Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • لندن کے ایک ہوٹل سے سعودی شہزادے کی لاش برآمد،جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی

    لندن کے ایک ہوٹل سے سعودی شہزادے کی لاش برآمد،جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی

    لندن کے ایک ہوٹل میں 29 سالہ سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود کی لاش باتھ روم سے ملی، جہاں ان کے جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی پائی گئی-

    یہ واقعہ مغربی لندن کے کینسنگٹن علاقے میں واقع میریٹ ہوٹل کے کمرے میں پیش آیا،جہاں ہوٹل میں 29 سالہ سعودی شہزادے عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود کی لاش باتھ روم سے ملی، جہاں ان کے جسم میں الکحل اور نشہ آور مادوں کی موجودگی پائی گئی،ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 600 پاؤنڈ فی رات تھا-

    برطانوی عدالت کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 29 سالہ سعودی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ آل سعود 25 نومبر کو مغربی لندن کے کینسنگٹن علاقے میں واقع Marriott Hotel کے باتھ روم میں مردہ پائے گئے، جن کے جسم میں الکحل اور جی ایچ بی (GHB) نامی نشہ آور مادہ موجود تھا-

    کورونر کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے مطابق، شہزادے نے ہوٹل میں ایک ہفتے کے قیام کے لیے چیک ان کیا تھاتفتیش میں انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں الکحل کی مقدار بہت زیادہ تھی اور انہوں نے الکحل کے ساتھ دیگر ممنوعہ ادویات کا استعمال کیا تھا طبی رپورٹ کے مطابق ان اشیاء کے باہمی ملاپ کے نتیجے میں ہونے والے زہریلے اثرات ان کی موت کا باعث بنے-

    پوٹھم مارٹم اور ٹاکسولوجی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کے خون میں الکحل کی مقدار ڈرائیونگ کی قانونی حد سے تقریباً تین گنا زیادہ تھی اور ساتھ ہی جسم میں مہلک مقدار میں نشہ آور مادہ GHB پایا گیا،موت سے قبل وہ ری ہیب کلینک (دی پرائوری) میں نشے سے نجات کی تھراپی بھی لے چکے تھے۔

  • باغی ٹی وی کے سابق اینکر زین العابدین پاکستان پریس کلب لندن کے نائب صدر منتخب

    باغی ٹی وی کے سابق اینکر زین العابدین پاکستان پریس کلب لندن کے نائب صدر منتخب

    باغی ٹی وی کے سابق اینکر زین العابدین پاکستان پریس کلب لندن کے نائب صدر منتخب ہو گئے ہیں

    پاکستان پریس کلب لندن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق زین العابدین کو پاکستان پریس کلب لندن کا نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ صدر پاکستان پریس کلب لندن کی سفارش اور کور کمیٹی کی باقاعدہ منظوری کے بعد کیا گیا۔ زین العابدین کی تقرری کا مقصد تنظیمی معاملات کو مزید مؤثر، منظم اور فعال بنانا ہے تاکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں، قلمکاروں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور قائدانہ اوصاف کو بروئے کار لاتے ہوئے کلب کی ترقی، اتحاد اور صحافتی اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔

    زین العابدین کو پاکستان پریس کلب لندن کا نائب صدر منتخب ہونے پر سینئر صحافی و اینکر پرسن ،سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان، ایگزیکٹو پروڈیوسر کھرا سچ نوید شیخ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان و دیگر نے مبارکباد دی ہے اور زین العابدین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ اپنی نئی ذمہ داری کو دیانت، بصیرت اور خلوص کے ساتھ نبھاتے ہوئے پاکستان پریس کلب لندن کی ساکھ اور خدمات کو مزید مستحکم کریں گے۔

  • لندن: صادق خان کو تاحیات لارڈ بنانے کا  اعلان

    لندن: صادق خان کو تاحیات لارڈ بنانے کا اعلان

    تین مرتبہ میئر لندن منتخب ہونے والے صادق خان کو تاحیات لارڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے نئے لارڈز کے ناموں کا اعلان کردیا جس میں صادق خان کا نام بھی شامل ہے ،سر کیئر اسٹارمر نے وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے سے پہلے 26 شخصیات کو تاحیات لارڈ شپ عطا کردی۔

    ڈاؤئنگ اسٹریٹ کے مطابق شاہ چارلس نے نئی نامزد شخصیات کو لارڈ شپ دینے کی منظوری دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ہاؤس آف لارڈ کے اس وقت 774 ارکان ہیں اور یہ دنیا کے سب سے بڑے قانون ساز ایوانوں میں شمار ہوتا ہے۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں شدید گرمی، جون 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ قرار

    برطانیہ میں جون 2026 شدید گرمی کے باعث غیرمعمولی طور پر گرم ثابت ہوا، جہاں ملک بھر میں اوسط درجۂ حرارت گزشتہ 142 برس کی تاریخ میں جون کا دوسرا گرم ترین ریکارڈ کیا گیا، انگلینڈ میں یہ اب تک کا گرم ترین جون رہا۔

    برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق جون 2026 ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شامل رہا، برطانیہ اور ویلز میں گزشتہ ماہ 1884 کے بعد سے دوسرا گرم ترین مہینہ رہا، سرے چارلووڈ میں درجہ حرارت 35.7 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، 1976 میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت 35.6 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    موسمیاتی ادارے کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں شدید ہیٹ ویو کے دوران کئی علاقوں میں درجۂ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ رات کے وقت بھی درجۂ حرارت غیرمعمولی طور پر بلند رہا اور کئی مقامات پر “ٹراپیکل نائٹس” ریکارڈ کی گئیں، جہاں درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ایسے شدید گرمی کے واقعات کو زیادہ بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما کر رہی ہیں، جس کے باعث صحت، ٹرانسپورٹ، توانائی اور پانی کی فراہمی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • برطانیہ میں 45 ہزار  غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان

    برطانیہ میں 45 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا اعلان

    لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے آئندہ 10 برسوں کے دوران 45 ہزار مزید غیر قانونی تارکین وطن اور غیر ملکی مجرموں کو برطانیہ سے ملک بدر یا بے دخل کرنے کا بڑا منصوبہ سامنے رکھ دیا ہے۔

    حکومتی اعلامیے کے مطابق ملک بدری کے عمل کو تیز، مؤثر اور منظم بنانے کے لیے امیگریشن ریموول سینٹرز (حراستی مراکز) کی گنجائش میں نمایاں اضافہ کیا جائے گااس مقصد کے لیے مختلف حراستی مراکز میں ایک ہزار نئے بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بدری کے منتظر افراد کو زیادہ مؤثر انداز میں حراست میں رکھا جا سکے اور انہیں طویل عرصے تک کمیونٹی میں آزاد رہنے کا موقع نہ ملے۔

    برطانوی حکام کے مطابق اس منصوبے سے خاص طور پر غیر ملکی مجرموں، غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افراد اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی ایسے افراد کو جلد حراست میں لے کران کی ملک بدری کے عمل کو ممکنہ حد تک مختصر وقت میں مکمل کیا جائے گا، یہ اقدامات ا میگریشن نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور سخت بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سرحدی سلامتی کو مضبوط کرنا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کی حوصلہ شکنی کرنا اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

    برطانوی حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے مستقبل میں بھی مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے اور ملک بدری کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے گا تاکہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے نئی حکمت عملی کا مقصد برطانیہ میں صرف قانونی اور ضابطے کے مطابق امیگریشن کو فروغ دینا اور غیر قانونی قیام کے امکانات کو کم سے کم کرنا ہے۔

  • شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    شہزادہ ہیری کی فیملی سمیت شاہی محل میں واپسی

    برطانیہ کے شاہی خاندان میں تعلقات کی بحالی کے آثار ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں، جب شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے اگلے ماہ برطانیہ دورے کی تیاریاں سامنے آئی ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے اگلے ماہ اپنے بچوں کے ہمراہ برطانیہ کے دورے کے دوران شاہ چارلس سوم کی جانب سے شاہی رہائش گاہ میں قیام کی دعوت قبول کر لی ہے 2022 کے بعد پہلی مرتبہ شہزادہ ہیری ڈیوک آف سسیکس، اور میگھن ڈچس آف سسیکس اپنے دونوں بچوں پرنس آرچی اور شہزادی للی بیٹ کے ہمراہ برطانیہ پہنچیں گے جبکہ 4 سال بعد بچوں کی بھی یہ پہلی آمد ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق شاہی خاندان کی جانب سے سسیکس خاندان کو ماضی میں بھی شاہی اسٹیٹ میں قیام کی پیشکش کی جاتی رہی تاہم پہلی بار ہیری اور میگھن نے یہ دعوت قبول کی ہے، وہ اپنے دورے کے دوران کچھ وقت شاہی رہائش گاہ اور کچھ وقت نجی رہائش گاہ میں گزاریں گے، اس پیش رفت کو شاہی خاندان میں ممکنہ مفاہمت کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن نے 2020 میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا کی ریاست کیلیفورنیا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا اس فیصلے کے بعد دونوں نے متعدد انٹرویوز اور ہیری کی خودنوشت میں شاہی خاندان، برطانوی ٹیبلوئڈ میڈیا اور بعض اداروں پر شدید تنقید کی تھی اور شاہی خاندان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

    میگھن مارکل آخری بار 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے برطانیہ آئی تھیں جبکہ شہزادہ ہیری اپنے والد شاہ چارلس سوم کی 2023 کی تاج پوشی میں اکیلے شریک ہوئے تھے گزشتہ برس ستمبر میں شہزادہ ہیری اور شاہ چارلس کے درمیان تقریباً 19 ماہ بعد کلیرنس ہاؤس میں نجی ملاقات ہوئی تھی یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب شاہ چارلس کینسر سے جنگ لڑ رہے ہیں،حالیہ برسوں میں شاہ چارلس اور شہزادہ ہیری کے درمیان محدود رابطے اور نجی ملاقاتوں نے تعلقات میں بہتری کی امیدیں پیدا کی ہیں، جبکہ شہز ا دہ ولیم کے ساتھ اختلافات اب بھی برقرار بتائے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران شاہی سیکیورٹی فراہم کیے جانے کا امکان ہے، تاہم انتظامات کی تفصیلا ت سامنے نہیں آئیں۔

    شہزادہ ہیری نے امریکا کی سابق اداکارہ میگھن مارکل سے 19 مئی 2018 کو ونڈسر کیسل کے تاریخی سینٹ جارج چیپل میں شاہی طرز کی تقریب میں شادی کی تھی جس میں دنیا بھر کی معروف شخصیات نے شرکت کی اگرچہ ملکہ الزبتھ دوم نے اس شادی کی باقاعدہ منظوری دی تھی اور میگھن کو شاہی خاندان میں خوش آمدید بھی کہا تھا تاہم ان کے تعلقات بہت زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔

    بعد ازاں ہیری اور میگھن کے شاہی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کرکے امریکا منتقل ہونے اور ٹی وی انٹرویوز و ہیری کی کتاب میں شاہی خاندان پر تنقید کے باعث تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے میڈیا میں یہ تاثر ضرور رہا کہ ملکہ الزبتھ ان معاملات سے ناخوش تھیں لیکن انہوں نے کبھی عوامی سطح پر میگھن کے خلاف ذاتی ناراضی کا اظہار نہیں کیا،ملکہ برطانیہ نے 2020 میں شہزادہ ہیری اور میگھن کے شاہی فرائض چھوڑنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دونوں اور ان کے خاندان کے بدستور بہت عزیز ہیں۔

  • اسحاق ڈار سے برطانوی  وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ٹیلی فون پر اس اہم گفتگو کے دوران علاقائی امن و استحکام، سفارتی تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی کھل کر تعریف کی۔

    اعلامیے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا،انہوں نے خاص طور پر پاکستان کی کامیاب ثالثی کا ذکر کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ممکن ہوئے،برطانیہ نے اسے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک فریقین کے درمیان مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں اسی طرح جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے، دونوں رہنما ؤں نے عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور مستقبل میں بھی اعلیٰ سطح کی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا۔

  • برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘  10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ کا مشہور بِلّا ’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بن گیا۔

    مشہور بِلّے ’لیری دی کیٹ‘ کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں رہتے ہوئے 15 سال مکمل ہو گئے، اس دوران وزیرِ اعظم آفس میں 6 وزرائے اعظم آئے اور گئے، لیکن یہ بِلّا 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنے ’چیف ماؤزر‘ کے عہدے پر براجمان رہا ’لیری دی کیٹ‘ نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں چیف ماؤزر کے طور پر 6 مختلف وزرائے اعظم کے ساتھ خدمات انجام دیں،اس دوران ’لیری دی کیٹ‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔

    اس کو فروری 2011ء میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا نے اپنے بچوں کے لیے پالتو جانور کے طور پر ’بیٹر سی ڈاگز اینڈ کیٹس ہوم‘ سے گود لیا تھااب 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بطور چیف ماؤزر ’لیری دی کیٹ‘ کی ذمے داری چوہوں کی تعداد کو قابو میں رکھنا ہے۔

    برطانیہ میں 1920ء کی دہائی سے اس سرکاری عہدے پر کوئی نہ کوئی بلی فائز رہتی ہے ، اسی لیے اب یہ 19 سالہ بِلّا اس عہدے پر فائز ہےیہ بِلّا مرکزی لندن میں وزیرِاعظم کے گھر کے دروازے کے باہر بار بار دکھائی دینے کی وجہ سے عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز بھی بن گیا ہے اس کا سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک آفیشل اکاؤنٹ بھی موجود ہے اور اسے لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔

  • کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    کنگ چارلس کا ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ

    برطانوی بادشاہ کنگ چارلس نے اپنی ذاتی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات پہلی بار عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بکنگھم پیلس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معلومات مالی سال 2024-25 سے متعلق ہوں گی اور جمعرات کو جاری کی جائیں گی یہ اقدام شاہی مالیات سے متعلق سالانہ رپورٹس کا حصہ ہوگا جس کا مقصد شفافیت اور عوامی احتساب کو مزید مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

    پیلس کے ترجمان کے مطابق بادشاہ نے یہ فیصلہ ذاتی طور پر کیا ہے تاکہ شاہی مالیاتی نظام کو مزید جدید اور قابلِ فہم بنایا جا سکےرپورٹ میں کنگ چارلس کی مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ان پر ادا کیے گئے ٹیکس شامل ہوں گے ان میں ڈچی آف لنکاسٹر سے حاصل آمدن، سینڈرنگھم اور بالمورل کی نجی املاک سے آمدن، ذاتی سرمایہ کاری اور دیگر نجی مالی ذرائع شامل ہیں گزشتہ سال ڈچی آف لنکاسٹر سے بادشاہ کو تقریباً 26.8 ملین پاؤنڈ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ برطانوی بادشاہ قانونی طور پر انکم ٹیکس یا کیپیٹل گینز ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں ہوتے تاہم کنگ چارلس یہ ادائیگیاں رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں، اس بار ان کی مجمو عی ٹیکس ادائیگی کی رقم پہلی مرتبہ عوام کے سامنے ظاہر کی جائے گی ، کنگ چارلس اس سے قبل ولی عہد کی حیثیت میں بھی اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیلات جاری کرتے ر ہے ہیں ان کے صاحبزادے اور موجودہ ولی عہد شہزادہ ولیم کو گزشتہ سال ڈچی آف کارنوال سے تقریباً 23 ملین پاؤنڈ آمدن حاصل ہوئی، تاہم وہ اپنی ٹیکس ادائیگیوں کی حتمی رقم ظاہر نہیں کرتے اگرچہ وہ اعلیٰ ترین شرح سے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

    یہ مالی تفصیلات شاہی سوورین گرانٹ کی سالانہ رپورٹ کے ساتھ جاری کی جائیں گی، جو شاہی خاندان کے سرکاری اخراجات کی مالی معاونت فراہم کرتی ہے، حالیہ سالوں میں یہ گرانٹ بڑھ کر 137.9 ملین پاؤنڈ تک پہنچ گئی ہے تاہم برطانوی وزارتِ خزانہ کی جانب سے اس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    برطانوی دارالحکومت لندن کے علاقے وائٹ سٹی میں ایک عمارت میں خوفناک آگ لگنے کے واقعے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد عمارت میں شدید دھواں بھر گیا، جس کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل صورتحال میں کی گئیں فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عملے نے عمارت سے کئی افراد کو نکالا جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ ان کے اہلخانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے، پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے تاہم عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ عمارت کا ایک بڑا حصہ شدید متاثر ہوا ہے، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی لندن پولیس اور فائر حکام نے مشترکہ طور پر اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے۔