برطانیہ کا مسترد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے طالبان سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے-
برطانیہ نے اپنی امیگریشن پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے ایسے افغان شہریوں کو دوبارہ افغانستان بھیجنے کے امکانات پر غور شروع کردیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس سلسلے میں کابل میں برطانوی حکام اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطوں اور بات چیت کا انکشاف ہوا ہے، جس نے برطانیہ سمیت عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت واپس بھیجے جانے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے تمام قانونی اور عملی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا اب کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس ممکنہ فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق کی پامالی، آزادیِ اظہار پر پابندیوں اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پناہ گزینوں کی جبری واپسی ایک انتہائی خطرناک اور متنازع قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 7 ہزار 330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئیں، لیکن سیکیورٹی اور سفارتی پیچیدگیوں کے باعث صرف 135 افراد کو ہی رضاکارانہ یا جبری طور پر واپس بھیجا جاسکا-
