق اب اسے دماغی مردہ قرار دیا گیا ہے اور بچہ وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہے۔

    اسپتال کے میڈیکل بلیٹن کے مطابق سریتیج اب بھی بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیر علاج ہےاس کی دماغی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے براہِ راست پھیپھڑوں میں ٹیوب کے ذریعے آکسیجن پہنچانے کے لیے ایک سرجری کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے تا کہ وینٹیلیٹر پر اس کا انحصار بتدریج کم کیا جاسکے۔

    واضح رہے کہ 4 دسمبر کو ”پشپا2“ کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں بھگدڑ کے دوران سریتیج کی ماں، ریوتی، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں جس کا مقدمہ ٹالی وڈ اداکار الو ارجن اور دیگر 2افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا بعدازاں پشپا 2 کے مرکزی اداکارکو اس واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن انہیں ہفتہ کی صبح رہا کر دیا گیا تھا،اداکار کو 50,000 روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت مل گئی تھی، اداکار نے متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے کی مالی اعانت فراہم کرنے اور بچے کے علاج کے پورے اخرا جات برداشت کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

  • روہت شرما  کپتانی سے دستبرادر ہورہے ہیں؟ سنیل گواسکر کی پیشگوئی

    روہت شرما کپتانی سے دستبرادر ہورہے ہیں؟ سنیل گواسکر کی پیشگوئی

    نئی دہلی: سابق بھارتی کرکٹر و کمنٹیٹر سنیل گواسکر نے بھی روہت شرما کی کپتانی چھوڑنے کی پیشگوئی کی تھی-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سابق کرکٹر و کمنٹیٹر سنیل گواسکر نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ ٹیسٹ میچز میں کارکردگی نا دکھانے کی صورت میں روہت شرما کی جانب سے کپتانی چھوڑی جاسکتی ہے،روہت شرما اگر میلبرن اور سڈنی میں فلاپ ہوئے تو وہ خود دستبردار ہو جائیں گے اور سلیکٹرز کے فیصلے کا انتظار نہیں کریں گے۔

    سابق بھارتی کپتان نے کہا کہ روہت بارڈر گواسکر ٹرافی کے آخری دونوں میچز میں حصہ لیں گے لیکن اگر وہ رنز بنانے سے قاصر رہے تو ٹیم کی قیادت الگ ہوجائیں گے، ایشون نے بھی ٹیم پر بوجھ بننا گوارا نہیں کیا انہیں لگتا تھا کہ وہ اب پلئینگ الیون میں شامل نہیں ہوسکتے تو ریٹائرمنٹ لے لی، اسی طرح روہت بھی بوجھ بننا گوارا نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز کپتان روہت شرما نے ڈگ آؤٹ کے نزدیک اپنے گلوز پھینک دیے تھے، جس پر ریٹائرمنٹ کی باز گشت سنائی دینے لگی،آج روہت شرما پہلی اننگز میں محض 10 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے تھے جبکہ وہ اس سیریز کے دوران اب تک بڑا اسکور نہیں بنا سکے ہیں، روہت شرما نے آخری 13 ٹیسٹ اننگز میں 11.83 کی اوسط سے صرف 152 رنز بنائے ہیں،روہت شرما کی ٹیسٹ کرکٹ میں حالیہ خراب کارکردگی کے باعث ان پر سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر تنقید کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان 5 ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر ہے-

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔

  • حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی،ایرانی سپریم لیڈر

    حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی،ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید روح اللہ خامنہ ای نے شام میں حالیہ اقدامات کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت کو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ شام میں ہونے والے اقدامات کے بعد مزاحمت ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کا سوچنے والی اسرائیلی حکومت خود مٹ جائے گی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل کی جانب سے شام میں جارحیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے مزاحمت کی حمایت کی جائے گی۔

    ایران کے سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل کی فوج جنوبی شام میں اپنی پیش قدمی کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے حملے شدت اختیار کر چکے ہیں۔ ایران نے بار بار اس بات کی تاکید کی ہے کہ شام میں اسرائیلی فوج کی مداخلت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

    دریں اثنا، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان نے ایک اہم ملاقات کی جس میں شام کی تعمیر نو اور مہاجرین کی واپسی کے لیے مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ ترک صدر اور یورپی کمیشن کی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریق شام میں استحکام لانے کے لیے مل کر کام کریں گے اور یہ کہ شام کی تعمیر نو میں یورپی یونین کا کردار اہم ہو گا۔اس ملاقات میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ترکی اور یورپ مشترکہ طور پر شام کے تعمیراتی منصوبوں میں حصہ لیں گے تاکہ نہ صرف وہاں کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے بلکہ لاکھوں شامی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کے عمل کو بھی تیز کیا جا سکے۔

    اسی دوران، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہوا جس میں شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے نے شام پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شام میں جاری جنگ کی وجہ سے وہاں کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر عائد اقتصادی پابندیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ ان پابندیوں کو ختم کرکے شام کی تعمیر نو کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کی فوج جنوبی شام میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دریائے یرموک کے علاقے پر مکمل قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیل کی فوج نے اس علاقے میں موجود حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل کی فضائیہ نے مقبوضہ گولان کے علاقے قلمون میں بمباری کی ہے۔مقبوضہ گولان میں بمباری کا یہ واقعہ اسرائیل کی جانب سے اپنی جنگی حکمت عملی کو مزید تیز کرنے کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس سے خطے میں ایک نیا تنازعہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

    مجموعی طور پر شام کی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور کشیدہ ہے۔ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے مزاحمت کے عزم کا اظہار، اسرائیل کی فوج کی جارحانہ کارروائیاں اور ترکی و یورپی یونین کا شام کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ اقدام، اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا جیو پولیٹیکل توازن بن رہا ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کی طرف سے شام پر پابندیوں کے خاتمے کی درخواست اور اسرائیل کی جارحیت خطے میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

  • بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    بشارالاسد حکومت گرانے کےپیچھے ترکی کا ہاتھ ہے، ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے پیچھے ترکیہ کا ہاتھ ہے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شام کے مستقبل کی کنجی اب انقرہ کے پاس ہے.ترکیہ شام کو چاہتا تھا اور اردوان کی ذہانت نے اسے کامیاب بھی کردیا، ترکیہ نے جانی نقصان کے بغیر شام کو فتح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے والوں کا کنٹرول ترکیہ کے پاس ہے اور یہ ٹھیک ہے. نومنتخب امریکی صدرٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکیہ کی تعریف کی، ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ بڑی فوجی قوت ہے لیکن شام میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، ترکیہ شام کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرے گا۔ واضح رہے کہ شام میں شار الاسد کا طویل اقتدار گزشتہ ہفتے اختتام پذیرہو گیا تھا جب سابق شامی صدر استعفی دینے کے بعد ملک سے فرار ہوکر روس میں چلے گئے.

    ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ہوگی، ترامیم منظور

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

  • اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    اسرائیل کو امداد دینے پر امریکی حکومت پر مقدمہ

    فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج کو امداد دینےپر اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس مقدمے کا باضابطہ اعلان منگل کو کیا گیا جس میں محکمہ خارجہ پر ایک وفاقی قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔وفاقی قانون کے تحت ماورائے عدالت قتل اور تشدد جیسی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف غیرملکی فوجی یونٹوں کو رقوم کی منتقلی پر پابندی عائد ہے۔غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور امریکا میں پانچ فلسطینیوں نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر اسرائیلی فوج کی امریکی امداد کو روکنے کے لیے امریکی حکومت پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ کی لیہی قانون کو لاگو کرنے میں ناکامی خاص طور پر غزہ جنگ کے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے غیر معمولی اضافے کے پیش نظر حیران کن ہے۔غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں میں اکتوبر 2023 کے اوائل سے اب تک 45,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اقوام متحدہ اور دنیا کے معروف حقوق گروپوں نے اسرائیلی فوج پر نسل کشی سمیت جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔اس مقدمے کی مرکزی مدعی، غزہ کی ایک ٹیچر ہے جس کا نام امل غزہ ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد سے سات بار جبری طور پر بے گھر ہو چکی ہے اور اس کے خاندان کے 20 افراد اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے مقدمے کے ساتھ ایک بیان میں کہا کہ میرے مصائب اور میرے خاندان کو جو ناقابل تصور نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس میں نمایاں کمی آئے گی اگر امریکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کرنے والے اسرائیلی یونٹوں کو فوجی امداد فراہم کرنا بند کر دیتا ہے۔

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ 2024 میں شرکت

  • دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    بھارت کی ریاست تلنگانہ میں دولہا خودکشی کی کوشش کرنے والی اپنی نئی نویلی دلہن کو جنگل میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والا وکرم ملازمت کے سلسلے میں بنگلورو میں قیام پذیر تھا جہاں اس کی ملاقات رابعہ نامی لڑکی سے ہوئی۔وکرم اور رابعہ کو پہلی ملاقات میں ایک دوسرے سے پیار ہوگیا تھا اور انہوں نے 4 دسمبر کو شادی کی، لیکن بہت جلد دونوں کے درمیان جھگڑے ہونے لگے۔جوڑا بنگلورو چھوڑ کر حیدر آباد منتقل ہوگیا لیکن ان کے درمیان جھگڑے ہوتے رہے۔ایک دن رابعہ نے دلبرداشتہ ہو کر زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں کھا لیں جس سے ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ وکرم نے اسے اسپتال منتقل کرنے کے بجائے ملوگومنڈل کے ون ٹی مامڑی جنگل میں چھوڑ کر فرار کہیں فرار ہوگیا۔جنگل کے اطراف رہائش پذیر افراد نے معاملے علم میں آنے پر پولیس اطلاع دی اور رابعہ کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے نئی نویلی دلہن کے اہل خانہ سے رابطہ کر کے ان کو اطلاع دی۔پولیس دولہا کا سراغ لگانے کیلیے چھاپے مار رہی ہے.

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

  • جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر  دے گا

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    جاپان نے خیبرپختونخوا میں زچہ بچہ کی صحت اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ایک علیحدہ گرانٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق معاہدے پر جاپان کے قائم مقام سفارت کار تاکانو شوئچی اور وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پر جائیکا پاکستان کے چیف نمائندے ناؤاکی میاتا اور جوائنٹ سیکرٹری محمد یحییٰ اخونزادہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔یو این ایف پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 50 منٹ میں ایک عورت حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے، دیہاتی خواتین کو صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی کا سامنا ہے اور بچوں کی پیدائش کے حوالے طبی سہولیات بہت اور اس سمت میں پیش رفت بہت سست ہے، موجودہ رفتار سے پاکستان کو پیدائش کے دوران ہونے والیاموات کے خاتمے میں 122 سال لگیں گے اور اور خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات کو پورا کرنے میں 93 سال لگ سکتے ہیں۔
    واضح رہے کہ 2022 میں پاکستان میں اس کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس میں ایک ہزار 700 افراد جاں بحق ہوئے، 33 کروڑ افراد متاثر ہوئے، مویشی ہلاک، زرعی زمین زیر آب آگئی اور سرکاری تخمینوں کے مطابق 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔اس تمام صورتحال میں جاپان خیبرپختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں اور ہزارہ ڈویژن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے پاکستان کومجموعی طور پر 2 کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرے گیا، یہ امداد ان دو منصوبوں کے لیے فراہم کی جائے گی اور اس سلسلے میں پاکستان اور جاپان کے درمیان معاہدے طے پاگئے۔اس امداد میں زچہ و بچہ کی صحت کے لیے 99 لاکھ 10 ہزار ڈالر اور دریائے سندھ میں سیلاب مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے ایک کروڑ 86 لاکھ 70 ہزار ڈالر شامل ہیں۔زچہ و بچہ صحت کے منصوبے کے تحت ہزارہ ڈویژن کے 21 مراکز صحت میں جدید طبی آلات نصب کیے جائیں گے تاکہ زچگی اور بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔اس منصوبے کا مقصد 2029 تک ادارہ جاتی ڈلیوریز، سی سیکشنز اور الٹراساؤنڈ معائنے کی تعداد میں اضافہ کرکے زچہ و بچہ کی شرح اموات میں کمی لانا ہے، یہ اقدام معیاری طبی خدمات کی فراہمی اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس کے تحت سیلاب مینجمنٹ منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 45 ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک نیٹ ورک نصب کیے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں دریا کے حفاظتی ڈھانچوں کی بحالی کی جائے گی۔اس منصوبے کا مقصد سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا اور بنیادی ڈیٹا کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے تاکہ مستقبل میں دریا مینجمنٹ کو مؤثر بنایا جا سکے، اس منصوبے میں ’بیلڈ بیک بیٹر‘ کا تصور اپنایا گیا ہے تاکہ سیلابی خطرات سے بچاؤ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ