Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • غزہ : اسرائیل  انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ : اسرائیل انسانی جسم کو تحلیل کر کے بخارات بنانیوالے ہتھیار استعمال کر رہا ہے، ڈاکٹر منیر البرش

    غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر منیر البرش نے کمزور اور لاچار فلسطینیوں پر استعمال ہونے والے اسرائیلی اسلحے سے متعلق ہولناک انکشافات کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں اسرائیل نے ظلم اور جبر کی نئی تاریخ رقم کردی، ایسے ممنوع ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نسانیت دنگ رہ جائے، غزہ کے محکمہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج ایسے ہتھیار استعمال کر رہی ہے جن سے مرنے والوں کی لاشیں بخارات بن جاتی ہیں۔

    غزہ کے ڈائریکٹر ہیلتھ نےکہا کہ اسرائیل نہتے فسطینی پناہ گزینوں پر خطرناک کیمیکل اور مواد والے بم برسا رہا ہے جس کے ہولناک اثرات سامنے آ رہے ہیں،عالمی قوتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے غزہ میں سیزفائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری ڈیل کی تردید کی ہے،ایک بیان میں امریکا کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس غزہ میں سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کام کررہا ہے لیکن ہم اب تک حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ہم بہت متحرک ہوکر کام کررہے ہیں تاکہ یہ عمل جلد مکمل ہو اور ہم اس سلسلے میں خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز سے بھی قریبی رابطوں میں ہیں، اس حوالے سے مسلسل کام ہورہا ہے، اس سلسلے میں مزید بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے، ہمیں امید ہےکہ ہم جلد ہی سیز فائر اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو حتمی شکل دیں گے لیکن اب تک ہم اس مرحلے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری میں 44 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جب کہ1 لاکھ 5 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

  • بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    بھارت ،بنگلہ دیش میں کوئی فرق نہیں، محبوبہ مفتی کے بیان پر بی جے پی بھڑ ک اٹھی

    مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی کے اقلیتی برداری کی صورتحال پر بیان نے تنازع کھڑا کر دیا جس میں انہوں نے بھارت کا موازنہ بنگلہ دیش سے کیا ہے.

    بھارتی جریدے کے مطابق سابق وزیراعلی نے 24 نومبر کو اترپردیش کے شہر سنبھل میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا.انہوں نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مجھے ڈر ہے کہ ہمیں اسی طرف لے جایا جا رہا ہے جو حالات 1947 میں تھے نوجوان جب نوکریوں کی بات کرتے ہیں تو نہیں ملتیں ہمارے پاس اچھے ہسپتال نہیں، تعلیم نہیں ہے وہ سڑکوں کی حالت کو بہتر نہیں کر رہے لیکن ایک مندر کی تلاش میں مسجد کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں. سنبھل واقعہ بہت افسوسناک ہے کچھ لوگ دکانوں میں کام کر رہے تھے اور گولی مار دی گئی واضح رہے کہ 24نومبر کو انڈیا کی ریاست اترپردیش کے شہر سنبھل میں ایک مسجد کے سروے کے موقع پر تشدد پھوٹ پڑا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے.مسلمان مظاہرین اور پولیس کے درمیان یہ جھڑپیں اترپردیش کے شہرسنبھل میں ایک سروے کے موقعے پر ہوئیں جس میں یہ جائزہ جا رہا تھا کہ 17ویں صدی کی مسجد ہندوں کے مندر پر تعمیر کی گئی تھی یا نہیں؟ایک ہندو پنڈت کی جانب سے عدالت میں دائر ایک درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ مسجد ایک ہندو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی ہے جس پر مقامی عدالت نے سروے کا حکم دیا تھا.محبوبہ مفتی کے بیان کی بی جے پی کے کئی راہنماﺅں نے مذمت کرتے ہوئے بیان کو ملک دشمنی پر مبنی قرار دیا ہے بی جے پی کے راہنماﺅں نے جموں و کشمیر کی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے جموں و کشمیر کے بی جے پی کے سابق سربراہ رویندر رینا نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بنگلہ دیش کی صورتحال کا انڈیا سے موازنہ کرنے والا متنازع بیان سراسر غلط اور قابلِ مذمت ہے.
    انہوں نے کہا کہ دنیا بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے جہاں اقلیتی برادری کو ٹارگٹ حملوں کا سامنا ہے، خواتین کی توہین کی جاتی ہے اور ایک منتخب وزیراعظم کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے. بی کے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر حکومت کو محبوبہ کے ملک مخالف بیان اور اس کی سازشوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے جموں کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بیان اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ان کی پارٹی کو زندہ کرنے کی کوشش ہے پی ڈی پی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور محبوبہ مفتی مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنی پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہی ہیں.

    نومبر میں مہنگائی ساڑھے 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئی

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

  • فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں کے درمیان تصادم ،100 ہلاک

    فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں کے درمیان تصادم ،100 ہلاک

    مغربی افریقی ملک گیانا میں اتوار کے روز فٹبال میچ کے دوران تماشائیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ گیانا کے دوسرے بڑے شہر انزیریکوری میں پیش آیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقامی اسپتالوں اور مردہ خانوں میں درجنوں لاشیں لائی گئیں، اور اسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ لاشیں اتنی زیادہ تھیں کہ جتنا نظر آ رہا تھا، وہ سب لاشوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ مردہ خانہ بھی لاشوں سے بھر چکا ہے، اور اسپتال کی حالت انتہائی سنگین تھی۔خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فٹبال میچ کے دوران ریفری نے ایک متنازع فیصلہ دیا، جس کے بعد تماشائی غصے میں آ گئے اور میدان میں اتر آئے۔ کچھ ہی دیر میں یہ جھگڑا تشدد کی شکل اختیار کر گیا اور تماشائیوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں اسٹیڈیم کے اطراف اور اندر لاشیں پڑی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن ان ویڈیوز کی حقیقت کی تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق، تماشائیوں نے اس دوران پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ تشدد اس وقت مزید بڑھا جب مشتعل مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کو نذرِ آتش کیا۔حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور یہ واقعہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گیا ہے۔ گیانا کے حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ابھی بھی کئی افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ واقعہ گیانا میں کھیلوں کے دوران ہونے والی بدامنی کی ایک نیا باب ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔

  • اسلحہ کا کیس،جوبائیڈن نے بیٹے کو صدارتی معافی دے دی

    اسلحہ کا کیس،جوبائیڈن نے بیٹے کو صدارتی معافی دے دی

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو نشے کی حالت میں اسلحہ خریدنے کے کیس میں صدارتی معافی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہنٹر بائیڈن کے خلاف متعدد الزامات عائد تھے، جن میں نشے کی حالت میں اسلحہ خریدنا، غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنا اور ٹیکس فراڈ کے الزام شامل تھے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ولمنگٹن کی عدالت نے 2023 میں اپنے فیصلے میں ہنٹر بائیڈن کے خلاف 2018 میں اسلحہ خریدنے سے متعلق تین الزامات کو درست قرار دیا تھا، جن کے مطابق وہ اس وقت نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے اسلحہ خریدنے کے دوران غلط بیانی کی تھی۔ہنٹر بائیڈن کے خلاف ایک اور سنگین الزام ٹیکس فراڈ کا بھی تھا، جس میں انہوں نے ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے اور دیگر مالی جرائم کا اعتراف کیا تھا۔ ان پر کل 9 الزامات عائد کیے گئے تھے، اور انہوں نے ان تمام الزامات میں اپنی غلطی کو تسلیم کیا۔ اس کے نتیجے میں جج نے ہنٹر بائیڈن کو خبردار کیا تھا کہ انہیں 17 سال تک قید کی سزا اور 4 لاکھ 50 ہزار ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، صدر بائیڈن نے اس تمام قانونی عمل کے درمیان اپنے بیٹے کو معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس فیصلے کے بعد صدر جو بائیڈن نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ عدالتی عمل کا احترام کرتے ہیں اور فیصلے کو قبول کرتے ہیں، تاہم اس سے قبل وہ اپنے بیٹے کے معاملے میں سزا میں کمی کرنے یا معافی دینے کی حمایت نہیں کر رہے تھے۔ ہنٹر بائیڈن کے مقدمات میں حتمی سزا کا اعلان دسمبر 2024 میں متوقع تھا، لیکن صدر بائیڈن نے اس سے پہلے ہی اپنے بیٹے کو معاف کر دیا ہے۔

    اس اقدام کے بعد مختلف حلقوں میں ردعمل سامنے آیا ہے، کچھ افراد نے اسے سیاسی مفادات کا حصہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر نے اسے ایک ذاتی فیصلہ تسلیم کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ہنٹر بائیڈن کے مقدمات امریکی سیاست میں اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ان کے والد جو بائیڈن کے لیے بھی یہ معاملہ حساسیت کا باعث بن چکا ہے۔

    یہ واقعہ امریکی سیاست میں اس وقت خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے جب کہ ہنٹر بائیڈن کے خلاف کیسز میں اضافہ ہو چکا ہے اور یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ آیا صدر بائیڈن نے اپنے بیٹے کے لیے معافی دینے کا فیصلہ سیاسی فائدے کے لیے کیا ہے۔ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید بحث اور قانونی جنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    روز ویلٹ ہوٹل، ٹرمپ کے بھارتی نژاد مشیر راما سوامی کا بیان سامنے آ گیا

    نیویارک: امریکی بھارتی نژاد مشیر ووک راما سوامی نے نیویارک کے مشہور ہوٹل روز ویلٹ کے حوالے سے ایک جانبدارانہ بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے صرف پی آئی اے کی زیرملکیت ہوٹل کو کرائے پر نہیں لیا، بلکہ دیگر ہوٹلوں کو بھی کرائے پر حاصل کیا ہے۔ ان کے مطابق نیویارک سٹی حکومت نے 14,000 کمروں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے روز ویلٹ سمیت 100 سے زائد چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، جن میں سے کئی ہوٹلز غیر ملکی اور غیر امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

    امریکی حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے نو منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نامزد عہدیدار اور نائب صدر جے ڈی وینس کے انتہائی قریبی دوست بھارتی نژاد امریکن نوجوان ووک گھناپتی راماسوامی نے اپنے ایک تازہ جانبدارانہ بیان کے ذریعہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی زیر ملکیت نیویارک کے ہوٹل روز ویلٹ کے تلخ حقائق پر مبنی تاریخ کے باب کو بیک وقت امریکی، بھارتی اور پاکستانی توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔راما سوامی نے عہدے کا حلف بھی نہیں لیا، شہری حکومت کے اخراجات بھی ان کے دائرہ کار میں نہیں، غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کی زیر ملکیت ہوٹل کو بعض پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے امریکی دولت مند خانوں کو بطور تحفہ دینے کے مبینہ وعدے بھی کرڈالے گئے ہیں ۔

    راما سوامی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ نیویارک سٹی حکومت نے روز ویلٹ ہوٹل کا کرایہ 220 ملین ڈالرز میں ادا کیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت میں موجود اس ہوٹل کا کرایہ اور لیز کی شرائط کچھ مختلف ہیں۔ ان کے مطابق، پی آئی اے انوسٹمنٹ جو کہ ایک نیم سرکاری کارپوریشن ہے، اس نے اس ہوٹل کی لیز پر 220 ملین ڈالرز کی رقم کی بات کی ہے لیکن حقیقت میں اس لیز پر تین سال کے دوران پی آئی اے انوسٹمنٹ کو صرف 18 ملین ڈالرز کیش حاصل ہوں گے۔

    راما سوامی نے اس موقع پر پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت کے بارے میں تمام حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جانبدارانہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نیویارک سٹی کی انتظامیہ کی اس کوشش کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ وہ غیر قانونی امیگرنٹس کے لیے رہائش فراہم کرنے کے لیے مختلف ہوٹلز کرایہ پر حاصل کر رہی ہے، جس میں پی آئی اے کا ہوٹل روز ویلٹ بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ نیویارک کی شہری انتظامیہ نے نہ صرف روز ویلٹ ہوٹل بلکہ شہر بھر میں مختلف ہوٹلز کو کرایہ پر حاصل کیا ہے، اور ان میں کئی بھارتی اور غیر ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، بھارتی تاج گروپ اور ایئر انڈیا کی ملکیت والے ہوٹل بھی اس پروگرام میں شامل ہیں۔راما سوامی کے اس بیان کے ذریعے پی آئی اے کی ملکیت میں ہونے والے اس ہوٹل کی تاریخ پر بحث نے امریکی، بھارتی اور پاکستانی حلقوں میں توجہ کا مرکز بنادیا ہے۔ راما سوامی نے اگرچہ اپنی سیاسی وابستگی اور مالیاتی مفادات کی بنیاد پر یہ بیان دیا، تاہم ان کے دعووں میں کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

    نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز کی حکومت نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ غیر قانونی امیگرنٹس کو رہائش فراہم کی جا سکے، لیکن اس میں ان ہوٹلوں کو کرایہ پر حاصل کرنے کے بعد ان کے مالکوں سے وابستہ حقیقتوں کو نظرانداز کیا گیا۔ پی آئی اے کی ملکیت میں ہوٹل روز ویلٹ ایک اہم پراپرٹی ہے، لیکن راما سوامی نے اس پراپرٹی کے مالیاتی پہلو پر مناسب تحقیق کیے بغیر ہی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس کا تذکرہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایک اور گھناؤنا دھندہ،پولیس افسران کیخلاف مہم، ایکشن کی ضرورت

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    پولیس لائن حملہ،دہشتگرد کی سوشل میڈیا سے ہوئی بھرتی،سیکورٹی اداروں کی بڑی کامیابی

    بھارت میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیارات فوج کے سپرد

    عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کیخلاف اکسانے والا گرفتار

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،افواہیں پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ،اہم منظوری

    سوشل میڈیا لائیکس اور ڈسلائیکس کیلئے اداروں سے کھیلا جا رہا ہے،چیف جسٹس

  • نسان مالی بحران کا شکار،چیف فنانس آفیسر مستعفی

    نسان مالی بحران کا شکار،چیف فنانس آفیسر مستعفی

    نِسان کی مالی بحران کی حقیقت سامنے آئی، چیف فنانس آفیسر نے استعفیٰ دے دیا

    نِسان، جو جاپان کی معروف آٹوموبائل کمپنی ہے، ان دنوں شدید مالی بحران کا شکار ہے، اور اس کے نتیجے میں کمپنی کے چیف فنانس آفیسر اسٹیفن ما نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کمپنی کے بحران کی بنیادی وجہ چین سے آنے والی سستی برقی گاڑیاں بتائی جا رہی ہیں، جو نِسان کے لیے سنگین چیلنج بن گئی ہیں۔

    نِسان، جو برطانیہ میں 7,000 اور امریکہ میں 17,000 افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، اس وقت ایک بڑے لاگت کم کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ 9,000 ملازمتیں ختم کرے گی اور اپنی عالمی پیداوار کی صلاحیت کا 20 فیصد کم کرے گی، تاکہ موجودہ مالی سال میں 2.6 بلین ڈالر (تقریباً 2 بلین پاؤنڈ) کی بچت کی جا سکے۔نِسان کا کہنا ہے کہ اس کی آمدنی میں کمی چین اور امریکہ جیسے اہم مارکیٹس میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے، اور اس کی حکمت عملی اب چین سے آنے والی سستی برقی گاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کی پیداوار کی لاگت کو 30 فیصد تک کم کرنا ہے۔

    چینی آٹوموبائل کمپنیاں جیسے BYD، چیری، جیلی، اور SAIC موٹر اپنی سستی برقی گاڑیوں کے ساتھ عالمی منڈی میں دھوم مچائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر BYD نے حال ہی میں ٹیسلا کو اپنے سہ ماہی ریونیو کی بنیاد پر پیچھے چھوڑا، جب کہ ٹیسلا کی آمدنی 25.2 بلین ڈالر تھی، جب کہ BYD کی آمدنی 28.2 بلین ڈالر تھی۔نِسان کے چیف ایگزیکٹیو، میکوتو اوچِڈا نے کہا کہ "ہم نے یہ سبق سیکھا ہے کہ ہم وقت کے ساتھ نہیں چل سکے اور ہم یہ پیش گوئی نہیں کر سکے کہ ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں اتنی مقبول ہوں گی۔”

    نِسان کی عالمی فروخت میں پہلی ششماہی کے دوران 3.8 فیصد کمی آئی ہے، جس میں چین میں 14.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ کمپنی کی مالی حالت اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نِسان 2026 تک اپنے سب سے بڑے قرض میں 5.6 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔نِسان نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی پیداوار کی صلاحیت کو 20 فیصد کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت 25 گاڑیوں کی پیداوار لائنز میں تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ آپریشنل لاگت میں کمی کی جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل میں آپریشنل عملے کی کارکردگی بڑھانے کے لیے پیداوار کی رفتار اور شفٹوں میں تبدیلیاں کرے گی۔

    nissan
    نِسان کی حکمت عملی میں چین اور امریکہ جیسے بڑے بازاروں میں برقی گاڑیوں کی فروخت کو بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں، لیکن ان کم قیمت برقی گاڑیوں کے خلاف کامیاب مقابلہ کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ، نِسان کو اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ وہ 2026 تک اپنے سب سے بڑے قرض میں مزید اضافہ کر سکتی ہے، جس سے کمپنی کے مالی استحکام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

    نِسان کے اندرونی ذرائع کے مطابق، کمپنی کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف 12 سے 14 ماہ ہیں۔ اس دوران اسے اپنی پیداوار بڑھانے کے لیے جاپان اور امریکہ جیسے اہم مارکیٹس سے نقد رقم کی فراہمی کی ضرورت ہو گی۔ کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ نِسان جاپان کی دوسری بڑی کار ساز کمپنی ہونڈا کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کر سکتی ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ہونڈا نِسان میں ایک حصہ خریدے، حالانکہ یہ ایک آخری حربہ ہو گا۔

    برطانیہ میں برقی گاڑیوں کی فروخت میں کمی کے پیش نظر نِسان نے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برطانیہ کی "زیرو ایمیشنز وہیکلز مینڈیٹ” کے تحت کار ساز کمپنیوں کو ہر سال اپنے برقی گاڑیوں کی فروخت کا تناسب بڑھانا ہوتا ہے، جو 2030 تک نئے پٹرول اور ڈیزل انجن والی گاڑیوں کی مکمل پابندی کی طرف لے جائے گا۔ نِسان کا کہنا ہے کہ اگر یہ ہدف پورا نہ ہوا تو کمپنیوں کو بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور انہیں برقی گاڑیوں کے مخصوص کریڈٹس خریدنے پڑیں گے، جن کی کوئی بھی مقامی پیداوار نہیں کرتا۔

    nissan
    نِسان کی موجودہ مالی حالت اور اس کے مستقبل کے لیے چیلنجز واضح ہیں۔ چینی برقی گاڑیوں کی سستی قیمتوں اور عالمی منڈی میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سامنے نِسان کو اپنے کاروباری ماڈل کو جدید بنانے اور کم قیمت برقی گاڑیوں کی پیداوار میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

  • صرف200  کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    صرف200 کے عوض پاکستانی جاسوس بننے والا گرفتار ،بھارتی مضحکہ خیز دعویٰ

    بھارتی میڈیا گاہے بگاہے الٹے سیدھے دعوے کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اسے پوری دنیا میں خود ہی رسوا ہونا پڑتا ہے، اب بھی ایک ایسا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شہری محض 200 روپے کے بدلے پاکستان کیساتھ حساس معلومات شیئرکررہا تھا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا کہ بھارتی ریاست گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے احمد آباد میں ایک مزدور کو مبینہ طور پر انڈین کوسٹ گارڈ کے جہاز کی نقل و حرکت کے بارے میں حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دپیش گوہل نامی ایک مزدور کو پاکستان میں ایک خاتون کے ساتھ بھارتی کوسٹ گارڈ کے جہازوں سے متعلق حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، اسے روزانہ 200 روپے ملتے تھے۔اے ٹی ایس پولیس افیسر سدھارتھ کے مطابق پولیس دپیش گوہل نامی مزدور کی نگرانی کر رہی تھی جب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ وہ پاکستان میں ایک خاتون سے رابطے میں ہے۔اس حوالے سے ایس پی نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ اسے بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 61 اور 147 کے تحت مجرمانہ سازش اور حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے افیسر سدھارتھ نے دعویٰ کیا کہ دپیش گوہل نے اوکھا جیٹی پر تین سال تک کوسٹ گارڈ کے جہازوں کی مرمت کا کام کیا، سات ماہ قبل اس کی فیس بک پر سہیما نامی خاتون سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد دونوں کے درمیان واٹس ایپ چیٹ کا سلسلہ ہوا۔ ایس اپی کے مطابق خاتون نے دپیش گوہل کو انڈین کوسٹ گارڈ کے جہازوں کے نام، نمبر اور نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلات بتانے کے لیے یومیہ 200 روپے کی پیشکش کی۔ یہ جاننے کے باوجود کہ یہ غیر قانونی ہے، گوہیل نے حساس معلومات کا اشتراک کرنے پر اتفاق کیا۔اے ٹی ایس افیسر سدھارتھ نے مزید کہا کہ چونکہ دپیش گوہل کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا، اس لیے وہ دوستوں کے اکاؤنٹس کا استعمال کرکے خاتون سے رقم وصول کرتا تھا۔ سات مہینوں کے دوران، اس کے دوستوں نے آن لائن لین دین کے ذریعے 42 ہزار روپے حاصل کیے، اور پھر گوہل کو نقد رقم دے دی۔

    فوج کا پرتشدد ہجوم سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، وزارت داخلہ

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • جنوبی افریقہ کے 3 سابق کرکٹرز کرپشن کیس میں گرفتار

    جنوبی افریقہ کے 3 سابق کرکٹرز کرپشن کیس میں گرفتار

    پولیس نے جنوبی افریقہ کے 3 سابق کرکٹرز کو کرپشن کیس میں گرفتار کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی افریقہ کی پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 3 سابق کرکٹرز کرپشن کیس میں گرفتار کرلیا ہے، سوٹ سوبے، سولوکیلی اور ایم بھالاتی پر میچ فکسنگ کے الزامات ہیں۔کرکٹ جنوبی افریقہ کے مطابق تینوں کھلاڑیوں کو 2017 میں کرکٹ سے معطل کیا جاچکا ہے۔اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے انسداد بدعنوانی ٹریبیونل نے میچ فکسنگ کا الزام سچ ثابت ہونے پر دو کھلاڑیوں پر پابندی عائد کردی تھی۔رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں اماراتی کھلاڑیوں محمد نوید اور شیمان انور کو میچ فکسنگ کا قصور وار قرار دیاگیا تھا۔متحدہ عرب امارات کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد نوید اور بلے باز شیمان انور پر 2019 میں کرپشن کا الزام عائد کیا گیا تھا۔آئی سی سی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے مطابق محمد نوید اور شیمان انور نے 2019 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہونے والے اماراتی ٹیم کے کھلاڑیوں کو میچ فکسنگ کی پیش کش کی تھی۔رپورٹ کے مطابق بعد ازاں اماراتی کرکٹ بورڈ نے محمد نوید پر ٹی ٹین لیگ سے متعلق دو کرپشن کیسز کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخواہ میں کارروائیاں، 8 خارجی دہشتگرد ہلاک

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    چین کا تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر شدید ردعمل

    چین نے امریکہ کی جانب سے چین کے تائیوان علاقے کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری پر شدید ردعمل دیا ہے.

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے چین کے تائیوان علاقے کو 385 ملین امریکی ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی امریکی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کے تائیوان علاقے کو امریکی اسلحے کی فروخت ایک چین کے اصول اور تین چین-امریکہ مشترکہ اعلامیوں کی دفعات، بالخصوص ’’17 اگست‘‘کے اعلامییکی سنگین خلاف ورزی ہے، جو نہ صرف ’’تائیوان کی ‘‘ علیحدگی پسند قوتوں کو غلط پیغام دیتی ہے بلکہ امریکی رہنما کے اس بیان کے منافی بھی ہے کہ "امریکہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت نہیں کرتا”۔چین اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ چین قومی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔ اسی دن چین کی ریاستی کونسل کے دفتر امور تائیوان نے اس حوالے سے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے اور کسی بھی قوت یا کسی بھی طاقت کو قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چینی عوام کے پختہ عزم اور مضبوط صلاحیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہتھیار خریدنا سلامتی نہیں خرید سکتا، "پروٹیکشن منی” "تائیوان کی علیحدگی” کی حفاظت نہیں لا سکتی اور ’’علیحدگی کے لئے امریکہ پر انحصار کرنا‘‘یقینا ناکام ہوگا۔

    کاکول میں کیڈٹس کی مشترکہ عسکری تربیت کا آغاز

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    پہلا ٹی ٹونٹی، پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    تین ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کے پہلے مقابلے میں پاکستان نے زمبابوے کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سے قبل زمبابوے کے خلاف پہلے ٹی 20 میچ کے لیے گیارہ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا۔ سلمان علی آغا قومی ٹیم کی قیادت کریں گے جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں صائم ایوب، عمیر بن یوسف ،عثمان خان، طیب طاہر، محمد عرفان خان، جہانداد خان ، محمد عباس آفریدی، حارث رؤف، ابرار احمد اور سفیان مقیم شامل ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ سیریز میں نئے چہرے نظر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلی ترجیح تو سیریز جیتنا ہے، ہم اپنی بینچ اسٹرینتھ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں ہمیں اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ موقع دینا ہے، ہم نے ون ڈے سیریز جیتی اب بھی ہدف ٹی ٹونٹی سیریز جیتنا ہے۔ٹی20 ٹیم کے کپتان نے مزید کہا کہ ٹی ٹونٹی سیریز میں نئے چہرے نظر آئیں گے، یہ بھی وائٹ بال سیریز ہے ہمیں کچھ ایڈجسٹ ہونا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹونٹی سیریز میں اپنا مومینٹم برقرار رکھیں گے، اسکواڈ میں ہمارے پاس اچھے اسپنر ہیں، ہم جارحانہ انداز میں کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا