Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے

    برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے

    لندن: مصنف ٹام کوئن کی کتاب ’گلڈڈ یوتھ‘ میں انکشاف کیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان میں شادی کیلئے خواتین کو تولیدی صحت کا ٹیسٹ کرانا ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی: شہزادہ ہیری کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب نے بھی شاہی خاندان کے سربستہ رازوں سے پردہ اُٹھایا ہے اور اب ایک اور نئی کتاب کے چرچے ہیں جس میں شاہی خاندان میں شادی سے متعلق انکشافات کیے گئے ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصنف ٹام کوئن نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ شہزادہ ولیم سے شادی کے قبل کیٹ مڈلٹن کو ’تولیدی صحت‘ کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑا تاکہ معلوم ہوسکے کہ شاہی خاندان میں آنے والی دلہن بچے پیدا کرنی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    مصنف یہ بھی لکھا کہ 1981 میں پرنس چارلس کی ڈیانا کی شادی سے قبل بھی جوڑے کے ٹیسٹ کرائے گئے تھے اس حوالے سے لیڈی ڈیانا نے بھی بتایا تھا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ تولیدی صحت سے متعلق ٹیسٹ ہے۔

    شاہی خاندان سے متعلق نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ اگر کیٹ مڈلٹن تولیدی صحت کا ٹیسٹ پاس نہ کرپاتیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی شہزادہ ولیم سے شادی نہ ہوتی۔

    ٹام کوئن کے مطابق لیڈی ڈیانا کے برعکس کیٹ مڈلٹن کو علم تھا کہ شادی سے قبل ان کا کرایا گیا ٹیسٹ تولیدی صحت سے متعلق ہے تاہم انہوں نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

    کتاب میں یہ واضح نہیں کہ اس ٹیسٹ سے شاہی خاندان سے باہر سے آنے والی دلہنوں کو گزرنا پڑتا ہے یا یہ شرط شاہی خاندان کی خواتین کے لیے بھی ہے۔

  • ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    بند ہونے والی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی بدھ کو دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عارف نقوی نے عدالت کا یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا-

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

    مقدمہ ہارنے کے بعد ایک وقت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کے بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

    برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہےعارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

    امریکی حکومت کے سرکاری وکیل مارک سمرز نے عدالتی فائلنگ میں کہا کہ عارف نقوی کے مقدمے کے امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس کپلان ہیں جنہوں نے ایف ٹی ایکس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ کی بھی ضمانت کی منظوری دی تھی جو ’مضبوط اشارہ‘ ہے کہ نقوی کو ضمانت مل جائے گی۔

    برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    عارف نقوی کے وکیل نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔

    امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔

    عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جب کہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔

    ماضی میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ایک وقت میں ان کی حکومت کو بے ضابطہ مشاورت فراہم کر رہے تھے۔

    اس کے علاوہ عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔

    ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

    پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں سال 2018 میں فرم کے خاتمے کے وقت ابراج ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض تھا۔

    امریکہ میں عارف نقوی پر فراڈ کے الزامات ہیں اور مبینہ متاثرین میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے 2019 میں برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عارف نقوی کے کاروباری ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اور استغاثہ کے وکلاء نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عارف نقوی کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نے عارف نقوی کے خلاف تحریری درخواست میں سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے دوران فراڈ اور منی لانڈرنگ کے 16 مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزمات لگائے تھے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …

    عدالتی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے مطابق ابراج گروپ کو جب 2014 میں مالی مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں تو اس وقت مبینہ طور پر فراڈ شروع ہوا تھا۔ گروپ کی آمدنی روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی پڑنے لگی تو مبینہ طور پر عارف نقوی اور اس کے ساتھ شامل کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر گڑ بڑ کرنا شروع کی۔

    کہا گیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کے دو طریقے تھے۔ پہلے طریقہ جو مبینہ طور پر اختیار کیا گیا وہ ابراج گروپ کی مالی مشکلات کو چھپانے کے لیے سرمایہ کاروں کا پیسہ ادھر سے ادھر کیا گیا یا جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اسے دوسری جگہوں پر استعمال کیا جانا شروع کیا گیا۔ دوسرا طریقہ گروپ کے اثاثوں کی قدر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی۔ گروپ کی مالی حالت کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے غلط تصویر پیش کر کے ان سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گروپ کے اندر جاری اس مبینہ بدعنوانی اور فراڈ سنہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم ای میل پیغام سرمایہ کاروں کو موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا ‘کیش’ کو ابراج کے ‘ورکنگ کیپٹل’ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ جو پیسہ ادھر اُدھر کیا جا رہا تھا اس کو ابراج گروپ کی مالی حالت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا انھوں نے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک پاکستانی سیاست دان کو بھی رشوت دی۔

    ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کرنے کی …

    عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کےایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

    سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھاسنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

    ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

    پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

    دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہےابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ اور خزانہ حکام کو طلب کر …

    عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

    حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کوونڈسر کاسل میں واقع گھر خالی کرنے کی درخواست

    شہزادہ ہیری اور میگھن کوونڈسر کاسل میں واقع گھر خالی کرنے کی درخواست

    جوڑے کی عالمی پریس سکریٹری نے کہا کہ شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگھن، ڈچس آف سسیکس، اب ونڈسر کاسل میں واقع گھر فروگمور کاٹیج کو اپنا برطانوی گھر نہیں کہہ سکتے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی شہزادہ ہیری اور ا ن کی اہلیہ میگھن مارکل کو ونڈسر کاسل میں واقع گھر Frogmore Cottage خالی کرنے کا کہہ دیا گیا ہے-

    ایشلے ہینسن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ ڈیوک اور ڈچس آف سسیکس سے فروگمور کاٹیج میں اپنی رہائش گاہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    شاہ چارلس ہیری کی انتہائی متنازع اورالزامات سے بھری کتاب سامنے آنے پر ناراض ہیں، رواں سال مئی میں شہزادہ چارلس کی تاجپوشی کے بعد جوڑے کو فروگمور کاٹیج خالی کرنا ہوگا۔

    فروگمور کاٹیج ملکہ الزبتھ نے جوڑے کو تحفے میں دیا تھا ، بکنگھم پیلس کی طرف سے اس پرکوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب شہزادہ ہیری اور میگھن کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ڈیوک آف سسیکس سے فروگمور کاٹیج میں اپنی رہائش گاہ خالی کرنے کی درخواست کی گئی ہے’۔

    شہزادہ ہیری اور اہلیہ میگھن مارکل کیلیفورنیا میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ شہزادہ ہیری کی سوانح حیات کی اشاعت کے بعد شاہی خاندان اور شاہی جوڑے کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہو گئے تھے شہزادہ ہیری کی کتاب دنیا بھر میں 16 زبانوں میں شائع کی گئی جس میں ہیری نے شاہی خاندان کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے تھے۔

    کتاب میں ایک جگہ شہزادہ ہیری نے دعویٰ کیا کہ 2019 میں ان کے بڑے بھائی شہزادہ ولیم نے ان پر حملہ کرکے فرش پر گرا دیا تھا ایک اور جگہ انہوں نے لکھا کہ جس وقت ان کی والدہ شہزادی ڈیانا کا انتقال ہوا تو وہ یہ سمجھے تھے کہ انہوں نے مشکلات سے تنگ آکر موت کا ڈرامہ کیا ہے۔

    ایک اور جگہ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ انہیں ملکہ الزبتھ کے انتقال کا علم خاندان کی بجائے بی بی سی ویب سائٹ سے ہوا۔

    یہ جوڑا 2020 میں گھر سے، جو ونڈسر کیسل کے میدان میں ہے، جنوبی کیلیفورنیا منتقل ہو گیا، جب وہ برطانیہ کے شاہی خاندان کے فرنٹ لائن ممبر کی حیثیت سے دستبردار ہو گئے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ پراپرٹی 10 بیڈ روم کی پراپرٹی ہے جو آنجہانی ملکہ نے جوڑے کو دی تھی، ابتدائی طور پر ان کی مرکزی رہائش گاہ تھی اور ان کے لیے اس کی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔

    2020 میں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے گھر کی تزئین و آرائش کے لیے استعمال ہونے والی عوامی رقم میں سے $3 ملین سے زیادہ کی واپسی کی ہے۔ فروگمور کی تزئین و آرائش ناقدین کی شکایات میں شامل تھی جب جوڑے نے شاہی خاندان کے طور پر کام کرنا چھوڑ دیا۔

    کچھ ناقدین نے ان پر الزام لگایا کہ وہ کچھ فوائد کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے شاہی فرائض سے بچنا چاہتے ہیں – خاص طور پر، برطانوی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے اس کی تزئین و آرائش کے بعد تاریخی رہائش گاہ پر رہنا۔

  • برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا 250 کلو وزنی بم پھٹ گیا

    برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا 250 کلو وزنی بم پھٹ گیا

    برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے سے پھٹ گیا-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی کاؤنٹی نورفوک (Norfolk) کے علاقے گریٹ یرماؤتھ (Great Yarmouth) میں 4 روز قبل دریافت ہونے والا دوسری جنگ عظیم کا 250 کلوگرام وزنی بم ناکارہ بناتے ہوئے دھماکے سے پھٹ گیا،دھماکے کی آواز 15 کلومیٹرز کے فاصلے تک سنی گئی جبکہ شہریوں نے عمارتوں میں تھرتھراہٹ بھی محسوس کی۔


    نورفوک پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے بم کو ناکارہ بنانے کی کارروائی سے قبل ہی علاقے کو خالی کروالیا گیا تھا اور بم کی سائٹ پر ریت کی دیوار کھڑی کی گئی تھی،پیشگی حفاظتی اقدامات کی بدولت دھماکے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا-

    پولیس کے مطابق برطانوی ایجنسیوں، فوج، پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار مشترکہ طور پر تین روز سے بم کو ناکارہ بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے دھماکے کےمقام پر سڑک میں گڑھا پڑ گیا تھا جسے ریپیئر کرنے کے بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

  • برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی،نیٹو

    برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی،نیٹو

    نیٹو کا کہنا ہےکہ برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کو اس سال نیٹو ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان سنبھالنا ہے، لیکن نیٹو چاہتا ہے کہ برطانیہ اس سال ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان نہ سنبھالے۔

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    30 ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے مطابق برطانیہ ریپڈ ری ایکشن فورس کے لیے اضافی 5 ہزار اہلکار دینےکی پوزیشن میں نہیں ہے، یوکرین فورس کی تربیت اور اسلحہ فراہمی کے سبب برطانیہ کے پاس وسائل کی کمی ہے اور برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی۔

    خیال رہے کہ جرمنی اس وقت نیٹو کی ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان سنبھالے ہوئے ہے، نیٹو چاہتا ہےکہ جرمنی ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان اگلےسال بھی سنبھالے رہے، اخراجات میں کمی کے باعث بھی برطانیہ کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

    برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی کی تقریبات،مہمانوں کی فہرست تیار،ہیری اور میگھن کو مدعو کرنے کا فیصلہ

  • برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی کی تقریبات،مہمانوں کی فہرست تیار،ہیری اور میگھن کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی کی تقریبات،مہمانوں کی فہرست تیار،ہیری اور میگھن کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس (سوم) کی تاجپوشی کی تقریبات ،مہمانوں کی فہرست تیار ،شاہی جوڑے ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کو مدعو کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق 6 مئی کو ہونے والی برطانوی بادشاہ چارلس (سوم) کیتاجپوشی کی تقریبات کیلئے بکنگھم پیلس کے حکام کی جانب سے 2 ہزار مہمانوں کے فہرست تیار کر لی گئی جس میں شہزادے ہیری اور میگھن مارکل کو مدعو کرنے فیصلہ کیا گیا ہے تاہم فہرست کو حتمی شکل دینے کیلئے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ اور محکمہ خارجہ سے مشاورت کی جا رہی ہے،بکنگھم پیلس کے حکام کی جانب سے جوڑی کو شرکت کے حوالے سے جلد فیصلہ کرکے آگاہ کرنے کا کہا جائے گا۔

    عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    برطانوی میڈیا نے وائٹ ہال کے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کے نام ممکنہ مہمانوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں تاہم شاہی جوڑے کو تقریبات میں اپنی شرکت کے فیصلے کے حوالے سے پیلس حکام کو بروقت آگاہ کرنا ہوگا۔

    شاہی خاندان کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ بادشاہ چارلس کی جانب سے شاہی جوڑے کو مدعو کرنا پبلک رلیشنز کے اعتبار سے بہت ضروری تھا کیونکہ اگر انہیں مدعو نہیں کیا جاتا تو وہ اس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

  • برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بینک آف انگلینڈ نے مسلسل 10 ویں بار شرح سود میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد وہ 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : مہنگائی کی روک تھام کے لیے بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کیا ہے،اس اضافے کے بعد شرح سود 3.5 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد ہوگئی ہے۔

    برطانیہ تاریخ کےمشکل ترین دورمیں داخل:ہڑتالی ملازمین کی تعداد6 لاکھ تک جاپہنچی

    بینک آف انگلینڈ نے کہا کہ برطانوی معیشت کو مختصر عرصے کی کساد بازاری کا سامنا ہوسکتا ہے مگر اس کا دورانیہ گزشتہ سال پیشگوئی کیے گئے دورانیے سے کم ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں شرح سود 4.5 فیصد تک جاسکتی ہے مگر اگلے سال سے اس میں کمی آنے لگے گی۔

    شرح سود بڑھنےسےٹریکرمارگیج صارفین کو ہر ماہ 49 پاؤنڈ زائد ادا کرنا ہوں گے جبکہ عام ریٹ پر مارگیج لینے والے صارفین 31 پاؤنڈ زائد ماہانہ ادا کریں گے۔

    برطانیہ میں ہڑتالیں ہی ہڑتالیں

    دوسری جانب دنیا اس وقت معاشی بحرانوں کی زد میں ہےاوراب تو ترقی یافتہ ممالک بھی اپنےمشکل ترین دورسے گزر رہے ہیں ، ملازمین کو تنخواہیں دینے کےلیے پیسے نہیں ہیں اور ملک چلانے کےلیے خزانے میں کچھ بچا نہیں ، دوسری طرف کل برطانیہ کی معاشی صورت حال سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا تھاکہ برطانوی معیشت 2023 میں 0.6 فیصد تک سکڑ جائے گی۔ برطانیہ میں 6 لاکھ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر ہڑتال کردی، ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    کل 5 لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین ہڑتال میں شامل تھے مگرآج یہ تعداد بڑھ گئی ہے اوربرطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالات بہت ہی زیادہ بگڑگئے ہیں احتجاج میں ایمبولینس، ٹرین، بس اور بارڈر فورس کے ملازمین سمیت 127 محکموں کے6 لاکھ ورکرز نے حصہ لیا۔ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسکول، یونیورسٹیز، ٹرین اور بس سروسز بُری طرح متاثر ہوئی، جبکہ ملک بھر میں 75 سے زیادہ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔جبکہ اس سے پہلے ہی چار لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی ہڑتال سے تقریباً 85 فیصد اسکول اور 150 یونیورسٹیز جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں۔

    برطانیہ میں 200 پناہ کے متلاشی لاوارث‌ بچے لاپتا ہونے کا اعتراف

  • برطانوی صحافی اور سیاسی شخصیات ایرانی اور روسی ہیکرز کے نشانے پر

    برطانوی صحافی اور سیاسی شخصیات ایرانی اور روسی ہیکرز کے نشانے پر

    برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی اور روسی ہیکرز حساس ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے برطانوی صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے کمپیوٹر ڈیٹا پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے’ بی بی سی‘ کے مطابق برطانوی انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی سروس سے منسلک نیشنل سینٹر فار سائبر سکیورٹی نے ایک بیان میں کچھ افراد اور اداروں کو نشانہ بنانے والی ہیکنگ کی کوششوں میں اضافے پر روشنی ڈالی۔

    دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    این سی ایس سی نے کہا کہ ہیکرز عام طور پر ایران اور روس کے بارے میں تحقیق اور کام کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں،اس نے ہیکنگ گروپوں کو اپنے اہداف کے تعاقب میں "بے رحم” قرار دیا۔

    این سی ایس سی جو کہ یو کے کی سائبر اور انٹیلیجنس ایجنسی GCHQ کا حصہ ہےاورسائبر سیکیورٹی کے مشورے دیتا ہےنے وضاحت کی کہ حملے عوام کو نہیں بلکہ مخصوص افراد اور گروہوں کو نشانہ بنا رہے تھے، جن میں سیاستدان، اہلکار، صحافی، کارکن اور تھنک ٹینکس شامل ہیں۔

    سینٹر کے سربراہ پال چیچسٹر نے کہا کہ یہ مہمات جو روس اور ایران میں مقیم لوگوں کی طرف سے چلائی جاتی ہیں، آن لائن ڈیٹا چوری کرنے اور ممکنہ طور پر حساس نظاموں سے نمٹنے کے لیے اپنے اہداف کو نشانہ بناتی ہیں۔

    صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    بیان میں خاص طور پر دو گروہوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ روس میں واقع "SEABORGIUM” اور ایران میں واقع "TE453” (TA453) سائبر گروپ سرگرم ہیں مگر دونوں دونوں کی مہمات الگ الگ ہیں، دونوں گروہ ایک جیسی تکنیک استعمال کرتے ہیں اور ایک جیسے مقاصد رکھتے ہیں۔

    اپنے بیان میں مرکز نے اشارہ کیا کہ سائبر حملے عام لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے ہیں بلکہ مخصوص شعبوں، خاص طور پر تعلیم، دفاع، سرکاری تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں، تھنک ٹینکس، سیاست دانوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    ہیکرز اعتماد پیدا کرنے کے لیے اکثر حقیقی رابطوں کا استعمال کرتے ہیں، اور نقصان دہ کوڈ پر مشتمل ایونٹس یا زوم میٹنگز میں جعلی دعوت نامے بھیجتے ہیں۔ اگر اس پر کلک کیا جاتا ہے، تو ان اکاؤنٹس سے ہیکر کو حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

  • دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    لندن: دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کے اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی: لندن کی میڑو پولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈینیل عابد خلیف برطانوی فوج کے حاضر سروس اہلکار ہیں اور ان کا تعلق وسطی انگلینڈ سے ہے۔

    کینیڈا نے اسلاموفوبیا کی روک تھام کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کردیا

    خلیف پر اگست 2021 میں مبینہ طور پردہشت گردی میں ملوث یا دہشتگرد حملے کی تیاری کرنے والے شخص کو دینے کے لیے اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔ خلیف زیرحراست ہیں اوران کو آج لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    21 سالہ ڈینیئل عابد خلیف پر 2021 میں "دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے یا اس کی تیاری کرنے والے شخص کے لیے مفید معلومات کو ظاہر کرنے” کی کوشش سمیت دو واقعات پر فرد جرم عائد کی گئی۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

  • برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    برطانوی وزیراعظم کوکار میں دوران سفر سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر جرمانہ کردیا گیا۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کار میں سفر کے دوران گفتگو میں بغیر سیٹ بیلٹ پہنے سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

    یوکرین نے اگرکریمیہ پرحملہ کیاتوپھریہ بھی یاد رکھےکہ اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے: روس

    بعد ازاں غلطی کا احساس ہونے پر برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ رشی سونک نے سوشل میڈیا کیلئے ویڈیو بنانے کیلئے کچھ وقت کیلئے سیٹ بیلٹ اتار دیا تھا تاہم اب احساس ہونے پر انہوں نے اپنی غلطی مانتے ہوئے معذرت کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ برطانوی وزیر اعظم کا ماننا ہے کہ ہر شہری کو سفر کے دوران سیلٹ بیلٹ ضرور پہننا چاہیے۔

    لنکاشائرپولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے سیٹ بیلٹ نہ پہننے کے معاملے سے آگاہ ہیں،جائزہ لے رہے ہیں۔

    لنکا شائر کی پولیس کا کہنا ہے کہ لندن کے رہائشی 42 سالہ شخص کو دوران سفر کار میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر مقررہ جرمانے (فکسڈ پینلٹی)کی مشروط پیش کش کی گئی ہے –

    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح

    پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ پہننے پر مسافر کو 100 برطانوی پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے، البتہ مقدمہ عدالت میں جانے کی صورت میں جرمانے کی رقم میں 500 پاؤنڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب برطانوی وزیراعظم رشی سونک کو کار میں سفر کے دوران سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ہونے والے جرمانے کی خبر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ یہی قانونی کی حکمرانی ہے جہاں کوئی اس سے بالاترنہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ یہی عمل خوشحال قوموں کو غریب ممالک سے ممتاز کرتا ہے،کوئی این آر او نہیں، کوئی قبضہ گروپ نہیں، کوئی حراستی تشدد نہیں،نظام انصاف کمزور کو تحفظ دیتا ہے، انصاف ریاست مدینہ کی بنیاد تھی۔

    لندن میں نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب کی صورتحال پراجلاس