Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں دی گئی سرکاری ضیافت میں لندن کے میئر صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت کی خاموشی نے سیاسی و سماجی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

    ذرائع کے مطابق صادق خان کو شرکا کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ براہِ راست صدر ٹرمپ کی خواہش پر کیا گیا تھا، جس کی تصدیق انہوں نے واشنگٹن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں بھی کی اس معاملے پر حکومتِ برطانیہ کے مؤقف نہ دینے کو سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ناصرف برطانیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر خودمختاری کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    سابق لارڈ مئیر بریڈفورڈ محمد عجیب نے کہا کہ برطانیہ، جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت اور آج بھی ایک خود مختار ریاست تصور کیا جاتا ہے، نے امریکی صدر کے دباؤ کے آگے سر جھکا کر اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    کونسلر اشتیاق احمد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ کا ٹرمپ کے فیصلے کے سامنے جھکنا کوئی نئی روایت نہیں بلکہ پرانی روش کی یاد دہانی ہے برطانیہ ہمیشہ اپنی آزادی کے حق میں بلند آواز رہا ہے لیکن دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کے معاملے پر خاموشی اختیار کرتا آیا ہے،وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی ٹرمپ کی نسل پرستانہ حرکتوں کے خلاف خاموشی نے لندن کے میئر کے دفتر کے وقار کو مجروح کیا ہے،ٹرمپ کو لندن کے شہریوں کی توہین کی اجازت دینا باعثِ شرم ہے-

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا، برطانوی وزیر اعظم کا اعلان

    لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پالیسی تبدیل کی جا رہی ہے۔ اور برطانیہ آج دوپہر کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے گا۔

    واضح رہے کہ پرتگال نے بھی فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیادوسری جانب کینیڈا اور فرانس ان دیگر مغربی ممالک میں شامل ہیں جو اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    یہ ممالک ایک ایسے وقت فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جب اسرائیل غزہ پٹی فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے جسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے،پرتگال نے جولائی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ تنازع کی “انتہائی تشویش ناک پیشرفت” کی وجہ سے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی فلسطینی زمین کو ضم کرنے کی بار بار کی دھمکیاں ہیں،اقوام متحدہ کے 193 ارکان میں سے تقریباً تین چوتھائی پہلے ہی فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ریاض سے لندن روانہ ہوگئے۔

    ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر عزت مآب محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کو رخصت کیا,وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر یہ دورہ کیا دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ریاض کے سرکاری دورے پر عزیز بھائی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرخلوص اور شاندار استقبال نے میرے دل کو چھو لیا،شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے میرے طیارے کو دیے گئے غیر معمولی حصار سے لے کر سعودی مسلح افواج کے دستے کی باوقار سلامی تک، یہ استقبالیہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کتنا گہرا اور دیرپا ہے‘۔

    انہوں نے کہا کہ آج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میری نہایت دوستانہ اور جامع گفتگو ہوئی جس میں خطے کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،میں دل سے ولی عہد کی اس بصیرت اور قیادت کو سراہتا ہوں جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شااللہ!۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے،پاکستان اور سعودی عرب نے کے درمیان ہونے والے اس اہم ’تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ‘ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا ہےاس معاہدے کی رو سے اگر کسی نے ایک ملک پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    معاہدے میں فوجی شراکت، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں،یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے بعد۔

    بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی نہیں لائے گاپاکستان نے اس معاہدے کو دیرینہ دفاعی شراکت داری کی توسیع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی خاص واقعے کا فوری ردعمل نہیں بلکہ ایک پالیسی فریم ورک ہے۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے،مجموعی طور پر یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔

  • غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ

    غزہ سے بیمار اور زخمی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے برطانیہ روانہ،ہوگیا ۔

    برطانوی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ یہ اقدام ایک خصوصی اسکیم کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ ان بچوں کو وہ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو غزہ میں دستیاب نہیں ہیں،برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے جولائی میں اس منصوبے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ غزہ کی زیادہ تر اسپتال اب کام نہیں کر پا رہے۔

    حکومت کے مطابق یہ اسکیم اس لیے ضروری ہے کہ علاقے میں ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی ہے اور ڈاکٹروں کے لیے بھی محفوظ طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا،ہم توقع کرتے ہیں کہ بچے اور ان کے قریبی اہلِ خانہ آئندہ چند ہفتوں میں برطانیہ پہنچ جائیں گے برطانوی وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ پہلا گروپ غزہ سے نکل چکا ہے اور برطانیہ کے راستے پر ہے، بچوں کو فی الحال خطے کے ایک اور ملک میں طبی عملہ دیکھ بھال فراہم کر رہا ہے۔

    بھارتی ٹیم نے جو حرکت کی اس پر پاکستانی رد عمل فطری تھا،مائیک ہیسن

    اس سے قبل چند زخمی غزہ کے بچے ایک نجی پروگرام ‘پروجیکٹ پیور ہوپ’ کے تحت برطانیہ لائے گئے تھے مگر حکومت نے نئی اسکیم کے تحت آنے والے بچوں کی درست تعداد نہیں بتائی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں 30 سے 50 بچے لائے جا سکتے ہیں،برطانوی حکام غزہ کے ان طلبہ کو نکالنے پر بھی کام کر رہے ہیں جنہیں برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ مل چکا ہے کوپر کے مطابق یہ ایک بڑا سفارتی عمل ہے تاکہ ان بچوں اور طلبہ کو غزہ سے نکالا جا سکے اور مختلف ممالک کے راستے برطانیہ لایا جا سکے۔

    ادھرقابض اسرائیلی فوج کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، صرف ایک روز میں مزید 53 فلسطینی شہید اور 16 بلند عمارتیں تباہ کردی گئیں،غزہ شہری دفاع کے مطابق اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز 6 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگئے، جب کہ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا،وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک شہدا کی تعداد 64 ہزار 871 ہوچکی ہے، جب کہ ایک لاکھ 64 ہزار 610 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے،محسن نقوی

    ادھر اسرائیل کے سابق آرمی چیف ہرزی حلیوی نے اعتراف کیا ہے کہ وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 2 لاکھ سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہوئے ان کے مطابق غزہ کی 22 لاکھ آبادی میں سے 10 فیصد سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں۔

  • نومنتخب برطانوی وزیر داخلہ کی پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی

    نومنتخب برطانوی وزیر داخلہ کی پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی

    برطانیہ کی نومنتخب وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پاکستان سمیت کئی ممالک کو ویزا پابندیوں کی دھمکی دے دی۔

    برطانوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انگلینڈ ان ممالک کے شہریوں کو ویزے دینا معطل کر سکتا ہے جو تعاون نہیں کرتےایسے ممالک مہاجرین کی واپسی پر تیار نہیں ہوتے ان میں پاکستان بھی شامل ہے ان کا کہنا تھا کہ قوانین پر عمل کریں، اگر آپ کا کوئی شہری ہمارے ملک میں رہنے کا حق نہیں رکھتا تو اُسے واپس لینا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق جن ممالک کو ماضی میں غیر تعاون یافتہ قرار دیا گیا ان میں بھارت، پاکستان، ایران، عراق، بنگلہ دیش، گیمبیا اور نائیجریا شامل ہیں،برطانیہ کی وزیر داخلہ نے یہ بیان اپنی پہلی بین الاقوامی مصروفیت کے موقع پر آیا، برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کام اور تعلیم کے ویزوں پر آ کرپناہ درخواست کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے انٹیلی جنس جمع کر رہے ہیں،میری سب سے اولین ترجیح برطانیہ کی سرحدوں کا تحفظ ہے، مستقبل میں ویزے کم کرنے کا امکان بھی موجود ہے تاکہ ممالک کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ تعاون کریں۔

  • برطانوی شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں

    برطانوی شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں

    برطانوی شاہی خاندان کی سب سے معمر رکن ڈچس آف کینٹ شہزادی کیتھرین 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    بادشاہ چارلس نے ڈچس آف کینٹ کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی عزیزہ کو خراج عقیدت پیش کیا،جمعے کو برطانوی شاہی خاندان کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ نے محترمہ کی وفات کی تصدیق کی،رائل خاندان کی سب سے بزرگ رکن کا انتقال جمعرات 4 ستمبر 2025 کو کینسنگٹن پیلس میں ہوا۔

    بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا کہ بادشاہ اور ملکہ اور شاہی خاندان کے تمام ارکان ڈیوک آف کینٹ پرنس ایڈورڈ (مرحومہ کے شوہر)، ان کے بچوں اور پوتوں کے اس نقصان پر غمگین ہیں اور ڈچس کی زندگی بھر تنظیموں کے لیے ان کی وابستگی، موسیقی کے شوق اور نوجوانوں کے لیے ہمدردی کو یاد کرتے ہیں شاہی محل پر یونین جھنڈا بھی ڈچس کی یاد میں سرنگوں کردیا گیا۔

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں بہت تباہی نظرآرہی ہے،بلاول

    ڈچس آف کینٹ نے سنہ 1961 میں ڈیوک آف کینٹ پرنس ایڈورڈ سے شادی کی تھی جو کنگ چارلس سوم کی والدہ آنجہانی ملکہ الزبتھ دوم کے کزن تھے اس طرح شہزادی کیتھرین شاہی خاندان کا حصہ بنیں،اگرچہ وہ براہ راست کنگ چارلس کی قریبی رشتہ دار نہیں تھیں لیکن شاہی خاندان کے وسیع دائرے میں ان کا شمار ہوتا تھا، ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد شہزادی کیتھرین شاہی خاندان کی سب سے عمر رسیدہ رکن بن گئی تھیں۔

    ڈچس آف کینٹ کی وفات کے بعد برطانوی شاہی خاندان کی سب سے عمر رسیدہ رکن اب ان کے شوہر پرنس ایڈورڈ ہیں جو 89 سال کے ہیں، پرنس ایڈورڈ کے بعد شاہ چارلس کی بڑی ہمشیرہ شہزادی این خاندان کی سب سے بزرگ رکن ہیں جن کی عمر 75 برس ہے۔

    بلاول بھٹو کا سیلاب متاثرہ کسانوں کیلئے زرعی ایمرجنسی اور خصوصی پیکج کا مطالبہ

  • برطانوی نائب وزیراعظم عہدے سےمستعفی

    برطانوی نائب وزیراعظم عہدے سےمستعفی

    برطانیہ کی نائب وزیراعظم اور لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر انجیلا رینر نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    برطانوی خبرایجنسیوں اورمیڈیا رپورٹس کے مطابق،برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی قریبی ساتھی اور نائب وزیراعظم انجیلا رینرنے حالیہ دنوں میں ایک نئے گھرکی خریداری پر مکمل ٹیکس ادا نہ کرنے کا اعتراف کیا، جس کے بعد ان پرسیاسی وعوامی دباؤ بڑھ گیا وہ ہاؤسنگ سیکریٹری کے منصب کے ساتھ ساتھ لیبر پارٹی کی ڈپٹی لیڈر بھی تھیں۔

    انجیلا رینر پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسٹ سسیکس میں فلیٹ خریدتے وقت درست اسٹامپ ڈیوٹی ٹیکس ادا نہیں کیا 8لاکھ پاؤنڈز مالیت کے اس فلیٹ پر انہوں نے 30 ہزار پاؤنڈز ٹیکس جمع کرایا، حالانکہ دوسری جائیداد ہونے کے سبب انہیں 70 ہزار پاؤنڈز ٹیکس دینا چاہیے تھا معاملہ کھلنے پر انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے جائیداد کی خرید و فروخت کے دوران واجب الادا اسٹیمپ ڈیوٹی اوردیگرمتعلقہ ٹیکسز کی مکمل ادائیگی نہیں کی تھی۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    اس معاملے کے منظرعام پرآنے کے بعد ان پر اپوزیشن اور میڈیا کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی ذاتی غلطیوں کی وجہ سے حکومت یا پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچے، اسی لیے وہ اپنے دونوں عہدوں سے مستعفی ہو رہی ہیں۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے اخلاقی امور سر لاری میگنس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد رینر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اس سے قبل کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈناخ سمیت حزبِ مخالف کے کئی رہنماؤں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔

    لیبرپارٹی کے رہنماؤں نے ان کے فیصلے کو مشکل مگر اصولی قراردیا ہے، پارٹی کے قائد نے کہا کہ انجیلا نے ہمیشہ ایمانداری اورعوامی خدمت کو مقدم رکھا اوران کا استعفیٰ ان کی سیاسی دیانتداری کی علامت ہے،ان کے استعفے کے بعد لیبر پارٹی میں قیادت کے نئے ڈپٹی لیڈر کی تلاش کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔

    سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری

    انجیلا رینر کا استعفیٰ لیبر حکومت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے صرف 14 ماہ قبل اقتدار میں آنے والی اسٹرمر حکومت کو اب ڈپٹی لیڈر کے انتخاب اور نئے ہاؤسنگ سیکریٹری کی تقرری جیسے اہم فیصلوں کا سامنا ہےتجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈپٹی لیڈر کے عہدے پر بائیں بازو کا امیدوار منتخب ہوا تو یہ اسٹارمر کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہےپارٹی کے اندر یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ آیا ڈپٹی لیڈر کو دوبارہ ڈپٹی وزیرِاعظم نامزد کیا جائے گا یا نہیں، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ کیئر اسٹارمر کابینہ میں وسیع ردوبدل پر بھی غور کرسکتے ہیں۔

    پاک بحریہ کے ڈی جی پی آر کموڈور احمد حسین کی رئیر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

  • برطانیہ میں قومی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا مقدمہ خارج

    برطانیہ میں قومی کرکٹر حیدر علی کیخلاف ریپ کا مقدمہ خارج

    برطانوی پولیس نے پاکستانی کرکٹر حیدر علی کے خلاف ریپ کے الزامات کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیا ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں حیدر علی کیخلاف کوئی قابل قبول ثبوت نہیں ملا ، حیدر علی کو جلد ہی ان کا پاسپورٹ واپس کر دیا جائے گا، جس کے بعد وہ آزادانہ طور پر برطانیہ آ اور جا سکتے ہیں۔

    واضح رہے مانچسٹر پولیس نے 4 اگست کو جنسی زیادتی کی شکایت موصول ہونے کے بعد قومی کرکٹر کیخلاف تحقیقات شروع کی تھیں، جس کا واقعہ 23 جولائی کو مبینہ طور پر مانچسٹر میں پیش آیا تھا،پولیس نے حیدر علی کو ایک لڑکی کی طرف سے ریپ کے الزامات عائد کیے جانے کے دو ہفتوں کے بعد گرفتار کیا تھا تاہم واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا،یہ واقعہ پاکستان شاہینز کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورہ انگلینڈ کے دوران پیش آیا، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے حیدر علی کو معطل کر دیا تھا۔

    راحت فتح علی خان کے بنگالی زبان میں گانےکی دھوم

    وزیراعظم پاکستان کی چینی پریمئیر سے ملاقات

    ’گھونگھٹ‘ میں کام کے دوران صائمہ پر عاشق ہوا، سید نور

  • برطانیہ:انٹرنیشنل سٹوڈنٹ کو  حکومت کی وارننگ جاری

    برطانیہ:انٹرنیشنل سٹوڈنٹ کو حکومت کی وارننگ جاری

    برطانوی حکومت نے ویزے کی مقررہ مدت سے زائد قیام کرنے والے طلبہ کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

    دی گارڈین کے مطابق برطانوی ہوم آفس کی جانب سے کہا گیا کہ اسٹڈی ویزا پر آنے والے 16 ہزار طلبہ نے گزشتہ برس سیاسی پناہ طلب کی تھی،ویزے کی مقررہ مدت سے زائد قیام کرنے والے طلبہ کے خلاف مہم کا آغاز کیا جارہا ہے جس کے تحت طلبہ سے براہ راست ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جائے گا اور متنبہ کیا جائے گا کہ اگر وہ اپنے ویزوں سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو انہیں برطانیہ سے نکال دیا جائے گا۔

    ایک سال کے دوران حکومت کو موصول ہونے والی درخواستوں میں تقریباً 14 ہزار 800 پناہ کی درخواستیں ان افراد کی تھیں جو برطانیہ میں اسٹڈی ویزہ پر آئے تھے،پناہ کی درخواستیں دینے والے طلبہ میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانی طلبہ کی تھی جو 5 ہزار 700 درخواستوں کے ساتھ سرفہرست رہے، اس کے بعد بھارت، بنگلہ دیش اور نائیجیریا کے طلبہ شامل ہیں۔

    ہوم آفس نے نئی مہم اس کے جواب میں شروع کی ہے جسے اس نے قانونی طور پر اسٹوڈنٹ ویزے پر آنے والے بین الاقوامی طلباء کی تعداد میں ایک "خطرناک” اضافہ قرار دیا ہے اور پھر ان کی میعاد ختم ہونے پر پناہ کا دعویٰ کیا ہےمہم کے ایک حصے کے طور پر، ہوم آفس پہلی بار تقریباً 130,000 طلباء اور ان کے خاندانوں سے رابطہ کرے گا، اور انہیں خبردار کرے گا کہ اگر انہیں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے تو وہ برطانیہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے، اسٹڈی ویزا پر برطانیہ آئے طلبہ کی بڑی تعداد ویزا کی مدت ختم ہونے پر سیاسی پناہ طلب کر رہی ہے۔

    شاہ رخ خان کی بیٹی سہانا خان کو قانونی مشکلات کا سامنا

    مکمل پیغام میں لکھا ہوگاکہ "اگر آپ سیاسی پناہ کا دعویٰ جمع کراتے ہیں جس میں میرٹ کی کمی ہوتی ہے، تو اسے تیزی سے اور مضبوطی سے مسترد کر دیا جائے گا پناہ کی حمایت کی کسی بھی درخواست کا بے روزگاری کے معیار کے مطابق جائزہ لیا جائے گا اگر آپ معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں، تو آپ کو سپورٹ نہیں ملے گی اگر آپ کو برطانیہ میں رہنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، تو آپ کو چھوڑ دینا چاہیے۔

    پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

  • لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    برطانوی حکومت نے اگلے ماہ لندن میں ہونے والے ہتھیاروں کی نمائش ‘ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوئپمنٹ انٹرنیشنل’ میں اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ اسرائیلی سرکاری وفد کو ڈی ایس ای آئی یو کے 2025 میں مدعو نہیں کیا جائے گا، اسرائیلی حکومت کا غزہ میں فوجی کارروائی کو مزید بڑھانے کا فیصلہ غلط ہے اس جنگ کا فوری خاتمہ، یرغمالیوں کی واپسی اور انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافہ ناگزیر ہے،وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں میلے میں شریک ہو سکیں گی لیکن کسی سرکاری سطح پر شرکت یا سرکاری اسٹال کی اجازت نہیں ہو گی۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے کو جان بوجھ کر کیا گیا افسوسناک امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مکمل طور پر اس نمائش سے دستبردار ہو رہی ہےاسرائیلی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے تو پابندی کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔

    یکم ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی برآمد پر لائسنس معطل کر دیے ہیں، آزاد تجارتی مذاکرات منجمد کر دیے ہیں اور غزہ پر حملوں کے باعث دائیں بازو کے 2 اسرائیلی وزراء پر پابندیاں عائد کی ہیں،یہ نمائش 9 سے 12 ستمبر تک لندن میں منعقد ہو گی اور دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ نمائشوں میں شمار ہوتی ہے۔

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ