Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے شام میں بشار الاسد کے زوال کو تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران کی مزاحمت کے محور کی مرکزی کڑی‘ توڑ دی گئی ہے۔

    عالمی خبررساں ادارےکے مطابق مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے دورے پر موجود اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسد کی تباہی اُن حملوں کا براہ راست نتیجہ ہے جو ہم نے اس کے حامیوں ایران اور حزب اللہ پر کیے ہیں۔ اس اقدام نے پورے مشرق وسطیٰ میں ایک سلسلہ وار ردِعمل شروع کیا ہے اور اس جابرانہ حکومت سے آزادی کے خواہاں لوگوں کو بااختیار بنایا ہے۔نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو گولان کی پہاڑیوں میں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی بفر زون پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان 1974 کا علیحدگی کا معاہدہ 50 سال سے جاری تھا، لیکن یہ کل رات ٹوٹ گیا۔ شامی فوج نے اپنی پوزیشنز چھوڑ دیں۔ ہم نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ ان پوزیشنوں پر قبضہ کر لیں تاکہ اسرائیلی سرحد کے ساتھ دشمن افواج کی ممکنہ دراندازی کو روکا جا سکے۔ یہ ایک عارضی دفاعی پوزیشن ہے جب تک کہ اس مسئلے کا کوئی مناسب حل نہیں مل جاتا۔

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

  • صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    اسرائیل نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کی گولان کی پہاڑیوں میں بفر زون پر قبضہ کر لیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فورسز کو حکم دیا کہ وہ شام کے ساتھ 1974 کے جنگ بندی معاہدے کے ذریعے قائم کیے گئے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک بفر زون پر "قبضہ” کر لیں۔نیتن یاہو نے کہا کہ دہائیوں پرانا معاہدہ ختم ہو گیا ہے اور شامی فوجیوں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دی ہیں جس سے اسرائیلی قبضے کی ضرورت ہے۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف بھی فوج بڑھا دی اور اسرائیل فوج مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے اطراف باڑ لگانے میں مصروف ہے۔شامی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل خانہ جنگی کافائدہ اٹھا کر شامی علاقوں پر قبضہ چاہتا ہے۔باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

  • مریم نواز چین پہنچ گئیں، پرتپاک استقبال

    مریم نواز چین پہنچ گئیں، پرتپاک استقبال

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی خصوصی دعوت پر چین پہنچ گئیں جہاں ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مریم نواز بیجنگ ایئرپورٹ پہنچیں جہاں استقبال کیلیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب ہوائی اڈے پر گلدستہ پیش کیا گیا اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور ان کی اہلیہ نے بھی خیر مقدم کیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کیمونسٹ پارٹی آف چائنا کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ سربراہ چینی وفد نے مریم نواز اور ان کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی بلندی کی انتہاؤں کی طرف گامزن ہے، چین کے اشتراک سے پنجاب کو اقتصادی اور معاشی بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔وزیر اعلیٰ کے 8 روزہ دورے کی سرکاری مصروفیات کا آغاز کل سے ہوگا۔ وہ چین کے اسپتال، اسکول اور دیگرا داروں کے دورے بھی کریں گی۔یاد رہے کہ مریم نواز چین کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون وزیر اعلیٰ ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وفد میں مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری اور دیگر شامل ہیں۔وہ بیجنگ، شنگھائی، شن ژین اور گوانگ ژوکے دورے کریں گی جبکہ مختلف ملاقاتیں، تقاریب اور کانفرنس میں بھی شرکت کریں گی۔

    وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

  • شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نےسرحدی چوکیاں خالی کر دیں،بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر اسرائیلی فوج تعینات

    شامی فوج نے ملک پر باغی ملیشیا حیات التحریر الشام کے قبضے کے ساتھ ہی لبنان کے ساتھ تمام سرحدی چوکیوں کو بھی خالی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی افواج کی جانب سے سرحدی چوکیاں خالی کرنے پر اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کے قنیطرہ میں داخل ہو گئے ہیں،اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے شام کے برابر میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی بفر زون اور متعدد ضروری مقامات پر فوجی تعینات کر دیئے ہیں یہ اقدام شام میں تازہ ترین واقعات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، باغیوں کو بشارالاسد کی فوج کے اسلحے پر قبضے سے روکنےکی کوشش کریں گے، شامی باغی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    عراقی حکام کا کہنا ہے کہ 2000 شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی ہے، دمشق پر قبضے سے پہلے باغیوں نے حمص شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کیا، حمص کی فوجی جیل سے 3500 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    شامی صدر بشار الاسد کے دمشق سے فرار اور ان کی 24 سالہ حکومت کے خاتمے کے بعد مسلح اپوزیشن گروہوں نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جس کے پیشِ نظر اتوار کے روز اردن نے شام کے استحکام اور سلامتی کے تحفظ کی اہمیت کا اعادہ کیا ہےخطے میں سلامتی کی حالت کو تقویت دینے پر "کام جاری ہے، لبنانی فوج نے ضروری یونٹس اور بٹالین شام کے ساتھ سرحد پر بھیج دی۔

    بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے چند گھنٹوں قبل قطر، سعودی عرب، اردن، مصر، عراق، ایران، ترکیے اور روس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا جس میں شام کی موجودہ صورتِ حال کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔

    ادھر شامی باغیوں نے دارالحکوت دمشق کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اتوار کی صبح ایران کے سفارت خانے پر بھی دھاوا بول دیا۔

    شامی باغی گروپ حیات تحریر الشام (HTS) نے دارالحکومت دمشق پر دھاوا بول کر اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے، العربیہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دمشق میں واقع ایرانی سفارت خانے کی عمارت اور املاک کی تباہی کو دکھایا گیا ہے۔

    ایران کے انگریزی نشریاتی ادارے ”پریس ٹی وی“ نے سفارت خانے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس صورتحال کو شام میں ایرانی مفادات پر براہ راست حملہ قرار دیا،فوٹیج میں افراتفری کے مناظر دکھائے گئے، سفارت خانے کے اندرونی حصے کو کافی نقصان پہنچا، جبکہ جنگجوؤں نے حسن نصر اللہ کے پوسٹرز بھی پھاڑ دئے۔

    خیال رہے کہ ایران صدر بشار الاسد کا ایک اہم اتحادی ہے اور شام پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہےدمشق میں ایران کے سفارت خانے پر حملہ شام میں ایرانی مفادات کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے برسو ں سے، ایران اسد کا بڑا حامی رہا ہے، جو اس کی حکومت کو اقتدار میں رکھنے کے لیے فوجی، مالی اور سیاسی حمایت فراہم کرتا ہے، تاہم باغی افواج کی حالیہ پیش قدمی اور شام میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کے باعث خطے میں ایرانی مداخلت کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

  • میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،شامی وزیراعظم

    میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،شامی وزیراعظم

    دمشق: شامی وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے کہا کہ ان کا بشار الاسد سے گزشتہ شام آخری بار رابطہ ہوا تھا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شام میں حیات التحریر کے جنگجوؤں نے بشار الاسد کا 24 سالہ اقتدار ختم کردیا اور وزیراعظم محمد غازی الجلالی کو ہی پُرامن انتقالِ اقتدار تک ملکی امور دیکھنے ٹاسک کا دیا ہے-

    شام کے وزیراعظم محمد غازی الجلالی نے العربیہ ٹی وی سے ٹیلیفون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معزول صدربشارالاسد سے آخری رابطہ ہفتے کی رات ہوا تھا، اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا، آخری بات چیت کےدوران صدربشارالاسدکو صورتحال سے آگاہ کیا تھا جس کے بعد صدر الاسد نے کہا موجودہ حالات پر کل بات کریں گے، مجھے نہیں معلوم سابق صدر اس وقت کہاں ہیں اور کیا واقعی وہ ملک چھوڑ گئے ہیں۔

    محمد غازی الجلالی کا کہنا تھا کہ ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا، مذاکرات سے بغاوت روکنےکی امید تھی لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات تبدیل ہوئے اس کے لیے ہم کسی بھی طرح تیار نہیں تھے، شامی حکومت کے 28 وزرا میں بیشتر شام میں ہی موجود ہیں، غازی الجلالی نے اپنے ایک بیان میں ملک میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی عوام کو اپنی مرضی سے نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام میں خوف وہراس کی فضا پھیلی ہوئی ہے لیکن عوام کو تبدیلی سےگھبرانےکی ضرورت نہیں ہے، حالات جلد معمول پر آجائیں گے، موجودہ حکومت ملک میں عام انتخابات اور پُرامن انتقال اقتدارکی پابند ہے۔

    شامی وزیراعظم نے باغی گروہوں کے سربراہ ابو محمد الجولانی سے رابطے میں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی بھی منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہوں،ملک میں رہنے کا میرا فیصلہ عارضی ہے اور اولین ترجیح 4 لاکھ ملازمین کو واپس ملازمتوں پر لانا ہے-

    واضح رہے کہ آج اتوار آٹھ دسمبر کو شام نے مسلح دھڑوں کی پیش قدمی کے ساتھ شامی حکومت کے سربراہ کے اعلان کے ساتھ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے،شام میں دھڑوں کی جامع کارروائی کی قیادت کرنے والے حیۃ تحریر الشام کے رہنما احمد الشارع نے اتوار کے روز کہا کہ سرکاری اداروں تک جانا ممنوع ہے وہ سابق وزیر اعظم کی نگرانی میں رہیں گے جب تک کہ انہیں باضابطہ طور پر اقتدار ان کے حوالے نہیں کیا جاتا‘‘۔

    انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ دمشق شہر میں تمام فوجی دستوں کے لیے سرکاری اداروں کی طرف جانے کی سختی سے ممانعت ہے شام کےتمام ادارے وزیراعظم کی نگرانی میں رہیں گے جب تک کہ انہیں باضابطہ طور پر حوالے نہیں کیا جاتا۔ ہوا میں گولیاں چلانا بھی منع ہے-

  • شام سے فرار ہونیوالے بشار الاسد طیارہ حادثے میں جاں بحق،عالمی میڈیا کا دعویٰ

    شام سے فرار ہونیوالے بشار الاسد طیارہ حادثے میں جاں بحق،عالمی میڈیا کا دعویٰ

    دمشق: عالمی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دمشق سے فرار ہونے کے لیے شامی صدر بشار الاسد جس طیارے پر سوار ہوئے وہ کہیں گر کر تباہ ہوگیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کو لے جانیوالا IL-76 دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پہلے ٹیک آف کرنے کے بعد یا تو گر کر تباہ ہو گیا ہے یا حمص کے مغرب میں ہنگامی لینڈنگ کر چکا ہے جس کے بعد سوار افراد کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے۔

    دنیا کی مختلف پروازوں کو ٹریک کرنے والی فلائٹ ٹریڈر 24 ویب سائٹ کے مطابق شامی ایئرلائن کا ایک طیارہ دمشق ہوائی اڈے سے اسی وقت روانہ ہوا جب باغی فوجیوں نے شہر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیا تھا طیارہ شام کے ساحل کی طرف جا رہا تھاتاہم طیارے نے اچانک اپنا رخ بدلا اور چند منٹوں کے لیے دوسری سمت کی طرف جانے لگا بعد ازاں کچھ ہی دیر بعد یہ حمص شہر کے قریب ریڈار سے غائب ہو گیا۔
    location
    رپورٹ میں کہا گیا کہ پرواز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ طیارہ غائب ہونے سے قبل تیز رفتار کے ساتھ اونچائی سے زمین پر گرا یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ طیارہ آخر گیا کہاں؟ لیکن شامی صدر کی پرواز کے راستے میں اچانک تبدیلی اور سگنل اچانک غائب ہونے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یا تو انہیں حملے میں مار دیا گیا یا ان کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طیارہ شام کے شہر لطاکیہ میں ایک روسی ایئربیس کی طرف جا رہا تھا، جسے اسد کے لیے محفوظ مقام سمجھا جاتا ہے یہ ایئربیس روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے اور شام کے ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں باغیوں نے قبضہ نہیں کیا تاہم اس حوالے سے حکام کی جانب سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب ترک میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طیارہ مبینہ طور پر گر کر تباہ ہوا، شاید اسے باغیوں نے مار گرایا، کیونکہ ان کے پاس طیارہ شکن نظام بہت زیادہ ہے، شامی فوج نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا ایک ورژن یہ بھی ہے کہ ہوائی جہاز نے ٹرانسپونڈر کو بند کر دیا تاکہ اسے ٹریک نہ کیا جا سکے اس وقت طیارہ گرنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی لیکن اس کی تردید بھی نہیں کی جا رہی۔

  • بی سی سی آئی میں جے شاہ  کے بعد خالی عہدے پر نیا سیکریٹری مقرر

    بی سی سی آئی میں جے شاہ کے بعد خالی عہدے پر نیا سیکریٹری مقرر

    نئی دہلی: دیواجیت سائیکیا کو بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا نیا سیکریٹری مقرر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق دیواجیت سائیکیا کو سابق سیکریٹری جے شاہ کے عہدہ خالی کرنے پر ترقی دی گئی ہے، وہ اس سے پہلے جوائنٹ سیکریٹری کی خدمات سرانجام دے رہے تھے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر راجر بنی نے تصدیق کی ہے کہ دیواجیت سائیکیا کو سیکریٹری نامزد کردیا گیا ہے۔

    بی سی سی آئی کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ سابق سیکریٹری جے شاہ کے یکم دسمبر کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا تھا جس کے بعد عہدہ خالی ہوا تھا،انہوں نے کہا کہ نے نومنتخب سیکریڑی کو خوش آمدید کہا اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    واضح رہے کہ دیواجیت سائیکیا پیشے کے لحاظ سے وکیل اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر اور ایڈمنسٹریٹر ہیں، انہوں نے 4 فرسٹ کلاس میچوں میں آسام کی نمائندگی کی جسمیں انہوں نے 54 رنز بنائےحال ہی میں، ایڈوکیٹ جنرل دیواجیت سائیکیا کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بورڈ ڈائریکٹر کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ بی سی سی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے دبئی میں آئی سی سی ہیڈکوارٹر میں اپنے نئے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیا ہے۔

  • شامی باغیوں کا فتح کے بعد  سرکاری ٹی وی پر خطاب

    شامی باغیوں کا فتح کے بعد سرکاری ٹی وی پر خطاب

    دمشق: شامی باغیوں نے دارالحکومت پر قبضے کے بعد سرکاری ٹی وی پر پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے اپنی فتح کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کرتے ہوئے بتایا کہ شام سے بشار الاسد حکومت کے طویل دور کا خاتمہ ہو گیا ہےباغیوں نے پہلے ہی خطاب میں تمام قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ دمشق میں صورتحال محفوظ ہے،کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہو گی۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی باغیوں نے آزاد شام کی خود مختاری اور سالمیت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ شام میں سیاہ دور کا خاتمہ کرنے کے بعد نیا عہد شروع ہونے جا رہا ہےباغیوں کا کہنا ہے کہ شام کی تمام سرکاری، غیر سرکاری املاک اور تنصیبات کا تحفظ کیا جائے گا۔

    شامی باغی گروپ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے سابق شامی سرکاری فوج اور عوام کیلئے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور سابق حکومت کے فوجی سرکاری اداروں سے دور رہیں، سرکاری ادارے اس وقت سابق وزیراعظم کی نگرانی میں ہیں، اقتدار کی منتقلی تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی حکومتی اداروں کی سربراہی کریں گے۔

  • صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا،سربراہ باغی گروپ

    دمشق: شامی فوجی کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شامی فوجی کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کا 24 سالہ دور ختم ہو گیا دمشق میں گولیاں چلنے اور دھماکے سنے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور جشن میں نعرے بازی بھی کر رہے ہیں، اس حوالے سے شامی باغی گروہ کا کہنا ہے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کی اجازت نہیں ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا بتانا ہے کہ عوام کی جانب سے امیہ اسکوائر پر جشن منایا گیا شہری شامی فوج کے ٹینکوں پر چڑھ گئے، دمشق میں باغی ملیشیا کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، دمشق کے قریب جیل سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    صدر بشار الاسد کے ملک سے فرار ہونے کے بعد باغی گروپ تحریر الشام ملیشیا کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پُرامن انتقال اقتدار تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی تمام ریاستی اداروں کو چلائیں گے کسی بھی صورت شام میں موجود کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینک اور بکتر بند جنوب مغربی شام کی قنیطرہ گورنری میں داخل ہو گئیں۔

    عبرانی میڈیا آؤٹ لیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج سرحدی دفاع مضبوط بنانے کے لیے قنیطرہ کے بفرزون میں داخل ہوئیں۔

    قبل ازیں شامی باغیوں نے دارالحکومت دمشق میں داخل ہونے کا دعویٰ کردیا ہے شامی صدر بشارالاسد بھی دمشق چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی شہریوں نے بتایا کہ دمشق میں گولیاں چلنے کی آوازیں اور دھماکے سنے جا رہے ہیں،بشارالاسد کے صدارتی محافظ بھی ان کی معمول کی رہائش گاہ پر تعینات نہیں جس کے باعث ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملتی ہے کہ بشار الاسد فرار ہوچکے ہیں، شامی فوجی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ بشارالاسد طیاتازرے پر فرار ہوئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شام کے باغیوں نے دمشق ائیرپورٹ اور سرکاری ٹی وی کی عمارت پرقبضے کا دعویٰ کیا ہے، دمشق میں شامی وزارت داخلہ کی عمارت باغیوں کے قبضے میں آگئی ہے دارالحکومت پر باغیوں کے قبضے کی اطلاعات کے بعد دمشق کے مرکزی اسکوائر پر ہزاروں شہری جمع ہو گئے اور جشن اور نعرے بازی شروع کر دی۔

    شامی اپوزیشن وار مانیٹر کے سربراہ کا کہنا ہے کہ صدر بشارالاسد ملک چھوڑ کر طیارے میں کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے ہیں، صدر بشارالاسد آج صبح طیارے میں بیٹھ کر دمشق سے فرار ہوئے شامی کردوں نے دیرالزور کا کنٹرول سنبھال کر اپنا جھنڈا لہرا دیا اور صدربشارالاسد کی فوج کو شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، سیکڑوں فوجیوں اور سرکاری افسران نے عراق میں پناہ لے لی۔

    دوسری جانب جنگجو لیڈر محمد الجولانی نے کہا ہے کہ شام میں حالیہ بغاوت کا مقصد صدر بشار الاسد کی حکومت کو گرانا ہے، شامی حکومت کا خاتمہ قریب ہے، ہتھیار پھینکنے والے سرکاری فوجیوں کو عام معافی دی جائے گی۔

    شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغی گروپ حیات تحریر الشام کے باغیوں نے اتوار کے روز حکومت کے خلاف زبردست کارروائی کے دوران اہم شہر حمص پر قبضہ کرنے کا اعلان کیارپورٹ میں بتایا گیا کہ باغیوں نے حمص کی سینٹرل جیل پر بھی قبضہ کیا جس دوران تین ہزار پانچ سو قیدی فرار ہوگئے۔

    باغیوں کا اسرائیلی سرحد کے قریب القُنیطرہ کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق دو ہزار شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی۔ جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔

    اس کے علاوہ امریکی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ شامی صدربشارالاسد دمشق میں موجود نہیں ہیں جبکہ شامی فوج دمشق کے مضافات سے پیچھے ہٹ گئی ہے،امریکی اور مغربی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بشارالاسد حکومت آئندہ ہفتے ختم ہونے کا امکان ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق تمام ایرانی فوجی عہدیدار خصوصی پرواز کے ذریعے دمشق سے تہران روانہ ہوگئے ہیں جبکہ پولینڈ نے اپنے شہریوں کو شام سے فوری نکلنے کا حکم دے دیا ہے اس کے علاوہ حمص شہر سے درجنوں فوجی گاڑیوں کو نکلتے دیکھاگیا، حمص کے مرکزی سکیورٹی ہیڈکوارٹرز سے بھی سکیورٹی اہلکار نکل گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق شامی آرمی چیف جنرل عبدالکریم محمد ابراہیم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شامی عوام باغیوں کی من گھڑت افواہوں پر کان نہ دھرے، شامی فوج بغاوت پرقابو پانےکے لیےکوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، فوج نے باغیوں پر شدید حملے کرکے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کا صفایا کیا،باغیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دیہی علاقوں میں فوج کے دستے موجود ہیں، عوام کے تعاون سے جلد بغاوت پر قابو پا لیا جائے گا۔

    شام کی جنگ میں اہم واقعات

    مارچ 2011: دمشق اور درعا میں پرامن احتجاج شروع ہوا الاسد حکومت نے ایک پرتشدد کریک ڈاؤن کے ساتھ جواب دیا، جس کے نتیجے میں مسلح بغاوت ہوئی،

    جولائی 2012: حلب کی لڑائی کے ساتھ تنازعہ شدت اختیار کر گیا، جس میں اپوزیشن فورسز نے شہر کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ شامی فوج نے چار سال بعد اس پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا-

    اگست 2013: مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں سینکڑوں شہری مارے گئے یہ حملہ بین الاقوامی سطح پر مذمت کا باعث بنااور شام کو اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے پر آمادہ کیا گیا-

    جون 2014: داعش نے پورے شام اور عراق میں ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد خلافت کا اعلان کیا۔ رقہ، شام میں ان کا اصل دارالحکومت بن گیا اور ان کی حکومت 2019 تک جاری رہی۔

    ستمبر 2015: روس نے الاسد کی حمایت میں براہ راست فوجی مداخلت شروع کی۔ روسی فضائی حملوں نے حکومتی فورسز کے حق میں لہر کو موڑنے میں مدد کی۔

    اپریل 2017: خان شیخون میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جواب میں شامی حکومت کے اہداف پر میزائل حملے شروع کرتے ہوئے امریکہ ملوث ہو گیا یہ اسد کی افواج کے خلاف ان کی پہلی براہ راست فوجی کارروائی تھی۔

    نومبر 2024: پچھلے چار سالوں میں تنازعہ بڑی حد تک رُک گیا، یہاں تک کہ مسلح گروپوں نے ادلب سے پچھلے ہفتے آپریشن شروع کیا۔

  • میٹا کا انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کیساتھ کام کرنے کا عزم

    میٹا کا انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کیساتھ کام کرنے کا عزم

    کیلیفورنیا: فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا نے انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے طویل المدتی حل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے میٹا کی عالمی سربراہ برائے انسانی حقوق پالیسی مرانڈا سیسن سے ملاقات کی، ملاقات میں بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت، آن لائن تحفظات اور انسانی حقوق سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس میں ٹیک اٹ ڈاؤن اقدام کی کامیابی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو نابالغوں کو آن لائن استحصال سے بچانے کے لیے نقصان دہ اور غیر متفقہ مواد کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملاقات میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وزارت کی مسلسل وابستگی پر بھی زور دیا گیا اور سائبر کرائم، آن لائن استحصال پر وجہ مرکوز کرنے والے ڈیجیٹل خواندگی کی مہموں اور عالمی بیداری کے پروگراموں جیسے جاری اقدامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔