Baaghi TV

Category: اسلام

  • اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور  غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 اجلاس اور غذائی قلت کا مسئلہ

    اقوام متحدہ کوپ 28 سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم مسائل میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہا جبکہ عالمی رہنما موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تاہم عاکمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ اوسط میں ہونے والی اس موسمیاتی کانفرنس کی متحدہ عرب امارات نومبر میں میزبانی کرے گا اور خطے میں غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خلیجی ملک ، اپنے وسیع وسائل سمیت تکنیکی ترقی اور اس مسئلے پر فعال وکالت کے ساتھ ، ممکنہ طور پر خطے میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کی جنگ کی قیادت کرسکتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    بین الاقوامی ریڈ کراس کے ماہر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے پاس اس مسئلے کے حل کیلئے وسائل موجود ہیں اور وہ ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کافی تیزی سے اقدام بھی کرسکتا اور اسکی وجہ سے وہ کوپ 28 کے بعد غذائی تحفظ اور اقدامات پر بحث کی قیادت کرنے کی بہترین پوزیشن میں بھی ہے۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی ایسا ملک نہیں جس کے پاس خوراک کی وافر مقدار ہو جو غذائی تحفظ پر بات چیت کی قیادت کرے تاہم یہ متحدہ عرب امارات جیسا ملک ہے جو روزانہ کی بنیاد پراس سے نمٹ رہا ہے اور اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے لیکن مشرق اوسط میں غذائی عدم تحفظ کے بنیادی اسباب پانی کی قلت، غیر مستحکم معیشتیں اور خوراک کی درآمدات پر بھاری انحصار ہے۔

    تاہم موسمیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کو سستی اور مقامی آبادی کے لیے آسانی سے اپنانے کے قابل بنانا ہے کیونکہ بہت سے خلیجی ممالک میں زرعی صنعت کاری میں اضافہ ایک مثبت علامت ہے لیکن اس سے صرف اسی صورت میں نتیجہ خیز نتائج برآمد ہوں گے جب کوششیں صرف غریبوں کے حق میں ہوں اور ضرورت مندوں کیلئے محنت کی جائے یا انہیں ترجیح دی جائے، غذائی عدم تحفظ کو کامیابی سے کم کرنے کے لیے خطے کے رہنماؤں کو سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے جامع پالیسیوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا جو کوپ 28 کے موضوعات میں سے ایک ہے۔

  • ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خطہ ٔپوٹھوہارسمیت پنجاب، شمال مشرقی اورجنوبی بلو چستان ،خیبر پختونخوا اورسندھ میں آندھی، تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ مزیدموسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خطہ پوٹھوہار،اسلام آباد،پنجاب، سندھ، شمال مشرقی/جنوبی بلوچستان ،خیبر پختونخوا،کشمیر اورگلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقا مات پر موسلادھار بارش بھی ہوئی،جبکہ زیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اور دالبندین میںدرجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا۔

    محکمہ موسمیات نے مزید کہا ہے کہ 22 سے26 جولائی کےدوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گوجرانوالہ اورلاہور میں موسلا دھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ جبکہ مری،گلیات،کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد، راولپنڈی /اسلام آباد کے مقا می ندی نالوں جبکہ 22 اور 23 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی اورجنوبی بلوچستان کے علاقوں بشمول(بارکھان ،کوہلو،شیرانی، ہرنائی،بولان،لورالائی، خضدار، لسبیلہ،کیچ،تربت،آواران،پسنی،اورماڑہ،گوادار اورگردونواح) کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس
    محکمہ موسمیات کے مطابق22سے 24 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث زیریں سندھ( تھرپارکر ، عمرکوٹ ، میرپور خاص، سانگھڑ ، خیرپور، ، کشمور، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، حیدرآباد، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، کراچی اور حیدرآباد )کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔

  • ایران؛ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C

    ایران؛ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C

    خلیج فارس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہیٹ انڈیکس 66C تک پہنچ گیا ہےجبکہ ویدر زون ڈاٹ کام کے مطابق زمین پر رہنے والے زیادہ تر لوگ کبھی بھی ایران کے خلیج فارس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی گرمی کو کبھی برداشت یا پھر ایسی گرمی سے نہیں گزرے ہوں گے.

    رپورٹ کے مطابق انتہائی بلند درجہ حرارت اور وافر فضائی نمی کا ایک نایاب امتزاج ایران کے جنوبی ساحلی پٹی کے ساتھ جابرانہ گرمی پیدا کرتا ہے، جب کہ ہوا کے درجہ حرارت کے مشاہدات سے ہمیں اس بارے میں اچھا اندازہ ہوتا ہے کہ باہر کتنی گرمی ہے، دوسرے عناصر جیسے ہوا اور نمی بھی اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ موسم ہمارے جسم کو کتنا گرم محسوس ہوتا ہے۔ عام طور پر، ہوا کا موسم ہمیں ٹھنڈا اور مرطوب موسم ہمیں زیادہ گرم محسوس کرتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ماہرین موسمیات کے مطابق ان مساواتوں کا استعمال کرکے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موسم کتنا گرم یا ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے جو ہوا کے درجہ حرارت اور دیگر ماحولیاتی متغیرات کا عنصر ہے۔ گرم موسم کے اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک کو ‘ہیٹ انڈیکس’ کہا جاتا ہے، جو ہوا کے درجہ حرارت اور نمی کو یکجا کرتا ہے۔

  • تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق

    سندھ کے ضلع تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ تھرپارکر کے مختلف شہروں مٹھی، اسلام کوٹ، ننگرپارکر اور گردو نواح میں تیز بارش ہوئی تاہم اس دوران مٹھی میں آسمانی بجلی گرنے سے 6 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی بھی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ نواحی گاؤں ویڑی جھپ کے قریب اس وقت پیش آیا، جب ایک سو سے زائد افراد میلے میں شرکت کے لیے پیدل جا رہے تھے۔

    لاشوں اور زخمیوں کو مٹھی اسپتال منتقل کردیا گیا، سول اسپتال مٹھی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ لاڑکانہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش نے جل تھل ایک کردیا۔ دوسری جانب بلوچستان میں بھی بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، ژوب ، کوہلو اور جھل مگسی میں تیز بارش کے ساتھ ژالہ باری ہوئی، جس کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔

    ضلعی کچی کے علاقے بھاگ اور گردنواح میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی، بارش کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آئی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔ کوہلو میں بھی شہر اور گردنواح میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی۔

    جھل مگسی کے نواحی علاقے گوٹھ مٹھو میں اور مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کے ساتھ شدید ژالہ باری ہوئی جبکہ فصلات کو نقصان پہنچا، گنداواہ اور گردونواح ميں بھی گرج چمک کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش ہوئی ہے۔ ژوب میں بھی شہر اور گردونواح میں تیز بارش اور ژالہ باری نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ، بارش کے باعث دریائے ژوب کے مقام پر گاڑی پانی میں پھنس گئی۔

    کمشنر ژوب ڈویژن کی خصوصی ہدایت پر لیویز فورس نے گاڑی اور سواریوں کو ریسکیو کرلیا جبکہ سواریوں کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ادھر محکمہ موسمیات کی جانب سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بالائی سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی اور مغربی علاقوں میں بارش برسانے والا نیا سسٹم داخل ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اسلام آباد میں پیر سے لے کر بدھ تک بارشوں کا امکان ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں بھکر، میانوالی، ڈی جی خان، ملتان، سرگودھا، جوہر آباد، خوشاب، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان، فیصل آباد، ساہیوال، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، مری میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

  • 10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    10رمضان المبارک ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کا یوم وصال

    سیدہ خدیجۃ الکبریٰ 10رمضان المبارک

    رمضان المبارک کے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے وصال کا ہے۔

    ابتدائیہ: والد کا نام خویلد، والدہ کا نام فاطمہ بنت زاہدہ اور لقب طاہرہ، پہلا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی جس سے دو لڑکے ہند اور حارث پیدا ہوئے اور دوسرا نکاح ابو ہالہ کی وفات کے بعد عتیق بن عابد مخزومی سے لیکن وہ بھی وفات پا گئے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سمجھدار، امیر، ہر خوبی کی مالک اور اچھے فیصلے کرنے والی تھیں، اسلئے اُن کا سب سے”اچھا“ فیصلہ حضور ﷺ سے نکاح کرنا تھا۔

    نکاح کی وجوہات: حضرت خدیجہ حضور ﷺ کی امانت و دیانت سے بے حد متاثر، غلام میسرہ کے ساتھ دُگنے معاوضے پر شام کے علاقے میں اپنا تجارتی سامان بیچنے کی پیشکش، غلام میسرہ سفر میں حضور ﷺ کے کردار سے متاثر کیونکہ حضور ﷺ پر بادلوں کا سایہ کرنا، شام میں راہب پادری نسطورا کا علامات نبوت سے حضور ﷺ کو پہچاننا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا نے غلام میسرہ سے سفر کے حالات پر بہت کچھ سُنا، حضور ﷺ کے ساتھ فرشتوں کو بھی دیکھا، ایک خواب دیکھا جس کی تعبیر چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے یہ بتائی کہ تم سے آخری نبی کا نکاح ہو گا۔

    نکاح: حضرت خدیجہ نے حضور ﷺ کو اپنی سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے ذریعے نکاح کا پیغام دیا جو حضور ﷺ نے قبول کیا۔ نکاح کا خطبات چچا ابو طالب، ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہ کے چچا عمرو بن اسد نے پڑھے اورایک اونٹ ذبح کر کے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔ حضرت خدیجہ امیر مگر امانت دار اور حضور ﷺ ظاہری طور پر غریب مگر امانت دار اور اللہ کریم کا فیصلہ ہمیشہ امانت داروں کے متعلق اچھا ہوتا ہے۔

    ریکارڈ: نکاح 25 سال کی عمر میں اور پہلی وحی 40 سال کی عمر میں، 25 سے 40 سال کے درمیان حضور ﷺ کی اولاد بھی پیدا ہوئی، البتہ کیسے بچوں کوپالا سنبھالا، بیٹیاں حضرت زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنھم کے نکاح کیسے کئے، کون کون شامل ہوا، کچھ ریکارڈ نہیں ملتا سوائے یہ کہ آپ ﷺ غارِ حرا جاتے اور پیاری ”بیوی“ حضورﷺ کو ستو (کھانا) باندھ دیتی یا کھانا دینے جاتی۔

    تصدیق: حضرت جبرائیل علیہ اسلام سے پہلی ملاقات، دل مضطرب کے ساتھ گھر تشریف لاکر فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو، پیاری بیوی کوسارا واقعہ وحی کا بتایا تو پیاری بیوی جو پہلے کچھ نشانیاں دیکھ چُکی تھیں اور نکاح کے 15 سالوں کے دوران حضور ﷺ کوجو کرتے دیکھا تو اُس کی تصدیق اسطرح کی ”آپ ﷺ کو اللہ کریم کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اُٹھاتے، محتاجوں کے لئے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔

    ساتھی: پیاری سمجھدار بیوی نے مزید یہ کیا کہ حضور ﷺ کو چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو نصرانی تھے، عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے۔ حضور ﷺ کا واقعہ سُننے کے بعد کہنے لگے: یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ کریم نے حضرت موسی علیہ السلام پر اُتارا تھا، اے کاش میں اُس وقت زندہ ہوتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔

    سکون: حضور ﷺ، حضرت خدیجہ اور حضرت علی نماز ادا کرتے اور ایک دفعہ کسی نے دیکھا تو چچا عباس پاس تھے، اُن سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کریم وحدہ لا شریک ہے۔ نبوت کے تین سال بعد اللہ کریم نے فرمایا ”اپنے رشتے داروں اور قرابت داروں کو ڈر سناؤ“ جس پر حضور ﷺ نے فاران کی چوٹیوں پر رشتے داروں کو لا الہ الا اللہ کی دعوت دی۔

    سوشل بائیکاٹ: اس کے بعد حضرت خدیجہ کے گھر اور گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی، حضور ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، گھر میں گندگی پھینکی جاتی، آپ ﷺ کو جھوٹا (نعوذ باللہ) کہا جاتا حتی کہ 43 سال کی عمر کے بعد کے 7 سال میں سے آخر والے تین سال تو بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کر کے شِعبِ ابی طالب میں قید کر دیا گیا مگر کیا خوبصورت صبر ہے کہ حضرت خدیجہ اور کسی بچے کی دنیاوی حاجت یا بھوک پیاس رہنے پر چیخنے کا ایک واقعہ نہیں ملتا۔

    ہمت: سوشل بائیکاٹ کے دوران حضرت حکیم بن حزام اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ کے لئے گیہوں لائے، راستے میں ابوجہل سے بحث، ابوالبختری بن ہاشم کا وہاں آنا، ابو جہل کو سمجھانا مگر اس کا نہ ماننا تو ابوالبختری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے ابو جہل کا سر زخمی کر دیا۔ ابو البختری اور حضرت حکیم بن حزام دونوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بھتیجے تھے۔

    سلام: ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا حضور ﷺ کے لئے کھانا لے کر آ رہی تھیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! جب آپ کے پاس پہنچیں تو ان کو اللہ کریم کا اور میرا سلام پیش کریں اور جنت میں خول دار موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف۔ (صحیح بخاری 3820)

    افضل جنتی؛ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا، آپ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اور حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ مریم بنت عمران جنت میں فضیلت والی عورتیں ہیں۔ (مسند احمد 2730)

    نبی کریم ﷺ نے پیر کے روز صبح کے وقت نماز پڑھی، سیدہ خدیجہ نے پیر کے دن اس کے آخری حصے میں نماز پڑھی اور سیدنا علی نے منگل کو نماز پڑھی ( المعجم الکبیر للطبرانی: 945)

    سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر اتنی غیرت نہ کی جتنی جناب خدیجہ پر کی، حالانکہ میں نے انہیں نہیں دیکھا تھا لیکن حضور ﷺ سیدہ خدیجہ کا بہت ذکر فرماتے تھے، (صحیح بخاری 3818)

    سیدہ خدیجہ کے ساتھ آپ ﷺ نے 25 سال گزارے، اس ساری مدت میں آپ ﷺ نے کبھی دوسری شادی نہیں کی، سیدہ خدیجہ نے بھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جو آپ ﷺ کو نا پسند ہو۔( صحیح مسلم 2436)

    وفات: ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا نبوت کے 10ویں سال جب چچا ابو طالب کو وفات پائے ابھی 3 یا 5 دن ہوئے تھے، 65 سال کی عمر میں 10 رمضان المبارک کو وفات پائی۔ غُسل دیا گیا اور نماز جنازہ کا ابھی حُکم نازل نہیں ہوا تھا، آپ کو مکہ مکرمہ میں واقع حَجُون (جنّتُ المعلیٰ) کے مقام پر دفن کیا گیا۔

  • سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت

    سورۃ الفاتحہ کی فضیلت
    تحریر:محمد ریاض ایڈووکیٹ
    قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے اور اختتام سورۃ الناس پر ہوتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورۃ ہے، جسکی احادیث میں بہت فضلیت آئی ہے۔فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتداء کے ہیں۔اسلئے اسے الفاتحۃُیعنی فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے۔ اسکے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں۔ مثلاًام القرآن، اسبع المثانی، القرآن العظیم، اشفاء، الُرقیۃُ(دم)۔ اسکا ایک نام الصلٰوٰۃ بھی ہے۔جیسا ایک حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”میں نے صلاۃ (نماز) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔مراد سورۃ الفاتحہ ہے جسکا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنااور اسکی رحمت اور ربوبیت اور عدل و بادشاہت کے بیان میں ہے۔اور نصف حصے میں دعا و مناجات ہے، جو بندہ اپنے اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے۔اس حدیث میں سورۃ الفاتحہ کو ”نماز“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اسکا پڑھنا بہت ضروری ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ کے ارشادات میں اسکی خوب وضاحت کردی گئی ہے۔ جیسا کہ ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھی۔اک حدیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ نماز کی حالت میں جب بندہ”الحمداللہ رب العالمین“پڑھتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری تعریف کی ہے۔جب بندہ ”الرحمن الرحیم“کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے، جب بندہ”ملک یوم الدین“ کہتا ہے تو اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے۔سورۃ الفاتحہ مکی سورت ہے یعنی اسکا نزول مکہ مکرمہ میں ہجرت مدینہ سے پہلے ہوا۔سورۃ الفاتحہ کی پہلی چار آیات میں اللہ کریم کی حاکمیت و بادشاہت کا تذکرہ ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (آیت نمبر 1)یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اسکے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ کسی کے اندر اگر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا پیداکردہ ہے۔الحمداللہ یہ کلمہ شکر ہے جسکی فضیلت احادیث میں بہت آئی ہے۔رب، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے، جسکے معنی ہیں ہر چیز کو پیدا کرکے اسکی ضروریات مہیا کرنے اور اسکی تکمیل تک پہنچانے والا۔بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا (آیت نمبر 2)۔ یعنی اللہ بہت رحم کرنے والا ہے اور اسکی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔دنیا میں اسکی رحمت عام ہے جس سے بلاتخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہورہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہوگا، یعنی اسکی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے (آیت نمبر3)۔ روز قیامت اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اسکے اچھے یا بُرے اعمال کے مطابق مکمل جزاء اور سزادیگا۔آخرت میں تمام اختیارات کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ روز قیامت فرمائے گا کہ آج کس کی بادشاہت ہے، پھر خود ہی جواب دے گا کہ صرف ایک اللہ غالب کے لئے۔ اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں رکھے گی، سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔یہ ہوگا جزاء کا دن۔(سورۃ الانفطار)۔ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں (آیت نمبر4)۔ یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو، اسکی مافوق الاسباب طاقت کے سامنے عاجزی و بے بسی کا اظہار بھی ہواور اسباب و مافوق الاسباب ذرائع سے اسکی گرفت کا خوف بھی ہو۔نہ عبادت اللہ کے سوا کسی کی جائز ہے اور نہ استعانت (مدد)کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کردیا گیاہے۔ لیکن جن کے دل میں شرک کا روگ راہ پاگیا ہے وہ مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب استعانت میں فرق نظر انداز کرکے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہوتے ہیں ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ بیوی، ڈرائیور و دیگر افراد سے مدد مانگتے ہیں۔اسی طرح وہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ انسانوں سے بھی مدد مانگنا جائز ہے۔حالانکہ اسباب کے ماتحت ایک دوسرے سے مدد مانگنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے، یہ تو اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے جس میں سارے کام ظاہری اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں۔ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کرسکتا ہو، جیسا کہ کسی فوت شدہ شخص یا بُت کو مدد کے لئے پکارنا، اسکو مشکل کشااور حاجت روا سمجھنا، اسی کا نام مافوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا ہے اور اسی کا نام شرک ہے۔ ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دیکھا (آیت نمبر5)۔یعنی ہماری صراط مستقیم کی جانب رہنمائی فرما۔یہ صراط مستقیم وہی ”الاسلام“ ہے جسے نبی کریم ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔ان لوگوں کی راہ جن پر تم نے انعام کیا، انکی نہیں جن پر غضب کیاگیا(یعنی وہ لوگ جنہوں نے حق کو پہنچانامگر اس پر عمل پیرا نہ ہوئے)اور نہ گمراہوں کی (یعنی وہ لوگ جو جہالت کے سبب راہ حق سے بھٹک گئے)(آیت نمبر6 اور 7)۔ان آیات میں صراط مستقیم کی وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ سیدھا رستہ وہ ہے۔جس پر وہ لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا (جن کی تفصیل سورۃ النسا ء میں درج ہے یعنی انبیاء، شہدا، صدیقین، صالحین)۔بعض روایات سے ثابت ہے کہ (جن پر تیرا غضب نازل ہوا) سے مرادیہودی اور (گمراہوں) سے مرادنصاریٰ یعنی عیسائی ہیں۔سورۃ الفاتحہ کے آخر میں آمین کہنے کی نبی کریم ﷺ نے بڑی تاکید اور فضیلت بیان فرمائی ہے۔اس لئے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنا چاہئے۔آمین کے معنی مختلف بیان کئے گئے ہیں۔جیسا کہ اسی طرح ہو، ہمیں نامراد نہ کرنا، اے اللہ ہماری دعا قبول فرمالے۔خاتم النبیین نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ میری جانب سے لوگوں تک پہنچاؤ چاہے ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔اللہ کریم ہم سبکو قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر دین و دنیا میں سرخرو ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • سال 2030 تک عمرہ زائرین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچانے کا ہدف مقرر

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا سال 2030 تک عمرہ زائرین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کردیا ہے.

    سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ سال2030 تک عمرہ زائرین کی تعداد 3 کروڑتک سالانہ پہنچانے کا ہدف ہے۔ مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا نے کہا کہ سعودی عرب عالمی تیل منڈی کے استحکام اور توازن کے لئے کوشش کر رہا ہے، ایران سے عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی اپیل کرتے ہیں، ایران ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کرے۔

    انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں افغانستان میں امن قائم ہو جبکہ افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرتے رہیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ روس یوکرین جنگ جلد از جلد ختم ہو،۔ شاہ سلمان نے سال2030 تک عمرہ زائرین کی تعداد 3کروڑتک سالانہ پہنچانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک عرب ادارے کی خبر کے مطابق؛ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے کہا ہے کہ حکومت تیل کی منڈیوں میں استحکام اور توازن کے لیے بھرپور محنت کر رہی ہے جس میں اوپیک پلس اتحاد کے معاہدے کا استحکام اور اسے برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔

    عرب نیوز کے مطابق شاہ سلمان نے اتوار کو شوریٰ کونسل کے آٹھویں سیشن کے تیسرے سال کے کام کا افتتاح کیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی اور قرآن کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز کیا۔ شاہ سلمان نے روس یوکرین بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کی حمایت میں سعودی عرب کے موقف کی توثیق کی اور کہا کہ مملکت تیل کی منڈیوں کی معاونت، استحکام اور توازن کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ جبہ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری وعدوں کو پورا کرے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹ طلب کر لی
    پی سی بی نے بنگلہ دیش انڈر19 کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی تاریخوں کا اعلان کر دیا
    طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا
    بندہ اٹھایا ہی ہوا ہے ناں؟ بتا دیں کہیں مار تو نہیں دیا ؟عدالت کا استفسار

  • جتوئی:ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ نے  12 ربیع الاول کے موقع پر ضلع بھر کے جلوسوں و محافل میلاد و نعت کیلئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل

    جتوئی:ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ نے 12 ربیع الاول کے موقع پر ضلع بھر کے جلوسوں و محافل میلاد و نعت کیلئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل

    باغی ٹی وی :جتوئی( نذیر شجراء) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ سید احمد نواز شاہ کی سربراہی میں 12 ربیع الاول کے موقع پر ضلع بھر کے جلوسوں و محافل میلاد و نعت کے فول پروف سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی،

    تفصیل کے مطابق 12 ربیع الاول کے مرکزی جلوس کے راستوں گزرگاہوں سمیت مرکزی جلوس کی نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے مظفر گڑھ پولیس کی جانب سے بہترین انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر پولیس کے 1138 افسران و جوانوں کوتعینات کیاگیا ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ سید احمد نواز شاہ کے مطابق مظفرگڑھ پولیس12 ربیع الاول کے جلوسوں اور محافل کی سیکیورٹی کے لیے شہرکے مختلف مقامات پر اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔ 12 ربیع الاول کے روز جلوسوں کے راستوں اور گزرگاہوں سمیت مرکزی جلوس کی نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر پولیس کے 1138 افسران و جوان موجودرہیں گے۔ مظفرگڑھ پولیس کے 07 سینئر افسران سمیت 173اپر سب آرڈینیٹ، 110 ہیڈ کانسٹیبل، 850 کانسٹیبل ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ جبکہ ایلیٹ فورس کی ٹیمیں اور ڈولفن فورس جلوسوں کے روٹس پر موثر گشت یقینی بناتے ہوئے شر پسند عناصر سے نبرد آزما ہونے کی لئے تیار ہیں۔ جبکہ ماہر اسنائپرز مرکزی جلوس کے اطراف اور گزرگاہوں پر تعینات کیئے جائیں گے۔ ڈسٹرکٹ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں جلوس کے روٹس کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے، جلوس کے روٹس پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
    مظفر گڑھ پولیس 12ربیع الاول کے جلوسوں اور محافل میں شرکت کرنے والے عاشقان رسول کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ ترجمان پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک اور غیر معمولی صورت حال کی بروقت اطلاع پولیس ایمرجنسی نمبر 15 یا مرکزی کنٹرول روم کے درج زیل نمبرز 0669200339، 0669200340, 0669200321 پر دیں۔ 12 ربیع الاول کے جلوسوں اور محافل کے پر امن انعقاد کے لیئے ممبران امن کمیٹی، تمام مکتب فکر کے علماء کرام اور انجمن تاجران بھی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،

  • ننکانہ : ربیع الاول ہم سب کے لیے عقیدت و احترام،برکتوں اور خوشیوں کا مہینہ ہے-امجد علی

    ننکانہ : ربیع الاول ہم سب کے لیے عقیدت و احترام،برکتوں اور خوشیوں کا مہینہ ہے-امجد علی

    باغی ٹی وی ننکانہ صاحب (احسان اللہ ایاز)حضوررحمت اللعالمینﷺ کا یوم ولادت سرکاری محکمہ جات،علمائے کرام اور عوام کے لیے مشترکہ خوشیوں اور سعادتوں کا امین ہے،ماہ ربیع الاول ہم سب کے لیے عقیدت و احترام،برکتوں اور خوشیوںکا مہینہ ہے،آپﷺ کی سیرت طیبہ عالم انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے، اللہ ہمیں اس پر چلنے کی ہمت عطا فرمائے۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس و پلاننگ رانا امجد علی نے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر آفس کمیٹی روم میں جشن عید میلاد النبی ﷺکے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔مذہبی سکالر علامہ محب النبی طاہراورسید سلیمان گیلانی کی قیادت میں ضلع بھر سے ممبران امن کمیٹی نے اجلاس میں شرکت کی۔اے ڈی سی فنانس وپلاننگ رانا امجد عل نے کہا کہ حضور ﷺ کی مبارک زندگی ایک مکمل عملی نمونہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ محکمہ جات کے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جشن میلاد النبیﷺ کے لیے بہترین انتظامات کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے،عیدمیلاد النبیﷺ کے لیے سیکورٹی،صفائی ستھرائی اور ٹریفک وغیرہ کے لیے نہایت اعلی انتظامات کیے جائیں۔اس موقع پر مذہبی سکالر علامہ محب النبی طاہر نے کہا کہ ضلع ننکانہ کی تاریخ صدیوں سے مختلف مذاہب و مسالک کے درمیان اخوت ویگانگت ،باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی عکاس ہے،عید میلادالنبیﷺ کی خوشیوں میں مسلمان بھائیوں کے ساتھ سکھ ،عیسائی ودیگر مذاہب کے پیروکار بھی نہایت عقیدت و احترام سے حصہ لیتے ہیں

  • حضور پاک کی حیات طیبہ ہر مکتبہ فکر کے شخص کے لیے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر اللہ بخش گلشن

    حضور پاک کی حیات طیبہ ہر مکتبہ فکر کے شخص کے لیے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر اللہ بخش گلشن

    باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان ( نامہ نگار) حضور پاک ﷺ کی حیات طیبہ ہر مکتبہ فکر کے شخص کے لیے مشعل راہ ہے۔ ڈاکٹر اللہ بخش گلشن ، رجسٹرار غازی یونیورسٹی
    غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں بسلسلہ "عشرہ شان رحمت العالمین” قرآت اینڈ نعت کلب، نظامت امور طلباء کے زیر انتظام رجسٹرار یونیورسٹی ڈاکٹر اللہ بخش گلشن کی زیر صدارت گذشتہ روز مقابلہ حسن و قرآت و نعت منعقد ہوا اس مبارک محفل میں طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان مقابلہ جات میں غازی یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے سٹوڈنٹس کے ساتھ ساتھ غازی یونیورسٹی کے الحاق شدہ اداروں کے طلباء و طالبات نے بھی مقابلوں میں بھرپور حصہ لیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر طاہرہ بتول قیصرانی صاحبہ نے ادا کیئے
    ڈاکٹر محمد ایاز اسلامک اسٹڈیزو دیگر نے منصف کے فرائض سر انجام دیئے۔
    اس موقع پر پوزیشن لینے والے طلباء وطالبات میں انعامات و اسناد تقسیم کی گئیں۔ قرآت میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والوں میں بالترتیب عارف رشید ،جان محمد اور آسیہ اسلم شامل ہیں۔،رجسٹرار غازی یونیورسٹی ڈاکٹر اللہ بخش گلشن نے موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا، پروگرام کے آخر میں ناظم امور طلباء ڈاکٹر محمد ابراہیم نے تمام حاضرین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا جو اس بابرکت محفل میں شریک ہوئے۔