Baaghi TV

Category: اسلام

  • سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے.اکرام ملک

    سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے.اکرام ملک

    باغی ٹی وی ، ڈیرہ غازیخان ( شہزادخان سے) پولیٹیکل اسسٹنٹ و کمانڈنٹ بی ایم پی محمد اکرام ملک نے کہا ہے کہ سموگ ماحول کو زہریلا بنانے کے علاوہ سانس کی بیماریوں کا باعث بھی بنتا ہے جس کی روک تھام کیلئے ہر کسی کو اپنا کردار نبھانا ہوگا،وقت کا تقاضا ہے کہ اجتماعی کاوشیں بروئے کار لائی جائیں،ہر فرد قدرتی ماحول کو صاف و شفاف بناتے ہوئے تازہ آب و ہوا کیلئے اپنی حد تک وسائل کو خاطر میں لائے،فضائی کثافتوں کو کم کیا جائے۔انہوں نے یہ بات انسداد سموگ بارے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت غلام محمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم کوریہ،ڈپٹی ڈائریکٹر پی ایچ اے شہزاد انور، کفیل الرحمن،ڈی او انڈسٹریز اصغر صدیقی، انفارمیشن آفیسر خالد رسول،سیکرٹری آر ٹی اے ثناء اللہ ریاض،انسپکٹر ماحولیات اظہر نواز ودیگر نے شرکت کی۔محمد اکرام ملک نے کہا کہ سموگ بھٹوں میں غیر معیاری اشیاء جلانے،فصلوں کی باقیات کو جلانے،آلودہ ماحول اور فضائی کثافتوں کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت تنہا سموگ سے نہیں نمٹ سکتی،ہمیں بحیثیت قوم اپنے بہتر مستقبل کیلئے انسداد سموگ کو ایک مشن کے طور پر لینا ہوگا،فصلوں کی باقیات کو ہرگز نہیں جلانا چاہیئے،انہیں پراپر طریقہ سے تلف کرنا ہوگا، فصلوں کو روٹاویٹر سے ناکارہ بناکر بطور کھاد استعمال میں لانا ہو گا،بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر مشتمل کرنا ہوگا،عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے زیادہ سے پودے اور درخت لگائے جائیں،انہوں نے مزید کہا کہ سموگ کیخلاف ہمیں شعور اجاگر کرنا ہوگا،اس حوالے سے مساجد میں اعلانات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر آگاہی سیشنزکاانعقاد کرناہوگا،خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر جرمانے کئے جائیں،آگاہی سیمنار میں شرکت کرنے والے کسانوں سے فصلوں کی باقیات کو آگ نہ لینے کا حلف نامہ بھی لیا جائے،اس سے ہمارا ماحول بہتر اور شفاف ہوگا اور ہم قدرتی طور پر بیماریوں سے محفوظ بھی رہیں گے۔اس موقع پر سموگ سے آگاہی کیلئے حکمت عملی بھی طے کی گئی۔

  • عقیدہ ختم نبوت  ﷺ اور آئین پاکستان

    عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان

    عقیدہ ختم نبوت ﷺ اور آئین پاکستان
    تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ
    کلمہ طیبہ کے نام پربننے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اپنے وجود کے پہلے30 سال تک انتہائی گھمبیر مسائل کا شکار رہی جہاں ایک طرف بنگلہ دیش کی صورت میں ملک دولخت ہوگیا تو دوسری جانب قادیانی / احمدی جماعت کی وجہ سے ختم نبوت ﷺ جیسے عظیم عقیدہ پر مسلمانان پاکستان کی ناختم ہونے والی بے چینی۔مملکت میں آئے روز فسادات، قتل و غارت جیسے واقعات ہوئے۔ حد تو یہ تھی کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کی پیروی کرنے کی پاداش میں اسلامی ریاست پاکستان میں خود صحیح العقیدہ مسلمانوں کو ہی قید و بند کی صعوبیتں برداشت کرنا پڑیں۔ یہاں تک کہ جیدء علماء کرام کو پھانسی کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔بالآخر ماہ ستمبر 1974 میں پارلیمنٹ کی جانب سے آئین پاکستان میں متفقہ طور پر ترمیم کرکے اس مسئلے کو ابدی طورپر حل کردیا گیا۔ پاکستان میں عقیدہ نبوت ﷺ اور تحریک ختم نبوت ﷺ پر بہت کچھ لکھا گیابہت کچھ سنایا گیا۔ بندہ ناچیز اپنی اس تحریر میں ریاست پاکستان کے آئین و قانون کی روشنی میں ختم نبوت ﷺ پر چند معروضات پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔پاکستان کے تمام مسلمانوں کے لئے آئین و قانون میں درج ان معلومات بارے آگاہی بہت ضروری ہے۔
    آئین پاکستان کے آرٹیکل1 (1) کے مطابق: مملکت پاکستان اک جمہوریہ ہوگی جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا۔
    آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 کے مطابق: اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہوگا۔
    آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 (a) کے مطابق: قراد داد مقاصد 1949 کو آئین پاکستان کا preamble یعنی تمہیدبنا دیا گیا۔
    آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (a) کے مطابق: مسلمان کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
    ”مسلما ن“ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدت و توحیدقادر مطلق اللہ تبارک تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہواور ایک نبی یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہواور نہ اسے مانتا ہوجس نے حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبرہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔
    آئین پاکستان کے آرٹیکل 260 (3) (b) کے مطابق:غیر مسلم کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
    ”غیر مسلم“ سے ایسا شخص مراد ہے جو مسلمان نہ اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ،بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو ’احمدی‘ یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخصی یا کوئی بہائی، اور کسی درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
    آئین پاکستان میں ختم نبوت ﷺ اور مسلمان کی واضح تعریف کے بعد کس بھی قسم کے غیر آئینی اقدام کی روک تھام کے لئے مجموعہ تعریزات پاکستان یعنی پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 میں 1984 میں ایک آرڈیننس کے تحت ترمیم کی گئی۔
    پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (1) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ کہتے ہیں یا کسی دوسرے نام سے جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے درج ذیل افعال کرے:
    (الف) حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی بھی شخص کو ”امیر المومنین”، ”خلیفۃ المومنین”، خلیفۃ المسلمین”، ”صحابی” یا ”رضی اللہ عنہ ” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
    (ب) حضرت محمد ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ کے علاوہ کسی ذات کو ”ام المومنین” کے طور پر منسوب یا یا مخاطب کرے۔
    (ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان ”اہل بیت” کے کسی فرد کے علاوہ کسی بھی فرد کو ”اہل بیت” کے طور پر منسوب یا مخاطب کرے۔
    )د) اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد” کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
    درج بالا جرائم کی صورت میں اس شخص کو قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
    پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (B) (2) کے مطابق:قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی بھی فرد (جو اپنے آپ کو ”احمدی” یا کسی اور نام سے پکارتا ہے) جو الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا لکھے، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں۔ اسے دونوں میں سے کسی ایک صورت میں قید کی سزا دی جائے گی جو کہ تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کے قابل بھی ہو گا۔
    پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 298 (C) کے مطابق:قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی فرد (جو اپنے آپ کو ‘احمدی’ یا کسی اور نام سے پکارتا ہے)، جو بالواسطہ یا بلاواسطہ خود کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے، یا اپنے عقیدے کو اسلام کہتا ہے، یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتا ہے یا اس کی تبلیغ کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہے، الفاظ کے ذریعے، یا تو بولے یا تحریری، یا ظاہری نمائندگی کے ذریعے، یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی صورت میں کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
    اللہ کریم ہم سب کو پکا سچا مسلمان بنائے اور زندگی کے آخری سانس تک عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر قائم دائم اور اس عقیدہ کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

  • شیخوپورہ: 10 افراد قادیانیت چھوڑکر دائرہ اسلام میں داخل

    شیخوپورہ: 10 افراد قادیانیت چھوڑکر دائرہ اسلام میں داخل

    باغی ٹی وی . شیخوپورہ(محمد طلال سے) جنڈیالہ روڈشیخوپورہ کی رہائشی فیملی کے 10 افراد جن میں بھائی محمد الیاس، منیر احمد،محمد عاطف،مبارز احمد اوراہل خانہ شامل ہیں نے قادیانیت کو چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، مذکورہ خاندان نے جامع مسجد کرنالیانوالی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے علماء کرام کے روبرو آنحضور ﷺ کو ّآخری نبی مانتے ہوئے کلمہ توحید پڑھ کر مرزائیت سے تائب ہوگئے، اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ کے وفد جس میں مولانا ابوبکر، مولانا امتیاز کشمیری،مولانا خرم شہزاد،قاری محمد یونس،چوہدری محمد شفقت علی، پروفیسر طاہر ڈار، بھائی محمد، بھائی راشد شاہ اور دیگر ساتھیوں انہیں مبارکباد دی اور انہیں پھولوں کے ہار پہنانے کے علاوہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے رہے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مرزائیت سے تائب ہونے والے بھائی محمدالیاس ودیگرنے کہاکہ آنحضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور اسلام حق وسچ کا دین ہے اپنی ماضی کی زندگی کو بھول کر آنحضور ﷺ کی تعلیمات کو اپنا اوڑھنا بچھاؤنا بناکر زندگی گزرانے کی کوشش کریں گے، اللہ تعالیٰ ہماری ماضی کی غلطیوں کو معاففرمائے اور آئندہ دین اسلام کے مطابق زندگیاں گزارنے کی توفیق دے انہوں نے کہاکہ مرزائیت آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے اور ہم اس پر لعنت بھیجتے ہوئے آپ ﷺ کی تعلیمات کوعام کرنے کیلئے کام کریں گے انہوں نے کہاکہ وہ دن دور نہیں جب ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا اور قادیانیت صفہ ہستی سے مٹ جائیگی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا شفقت علی نے کہاکہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت ہی اصل اسلام ہے قادیانیت سے تائب ہونے والے محمد الیاس سے جب ملاقات ہوئی تو ان میں جو سکون اور راحت دیکھا اس سے واضح ہوگیا ہے کہ اسلام حق ہے باقی سب باطل ہے آخر میں ملک کی سلامتی،ترقی،خوشحالی کیساتھ ساتھ مرزائیت کے خاتمہ کیلئے خصوصی دعابھی کی گئی۔

  • پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں اگلے 04 روز تک مزید بارشیں/پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیاہے
    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، مغربی ہوائوں کا سلسلہ ملک کے بالائی علاقوں میں اتوار کو داخل ہو گا جس کے باعث 14 ستمبر تک لاہور، راولپنڈی،گوجرانوالہ،سرگودھا اور فیصل میں بارش کا امکان ہے۔مری، اٹک ،چکوال ،سیالکوٹ،نارووال، گجرات میں بارش کا امکان ہے جبکہ میانوالی،خوشاب،حافظ آباد،منڈی بہائوالدین اور جھنگ میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔ 13 اور 14 ستمبر کے دوران بھکر،لیہ،ڈی جی خان اور مظفر گڑھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اور14 ستمبر تک وقفے وقفے اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کوخبردارکیا ہے کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھیں اور ضروری مشینری/ ڈی واٹرنگ سیٹ اور عملہ نکاسی آب کے لیے ہمہ وقت تیار رکھیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ مدد کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کریں.

  • سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاںبحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز، خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔ارسا حکام
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ارسا نے ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے دریاں اور بیراجز میں پانی کے بہا اور سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تاہم پانی کا بہا ئوکم ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تونسہ بیراج میں بہائو مزید بڑھ گیا اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔جب کہ گدو اور سکھر بیراجز پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    دوسری طرف این ڈی ایم ایکی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سیلابی ریلوں میں پھنسے اور مختلف علاقوں سے ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 51 ہزار 275 ہوگئی ہے جس میں سے 1634 افراد زخمی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ 10 لاکھ 51 ہزار سے زائد مکانات ملیامیٹ ہوگئے اور مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں کے باعث مرنے والے موشیوں کی تعداد 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ہے۔

  • سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    سیلاب اور بارشیں،جاں بحق افراد کی تعداد 900 سے تجاوز، 31 لاکھ سے زیادہ متاثر، پی ڈی ایم اے نے تفصیلات جاری کردیں

    پاکستان میں مون سون کے غیرمعمولی طویل سیزن کے دوران بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے این ڈی ایم کے مطابق ڈھائی ماہ میں 900 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ:این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک ملک کے 116 اضلاع میں جانی یا مالی نقصان ہوا ہے اور جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے وہیں دیہی علاقوں میں سات لاکھ مویشی بہہ گئے ہیں،صوبہ بلوچستان سیلاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کے 34 اضلاع اور تین لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثرین میں شامل ہیں، سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے تاہم یہاں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 22 لاکھ سے بھی زیادہ ہے . پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے صوبے کے کل 16 اضلاع اور وہاں کی چار لاکھ 18 ہزار سے زیادہ آبادی متاثر ہوئی ہے .خیبر پختونخوا کے 33 اضلاع میں سیلاب سے 50 ہزار لوگ کسی نہ کسی حد تک متاثر ہوئے
    محکمہ موسمیات نے 26 اگست تک سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے
    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے۔

    پنجاب میں 15 جون سے 21 اگست تک مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں صوبائی ڈزاسٹر منیجمنٹ (پی ڈی ایم اے) نے تفصیلات جاری کر دی ہیں۔پنجاب کے 6 اضلاع کے 5 لاکھ 55 ہزار 893 علاقوں میں نقصان پہنچا، 69اسکول اور7 بنیادی مراکز صحت ڈوب گئے۔پی ڈی ایم اے کےمطابق راجن پور، ڈی جی خان، میانوالی، مظفرگڑھ، سیالکوٹ، لیہ سیلاب سے متاثر ہوئے، 2 لاکھ 1 ہزار 965 زرعی علاقے، 12 ہزار 628 گھر سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 151 افراد زندگی کی بازی ہارگئے، 606 افراد زخمی ہوئے جبکہ 3 لاکھ 41 ہزار 77 افراد بے گھر ہو گئے

    بارش اورسیلاب سے 2 لاکھ سے زائد بڑے جانور، 2 ہزار 586 چھوٹے جانور ہلاک ہو ئے جبکہ سیلاب میں 37 سڑکیں، 8 پل پانی میں بہہ گئے جبکہ 7 نہریں تباہ ہوگئیں،پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 ہزار 264 افراد، 516 جانوروں کو سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیوکیا گیا، 147 طبی کیمپ اور متاثرہ افراد کیلئے 9 ہزار 355 کیمپ لگائے گئے۔پی ڈی ایم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد جانوروں کو ویکسینیشن دی گئی، 19 ہزار839 افراد میں فوڈ ہیمپرز تقسیم کیے۔پی ڈی ایم کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اب بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں 551 ریسکیواہکار اور 84 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

  • "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے بیٹے کامران مرزاء نے 1530ء میں جب اس کا لاہور پر قبضہ ہوا تو باغ بنوایا جس میں 1540ء میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی.
    یہی وہ بارہ دری تھی جہاں مغل بادشاہ جہانگیر کے سامنے اس کے باغی بیٹے خسرو اور اس کے ساتھیوں کو کو پیش کیا گیا تو بادشاہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کی آنکجیں نکلوا دیں کہ "بادشاہ کا کوئی رشتے دار نہیں ہوتا” اور اس کے ساتھیوں کے قتل کا حکم دیا جن کو بارہ دری سے قلعہ تک کے راستے میں قتل کیا جاتا رہا قلعہ کی دیوار تک پہنچتے پہنچتے خسرو کے تین سو ساتھیوں کو قتل کردیا گیا تھا.
    کامران مرزاء سے موسوم یہ بارہ دری اور باغ موجودہ دور میں راوی کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے. جب اس کو تعمیر کیا گیا تھا تو راوی اس سے کہیں دور ہوتا تھا. راوی کے کنارے پرائیویٹ کشتی سروس آپ کو سو روپے میں آنے جانے کی سہولت فراہم کرتی ہے.
    اس میں جانے کا ایک اور راستہ ہے جو شاہدرہ سے ہوکر کچی آبادی کو اس بارہ دری سے ملاتا ہے جہاں دریائے راوی میں پانی کی مسلسل کمی کی وجہ سے تعمیرات اور کھیتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے بارہ دری سے آن ملا ہے جس کی وجہ سے ایک لحاظ سے جزیرے والا اسٹیٹس تو تقریباً ختم ہوچکا ہے.
    اگر محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ ٹورازم توجہ دے تو یہ لاہور شہر کے باسیوں اور بالخصوص فیملیز کے لیے ایک اچھی سیر گاہ بن سکتا ہے جس کے لیے آبادی والے راستے کو بند کرکے صرف راوی سے کشتی سروس والے راستے کو برقرار رکھا جائے اور وہاں باغ میں جھولے اور بنچ وغیرہ لگا دیے جائیں.
    اسی سلسلے میں ایک دلچسپ اور انتظامیہ کے تعاون کا واقعہ بھی پیش آیا ہوا کچھ یوں کہ شام سے کچھ دیر پہلے جب ہم وہاں پہنچے تو کشتی میں بیٹھے تو اس کو بولا کہ لائف سیفٹی جیکٹ دو اس کے جواب میں کشتی بان نے کہا کہ سر جیکٹس تو ہمارے پاس نہیں ہوتیں. بارہ دری سے واپسی پر کشتی میں دو تین لڑکیاں بھی تھیں تو کشتی چلانے والے کو مستیاں سوجھ رہی تھیں میں نے اس سے کہا بھائی تیری مستی کے چکر میں سارے مارے جائیں گے اور اک بھی جیکٹ آپ کے پاس نہیں پڑی جبکہ موجودہ دنوں میں پانی کا بہاؤ بھی اچھا خاصا ہے.
    قصہ مختصر میں نے اس ایشو پر ویڈیو بنائی کہ اللہ نہ کرے یہاں کوئی حادثہ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا اور ٹویٹر پر پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو ٹیگ کرکے اپلوڈ کردی. جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ فوری ایکشن لے تھوڑی ہی دیر میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی ٹویٹ آگئی کہ جناب ہم نے 100 لائف سیفٹی جیکٹس کا اہتمام کرکے راوی کنارے کشتی سروس والوں کے حوالے کردی ہیں.
    یہاں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں سسٹم میں خرابی دیکھیں تو انتظامیہ کو بتانا چاہیے ہم نے اکثر دیکھا کہ کسی بھی ایشو کو جب سوشل میڈیا پر اٹھایا جاتا ہے تو اس کا یقیناً فائدہ ہی ہوتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پورڈوبنے کاخطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔
    بین الصوبائی شاہراہیں بند، 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف اعلانات کئے جارہے ہیں کہ رودکوہی درہ چھاچھڑاورکاہاسلطان کاسیلابی ریلاکسی بھی وقت راجن پورشہرمیں مغربی طرف سے کسی بھی وقت داخل ہوسکتاہے ،جس کی وجہ راجن پورشہرکوشدیدخطرہ ہے اس لئے شہری فوراََمحفوظ مقامات پرمنتقل ہوجائیں،راجن پور مساجد میں اعلانات شروع، شہر خالی کرنے کا حکم شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ،
    <
    ڈیری غازی خان جام پور، فاضل پور اور راجنپور سمیت ملک بھر میں بارشیں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری،متاثرین بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور،ڈیرہ غازی خان کوہ سلیمان فورٹ منرو میں 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے۔اس وقت کوہ سلیمان کی تقریبا تمام رودکوہیوں میں پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے باٹھی رود کوہی کا پانی اس وقت جھوک بودو کراس کر رہا ہے اور لتڑا رودکوہی کا پانی لعلانی کراس کر رہا ہے ،شمتالہ سے بھی پانی آ رہا ہے جو باٹھی رودکوہی میں شامل ہو گامٹھوان لہڑ کا پانی بھی پہلے سے زیادہ بتایا جا رہا ہے اور کنوہاں رودکوہی اس وقت کوہر کراس کر رہی ہے،درہ وڈور سے بہت بڑا سیلابی ریلا اس وقت موضع بیلہ سے گزر رہا ہے

    گدپور، لوہار والا، پائگاہ، معموری،چوٹی سیفن کے نزدیکی آبادیاں اور ٹریکٹر فیکٹری ایریا کے نشیبی علاقے سیلاب کی زدمیں آسکتے ہیں،سخی سرور کوہ سلمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ تا حال جاری ہے سخی سرور ندی سے سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تھانہ سخی سرور پولیس اور بارڈر ملٹری پولیس تھانہ سخی سرور کی طرف سے سیلابی ریلے ندی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ایس ایچ اوز کی جانب سے اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں جبکہ کچھ پوائنٹ پر خار دار تاریں بھی لگا دی گئی ہیں۔

  • ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم ، آر پی او کی حکم پر ریزروہائے سمیت پولیس کی اضافی نفری تعینات،آر پی او محمد سلیم کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کا قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ،بی ایم پی اور پولیس کے جوان رات بھر سے سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد سلیم نے ڈیرہ غازی خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ۔آر پی او نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ایس پی انویسٹی گیشن ڈیرہ غازی خان غیور احمد نے سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اورمتاثرہ علاقو ں سے لوگوں کے انخلا کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔

    آر پی او نے شدید بارشوں سے سیلاب کے با عث چاروں اضلاع میں ایمر جنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ضلعی پولیس افسران کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں ۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے دوران آر پی او نے حفاظتی بندوں کا معائنہ کر کے پولیس کو حفاظتی بندوں کی نگرانی اور حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور حکم جاری کیا کہ غیر قانونی اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔آر پی او نے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپس کا دورہ کر کے متاثرین کو فراہم کردہ سہولیات اور سیکیورٹی اقداما ت کا جائزہ لیا ۔ دورہ کے دوران آر پی او نے سیلاب متاثرین سے گفتگو کر کے انکے مسائل سنے اور انہیں مسائل کے مکمل حل اور ریلیف کی فراہمی کی یقین دہائی کرائی۔ آر پی او کے احکامات کی روشنی میں ریجن بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی امدادی و ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ پولیس ٹیمیں رات بھر سے سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ آر پی او کے حکم سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں اور ان کی املاک کی منتقلی کے لیے پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ استعمال کی جا رہی ہے ۔

    لوگوں کی منتقلی ایس ایچ اوز کی گا ڑیوں میں بھی جاری ہے اور اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے لیے پولیس بسیں بھی فراہم کی گئی ہیں ۔امدادی سر گرمیوں میں تیزی لانے کیلئے پولیس کی تمام ریزرو ہائے اور اضافی نفری متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں ۔پولیس انتظامیہ ،ریسکیو اور دیگر اداروں کے ہمراہ فرنٹ لائن پر امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شگافوں کو پر کرنے اور شاہراہوں اور راستوں کی بحالی کر رہی ہے۔

    اس کے علاوہ متاثرین کی فوری مدد اور جان ومال کے تحفظ کیلئے تمام تھانہ جات اورسرکل دفاتر میں قائم ریلیف کیمپس میں متاثرین کو منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔دوسری طرف پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک قبائلی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل اور امداد کی فراہمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا،

    بارڈر ملٹری پولیس کے تمام تھانے، سکولز مراکز صحت قبائلی لوگوں کے لیے کھول دیا ہے، قبائلی علاقوں میں راستے نہ ہونے پر اونٹوں کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے کہا بارڈر ملٹری پولیس قبائلی لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

  • فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ.سابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کیایاد رہے کہ عمران خان کے دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفو لیب بذات خود ایک ادارہ ہے جو فیک خبروں کے نیٹ ورک کو ایکسپوز کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر2019 میں ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ریسرچ گروپ ‘ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا.