Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • برطانوی شاہی محل وِنڈسر کیسل پر نقاب پوش  چوروں کا دھاوا

    برطانوی شاہی محل وِنڈسر کیسل پر نقاب پوش چوروں کا دھاوا

    لندن: برطانوی شاہی محل وِنڈسر کیسل پر دو چوروں نے دھاوا بولا اور املاک کو نقصان پہنچایا شاہی سیکیورٹی زون کے اندر سے دو گاڑیاں چرائیں جبکہ شہزادہ ولیم، شہزادی کیٹ مڈلٹن اور اُن کے بچے قریب ہی سو رہے تھے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق یہ واردات 13 اکتوبر کی نصف شب کو شا فارم پر کی گئی جو شاہی سیکیورٹی زون سے منسلک ہے،2 چوروں نے ونڈسر کیسل کے میدانوں میں واقع ایک فارم کو ہدف بنایا چور ایک مسروقہ ٹرک میں آئے اور سیکیورٹی گیٹ توڑتے ہوئے 6 فٹ کی حفاظتی باڑ بھی پار کرگئے چور ایک ٹرک اور ایک کواڈ موٹر سائیکل لے اڑے، یہ بات ٹیمز ویلی پولیس نے بتائی۔

    لندن کے مغرب میں 20 میل دور واقع 16 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلے ونڈسر کیسل کے ایڈیلیڈ کاٹیج میں شہزادہ ولیم، شہزادی کیٹ مڈلٹن، 11 سالہ شہزادہ جارج، 9 سالہ شہزادی چارلوٹ اور 6 سالہ شہزادہ لوئی سو رہے تھے اب اُن کی رہائش تبدیل کردی گئی ہے، جبکہ بادشاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا ونڈسر کیسل میں نہیں تھیں۔

    ترجمان کے مطابق اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔

    دوسری جانب اخباری رپورٹ میں بتایا گیا کہ چوروں 6 بڑی لمبی باڑ کو پھلانگ کر میدان میں داخل ہوئے اور واپسی میں چوری کی گئی گاڑی سے فارم کے گیٹ کو توڑتے ہوئے بھاگ گئے گاڑی گیٹ سے ٹکرانے پر عملے کو چوروں کا علم ہوا تھا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ونڈسر کیسل میں کوئی غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو،اس سے قبل 2021 میں ایک شخص تیر کمان کے ساتھ ونڈسر کیسل میں داخل ہوا تھا جسے پولیس نے گرفتار کرلیا تھا۔

  • برطانوی عدالت  نے حسن نواز کے مؤقف کو درست قرار دیا ہے،ترجمان شریف فیملی

    برطانوی عدالت نے حسن نواز کے مؤقف کو درست قرار دیا ہے،ترجمان شریف فیملی

    لاہور: شریف خاندان کے ترجمان نے برطانوی عدالت کی جانب سے حسن نواز کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے پر ردعمل دیاہے-

    نواز شریف خاندان کے ترجمان نے برطانوی عدالت سے حسن نواز کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے کی خبر پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو دیوالیہ کرنے کے عمل کا آغاز 1972 سے ہوا جب پہلی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے زمانے میں صنعتوں کو نیشنلائز کیا گیا جس میں شریف خاندان بھی شامل تھا۔

    ترجمان نے کہا کہ پھر جنرل (ر) پرویز مشرف نے یہی کام کیا، ظلم کی انتہا کرتے ہوئے شریف خاندان کے ذاتی گھروں پر قبضہ کر لیا اور فیکٹریاں سیل کی گئیں، اس کے بعد ثاقب نثار اینڈ کمپنی نے اپنے دور ستم میں یہ ظلم دہرایا اور شریف خاندان کی انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا۔

    انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو صرف سزا دینے کے لیے ان کے خاندان کے کاروبار کو چار بار دیوالیہ کرایا جا چکا ہے، شریف خاندان کے لیے یکے بعد دیگرے آنے والے ایسے اتار چڑھاؤ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ ملک وقوم اور اصولوں کی خاطر شریف خاندان نے برسوں کی محنت سے چلنے والے نجی کاروبار کے نقصانات اور ذاتی دکھ برداشت کیے ہیں، کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کے عرصے کے دوران ٹیکس نہیں دیا جاتا، برطانوی عدالت نے حسن نواز کے اسی موقف کو درست قرار دیا ہے۔

  • برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا،زلفی بخاری

    برطانوی رکن پارلیمنٹ نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا،زلفی بخاری

    لندن: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے عمران خان کی گرفتاری پر آواز اٹھانے والے برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں زلفی بخاری نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی غیر قانونی گرفتاری اور پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر خط کے ذریعے آواز بلند کی، کِم جانسن ایم پی اور دیگر ارکان نے پاکستانی عوام کے حق میں اہم قدم اٹھایا جبکہ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامے نے خط کا جواب دیتے ہوئے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے عوام ناقابل بیان مشکلات کا شکار ہیں، آزاد اور شفاف انتخابات، قانون کی حکمرانی، اور آزاد عدلیہ ہی جمہوریت کی بنیاد ہیں پاکستانی عوام ان جمہوری حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں جنہیں موجودہ حکومت نے غصب کر رکھا ہے۔

    اکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر …

    پاکستانی حسن عثمانی نے ترکمانستان میں اوپن ٹینس ٹورنامنٹ جیت لیا

    محمد یوسف نے پی سی بی سے راہیں جد ا کرلیں

  • پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    پاکستانی حکومت کا عمران خان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا ارادہ نہیں، برطانوی وزیر خارجہ

    لندن: برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کے کوئی حالیہ اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم اورپی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی وزیر برائے خارجہ، دولت مشترکہ اور ترقیاتی امور نے یہ بات کم جانسن کے خط کے جواب میں کہی جو انہوں نے عمران خان کے مشیر برائے بین الاقوامی امور زلفی بخاری کی درخواست پر برطانوی حکومت کو لکھا تھا زلفی بخاری نے ایک ماہ قبل تمام جماعتوں کے 20 ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے برطانوی حکومت کے لیے ایک خط لکھا تھا، جس میں عدلیہ میں تبدیلیوں اور 26 ویں ترمیم کی منظوری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

    جس پر برطانوی ممبر پارلیمنٹ نے خط میں لکھا تھا کہ ’برطانوی ممبران پارلیمنٹ کو عمران خان سمیت عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے ممکنہ استعمال پر تشویش ہے کیونکہ فوجی عدالتوں میں شفافیت اور آزادانہ جانچ پڑتال کا فقدان ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر انصاف کے معیار کی تعمیل کا اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی کے نام خط پر دستخط کرنے والوں میں جانسن ایم پی، پاولا بارکر ایم پی، اپسانا بیگم، لیام بائرن، روزی ڈوفیلڈ، گل فرنس، پاؤلیٹ ہیملٹن، پیٹر لیمب، اینڈی میکڈونلڈ، ابتسام محمد، بیل ریبیرو ایڈی، زارا سلطانہ، اسٹیو ویدرڈن، نادیہ وٹوم، بیرونس جون بیکویل، بیرونس جان بیکویل، بیرونس کرسٹین بلور، لارڈ پیٹر ہین، لارڈ جان ہینڈی اور لارڈ ٹوڈونفیل شامل ہیں۔

    اس خط کے جواب میں برطانوی وزیر خارجہ نے لکھا کہ ہمیں پاکستانی حکام کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ وہ عمران خان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اگرچہ پاکستان کا عدالتی نظام داخلی معاملہ ہے لیکن ہم بہت واضح رہے ہیں کہ پاکستانی حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اور بنیادی انسانی آزادیوں کے احترام کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیں، جس میں منصفانہ ٹرائل کا حق، مناسب طریقہ کار اور حراست جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کا اطلاق عمران خان پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ پاکستان کے تمام شہریوں پر ہوتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی نے جواب میں لکھا کہ آپ کی طرح میں بھی اظہار رائے اور شخصی آزادیوں پر پابندیوں کے بارے میں فکرمند ہوں، برطانوی حکومت پاکستانی حکام کے ساتھ اپنے رابطوں میں اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ سنسرشپ، ڈرانے دھمکانے یا غیر ضروری پابندیوں کے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی جمہوریت میں انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، ایف سی ڈی او (فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس) کے وزیر برائے پاکستان فالکنر نے پاکستان کے وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کے سامنے شہری اور سیاسی حقوق کو مدنظر رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر فالکنر اس سال کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں اور میں نے ان سے کہا ہے کہ وہ واپسی پر آپ اور دیگر دلچسپی رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کا انتظام کریں، جہاں تک پاکستان کی آئینی ترامیم کا تعلق ہے تو ہمارے علم میں ہے کہ یہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اکتوبر میں منظور کی تھیں اگرچہ پاکستان کے آئین میں کوئی بھی ترمیم پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، لیکن ہم واضح رہے ہیں کہ ایک آزاد عدلیہ، جو دیگر ریاستی اداروں پر چیک اور بیلنس رکھنے کا اختیار رکھتی ہو ، ایک فعال جمہوریت کے لیے اہم ہے، اس حوالے سے برطانیہ اپنے مشترکہ مفادات کے دائرے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

  • 24 نومبر کو احتجاج کی کال ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے،نواز شریف

    24 نومبر کو احتجاج کی کال ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے،نواز شریف

    لندن: مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لندن سے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 24 نومبر کو احتجاج کی کال ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش ہے جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کو جھوٹا ہی کہیں گے احتجاج کی کال دینے والے انشاءاللہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

    نواز شریف 26 اکتوبر کو لندن پہنچے تھے، اس کے بعد انہوں نے امریکا اور جینیوا کا دورہ بھی کیا تھا نواز شریف وطن واپسی کیلئے ہفتہ کو اپنی بیٹی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ ایون فیلڈ سے ایئرپورٹ روانہ ہوئے، نواز شریف اور مریم نواز چند روز سے لندن میں مقیم تھے، اس دوران دونوں نے کچھ روز سوئٹزرلینڈ میں بھی گزارے۔

    گزشتہ روز نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بتائیں کہ انہوں نے جنرل باجوہ اور جنر ل فیض حمید کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف کیا کیا؟،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے رہنماؤں کی رہائی کیلئے 24 نومبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے۔

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    46 امریکی اراکین کانگریس کا عمران کی حمایت میں خط،اندرونی معاملات میں مداخلت

  • چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو لندن ٹرین میں قتل کی دھمکی دینے، ہراساں کرنے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا معاملہ ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پاکستان ہائی کمیشن لندن آمد ہوئی ہے

    خواجہ محمد آصف نے پاکستان ہائی کمیشن میں مقامی پولیس کو ٹرین واقع کی رپورٹ درج کرادی،خواجہ محمد آصف نے پولیس کو ٹرین میں چھری سے قتل کی دھمکی اور ہراسگی واقع کی تفصیلات سے آگاہ کیا ،واقع کی تحقیقات لندن ٹرانسپورٹ پولیس کر رہی ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ افسوسناک واقع 11 نومبر 2024 سہ پہر قریباً ساڑھے تین بجے الزبتھ لائن میں پیش آیا۔لندن میں نجی دورہ پر ہوں، اپنے ایک عزیز کے ہمراہ الزبتھ لائن کے ذریعے ریڈنگ جا رہا تھا۔ تین سے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے افراد نے ٹرین میں ہراساں کیا، بلا اجازت ویڈیو بنائی، نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور چھری سے قتل کرنے کی دھمکی دی۔ واقع میں ملوث کسی فرد کو نہیں پہچانتا۔ لندن ٹرانسپورٹ پولیس سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے متعلقہ ملزمان کا سراغ لگائے ،قتل کی دھمکیاں اور ہراساں کرنے کے ایسے مذموم واقعات برطانیہ میں مقیم 17لاکھ پاکستانی نثراد برطانوی شہریوں کے لیے بھی باعث شرم اور قابل افسوس ہیں۔

    واضح رہے کہ لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیوں اور چاقو حملے کی دھمکیوں کی ویڈیو منظر عام پرآئی تھی،لندن گراؤنڈاسٹیشن پر نامعلوم شخص نے خواجہ آصف کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چاقو حملے کی دھمکی دی تھی،خواجہ آصف کے قریبی ذرائع نے واقعےکی تصدیق کی ہے،

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان بھی سامنے آیا ہے، خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ وہاں کیمرا بھی لگا ہوا تھا، میں دھمکی دینےوالے کو نہیں پہچانتا، دھمکی دینے والے واقعےکو رپورٹ کرانے کا پراسیس چل رہا ہے

    علاوہ ازیں لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف مرد مجاہد ہیں جہاں کھڑے ہو جاتے ہیں پھر بیٹھتے نہیں، خواجہ آصٖف نے ہمیشہ ہرصورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے، خواجہ آصٖف کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں، جن لوگوں نے خواجہ صاحب کے ساتھ یہ حرکت کی، ان کے نصیب میں یہی ہے، لوگوں کے پیچھے بھاگنا ، یہی ان کی ٹریننگ اور گرومنگ کی گئی ہے۔

    لندن میں موجود جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی ہے.

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں  مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    برطانیہ: مرکزی جامع مسجد ویکفیلڈ میں مولانا فضل الرحمان کا مکمل خطاب

    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد
    فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ۔ صدق اللّٰہ العظیم

    حضرات علماء کرام، برطانیہ میں میرے ہم وطنوں، میرے بزرگوں، میرے دوستو اور بھائیو! کافی عرصہ ہوا جہاں میں تقریبا ہر سال برطانیہ آیا کرتا تھا کوئی سات آٹھ سال کے بعد آپ کے پاس حاضر ہو رہا ہوں۔یہاں کے احباب، یہاں کی جمیعت علماء اور بالخصوص برادر عزیز مولانا اسلام علی شاہ صاحب کی محبت ہے ان کا خلوص ہے کہ اپ حضرات کے ساتھ اج اس جامعہ مسجد میں ملاقات ہو رہی ہے اور مجھے اپ کی زیارت اور آپ کی ملاقات کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا آپ پر اور ہم سب پر ایک بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمارا تعلق علمائے کرام کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور ہمارے ملنے جلنے کا مرکز مساجد کو بنا دیا ہے اور دین کی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے مدارس دینیہ کا جال بچھا دیا ہے۔ یہ ہماری اور آپ کی دنیا اور اخرت کو سنوارنے کے لیے ہے۔ اس میں خیر خواہی کے علاوہ اور کوئی تصور ہو ہی نہیں سکتا بس بات اتنی ہے کہ ہم اس کی قدر کر سکیں اس بات کو سمجھ سکیں یہ میرا اللّٰہ اس بات پر قادر تھا کہ ہمیں گمراہوں میں بٹھا دیتے، چوروں اور ڈاکوں کے گروہوں میں بٹھا دیتا، غلط راہ پر چلنے والوں کے گروہوں میں حصہ بنا دیتا، لیکن اس سے بچا کر اللّٰہ رب العزت نے اپنے پیارے بندوں کے ساتھ ہماری بیٹھک بنائی ہماری مجلس بنائی ہمارا تعلق بنایا اور ہم جس اسلام کی بات کرتے ہیں جو دین ہمارا رہنما ہے یہ وہ عظیم الشان دین ہے کہ جو ہماری مملکتی زندگی میں، ہماری قومی زندگی میں، ہماری ملی زندگی میں ہماری دو ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ایک ہمارا انسانی حقوق اور دوسرا ہماری معیشت، ایک مملکت کے لیے ایک ایسا نظام کہ جو ہمارے انسانی حقوق کا محافظ ہو اور انسانی حقوق کا تعلق تین باتوں سے ہے انسان کی جان، انسان کا مال اور انسان کی عزت و آبرو، پوری دنیا میں چاہے مسلم ہو یا نان مسلم وہ جو اپنی قانون سازی کرتے ہیں تو یہ تین چیزیں ان کے نظر میں ہوتی ہیں۔ پوری قانون سازی ان تین چیزوں کے گرد گھومتی رہتی ہے انسانی حقوق ان کا تعین کرنا پھر انسان حق کا تحفظ کرنا پھر انسانی حق کی تلافی کرنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ساری زندگی توحید کا درس دیا۔ شرک کے خلاف لڑے یہاں تک کہ اگ میں جھونک دیے گئے بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم کرنے کے لیے تمام تکلیفیں برداشت کی، ہر امتحان سے گزرے اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے،
    وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ
    جب اس کے رب نے بہت سی باتوں پر ان کا امتحان لیا اور وہ اس پر پورے اترے۔ ہر منصب کے لیے پہلے انٹرویو ہوتا ہے ناں تو اللہ نے امتحان لیا اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے اس کے بعد اپ کو امامت کبریٰ کا منصب عطا کیا،
    قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-
    پوری انسانیت کا تمہیں امام بنانے والا ہوں۔ توحید کی طرف دعوت یہ ایک سبق تھا، تمام تر مشکلات کو آپ نے عبور کیا لیکن اس کی انتہا ایک اجتماعی زندگی اور منظم اجتماعی زندگی جس میں اپ کو مملکت کا امام بنا دیا گیا، انسانیت کا امام بنا دیا گیا اور ذمہ داری تبدیل ہو گئی پہلے کچھ فرق تھا اضافہ ہو گیا اب امامت کبریٰ پر فائز ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ترجیحات کو ذرا مطالعہ کیجئے، اب فرماتے ہیں،
    وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ
    اے اللّٰہ اس شہر کو اس ابادی کو امن نصیب فرما یہاں کے لوگوں کی جان مال اور عزت آبرو کی حفاظت فرما۔ ایسا نظام عطا فرما کہ جس نظام کے ذریعے سے انسانی حقوق محفوظ ہو جائے اور خوشحال معیشت کی دعا کی پھل فروٹ کی بات کی دال ساگ کی بات نہیں کی لیکن اپ نے فرمایا کہ یا اللّٰہ انہیں پھل فروٹ عطا فرما لیکن ان کے لیے جو ایمان لائے اللّٰہ پر اور یوم اخرت پر، تو اللہ تعالی نے فرمایا نہیں دنیا میں تو ان کو بھی دوں گا یعنی ایک اسلامی معاشرے میں بھی اسلامی مملکت کے اندر بھی مسلم نان مسلم کے حقوق کو برابر کر دیا۔ اگر وہ جنگ نہیں لڑتے امن سے رہتے ہیں پرامن برادرانہ زندگی گزارتے ہیں تو ان کی جان بھی ایسی ہی محفوظ جس طرح کے اپنی، ان کا مال بھی ایسا ہی محفوظ جس طرح اپنا مال اور ان کی عزت و آبرو بھی اسی طرح محفوظ جس طرح کہ اپنی، اب اس تصور کے بعد جس اللّٰہ نے ہمیں پیدا کیا تو حکم بھی اسی کا چلے گا، تخلیق کائنات بھی اپ نے کی ہے اور ان پر حکم بھی آپ کا چلے گا اور پھر سب سے اولین پیغام وہ اس کے امن کا ہے۔
    سوچنے کی بات ہے کہ وہ دین اسلام اور اس دین اسلام سے وابستہ مسلمان وہ کیسے کرہ ارض پر فساد کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام کے معنی دوسرے کو سلامتی دینا، ایمان کے معنی دوسرے کو امن دینا، جس دین کے ناموں کے اندر امن اور سلامتی کے معنی پنہاں ہوں اس حوالے سے الٹا تاثر قائم کرنا یہ پھر دین اسلام کے ساتھ بے انصافی ہے اور پھر یاد رکھے عام طور پر جب ہم آپس میں بیٹھتے ہیں جرگوں میں یا اس میں پھر دو فریق ہوتے ہیں تو ہمیشہ اقرار کرنے والا صلح کا ذریعہ بنتا ہے اور انکار کرنے والا جھگڑے کا سبب بنتا ہے اب مسلمان تو سب کو مانتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب بائبل پر بھی ایمان لاتا ہے، مسلمان حضرت موسی علیہ السلام پر بھی ایمان لاتا ہے، اس کی تورات پر بھی ایمان لاتا ہے۔ جب ہم سب کو مانتے ہیں سب کی کتابوں کو مانتے ہیں ان کو اسمانی کتاب مانتے ہیں تو پھر مسلمان کبھی بھی فساد کا سبب نہیں بنتا، پھر جو ہمارا انکار کرتے ہیں وہ اپنے گریبان میں جان کر خود اپنے سے کچھ سوالات کریں کہ دنیا میں جو اس وقت شورش ہے بد امنی ہے اس کے اسباب کیا ہے۔ ہم بھی ان چیزوں کو تلاش کریں۔
    ہمارے علماء ایک بڑی خوبصورت بات کرتے ہیں فرماتے ہیں ایک یہ کہ انسان کو راستہ چاہیے اگر راستہ ہی نہیں تو جائے کدھر اور جب اس کو راستہ مل جاتا ہے تو پھر اس کو راستے پر چلنے کا اسلوب بھی چاہیے اس کا ڈھنگ بھی چاہیے اس کو اور اس راستے میں اگر کوئی رکاوٹ اتی ہے کہیں پتھریلی زمین اجاتی ہے کبھی جھاڑیاں اجاتی ہیں کبھی پانی اجاتا ہے تو اس مشکل مرحلے کو عبور کرنا یہ بھی تو راستے کے لوازمات ہے۔ تو ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ راستہ تو شریعت ہے اور راستے پر چلنے کا اسلوب طریقت ہے اور راستے کے مشکل کو دور کرنا اور مشکل کا مقابلہ کرنا سیاست ہے۔ یہ تینوں موالید اسلام ہے، شریعت کو ہماری کتابوں میں تعلیم الاحکام سے تعبیر کیا جاتا ہے، طریقت کو ہماری کتابوں میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور سیاست کو ہماری کتابوں میں تنظیم الاعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جناب رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے خود اعلان کیا کہ میں اخری سیاست دان ہوں اور اس سے پہلے بنی اسرائیل کے اندر انبیاء اتے تھے اور وہ سیاست کرتے تھے یعنی مملکتی اور اجتماعی زندگی میں تدبیر و انتظام کیا کرتے تھے۔ چارہ گری کرتے تھے۔
    كانت بنو إسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدی
    بنی اسرائیل کے انبیاء سیاستدان تھے امور مملکت اس کا انتظام و انصرام ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا ایک جاتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا تھا اب میں آخری پیغمبر ہوں اب یہ باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہے۔
    ولا نبیا بعدی
    میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا اور وسيكون خلفاء، میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بڑی تعداد میں ہوں گے۔ میں اپنے علماء کرام سے بھی کبھی کبھی الجھتا ہوں کہ یہ جو اپ جلسوں میں کہتے ہیں کہ ختم نبوت جو ہے سیاست سے بالاتر ہے یہ امت کا متفقہ مسئلہ ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اب تو اس حدیث کے بارے میں ذرا سوچیں اپ کہاں کھڑے ہیں کہ جو وظیفہ انبیاء کرام کا تھا اور اس کے آخری کڑی خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے وہاں ہم نے اس کو خالصتاً دنیا داری کہہ دیا ہے۔ جھوٹ بولو، دھوکہ دو تاکہ منصب تک پہنچ سکو، اس میں کوئی کامیاب ہو گیا تو ہم کہتے ہیں یہ کامیاب سیاستدان ہے۔
    تو ہم نے شریعت کے ایک اصطلاح کو کیا معنی پہنا لیا ہے، کیا مفہوم پہنا دیا اس کو، بحیثیت مسلمان ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے علمی لحاظ سے غور کرنا چاہیے۔ مسائل اتے ہیں اور دین اسلام کا جو اولین تقاضہ ہے جس پر آپ کی سماجی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے آپ کی معاشی زندگی بھی اسی پہ کھڑی ہے، آپ کے معاشرت کا نظام بھی اسی کے اوپر کھڑا ہے وہ ہے آزادی، یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ رب العزت نے شریعت کو ایک مشکل گزرگاہ سے تعبیر کیا ہے۔
    فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ،
    جب جب انسان گھاٹی میں داخل ہو اور جانتے ہو گھاٹی کیا ہے گھاٹی کیا ہوتا ہے مشکل گزرگاہ کو کہتے ہیں، پہاڑوں کے اندر جو چھوٹے درے ہوتے ہیں جب اپ اس سے گزرتے ہیں تو پتھریلی زمین بھی ائے گی، پانی بھی ائے گا، جھاڑیاں بھی ائے گی، کانٹیں بھی ائیں گے۔ اب اس مشکل گزرگاہ میں داخل ہو جانا، شریعت کو قبول کر لینا، دین اسلام پر ایمان لے انا، اس کا جو اولین تقاضہ ہے خود رب العالمین نے فرمایا فَكُّ رَقَبَة، گردن چھڑانا، اب جس زمانے میں غلام رکھے جاتے تھے اس زمانے میں تو یہ بات سمجھ میں اتی تھی کہ غلام ازاد کردو۔ تمام مفسرین نے ان کو آزاد کرنے کے معنی سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن یہ تو قرآن ہے اللّٰہ کا کلام ہے جتنا اللّٰہ عظیم ہے اس کا کلام اتنا ہی عظیم، اس کے معنی مفہوم میں بھی وہی وسعت ہوگی۔ ایک فرد کو آزاد کرنے کے ساتھ ساتھ پورے قوم کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین ترجیح ہے، انسانیت کو آزاد کرانا یہ دین اسلام کا اولین تقاضہ ہے۔ آج آزادی کے حق کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ نو آبادیاتی نظام کے بعد ہر ایک کہتا ہے انسان آزاد ہے۔ انسان کی آزادی کے تصور کو تو کوئی اختلاف نہیں، اس کو آزادی حاصل ہوگا، انسانی حق کو تو کوئی جھگڑا نہیں ہے یعنی حق کی تعریف کرنا، حق کی تفصیل بیان کرنا اس میں شائد فرق ہو، آزادی کے تصور پر کوئی اختلاف نہیں البتہ آزادی کی مفہوم پر بحث ہو سکتی ہے۔
    میرے دوست تھے آزاد خیال قسم کے، ابھی بھی حیات ہے مجھے کہنے لگے کہ آپ مولوی صاحبان سارا دن مسجد میں بیٹھ کے اللّٰہ کی بندگی اور اللّٰہ کی بندگی ہو اللّٰہ کی بندگی اور سوائے بندگی سکھانے کی کوئی اور کام تمہارا نہیں ہے لیکن جب سڑکوں پہ آتے ہو روڈوں پہ تو آزادی اور آزادی اور یہ عذاب ہے کہ مسجدوں میں اور حجروں میں تو آپ لوگوں کو غلامی اور بندگی پڑھا رہے ہوتے ہیں اور روڈوں کے اوپر پھر آزادی اور آزادی کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا آپ شائد آزادی کا معنی سمجھے نہیں ائیے ہم اپنے خاندان میں آتے ہیں اور خاندان میں ا کر ہم اس کو پھر سمجھتے ہیں۔ جس طرح کائنات میں کائنات کا خالق ایک ہے۔ جس طرح ہر انسان کا باپ ایک ہوتا ہے۔ انسان کی جو ظاہری تخلیق ہے اس کا جو ظاہری ہے سبب ہے وہ باپ ہے۔ اب جب اس باپ کی اولاد اور وہ اولاد اپنے والد کی خدمت کرتا ہو، اس کی فرمانبرداری کرتا ہو، اس کی دکان پر بیٹھتا ہو، اس کی زمین پر محنت کرتا ہو، کیا ہمارے معاشرے میں اس بیٹے کو باپ کا نوکر کہا جاتا ہے، باپ کا مزدور کہا جاتا ہے، باپ کا مزارع کہا جاتا ہے، کبھی نہیں، اپنے جائیداد کا مالک کہا جاتا ہے لیکن اگر معاشی مجبوری ہو جائے پھر کسی طاقتور آدمی کے سامنے، کسی بڑے زمیندار کے، کسی بڑے کاروباری کے، کسی کارخانہ دار کے، ان کے سائے میں زندگی گزارنا تو جب آپ کسی طاقتور کے ساتھ اپنی ضرورتوں کی وجہ سے زندگی گزارتے ہیں تب آپ کو نوکر بھی کہا جائے گا، مزدور بھی کہا جائے گا، مزارع بھی کہا جائے گا لیکن اپنے والد کی اطاعت میں سب کچھ کرنا اس کو ہمارے معاشرے میں کبھی مزدور یا نوکر نہیں کہتے۔
    تو یہ شخص جو اپنے والد کا اطاعت گزار ہے، اس کا فرمانبردار ہے اسے ہمارے معاشرے میں نوکر اور مزدور نہیں کہا جاتا باپ کا، لیکن اگر وہ بوجہ مجبوری اپنی ضرورتوں کے تحت کسی کے گھر جا کر نوکری کرتا ہے، کسی کی زمین پر مزارع بنتا ہے، کسی کے کارخانہ میں کام کرتا ہے کسی کے دکان پہ بیٹھتا ہے تو اپ اس کی ملازم بھی کہتے ہیں، مزدور بھی کہتے ہیں، مزارع بھی کہتے ہیں۔
    اسی طریقے سے اگر ایک قوم اپنے خالق کائنات کی اطاعت میں زندگی گزارے اور اس کے قانون کی پیروی کرتی نظر ائے وہ قوم ازاد کہلائے گی۔ اور اگر ہم اللّٰہ کے علاوہ کسی دوسرے انسان کے بنائے ہوئے نظام کی پیروی کریں گے تو پھر ہمیں غلام کہا جائے گا۔ ہمیں اگر پاکستان میں چاہیے تو یہ نظام چاہیے اور یہ کوئی اسان کام نہیں ہے اور ہم نے اس کے لیے پُرامن راستے چنے۔ جمہوری راستہ، الیکشن کا راستہ، پارلیمنٹ کا راستہ، قانون سازی کا راستہ، کسی کو کنونس کرنے کا راستہ، طریقے سے اس کو اپنی بات پر آمادہ کرنا اور قائل کرنا، اور یہی دعوت کا تقاضا ہے کیونکہ یا تو آپ نے مقام عبدیت میں رہنا ہے یا مقام حکومت میں رہنا ہے۔ جب تک آپ مقام حکومت میں نہیں پہنچتے اور وسائل پر اپ کی گرفت نہیں اتی تب تک آپ مقام دعوت پر ہو تو دعوت والا جو ہے وہ پھر اپنا ہی مقام رکھتے ہیں وہ گالم گلوچ نہیں دیتا، لڑائی جھگڑا نہیں کرتا، مقام دعوت سے بالکل نیچے نہیں اترتا، جیسے کہ اللہ رب العزت نے کچھ لوگوں کو بھیجا،
    واضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ،
    دو بندوں کو بھیجا پھر تیسرے کو بھیجا اور اس لیے تاکہ وہ اللہ کے دین کی طرف دعوت دے ان کو، لیکن انہوں نے جھٹلایا، پھر دھمکیاں تک دی پھر کہا یہ تمہاری وجہ سے نحوست ہے نعوذ باللہ،
    قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
    اب وہ منکر ہے یہ داعی ہے منکر گر رہا ہے، بد اخلاقی کی طرف جا رہا ہے، دھمکیوں کی طرف جا رہا ہے، مار کٹائی کی طرف جا رہا ہے، سنسار کرنے کی طرف جا رہا ہے اور وہاں ان سے کہا جاتا ہے،
    قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ۔
    کوئی اللہ نے کچھ نہیں کیا تم بھی ہماری طرح انسان ہو، کیا اللّٰہ اللّٰہ کی باتیں کرتے ہو، جھوٹ بولتے ہو، لیکن وہ کہتا ہے نہیں،
    قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ
    تمہارا اللّٰہ جانتا ہے ہم اسی کی طرف سے آئے ہیں۔ اللّٰہ کی دعوت دے رہے اپنے مقام سے نیچے نہیں اتر رہے، کوئی بد اخلاقی نہیں کر رہا، کوئی سختی نہیں، یہاں تک کہ وہ جو گاؤں والا نصرت کے لیے آتا ہے اس کو شہید کر دیتے ہیں اور جب اس کو قبر میں اتارا جاتا ہے اور اس کو کہا جاتا ہے قبر میں اتار کر اس کو کہا جا رہا ہے کہ جنت میں داخل ہو جاؤ، انسانیت کی طرف بلاؤ، اللّٰہ کے اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ، حکمت اور دانائی جس کو مل گئی حکمت تو ایسی چیز ہے جس کو مل گئی بس خیر کثیر اسی کو مل گئی اور حکمت جو ہے جو مسئلہ اپ بیان کر رہے ہیں اس کے موقع محل کو سمجھنا، میں کس سے بات کر رہا ہوں، سننے والے کا مزاج کیا ہے، اس کی تربیت کہاں ہوئی ہے وہ نرم دل والے ہیں یا سخت دل والے ہیں، میری بات کو وہ قبول کرے گا نہیں کرے گا۔ اگر اپ سمجھتے ہیں کہ اج وہ قبول نہیں کرتا تو اس کو دوست بنا لو تاکہ مانوس ہو جائیں اپ کے ساتھ، اس قابل ہو جائے کہ اپ کی بات کو قبول کر سکے اور آپ کی گفتگو میں شائستگی ہو، ہاں دعوت دینے والا اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے کہیں پر کوئی الجھ آگئی ان کے بیچ میں، اپس میں الجھ گئے تو اس مرحلے پر ا کر بھی اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جھگڑے والا اور جدال والے ماحول کو بھی شائستگی کے ساتھ انجام دینا ہوگا، یعنی دعوت کے ذریعے تو دو ہیں ایک حکمت اور ایک حسن موعظت، جدال جھگڑا یہ نظریہ دعوت نہیں ہے لیکن اگر درپیش ہو جائے تو پھر اس جدال کو بھی اس طرح انجام تک پہنچاؤ کہ جو نتیجہ حکمت اور حسن موعظت کا ہے وہی نتیجہ و معال اپ کے جدال میں بھی ہو۔
    تو اختلاف اجاتا ہے مظاکرہ ہوتا ہے لیکن وقار کے ساتھ، گالیوں کے ساتھ نہیں، سیاست گالیوں سے نہیں ہوتی، عبادت گالیوں سے نہیں ہوگی، عقیدے کا بیان گالیوں سے نہیں ہوگا، گالیوں سے شدت آتی ہے وہ آپ کے لیے نرم نہیں ہوگا کہ آپ کو قبول کر سکے۔ قبول نہ کرنے کا نہ ہونے کا ثبوت بن سکتا ہے تو قبول کرنے کا نہیں بن سکتا۔
    تو اس انداز کے ساتھ ہم اختلاف رائے بھی کریں گے اور ہم انسان ہیں جو بات ہم کہہ رہے ہیں کیا واقعی ہم خود بھی اس معیار پر پورے اترتے ہیں، یقیناً ہم بھی قصور وار ہوں گے لیکن جہاں ہم قصور کرتے ہیں، سخت لہجہ استعمال کرتے ہیں جہاں اپنے مخالف کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرتے ہیں ہمیں داد بھی اسی پہ ملتی ہے۔
    تو یہ ساری چیزیں اس میدان کی اصلاح کی چیزیں ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ انسانی حقوق کیا ہیں۔ ہم نے اس بات کو سمجھنا ہے کہ مملکتی اور قومی زندگی کا دارومدار معاشی ترقی پہ ہے۔ اس سے اگے اپ کے لیے اپنی نماز ہے اپ کا اپنا مسلک ہے جس طرح پڑھیں جہاں پڑھیں روزہ رکھیں جس طرح رکھے اپ کے اعمال ذاتی اعمال ہیں۔ لیکن مملکت اپ سے دو چیزیں مانگتا ہے ایک انسانی حقوق کا تحفظ اور ایک خوشحال معیشت، لوگوں کو روزگار دینا، لیکن جب اللّٰہ اپ پر ان دونوں چیزوں کا انعام کر دے پھر شکر گزار ہونا چاہیے نا شکری اللّٰہ کو قبول نہیں۔
    وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىٕنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْ عِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے ایک ابادی کی مثال دی ہے کہ وہاں امن بھی تھا سکون بھی تھا۔ جب امن ہوگا سکون بھی ہوگا اطمینان بھی ہوگا۔ ہر طرف سے رزق کچ کچ کے آتا تھا ان کے پاس، خوشحال معیشت تھی وہاں، لیکن جب انہوں نے اللّٰہ کی ناشکری کی، کفران نعمت کیا، اللّٰہ کی عبادت سے انکار کر دیا، عیاشیوں کی طرف چلے گئے، اپنی مرضی کی زندگی گزارنا جس طرح حیوانات گزارتے ہیں اور اسی کو ازادی کہہ دیا اس نے، تو پھر اللّٰہ رب العزت نے ان کو مزہ چکھایا کن چیزوں کا، دو باتوں کا، ایک بھوک کا اور ایک بد امنی کا، اللّٰہ نے ان پر بھوک اور بد امنی مسلط کر دی اور یہ ایک ایمان والوں سے بات ہو رہی ہے اپ کہیں گے کہ بھئی کافر دنیا، کافر دنیا کی تو کمٹمنٹ بھی نہیں ہے نا، آپ نے تو اللہ کے ہاں بیعت کی ہوئی ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہا ہوا ہے کلمہ پڑھا ہوا ہے آپ نے، جو آپ کے ساتھ کمٹمنٹ کرتا ہے اس کے بارے میں اپ کا رویہ اور ہو سکتا ہے جس کی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دنیا فنا ہونے والی چیز اور اخرت ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ ترغیب اسی پہ ہے کہ اخرت کو مد نظر رکھ کر اسی پہ گزارا کرو۔ لیکن کیا یہ دنیا کی نعمتیں جو اللّٰہ نے پیدا کی ہیں اس کو لات مار دیں، یہ تو اللّٰہ تعالیٰ بھی نہیں کہتا، اللّٰہ رب العزت فرماتے ہیں لوگوں سے کہہ دو یہ جو میں نے اپنے بندوں کے لیے نعمتیں پیدا کی ہیں پاک رزق پیدا کی ہے کس نے تم پر حرام کیا ہے۔ کہہ دو یہ سب کچھ دنیا میں تمہارے لئے ہے لیکن مجھے نہ ماننے والا بھی دنیا میں شریک ہوگا اور قیامت کے دن خالصتاً آپ لوگوں کے لیے ہوگا۔ یہ جو نعمتیں دنیا میں ہے یہ ہمارے لیے ہی ہے۔ ایمان والوں کے لیے ہے لیکن اگر ایمان کا رشتہ ہی اللّٰہ سے ٹوٹ جاتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے پھر تو پڑوسی ان پر قبضہ کریں گے نا، دنیا کی نعمتوں پر اگر اج دوسری دنیا کا قبضہ ہے تو گلا اپنے سے کرو ان سے کیوں کرتے ہو، کیوں معیشت ان کے قبضے میں ہے اور کیوں ہم ان سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ یہ ملک ہم نے اس لیے تو حاصل نہیں کیا تھا۔ ہم نے تو اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم ازاد ہوں گے، ہماری معیشت بہتر ہوگی، ہمارے حقوق محفوظ ہوں گے لیکن سب سے زیادہ بدامنی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ معاشی بدحالی کی شکایت بھی ہم کر رہے ہیں۔ اس ملک کے لیے فکر مند ہونا یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے فکرمند ہو، اس کی بہتری کے لیے کردار ادا کرے، اس کو پرامن بنانے کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہم کردار ادا کرے۔ وہاں کے خوشحال معیشت کے لیے ہم کردار ادا کریں اور دین اسلام کے رہنمائی میں، ہم کہتے ہیں کہ سود حرام ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تو کہتے ہیں کہ جو لوگ سودی کاروبار کہتے ہیں وہ اللّٰہ سے جنگ کے لیے تیار رہے۔ اللّٰہ سے جنگ بھی تو ہے اسلام کے نام پر حاصل کیے ہوئے ملک میں ستتر سال ہو گئے ہم آج تک اللّٰہ کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں اور پھر بھی ہم خوشحالی کی بات کرتے تھے۔ آبادی کی بات کرتے ہیں، امن کی بات کرتے ہیں۔ فلاں ذمہ دار ہے، اس کا قصور ہے، اس کا قصور ہے، اور وہ نااہل ہے یہ نااہل ہے اسی طرح گزر رہی ہے۔ لیکن اصل مرض کو ہم نے اج تک پکڑنے کی کوشش نہیں کی۔
    تو یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس کے لیے ایک منظم جدوجہد کی ضرورت ہے انفرادی کام نہیں ہے اس کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ آپ حضرات اگر عملاً شریک نہیں ہو سکتے یہاں دعا تو کر سکتے جو کام کر رہے ہیں ان کو اللہ توفیق دے، اللّٰہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت عطا فرمائے، جو کام کر رہے ہیں اللہ ان کو کامیابی نصیب فرمائے۔
    تو اچھا ہوا آج کی اس مجلس سے کچھ فائدہ ہم نے اٹھا لیا ہے اور کچھ دل کی باتیں ایک دوسرے سے کہہ دی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کو قبول فرما لے اور ہر قسم کے ازمائشوں سے اللّٰہ تعالی ہمیں محفوظ فرمائے، جو خطائیں ہم نے کی ہیں اللہ اپ کو معاف فرما دے اور اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے پردے میں رکھے اور رسوائی سے دنیا میں بھی محفوظ رکھے اور آخرت میں بھی محفوظ رکھے۔

    وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔*

  • عمران،بشریٰ کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں،مولانا فضل الرحمان

    عمران،بشریٰ کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہےکہ کسی سیاستدان کو قید کرنے کے حق میں نہیں، عمران خان کی رہائی کی کوششوں میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی کمزوری میں سیاستدانوں کا بڑا کردار ہے ، ہمیشہ آئین اور جمہوریت پر شب خون مارا گیا، برطانیہ کی ذمے داری ہے کہ خواجہ آصف کے ساتھ پیش آئے واقعے پر قانون کے مطابق کارروائی کرے،مہمانوں کو تحفظ دینا برطانوی حکومت کا کام ہے، خواجہ آصف کے ساتھ جو لندن میں واقعہ پیش آیا اسکی مذمت کرتا ہوں ،امریکی سیاست میں مداخلت کرتےہیں نہ انہیں مداخلت کی اجازت دیتےہیں،امر یکا میں ری پبلکن کی حکومت ہو یا ڈیموکریٹس کی، دنیا کے لیے ان کی پالیسی ایک ہے ،پاکستان میں نئے قانون کی وجہ سے ہمارے شہریوں کی عزت نہیں کی جا سکتی،بشریٰ کی رہائی میں بھی کوئی کردار نہیں تھا، نواز شریف سے میری کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہے،

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • لندن،احتجاج کرنے والے پاکستانیوں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا فیصلہ

    لندن،احتجاج کرنے والے پاکستانیوں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا فیصلہ

    لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دورے کے دوران احتجاج کرنے والے اور ن لیگی رہنما نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والوں کے نہ صرف پاسپورٹ منسوخ بلکہ انکی جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں گی

    اس بات کا انکشاف اظہر جاوید نے ایک ویڈیو میں کیا، اظہر جاوید کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی اب جائیدادیں بلاک کرنے جا رہے ہیں،جو جو پچھلے چار سال میں مظاہروں میں شریک رہا ان سب کی ویڈیویہاں پر ہیں اور کاروائی جاری ہے،اب اوورسیز پاکستانی مظاہرے میں آنے سے قبل ایک بار ضرور سوچیں انکے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے، پیچھے ماں باپ ہو ں گے،بہن بھائی ہوں گے، ان کے مستقبل کا خیال کریں، اپنا بھی خیال کریں،سیاسی جماعتوں کے آگے پیچھے لگ کر اپنا مستقبل خراب نہ کریں،انکے پاسپورٹ منسوخ ہوں گے، ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لئے بھی کاروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے،ڈیڑھ سو بندوں کی اور لسٹ آ رہی ہے انکے نہ صرف پاسپورٹ ،آئی ڈی کارڈ منسوخ ہونے جا رہے ہیں بلکہ جو جائیدادیں پاکستان میں ہیں وہ بھی فریز ہونے جا رہی ہیں،یہاں سوشل میڈیا کے جو سوکالڈ لیڈر تھے وہ تو بھاگ گئے ہیں،عام پاکستانی جن کو ورغلایا جاتا تھا وہ اب پریشان ہیں،

    قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

  • قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر لندن دورے کے دوران مبینہ حملے کے معاملے پر برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ کیا ہے

    برطانوی ڈپلومیٹک پولیس کے دورے کے دوران پاکستانی عملے نے سابق چیف جسٹس کی گاڑی پر مبینہ حملے سے متعلق بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ہائی کمیشن کی گاڑی میں موجود تھے۔ برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ جمعہ کے روز ڈپلومیٹک پولیس کے وفد نے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران سے ملاقات کی تھی۔

    یاد رہے کہ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن نے کسی کو نامزد کیے بغیر سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملے کے واقعے کے بارے میں باضابطہ شکایت درج کرائی تھی،پاکستانی ہائی کمیشن کی شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان پر حملے سے آگاہ ہیں، اور یہ واقعہ سٹی آف لندن میں پیش آیا ہے، جہاں کی پولیسنگ سٹی آف لندن پولیس کے ذمے ہے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔