Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو  ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کشیپ کاش پٹیل کو وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا سربراہ منتخب کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سربراہ جیسی اہم اور حساس ذمہ داری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہِ انتخاب اپنے وفادار اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقد پر ٹھہری ہے،کاش پٹیل بھارتی نژاد شہری ہیں جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور تفتیش کار ہیں، ٹرمپ نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کاش پٹیل کو ’’ امریکا فرسٹ فائٹر‘‘ قرار دیا، کاش پٹیل ایک شاندار وکیل، اور تفتیش کار ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر کرپشن کو بے نقاب اور امریکیوں کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔

    44 سالہ کشیپ کاش پٹیل متعدد بار اپنےآبائی وطن بھارت کےساتھ گہرے تعلق کا اظہار کرتے آئے ہیں،کشیپ کاش پٹیل نیویا ر ک میں گجراتی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے جن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ مشرقی افریقہ میں پلے بڑھے ہیں۔

    کشیپ کاش پٹیل نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن اور لندن کی یونیورسٹی کالج سے انٹرنیشنل لا میں قانون کی ڈگری حاصل کی،وہ قائم مقام سیکرٹری دفاع کرسٹوفر ملر کے سابق چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں، علاوہ ازیں ٹرمپ کے پہلے دور میں صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل (NSC) میں انسداد دہشت گردی (CT) کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

    کشیپ پٹیل نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی اولین ترجیحات پر عملدرآمد کی نگرانی کی، جس میں داعش اور القاعدہ کی قیادت کا خاتمہ سمیت متعدد امریکی یرغمالیوں کی محفوظ وطن واپسی شامل تھی،انھوں نے ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کے بارے میں ہاؤس ریپبلکنز کی تحقیقات میں ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے سابق سربراہ ڈیوین نونس کے معاون طور پر بھی اہم کردار ادا کیا تھاکشیپ پٹیل کی ٹرمپ کے ساتھ قربت اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے دور حکومت ختم ہونے کے بعد مصائب میں گھیرے ٹرمپ نے انہیں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔

  • جے شاہ نے  چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    جے شاہ نے چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا

    دبئی: بی جے پی رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ نے آئی سی سی چیئرمین شپ کا چارج سنبھال لیا۔

    باغی ٹی وی : آئی سی سی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ جے شاہ نے بطور آئی سی سی چیئرمین عہدے پر کام کا آغاز کر دیا ہے، چیئرمین آئی سی سی کی حیثیت سے جے شاہ کے عہدے کی مدت شروع ہو گئی ہے۔

    جے شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی سی سی چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے پر فخر محسوس کر رہا ہوں، آئی سی سی ڈائریکٹرز اور رکن بورڈز کی حمایت اور اعتماد کا شکر گزار ہوں،یہ کھیل کے لیے پُرجوش لمحہ ہے، ہم اولمپکس 2028 کی تیاری کر رہے ہیں، ہم کرکٹ کو شائقین کے لیے مزید دلچسپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ایک اہم موڑ پر ہیں جہاں مختلف فارمیٹس ایک ساتھ موجود ہیں۔

    آئی سی سی چئیرمین کو ایک ماہ کی توسیع دینے کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ خواتین کے کھیل کی ترقی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، کرکٹ میں عالمی سطح پر بے پناہ صلاحیت موجود ہے، کھیل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے آئی سی سی ٹیم اور رکن ممالک کے ساتھ قریبی کام کرنے کا منتظر ہوں۔

    پاکستان ہائبرڈ ماڈل پر راضی، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

  • اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت

    اقلیتوں کی آڑ میں بنگلا دیش میں بھارتی مداخلت
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    بھارت نے بنگلا دیش میں دو ہندو راہبوں کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے خلاف ایک منظم سفارتی محاذ کھول دیا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف بنگلا دیش کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹا کر خطے میں اپنی برتری قائم رکھنا بھی ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی ایک جانب بنگلا دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت کو ظاہر کرتی ہے تو دوسری جانب اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر جھوٹا بیانیہ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

    بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف مظالم دنیا کے سامنے ہیں۔ مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنا، مسلمانوں کی جائیدادیں بلڈوز کرنا اور ان کے خلاف نفرت انگیز مہمات جیسے "لو جہاد”، "لینڈ جہاد” اور "ریڑھی جہاد” بھارتی سماج میں روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنی تصویر کو اقلیتوں کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور بنگلا دیش کی عبوری حکومت پر اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں کا الزام عائد کر رہا ہے۔

    بنگلا دیش میں حالیہ دنوں میں اِسک کون (ISKCON) کے دو ہندو راہبوں کی گرفتاری اور دیگر 17 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کا معاملہ بھارتی میڈیا اور انتہا پسند تنظیموں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اِسک کون کو بنگلا دیشی عدالت نے ایک بنیاد پرست تنظیم قرار دیا ہے جس کی سرگرمیاں معاشرتی امن کے لیے خطرناک ہیں۔ تاہم بھارت میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور دیگر ہندو تنظیموں نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف دباؤ ڈالا جا سکے۔

    امریکا اور یورپ میں بھارت نواز لابیاں اس وقت سرگرم ہیں اور بنگلا دیش کی اقلیتوں پر مظالم کے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کر رہی ہیں۔ ہندو کمیونٹی کے مختلف گروپ امریکا اور یورپ میں یہ بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ بنگلا دیش میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ گروپ عبوری حکومت کے خلاف فضا ہموار کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بنگلا دیش کی عدالتوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بنیاد پرست تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے۔

    بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے اِسک کون کے رہنما چنموئے کرشنا داس اور دیگر افراد کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عبوری حکومت اقلیتوں کے خلاف امتیازی نوعیت کی کارروائیاں کر رہی ہے، جس سے اقلیتیں خوفزدہ ہو رہی ہیں۔ شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلا دیش میں سیاسی عدم استحکام اور عبوری حکومت کے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے اس پورے معاملے کو ہندو مخالف جذبات کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ بنگلا دیش کے خلاف عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کیا جا سکے۔ بھارتی حکومت اس معاملے کو سفارتی طور پر اٹھا کر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    یہ واضح ہے کہ بھارت کی یہ مداخلت محض اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور بنگلا دیش کے داخلی معاملات کو بین الاقوامی رنگ دینا ہے۔ اس حوالے سے عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی ان چالوں کا نوٹس لے اور خطے میں استحکام کے لیے غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے۔

  • اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اسد حکومت کی جوابی کارروائی،شامی باغی رہنما روسی فضائی حملے میں ہلاک

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے،جبکہ جوابی کارروائی میں شامی باغی رہنما ‘روسی فضائی حملے میں مارا گیا-

    باغی ٹی وی : مقامی میڈیا کے مطابق شامی باغیوں کا ایک رہنما ابو محمد الجولانی ممکنہ طور پر روسی فضائی حملے میں مارا گیاجب اس کی فورسز نے حلب پر قبضہ کر لیا،ابو محمد الجولانی، حیات تحریر الشام گروپ کے موجودہ کمانڈر انچیف، سمجھا جاتا ہے کہ حملے کے وقت وہ عمارت کے اندر تھے۔
    syria
    باغی رہنما ابو محمد الجولانی

    شام کے اخبار الوطن نے اطلاع دی ہے کہ مبینہ طور پر تنظیم کے ہیڈکوارٹر کے ارد گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا گیا ہے لیکن الجولانی مارا گیا ہے یا نہیں اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    باغی رہنما ابو محمد الجولانی ان مسلح دھڑوں کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ایک ہے جو شامی فوج کے ساتھ لڑائیوں میں مصروف ہیں اور اس کے سر پر 7.9 ملین ڈالر کا انعام ہےیہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر اسد کی افواج نے ہفتے کے روز ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ وہ دوبارہ تعینات ہو گئے ہیں اور جوابی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
    syiran rebel
    دریں اثنا، کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ایک ایسے منظر نامے کی تیاری کر رہا ہے جہاں صورت حال بگڑنے پر اسے کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی،انٹیلی جنس سربراہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بتایا ہے کہ ‘اسد حکومت کے خاتمے سے ممکنہ طور پر افراتفری پھیلے گی جس میں اسرائیل کے خلاف فوجی خطرات پیدا ہوں گے۔’

    القاعدہ سے منسلک باغیوں نے ہفتے کے روز دمشق کی طرف جنوب کی طرف پیش قدمی کی، جس کے ایک دن بعد انہوں نے حلب پر حکومتی دستوں کی جانب سے تھوڑی مزاحمت کے ساتھ قبضہ کر لیا،باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    دوسری جانب روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام میں پیدا کی جانے والی نئی صورت حال پر باہم تبادلہ خیال کیا ہے،ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تبادلہ خیال دونوں وزرائے خارجہ نے فون پر کیا ہے دونوں ملکوں نے اس موقع پر شامی اپوزیشن کے مسلح حملوں کے خلاف بشارالاسد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں حملے امریکی واسرائیلی منصوبے کا نتیجہ ہیں، تاکہ خطے میں عدم استحکام بڑھایا جاسکے۔

    ہفتے کے روز شام کی فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ اس کے فوجیوں کو قتل کیا گیا ہے یہ فوجی اپوزیشن کے حملوں میں اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب اپوزیشن نے حلب شہر پر حملے کیے اس واقعے سے بشارالاسد کے شمال مغربی صوبے میں ایک نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے کہ وہ فوج کی تعینات کو نئے سرے سے کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے شام میں صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان دہشت گردانہ حملوں سے شام میں صورت حال خطرناک ہو گئی-

  • غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید  100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آگئی ہے، ہفتے کو غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 100 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں سے 75 فلسطینی بیت لاحیا کی رہائشی عمارتوں پر بمباری میں شہید ہوئے۔

    اس کے علاوہ جنوبی غزہ کے شہرخان یونس پر اسرائیل کی بمباری میں17 افرا دشہید ہوئے، اسرائیلی طیاروں نےخان یونس میں 2 مقامات کو نشانہ بنایا، غزہ میں خوراک تقسیم کےدوران اسرائیلی حملے میں 3 امدادی کارکن بھی شہید ہوئے، حملے کے بعد امدادی ادارے نے غزہ میں خوراک تقسیم کا کام بند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ میں اسرائیلی محاصرے کے دوران وحشیانہ زمینی اور فضائی حملوں میں 2700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فلسطینیوں کو سنگین غذائی بحران کی صورتحال کا سامنا ہے۔

    فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 44 ہزار 382 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 5 ہزار 142 فلسطینی زخمی بھی ہوئے،جن میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے-

  • ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    ٹرمپ نےبرکس ممالک کو ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا

    واشنگٹن: برکس ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ برکس کو تنبیہ کرتے ہوئے تنظیم کے ممالک کو امریکی ڈالر کی متبادل کرنسی لانے پر خبردار کر دیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک نہ تو اپنی کرنسی لائیں نہ ڈالر کے متبادل کسی کرنسی کی حمایت کریں، ڈالر کے مقابلے میں کسی بھی کرنسی کی حمایت پر 100 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کے متبادل کا کوئی امکان نہیں، ڈالر کے متبادل کرنسی کی حمایت کرنے والے برکس ممالک کو امریکی معیشت میں جگہ نہیں ملے گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق برکس اتحاد کے اراکین ممالک عالمی مالیاتی نظام پر امریکا کے غلبے سے تنگ آچکے ہیں، برکس ممالک تجارتی مقاصد کے لیے اپنی کرنسی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں،برکس برازیل،روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا پر مشتمل گروپ ہے، رواں برس برکس میں عرب امارات،ایران،مصر اور ایتھوپیا نے بھی شمولیت اختیار کی۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں مکمل طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، دنیا کو سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : انادولو کی رپورٹ کے مطابق صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں ٹی آرٹی ورلڈ فورم میں خطاب کے دوران طیب اردوان نے سلامتی کونسل کے اس نظام کو مسترد کردیا جس کے تحت 5 مستقل اراکین کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور کہا کہ دنیا ان 5 ممالک سے بڑی ہے۔

    اقوام متحدہ میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے سامنے تبدیلیوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جس میں عالمی فوجدوری عدالت (آئی سی سی) اور تہذیبوں کا اتحاد شامل ہے، جس کا بیڑا ترکیے اور اسپین نے اٹھایا تھا اور اس کا مقصد 2001 میں امریکا پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانا تھا۔

    ترک صدر نے کہا کہ تجارت سے سفارت کاری تک ممالک کے درمیان مسابقت مزید تباہ کن انداز میں بڑھی ہے اور دن بدین مزید جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے اور انسانیت بدترین موڑ پر کھڑی ہے جو واقعات پیش آرہے ہیں وہ نہ صرف اگلے 5 سے 10 سال پر اثرانداز ہوں گے بلکہ ہمارے آنے والی دوسری اور تیسری نسلوں کو بھی متاثر کریں گے، روس اور یوکرین کی جنگ کو اب 4 سال ہونے والے ہیں، اس سے ہمیں بین الاقوامی نظام کے تحت رولز کی کمزوریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • 2016 کے بعد پہلی بار حلب پر  شامی باغیوں کا قبضہ

    2016 کے بعد پہلی بار حلب پر شامی باغیوں کا قبضہ

    اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر حلب کے بیشتر حصوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق شامی باغی شمالی علاقوں حلب اور ادلب میں داخل ہوگئے ہیں، باغیوں نے شامی فوج کے اڈے اور حلب ائیرپورٹ سمیت کئی اہم علاقوں پر قبضےکا دعویٰ کیا ہے شامی فوج شمالی شہر حماہ سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے،شامی باغیوں کے حملے میں درجنوں شامی فوجی مارے جانےکی بھی اطلاعات ہیں۔

    2016 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حلب پر سرکاری فوج کا کنٹرول ختم ہوچلا ہے جھڑپیں جاری ہیں اور روسی لڑاکا طیاروں نے حلب کے کئی علاقوں پر حملے کیے ہیں،اطلاعات کے مطابق حلب کے گورنر، پولیس کی لیڈرشپ اور سیکیورٹی برانچز شہر کے وسط سے نکل گئے ہیں،شام میں مسلح دھڑے حلب کے اندر نئے محلوں کو کنٹرول کرنے کے بعد حلب شہر اور اس کے مرکز تک پہنچ گئے ہیں جن میں الحمدانیہ، نیو حلب، صلاح الدین اور سیف الدولہ شامل ہیں۔

    شام کے معاملات پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے برطانوی ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق 2016 کے بعد روس نے پہلی مرتبہ حلب پر فضائی حملے بھی کیے ہیں ملک میں بدھ سے شروع ہونے والی لڑائیوں میں اب تک 20 عام شہریوں سمیت 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے شامی فوج کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتھارٹیز نے حلف کا ایئر پورٹ بند کردیا ہے۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے بند کردیئے گئے ہیں لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

    دوسری طرف شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حلب اور ادلب گورنریوں پر بڑے حملے کا مقابلہ کر رہی ہے حلب اور ادلب پر حملے میں مسلح دھڑوں نے بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں اور ڈرونز کا استعمال کیا ان کی فوج نے حلب اور ادلب پر حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان مسلح گروہوں کو بھاری نقصان پہنچایا اور درجنوں گاڑیاں اور ڈرون تباہ کر دیے۔

    شامی سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہر میں فوجی کمک پہنچ گئی ہے۔

    حلب شہر کے مرکز اور گردونواح میں شامی فوج اور مسلح دھڑوں کے درمیان ابھی تک لڑائی جاری ہے،دھڑوں کا کہنا ہے کہ وہ حلب کے محلوں میں داخل ہوئے جبکہ شامی فوج نے تصدیق کی کہ اس نے حملے کا جواب دیا اور عسکریت پسندوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

    واضح رہےکہ 2016 میں شامی صدر بشارالاسد کی افواج نے حلب سے باغیوں کو نکال دیا تھا اس کے بعد سے یہاں پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا۔

  • امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    امریکا نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی

    واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تائیوان کو 385 ملین ڈالر مالیت کے ایف-16 جنگی طیاروں کے پارٹس اور ریڈارز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے،جس کی لاگت 385 ملین ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے کہا کہ اسلحے کی فروخت 320 ملین ڈالر پر مشتمل ہے، جس میں اسپیئرپارٹس اور ایف-16 جنگی جہازوں کے لیے مدد اور ایکٹیو الیکٹرونیکلی اسکینڈ ایرے رایڈارز اور اس سے منسلک اشیا شامل ہیں،اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تائیوان کو جدید موبائل سبسکرائیبرآلات کی فراہمی کی اجازت بھی دے دی ہے جس کی لاگت کا تخمینہ 65 ملین ڈالر لگایا گیا ہے اور اس معاہدے کا ٹھیکا جنرل ڈائنامکس کو دیا گیا ہے۔

    تائیوان کی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مذکورہ اسلحے کی فراہمی ایک ماہ کے اندر شروع ہوجائے گی اور ان آلات سے ایف-16 طیاروں کو بحال رکھنے اور قابل اعتماد دفاعی فورسز تشکیل دینے میں مدد ملے گی تائیوان اور امریکا ایک دوسرے کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھیں گے، آبنائے تائیوان اور پورے خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کریں گے

    امریکا کی جانب سے تائیوان کو باقاعدہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود اسلحے کی فروخت کے معاہدے کیے جا رہے ہیں، جس پر چین کا سخت ردعمل ہوتا ہے کیونکہ چین کا ماننا ہے کہ تائیوان ان کی ریاست کا ایک حصہ ہےتائیوان آزادی ریاست کا دعویٰ کرتے ہوئے چین کے مؤقف کو مسترد کر رہا ہے،چین نے جمعے کو ایک بیان میں امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات پر احتیاط برتیں۔

    واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ تائیوان کو ممکنہ طور پر دو ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کیا جائے گا، جس میں تائیوان کو پہلی مرتبہ ایڈوانسڈ ڈیفنس میزائل سسٹم فراہم کیا جائے گا جو یوکرین میں جنگ کے دوران آزمایا گیا ہے۔