Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    برطانوی حکومت نے اگلے ماہ لندن میں ہونے والے ہتھیاروں کی نمائش ‘ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوئپمنٹ انٹرنیشنل’ میں اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ اسرائیلی سرکاری وفد کو ڈی ایس ای آئی یو کے 2025 میں مدعو نہیں کیا جائے گا، اسرائیلی حکومت کا غزہ میں فوجی کارروائی کو مزید بڑھانے کا فیصلہ غلط ہے اس جنگ کا فوری خاتمہ، یرغمالیوں کی واپسی اور انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافہ ناگزیر ہے،وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں میلے میں شریک ہو سکیں گی لیکن کسی سرکاری سطح پر شرکت یا سرکاری اسٹال کی اجازت نہیں ہو گی۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے کو جان بوجھ کر کیا گیا افسوسناک امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مکمل طور پر اس نمائش سے دستبردار ہو رہی ہےاسرائیلی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے تو پابندی کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔

    یکم ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی برآمد پر لائسنس معطل کر دیے ہیں، آزاد تجارتی مذاکرات منجمد کر دیے ہیں اور غزہ پر حملوں کے باعث دائیں بازو کے 2 اسرائیلی وزراء پر پابندیاں عائد کی ہیں،یہ نمائش 9 سے 12 ستمبر تک لندن میں منعقد ہو گی اور دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ نمائشوں میں شمار ہوتی ہے۔

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

  • برطانیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے 13 لاکھ پاؤنڈ امداد کا اعلان

    برطانیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے 13 لاکھ پاؤنڈ امداد کا اعلان

    برطانیہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے 13 لاکھ پاؤنڈ سے زائد مالیت کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ امداد پنجاب، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے7 متاثرہ اضلاع میں 2لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کی مدد میں معاون ہوگی،جین میرجوٹ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو خشک راشن، موبائل میڈیکل کیمپس، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، آبی نظام اور زراعت کے لیے فوری مدد فراہم کی جائے گی،برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان کی قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • اسحاق ڈار کی برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری برائے پاکستان و افغانستان سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری برائے پاکستان و افغانستان سے ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں برطانیہ کے وزارتِ خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقیاتی امور (ایف سی ڈی او ) میں برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرق وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان، ہیمرش فالکنر سے ملاقات کی۔

    دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاسی، معاشی، ماحولیاتی اور عوامی سطح پر روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیادونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    وزیر خارجہ نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے عزم کو اجاگر کیا اور خطے کی صورت حال پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، جس میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام شامل ہے،انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا، جو متعلقہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو۔

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کی مثبت پیش رفت کو سراہا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا،انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل جاری رکھا جائے تاکہ موجودہ رفتار کو آگے بڑھایا جا سکے اور اسٹریٹجک تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

  • اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ کا رابطہ ، سیلاب سے جانی نقصان پر افسوس

    اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ کا رابطہ ، سیلاب سے جانی نقصان پر افسوس

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ، دونوں رہنمائوں نے پاکستان میں حالیہ شدید بارشوں اورسیلاب کے باعث قیمتی انسان جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈیوڈ لیمی نے اس موقع پر حکومتِ پاکستان اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہےانہوں نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کو لندن کے حالیہ دورے کے دوران کامیاب ملاقاتوں کی نیک خواہشات بھی پیش کیں۔

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی حکومت کی جانب سے ہمدردی اور تعاون کے جذبے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہےانہوں نے برطانیہ کی جانب سے امدادی و بحالی کے اقدامات میں تعاون کے اظہار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے کی امید ظاہر کی-

    تین مزید مون سون سسٹمز پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے کی میڈیا کو بریفنگ

    خاور ڈپریشن کا شکار لگ رہے تھے،ہم ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے،ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد

    کرپشن اور انسانی اسمگلنگ، سابق سرکاری افسر سمیت 2 ملزمان گرفتار

  • وزیر خارجہ اسحٰق ڈار برطانیہ کا دورہ کریں گے

    وزیر خارجہ اسحٰق ڈار برطانیہ کا دورہ کریں گے

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار 17 سے 19 اگست تک برطانیہ کا دورہ کریں گے-

    وزارتِ خارجہ (ایف او) کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ 2011 سے اینامنسڈ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مصروف ہیں، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مکالمے کو گہرا اور وسیع کیا ہے، یہ مکالمہ تجارت، معاشی ترقی، ڈیولپمنٹ، ثقافتی تعاون، سیکیورٹی اور تعلیم جیسے شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسحٰق ڈار لندن میں برطانیہ کی نائب وزیر اعظم اینجلا رینر، پاکستان کے لیے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ ہی مش فالکنر کے ساتھ ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ دولتِ مشترکہ کی سیکریٹری جنرل شرلی آیورکور بوچوے کے ساتھ ناشتے پر ملاقات بھی کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحٰق ڈار پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ایک منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے، جو لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں پائلٹ کیا گیا تھا، یہ منصوبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو زمین سے متعلق دستاویزاتی مسائل کو پاکستان میں دور سے حل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ اسحٰق ڈار برطانوی پارلیمنٹیرینز، کشمیری رہنماؤں اور برطانوی نژاد پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
    اس سے قبل اسی ماہ پاکستان اور برطانیہ نے اہم شعبوں میں شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا، راولپنڈی میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران خاص طور پر دفاعی تعاون اور اسٹریٹیجک ڈائیلاگ پر زور دیا گیا تھا۔

    جولائی میں برطانیہ کی حکومت نے پاکستانی طلبہ اور کارکنوں کے لیے ای-ویزے کا اجرا کیا تھا، جو ایک جدید بارڈر اور امیگریشن سسٹم کا حصہ ہے۔

  • برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانیہ میں غیرقانونی پناہ گزینوں کا کریک ڈاؤن، متعدد فوڈ رائیڈرز گرفتار

    برطانوی حکومت نے سمندر کے ذریعے یا دیگر غیر قانونی طریقے سے آنے والے پناہ گزینوں کو روکنے کیلئے فوڈ رائیڈرز کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے، برطانیہ بھر میں سینکڑوں گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

    20 سے 27 جولائی کے درمیان مجموعی طور پر 1,780 افراد کو روکا گیا اور ان سے مشتبہ غیر قانونی کام کی سرگرمیوں سے بات کی گئی،اس کے نتیجے میں شمال مغربی لندن میں ہلنگڈن، سکاٹ لینڈ میں ڈمفریز اور برمنگھم سمیت علاقوں میں،تقریباً 280افراد کو گرفتار کیا گیا ،ان میں سے تقریباً 89 کو ملک سے نکالے جانے کے التوا میں حراست میں لیا گیا ہے اور 53 اب ان کی سیاسی پناہ کی حمایت کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی حمایت کو معطل یا واپس لیا جا سکتا ہے۔

    ہوم آفس نے آپریشن کو "ملک گیر شدت کے ہفتہ” کے طور پر بیان کیا ہے جس میں غیر قانونی کام کرنے والے ہاٹ سپاٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں گیگ اکانومی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جہاں کام مختصر مدت یا ملازمت کے حساب سے تفویض کیا جاتا ہے،امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں کو بارڈر سیکیورٹی کے لیے پہلے سے اعلان کردہ £100m کی فنڈنگ سے £5m ملیں گے، جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں ان علاقوں میں افسران کے دوروں میں اضافہ کرنا ہے۔

    برطانیہ میں سزا یافتہ غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کافیصلہ

    برطانوی ہوم آفس نےایک اہم بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بڑی فوڈ ڈلیوری کمپنیز میں رائیڈرز جعلی ناموں یا دوسروں کے اکاؤنٹس استعمال کرکے کام کررہے ہیں، اس سلسلے میں برطانیہ میں پناہ کے متلاشی (اسائلم سیکرز) اور دیگر غیر ملکیوں کا ڈیٹا ان فوڈ کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ اس سلسلے کو روکا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے ایسے غیر ملکیوں افراد کیخلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے جو غیر قانونی طور پر جعلی اکاؤنٹس سے فوڈ ڈلیوری کا کام کررہے ہیں،اس سلسلے میں پولیس نے بڑے پیمانے پر شہر میں گشت کرنے والے فوڈ ڈلیوری رائیڈرز کو چیک کیا اور شناخت کے بعد انہیں گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی،جن میں سیاسی پناہ کے خواہشمند اور غیر قانونی امیگریشن کے ذریعے ملک میں داخل ہونے والے ملزمان بھی شامل ہیں۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    امیگریشن حکام تمام صنعتوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں تاہم اس بارانہوں نے زیادہ تر ریسٹورنٹ، ٹیک وے، کیفے اور کھانے پینے کے کاروبار کو نشانہ بنایا جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر ملازمت دیتے تھے۔

  • برطانیہ میں طوفان فلورِس کا زور، ٹرینیں منسوخ، تقریبات ملتوی

    برطانیہ میں طوفان فلورِس کا زور، ٹرینیں منسوخ، تقریبات ملتوی

    برطانیہ میں طوفان فلورِس کی شدت کے باعث متعدد اہم سروسز متاثر ہوئیں اور حفاظتی اقدامات کے طور پر ٹرینوں کی سروسز منسوخ اور عوامی تقریبات ملتوی کر دی گئیں۔ برطانوی حکام نے مختلف علاقوں میں طوفان اور تیز ہواؤں کے پیش نظر ایمبر اور یلو وارننگز جاری کی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق طوفان فلورِس اسکاٹ لینڈ، شمالی آئر لینڈ، ویلز اور شمالی انگلینڈ میں غیر معمولی تیز ہوائیں اور موسلا دھار بارشیں لے کر آیا ہے۔ خاص طور پر اسکاٹ لینڈ کے وسیع حصوں میں صبح 10 بجے سے ایمبر وارننگ نافذ کی گئی ہے، جب کہ شمالی انگلینڈ، ویلز، شمالی آئر لینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے لیے صبح چھ بجے سے یلو وارننگ جاری ہے۔نیوکاسل کے شمال میں ایسٹ کوسٹ مین لائن کی ریلوے سروسز کو منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ مغربی جانب پریسٹن کے شمال میں ریلوے مسافروں کو سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، گلاسگو سے اسکاٹش جزیروں کے لیے تمام پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ ہوائی سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    ایڈنبرا میں پرنسز اسٹریٹ گارڈنز کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ طوفان سے کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔ مزید برآں، نارتھ بیروک میں آج ہونے والا "فرنج بائے دی سی” فیسٹیول بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔حکام نے ڈرائیوروں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔ طوفان اور تیز ہواؤں کی وجہ سے نظام زندگی میں بڑے پیمانے پر خلل پڑنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر عوام سے کہا گیا ہے کہ غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

    برطانیہ میں آنے والے دنوں میں موسم کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید حفاظتی اقدامات کی توقع ہے۔

  • اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو  مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    ایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری نے اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ کی ادائیگی پر پرنس اینڈریو کو اتنی زور سے مکا مارا کہ اُن کی ناک سے خون بہنے لگا۔ تاہم، شہزادہ ہیری نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

    پرنس ہیری نے ایک نئی کتاب میں لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا اپنے چچا پرنس اینڈریو کے ساتھ جسمانی جھگڑا ہوا تھا اور اینڈریو نے میگھن مارکل کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

    مؤرخ اینڈریو لاؤنی کی تازہ کتاب ”Entitled: The Rise and Fall of the House of York“ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جھگڑا 2013میں،اس وقت شروع ہوا جب پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل کو ”موقع پرست عورت“ قرار دیا، یہ خبر ایک قابلِ اعتماد ذریعے نے دی تھی، جو پرنس اینڈریو کے قریبی حلقوں سے ہے۔ اس ذریعے نے دعویٰ کیا کہ دونوں شہزادوں کے درمیان اس وقت تلخی بڑھی جب ہیری نے میگھن پر ہونے والی تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا۔

    شہزادہ ہیری کی ٹیم نے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہاکہ،ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ پرنس ہیری اور پرنس اینڈریو کے درمیان جسمانی طور پر کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا، اور نہ ہی پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل سے متعلق کوئی نامناسب تبصرہ کیا-

    مگر اس تردید کے باوجود مصنف اینڈریو لاؤنی اپنے مؤقف پر قائم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میرا ذریعہ نہایت قابلِ اعتماد ہے، اینڈریو کے بہت قریب رہا ہے، اور میرے پاس تفصیلات کی بھرمار ہے۔ میرے ناشر نے تبصرے کے لیے سسیکس خاندان سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

    یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرنس ہیری پہلے ہی برطانوی میڈیا، خصوصاً ڈیلی میل کے خلاف عدالتی مقدمات میں مصروف ہیں ہیری کا الزام ہے کہ ان کی ذاتی معلومات غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئیں۔

    خاندان میں دیرینہ تناؤ کے باوجود شہزادہ ہیری نے مصالحت کی خواہش کا اظہار کیا ہے،مئی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ہیری نے کہا، "میں اپنے خاندان کے ساتھ مفاہمت پسند کروں گا۔ اب مزید لڑائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ترجیح اپنی بیوی اور بچوں کی حفاظت ہے۔

    مصنف کے مطابق، بدنام زمانہ شخصیت جیفری ایپسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ ’اینڈریو عورتوں کے معاملے میں مجھ سے بھی زیادہ جنونی ہے،کتاب میں بعض ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ پرنس اینڈریو نے زندگی میں ایک ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے، اور انہیں ”سیریل سیکس ایڈکٹ“ کہا گیا۔

    واضح رہے کہ پرنس اینڈریو کو 2022 میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شاہی معاملات سے فارغ کر دیا گیا تھا ورجینیا جیفری نامی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ اینڈریو نے انہیں اس وقت جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جب وہ صرف 17 سال کی تھیں یہ کیس میں معاملات عدالت سے باہر ہی طے پا گئے تھے، مگر پرنس اینڈریو کو شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا،اس تمام تر صورتحال نے نہ صرف شاہی خاندان کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ شہزادہ ہیری اور بکنگھم پیلس کے درمیان بڑھتے فاصلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

  • لندن:دوافغان پناہ گز ین  12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں  گرفتار

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    افغان "پناہ کے متلاشیوں” کے ایک جوڑے پر نیویٹن میں ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    23 سالہ احمد ملاخیل نے 22 جولائی کی شام کو قصبے کی شیورل اسٹریٹ پر مبینہ طور پر بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ اسے 26 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اگلے دن اس پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ 23 سالہ محمد کبیر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر 31 جولائی کو 13 سال سے کم عمر لڑکی کے اغوا، گلا گھونٹنے ا اور عصمت دری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    کوونٹری مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد اس جوڑے کو حراست میں لے لیا گیا ہے – ان کے کیس کی سماعت 26 اگست کو وارک کراؤن کورٹ میں ہوگی،ہفتہ کی سہ پہر کو پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فورس ابھی بھی واقعے کے گواہوں کی اپیل کر رہی ہے ، لیکن اس نے ان کے پس منظر کا ذکر نہیں کیا۔

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    اس کے بعد نامعلوم ذرائع نے میل کو بتایا کہ واروکشائر پولیس نے کونسلرز اور مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ یہ ظاہر نہ کریں کہ یہ جوڑا "کمیونٹی تناؤ” کو ہوا دینے کے خوف سے پناہ کے متلاشی کیسے تھے،اخبار نے شیورل روڈ کے قریب ایک گھر سے سی سی ٹی وی کی تصویریں شائع کیں جن میں 22 جولائی کی رات 8 بجے کے قریب ایک شخص کو ایک سفید فام لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • 221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا  فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرے۔

    بی بی سی کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں‘۔

    اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی-

    رنویر سنگھ کی فلم میں بینظیر بھٹو کی تصویر اور پی پی کے جھنڈے کا استعمال،ویڈیو

    خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے’فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجراء کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں‘۔

    ’سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مؤقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں،یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے-

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ ’یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے،یہی مؤقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔