Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • جمائما گولڈ اسمتھ نے دوسری شادی کرلی،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    جمائما گولڈ اسمتھ نے دوسری شادی کرلی،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ اور فلم پروڈیوسر جمائما گولڈ اسمتھ نے کیمرون او ریلی سے دوسری شادی کرلی۔

    برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ جمائما گولڈ اسمتھ نے ہفتے کے اختتام پر کیمرون اوریلی کے ساتھ شادی کی جس کی تصدیق جمائما کے بھائی بین گولڈ اسمتھ نے بھی کی ہےجمائما گولڈ اسمتھ کی عمر 52 سال جبکہ ان کے شوہر کیمرون او ریلی کی عمر 62 سال ہے، کیمرون آئرش آسٹریلوی شہری ہیں اور وہ معروف میڈیا شخصیت اور سابق رگبی اسٹار سر انتھونی او ریلی کے بیٹے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جمائما اور کیمرون کی منگنی رواں سال مئی میں سامنے آئی تھی، دونوں کے درمیان تقریباً ایک سال سے تعلق قائم تھا،جمائما کے بھائی بین گولڈ اسمتھ نے گزشتہ رات جوڑے کی شادی کی تصدیق کی جبکہ ان کی اہلیہ جمائما جونز نے آن لائن پیغام میں اسے خوشی کا دن قرار دیا۔

    جمائما اور کیمرون کی ملاقات اس وقت ہوئی جب کیمرون متعدد ڈاکیومنٹریز اور فلموں میں ایگزیکٹو پروڈیوسر کے طور پر کام کررہے تھے دونوں پہلے دوست بنے اور بعد میں ان کی دوستی رومانوی تعلق میں تبدیل ہوگئی،جمائما کے ایک قریبی دوست نے اس سے قبل بتایا تھا کہ دونوں ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے ان کی ملاقات کام کے سلسلے میں ہوئی تھی اور رومانوی تعلق سے پہلے وہ کچھ عرصے تک دوست رہے۔

    ذرائع کے مطابق کیمرون انتہائی نجی زندگی پسند شخصیت ہیں اور جمائما بھی ان کی نجی زندگی کا تحفظ کرنا چاہتی ہیں،کیمرون او ریلی کے چار بچے ہیں جبکہ جمائما کے سابق وزیراعظم عمران خان سے دو بیٹے، سلیمان اور قاسم ہیں،عمران خان سے طلاق کے بعد جمائما نے اداکار ہیو گرانٹ، کامیڈین رسل برانڈ اور ’دی کراؤن‘ کے اسکرپٹ رائٹر پیٹر مورگن سمیت معروف شخصیات کے ساتھ تعلقات رکھے۔

    جمائما کی دوسری شادی ان کی والدہ لیڈی اینابیل گولڈ اسمتھ کے انتقال کے تقریباً ایک سال بعد ہوئی ہے۔ لیڈی اینابیل لندن کے معروف سماجی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتی تھیں، جبکہ جمائما کے والد ارب پتی کاروباری شخصیت سر جیمز گولڈ اسمتھ 1997 میں انتقال کرگئے تھے۔

    دوسری جانب کیمرون او ریلی نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کے میڈیا کاروبار، انڈیپنڈنٹ نیوز اینڈ میڈیا میں تقریباً ایک دہائی تک کام کیا بعد میں انہوں نے آسٹریلوی گروپ اے پی این نیوز اینڈ میڈیا میں بھی خدمات انجام دیں اور 2000 میں چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے الگ ہوگئے۔

    2003 میں کیمرون نے نجی ایکویٹی فنڈ ’بیارڈ کیپیٹل‘ قائم کیا۔ انہوں نے سوئس میٹرنگ کمپنی لینڈس اینڈ گیر خریدی اور اس کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی کام کیا۔2011 میں یہ کمپنی جاپانی کمپنی توشیبا کو 2.3 ارب ڈالر میں فروخت کردی گئی۔

  • بچوں کے فحش مواد پر امریکی سفارت کار کی خفیہ منتقلی

    بچوں کے فحش مواد پر امریکی سفارت کار کی خفیہ منتقلی

    لندن میں امریکی سفارت خانے میں تعینات ایک امریکی سفارت کار کے خلاف بچوں سے متعلق فحش مواد کے الزامات سامنے آنے کے بعد امریکی حکام نے اسے برطانیہ سے خفیہ طور پر امریکا منتقل کر دیا –

    برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے مذکورہ سفارت کار کے بھائی کی امریکا میں جاری ایک تفتیش کے سلسلے میں الیکٹرانک آلات کا معائنہ کیا تو یہ مواد دریافت ہوا، جس کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکی میرینز نے لندن میں سفارت کار کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

    رپورٹ کے مطابق، برطانیہ کی پولیس اور اعلیٰ حکام کو اس وقت خبر دی گئی جب سفارت کار کو ملٹری طیارے کے ذریعے برطانیہ کی حدود سے باہر منتقل کیا جا چکا تھا، جس کے بعد برطانیہ نے اپنی سرزمین پر اس آپریشن کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں،اس کارروائی کے لیے ایک خصوصی امریکی ملٹری جہاز شکاگو سے برطانیہ میں قائم ایک امریکی ایئر بیس پہنچا اور بعد میں سفارت کار کو لے کر واپس امریکا روانہ ہو گیا۔

    اس خفیہ منتقلی پر برطانوی پارلیمنٹ میں سخت تشویش ظاہر کی جا رہی ہے، کنزرویٹو پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ بین اوبیس جیکی نے اس عمل پر شدید تنقید کر تے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ امریکی میرینز کی جانب سے برطانوی سرزمین پر ایسا چھاپہ مارنا جس کی ان کے پاس کوئی قانونی اجازت نہیں تھی، اور پھر اپنے سفارت کار کو نکالنے کے لیے عسکری وسائل کا استعمال کرتے ہوئے امریکا لے جانا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

    اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ میں موجود تمام غیر ملکی سفارت کاروں سے مقامی قوانین کی پاسداری کی توقع کی جاتی ہے، تاہم امریکا میں جاری تفتیش کی وجہ سے انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

    لندن میں موجود امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ وہ اپنے عملے سے متعلق ان الزامات سے واقف ہیں اور تمام اہلکاروں کے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھنا ضروری ہے،دوسری طرف ایک امریکی سفارتی ذرائع نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے طویل سفارتی عمل اور قانونی تاخیر سے بچنے کے لیے یہ قدم تیزی سے اٹھایا۔

  • برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ:بچوں کی جنسی بلیک میلنگ روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ

    برطانوی حکومت نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نئی ذمہ داریاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق حکومت جلد ایسا قانون متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت بچوں کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات سے عریاں تصاویر بنانے اور شیئر کرنے کی صلاحیت کو محدود کیا جائے گابرطانیہ میں زیادہ تر اسمارٹ فونز کے آپریٹنگ سسٹم تیار کرنے والی کمپنیوں ایپل اور گوگل کو جون میں 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے زیر استعمال آلات پر عریاں تصاویر تک رسائی روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔

    تاہم برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کی جانب سے کیے گئے اہم وعدوں کے باوجود موجودہ اقدامات مسئلے کی سنگینی سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہیں، مجوزہ قانون کے تحت نہ صرف موبائل فونز بلکہ بچوں کے زیر استعمال ایپس میں بھی عریاں تصاویر کو بلاک کرنے کے لیے حفاظتی نظام متعارف کرانا ہوگا،اس اقدام کا مقصد آن لائن ماحول میں بچوں کو جنسی استحصال، گرومنگ اور بلیک میلنگ سے بچانا ہے۔

    ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے کچھ اقدامات کرچکی ہیں، ایپل نے 2021 میں ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ فیچر متعارف کرایا تھا، جو بچوں کو عریاں تصاویر دیکھنے یا شیئر کرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے اس نظام کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ گوگل نے بھی بچوں کے تحفظ اور بغیر رضامندی کے نجی تصاویر کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں کا دفاع کیا ہے۔

    بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم این ایس پی سی سی نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز سے بنائی جانے والی تصاویر بعض اوقات آن لائن گرومنگ، جنسی بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا آغاز بن سکتی ہیں۔

    برطانوی پولیس حکام بھی ماضی میں خبردار کرچکے ہیں کہ بچوں کے آلات سے عریاں تصاویر بنانے یا شیئر کرنے کی صلاحیت محدود کرنا ’سیکسٹورشن‘ کے خلاف ایک اہم قدم ہوسکتا ہے اس جرم میں بچوں کو پہلے ایسی تصاویر شیئر کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے اور بعد ازاں انہیں انہی تصاویر کی بنیاد پر بلیک میل کیا جاتا ہے مجوزہ قانون بالغ افراد کو عریاں تصاویر تک رسائی سے نہیں روکے گا، تاہم بچوں کے لیے پابندی نافذ کرنے کی خاطر صارف کی عمر کی تصدیق کا نظام درکار ہوسکتا ہے۔

    ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس عمل سے پرائیویسی متاثر ہوسکتی ہے، تاہم حکومت نے نگرانی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی مقصد بچوں کا تحفظ ہے۔

  • پارٹی میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں، مریم نواز

    پارٹی میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں، مریم نواز

    لندن: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب کی طرح دوسرے صوبوں میں بھی عوامی فلاح اور ترقی کے لیے کام ہونا چاہیے، عوام کی خدمت کے لیے محنت کرنا ہوگی، محنت کریں گے تو کام نظر آئے گا۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ترقی اور عوامی فلاح کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی کے لیے مسلسل محنت ضروری ہے۔مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) میں اختلافات اور تقسیم کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں، مسلم لیگ (ن) متحد ہے اور سب مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو توڑنے یا تقسیم کرنے سے متعلق باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی بیٹی کی گریجویشن پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کی گریجویشن ان کے اور ان کے خاندان کے لیے خوشی کا موقع ہے۔مریم نواز نے بتایا کہ وہ آج لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے،کنگ چارلس

    شہزادہ ہیری اور میگھن شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے،کنگ چارلس

    برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوم نے واضح کر دیا ہے کہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل شاہی خاندان کے غیر فعال ارکان ہی رہیں گے اور برطانیہ واپسی کے باوجود شاہی فرائض انجام نہیں دیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق شاہی محل کی جانب سے اعلیٰ حکام کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہیری اور میگھن 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد طے پانے والے انتظامات کے مطابق شاہی خطابات کو سرکاری فرائض کیلئے استعمال نہیں کریں گے،خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ جوڑا کسی فلاحی سرگرمی میں حصہ لیتا ہے تو وہ اسے نجی حیثیت میں انجام دے گا۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی سیکیورٹی سے متعلق فیصلے متعلقہ حکومتی اور پولیس اداروں کے اختیار میں رہیں گے ہیری طویل عرصے سے برطانیہ میں پولیس سیکیورٹی کی فراہمی کے معاملے پر قانونی جدوجہد کرتے آئے ہیں،شاہی محل کے اس اقدام کا مقصد ہیری اور میگھن کی موجودہ حیثیت سے متعلق کسی بھی قسم کے ابہام کو دور کرنا بتایا گیا ہے۔

  • سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان کاہم جنس پرستوں سے تعلقات کا دعویٰ ،برطانیہ ہوم آفس

    برطانیہ کے ہوم آفس (Home Office) کے ایک وِسل بلور نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے سیاسی پناہ (asylum) کے نظام میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی ہو رہی ہے اور صرف ایک فیصد پناہ گزینوں کے دعوے ہی حقیقی ہیں،یہ الزامات برطانوی میڈیا میں منظرِ عام پر آئے ہیں، جس کے بعد پناہ گزینوں کے نظام کی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے-

    اہلکار، جو اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے صرف "J” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے ہوم آفس کے فیصلہ ساز کے طور پر کام کرتے ہوئے کئی سال گزارے ہیں اور پناہ کی ہزاروں درخواستوں کا جائزہ لیا ہے،ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا: "بہترین طور پر 1 فیصد پناہ گزین حقیقی ہیں پناہ کے نظام کا تقریباً کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جو یا تو بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا شکار نہ ہو یا واقعی غیر فعال ہو۔ کچھ بھی کام نہیں کرتا جیسا کہ اسے کرنا چاہیے۔”

    جے نے دعویٰ کیا کہ عہدیداروں کا باقاعدگی سے سامنا ہوتا ہے جس کے عملے نے "پیکیج کلیمز” کا نام دیا ہے، جہاں پناہ گزین مبینہ طور پر اپنی درخواستوں کی حمایت کے لیے نمایاں طور پر ملتے جلتے اکاؤنٹس جمع کراتے ہیں،انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جس طرح سے درخواستوں پر کارروائی کی جاتی ہے اس سے حکام کے لیے ممکنہ طور پر من گھڑت کہانیوں کو بے نقاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پناہ کے متلاشیوں کو مزید تفصیلی انٹرویو سے پہلے ابتدائی اسکریننگ سے گزرنا پڑتا ہے، جو مہینوں بعد ہو سکتا ہے جے نے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے دوران درخواست دہندگان "انتہائی مبہم” ہو سکتے ہیں، تاخیر کا دعویٰ کرنا پھر بے ایمان درخواست دہندگان کو اپنا کیس بنانے کا موقع فراہم کرتا ہےاس سے انہیں تیاری کرنے، مشورہ لینے اور یہ دیکھنے کا وقت مل جاتا ہے کہ تفصیلی انٹرویو کے دوران کسی خاص بیان یا کہانی پر کاربند ہونے سے پہلے وہ کس قسم کے جعلی شواہد حاصل کر سکتے ہیں۔”

    جے (J) نے اس بات پر زور دیا کہ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہونا چاہیے کہ وہ شروع ہی سے تفصیلی بیان فراہم کریں؛ انہوں نے کہا: "اس عمل میں تاخیر سے انہیں تیاری کا مزید وقت مل جاتا ہے، حالانکہ انہیں تیاری کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ واقعات ان کے ساتھ پہلے ہی پیش آ چکے ہوتے ہیں۔”

    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سسٹم حکام کو درخواستیں منظور کرنے کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ کیس دینے میں "آدھا گھنٹہ سب سے اوپر” لگ سکتا ہے، جب کہ مسترد ہونے کے لیے درخواست دہندگان کے دعووں کو حل کرنے کے لیے گھنٹوں کام کرنا پڑ سکتا ہے۔

    وسل بلور نے اس عمل کو "بچپن” کے طور پر بیان کیا اور دعوی کیا کہ عملے کو مینیجرز نے پناہ کے متلاشیوں کو "گاہک” کے طور پر حوالہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی یہ "ان کو خدمت فراہم کرنے کے کلچر کی عکاسی کرتا ہے، ملک کی خدمت نہیں”۔

    عملے کی جانب سے بے نقاب کیے جانے والے مبینہ واقعات کے سلسلے میں ایسے سینکڑوں عراقی کرد شامل تھے جن کا دعویٰ تھا کہ ان کے کردستان ریجن کے وزیرِاعظم کی بیٹی کے ساتھ رومانوی تعلقات رہے ہیں،یہ بار بار دہرائی جانے والی کہانی محکمے کے اندر ایک "مذاق” (یا عام لطیفہ) بن چکی تھی کیونکہ حکام کو ایسے ہی بہت سے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سینکڑوں پاکستانی درخواست دہندگان نے ایک ہی شخص کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے تعلقات میں ہونے کا دعوی کیا ہے، جس نے "سیکڑوں کی تعداد میں بہت واضح طور پر جعلی حمایت کے خطوط فراہم کیے ہیں،آپ کو یہ تصاویر ملیں گی اور وہاں دس پاکستانی لڑکے ہوں گے جو کلب میں بے لباس ہو کر ایک دوسرے کے گرد بازو باندھے کھڑے ہوں گے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں۔”

    ہوم آفس دھوکہ دہی پر مبنی جنسیت پر مبنی پناہ کے دعووں کی تحقیقات کر رہا ہے جب بی بی سی کی خفیہ تحقیقات میں امیگریشن مشیروں کو بے نقاب کیا گیا جو مبینہ طور پر لوگوں کو جھوٹے مقدمات بنانے میں مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔

    جے نے یہ بھی دعوی کیا کہ بنگلہ دیشی درخواست دہندگان نے بار بار عوامی لیگ سے روابط پر ظلم و ستم کا حوالہ دیا تھا، جس نے 2024 میں اقتدار کھو دیا تھا، جبکہ پارٹی کے بارے میں سوالات کا جواب دینے کے لیے جدوجہد کی تھی،جب حکومت گری تو انہیں صرف اس جماعت کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت تھی جس سے وہ خوفزدہ تھے، معاون شواہد میں "جعلی پولیس دستاویزات” بھی شامل تھیں جن میں وہی نام اور مقامات بار بار ظاہر ہوتے تھے۔

    سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون 2026 کو ختم ہونے والے سال میں ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر پناہ کی منظوری کی شرح 38 فیصد رہی؛ یہ شرح ایک سال قبل 48 فیصد اور ستمبر 2022 کو ختم ہونے والے سال میں 77 فیصد (جو کہ بلند ترین سطح تھی) کے مقابلے میں کم ہے۔

    گزشتہ سال کے دوران، ابتدائی فیصلے کے مرحلے پر تقریباً 42,394 افراد کو پناہ گزین کے طور پر تحفظ یا قیام کی دیگر اجازت دی گئی، جبکہ 73,478 افراد کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں،ہوم آفس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پناہ کی ہر درخواست پر تربیت یافتہ فیصلہ سازوں کی جانب سے دستیاب شواہد کی روشنی میں انفرادی طور پر غور کیا جاتا ہے۔

    محکمے کے ترجمان نے کہا کہ دھوکہ دہی کی نشاندہی کے لیے طے شدہ طریقہ کار موجود ہیں، جبکہ رازداری سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریاں حکام کو اس بات سے روکتی ہیں کہ وہ پناہ کے متلاشی کے بیان کی تصدیق کے لیے اس کے آبائی ملک سے رابطہ کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم گمنام بریفنگز پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہوم سیکرٹری کا موقف واضح ہے کہ جو لوگ برطانیہ میں قیام کے لیے برطانوی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے، ان کی درخواست مسترد کر دی جائے گی اور انہیں برطانیہ سے باہر جانے والی یک طرفہ پرواز کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے گا۔

  • میئر لندن صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد

    میئر لندن صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد

    لندن کے میئر لارڈ صادق خان پر بغیر ٹیکس گاڑی رکھنے کے مقدمے میں جرمانہ عائد ہوگیا۔

    ڈی وی ایل اے نے 24 سال پرانی نسان مائیکرا کا ٹیکس نہ دینے پر مقدمہ دائر کیا تھا، مجسٹریٹ نے صادق خان کو ان کی غیر موجودگی میں قصوروار قرار دیا،عدالت نے لارڈ صادق خان کو 220 پاؤنڈ جرمانہ اور 85 پاؤنڈ عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے صادق خان کو گاڑی کے واجب الادا ٹیکس کی مد میں 35.84 پاؤنڈ بھی دینا ہوں گے۔

    انہیں گزشتہ ماہ ایک ایسے نظام کے تحت قصوروار ٹھہرایا گیا جسے ناقدین "کنویئر بیلٹ جسٹس” (یعنی مشینی انداز میں تیزی سے نمٹایا جانے والا انصاف) قرار دیتے ہیں؛ اس نظام میں مجسٹریٹ روزانہ سینکڑوں مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں اور بعض اوقات ہر مقدمے پر ایک منٹ سے بھی کم وقت صرف کرتے ہیں۔

    سٹی ہال حکام کا کہنا ہے متنازع گاڑی نہ صادق خان اور نہ ہی ٹرانسپورٹ فار لندن کی ملکیت ہے، ڈی وی ایل اے نے مقدمے اور سزا کے حالات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

    میئر کو ان گاڑی مالکان کے احتجاج کا سامنا رہا ہے جو پورے لندن میں ‘الٹرا لو ایمیشن زون’ (Ulez) کے دائرہ کار کو بڑھانے پر برہم ہیں۔ ان مظاہرین نے گاڑیاں صادق خان کے نام پر رجسٹر کروانے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ بظاہر انہیں 12.50 پاؤنڈ کے یومیہ چارج کی ادائیگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔

    یہ قانونی کارروائی ‘ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی’ (DVLA) کی جانب سے کی گئی تھی،جو ڈرائیوروں کا ڈیٹا بیس رکھنے والا سرکاری ادارہ ہےاور اس نے صادق خان پر الزام عائد کیا تھا کہ 24 جنوری کو جب اس گاڑی کو بغیر ٹیکس کے دیکھا گیا تو وہ اس کے مالک (یا ذمہ دار) تھے۔

    عدالتی دستاویز کے مطابق خطوط صادق خان کے دفتر کے بجائے گورڈن ریمزے کے ریسٹورنٹ بھیجے گئے، صادق خان کو جرمانے کی سزا متنازع سنگل جسٹس پروسیجر کے تحت سنائی گئی، سنگل جسٹس پروسیجر میں مجسٹریٹ بند کمرے میں چھوٹےمقدمات کی سماعت کرتا ہے، معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈی وی ایل اے نے ممکنہ غلط اندراج کی تحقیقات شروع کردیں۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کی 6 سال بعد بچوں سمیت امریکا سے برطانیہ واپسی

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی 6 سال بعد بچوں سمیت امریکا سے برطانیہ واپسی

    ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس، پرنس ہیری اور میگھن، اپنے بچوں آرچی اور للی بیٹ کے ہمراہ برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق خاندان نجی پرواز کے ذریعے امریکی ریاست کیلیفورنیا سے برطانیہ پہنچا اور دوپہر سے کچھ دیر قبل برمنگھم میں لینڈ کیا،سسیکس خاندان کی برطانیہ آمد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی تاہم ان کے ترجمان نے معاملے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسی بات نہیں جس پر وہ کوئی تبصرہ کرنا چاہیں گے۔

    رپورٹس کے مطابق ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی شاہی خاندان کی سرکاری ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالنے کے لیے نہیں ہے دونوں مستقبل میں بھی شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے سرکاری فرائض انجام نہیں دیں گے بلکہ غیر سرکاری حیثیت میں برطانیہ میں رہائش اختیار کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق جوڑا لندن سے باہر واقع کوٹس وولڈز کے علاقے میں موجود اپنی نجی رہائش گاہ کو برطانیہ میں اپنا مرکزی ٹھکانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے دونوں بچوں کے اسکول میں داخلے سے متعلق انتظامات بھی مکمل کیے جاچکے ہیں اور نئے تعلیمی سال کا آغاز اگلے ہفتے متوقع ہے۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ دونوں تقریباً چھ سال قبل شاہی خاندان سے اختلافات کے بعد امریکا منتقل ہوگئے تھے۔

    دونوں نے 2020 میں شاہی خاندان کے سینئر ارکان کی حیثیت سے اپنے سرکاری فرائض سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد امریکا منتقل ہوگئے تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ شہزادہ ہیری اور میگھن نے تقریباً چھ سال بعد مستقل یا طویل مدتی بنیادوں پر برطانیہ واپس آنے کا فیصلہ کیوں کیا اور اس فیصلے میں شاہی خاندان کے کسی فرد کا کوئی کردار ہے یا نہیں۔

  • ایرانی ہیکرز کے برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر حملے کا انکشاف

    ایرانی ہیکرز کے برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر حملے کا انکشاف

    برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی ہیکرز نے گزشتہ ماہ اپنی نوعیت کے پہلے سائبر حملے کے ذریعے برطانوی پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق ایرانی ہیکرز کے حملے کے بعد برطانوی پاور پلانٹ 4 دن کے لیے غیر فعال ہو گیا تھا خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی حکومت سے وابستہ ہیکرز برطانیہ میں کسی ایسی تنصیب کو بند کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    اس سال کے آغاز میں برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (NCSC) کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ ہورن نے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ پر ہونے والے قومی سطح پر اہمیت رکھنے والے بیشتر سائبر حملے چین، ایران اور روس سمیت دشمن ریاستوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں، یہ واقعہ عین اسی وقت پیش آیا جب گزشتہ ماہ امریکا میں پانی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا ، اس حملے سے 12 امریکی ریاستیں متاثر ہوئی تھیں جس پر وائٹ ہاؤ س میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

    برطانوی حکام نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے کہ اس حملے میں کون سا پاور پلانٹ متاثر ہوا ہے، تاہم متاثرہ پاور پلانٹ 4 دن تک مکمل طور پر بند رہا، امکان ہے کہ متاثرہ پلانٹ نسبتاً چھوٹا تھا اور اس کی بندش سے برطانیہ کے بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے وسیع تر نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے عام ہونے کے حوالے سے انتباہ جاری کیے جاتے رہے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے قبل کوئی بھی ہیکر کسی برطانوی پاور پلانٹ کو مکمل طور پر بند کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا تھابرطانیہ کا توانائی کا نظام انتہائی مضبوط اور لچکدار ہےہم توانائی کے شعبے کے ساتھ قریبی تعاون کرتے ہیں تاکہ بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور سکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھے جائیں۔

    دی ٹیلی گراف کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اس واقعے کا مقصد غالباً یہ ثابت کرنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ہیکرز برطانیہ کے حساس سسٹمز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کا چھ سالہ جلاوطنی کے بعد رواں ماہ برطانیہ واپسی کا پلان

    شہزادہ ہیری اور میگھن کا چھ سالہ جلاوطنی کے بعد رواں ماہ برطانیہ واپسی کا پلان

    شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل رواں ماہ اپنے دونوں بچوں، شہزادہ آرچی اور شہزادی لِلی بیٹ، کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیری، میگھن، آرچی اور لِلی بیٹ کیلیفورنیا سے برطانیہ منتقل ہوں گے میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا امریکا منتقل ہونے کے تقریباً چھ سال بعد برطانیہ میں ایک طویل عرصے کے لیے قیام کرے گا، جبکہ دونوں بچوں کی تعلیم بھی ستمبر سے برطانیہ میں شروع ہونے کی توقع ہے،تاہم، شہزادہ ہیری کےترجمان اور بکنگھم پیلس نےان رپورٹس پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم جوڑے کے ایک قریبی ذریعہ نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق ہیری اور میگھن شاہی محل میں نہیں رہیں گے اور شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے، دونوں نے 2020 میں شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے وقت ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ طے کیے گئے انتظامات کے تحت غیر فعال شاہی حیثیت برقرار رکھی تھی۔

    ہیری اور میگھن کی شادی 2018 میں ونڈسر کاسل میں ہوئی تھی سابق امریکی اداکارہ میگھن سے ہیری کی شادی کو اس وقت برطانوی شاہی خاندان کے لیے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا گیا تھا، تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد ہی جوڑے کے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تعلقات میں اختلافات سامنے آنے لگے۔

    مارچ 2020 میں ہیری اور میگھن نے اعلان کیا کہ وہ شاہی فرائض سے دستبردار ہو رہے ہیں اور برطانیہ چھوڑ کر امریکا منتقل ہو رہے ہیں، اس خود ساختہ جلا وطنی کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا کے مونٹی سیٹو علاقے میں گھر بنایا، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے رہے اس گھر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 47 لاکھ ڈالر تھی۔

    امریکا منتقل ہونے کے بعد ہیری اور میگھن نے مختلف ٹی وی انٹرویوز، ایک نیٹ فلکس دستاویزی سیریز اور ہیری کی کتاب ”اسپیئر“ کے ذریعے شاہی خاندان اور شاہی نظام کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے، ان بیانات نے برطانوی شاہی خاندان کے اندر موجود اختلافات کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا۔

    2021 میں امریکی میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میگھن نے کہا تھا کہ شاہی خاندان کے ایک فرد نے ان کے بیٹے آرچی کی جلد کے رنگ کے بارے میں سوال کیا تھا، اس معاملے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی، شہزادہ ولیم نے اس کے بعد شاہی خاندان کے نسل پرست ہونے کی تردید کی تھی۔

    شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب اور دیگر مواقع پر اپنے والد، بادشاہ چارلس، اور بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے بارے میں بھی سخت باتیں کیں، اس کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور ان کے درمیان رابطہ انتہائی محدود ہوگیا۔

    ہیری اور برطانوی حکومت کے درمیان بھی سکیورٹی کے معاملے پر اختلاف رہا ہے شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد ان کی سرکاری سکیورٹی میں تبدیلی کی گئی، جس پر ہیری نے اعتراض کیا، ان کا مؤقف رہا ہے کہ برطانیہ میں خودکار پولیس تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو وہاں لانے کے بارے میں فکرمند تھے۔

    تاہم حالیہ مہینوں میں ہیری اور ان کے والد بادشاہ چارلس کے تعلقات میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ہیں، گزشتہ ستمبر میں دونوں نے تقریباً 20 ماہ بعد مختصر ملاقات کی تھی چارلس کو 2024 میں کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی تھی اور بعد میں انہوں نے بتایا کہ علاج کے نتیجے میں ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ ہیری، میگھن اور ان کے بچے برطانیہ آئے تھے، جہاں بادشاہ چارلس نے اپنے پوتے آرچی اور پوتی لِلی بیٹ سے ملاقات کی یہ ملاقات 2022 کے بعد بچوں اور ان کے دادا کے درمیان پہلی ملاقات تھی تاہم رپورٹس کے مطابق بادشاہ کو ہیری اور میگھن کے برطانیہ واپس آنے کے منصوبے کا علم صرف اتوار کے روز ہوا۔

    ہیری اور میگھن کے تعلقات میں بادشاہ چارلس کے ساتھ بہتری کے باوجود شہزادہ ولیم کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں رپورٹس کے مطابق دونوں بھائیوں کے درمیان معمول کے مطابق بات چیت نہیں ہو رہی۔

    امریکا میں رہتے ہوئے ہیری اور میگھن نے کئی کاروباری اور میڈیا منصوبے بھی شروع کیے انہوں نے اسپاٹی فائی کے ساتھ پوڈکاسٹ اور نیٹ فلکس کے ساتھ مختلف پروگراموں کے لیے بڑے مالی معاہدے کیے۔ میگھن نے ایک طرز زندگی سے متعلق شو کی میزبانی بھی کی، تاہم ان منصوبوں کے نتائج یکساں نہیں رہے۔

    ہیری کی خودنوشت ”اسپیئر“ بہت زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ثابت ہوئی، لیکن جوڑے کا اسپاٹی فائی معاہدہ ختم ہوگیا جبکہ میگھن کے نیٹ فلکس شو کو تیسرے سیزن کے لیے توسیع نہیں دی گئی۔

    ہالی ووڈ سے متعلق جریدے ڈیڈ لائن کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ڈومینک پیٹن کے مطابق ہیری اور میگھن شاید وہ عالمی شہرت حاصل نہ کر سکے جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی، لیکن انہوں نے اس کے باوجود عوام کی دلچسپی برقرار رکھی۔

    ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات میں مکمل مفاہمت تو نظر نہیں آتی، لیکن بادشاہ چارلس کے ساتھ رابطے میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے بچوں کا برطانیہ میں اسکول شروع کرنا اس بات کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے کہ خاندان آئندہ کچھ عرصہ امریکا کے بجائے برطانیہ میں زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔