Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • برطانیہ میں  16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کا اعلان

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

    پیر کے روز میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت 16 سال سے کم عمر تمام بچوں کی بڑی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی بند کر دے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی سلامتی اور خوشی پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں، اسی لیے یہ پابندی ہر صورت نافذ کی جائے گی پابندی کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی اجنبی افراد سے بلا نگرانی رابطے کی اجازت نہیں ہوگی ان اقدامات کو انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے ’عالمی معیار کی کارروائی‘ قرار دیا۔

    اس حوالے سے قانون سازی رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی جبکہ پابندی کا عملی نفاذ 2027 کے موسمِ بہار سے شروع ہوگا عمر کی تصدیق کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاہم یوٹیوب کڈز اور گوگل کلاس روم جیسی بعض تعلیمی سروسز کو استثنی حا صل ہوگا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کو اپنی جانب مسلسل متوجہ رکھیں ان کے بقول ’لامحدود اسکرول‘ جیسی خصوصیات بچوں کو ہوم ورک، مطالعے، کھیل کود اور بروقت آرام سے دور کر دیتی ہیں۔

    دوسری جانب اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے اپوزیشن جماعت لبرل ڈیموکریٹس نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی مقاصد کے لیے ایک نامکمل اور جلد بازی میں تیار کی گئی پالیسی نافذ کر رہی ہے۔ بعض حکومتی حلقوں میں بھی اس فیصلے کے وقت اور طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ، کابینہ میں استعفوں اور دفاعی اخراجات سے متعلق تنازعات کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ بچوں کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے اور دونوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

  • برطانیہ میں شرحِ پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر

    برطانیہ میں شرحِ پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر

    لندن: انگلینڈ اور ویلز میں شرحِ پیدائش ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی ہے جبکہ گزشتہ برس پیدا ہونے والے بچوں میں سے 40 فیصد سے زائد ایسے تھے جن کے کم از کم ایک والدین برطانیہ سے باہر پیدا ہوئے۔

    برطانوی ادارہ برائے قومی شماریات کی جانب سے جاری نئے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں خواتین کی متوقع اوسط شرحِ پیدائش 1.39 بچوں تک گر گئی، جو 2024 میں 1.41 تھی۔ ماہرین کے مطابق آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے شرحِ پیدائش تقریباً 2.1 ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں گزشتہ سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً نصف صدی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جو گزشتہ ایک دہائی سے جاری مسلسل کمی کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

    اعداد و شمار میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2025 میں 40.2 فیصد بچے ایسے والدین کے ہاں پیدا ہوئے جن میں سے کم از کم ایک والدین برطانیہ سے باہر پیدا ہوا تھا، جبکہ یہ شرح 2024 میں 39.5 فیصد تھی۔غیر ملکی نژاد ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2005 میں یہ شرح 20.8 فیصد تھی، جو 2015 میں 27.5 فیصد اور 2025 میں بڑھ کر 34.6 فیصد تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق غیر برطانوی نژاد ماؤں میں بھارت سرفہرست رہا، جبکہ پاکستان، نائجیریا اور رومانیہ کا شمار بھی نمایاں ممالک میں ہوا۔

    ادارہ شماریات کے سربراہ گریگ سیلی نے کہا کہ 2025 میں بچوں کی پیدائش کی تعداد تقریباً نصف صدی کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور یہ رجحان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل جاری ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیرِ تعلیم بریجٹ فلپسن نے شرحِ پیدائش میں کمی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے کرایے، رہائشی قرضوں کی اقساط، ایندھن، خوراک اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات نے لوگوں کو بچے پیدا کرنے سے روک دیا ہے۔

  • برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کااسکینڈل، 7 افغان باشندے گرفتار

    برطانیہ کی نورفولک پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے دوران غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افغان گروپ کے 7 ارکان کو بچوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات میں حراست میں لے لیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے ان ملزمان کو ناروچ اور ڈمبرٹن کے مختلف پتوں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس کی اس کارروائی کا تعلق 2 لڑکیوں سے ہے جو ان جرائم کے وقت نابالغ تھیںان مظلوم لڑکیوں کے ساتھ اگست 2023 اور مئی 2025 کے دوران ناروچ کے علاقوں میں یہ گھناؤنے واقعات پیش آئے تھےملزمان کو عدالت میں جج کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے ان کے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کے طریقوں سے پردہ اٹھایا۔

    ہونے والے ملزمان 5 چھوٹی کشتیوں کے ذریعے، ایک لاری میں چھپ کر اور ایک بندرگاہ کے راستے غیر قانونی طور پر برطانوی حدود میں داخل ہوئے تھے پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ان ملزمان میں سے کوئی بھی نورفولک میں قائم پناہ گزینوں کی سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم نہیں رہا ہے۔

    خواتین کے تحفظ کی برطانوی وزیر نٹالی فلیٹ نے ان واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں انتہائی گھناؤنا قرار دیا اور متاثرہ لڑکیوں اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ان ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ غیر ملکی مجرموں کے لیے برطانیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

  • برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے امن کردار کی گونج

    برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے امن کردار کی گونج

    برطانوی ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے امن کردار کی گونج؛ لارڈ قربان حسین نےبرطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا

    لارڈ قربان حسین نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے باعث ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، جس پر برطانوی پارلیمنٹ پاکستان کی شکر گزار ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی ناکامی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے بیجا طاقت کے استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ لارڈ قربان حسین نے عالمی برادری اور برطانیہ پر زور دیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر کسی بھی بڑی تباہی کو روکنے اور جنوبی ایشیا کے 1.7 ارب عوام کے پرامن مستقبل کے لیے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

  • برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانوی ریڈیو نے غلطی سے شاہ چارلس کے انتقال کی خبر نشر کردی

    برطانیہ کے معروف ریڈیو اسٹیشن ’ریڈیو کیرولائن‘ نے کمپیوٹر خرابی کے باعث غلطی سے شاہ چارلس سوم کی وفات کا اعلان نشر کرنے پر معذرت کرلی۔

    ریڈیو کیرولائن کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ منگل کی دوپہر مشرقی ایسکس کے شہر مالڈن میں قائم مرکزی اسٹوڈیو میں کمپیوٹر خرابی کے باعث یہ غلط اعلان نشر ہوا۔

    اسٹیشن منیجر پیٹر مور کے مطابق تکنیکی خرابی کے نتیجے میں وہ خصوصی طریقۂ کار متحرک ہوگیا جو برطانیہ کے تمام نشریاتی ادارے بادشاہ یا ملکہ کی وفات کی صور ت میں استعمال کے لیے تیار رکھتے ہیں، اگرچہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت پیش نہ آئے، مذکورہ پروٹوکول فعال ہونے کے بعد ریڈیو کی نشریات بھی وقتی طور پر معطل ہوگئیں، جس سے انتظامیہ کو صورتحال کا علم ہوا، بعد ازاں نشریات بحال کرکے آن ایئر معذرت نشر کی گئی۔

    پیٹر مور نے کہا کہ ریڈیو کیرولائن کو ماضی میں ملکہ الزبتھ دوم اور اب شاہ چارلس کے کرسمس پیغامات نشر کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ادارہ مستقبل میں بھی یہ روایت جاری رکھنے کا خواہاں ہےہم اس غلطی سے ہونے والی پریشانی پر شاہ معظم اور اپنے سامعین سے معذرت خواہ ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب شاہ چارلس اور ملکہ کیملا شمالی آئرلینڈ کے دورے پر تھے، جہاں انہوں نے ایک آئرش فوک میوزک گروپ کی پرفارمنس میں شرکت بھی کی، ریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹ پر منگل کی دوپہر تقریباً 2 بجے سے شام 5 بجے تک کی نشریات بعد میں دستیاب نہیں تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ غلطی کتنی دیر بعد سامنے آئی۔

    واضح رہے کہ ریڈیو کیرولائن 1964 میں بی بی سی کی نشریاتی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا یہ ریڈیو اسٹیشن ابتدا میں برطانوی ساحل کے قریب سمندر میں موجود جہازوں سے نشریات نشر کرتا تھا 1967 میں قانون سازی کے بعد متعدد پائریٹ ریڈیو اسٹیشن بند ہوگئے، تاہم ریڈیو کیرولائن مختلف وقفوں سے نشریات جاری رکھتا رہا اور بالآخر 1990 میں اس کی سمندری نشریات ختم ہوگئیں۔

  • لندن: فلسطینیوں کی حمایت میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیل کیخلاف شدید نعرے

    لندن: فلسطینیوں کی حمایت میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، اسرائیل کیخلاف شدید نعرے

    لندن میں آج دو بڑے مظاہرے ہوئے جس کے باعث غیر معمولی سیکیورٹی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پہلا عظیم الشان مظاہرہ فلسطین کے حق میں بنام ’’نکبہ ڈے مارچ‘‘ کیا گیا۔ جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا،مظاہرین نے فلسطینی پرچم اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں اسرائیلی بمباری کی مذمت اور فلسطینیوں کو بنیا دی حقوق کی فراہمی کے مطالبے درج تھے-

    یہ مظاہرہ “نکبہ ڈے” کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا جو ہر سال فلسطینیوں کی 1948 میں بڑے پیمانے پر بے دخلی کی یاد میں منایا جاتا ہےس موقع پر نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھی اپنی اینٹی فاشسٹ ریلی کو فلسطین مارچ کے ساتھ ملا دیا۔

    فلسطین حامی مظاہرین نے غزہ میں جنگ بندی، فلسطینی ریاست کے قیام اور برطانوی حکومت سے اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کے مطالبات کیے، میٹروپولیٹن پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے تھے جن میں لندن سے باہر سے بلائے گئے اضافی پولیس افسران بھی شامل تھے۔

    پولیس نے بکتر بند گاڑیاں، گھڑ سوار دستے، ڈرونز، کتوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا۔ یہ حالیہ برسوں میں لندن کی سب سے بڑی پبلک آرڈر کارروائی تھی پولیس نے پہلی بار احتجاجی مظاہروں میں “لائیو فیشل ریکگنیشن” ٹیکنالوجی بھی استعمال کی، جبکہ منتظمین کو قانونی طور پر اس بات کا پابند بنایا گیا کہ مدعو مقررین نفرت انگیز تقاریر نہ کریں۔

    واضح رہے کہ ان مظاہروں سے ایک روز قبل برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا تھا کہ سڑکوں پر بدامنی یا دھمکی آمیز رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • ناز شاہ برطانوی پارلیمان میں  کنگ کے  خطاب پر  تجویزپیش کرنیوالی پہلی مسلم خاتون بن گئیں

    ناز شاہ برطانوی پارلیمان میں کنگ کے خطاب پر تجویزپیش کرنیوالی پہلی مسلم خاتون بن گئیں

    برطانوی پارلیمانی تاریخ میں 13 مئی 2026 کو ایک اہم تاریخی سنگ میل عبور کیا گیا، جب بریڈ فورڈ ویسٹ سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ ایوانِ عوام (House of Commons) میں بادشاہ (کنگ چارلس سوئم) کے خطاب پر ’وفادار خطاب‘ (Loyal Address) کی تجویز پیش کرنے والی پہلی مسلم خاتون بن گئیں۔

    ناز شاہ نے برطانوی پارلیمان میں "Humble Address” یا "Loyal Address” پیش کیا، جو بادشاہ کے خطاب (King’s Speech) کے جواب میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (House of Commons) میں ہونے والی بحث کا آغاز کرتا ہے۔

    ناز شاہ پارلیمانی تاریخ میں اس اعلیٰ ترین روایت کو نبھانے والی پہلی مسلمان ہیں ناز شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "یہ میری زندگی کا اعزاز ہے کہ میں وفادار خطاب پیش کر رہی ہوں یہ لمحہ بریڈ فورڈ ویسٹ کے لوگوں کا ہے میں ایوان میں یہ تجویز پیش کرنے والی پہلی مسلمان ہوں-

    یہ تقریب برطانیہ میں پارلیمانی سیشن کے آغاز پر ہوتی ہے جہاں بادشاہ حکومت کے ایجنڈے کا خاکہ پیش کرتے ہیں، ناز شاہ نے برطانوی پارلیمنٹ کی روایت کے مطابق اس خطاب میں مزاح اور سنجیدگی کا امتزاج پیش کیا۔

    واضح رہے کہ ناز شاہ نے اس تاریخی موقع پر بادشاہ چارلس کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے امریکہ کے حالیہ ریاستی دورے اور ان کی بلاغت کی تعریف بھی کی جبکہ یہ واقعہ برطانوی سیاست میں تنوع (Diversity) اور مسلم نمائندگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

  • برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے ایران سے وابستہ مبینہ نیٹ ورک کے 12 افراد اور اداروں پر برطانیہ اور دیگر ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق برطانوی دفترخارجہ نے بتایا کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور ادارے ایران سے منسلک ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے ہیں، جسے “زندشتی نیٹ ورک” کے نام سے بیان کیا گیا ہے ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک دشمنانہ سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی، خفیہ کارروائیاں اور ایسے گروہوں کی مالی معاونت شامل ہے جن پر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کچھ افراد براہ راست حملوں میں شریک رہے جب کہ دیگر نے مالی خدمات یا معاونت فراہم کی عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمز نے بتایا کہ ان کی حکومت پہلے ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہی ہےان کے بقول ان قوانین کے تحت ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کو غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس قرار دے کر ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا برطانوی حکومت اس قبل متعدد بار اعتراض اُٹھا چکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  • شہزادہ ہیری کا  اہلیہ کیلئےاہم قدم اٹھانے کا فیصلہ

    شہزادہ ہیری کا اہلیہ کیلئےاہم قدم اٹھانے کا فیصلہ

    شہزادہ ہیری نے اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے لیے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری برطانیہ واپسی سے قبل اپنی اہلیہ کے لیے سازگار ماحول یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اطلاعات ہیں کہ وہ اپنے والد بادشاہ چارلس سے براہِ راست بات چیت کے خواہاں ہیں تاکہ ممکنہ تنازعات سے بچا جا سکے بادشاہ چارلس رواں موسمِ گرما میں ہیری کے بچوں آرچی اور لیلی بیٹ کو برطانیہ میں خوش آمدید کہنے کے لیےپُرامید ہیں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میگھن مارکل بھی بچوں کے ہمراہ برطانیہ آ سکتی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق شہزادہ ہیری اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ان کی اہلیہ کو برطانیہ میں منفی رویوں یا تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑےاسی مقصد کے لیے وہ اپنے والد سے ’صاف گوئی پر مبنی‘ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاملات پہلے ہی طے ہو جائیں،شہزادہ ہیری ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، ایک طرف وہ اپنے والد کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ اپنی اہلیہ کو ممکنہ تنقید اور تنازعات سے بچانا بھی چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ 2027 میں انویکٹس گیمز برطانیہ کے شہر برمنگھم میں منعقد ہوں گے، جن کی میزبانی شہزادہ ہیری کریں گے، اور وہ اس موقع پر شاہی خاندان کی شرکت کے بھی خواہاں ہیں۔

  • جمائما گولڈ اسمتھ  کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    جمائما گولڈ اسمتھ کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ مبینہ طور پر دوبارہ شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں-

    برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمائما گولڈ سمتھ ایک سال سے ڈبلن میں پیدا ہونے والے بزنس مین کیمرون او ریلی کے ساتھ رشتے میں ہیں، جو ایک ارب پتی فنانسر اور معروف بزنس مین ہیں بتایا گیا ہے کہ دونوں نے منگنی کر لی ہے، 62 سالہ کیمرون او ریلی، آنجہانی بین الاقوامی رگبی کھلاڑی سر انتھونی او ریلی کے بیٹے ہیں، جوڑا اس وقت ایک ساتھ رہ رہا ہے اور اپنا وقت سوئٹزرلینڈ میں کیمرون کے گھر اور لندن میں جمائما کے گھر کے درمیان گزارتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات دستاویزی فلموں سے متعلق کام کے دوران ہوئی تھی اور ابتدا میں وہ دوست رہے ایک قریبی ذریعے نے کہا کہ ‘وہ تقریباً ایک سال سے ساتھ ہیں، کیمرون ایک نہایت نجی شخصیت ہیں اور جمائما ان کی نجی زندگی کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں، جمائما کے اہلِ خانہ بھی اس رشتے سے خوش ہیں، اور ان کے بھائی رابن برلے، جو لندن کے معروف کلب فائیو ہارٹ فورڈ اسٹریٹ کے مالک ہیں، کیمرون او ریلی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ اس سے قبل پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ رہ چکی ہیں، دونوں کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور 2004 میں علیحدگی ہو گئی تھی ان کے دو بیٹے قاسم اور سلیمان ہیں۔