Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • جمائما گولڈ اسمتھ  کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    جمائما گولڈ اسمتھ کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ مبینہ طور پر دوبارہ شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں-

    برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمائما گولڈ سمتھ ایک سال سے ڈبلن میں پیدا ہونے والے بزنس مین کیمرون او ریلی کے ساتھ رشتے میں ہیں، جو ایک ارب پتی فنانسر اور معروف بزنس مین ہیں بتایا گیا ہے کہ دونوں نے منگنی کر لی ہے، 62 سالہ کیمرون او ریلی، آنجہانی بین الاقوامی رگبی کھلاڑی سر انتھونی او ریلی کے بیٹے ہیں، جوڑا اس وقت ایک ساتھ رہ رہا ہے اور اپنا وقت سوئٹزرلینڈ میں کیمرون کے گھر اور لندن میں جمائما کے گھر کے درمیان گزارتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات دستاویزی فلموں سے متعلق کام کے دوران ہوئی تھی اور ابتدا میں وہ دوست رہے ایک قریبی ذریعے نے کہا کہ ‘وہ تقریباً ایک سال سے ساتھ ہیں، کیمرون ایک نہایت نجی شخصیت ہیں اور جمائما ان کی نجی زندگی کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں، جمائما کے اہلِ خانہ بھی اس رشتے سے خوش ہیں، اور ان کے بھائی رابن برلے، جو لندن کے معروف کلب فائیو ہارٹ فورڈ اسٹریٹ کے مالک ہیں، کیمرون او ریلی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ اس سے قبل پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ رہ چکی ہیں، دونوں کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور 2004 میں علیحدگی ہو گئی تھی ان کے دو بیٹے قاسم اور سلیمان ہیں۔

  • امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں  ہے،برطانوی سفیر

    امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعلق اب پہلے جیسا نہیں ہے،برطانوی سفیر

    امریکا میں برطانیہ کے سفیر سر کرسچن ٹرنر نے کہا ہے کہ امریکا کا خصوصی تعلق برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر صرف اسرائیل کے ساتھ ہے،امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں –

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو میں برطانوی سفیر نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعلق ضرور موجود ہے، خاص طور پر دفاع اور معیشت کے شعبوں میں، تاہم عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، امریکا اور برطانیہ کے درمیان تعاون جاری رہے گا لیکن یہ تعلق اب پہلے جیسا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی صورتحال کے مطابق نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا یورپ اب مکمل طور پر امریکا کے سکیورٹی نظام پر انحصار نہیں کر سکتا، اس وقت امریکا کا خاص تعلق صرف ایک ملک کے ساتھ ہے اور وہ ملک اسرائیل ہےبرطانوی سفیر نے موجودہ دور میں مغربی اتحادی ممالک کو اپنے تعلقات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سفیر کی ذاتی رائے اور خیالات ہیں اور حکومت کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔

  • برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو  افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کو افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور ، طالبان سے رابطوں کا انکشاف

    برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طالبان سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے-

    برطانیہ نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایسے افغان شہریوں کو دوبارہ افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس سلسلے میں کابل میں برطانوی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطوں اور بات چیت کا انکشاف ہوا ہے، جس نے برطانیہ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت واپس بھیجے جانے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔

    ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس ممکنہ فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پناہ گزینوں کی جبری واپسی ایک انتہائی خطرناک اور متنازع قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار 330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئیں، لیکن سیکیورٹی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث صرف 135 افراد کو ہی رضاکارانہ یا جبری طور پر واپس بھیجا جاسکا-

  • امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکا نے مہنگے جاسوس ڈرون کی آبنائے ہرمز میں تباہ ہونے کی تصدیق کردی

    امریکی نیوی نے خلیج فارس میں اپنے جدید اور انتہائی مہنگے جاسوس ڈرون کی تباہی کی تصدیق کردی-

    ایرانی نیوز ایجنسی ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق امریکی نیوی کے مطابق MQ-4C ٹرائٹن نامی بغیر پائلٹ نگرانی کرنے والا طیارہ 9 اپریل کو خلیج فارس کے علاقے میں تباہ ہوا، حکام نے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا ہے، تاہم اس کے اسباب کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ڈرون کے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز سے غائب ہونے کے بعد متعدد ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اسے ایرانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا، اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، لیکن واقعے نے خطے میں کشیدگی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

    ایم کیو-4 سی ٹرائٹن ایک انتہائی جدید اور قیمتی ڈرون ہے، جس کی مالیت تقریباً 23 کروڑ 50 لاکھ سے 25 کروڑ ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ قیمت کے باعث اب تک صرف 20 طیارے ہی سروس میں شامل کیے گئے ہیں یہ ڈرون طویل فاصلے تک سمندری نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور 13 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کے ساتھ وسیع علاقے پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اس میں جدید ریڈار سسٹم، الیکٹرو آپٹیکل اور انفراریڈ سینسرز نصب ہوتے ہیں جو سمندر میں جہازوں اور دیگر اہداف کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ڈرون کے غائب ہونے سے قبل اس کی پرواز میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی سے تیزی سے نیچے آتے ہوئے 10 ہزار فٹ سے کم سطح پر پہنچ گیااس دوران ڈرون نے ہنگامی سگنل بھی نشر کیے، جن میں پہلے کمیونیکیشن کی خرابی کا کوڈ اور بعد میں مکمل ایمرجنسی کا کوڈ شامل تھا امریکی نیوی کےمطابق یہ ڈرون خلیج فارس اور آبنائےہرمز میں نگرانی کا مشن مکمل کرنے کےبعد اٹلی کے نیول ایئر اسٹیشن سگونیلا میں اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہا تھا۔

    واضح رہے کہ 2019 میں بھی ایران نے اسی نوعیت کے ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے ملبے کی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔

  • برطانیہ  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا،برطانوی میڈیا

    برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوگا۔

    ایک بیان میں ترجمان برطانوی حکومت نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور ہرمز کھلنے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ عالمی معیشت پر اور ملک میں مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور ایران کو ٹول ادا کرنے والے جہازوں کو بھی روکا جائے گا ،تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی۔ ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 10 بجے پا کستانی وقت کےمطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی آج شام 7 بجے سے شروع ہوگی ناکہ بندی کا عارضی نفاذ جہازوں کی ایرانی پورٹس میں آمدورفت پر ہوگا ناکہ بندی کا نفاذ خلیج عرب اور خلیج عمان میں ایرانی پورٹس سے آنے جانے والےجہازوں پربھی ہوگا۔دیگر ملکوں کے پورٹس سے جہازو ں کی آمدورفت کی ناکہ بندی نہیں ہوگی۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔

  • ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار

    ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔

    معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔

    رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔

    تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔

    برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز  میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    برٹش ایئرویز کی پرواز میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔

    یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے، اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔

    ابتدائی طور پر عملے نے مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا، آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔

    جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا،لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسا فر وں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔

    برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔

    انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔

    نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔

  • لندن میں یہودیوں کی عبادت گاہ  کے باہر   ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی

    لندن میں یہودیوں کی عبادت گاہ کے باہر ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی

    یہود دشمنی کے ایک سنگین واقعے میں، شمالی لندن میں یہودی رضاکار ایمبولینس سروس (Hatzola) کی گاڑیوں کو عبادت گاہ کے باہر جان بوجھ کر آگ لگا دی گئی، جس سے گاڑیاں مکمل تباہ ہوگئیں۔

    بی بی سی اردو کے مطابق، پولیس اس نفرت انگیز کارروائی کی تحقیقات کر رہی ہے، جسے کمیونٹی لیڈرز نے ایک بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے،شمالی لندن، ایک عبادت گاہ کے قریب، حاتزولا (Hatzola) کی ایمبولینسیں، جو کمیونٹی کی خدمت کے لیے استعمال ہوتی تھیں، تباہ ہو گئیں۔،پولیس اور کمیونٹی نے اسے یہود مخالف حملہ قرار دیا ہے،حکام نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے

    سی این این کے مطابق پیر کے روز علی الصبح لندن کی سب سے بڑی یہودی برادری کے گھر میں ایک یہودی رضاکار ریسکیو آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی کئی ایمبولینسوں کو ایک عبادت گاہ کے باہر آگ لگا دی گئی، جس میں پولیس اسے یہود مخالف حملے کے طور پر دیکھ رہی ہے، گولڈرز گرین کے شمالی لندن کے مضافاتی علاقے کے رہائشی زور دار دھماکوں سے بیدار ہو گئے، درجنوں فائر فائٹرز کو جائے وقوعہ پر تعینات کر دیا گیا۔

    لندن کی میٹ پولیس نے ایک بیان میں کہا، "افسران جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور آتش زنی کے حملے کو سام دشمن نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،” لندن کی میٹ پولیس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کچھ رہائشیوں کو احتیاط کے طور پر وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

    سی این این کے ساتھ شیئر کی گئی سیکیورٹی کیمرہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تین نقاب پوش افراد ہیٹزولا نارتھ ویسٹ سے تعلق رکھنے والی ایک ایمبولینس کے پاس پہنچے اور اسے آگ لگا دی پولیس نے تصدیق کی کہ وہ تین مشتبہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں لیکن کہا کہ "ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔”

    مقامی رہائشی چارلی رچرڈز نے سی این این کو بتایا کہ اس نے صبح 2 بجے سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں، ہٹزولا نارتھ ویسٹ کے چیئرمین شلومی رچمین نے سی این این کو تصدیق کی کہ تنظیم کی چھ ایمبولینسوں میں سے چار کو آگ لگا دی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ انہیں "جان بوجھ کر آتشزنی کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، ہمیں خدشات ہیں کہ یہ یہودی برادری پر براہ راست حملہ ہے-

    سپرنٹنڈنٹ سارہ جیکسن، جو مقامی علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتی ہیں، نے تسلیم کیا کہ کمیونٹی میں بہت زیادہ تشویش ہوگی ہم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مشغول رہیں گے اور مقامی علاقے میں اضافی گشت کریں گے کیونکہ ہم یقین دہانی اور انتہائی نمایاں موجودگی فراہم کرنے کے لیے اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے۔

    Hatzola ایک غیر منافع بخش رضاکار تنظیم ہے جو شمالی لندن کی کمیونٹی کو ہنگامی طبی رسپانس اور ٹرانسپورٹ فراہم کرتی ہے،تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق، ہیتزولا ہر سال ہزاروں ہنگامی حالات کا جواب دیتی ہے، معمولی زخموں سے لے کر جان لیوا حالات تک.گولڈرز گرین بہت سے عبادت گاہوں، اسکولوں اور کوشر ریستوراں کا گھر ہے اور یہ اپنی بڑی یہودی اور آرتھوڈوکس یہودی برادری کے لیے جانا جاتا ہے۔

  • برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی، کینٹربری میں میننجائٹس کے ایک نایاب اور جارحانہ مرض کے پھیلاؤ کے بعد 2 افراد ہلاک اور 11 شدید بیمار ہو گئے ہیں۔

    یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق متاثرہ طلبا کو اینٹی بایوٹکس فراہم کی ہیں تاکہ بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے، اس مہلک بیماری کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو میننجائٹس اور سیپسس (خون میں انفیکشن) پر مشتمل ہیں یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے اور دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے گرد موجود سیال کو متاثر کرتی ہے، جس سے شدید بخار، سر درد، گردن کا سخت ہونا، قے، اسہال، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، روشنی سے حساسیت، ٹھنڈے ہاتھ اور پیر، دورے، الجھن اور شدید نیند جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

    بھارت: اسپتال میں آتشزدگی، آئی سی یو کے 10مریض ہلاک

    یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ کسی بھی شخص میں ان علامات کے ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا جان بچا سکتا ہے انہوں نے طلبہ اور عملے سے کہا کہ وہ بیماری کی ابتدائی علامات پر توجہ دیں کیونکہ یہ عام نزلہ، فلو یا نشے کے اثرات سے آسانی سے مغالطہ ہو سکتی ہیں۔

    کینٹ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہمیں شدید افسوس ہے کہ ہمارے طالب علم کا انتقال ہوا، ہمارے خیالات اور دعائیں متاثرہ خاندان، دوستوں اور یونیو رسٹی کمیونٹی کے ساتھ ہیں، طلبا اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔

    مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے 90 پروازیں منسوخ

    حکام نے طلبا اور عملے پر زور دیا کہ وہ علامات پر محتاط رہیں کیونکہ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور شدید نتائج مرتب کر سکتی ہےیونیورسٹی کے طلبا اور نوجوان بالغ اس بیماری کے زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ وہ قریبی معاشرتی ماحول میں رہتے، پڑھتے اور میل جول کرتے ہیں، جس سے بیکٹیریا آسانی سے پھیلتا ہے۔

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

    امریکی سینٹ کام نے ایرانی جزیرے خارگ پر شبانہ آپریشن میں پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات جاری کردیں۔

    سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ شب خارگ جزیرے میں بڑے پیمانے پر آپریشن انجام دیا، اس دوران ایرانی بحریہ کی بارودی سرنگوں والی تنصیبات کو تباہ کیا گیا،حملوں میں میزائل گودام، بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور جزیرے میں ایران کے 90 سے زائد فوجی اہداف کامیابی کے ساتھ تباہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ خارگ سے ایندھن کی برآمدات بلا تعطل جاری ہیں اور وہاں کام کرنے والی تیل کمپنیوں کی سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کی عید کے چاند کے حوالے سے نئی پیشگوئی

    پاکستان میں پیٹرولیم سپلائی مستحکم ہے،محمد اورنگزیب

    امریکی سٹی بینک کی شاخوں پر دبئی اور منامہ میں حملہ