Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • جوبائیڈن کا شام میں 2012 سے قید صحافی کو واپس لانے کا اعلان

    جوبائیڈن کا شام میں 2012 سے قید صحافی کو واپس لانے کا اعلان

    امریکی صدر جو بائیڈن نے شام میں 2012 سے قید فری لانس صحافی آسٹن بینیٹ ٹائس کو گھر واپس لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بائیڈن نے اتوار کے روز اسد حکومت کے خاتمے پر اپنے خطاب میں کہا کہ "ہمیں یہ بات یاد ہے کہ شام میں کچھ امریکی شہری بھی موجود ہیں، جن میں آسٹن بینیٹ ٹائس بھی شامل ہیں، جو 12 سال سے زیادہ عرصہ قبل قید ہوئے تھے۔ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں کہ ہم انہیں ان کے خاندان کے پاس واپس لائیں گے۔”

    آسٹن بینیٹ ٹائس 2012 میں شام میں رپورٹنگ کے دوران اغوا ہو گئے تھے اور اس وقت سے وہ شام میں قید ہیں۔بائیڈن نے مزید کہا، "ہمیں یقین ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں واپس لے آ سکتے ہیں، لیکن ابھی تک ہمارے پاس اس بات کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے۔ اس کے باوجود، ہم اسد حکومت کو اس معاملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔” جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ٹائس کو بازیاب کرانے کے لیے کسی فوجی کارروائی کی منظوری دیں گے، تو بائیڈن نے جواب دیا، "ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ہم انہیں باہر نکالنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کہاں ہیں۔”

    آسٹن بینیٹ ٹائس کے والدین، مارک اور ڈیبرا ٹائس نے سی این این کو دیے گئے ایک بیان میں کہا، "ہم بے تابی سے اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں جب آسٹن بینیٹ ٹائس آزاد ہو کر واپس اپنے گھر آئے گا۔ ہم ہر اس شخص سے درخواست کرتے ہیں جو اس میں مدد کر سکتا ہے کہ وہ آسٹن کی مدد کرے تاکہ وہ اپنے خاندان کے پاس سلامت واپس پہنچ سکے۔”

    سی این این کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے جمعرات کو شام کی اپوزیشن فورسز سے رابطہ کیا تھا تاکہ ٹائس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں اور ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی سراغ مل سکے۔ ٹائس کی واپسی کے لیے امریکی حکومت کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی زیرِ بحث ہے۔

  • بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

    بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے، ابو محمد الجولانی

    شامی باغی رہنما جولیانی کی پہلی عوامی تقریر: "بشار الاسد کا اقتدار کا خاتمہ پوری اسلامی قوم کی فتح ہے”

    شام کی مسلح مزاحمت کے سب سے بڑے گروپ "حیات تحریر الشام” کے رہنما ابو محمد الجولانی نے پہلی بار اپنے عوامی بیانات میں شام کے صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کو "پوری اسلامی قوم کی فتح” قرار دیا ہے۔ الجولانی نے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرتی ہے۔

    دمشق کے اموی مسجد میں ہونے والی ایک تقریر میں الجولانی نے کہا، "یہ فتح، میرے بھائیوں، پوری اسلامی امت کی فتح ہے۔ یہ نیا اعزاز، میرے بھائیوں، علاقے کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ شام ایک طویل عرصے تک ایرانی مفادات کا میدان جنگ رہا، جہاں فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور بدعنوانیوں نے جڑ پکڑی۔ لیکن اب، "شام خدا کی عظمت اور عظیم مجاہدوں کی کوششوں سے پاک ہو رہا ہے۔”

    الجولانی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ ایک ایسی قوم ہے جو اگر اس کے حقوق چھین لیے جائیں تو وہ ان کے بحال ہونے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حیات تحریر الشام اس وقت لوگوں کو آزاد کر رہی ہے جو اسد حکومت کے ظلم و جبر کا شکار تھے۔”میرے بھائیوں، میں نے 20 سال پہلے اس سرزمین کو چھوڑا تھا، اور میرا دل اس لمحے کے لیے تڑپ رہا تھا,” الجولانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ "آج، شام میں کوئی ایسا گھرانہ نہیں ہے جس پر اس جنگ کا اثر نہ پڑا ہو۔ الحمدللہ، آج شام آزاد ہو رہا ہے۔”

    یہ خطاب شام کی جنگ کے ایک نیا موڑ اور باغیوں کی کامیابی کے دنوں کے بعد آیا ہے، جب دمشق اور دیگر اہم شہر اسد حکومت سے آزاد ہو گئے ہیں۔ الجولانی کی باتوں سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس فتح کو نہ صرف اپنے گروہ بلکہ پورے مسلم اُمّہ کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔اس تقریر کے دوران موجود لوگوں نے الجولانی کی باتوں کو انتہائی پُرجوش انداز میں سنا اور اس بات کی گواہی دی کہ اسد حکومت کے خاتمے سے شام میں ایک نئی سیاسی اور سماجی حقیقت جنم لے رہی ہے۔

    شامی باغیوں کی یہ فتح اس بات کی غماز ہے کہ پورے خطے میں طاقت کا توازن ایک نئی سمت میں تبدیل ہو رہا ہے، اور خاص طور پر ایران اور اس کے اتحادیوں کے اثرورسوخ میں کمی آئی ہے۔

  • بشار حکومت کا خاتمہ،شام میں درپیش چیلنجز،مستقبل کیا؟

    بشار حکومت کا خاتمہ،شام میں درپیش چیلنجز،مستقبل کیا؟

    اتوار کو شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکزی چوک پر آزاد شامی فوج کا سرخ، سفید، سبز اور سیاہ رنگوں پر مشتمل پرچم لہرا رہا تھا، اور ہزاروں شہری اس موقع پر خوشی و عزم سے بھرے ہوئے نظر آئے، یہ سب اس وقت ہوا جب صدر بشار الاسد اقتدار چھوڑ کر فرار ہو گئے

    گزشتہ گیارہ دنوں میں، باغیوں کے اتحاد نے شام کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے اسد حکومت کو تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرایا۔ اس سے قبل اسد خاندان کی حکمرانی کے دوران تقریباً دو دہائیوں تک جنگ، خونریزی اور سیاسی جبر نے ملک کو اپنی گرفت میں جکڑا ہوا تھا۔واشنگٹن میں قائم مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلوز، فراس مقصاد نے اتوار کو سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ لمحہ نہ صرف شامی عوام بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے اہم ہے، چاہے وہ لبنانی ہوں، فلسطینی ہوں یا شامی، ہر ایک کے لیے یہ ایک سنگ میل ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "یہ وہ حکومت تھی جس نے 50 سال سے زیادہ عرصے تک آزادی، اتحاد اور سوشلزم کے نعرے کے تحت لاکھوں لوگوں کو دبا دیا، عذاب دیا اور غائب کیا۔”

    اب جب کہ اسد مخالف اتحاد نے اسد کی فوج کو شکست دے کر اپنے اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے، ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ وقت شام کے عوام کے لیے ایک نیا سورج ہے، جو کہ طویل عرصے سے جابرانہ حکمرانی کے شکنجے میں تھے، یا پھر فرقہ واریت ایک نئی قسم کی آمرانہ حکمرانی کا سبب بنے گی؟

    شام کے باغی اتحاد کا آئندہ منصوبہ کیا ہے؟
    شام کی مسلح اپوزیشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایک ایسی حکومت قائم کرنا ہے جو اداروں پر مبنی ہو اور اس میں "عوام کے منتخب کردہ کونسل” کی تشکیل ہو۔ اس اتحاد کی قیادت کرنے والے اہم باغی رہنما، ابو محمد الجولانی، جو کہ "حیات تحریر الشام” کے سربراہ ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ ان کا مقصد شام میں ایک نئی حکومت بنانا ہے۔ حیات تحریر الشام ایک ایسا گروہ ہے جو پہلے القاعدہ کے ساتھ منسلک تھا، لیکن اب وہ ایک آزاد جنگجو اتحاد کے طور پر کام کر رہا ہے۔

    الجولانی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گروہ شام کے عوام کے مفادات کو ترجیح دے گا اور ایک ایسی حکومت قائم کرے گا جس میں عوامی مشاورت اور نمائندگی کا عمل شامل ہو۔ تاہم، یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا شام میں یہ نیا سیاسی ڈھانچہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچ پائے گا، یا پھر موجودہ سیاسی خلا میں نئے آمر ابھریں گے۔

    آگے کیا ہوگا؟
    ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام کا مستقبل ایک پیچیدہ اور غیر یقینی راہ پر ہے۔ 11 سالہ خانہ جنگی نے نہ صرف ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسد حکومت کے زوال کے بعد، اگرچہ اپوزیشن کے اتحاد نے بعض اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم ملک میں امن و استحکام لانا اور مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔اس کے علاوہ، عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک بھی اس نئے منظرنامے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ شام کے نئے سیاسی ڈھانچے کی نوعیت، اس میں عرب دنیا، ایران، ترکی اور روس کے اثرات کس حد تک ہوں گے، یہ سوالات بھی اس بحران کے حل میں اہم ثابت ہوں گے۔

  • ہم شامی عوام کے ساتھ ہیں،جوبائیڈن

    ہم شامی عوام کے ساتھ ہیں،جوبائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا زوال ایک تاریخی انصاف کا عمل ہے، جس سے شامی عوام کو اپنے ملک کا ایک بہتر مستقبل بنانے کا موقع ملے گا۔

    صدر بائیڈن نے کہا، "آخرکار اسد حکومت کا زوال ہو گیا ہے۔ اس حکومت نے شامی عوام پر ظلم و ستم ڈھایا، ان کو اذیت دی اور لاکھوں بے گناہ شامیوں کو قتل کیا۔ اس حکومت کا خاتمہ بنیادی طور پر ایک عدلیہ کا عمل ہے، اور یہ شامی عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے ایک بہتر اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔”جو بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ اسد حکومت کا زوال شامی عوام کے لیے ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت شامی عوام کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تقدیر خود لکھیں اور اپنے ملک کو استحکام، آزادی اور خوشحالی کی طرف لے جائیں۔”یہ وہ وقت ہے جب شامی عوام کے پاس اپنے ملک کے مستقبل کے لیے فیصلے کرنے کی آزادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کریں گے کہ شامی عوام کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کیا جائے، اور اس ملک میں امن اور استحکام واپس آئے۔”

    جو بائیڈن نے اپنے خطاب میں اسد حکومت کی طرف سے شامی عوام پر کیے گئے مظالم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بشار الاسد کی حکومت نے لاکھوں شامیوں کو بے گھر کیا، اور لاکھوں بے گناہ افراد کو قتل و زخمی کیا۔ "یہ ایک ایسا حکومت تھی جس نے شامی عوام کو نہ صرف جسمانی اذیت دی بلکہ ان کے خوابوں اور امیدوں کو بھی توڑ دیا۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ شامی عوام کی آزادی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ "ہم شامی عوام کے ساتھ ہیں اور ہم ان کی آزادی اور امن کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

  • شامی عوام کی سلامتی، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ ہونا چاہئے،یورپی کمیشن

    شامی عوام کی سلامتی، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ ہونا چاہئے،یورپی کمیشن

    یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لائن نے اتوار کے روز کہا کہ یورپ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک ایسا شام دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد فراہم کرے گا جو تمام اقلیتوں کے لیے محفوظ ہو۔

    یورپی کمیشن کی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے پیغام میں کہا، "یورپ قومی یکجہتی کی حفاظت اور ایک ایسے شامی ریاست کی تعمیر میں مدد دینے کے لیے تیار ہے جو تمام اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔”انہوں نے مزید کہا، "ظالم اسد آمریت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس علاقے میں یہ تاریخی تبدیلی نئے مواقع فراہم کرتی ہے، مگر اس میں خطرات بھی موجود ہیں۔”

    یورپی کمیشن کی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ شام میں اس تبدیلی کے ساتھ نئی حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شامی عوام کی سلامتی، حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس نازک مرحلے میں شام کی بازآبادکاری کے لیے یکجا ہو کر کام کرے۔یورپ کی جانب سے اس بات کا عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ شام میں تمام اقلیتی گروپوں، بشمول کرد، عیسائی، دروز اور دیگر اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گا۔

  • شام،بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانے سے خواتین،بچوں سمیت قیدی رہا

    شام،بدنام زمانہ جیل،انسانی مذبح خانے سے خواتین،بچوں سمیت قیدی رہا

    شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دمشق کے نواح میں فوجی جیل سے ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

    جیل سے رہائی پانے والوں میں سیکڑوں شامی خواتین و بچے بھی شامل ہیں،غیرملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیو میں اپوزیشن فورسز کو شام کی بدنام زمانہ صيدنايا جیل کے مرکزی کنڑول روم میں دیکھا جاسکتا ہے،ویڈیو میں جیل کے باہر کے مناظر بھی شامل ہیں جن میں رہا ہونے والے قیدیوں کو جیل سے باہر نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ویڈیو میں دل دہلا دینے والا منظر ہے جب ایک چھوٹا بچہ شام کی ایک جیل کے سیل سے باہر نکلتے ہوئے نظر آتا ہے، جو کہ صدر بشار الاسد کے جابرانہ نظام کی "انسانی ذبح خانہ” کہلاتی ہے۔ یہ بچہ جیل کے دروازے کے سامنے کھڑا ہے، چہرے پر الجھن کے آثار ہیں، جبکہ باغی فوجی "اللہ اکبر” کے نعرے لگا کر قیدیوں کو آزاد کر رہے ہیں۔

    دمشق کے قریب واقع سیڈنایا جیل کو "صنعتی تشدد کا کمرہ” کہا جاتا ہے، اور رپورٹس کے مطابق اس جیل میں 2011 سے لے کر اب تک 5,000 سے 13,000 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جیسا کہ الجزیرہ کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔باغیوں نے جیل کے دروازوں کے تالا کاٹ کر خواتین قیدیوں اور ان کے بچوں کو آزاد کیا، جب بشار الاسد کا جابرانہ اقتدار گرایا گیا۔ ایک ویڈیو میں خواتین کی خوشی اور جوش کو دیکھا جا سکتا ہے جب وہ دہائیوں تک جیل میں قید رہنے کے بعد آزاد ہوئیں۔ انہیں بسوں میں سوار کر کے ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔باغیوں نے اس موقع پر کہا، "ہم شام کے عوام کے ساتھ سیڈنایا جیل کے قیدیوں کی رہائی اور ان کی زنجیروں کے توڑنے کی خوشی مناتے ہیں۔ ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ سیڈنایا جیل میں ظلم کا دور ختم ہو چکا ہے۔”

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیق کے مطابق، شام کی حکومت نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں، اور سیڈنایا جیل میں 30 کلومیٹر شمال میں واقع اس جیل میں ہزاروں قیدیوں کو قتل، تشدد، اور مٹایا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس بدترین جیل میں کی جانے والی خلاف ورزیاں اس بات کا حصہ ہیں کہ بشار الاسد کی حکومت نے عوام کے خلاف ظلم کا جو نیا دور شروع کیا، اس میں 10,000 سے زائد سیاسی قیدی غائب ہوئے۔2017 میں، بشار الاسد نے سیڈنایا جیل میں ہزاروں قیدیوں کو قتل کرنے اور ان کے جسموں کو چھپانے کے لیے خفیہ چمنی کا استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کیا تھا، اور امریکی وزارت خارجہ کے اس دعوے کو "نئی ہالی وڈ کہانی” قرار دیا تھا کہ روزانہ 50 افراد کو پھانسی دی جاتی تھی۔

    اب، باغی فورسز نے شام کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف کارروائیاں تیز کر دیں ہیں۔ گزشتہ رات حمص شہر کے سینٹر میں شدید فائرنگ کی آوازیں آئیں، جس کے بعد یہ واضح ہوا کہ حکومتی فوجیں شہر چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ اس کے بعد ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے، اور "اسد کا خاتمہ، حمص آزاد” اور "زندہ باد شام، مرگ بر بشار الاسد” کے نعرے لگائے۔اس کے فوراً بعد، باغیوں نے حمص جیل سے ہزاروں قیدیوں کو آزاد کر لیا، جب کہ حکومت کی فورسز نے اپنی دستاویزات کو جلانے کے بعد شہر کو چھوڑ دیا۔

    حمص کی آزادی کے بعد، شام میں باغی فورسز کی طاقتور واپسی دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ واقعہ شام میں 13 سالہ تنازعے میں باغیوں کی ایک نئی کامیابی کی علامت ہے

    صحافی سمیر دابول، جن کے چچا کو روٹی کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور 2012 میں جیل کی دیواروں کے پیچھے غائب ہو گئے تھے، اس شخص کے حوالے سے خبروں کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں جو ‘اپنی زندگی کے سب سے بااثر لوگوں میں سے ایک تھا’۔انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اس نے مجھے شام کی تاریخ، انقلاب اور یہ کیوں ضروری تھا کے بارے میں سکھایا’۔’میں چاہتا ہوں کہ وہ جان لے کہ جس نوجوان کو اس نے 12 سال پہلے متاثر کیا تھا وہ اب شام پر رپورٹنگ کرنے والا صحافی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھ پر فخر کرے۔’

    بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر باغیوں کو بدنام زمانہ ظالمانہ جیل تک پہنچنے اور اس کے قیدیوں کو آزاد کرانے کی ترغیب دی ہے، جب کہ دوسروں کو امید ہے کہ ان کے رشتہ دار، جنہیں انہوں نے دیکھا یا سنا نہیں ہے کچھ سالوں میں اب بھی زندہ ہیں۔

    حمص کا کنٹرول سنبھالتے ہی باغیوں نے جشن منایا اور ہوائی فائرنگ کی، اور نوجوانوں نے شامی صدر کے پوسٹر پھاڑ دیے،

    الجزیرہ نیوز کی جانب سے آن لائن نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں باغی فورسز کو سیڈنایا جیل کی دیواریں توڑتے ہوئے دکھایا گیا، جہاں چھپے ہوئے قیدیوں کے سیلز دریافت ہوئے۔ ویڈیو میں سینکڑوں مرد جیل سے باہر آتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، جو انتہائی بھیڑ بھاڑ والے حالات میں قید تھے۔ایک آزاد شدہ قیدی نے الجزیرہ کی ویڈیو میں بتایا، "ہمیں ایک کمرے میں رکھا گیا تھا، جہاں 25 لوگ ایک ساتھ جمع تھے۔ ہم ایک دوسرے کے صرف چند نام ہی جانتے تھے کیونکہ ہمیں ہمیشہ نیچے دیکھ کر بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔”یہ قیدی حلب کا رہائشی تھا اور اس نے بتایا کہ وہ 2019 سے جیل میں تھا جب وہ اسد حکومت کی فوجی سروس سے بچنے کے لیے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اسد کے فوجیوں کی بربریت کی تفصیل بیان کی اور کہا کہ وہ ایک دفعہ شامی فوج کے اہلکاروں کی جانب سے ہتھوڑے سے سر پر مارے گئے تھے۔”پچھلے دنوں صبح 4 بجے ہمیں باہر نکالا گیا۔ ہمارے بلاک سے 60 افراد کو نکالا گیا تھا۔ دو اسد فوج کے اہلکار ہمیں لے کر جا رہے تھے، اور تین افراد کو ہمارے گروپ سے الگ کر کے کہا گیا کہ انہیں سزائے موت دی جا رہی ہے۔”

    دوسری ویڈیوز میں خواتین اور کم از کم ایک بچے کو بھی جیل سے آزاد ہوتے دکھایا گیا ہے۔ ان ویڈیوز میں یہ منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ باہر جیل کے دروازوں کے سامنے لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں کو تلاش کر رہے ہیں جو ابھی تک قید میں ہیں۔

    اس کے علاوہ، 2023 میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی ایک رپورٹ میں شامی حکومت کے حراستی مراکز میں "تشویش ناک اور منظم اذیت رسانی کے طریقوں” کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شامی حکومت کی جیلوں میں قیدیوں کو وحشیانہ سلوک کا سامنا ہے۔2017 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 2011 سے 2015 کے دوران سیڈنایا جیل میں 13,000 افراد کو پھانسی دی گئی، جو اسد حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایک خفیہ کریک ڈاؤن کا حصہ تھا۔سیڈنایا جیل، جو دمشق کے شمال میں واقع ہے، کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور قیدیوں کے ساتھ بے پناہ سلوک کے لیے عالمی سطح پر بدنامی حاصل ہے۔

  • برطانیہ میں شدید طوفان اور بارشیں، 2 افراد ہلاک

    برطانیہ میں شدید طوفان اور بارشیں، 2 افراد ہلاک

    برطانیہ میں تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان ڈراگ کے نتیجے میں کرسمس سے قبل سفر میں خلل پیدا ہوا اور ملک بھر میں ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے رات بھر تیز ہواؤں کے حوالے سے ویلز اور جنوب مغربی انگلینڈ کے کچھ حصوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا۔بزنس سکریٹری جوناتھن رینالڈز نے بتایا کہ طوفان نے ’چیلنجنگ صورتحال‘ کو جنم دیا۔حکومت نے 30 لاکھ افراد کو فون پر سائرن کی طرح الرٹ جاری کیا کہ اور رات گھر پر رہنے کی ہدایت کی۔شمال مغربی انگلینڈ کے لنکا شائر میں پولیس نے بتایا کہ طوفان کے دورانہ طوفانی ہوائوں کے سبب درخت گرنے کے واقعے بھی رونما ہوئے جس سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔طوفان کے نتیجے میں ہفتے کے آخر میں شدید بارش ہونے کی توقع ہے، جس میں پورے برطانیہ میں 100 سے زیادہ سیلاب کی وارننگز اور الرٹس جاری کیے گئے۔اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو سے ایڈنبرا تک اور مشرقی انگلینڈ میں کیمبرج اور اسٹینسٹڈ ہوائی اڈے سمیت کئی راستوں پر ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل پڑا یا انہیں معطل کر دیا گیا۔آر ٹی ای نیوز ایجنسی کے مطابق آئرلینڈ میں ہوا کی وارننگ جاری کی، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ لوگوں کو بجلی کے بغیر رہنا پڑا۔ڈبلن ہوائی اڈے نے کہا کہ طوفان کی وجہ سے ہفتے کی صبح طے شدہ متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے مختلف ہوائی اڈوں سے پروازیں بھی منسوخ کردی گئیں جب کہ ریلوے کا شیڈول متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ کئی شہروں میں فٹبال میچز منسوخ ہوگئے۔رپورٹس کے مطابق جنوبی و سائوتھ ویلز سمیت ویسٹ مڈلینڈز میں 55 ہزار گھر بجلی سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

  • بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر طالبان کا خوشی کا اظہار

    بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر طالبان کا خوشی کا اظہار

    افغانستان میں طالبان کی حکومت نے شام میں جاری تبدیلیوں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور حالیہ دنوں میں شامی اپوزیشن فورسز کی کامیابیوں پر افغانستان کے حکام نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ شامی اپوزیشن فورسز نے دارالحکومت دمشق سمیت مختلف اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے، اور شامی صدر بشار الاسد ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    شامی صدر بشار الاسد کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ان کا طیارہ، جو روس کی طرف جا رہا تھا، ریڈار سے غائب ہو گیا ہے۔ اس کے بعد سے یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوگئے ہیں، تاہم ابھی تک شامی حکومت یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ واقعہ شام میں اس وقت پیش آیا جب ملک میں شدید سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی تھی اور بشار الاسد کا اقتدار خطرے میں تھا۔

    افغان حکومت نے شامی اپوزیشن کی کامیابیوں پر ایک رسمی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں شام کی عوام اور تحریرالشام کو مبارکباد دی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کو امید ہے کہ شام میں ایک آزاد، خودمختار اور اسلامی نظام قائم کیا جائے گا جو شام کے عوام کے حقوق اور آزادی کو تحفظ فراہم کرے گا۔وزارت خارجہ امارت اسلامیہ افغانستان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شام میں آنے والی تبدیلیوں کو مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ شام کی حکومت میں تبدیلی کے بعد وہاں بیرونی طاقتوں کا اثر و رسوخ کم ہوگا اور اہل شام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہوں گے۔ افغان حکومت نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی صورتحال پر اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں اور شام کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔

    شامی اپوزیشن کی کامیابیوں کے بعد شام میں نئے سیاسی منظرنامے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن فورسز کی جانب سے ایک نئے اسلامی نظام کی تشکیل کی کوششوں کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ افغان حکومت کی جانب سے اس کی حمایت کی توقعات ظاہر کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت شام میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے حق میں ہے۔

    دوسری جانب عالمی سطح پر بھی شام کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مختلف عالمی طاقتیں اس تبدیلی کو اپنے مفاد کے مطابق دیکھ رہی ہیں۔ روس اور ایران نے بشار الاسد کی حمایت کی تھی، اور ان دونوں ممالک کے لیے اس حکومت کا خاتمہ ایک بڑا دھچکہ ہو سکتا ہے۔ تاہم شامی اپوزیشن فورسز اور ان کے اتحادیوں کا موقف ہے کہ بشار الاسد کا اقتدار شام کے عوام کی مرضی کے خلاف ہے اور ان کے اقتدار سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔

  • روس اور ایران دونوں  اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    روس اور ایران دونوں اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ،ٹرمپ

    نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ "بشار الاسد اپنے ملک سے بھاگ گئے ہیں اور اس موقع پر روس کی قیادت میں ولادی میر پوتن نے ان کی حفاظت کی تھی۔” ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد نے شامی صدر کے طور پر استعفیٰ دینے کے بعد شام چھوڑا۔” ان کا یہ بیان روسی حکام کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد آیا کہ بشار الاسد صدارت سے مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے روسی فوج کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور اب وہ شام میں بشار الاسد کی حفاظت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔” ان کا کہنا تھا کہ "روس اور ایران دونوں ہی اس وقت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہو چکے ہیں، اور ان دونوں ممالک کی شام میں موجودگی کی اہمیت بھی ختم ہو گئی ہے۔”ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "یوکرین کی جنگ نے روس کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اپنے پڑوسی ملک کی جنگ میں شامل ہو کر اپنا اثر و رسوخ شام میں برقرار نہیں رکھ سکتا۔” روسی فوجیوں کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی تعداد کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ "یوکرین میں جنگ کے دوران چھ لاکھ روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کا اثر روس کی شام میں موجودگی پر بھی پڑا ہے۔”

    ٹرمپ نے اس موقع پر یوکرین کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ "روس کی موجودہ کمزوری کے پیش نظر فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پوتن کو میں اچھی طرح جانتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ چین بھی اس معاملے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔”

    دوسری جانب پاکستان کی سینئر سفارتکار سفیر ملیحہ لودھی نے باغیوں کے دمشق پر قبضے کو "سیاسی زلزلہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "دمشق پر باغیوں کا قبضہ شام کے اندرونی حالات میں ایک تاریخی تبدیلی ہے، اور اس سے پورے خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے۔”

  • بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    شام میں صدر بشارالاسد کے ملک سے فرار ہونے اور حزب اختلاف کی فوج کا قبضہ کرنے پر روس کا اہم بیان آگیا۔

    روسی وزارت خارجہ نے شام میں پیدا ہونے والی صورتحال پر کہا ہے کہ بشارالاسد نے اقتدر کی پُرامن منتقلی کے احکامات دے کر عہدہ اور ملک چھوڑا۔روس نے صدر بشارالاسد کی روس میں موجودگی بھی کنفرم کردی ہے.واضح رہے کہ باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق شام میں موجود روس کے فوجی اڈےہائی الرٹ ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں، شام میں حیات تحریرالشام سے رابطے میں ہیں اور تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد سے باز رہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔جلیلی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ’’میں اپنے گھر میں ہوں اور میں نے ملک نہیں چھوڑا، اور یہ اس ملک سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ صبح کام جاری رکھنے کے لیے اپنے دفتر جائیں گے، اور شہریوں سے عوامی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل ہے۔

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات