Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    کابل میں دھماکہ،افغان وزیر خلیل الرحمان حقانی جاں بحق

    افغان دارالحکومت کابل میں وزارت مہاجرین کی عمارت میں ایک زوردار دھماکے کے نتیجے میں افغان وزیر برائے مہاجرین اور حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنما خلیل الرحمان حقانی جاں بحق ہوگئے ہیں۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان عبد المتین قانع نے دھماکے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ اس دھماکے میں خلیل الرحمان حقانی سمیت کئی افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ کابل کے علاقے میں وزارت مہاجرین کی عمارت کے اندر ہوا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور اس کے پیچھے موجود عوامل کے بارے میں تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیں۔

    خلیل الرحمان حقانی، جو حقانی نیٹ ورک کے ایک اہم رہنما تھے، افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد 2021 میں وزیر برائے مہاجرین بنے تھے۔ وہ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے چچا اور حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کے بھائی تھے۔ جلال الدین حقانی کے بیٹے انس حقانی نے بھی اپنے چچا خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔دھماکے کے بعد افغان حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کے پیچھے کون سا گروہ یا فرد ملوث ہے۔ افغان طالبان کے حکومتی ادارے اور سیکیورٹی فورسز اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور مزید تفصیلات کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

    خیال رہے کہ خلیل الرحمان حقانی افغان طالبان کے ایک اہم رہنما تھے اور ان کا شمار حقانی نیٹ ورک کے سرکردہ ارکان میں ہوتا تھا۔ ان کی ہلاکت افغان طالبان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے، کیونکہ وہ نہ صرف حکومت میں اہم وزیر تھے بلکہ ان کا تعلق حقانی نیٹ ورک کی قیادت سے بھی تھا، جو افغانستان میں طویل عرصے سے سرگرم رہا ہے۔یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال حساس ہے اور عالمی برادری کی طرف سے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس دھماکے کے اثرات افغان حکومت اور طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    آزاد شام کا جشن مہنگاپڑ گیا،جرمنی سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا مطالبہ

    جرمنی میں شامی پناہ گزینوں کی خوشیاں اس وقت زائل ہو گئیں جب اتوار کو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے گرنے پر شامی پناہ گزینوں کے جشن کے بعد جرمن سیاستدانوں نے انہیں واپس اپنے وطن بھیجنے کا مطالبہ شروع کر دیا۔

    اتوار کے دن، جب جرمنی کے مختلف شہروں میں شامی پناہ گزین جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکلے، تو جرمنی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کی رہنما ایلس ویڈل نے اعلان کیا کہ جو لوگ "آزاد شام” کا جشن مناتے ہیں، انہیں اب یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا، "ایسے افراد کو فوراً شام واپس جانا چاہیے۔”

    دوسری جانب، جرمن وزیر اور قدامت پسند سیاستدان ینس اسپان نے کہا کہ جو شامی واپس جانا چاہتے ہیں، انہیں جرمنی خصوصی پرواز فراہم کرے گا اور 1,000 یوروز (تقریباً 824 برطانوی پاؤنڈ) کا ابتدائی فنڈ بھی دیا جائے گا۔یہ خیالات صرف دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے نہیں بلکہ بائیں بازو کی سیاستدانوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی تعداد اور ان کے جرمنی میں قیام کی قانونی حیثیت
    2015 میں، جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے شامی جنگ سے متاثر افراد کے لیے جرمنی کے دروازے کھول دیے تھے، جس کی وجہ سے ملک میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ مرکل کے اس فیصلے کو اس وقت سراہا گیا تھا، لیکن آج یہ پناہ گزینوں کے مستقبل کے حوالے سے تنازعے کا باعث بن چکا ہے۔ جرمنی میں اس وقت تقریباً 975,000 شامی پناہ گزین موجود ہیں، جو یورپ میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اتوار کو شام میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام پسند گروپ "حیات تحریر الشام” نے دمشق پر قبضہ کر لیا، اور اس کے اگلے ہی دن شامی صدر بشار الاسد روس کی جانب فرار ہو گئے۔ اس تبدیلی کے بعد جرمنی اور دیگر یورپی ممالک نے شامی پناہ گزینوں کی پناہ گزینی کی درخواستوں پر فیصلہ روک دیا، اور اس صورتحال کے واضح ہونے تک ان کی درخواستوں پر مزید فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔جرمنی کے وزیر داخلہ نینسی فیزر نے کہا کہ یہ فیصلہ صحیح ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اتار چڑھاؤ کی حالت میں شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے بارے میں قیاس آرائی کرنا "غیر سنجیدہ” ہوگا۔

    شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجویزوں نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ انیس مدامانی، جو 2015 میں جرمنی آئے تھے اور اب برلن میں مقیم ہیں، نے کہا، "میں اس خیال کو انتہائی برا سمجھتا ہوں۔ شام میں ابھی بھی حالات اتنے خطرناک ہیں جتنے پہلے تھے۔ برلن اب میرا دوسرا گھر بن چکا ہے، اور میں یہاں رہنا چاہوں گا۔”شامی پناہ گزینوں کی واپسی یا ان کے قیام کا معاملہ اب جرمنی میں ایک سنگین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ اس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آ رہا ہے، اور ملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ مسئلہ ایک بڑا انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔

    شامی پناہ گزینوں کی جرمنی میں موجودگی اور ان کے مستقبل کے بارے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے متضاد بیانات آ رہے ہیں۔ جرمنی کے کئی سیاستدان، خواہ وہ دائیں بازو سے ہوں یا بائیں بازو سے، یہ سمجھتے ہیں کہ اب شام میں حالات بدل چکے ہیں، اور شامی پناہ گزینوں کا جرمنی میں قیام غیر قانونی ہے۔ لیکن شامی پناہ گزینوں کے لیے ان تجاویز کو قبول کرنا آسان نہیں ہے، اور یہ معاملہ مستقبل میں مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

    شام،بدنام زمانہ جیل میں شہریوں کی اپنے پیاروں کی تلاش جاری

    بشارالاسد کی بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانہ سے مزید قیدیوں کی تلاش

    تصاویر:بشارالاسد کے محل میں توڑ پھوڑ،سیلفیاں

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    ماسکو میں شام کے سفارتخانے پر باغیوں کا پرچم لہرایا گیا

    شام کی جیلوں سے آزاد ہونے والے قیدیوں کی خوفناک داستانیں

    بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق میں جشن

    اللہ اکبر، آخرکار آزادی آ گئی ہے،شامی شہری پرجوش

    روس کا شام میں فوجی اڈوں اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت کا دعویٰ

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

  • شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر،رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ واقعات کا اصل منصوبہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ کمانڈ روم میں تیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ شام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے پیچھے ان دونوں ممالک کا ہاتھ ہے۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے عوام کے مختلف طبقات کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ "شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پیچھے امریکی اور صیہونی حکومتوں کی سازش ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ شام کی ایک پڑوسی حکومت نے اس میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور ابھی بھی ادا کر رہی ہے، لیکن اصل سازش کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ہی عائد ہوتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مزاحمتی فرنٹ میں طاقت کا اضافہ ہوتا جائے گا، چاہے دشمن جتنی بھی کوششیں کرے۔ "مزاحمت اتنی ہی مضبوط ہوگی جتنی زیادہ کوششیں کی جائیں گی”، انہوں نے اس بات پر بھی تاکید کی کہ ایران اللہ کی مدد سے مزید طاقتور ہو گا اور اس کے تمام مقاصد کامیاب ہوں گے۔ "امریکہ کا مقصد شام میں کچھ شمالی یا جنوبی علاقوں پر قبضہ کرنا ہے، لیکن وقت ثابت کرے گا کہ ان کا کوئی بھی مقصد کامیاب نہیں ہوگا”،

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خامنہ ای کا کہنا تھا کہ یقینا یہ جو حملہ آور ہیں ان کے بارے میں میں نے کہا ہے کہ ہر ایک کا اپنا الگ مقصد ہے۔ ان کے مقاصد ایک دوسرے سے الگ ہیں کچھ شمالی یا جنوبی شام سے کچھ علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہں، امریکہ علاقے میں اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، ان کے مقاصد یہ ہیں لیکن وقت یہ ثابت کرے گا کہ ان لوگوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوگا، شام کے مقبوضہ علاقے، شام کے غیرت مند نوجوانوں کے ہاتھوں آزاد ہوں گے ، اس میں شک نہ کریں، یہ ضرور ہوگا امریکہ کے قدم بھی مضبوط نہیں ہوں گے، اللہ کی مدد سے امریکہ کو بھی مزاحمتی فرنٹ کے ذریعے علاقے سے نکال باہر کیا جائے گا۔ امیر المومنین نے فرمایا ہے کہ جو قوم اپنے گھر کے دروازے پر دشمن سے ٹکراتی ہے وہ ذلیل ہو جاتی ہے اس لئے دشمن کو گھر تک نہ پہنچنے دو، اس لئے ہمارے فوجی گئے، ہمارے بڑے بڑے جنرل گئے، ہمارے پیارے شہید سلیمانی اور ان کے ساتھی و دوست گئے۔ ان لوگوں نے نوجوانوں کو عراق میں بھی اور شام میں منظم کیا۔ پہلے عراق میں اور پھر شام میں انہیں منظم کیا، انہیں مسلح کیا ، ان کے نوجوانوں کو، وہ داعش کے سامنے ڈٹ گئے، انہوں نے داعش کی کمر توڑ دی اور اس کے سامنے فاتح رہے، شام و عراق میں ہماری فوجی موجودگی، فوجی مشیروں کی سطح پر رہا ہے اورلیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی فوج وہاں لے جائیں جو ان ملکوں کی فوجوں کا رول ادا کرے،ہمارے فوجی جو کر سکتےہیں، انہوں نے وہ کیا ، ان کا کام مشورے کا تھا، مشورے کا کیا مطلب ؟ مشورہ یعنی سنٹرل و اہم ہیڈکوارٹر بنانا، حکمت عملی تیار کرنا اور ضرورت پڑنے پر میدان جنگ میں جانا، لیکن سب سے اہم کام، وہاں کے نوجوانوں کو منظم کرنا تھا البتہ ہمارے نوجوان بھی، ہمارے رضاکار بھی بڑی بے تابی اور شوق و اصرار کے ساتھ وہاں گئے،مسلح افواج کے اعلی حکام ، مسلح اداروں کے سربراہوں نے مجھے خط لکھا کہ لبنان کے معاملے میں، حزب اللہ کے معاملے میں ہم سے اب برداشت نہیں ہوتا ہمیں جانے کی اجازت دیں۔ آپ لوگ اس جذبے کا اس فوج کے جذبے سے موازنہ کریں جس میں برداشت کی طاقت نہیں اور وہ بھاگ جاتی ہے۔ مزاحمت ہی نہیں کی۔ جب مزاحمت نہیں ہوگی تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا،ہم ان سخت حالات میں بھی تیار تھے ، یہاں میرے پاس حکام آتے تھے اور کہتے تھے کہ شامیوں کے لئے سب کچھ تیار ہے ، ہم نے تیار کر لیا ہے اور ہم جانے کے لئے تیار ہیں لیکن فضائی راستے بند تھے، زمینی راستہ بند تھے، صیہونی حکومت اور امریکہ نے شام کی فضائی حدود بھی بند کر رکھی تھی اور زمینی راستے بھی، ممکن نہیں تھا ۔ یہ ہے معاملہ ،جذبہ، اگر اس ملک کے اندر جذبہ ہوتا اور ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ ہوتا تو دشمن ان کی فضائی حدود نہیں بند کر پاتا ، ان کے زمینی راستے نہیں بند کرپاتا ۔ تو اس صورت میں ان کی مدد کی جا سکتی تھی،شام میں شہید سلیمانی نے کئی ہزار مقامی نوجوانوں کو ٹریننگ دی تھی، انہیں مسلح کیا تھا، انہیں منظم کیا تھا ، انہیں تیار کیا تھا اور وہ ڈٹے رہے ، لیکن بعد میں افسوس کی بات ہے کہ خود اسی ملک کے اعلی فوجی حکام نے اعتراض شروع کر دیا، مسائل پیدا کئے، جو چیز ان کے فائدے میں تھی اسے نظر انداز کر دیا، افسوس کی بات ہے۔ اس کے بعد داعش کا فتنہ ختم ہونے کے بعد کچھ فوجی واپس ہو گئے اور کچھ وہیں رہ گئے ،جب مزاحمت اور ڈٹ جانے کا جذبہ کم ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے ۔ آج شام جن مسائل میں گرفتار ہو رہا ہے جس کے بارے میں خدا ہی جانتا ہے کہ کب تک جاری رہے گا اور کب شام کے نوجوان میدان میں آکر اس کا سلسلہ روکيں گے، وہ سب اس کمزوری کی وجہ سے ہے جو وہاں دکھائی گئی ہے۔اس معاملے کا ایک سبق، دشمن سے غفلت ہے ، ہاں اس واقعہ میں دشمن نے بہت تیزی سے کام کیا لیکن انہيں واقعہ سے قبل ہی سمجھ جانا تھا کہ دشمن یہی کرے گا اور تیزی سے اپنا کام کرے گا۔ہم نے ان کی مدد کی تھی۔ ہماری خفیہ ایجنسیاں کئی مہینوں سے شام کے حکام کو خبردار کر رہی تھیں، اب مجھے یہ نہيں پتہ کہ یہ سب کچھ اعلی حکام تک پہنچ رہا تھا یا نہيں بس وہی بیچ میں ہی کہیں گم ہو جا رہا تھا لیکن ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انہيں بتایا تھا، ستمبر، اکتوبر، نومبر سے ایک کے بعد ایک رپورٹ بھیجی جا رہی تھی،دشمن سے غافل نہيں ہونا چاہیے ، دشمن کو کمزور نہيں سمجھنا چاہیے۔

    دوسری جانب پاکستان نے شام میں اسرائیلی جارحیت اور اس کے غیر قانونی طریقے سے جنوبی حصے پر قبضے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیل کی کارروائیاں شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہیں، اور یہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں”۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف ایک غیر مستحکم خطے میں مزید کشیدگی بڑھا رہے ہیں، بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور عالمی قوانین کی اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے حوالے سے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے، جو گولان ہائٹس پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیتی ہے۔

    امریکہ کا شام میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ نئی حکومت بین الاقوامی معیار پر پورا اترے۔ بلنکن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی عمل کی حمایت کرے جس میں تمام فریقین کی شمولیت ہو۔

    امریکی فوج کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز "ہیری ایس ٹرومین” اس ہفتے کے آخر میں مشرق وسطیٰ پہنچے گا۔ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شامی اپوزیشن کی کامیاب کارروائیاں، غزہ میں اسرائیل کا جاری تنازعہ، اور اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جنگ شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے باوجود ایران کمزور نہیں ہوگا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا کہ "ہم کمزور نہیں ہوں گے، اور کچھ بھی ہمارے ملک کی طاقت کو کم نہیں کرے گا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی افواج اب شام میں موجود نہیں ہیں۔

    اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے شام کے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ جو بھی بشار الاسد کے راستے پر چلے گا، اسے بھی اسی انجام کا سامنا کرنا پڑے گا جو اسد کو ہوا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنے فوجی آپریشنز کو مزید تیز کرتے ہوئے اسد مخالف گروپوں پر 300 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔

    قطر کے سفارت کاروں نے حالیہ دنوں میں شامی اپوزیشن گروپ "ہیتہ التحریر الشام” کے ساتھ رابطہ کیا ہے۔ یہ رابطے اس وقت ہو رہے ہیں جب علاقے کی ریاستیں اس گروپ کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قطری حکومت نے شامی تنازعے میں اپوزیشن کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

    شام میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بڑے شہروں میں خوراک کی قلت ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے،اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے کے مطابق اسد حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق، دیرالزور،حماہ اور بڑے شہروں میں خوراک کی قلت ہے،ادلب اور حلب میں 27 نومبر سے 9 دسمبرکےدرمیان روٹی کی قیمت میں900 فیصد جب کہ مرغی کی قیمت میں 119فیصداضافہ ہوا، قنیطرہ، منبج اور دیر الزور میں خوراک کی تقسیم اور بنیادی ضرورت کی اشیاء تک رسائی شدید متاثر ہے، تبقا میں کم از کم 6 ہزار خاندانوں کو فوری خوراک کی ضرورت ہے،رپورٹ کے مطابق شرح مبادلہ میں انتہائی اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں معاشی عدم استحکام بھی دیکھنے کو ملا جس کےنتیجےمیں دکانیں بند ہیں اور تاجر اجناس ذخیرہ کررہے ہیں۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    بھارتی اداکارہ کے 14 سالہ بیٹے کی کھیت سے لاش برآمد

    بھارت کے شہر بریلی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں معروف ٹی وی اداکارہ سپنا سنگھ کے 14 سالہ بیٹے ساگر کی لاش کھیتوں سے برآمد ہوئی۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ساگر اپنے ماموں اوم پرکاش کے ساتھ بریلی میں رہائش پذیر تھا، اور اتوار کی صبح اس کی لاش ایک قریبی گاؤں کے کھیتوں سے ملی۔ساگر آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اور اس کی موت کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ابھی تک موت کی درست وجہ کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم، اس معاملے کی تفتیش میں کچھ اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کے دوران ساگر کے دو دوستوں، انوج اور سنی، کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان دونوں نے پولیس کو اپنے بیانات میں اعتراف کیا کہ ساگر کے ساتھ وہ دونوں زیادہ مقدار میں الکوحل اور منشیات لے چکے تھے۔ ان کے مطابق، ساگر نے جب یہ مواد استعمال کیا، تو وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ دونوں دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ خوف زدہ ہو گئے اور ساگر کی بے ہوش لاش کو کھیت میں گھسیٹ کر چھوڑ دیا اور پھر وہاں سے فرار ہو گئے۔پولیس کی جانب سے اس کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کی حقیقت تک پہنچا جا سکے۔ اس دوران، سپنا سنگھ اور ان کے خاندان کی حالت زار پر سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے، اور ان کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے حکام سے فوری انصاف کی درخواست کی گئی ہے۔

    یہ واقعہ بھارت میں نوجوانوں کے درمیان منشیات کے استعمال اور اس کے سنگین نتائج کی ایک اور یاد دہانی ہے

    پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن،سروے میں خوش آئند اشارے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالت کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا، سیکرٹری داخلہ کا جواب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کے چائنامیوزیم آمد

  • تنقید نہیں جمہوری حمایت کرو، پاکستان کا امریکہ سےمطالبہ

    تنقید نہیں جمہوری حمایت کرو، پاکستان کا امریکہ سےمطالبہ

    پاکستان نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’تنقیدی‘ قراردادوں کو اپنانے کے بجائے پاکستان میں جاری جمہوری اصلاحات کی حمایت پر توجہ دے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹر عرفان صدیقی کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں وزارت خارجہ کے حکام امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد 901 پر وزارت خارجہ کے ردعمل کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ جمہوری اداروں اور انسانی حقوق کی پاسداری کرے۔جون 2024 میں منظور ہونے والی امریکی قرارداد کو وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کی ’سیاسی حرکیات‘ کو نہ سمجھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔حکام نے کہا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ جوابی قرارداد امریکی حکام کو پیش کی، جس میں بے بنیاد الزامات پر مبنی امریکی موقف کو مسترد کیا گیا تھا۔سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں حکام نے پاکستان کی جمہوری ترقی اور انسانی حقوق کی پیش رفت پر امریکی کانگریس کو زیادہ متوازن اور باخبر بحث میں شامل کرنے کے لیے وزارت خارجہ کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔اجلاس میں شریک سینیٹرز نے اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کو نشانہ بنانے کی حالیہ قانون سازی کی مذمت بھی کی۔وزارت خارجہ کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ شام میں پھنسے پاکستانیوں کے بحفاظت انخلا کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، 180 زائرین کو نکالا جاچکا ہے، جب کہ 170 کو شام سے لبنان جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے لبنان کے ہم منصب سے رابطے کے بعد لبنان کی حکومت نے پاکستانیوں کو اپنی سرحد پر ہی ویزے جاری کرنا شروع کر دیے، پاکستانیوں کو بسوں کے ذریعے بیروت لے جایا گیا ہے۔

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

  • مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    مزید 34 فلسطینی شہید، جنرل اسمبلی میں فوری جنگ بندی پر ووٹنگ آج ہوگی

    اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملوں
    میں کم از کم 34 فلسطینی شہید ہو گئے، اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں گھس کر حملہ کیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طبی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اسرائیل کی فضائی فورسز کی جانب سے ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 25 افراد شہید اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔فلسطینی سول ایمرجنسی کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، آن لائن پوسٹ کی جانے والی تصاویر (جن کی رائٹرز فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا) میں لاشوں کو شہر کی ایک اجتماعی قبر میں قطار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وسطی غزہ میں نصرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ایک اور فضائی حملے میں کم از کم 7 افراد شہید ہوئے، طبی عملے اور فلسطینی سول ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک اور شخص نے انکلیو کے جنوب میں رفح میں 2 افراد کو ہلاک کر دیا۔مقامی لوگوں کے مطابق ساحل کے قریب دیر البلاح میں اسرائیلی بحری افواج نے 6 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لے لیا، جو بحیرہ روم میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 14 ماہ سے جاری اسرائیلی فوج کی مہم میں اب تک 44 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔امریکا کے حمایت یافتہ عرب ثالثوں مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں، لیکن اسرائیلی اور فلسطینی حکام میں امید کے حالیہ اشارے بتاتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کسی معاہدے پر پہنچا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حماس کی بڑھتی ہوئی تنہائی، قیدیوں کی واپسی کے معاہدے کے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں۔

    کےالیکٹرک کے ایریا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں ، نیپرا رپورٹ

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

  • روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی طرف روس نے بڑا اقدام لیا ہے، روسی پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کے حق میں ووٹ دے دیا جس سے طالبان کو ماسکو کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی راہ ہموار ہوگی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، ڈوما نے اس سلسلے میں تین ضروری بلز میں سے پہلے بل کی منظوری دے دی۔اس وقت کوئی بھی ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جس نے اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جب امریکا کی زیر قیادت افواج نے 20 سال کی جنگ کے بعد افراتفری میں ملک سے انخلا کیا تھا۔تاہم روس بتدریج طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے جولائی میں کہا تھا کہ اب وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اتحادی ہیں۔ماسکو، افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک کے ممالک میں موجود عسکریت پسند گروپوں کو اپنے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے، جہاں روس نے رواں ہفتے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک اہم اتحادی کھو دیا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں مسلح افراد نے ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں حملے میں 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی تھی۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس معلومات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس حملے کی ذمہ دار گروپ کی افغان شاخ داعش خراسان (داعش کے) ہے۔مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گروپ کا خواتین کے حقوق کے حوالے سے قدامت پسندانہ رویہ ہے۔لڑکیوں اور خواتین کے لیے ہائی اسکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں اور مرد سرپرست کے بغیر ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی قانون کی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں روس کی اپنی پیچیدہ اور خون آلود تاریخ ہے۔ سوویت فوجوں نے دسمبر 1979 میں ایک کمیونسٹ حکومت کو سہارا دینے کے لیے ملک پر حملہ کیا، لیکن مجاہدین کے خلاف ایک طویل جنگ میں وہ ناکام ہو گئے۔سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے 1989 میں اپنی فوج کو نکال لیا تھا، اس وقت تک تقریباً 15 ہزار سوویت فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

    بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    طاہر اشرفی کی خدمات ہر حکومت کیلئے ہوتیں،انکو جواب نہیں دوں گا، کامران مرتضیٰ

  • بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    ڈھاکا: بنگلادیش کی عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ کیے گئے ایک اہم انٹرنیٹ بینڈوتھ ٹرانزٹ معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس معاہدے کا مقصد بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بنگلادیش کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیشی انٹرنیٹ ریگولیٹر نے بھارت کی ان ریاستوں تک بینڈوتھ فراہم کرنے کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر کام کرنے کے منصوبے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بنگلادیشی وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کی وجہ اقتصادی فوائد کی کمی کو قرار دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کو اقتصادی طور پر کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

    یہ معاہدہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے دور دراز علاقوں میں ڈیجیٹل رابطوں کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ وہاں کے عوام کو بہتر انٹرنیٹ سروسز فراہم کی جا سکیں۔ تاہم بنگلادیش کے اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں مشکلات اور سست روی کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے ان علاقوں میں ڈیجیٹل ترقی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

    بھارت کی حکومت نے ابھی تک بنگلادیش کے اس فیصلے پر کوئی سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے منسوخ ہونے سے بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار متاثر ہو گا، جس کا اثر کاروباری سرگرمیوں، تعلیم اور دیگر سروسز پر پڑ سکتا ہے۔

    دوسری طرف، بنگلادیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد اپنے ملک کی اقتصادی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر حکمت عملی اپنانا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قومی مفادات کو ترجیح دی جائے۔

    یہ معاہدہ 2016 میں بھارت اور بنگلادیش کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت بنگلادیش بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بینڈوتھ فراہم کرتا تھا تاکہ وہاں کے عوام کو انٹرنیٹ کی بہتر سروسز میسر آ سکیں۔ اس معاہدے کے تحت بھارت بنگلادیش کو اپنے علاقے کے ذریعے انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے ٹرانزٹ فیس ادا کرتا تھا۔

  • برطانیہ میں طوفان،نظام زندگی درہم برہم،پروازیں منسوخ،ٹرینیں معطل،راستے بند

    برطانیہ میں طوفان،نظام زندگی درہم برہم،پروازیں منسوخ،ٹرینیں معطل،راستے بند

    برطانیہ میں سفر کی بڑی مشکلات: طوفان داراگھ کے باعث ایئر لائنز کی پروازیں منسوخ، ٹرینیں معطل، پل بند اور فیری سروسز متاثر

    برطانیہ اس وقت شدید سفری مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں طوفان داراگھ کی طاقتور ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں، ٹرینیں معطل ہو گئی ہیں، اہم پل بند کر دیے گئے ہیں اور فیری سروسز بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ فِن ایئر، سوئس، ترک ایئر لائنز، اور ایس اے ایس جیسی بڑی ایئر لائنز نے سینکڑوں پروازوں کو منسوخ یا تاخیر کا شکار کر دیا ہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے ہیں۔ یہ خلل صرف فضائی سفر تک محدود نہیں ہے، بلکہ ٹرین سروسز بھی معطل ہو گئی ہیں، سیورَن اور ہمبر جیسے اہم پل بند ہو گئے ہیں، اور فیری سروسز بھی معطل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے پورے ملک میں اہم راستے جام ہو گئے ہیں۔ طوفانی ہوائیں 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچ چکی ہیں اور موسم کے مزید خراب ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے، جس سے برطانیہ کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر مسلسل تاخیر اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

    برطانیہ کے ایوی ایشن نیٹ ورک کا دل، ہیتھرو ایئرپورٹ، طوفان داراگھ کے دوران اپنے سب سے زیادہ بدترین اوقات میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ 70 میل فی گھنٹہ کی ہواؤں نے پروازوں کے شیڈول کو تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 162 پروازیں منسوخ اور 201 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس سے ہزاروں مسافر ایئرپورٹ پر پھنس گئے ہیں۔ یہ خلل نہ صرف مقامی پروازوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جن میں برٹش ایئرویز، لفتھانسا، امریکن ایئر لائنز، اور ورجن ایٹلانٹک شامل ہیں۔

    پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹس، جیسے کہ فلائٹ ایویر اور فلائٹ ریڈار24، رپورٹ کر رہی ہیں کہ ہیتھرو کی پروازوں کا 26 فیصد منسوخ اور 40 فیصد تاخیر کا شکار ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شدید بیک لاگ اور مسافروں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ہیتھرو ایئرپورٹ کے ٹرمینلز میں طویل قطاریں، پریشان حال مسافر، اور ایئر لائنز کی جانب سے کمیونیکیشن کی کمی کے باعث شکایات کا سلسلہ جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہو گئیں، جن میں طوفانی ہواؤں میں جہازوں کی لینڈنگ کی کوششیں دیکھی جا سکتی ہیں، جو انتہائی مہارت اور احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں۔

    اگرچہ ہیتھرو ایئرپورٹ طوفان کا سب سے زیادہ شکار ہوا، لیکن لندن سٹی ایئرپورٹ بھی اس سے بچ نہ سکا۔ لندن میں تیز ہواؤں کے باعث یہاں بھی پروازوں میں منسوخیاں اور تاخیر دیکھنے کو ملیں۔ 25 پروازیں منسوخ اور 3 مزید تاخیر کا شکار ہوئیں، جس کے باعث اس چھوٹے مگر اہم ایئرپورٹ پر مسافروں میں شدید مایوسی پھیل گئی۔ خاص طور پر مختصر فاصلے کی پروازوں کے منتظر مسافروں کو متبادل انتظامات کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

    صرف برطانوی ایئر لائنز ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کی کئی بین الاقوامی ایئر لائنز کو بھی شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔ ہیتھرو ایئرپورٹ کی منسوخیوں اور تاخیروں نے برٹش ایئرویز، سوئس انٹرنیشنل ایئر لائنز، ترک ایئر لائنز، ایبرِیا، ایئر انڈیا، ایجن ایئر لائنز، ٹی اے پی ایئر پرتگال، ایرلنگس، لفتھانسا، ایس اے ایس، ورجن ایٹلانٹک، فِن ایئر، ویولنگ، امریکن ایئر لائنز، اور یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایئرپورٹس پر گاڑیوں کی قطاریں بڑھ گئیں، اور متعدد پروازوں میں تاخیر اور منسوخیاں دیکھنے کو ملیں۔

    ایئرپورٹ کے مسائل کے علاوہ، سڑکوں پر بھی مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایم48 سیورَن برج اور ایم4 پرنس آف ویلز برج کو شدید ہواؤں کے باعث بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں انگلینڈ اور ویلز کے درمیان اہم راستے منقطع ہو گئے ہیں۔ ان بندشوں نے روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والوں، ٹرک ڈرائیورز اور ضروری سامان کی ترسیل کرنے والوں کو پھنسایا ہے، اور متبادل راستوں پر گاڑیوں کی ٹریفک میں اضافہ ہو گیا ہے۔ای15 ہمبر برج کو بھی اونچی سائیڈ والی گاڑیوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ نیشنل ہائی ویز نے ڈرائیورز کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ تیز ہواؤں کے باعث گاڑیوں کے اُلٹنے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

  • بھارت نے 75 شہریوں کو شام سے لبنان منتقل کر دیا

    بھارت نے 75 شہریوں کو شام سے لبنان منتقل کر دیا

    شام میں ہندوستان نے 10 دسمبر کو شام سے 75 ہندوستانی شہریوں کو نکال لیا

    بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے دو دن بعد، بھارت نے 10 دسمبر 2024 کو شام سے 75 ہندوستانی شہریوں کو نکال لیا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ یہ انخلاء شام میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد، دمشق اور بیروت میں ہندوستانی سفارت خانوں نے انخلاء کے عمل کو مربوط کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "حکومت ہند نے شام سے 75 ہندوستانی شہریوں کو نکالا ہے، جن میں جموں و کشمیر کے 44 زائرین بھی شامل ہیں جو سیدہ زینب میں پھنسے ہوئے تھے۔” تمام نکالے گئے افراد کو لبنان منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں دستیاب تجارتی پروازوں سے ہندوستان واپس جانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔

    بھارتی حکومت نے شام میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دمشق میں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں اور ان کے لیے دستیاب حفاظتی تدابیر سے آگاہ رہیں۔ وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ حکومت اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ ہر ضروری اقدام اٹھا رہی ہے تاکہ ہندوستانی شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    اسی دوران، شام کے باغی گروپوں نے ایک اہم اعلان کیا ہے کہ وہ لازمی سروس کے تحت بھرتی کیے گئے تمام فوجی اہلکاروں کے لیے عام معافی دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ باغی گروپ کے ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا، "ہم لازمی سروس کے تحت بھرتی کیے گئے تمام فوجی اہلکاروں کو عام معافی دیتے ہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ ان فوجی اہلکاروں کو تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کیا جائے گا۔

    یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب شام میں سیاسی اور فوجی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، اور حکومت کے خلاف باغیوں کی کامیاب پیش قدمی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ باغی گروپوں کے اس فیصلے کا مقصد فوجی اہلکاروں کو مزید لڑائی میں شامل ہونے سے روکنا اور حالات کو مزید بہتر بنانا ہے۔

    شام میں جاری جنگ اور فوجی جھڑپوں کے باعث عالمی برادری کی توجہ اس بحران کی طرف مرکوز ہو گئی ہے۔ اس دوران، بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ان کے انخلاء کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ وزارت خارجہ نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ اس طرح کے اقدامات دنیا بھر میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے جاتے ہیں اور حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔