Baaghi TV

Category: برطانیہ

  • لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار  کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن کے رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار نے اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فلسطینی پرچم لہرا دیا،اسٹیج پر فلسطین کاپرچم لہراتے اداکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے –

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپرا ہاؤس لندن میں دکھائے گئے ایک ڈرامے کے اختتام پر تالیوں کی گونج میں شائقین کی داد لیتے اداکاروں میں سے ایک نے فلسطین کا پرچم لہرادیا اداکار کے اس عمل پر وہاں موجود عملے نے پرچم لینے کی کوشش کی جس کے باوجود اداکار پرچم لے کر کھڑا رہا اور شائقین کی تالیاں جاری رہیں ،یہ پہلا موقع نہیں ہے کی جب کسی اداکار نے فلسطین کے ساتھ اس طرح اظہار یکجہتی کیا اس سے قبل بھی کانسرٹس میں کئی گلوکار ،اداکار فلسطین کے ساتھ مختلف طریقوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر چکے ہیں-

    https://x.com/AnatomyOfSufism/status/1946992239395188812

    دوسری جانب مراکش میں ہزاروں افراد غزہ کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئےمراکش کے دارالحکومت رباط میں غزہ کی حمایت میں بڑی ریلی نکالی گئی جس دوران ہزاروں افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا ریلی میں فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے غزہ سے اظہار یکجہتی کیا جب کہ احتجاج میں شامل مظاہرین نے اسرائیلی محاصرہ ختم کرکے غزہ میں جنگ بندی اور امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا دوران احتجاج مظاہرین نے مراکش حکومت سے اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    غزہ : اسرائیلی طیاروں کی خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر بمباری ، 115 شہید،200 سے زائد زخمی

  • پی آئی اے کی برطانوی فضائی حدود میں واپسی پاکستان کی فتح ہے،شہباز شریف

    پی آئی اے کی برطانوی فضائی حدود میں واپسی پاکستان کی فتح ہے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی برطانوی فضائی حدود میں واپسی پاکستان کی فتح ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ! پی آئی اے کی برطانوی فضائی حدود میں واپسی ہو چکی ہے،برطانیہ کے لیے پاکستانی انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پروازوں کی بحالی کے ساتھ پاکستان فاتح ٹھہرا، پاکستان تحریک انصاف کے وزیر کی جانب سے دیے گئے غیر ذمے دارانہ اور تباہ کن بیان نے پاکستان کی ساکھ کو بے انتہا نقصان پہنچایا وزیر کے بیان کی وجہ سے پی آئی اے پر یورپ اور برطانیہ میں 4 سال تک پابندی رہی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پی آئی اے کی بحالی برطانیہ میں مقیم 15 لاکھ پاکستانیوں اور پاکستان میں مقیم برطانوی شہریوں کو دوبارہ اکٹھا کر دے گی، پی آئی اے کی برطانیہ میں بحالی دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور روابط کو بھی فروغ دے گی،وزیراعظم نے نائب وزیراعظم، وزیر دفاع، ایوی ایشن ڈویژن اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد بھی دی۔

    ہر 2 ماہ بعد ہر وزارت کی کارکردگی کو جانچیں گے،شہباز شریف

    قومی ہاکی کھلاڑیوں کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ حل نہ ہوسکا،کھلاڑی سخت ناراض

    ایشین انڈر 16 والی بال چیمپئن شپ: پاکستان نے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

  • پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ‎ٹریڈ ڈائیلاگ میکانزم کے معاہدے پر باضابطہ دستخط

    پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ‎ٹریڈ ڈائیلاگ میکانزم کے معاہدے پر باضابطہ دستخط

    لندن میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ‎ٹریڈ ڈائیلاگ مکینزم کے معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور برطانوی وزیر ڈگلس الیگزینڈر نے معاہدے پر دستخط کیے یہ پہلا اعلیٰ سطحی تجارتی معاہدہ ہے جسے پاکستان نے کابینہ کی منظوری کے بعد طے کیا معاہدہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی جانب بڑا قدم ہے-

    معاہدے میں دونوں ملکوں نے تجارتی مواقع تلاش کرنے، رکاوٹیں دورکرنے اور باہمی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہےمعاہدےکے تحت مشترکہ ورکنگ گروپس اور باقاعدہ جائزہ اجلاسوں کا قیام عمل میں لایا جائےگا۔

    پی پی پی اور جے یو آئی کا ایک پلیٹ فارم سے سینیٹ الیکشن لڑنے پر اتفاق

    دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں ڈیجیٹل تجارت، قابل تجدید توانائی، زراعت اور دواسازی جیسے شعبوں میں تعاون پر زور دیا گیا معاہدے سے دونوں ممالک کے لیے نئی منڈیاں، روزگار کے مواقع اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو گی، پاکستان نے برآمدات میں اضافے کے لیے آئی ٹی، زرعی ٹیکنالوجی اور فارماسیوٹیکل شعبے کو اجاگر کیا برطانیہ کی ترقی پذیر ممالک کے لیے تجارتی اسکیم کے تحت پاکستان کو بھی سہولت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزارت تجارت کے اعلامیے کے مطابق معاہدہ دوطرفہ تعلقات کو نئے اقتصادی دور میں داخل کرنےکی بنیاد بنےگا۔

    چیئرمین پی اے آر سی اور ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ 3 دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

  • 60  برطانوی اراکنن پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنیکا  مطالبہ

    60 برطانوی اراکنن پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرنیکا مطالبہ

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو فوری طور پر تسلیم کرے-

    برطانوی میڈیا کے مطابق اس سلسلے میں ارکان نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو باقاعدہ خط لکھا ہےخط میں ارکان پارلیمنٹ نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کو جنوبی رفح کے ایک کیمپ میں جبری منتقل کرنے کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلا ف ورزی ہے۔

    اراکین نے خبردار کیا کہ اگر برطانوی حکومت نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہ کیا تو دو ریاستی حل کے لیے برطانیہ کی حمایت غیر موثر ہو جائے گی،انہوں نے حکو مت پر زور دیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونروا (UNRWA) کی امداد جاری رکھے تاکہ انسانی امداد اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

    ہزاروں اسرائیلیوں کا فوجی ہیڈکوارٹرز کے سامنے مظاہرہ ،غزہ جنگ بندی کا مطالبہ

    فلسطینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جاری محاصرے اور امداد کی کمی کے باعث تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار بچے شدید غذائی قلت اور قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔ بین الاقوامی برادری کی فوری مداخلت نہ ہوئی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    روس یوکرین جنگ: شمالی کوریا کا روس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

  • برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن کا صیہونی طبی تنظیم سے تعلقات  معطل کرنےکا باضابطہ فیصٌلہ

    برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن کا صیہونی طبی تنظیم سے تعلقات معطل کرنےکا باضابطہ فیصٌلہ

    برطانیہ کی سب سے بڑی ڈاکٹروں کی تنظیم برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن ( بی ایم اے ) نے اسرائیل کی طبی تنظیم اسرائیل میڈیکل ایسوسی ایشن ( آئی ایم اے ) سے اپنے تمام تعلقات معطل کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بی ایم اے کی سالانہ کانفرنس میں بھاری اکثریت (80 فیصد سے زائد) سے منظور کیا گیا، جس کے تحت اسرائیلی طبی ادارے کی جانب سے غزہ کے اسپتالوں اور طبی نظام پر اسرائیلی حملوں کی مذمت نہ کرنے پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے،برطانیہ میں ہونے والے اس اقدام سے اسرائیل میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ دیگر ممالک بھی اب اسی راستے پر چل سکتے ہیں۔

    بی ایم اے کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئی ایم اے جب تک طبی غیرجانبداری کا اصول تسلیم نہیں کرتی اور غزہ کے اسپتالوں پر حملوں کی مذمت نہیں کرتی، اس سے روابط معطل رہیں گے۔ یہاں تک کہ بعض اراکین نے اسرائیل کو ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن سے مکمل طور پر نکالنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش

    کانفرنس میں شامل اردنی نژاد برطانوی ڈاکٹر فرید القصوص نےکہ ہماری بطور ڈاکٹر یہ ذمہ داری ہےکہ مریضوں اور طبی اداروں کی حفاظت کریں چاہےوہ فلسطینی ہوں یا اسرائیلی، جب آئی ایم اے نے ایران کے ایک میزائل حملے کی مذمت کی لیکن غزہ پر اسرائیلی بمباری پر خاموش رہی تو یہ دوغلا پن ناقابل قبول ہے، یہ فیصلہ یہود دشمنی نہیں بلکہ انسانیت نوازی پر مبنی ہےیہ صرف ایک معطلی ہے، مستقل بائیکاٹ نہیں، اگر اسرائیلی تنظیم طبی غیرجانبداری تسلیم کرے تو تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی میڈیکل ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر زیون ہاگائی نے تصدیق کی کہ وہ اس فیصلے کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں اسرائیلی ڈاکٹروں کو برطانیہ میں سائنسی کانفرنسز، تعلیمی تبادلوں اور پروفیشنل تعاون سے باہر نکالا جا سکتا ہے،7 اکتوبر کے بعد سے دنیا بھر میں اسرائیلیوں، خاص طور پر اسرائیلی ڈاکٹروں کے خلاف منفی جذبات میں اضافہ ہوا ہے، اور کئی بار اسرائیلی ماہرین کو کانفرنسوں سے خارج کر دیا گیا ہے-

    حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش

    ان کا کہنا تھا کہ وہ پس پردہ منتظمین سے بات کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کو روکا جا سکے،پروفیسر ہاگائی نے عالمی طبی تنظیموں سے رابطے جاری رکھنے اور برطانوی ڈاکٹروں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاکہ غیرواپس پذیر فیصلے سے پہلے اپنا موقف پیش کیا جا سکے، لیکن انہوں نے ساتھ ہی الزام لگایا کہ بعض افراد طبی اخلاقیات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

  • شیخ حسینہ  سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    لندن: برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے منسلک دو افراد کی تقریباً 90 ملین پاؤنڈ کی جائیدادیں ضبط کرلیں۔

    دی گارڈین کے مابق ایک پیش رفت میں جو کہ سابق حکومت سے منسلک اثاثوں کا سراغ لگانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے کے لیے برطانیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے نو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے، احمد شایان رحمان اور اس کے کزن احمد شہریار رحمان کو لندن کے گروسوینر اسکوائر میں اپارٹمنٹس سمیت جائیداد فروخت نہیں کر سکتے، بنگلہ دیش کی سابق مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت میں برطانیہ کے اثاثوں کے بارے میں گارڈین کی تحقیقات میں اس جوڑے کا نام لیا گیا تھا۔

    کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق، تمام جائیدادیں برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مین یا جرسی میں کمپنیوں کے ذریعے ملکیت ہیں، اور £1.2m سے £35.5m تک کی قیمتوں میں حاصل کی گئی تھیں،رحمٰن بالترتیب سلمان ایف رحمان کے بیٹے اور بھتیجے ہیں، جو ایک امیر تاجر ہیں، جنہیں گزشتہ سال شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والے طلباء کی زیرقیادت انقلاب کے دوران مبینہ طور پر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    سلمان ایف رحمان، جنہیں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، نجی صنعت اور سرمایہ کاری کے بارے میں حسینہ کے مشیر تھے اور ملک میں بہت سے لوگ انہیں حکومت کی سب سے بااثر شخصیت کے طور پر دیکھتے تھےان کے بیٹے اور بھتیجے کی جائیدادیں گزشتہ سال گارڈین اور مہم گروپ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کے درمیان مشترکہ تحقیقات میں سامنے آئیں، جس میں شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت £400 ملین کی جائیداد کا انکشاف ہوا۔

    این سی اے کی جانب سے منجمد کی گئی جائیدادوں میں گریشم گارڈنز، نارتھ لندن میں ایک جائیداد بھی شامل ہے شیخ ریحانہ، جو شیخ حسینہ کی بہن ہیں اور برطانیہ کے سابق سٹی منسٹر ٹیولپ صدیق کی والدہ بھی ہیں، اس پراپرٹی میں رہائش پذیر ہیں، فنانشل ٹائمز کے مطابق، جس نے پہلے دو جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات کی اطلاع دی تھی، 7.7 ملین پاؤنڈ میں خریدی تھی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے کے ڈائریکٹر آف پالیسی ڈنکن ہیمز نے کہا: "ہم برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپنی انکوائری جاری رکھنے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام مشتبہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”

    NCA کے ایک ترجمان نے کہا: "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ NCA نے جاری سول تحقیقات کے حصے کے طور پر متعدد جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق دور حکومت میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں وہاں کے حکام نے ٹیولپ صدیق کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، جو الزامات کی روشنی میں شہر کے وزیر کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس نے کسی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    دی گارڈین نے تبصرے کے لیے رحمانز اور بیکسمکو کے وکیلوں سے رابطہ کیا ہے، جو خاندانی کارپوریٹ سلطنت سلمان رحمان نے قائم کی تھی۔

    احمد شایان رحمان کے ایک ترجمان نے پہلے ایف ٹی کو بتایا: "ہمارے مؤکل کسی بھی مبینہ غلط کام میں ملوث ہونے کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ وہ یقیناً برطانیہ میں ہونے والی کسی بھی تحقیقات میں حصہ لیں گےیہ بات سب کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل ہے، جہاں سینکڑوں افراد پر بے شمار الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہم توقع کریں گے کہ برطانیہ کے حکام اس پر غور کریں گے۔”

    علاوہ ازیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے وزیر سیف الزامان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرلیں بنگلہ دیش کے سابق وزیر سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں جائیدادیں بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی درخواست پر ضبط کی گئی ہیں، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اتحادی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیف الزمان چوہدری کے خلاف اس وقت بنگلہ دیش میں منی لانڈرنگ کے الزام پر تفتیش جاری ہے این سی اے کے ترجمان نے سیف الزمان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ این سی اے کو زیرتفتیش معاملے کے تحت متعدد جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات مل گئے ہیں برطانیہ میں جائیدادیں ضبط ہونے کا مطلب ہوگا کہ سیف الزمان چوہدری اب مذکورہ جائیدادیں فروخت نہیں کرسکیں گے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں 350 سے زائد جائیدادیں ہیں تاہم این سی اے نے ان کی ضبط ہونے والی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی ہیں زسابق بنگلہ دیشی وزیر کا لندن کے مہنگے علاقے ایس ٹی جونز ووڈ میں پرتعیش گھر بھی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کو بھی ضبط کیا گیا یا نہیں، گزشتہ برس انٹرویو کے دوران چٹاگانگ کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے سیف الزمان چوہدری نے کہا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کی طرح ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ برطانیہ میں میرا کاروبار ہے۔

  • برطانیہ میں غیرقانونی تارکین  وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    لندن: آٹھ افراد کو بھنگ کے فارموں کو چلانے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں دو الگ الگ نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے بعد کل تقریباً 80 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مابق منظم جرائم کے گروہ، جن کے سرغنہ دونوں برمنگھم میں مقیم تھے، مڈلینڈز، لندن اور انگلینڈ کے شمال میں فارم چلاتے تھے، اکثر ان میں کام کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ لائے گئے تارکین وطن کو استعمال کرتے تھے بیتھم ٹاور، برمنگھم کے 35 سالہ سزا یافتہ لوگوں کے سمگلر مائی وان نگوین کی سرگرمیوں کے بارے میں NCA کی تحقیقات کے بعد پہلے گینگ کو ختم کر دیا گیا۔

    اس نے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس میں ساتھی ویت نامی شہری 38 سالہ دونگ ڈِنہ، برمنگھم سے اور 24 سالہ نگیہ ڈِنہ ٹران، لیوشام، لندن سے، تارکینِ وطن کو کام پر لگا کر استحصال کرنے کے لیے شامل تھے۔

    جنوری اور فروری 2025 میں برمنگھم کراؤن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت ہوئی کہ کس طرح شمریز اختر اور تساور حسین، دونوں 50 سالہ اور برمنگھم سے ہیں، ٹیکسی ڈرائیور تھے جو تارکین وطن کو گینگ کے لیے مختلف املاک کے ارد گرد منتقل کرتے تھے، جنہیں ایک وقت میں سینکڑوں پاؤنڈ ادا کیے جاتے تھے،موقع پر وہ کھیتوں کے لیے بھنگ یا سامان بھی لے جاتے۔

    گینگ کا چھٹا رکن، برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ امجد نواز نے ایک مڈل مین کے طور پر کام کیا، اور وہ نگوین کے ساتھ کارکنوں، بھنگ کی خرید و فروخت اور برمنگھم میں استعمال ہونے والی جائیدادوں کے انتظامات کے بارے میں باقاعدہ بات چیت کرتا تھا۔

    ان کے مقدمے کی سماعت اسمگلنگ کا شکار ہونے والے ایک شخص سے ہوئی، جس کا نام صرف ‘وٹنیس زیڈ’ ہے، ایک ویتنامی شہری ہے جس کا نومبر 2020 میں کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کے بعد گینگ نے استحصال کیا تھا گواہ زیڈ نے بھنگ کی کئی فصلوں میں کام کیا، اس نے کہا کہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ ان لوگوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا تھا جنہوں نے اسے برطانیہ پہنچایا تھا۔

    جون 2021 میں اسے کلیولینڈ پولیس کے افسران نے ہارٹل پول کے ایک گھر پر ایک فارم پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا افسران کو اندر سے سونے کے کمرے کے دروازے پر ایک نوٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ "جو آپ چاہتے ہیں لے لو، براہ کرم مجھے مت مارو، مجھے انگریزی نہیں آتی”، اور ایک تارکین وطن سے ہاتھ سے لکھی ہوئی ڈائری کا اقتباس جس میں وہ پوچھتے ہیں کہ "مجھے کیوں مارا پیٹا گیا اور کام پر مجبور کیا گیا؟”

    NCA کی تحقیقات کے دوران نیٹ ورک سے منسلک بھنگ کے فارم ویسٹ مڈلینڈز میں ٹپٹن، کوونٹری اور ایجبسٹن، ڈربی، ہارٹل پول، لندن میں ایسٹ ہیم اور چیشائر میں گیٹلی میں پائے گئے برمنگھم کے ہال گرین میں ایک اور پراپرٹی سے کٹی ہوئی بھنگ برآمد ہوئی۔

    Nguyen اور Tran دونوں نے بھنگ پیدا کرنے کی سازش کرنے کا اعتراف کیا، لیکن دوسروں نے اس الزام سے انکار کیا تمام چھ افراد نے استحصال کے لیے اسمگلنگ کے الزامات سے انکار کیا، لیکن پیر 24 فروری کو، برمنگھم کراؤن کورٹ میں سات ہفتے کے مقدمے کی سماعت کے بعد، تمام چھ افراد کو تمام الزامات کا مجرم پایا گیا جمعہ 4 جولائی کو نگوین کو 15 سال، ڈنہ کو 14 سال، ٹران کو ساڑھے 11 سال، نواز کو 12 سال، جب کہ حسین اور اختر کو بالترتیب 10 اور ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    دریں اثنا اسی عدالت میں ایک الگ سماعت میں دوسرے منظم جرائم گروپ کے دو دیگر ارکان کو بھی آج سزا سنائی گئی برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ رومن لی نے ایک گینگ کا سربراہ تھا جو رہائشی اور تجارتی املاک میں کم از کم آٹھ فارم چلاتا تھا، ساتھ ہی ساتھ ایک ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی تھی جہاں سامان اور بھنگ کی کٹائی ہوئی تھی۔

    لی نے پراپرٹی ڈویلپر کے طور پر ظاہر کرکے، انہیں خرید کر یا کرایہ پر لے کر جائیدادیں حاصل کیں بعض صورتوں میں عمارتوں کے اردگرد سہاروں کو رکھا گیا تھا، جس سے ایسا لگتا تھا کہ حقیقی استعمال کو چھپانے کے لیے تزئین و آرائش کا کام ہو رہا ہے۔

    لی نے مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ یہاؤ فینگ اور برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ ڈیوڈ قیومی کے ساتھ مل کر جائیدادوں کو منبع کرنے اور چلانے کے لیے کام کیا ان میں کوونٹری کا ایک ناکارہ نائٹ کلب، برمنگھم کا ایک سابقہ ​​عوامی گھر اور لنکاشائر کا ایک پرانا ہوٹل شامل تھا۔ مجموعی طور پر فارم لاکھوں پاؤنڈ مالیت کی بھنگ بنانے کے قابل تھے۔

    قیومی نے ایک بزنس مین کے طور پر اپنا روپ دھار لیا، لی کے ساتھ جائیدادیں خریدنے، کرایہ پر لینے یا سب لیٹ کرنے کے لیے کام کیا، جب کہ فینگ نے گروپ کے لیے ‘آپریشنز مینیجر’ کے طور پر کام کیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ فیکٹریاں کام کرتی رہیں اور اندر جو کچھ ہو رہا تھا اسے خفیہ رکھا جائےبہت سے فارموں پر عملہ ویتنامی یا البانیائی غیر قانونی تارکین وطن تھے، جن میں سے کچھ کا ممکنہ طور پر ان کی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے استحصال کیا جا رہا تھا جج نے فینگ کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی، قیومی کو تین سال اور چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی لی کو 30 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔

    "آج کی سزا سنائی جانے والی سماعتیں مڈلینڈز اور اس سے باہر کے لوگوں اور کمیونٹیز پر اثر انداز ہونے والے اہم منظم جرائم کے بارے میں NCA کی دو بڑی تحقیقات کا خاتمہ ہیں۔

    "یہ گینگ صنعتی پیمانے پر منشیات کی پیداوار میں ملوث تھے، جو اکثر ان تارکین وطن کا استحصال کرتے تھے جنہیں کام پر لگانے کے واحد مقصد کے لیے برطانیہ میں سمگل یا اسمگل کیا گیا تھا، یا جو قرض ادا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

    سزا پانے والے مردوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان تارکین وطن کو لاریوں یا کشتیوں میں ناقابل یقین حد تک خطرناک طریقوں سے برطانیہ لایا گیا تھا اور پھر انہیں بدترین حالات میں رہنے کے لیے بنایا گیا تھا، اکثر تشدد کے خطرے کے تحت منظم امیگریشن جرائم سے نمٹنا NCA کے لیے ایک ترجیح ہے، اور یہ ایسے معاملات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔

    سزائیں سنائی گئی ہیں وہ ایک انتباہ کے طور پر کام کرتی ہیں، NCA اس میں ملوث مجرم گروہوں کو نشانہ بنانے، ان میں خلل ڈالنے اور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور ہم ایسا کرنے کے لیے اپنے اختیار میں تمام اختیارات استعمال کریں گے۔”

    یہ ملزمان ایسے کمزور لوگوں کا استعمال کرتے ہیں جو غربت کی وجہ سے برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ویتنام میں اٹھائے گئے قرضوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سفر کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے بھنگ کی پیداوار میں خود کو شامل کرنے پر مجبور تھے۔ وہ ناسازگار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور ان کی زندگیوں اور ان کے اہل خانہ کو خطرات لاحق تھے اگر وہ سازشیوں کے مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔

    "CPS قانونی کارروائیوں اور سرحد پار تعاون کے ذریعے اس استحصالی تجارت کی حوصلہ شکنی، خلل ڈالنے اور اسے ختم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔NCA کی تحقیقات کو ویسٹ مڈلینڈز، کلیولینڈ، ڈربی شائر، لنکاشائر، ہمبر سائیڈ اور میٹروپولیٹن پولیس فورسز کے ساتھ ساتھ کراؤن پراسیکیوشن سروس اور ہوم آفس امیگریشن انفورسمنٹ کی مدد حاصل تھی۔

  • برطانیہ کی ایران پر امریکی حملوں کی کھل کر حمایت

    برطانیہ کی ایران پر امریکی حملوں کی کھل کر حمایت

    برطانوی وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے تہران کے ایٹمی پروگرام سے لاحق خطرہ کم ہوا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور خطے میں استحکام برطانیہ کی اولین ترجیح ہے ساتھ ہی انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ دوبارہ سفارتی مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ اس بحران کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔

    ایران کئی بار یہ واضح کر چکا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا اسی مؤقف کی تصدیق اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی کی ہے، جس کے مطابق اب تک ایران کے ایٹمی پروگرام میں جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

    پاکستان کی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کی شدید مذمت

    دوسر ی جانب کیوبا، وینزویلا، چلی، میکسیکو نے ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے-

    ایران پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے واشنگٹن کی اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کینل نے امریکی بمباری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جو انسانیت کو "ناقابل واپسی بحران” کی طرف دھکیل رہا ہے۔

    جبکہ چلی کے صدر گیبریل بورِک نے بھی امریکہ کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا، انہوں نے ایکس پر لکھا کہ چلی امریکہ کے اس حملے کی مذمت کرتا ہے، طاقت رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے انسانیت کے طے کردہ قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال کریں۔ چاہے آپ امریکہ ہی کیوں نہ ہوں۔

    ادھر میکسیکو کی وزارت خارجہ نے تنازع کو کم کرنے کی اپیل کی کہا کہ ہم اپنی پرامن خارجہ پالیسی اور آئینی اصولوں کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ علاقائی ریاستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔”

    علاوہ ازیں وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گِل نے ٹیلیگرام پر بیان جاری میں کہا کہ وینزویلا امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی درخواست پر کی گئی اس بمباری کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم فوری طور پر تمام دشمن کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

    یہ ابتدائی عالمی ردِعمل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اقدام کو دنیا بھر میں قانونی اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا ہے۔

    اسی طرح آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔

    آسٹریلوی حکومت نے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کی براہ راست حمایت نہیں کی، تاہم ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کے اس بیان کو نوٹ کرتے ہیں کہ اب امن کا وقت ہے، اور ہم کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیتے ہیں۔

    دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے حملوں پر فکرمندی ظاہر کی، تاہم انہوں نے امریکہ کی مذمت نہیں کی ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ مزید کشیدگی سے بچا جائے نیوزی لینڈ سفارت کاری کی ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور تمام فریقین سے مذاکرات میں واپسی کی اپیل کرتا ہے۔ سفارتی حل ہی پائیدار راستہ ہے، فوجی کارروائیاں نہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح ا مر یکہ نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے متعلق ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ ٹرتھ سوشل پر بیان جاری کیا،اس کے علاوہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

    ایران کا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان

  • برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی سربراہ مقرر

    برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی سربراہ مقرر

    لندن: برطانوی خفیہ انٹیلی جنس سروس ایم آئی 6 میں پہلی بار ایک خاتون کو سربراہ بنایا گیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بلیز میٹرویلی ایم آئی 6 کی 116 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ہوں گی، وہ ایم آئی 6 کی 18ویں سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے 47 سال کی بلیز میٹرویلی 1999 سے خفیہ انٹیلی جنس سروس کا حصہ ہیں اور وہ اس سال کے آخر میں عہدہ سنبھالیں گی، برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پہلی خاتون چیف کی تقرری کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔

    ٹرمپ انتظامیہ کا مزید 36 ممالک پر سفری پابندی لگانے کا منصوبہ

    اسرائیل ایران کشیدگی : عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا شیڈول جاری

  • مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ   گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے فوجی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں، عسکری ساز و سامان اور A400M ملٹری ٹرانسپورٹ وہیکل سمیت دیگر دفاعی وسائل کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ری فیولنگ کے لیے KC-3 طیارہ قبرص منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں فضائی آپریشنز کو جاری رکھا جا سکے۔

    ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک برطانوی جنگی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب پہنچ گیا تھا، جو اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں داخل ہونا چاہتا تھا ایرانی فوج کے مطابق، یہ جنگی جہاز صہیونی میزائلوں کی رہنمائی کے لیے لایا گیا تھا۔

    بھارتی شہر کیدرناتھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ، 7 افراد ہلاک

    ایرانی بحریہ نے عمان کے سمندری حدود میں اس جہاز کو روکا اور مسلح ڈرونز کو اس کی جانب بھیج کر وارننگ دی۔ ایرانی بیان کے مطابق، ڈرونز کی پرواز اور تنبیہ کے بعد برطانوی بحری جہاز کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا گیاایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خطے کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

    اسرائیلی حملوں میں امریکا برابر کا شریک ، اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا،ایرانی وزیر خارجہ