Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • برطانوی بادشاہ چارلس کا جلد پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار

    برطانوی بادشاہ چارلس کا جلد پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار

    برطانیہ کے بادشاہ چارلس نے پاکستان کا جلد دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : شاہ چارلس سوم نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہےیہ دلچسپی ایڈنبرا کے پیلس آف ہولیروڈ ہاؤس میں ایشین کمیونٹی کے اعزاز میں ان کی طرف سے منعقد کیےگئےپہلےعوامی استقبال میں دکھائی گئی،جس میں پاکستانی ہائی کمشنر سمیت نامورپاکستانی بھی شریک ہوئے۔

    برطانیہ میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی ریل ہڑتال،مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا

    تقریب کے دوران سرمایہ کاری کے اعزازی سفیر ذیشان شاہ نے کنگ چارلس III سے ملاقات کی۔

    اس میں برطانیہ بھر سے کئی ممتاز برطانوی ایشیائی باشندوں نے شرکت کی برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر معظم احمد خان، بیسٹ وے کے سی ای او لارڈ ضمیر چوہدری، انیل مسرت اور لارڈ جیتیش گدھیا سمیت دیگر شامل تھے۔

    ذیشان شاہ نے پاک برطانیہ تجارت میں فروغ سے متعلق اقدامات سے بادشاہ کوآگاہ کیا اور بتایا کہ بادشاہ نے پاکستان آنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔

    ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھ افسران کون…

    انہوں نے اپنے خیراتی ادارے برٹش ایشین ٹرسٹ کے ذریعے پاکستان کے انتہائی پسماندہ افراد کے لیے جاری مدد کے لیے شکریہ ادا کیا، خاص طور پر ان کا ٹرسٹ پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی امداد فراہم کر رہا ہے۔

    تقریب کے بعد نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انیل مسرت نے بتایا کہ بادشاہ چارلس نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی پر افسوس کااظہاربھی کیا اور مانچسٹر آکر ایشین کمیونٹی سے ملاقات کی دعوت قبول کرلی۔

    ملکہ برطانیہ کی تدفین سے قبل لندن میں کینیڈین وزیراعظم کےگانے سے سوشل میڈیا پر…

  • لندن میں نواز شریف کے سیکرٹری پر نامعلوم افرادکا چاقو سے حملہ

    لندن میں نواز شریف کے سیکرٹری پر نامعلوم افرادکا چاقو سے حملہ

    لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیکرٹری راشد نصر اللہ پر آفس جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے چاقو سے حملہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: راشد نصر اللہ پر حملہ ایسٹ لندن میں الفرڈ کے مقام پرکیا گیا، راشد نصر اللہ حملے میں محفوظ رہے، نصر اللہ کے مطابق حملہ آور چاقو اور خنجروں سے لیس تھے، حملہ آوروں نے انہیں نواز شریف سے دور رہنے، ساتھ چھوڑنے اور لاتعلقی کا کہا۔

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

    راشد نصراللہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور گالم گلوچ کرتے ہوئے فرار ہوگئے، پولیس کو رپورٹ درج کرادی ہے، ہمیں دنیاکی کوئی طاقت نواز شریف سےدور نہیں کرسکتی، ہم ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ اپریل میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر لندن میں حملہ ہوا تھا ایک نوجوان نے قائد ن لیگ کو موبائل دے مارا جو ان کے گارڈ کو لگا تھا جس سے گارڈ زخمی ہوگیا تھا قائد ن لیگ دفتر سے باہر نکل رہے تھے ایک نوجوان نے بدتمیزی کرتے ہوئے نواز شریف پر حملے کی کوشش کی تھی-

    نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا تھا کہ اس بار ان حملہ آوروں کو نہیں چھوڑیں گے۔

    لال حویلی سمیت 7 یونٹس پرشیخ رشید کا غیر قانونی قبضہ، کیس کا فیصلہ محفوظ

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی قبر کی پہلی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی قبر کی پہلی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل

    رواں ماہ انتقال کرنے والی آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی قبر کی تصویر منظر عام پر آ گئی ہے، تاہم سرکاری سطح پر تاحال ملکہ الزبتھ دوم کی قبر کی کوئی تصویر جاری نہیں کی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : ملکہ الزبتھ کی قبر پر سیاہ رنگ کا کتبہ نصب کیا گیا ہے۔ اس کتبے پر ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے آنجہانی شوہرشہزادہ فلپ کا نام، تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات درج ہے۔

    ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھ افسران کون…


    سیاہ پتھر کے صلیب پر لکھی گئی سنہری حروف کی تحریر میں ملکہ الزبتھ دوم، کے والد بادشاہ جارج ششم اور ان کی والدہ کے نام بھی تاریخ پیدائش اور وفات کے ساتھ کندہ ہیں۔ ملکہ الزبتھ کی قبر کے قریب پھول رکھے گئے ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کی تدفین سے قبل لندن میں کینیڈین وزیراعظم کےگانے سے سوشل میڈیا پر…

    واضح رہے کہ7 دہائیوں تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ برطانیہ 1926 میں پیدا ہوئیں اور رواں ماہ 8 ستمبر کو انتقال کر گئی تھیں، ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے چارلس کو برطانیہ کا نیا بادشاہ مقرر کیا گیا ہےان کی آخری رسومات کے بعد انہیں 19 ستمبر کو کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں دفن کیا گیا تھا۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

  • ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھ افسران کون تھے؟

    ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھ افسران کون تھے؟

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے آخری رسومات اور تدفین کے وقت ان کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھوں افسران کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے دوران ان کے جنازے کو کندھا دینے والے فرسٹ بٹالین گرنیڈیئر گارڈز کے ایک نوجوان افسر کی عمر صرف 19 برس ہے۔

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

    سپاہیوں کی عظمت کے ملکہ کے آخری سفر پر کام کو مکمل کرنے پر تعریف کی گئی ہے جب کہ انہیں دنیا بھر میں اربوں لوگوں نے دیکھا ہے ‘ملکہ اور ملک’ کے لیے اسس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دینے پر گہرے فخر کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فرسٹ بٹالین گرنیڈیئر گارڈز کے جوانوں میں سے کچھ عراق میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے جہاں سے انہیں ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے بلایا گیا تھا۔

    ملکہ کا جنازہ اٹھانے والے بینڈ برادرز کی رہنمائی کرنے والے سارجنٹ میجر ڈین جونز رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں بطور انسٹرکٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں جہاں پرنس ہیری نے افسر بننے کی تربیت حاصل کی۔ مشہور طور پر ملکہ نے ہیری کا جائزہ لیا جب وہ 2006 میں برطانوی فوج میں ایک افسر کے طور پر شامل ہوئے تھے –

    ان افسران میں سب سے کم عمر فلیچر کاکز کا تعلق جرسی سے ہے اور ان کی عمر صرف 19 برس ہے، فلیچرنے بطور کیڈٹ محض 15 برس کی عمر میں بطور ٹاپر اپنی ٹریننگ مکمل کرلی تھی ساتھ ہی لیفٹیننٹ گورنر میڈل حاصل کرنے والے سب سے کم عمر افسر ہیں اس وقت تقریر انہوں نے کہا تھا کہ ان کی ‘واحد خواہش’ ملکہ کے لیے پریڈ کرنا ہے۔

    آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری

    فلیچر کے والد کا کہنا ہے کہ ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے وہ تاریخی لمحات جنہیں دنیا بھر میں لاکھوں لوگ دیکھ رہے تھے وہاں اپنے بیٹے کو ایک اہم ذمہ داری سنبھالتے ہوئے دیکھنا بطور والد میرے لیے فخر کا مقام تھا۔

    جیمز پیٹرسن ایک باڈی بلڈر ہے جس کی طاقت اس وقت کارآمد تھی جب فوجیوں نے بھاری سیسہ سے بنے تابوت کو سینٹ جارج کی کھڑی سیڑھیوں تک پہنچایا اس کے سوشل میڈیا صفحات کے مطابق، ویسٹ سفولک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے پہلے بیوری سینٹ ایڈمنڈز کے کنگ ایڈورڈ VI اسکول میں تعلیم حاصل کی۔

    جنازہ برداری کے فرائض سرانجام دینے والے افسران میں لیوک سمپسن بھی شامل تھے، ناٹنگھم شائر کے علاقے سیلسٹن سے تعلق رکھنے والے لیوک کے حوالے سے انکے اساتذہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سابق شاگرد نے اس تاریخی موقعے پر اپنا کردار بڑے ہی احسن طریقے سے ادا کیا اور لیوک نے نہ صرف اپنے ملک، اپنے علاقے بلکہ اپنے والدین اور ساتھیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

    ڈیوڈ سینڈرسن ایک برطانوی فوجی ہے جس نے کنگس گارڈ میں خدمات انجام دی ہیں اور مورپیتھ، نارتھمبرلینڈ میں رہتے ہیں ڈیوڈ نے 16 سال کی عمر میں ہیروگیٹ میں آرمی فاؤنڈیشن کالج میں داخلہ لینے سے پہلے مورپیتھ کے کنگ ایڈورڈ Vl سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی۔

    ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    جب وہ 17 سال کا تھا تو وہ ویلنگٹن بیرک میں گرینیڈیئر گارڈز کے رجمنٹل ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھا، پہلے دوسری بٹالین میں شامل ہوا اس کے بعد وہ اپنے مرحوم دادا جان کی طرح پہلی بٹالین، کوئینز ڈویژن میں چلے گئے۔

    ان کے 56 سالہ والد نے بھی کہا کہ ان تمام جوانوں نے اس خدمت کے دوران جس وقار اور ہمت کا مظاہرہ کیا وہ حیرت انگیز تھا اور ہمیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کہ ہم ڈیوڈ پر کتنا فخر محسوس کرتے ہیں اس کردار کے لیے منتخب ہونا ایک ناقابل یقین اعزاز تھا، اس کی وسعت کو سمجھنا مشکل ہے-

    انہوں نے کہا کہ لیکن ڈیوڈ نے اسے اپنے قدموں پر لے لیا اور کمال تک اپنا فرض ادا کیا۔ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سن کر اچھا لگا کہ انہیں اعزاز ملنا چاہیے لیکن میں جانتا ہوں کہ ڈیوڈ صرف اتنا ہی کہے گا کہ ‘یہ میرا فرض تھا’ اور وہ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہے گا-

    ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کاندھا دینے والے 8 افسران میں سے ایک جیک اورلاسکی کا تعلق لندن گارڈز سے ہے جنہیں اب اسٹار آف لندن گارڈز پکارا جا رہا ہے۔ لانس سارجنٹ جیک اورلاسکی گرنیڈیئر گارڈز میں تبادلے سے پہلے لندن گارڈز کا حصہ تھے۔

    ریان گریفتھس جب اپنے ملک کیلئے خدمات سرانجام نہیں دے رہے ہوتے تو وہ سرفنگ کر رہے ہوتے ہیں، انہوں نے ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے نکالی ہوئی اپنی تصویر بڑے ٖفخر کے ساتھ شیئر کی جسے فوج میں انکے ساتھ خدمات سرانجام دینے والے ساتھیوں کی جانب سے سراہا گیا۔

    لانس کارپورل ٹونی فلن، ہیمپشائر کی فوجی چھاؤنی میں رہائش پذیر ہیں اور حال ہی شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    ملکہ کی آخری رسومات کے دوران جنازے کو کندھا دینے والی ٹیم کو لیڈ کرنے والے سارجنٹ میجر ڈین جانز ونڈسر محل کے سینٹ جارجز چیپل میں ملکہ برطانیہ کی میت کے آگے آگے چلتے ہوئے جنازہ بردار ٹولے کی رہنمائی کر رہے تھے۔

    لانس سارجنٹ ایلکس ٹرنر میت کو کندھا دیتے وقت سب سے آگے موجود تھے اور سارجنٹ میجر ڈین جانز کے پیچھے پیچھے بڑی ہی مہارت سے قدم سے قدم ملاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

    ملکہ برطانیہ کے جنازے کو کندھا دینے والے آٹھوں افسران کو اس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دینے پر اسناد دی جائیں گے جبکہ عسکری حکام، سیاستدانوں اور سیلیبرٹیز کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان جوانوں کو میمبرز آف دی آرڈر آف برٹش ایمپائر (ایم بی اِیز) کی رکنیت دی جائے۔

    سابق فوجی سربراہ لارڈ ڈینیٹ سمیت دیگرنے بھی اتفاق کیا ہے کہ ان جوانوں کو ایم بی اِیز کی رکنیت دی جائے، ان کا کہنا ہے کہ 1965 میں سر ونسٹن چرچل کی میت کو کاندھا دینے والے افسران کوبی ایم ایز کی رکنیت دینے کی مثال پہلے سے ہی موجود ہے۔

    ملکہ برطانیہ کی تدفین سے قبل لندن میں کینیڈین وزیراعظم کےگانے سے سوشل میڈیا پر…

  • آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

    آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے تابوت پر شاہی تاج توجہ کا مرکز رہا

    ملکہ برطانیہ کو ونڈزر کیسل میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے برابر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ پر 70 برس تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات پیر کو سرکاری تدفین اور فوجی جلوس کے ساتھ ادا کر دی گئیں ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران ان کے تابوت پر رکھا شاہی تاج سب کی توجہ کا مرکز بنا رہا، شاہی تاج میں تقریباً تین ہزار قیمتی پتھر جڑے ہیں۔

    آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری

    امپیریل سٹیٹ کراؤن میں 2 ہزار 8 سو سے زائد ہیرے، 273 موتی، 17 نیلم، 11 زمرد اور 5 یاقوت شامل ہیں۔ تاج میں 317 قیراط وزنی — کلینن ٹو– نامی ہیرا اور کوہ نور ہیرا بھی شامل ہے جسے افریقہ کا دوسرا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اب تک ملنے والے ہیروں میں سب سے بڑے ہیرے سے کاٹا گیا تھا۔

    تاج 1937ء میں ملکہ الزبتھ کے والد شاہ جارج ششم کی تاجپوشی کے لیے بنایا گیا تھا۔ امپیریل سٹیٹ کراؤن کا وزن دو اعشاریہ تین پونڈ ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم ہر سال پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر یہ تاج پہن کر تقریر کرتی تھیں۔

    واضح رہے برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں 8 ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔

    ملکہ کو سینٹ جارج چیپل ونڈزر میں ان کے شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ یہاں ان کے والد بادشاہ جارج ششم، ان کی ماں اور بہن شہزادی مارگریٹ کی بھی مدفن ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    ملکہ کی آخری رسومات میں ویسٹ منسٹر ایبی میں دعائیہ تقریب ہوئی۔ تقریب میں شاہ چارلس سوم اور برطانوی شاہی خاندان کے علاوہ عالمی رہنما اور دیگر ممالک کے شاہی خاندانوں کے افراد شامل تھے۔

    تقریب کےبعدشاہ چارلس نےملکہ کے پرچم کو تابوت پر رکھا، لارڈ چیمبرلین نے اپنی سرکاری چھڑی توڑکرتابوت پررکھی تقریب کے اختتام پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور برطانوی ترانہ چلایا گیا ملکہ کی آخری رسوما ت میں برطانیہ بھر سے 10 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی دعائیہ تقریب کے بعد ان کے تابوت کو ونڈزر کیسل لے جایا گیا۔ جہاں سینٹ جارج چیپل میں تابوت رائل والٹ میں اتار دیا گیا

    اس کو برطانوی عصری تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن کہا جا سکتا ہے۔ ملکہ کی آخری رسومات میں مہمانوں کی بڑی تعداد میں شرکت اور دس روز پر محیط آخری رسومات کی پیچدہ ترین تقریبات کو اعداد و شمار کے آئینہ میں بہتر سمجھا جا سکتا ہے لندن میں اتنی بڑی تقریب غیر معمولی سکیورٹی چیلنج تھی۔

    پیر کے روز یہ شاہی جنازہ جسے استعاراتی طور پر صدی کا جنازہ کہا جارہا تھا میں لندن کی سڑکوں پر لاکھوں افراد شریک ہو ئے تھے اس تقریب میں ملکہ کے جسد خاکی کے ساتھ دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد امڈ پڑے تھے دس روزہ آخری رسومات کے دوران ملکہ کے آخری دیدار کیلئے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    ویسٹ منسٹر کے ہال میں سرکاری طور پر آخری رسومات میں شرکت کیلئے آنے والے معزز اور اعلی شخصیات کی تعداد 2000 تھی عالمی شخصیات میں امریکی صدر بائیڈن، امریکی خاتون اول جل بائیڈن بھی شامل تھے انہوں نے اتوار کو ویسٹ منسٹر ہال میں برطانوی ملکہ کے تابوت کو الوداع بھی کیا تھاونڈزر محل کے سینٹ جارج چیپل میں ہونے والی تقریب میں 800 مہمان شریک تھے-

    5949 فوجی اہلکار اس تقریب کے دوران مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے تھے آخری رسومات 8 ستمبر کو ملکہ کی وفات پر سکاٹ لینڈ کے علاقے بالمور میں ملکہ کی موت سے شروع ہوئی تھیں جس میں فوجی اہلکاروں کی یہ تعداد موجود رہی۔

    ان فوجیوں میں 4416 بری، 847 بحری اور 686 فضائی افواج کے اہلکار شامل تھے دولت مشترکہ ممالک کی افواج کے 175 اہلکاروں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی تھی-

    ملکہ کے تابوت کو ویسٹ منسٹر سے ولنگٹن آرچ تک لے جانے کی پر وقار تقریب میں 1650 فوجی شریک ہوئے تابوت ونڈسر پہنچا تو مزید ایک ہزار اہلکار جلوس کے راستے میں سڑکوں پر تعینات ہوئے اور 410 جلوس میں شریک تھے۔ 480 سڑکوں پر لگی قطاروں میں شامل تھے 150 اہلکار آنر گارڈ میں شامل اور 130 اہلکاروں نے دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیا تھا-

    اس دوران 10 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے "انتہائی پیچیدہ” پولیسنگ کا کام انجام دیا تھا یہ پیچیدہ آپریشن لندن پولیس کی تاریخ میں سب سے بڑا آپریشن تھا پولیس کی اتنی بڑی تعداد 2012 کے لندن اولمپکس میں بھی استعمال میں نہیں لائی گئی تھی۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    لندن کے ٹرانسپورٹ حکام کا کہنا تھا کہ پیر کے روز 10 لاکھ افراد کے لندن میں آنے کی توقع ہے۔ اس موقع پر 250 اضافی ٹرینیں لوگوں کی سفر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے چلائی جائیں گی۔

    ویسٹ منسٹر ہال میں ملکہ کے تابوت کے سامنے صف بند ہونے والی قطار کی طوالت 8 کلومیٹر رہی۔ یہ قطار دریائے ٹیمز سے لیکر ساؤتھ وارک پارک تک پھیلی ہوئی تھی اس جنازے کو براہ راست نشر کرنے کے لیے 125 سینما گھر وں میں دکھایا گیا تھا –

    قطار میں کھڑے بہت سے لوگ رو رہے تھے اور دعائیں مانگ رہے تھے۔ کچھ افراد نے سرجھکایا ہوا تھا، اس موقع پر کئی افراد تو گھٹنوں کے بل گر گئے۔

    اس موقع پر اہم عالمی شخصیات نے بالکونی میں کھڑے ہوکر خاموشی اختیار کی۔ لندن سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ گیری تھامسن نے بتایا میں شدید حیران تھا کہ یہاں کتنے لوگ آگئے ہیں یہ واقعی ناقابل یقین تھا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ نے دس دنوں تک ترتیب سے تیار واقعات کی میزبانی کی ہے۔ آخری رسومات کا یہ انداز برطانوی شاہی خاندان کی ایک ہزار سال روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

    اتوار کو جی ایم ٹی وقت کے مطابق شام ساتھ بجے ویسٹ منسٹر ہال کے اوپر بگ بین کی آواز کے ساتھ ہی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار

    لندن پولیس نے جنازے کو اب تک کا سب سے بڑا سیکورٹی آپریشن قرار دے دیا۔ پولیس نے بتایا تھا کہ اس نے اپنے اہلکاروں کو جلوسں کے راستوں اور ویسٹ منسٹر ایبے کے قریب اہم مقامات پر تعینات کیا ہے یہ وہ مقامات ہیں جہاں 1066 میں ولیم اول کے دور سے لیکر اب تک برطانوی بادشاہوں اور ملکہ کی تاجپوشی کی گئی، شاہی شخصیات کی شادیاں ہوئیں اور ان کی تدفین کی گئی 1965میں سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کی موت کے بعد سے برطانیہ نے اتنے بڑے پیمانے پر کسی سرکاری جنازے کا انتظام نہیں کیا ۔

    یاد رہے کہ برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں 8 ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔

  • آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری

    آنجہانی ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری

    لندن ،ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات جاری ہیں ملکہ الزبتھ کو ونڈسرکیسل میں مکمل شاہی اعزاز کے ساتھ سپردخاک کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف، امریکی صدر بائیڈن سمیت 500 عالمی رہنما تقریب میں شریک ہیں،ملکہ برطانیہ آخر ی رسومات کی تقریب ،ویسٹ منسٹر ایبے سے ویلنگٹن آرچ تک لوگ جمع ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    ملکہ برطانیہ الزبتھ کو ونڈزر کیسل میں سپرد خاک کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ کچھ دیر میں بادشاہ چارلس ملکہ برطانیہ الزبتھ کی بادشاہت کے خاتمے کا رسمی اعلان کریں گے۔

    اعلان کے بعد شاہی سُنار ملکہ کا تاج ان کے تابوت سے ہٹا دیں گے۔ ملکہ الزبتھ کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

    ملکہ کی آخری رسومات کی ادائیگی کے سلسلے میں آج برطانیہ میں عام تعطل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس موقع پر شمعیں روشن کر کے انہیں خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔

    سوموار کی صبح 11 بجے بلوط کی لکڑی سے تیار کردہ شاہی پرچم میں لپٹا تابوت جسے شاہی تاج سے سجایا گیا تھا ابر آلود آسمان کے نیچے توپ کے رتھ پر نمودار ہوا۔ آنجہانی ملکہ کےتابوت کوفوجی جلوس میں ویسٹ منسٹر ایبی لے جایا گیا۔

    سوموار کی صبح 11 بجے بلوط کی لکڑی سے تیار کردہ شاہی پرچم میں لپٹا تابوت جسے شاہی تاج سے سجایا گیا تھا ابر آلود آسمان کے نیچے توپ کے رتھ پر نمودار ہوا۔ آنجہانی ملکہ کےتابوت کوفوجی جلوس میں ویسٹ منسٹر ایبی لے جایا گیا۔

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    پارلیمنٹ کے تاریخی ویسٹ منسٹر ہال سے قریبی ویسٹ منسٹر ایبی اور آخر کار ونڈسر کیسل تک ملکہ کے تابوت کو دیکھنے کے لیے دسیوں ہزارلوگ سڑکوں پر قطار میں کھڑے تھے جہاں ملکہ کو ان کے آنجہانی شوہر شوہر کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

    ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کو ٹی وی چینلز پر بھی براہ راست دکھایا جارہا ہے برطانوی حکومت کے مطابق پارکس، چوک، گرجا گھروں میں بھی آخری رسومات دیکھنے کے لیے اسکرینیں لگائی گئی ہیں دنیا بھر سے سربراہان مملکت ملکہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شاہی خاندان کے اراکین کا ساتھ دینے پہنچ رہے ہیں۔

    برطانیہ پر سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں 8 ستمبر کو بیلمورل میں وفات پا گئی تھیں۔ انھوں نے 70 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق دعائیہ سروس کے اختتام کے قریب ایک بگل بجایا جائے گا، بگل کے بعد قومی سطح پر 2 منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے گی، ملکہ کے تابوت کو سرکاری گن کیرج میں لایا جائے گا جسے 142 افراد کھینچیں گےگن کیرج کے پیچھے پیدل چلنے والے شاہی خاندان کی قیادت بادشاہ چارلس سوم کریں گے۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار

    قومی ترانے کے بعد سروس کا اختتام ہو گا جس کے بعد ملکہ کا تابوت ولنگٹن چرچ لے جایا جائے گا، ہر ایک منٹ بعد لندن کی بگ بین کی گھنٹی بجے گی، ہر ایک منٹ کے وقفے سے گن سیلوٹ دیا جائے گا، ولنگٹن آرچ پہنچنے کے بعد ملکہ کے تابوت کو ونڈزر کاسل لے جایا جائے گا، کاسل کے ٹاور کی گھنٹیاں بھی ہر ایک منٹ بعد بجائی جائیں گی اور گن سیلوٹ بھی دیا جائے گا، اس کے بعد ملکہ کی میت سینٹ جارج چیپل میں دعائیہ تقریب کے لیے لے جائی جائے گی۔

    آخری رسومات میں صرف 800 مہمان شریک ہوں گے، کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں ملکہ کو ان کے شوہر کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

    110 سالوں میں برطانیہ میں ہونے والا یہ پانچواں سرکاری جنازہ ہے، آخری رسومات برطانیہ بھر کے 125 سینما گھروں میں دکھائی جائے گی، ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات کے موقع پر تاریخی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، دس ہزار کے قریب پولیس اہلکار سیکیورٹی کی ذمہ داریاں نبھائیں گے، ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے لندن میں 23 میل طویل آہنی بیرئیرز نصب کیے گئے ہیں۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات: شہد کی مکھیوں کو بھی خبر دے دی گئی

    سول ایوی ایشن اتھارٹی نے وسطی لندن میں نو فلائی زون قائم کیا ہے، اونچی عمارتوں کی چھتوں پر بھی پولیس اہلکار اور سنائپرز تعینات کیے جا رہے ہیں، 2012 کے بعد برطانوی تاریخ میں یہ سب سے بڑا پولیس آپریشن ہوگا۔

    ملکہ کی وفات پر امریکی صدر جوبائیڈن نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ برطانوی بادشاہوں کی طویل ترین مدت تخت پرگزارنے کے بعد 96 سال کی عمر میں انتقال کرنے والی ملکہ کے لیے ہرآنکھ اشک بار ہے۔امریکی صدر نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کے لیے تقریباً دنیا بھر میں عزت پائی جاتی تھی۔ انہوں نے 70 سال سے خوش قسمت وقت گذارا۔

    کنگ چارلس جو اپنی والدہ کی موت کے بعد سے برطانیہ میں ہیں نے کہا، پچھلے 10 دنوں کے دوران میں اور میری اہلیہ اس ملک اور دنیا بھر سے ملنے والے تعزیت اور حمایت کے بہت سے پیغامات سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

    لندن، ایڈنبرا، ہلزبرو اور کارڈف میں ہم ناقابل یقین حد تک ہر اس شخص سے متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے آنے اور میری پیاری والدہ ملکہ کی زندگی بھر کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پریشانی کا سامنا کیا۔

    ملکہ برطانیہ کے تابوت کی حفاظت پر تعینات گارڈ بے ہوش ہو کر گرپڑا

  • ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    ملکہ برطانیہ کی تقریب 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی

    لندن: آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کی سرکاری تدفین پیر کو برطانیہ بھر کے تقریباً 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی حکومت نےاعلان کیا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی سرکاری تدفین پیر کو برطانیہ بھر کے تقریباً 125 سینما گھروں میں براہ راست دکھائی جائے گی اسی طرح برطانیہ بھر میں پارکس، چوکوں اورکیتھڈرلز میں بھی بڑی سکرینیں نصب کرکے ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات دکھائی جائیں گی۔

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    وزارت ثقافت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکہ کی آخری رسومات ویسٹ منسٹر ایبی میں ہوں گی اور لندن بھر میں اس سے متعلقہ جلوسوں اور تقریبات کو بی بی سی، آئی ٹی وی ور اسکائی ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھایا جائے گا۔

    برطانیہ کی فلم ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات دکھانے والے سینما گھروں میں لوگوں کا داخلہ فری ہو گا۔

    ملکہ کی آخری رسومات میں دنیا بھر سے سربراہان مملکت، وزرائے اعظم اور شاہی خاندانوں کے افراد کی شرکت متوقع ہے ۔ ملکہ 8 ستمبر کو 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    حکومت نے آخری رسومات کے دن سرکاری تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے توقع کی جارہی ہے کہ ملکہ کے سفر آخرت کی رسومات میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔

    برطانیہ میں ماضی قریب کی ایسی بڑی تقریبات میں 1997 میں لیڈی ڈیانا کی آخری رسومات، 2012 کے لندن اولمپکس کی تقریب اور شاہی افراد کی شادی کی تقاریب میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے ہیں۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار

  • ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت

    ملکہ برطانیہ کو پوتے، پوتیوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا گیا جس کی قیادت شہزادہ ولیم نے کی۔

    باغی ٹی وی : برطانوی میڈیا کے مطابق خراج عقیدت کے دوران شہزادہ ہیری کو بھی فوجی وردی میں آنے کی اجازت دی گئی جبکہ آنجہانی ملکہ کی آخری رسومات پیر کو اداکی جائیں گی۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار


    دوسری جانب ملکہ الزبتھ دوم کے جنازے میں مدعو افراد کی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

    ملکہ کی آخری رسومات کے لیے امریکی صدرجوبائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن مہمانوں میں سرفہرست ہیں جبکہ یورپ سمیت دنیا بھر سے شاہی خاندانوں کی لندن آمد جاری ہیں۔

    شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    جاپان کےشہنشاہ ناروہیٹو اورمہارانی ماساکو بھی آخری رسومات میں شرکت کریں گے، دولت مشترکہ ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوں گے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

    واضح رہے کہ 70سال تک برطانیہ پر حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں جمعرات 8 ستمبر کو بیلمورل میں انتقال کر گئیں الزبتھ1952 میں ملکہ بنیں اور اپنے دور میں انھوں نے بڑے پیمانے پر سماجی تبدیلی دیکھی-

    برطانیہ عوام کی جانب سے 96 سالہ ملکہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے آنجہانی ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات 19 ستمبر کو ادا کی جائیں گی جس کے دوران شرکا ونڈزر کاسل تک ایک جلوس کی شکل میں پیدل جائیں گے ملکہ کو ونڈزر میں کنگ جارج ششم میموریل چیپل میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات: شہد کی مکھیوں کو بھی خبر دے دی گئی

  • شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    شہزادہ ہیری اور میگھن کے بچے شاہی القاب سے محروم رہیں گے

    برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے بیٹے اور بیٹی کو شاہی القاب سے نوازا نہیں جائے گا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے ’’ دی سن‘‘ کے مطابق ہیری کے والد شاہ چارلس سوم نے اپنے پوتے تین سالہ آرچی اور ایک سالہ للی بیٹ کو جلد ہی ’’عزت ماٰب‘‘ شہزادہ اور شہزادی کا خطاب دینے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات: شہد کی مکھیوں کو بھی خبر دے دی گئی

    تاہم ایک ہفتہ کی تلخیوں میں لپٹی بات چیت کے بعد انہوں نے دونوں بچوں کو عزت ماٰب شہزادہ اور شہزادی کے القاب دینے انکار کر دیا۔ انہیں القاب سے 2020 میں ان کے والدین ہیری اور میگھن کو اس وقت محروم کر دیا گیا تھا جب دونوں نے شاہی خاندان اور برطانیہ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

    اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ دونوں بچے شہزادہ اور شہزادی تو ہو سکتے ہیں مگر انہیں شاہی خاندان سے متعلق ’’عزت ماٰب‘‘ کا لقب نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ دونوں شاہی امور میں مصروف خدمت نہیں ہیں اب ملکہ کی موت کے بعد یہ فیصلہ مزید پختہ ہو گیا کہ آرچی اور للی بیٹ شہزادہ اور شہزادی ہیں، لیکن ’’عزت ماٰب‘‘ نہیں۔

    ملکہ الزبتھ کا تابوت بکنگھم پیلس پہنچ گیا

    رپورٹ کے مطابق ہیری اور میگھن اس بات پر غصہ میں دکھائی دئیے کہ ان کے بچے اب شاہی خطاب حاصل نہیں کر سکتے ۔یہ فیصلہ 8 ستمبر کو ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد شہزادہ چارلس کے کنگ بننے کے بعد کے ہفتہ کے دوران ہونے والی تلخ بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔

    واضح رہے ہیری اور میگھن نے ڈرامائی انداز میں شاہی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہوکر برطانیہ کو چھوڑا اور 2020 میں کیلی فورنیا میں رہائش اختیار کر لی تھی۔

    ملکہ برطانیہ کا کفن تھامنےکی کوشش کرنے والے شخص گرفتار