Baaghi TV

Category: قرآن اور سائنس

  • "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    "کامران مرزاء کی بارہ دری اور ڈپٹی کشمنر کا فوری ایکشن” از قلم محمد عبداللہ

    مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے بیٹے کامران مرزاء نے 1530ء میں جب اس کا لاہور پر قبضہ ہوا تو باغ بنوایا جس میں 1540ء میں یہ بارہ دری تعمیر کروائی.
    یہی وہ بارہ دری تھی جہاں مغل بادشاہ جہانگیر کے سامنے اس کے باغی بیٹے خسرو اور اس کے ساتھیوں کو کو پیش کیا گیا تو بادشاہ نے یہ کہتے ہوئے اپنے بیٹے کی آنکجیں نکلوا دیں کہ "بادشاہ کا کوئی رشتے دار نہیں ہوتا” اور اس کے ساتھیوں کے قتل کا حکم دیا جن کو بارہ دری سے قلعہ تک کے راستے میں قتل کیا جاتا رہا قلعہ کی دیوار تک پہنچتے پہنچتے خسرو کے تین سو ساتھیوں کو قتل کردیا گیا تھا.
    کامران مرزاء سے موسوم یہ بارہ دری اور باغ موجودہ دور میں راوی کے درمیان ایک چھوٹے سے جزیرے پر واقع ہے. جب اس کو تعمیر کیا گیا تھا تو راوی اس سے کہیں دور ہوتا تھا. راوی کے کنارے پرائیویٹ کشتی سروس آپ کو سو روپے میں آنے جانے کی سہولت فراہم کرتی ہے.
    اس میں جانے کا ایک اور راستہ ہے جو شاہدرہ سے ہوکر کچی آبادی کو اس بارہ دری سے ملاتا ہے جہاں دریائے راوی میں پانی کی مسلسل کمی کی وجہ سے تعمیرات اور کھیتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے بارہ دری سے آن ملا ہے جس کی وجہ سے ایک لحاظ سے جزیرے والا اسٹیٹس تو تقریباً ختم ہوچکا ہے.
    اگر محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ ٹورازم توجہ دے تو یہ لاہور شہر کے باسیوں اور بالخصوص فیملیز کے لیے ایک اچھی سیر گاہ بن سکتا ہے جس کے لیے آبادی والے راستے کو بند کرکے صرف راوی سے کشتی سروس والے راستے کو برقرار رکھا جائے اور وہاں باغ میں جھولے اور بنچ وغیرہ لگا دیے جائیں.
    اسی سلسلے میں ایک دلچسپ اور انتظامیہ کے تعاون کا واقعہ بھی پیش آیا ہوا کچھ یوں کہ شام سے کچھ دیر پہلے جب ہم وہاں پہنچے تو کشتی میں بیٹھے تو اس کو بولا کہ لائف سیفٹی جیکٹ دو اس کے جواب میں کشتی بان نے کہا کہ سر جیکٹس تو ہمارے پاس نہیں ہوتیں. بارہ دری سے واپسی پر کشتی میں دو تین لڑکیاں بھی تھیں تو کشتی چلانے والے کو مستیاں سوجھ رہی تھیں میں نے اس سے کہا بھائی تیری مستی کے چکر میں سارے مارے جائیں گے اور اک بھی جیکٹ آپ کے پاس نہیں پڑی جبکہ موجودہ دنوں میں پانی کا بہاؤ بھی اچھا خاصا ہے.
    قصہ مختصر میں نے اس ایشو پر ویڈیو بنائی کہ اللہ نہ کرے یہاں کوئی حادثہ ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا اور ٹویٹر پر پنجاب حکومت اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو ٹیگ کرکے اپلوڈ کردی. جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ فوری ایکشن لے تھوڑی ہی دیر میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی ٹویٹ آگئی کہ جناب ہم نے 100 لائف سیفٹی جیکٹس کا اہتمام کرکے راوی کنارے کشتی سروس والوں کے حوالے کردی ہیں.
    یہاں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں سسٹم میں خرابی دیکھیں تو انتظامیہ کو بتانا چاہیے ہم نے اکثر دیکھا کہ کسی بھی ایشو کو جب سوشل میڈیا پر اٹھایا جاتا ہے تو اس کا یقیناً فائدہ ہی ہوتا ہے.

    محمد عبداللہ

  • کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پور ڈوبنے کا خطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔

    کوہ سلیمان سیلاب ،راجن پورڈوبنے کاخطرہ، شہریوں کومحفوظ مقام پرمنتقل ہونے کاحکم۔
    بین الصوبائی شاہراہیں بند، 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔راجن پور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف اعلانات کئے جارہے ہیں کہ رودکوہی درہ چھاچھڑاورکاہاسلطان کاسیلابی ریلاکسی بھی وقت راجن پورشہرمیں مغربی طرف سے کسی بھی وقت داخل ہوسکتاہے ،جس کی وجہ راجن پورشہرکوشدیدخطرہ ہے اس لئے شہری فوراََمحفوظ مقامات پرمنتقل ہوجائیں،راجن پور مساجد میں اعلانات شروع، شہر خالی کرنے کا حکم شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ،
    <
    ڈیری غازی خان جام پور، فاضل پور اور راجنپور سمیت ملک بھر میں بارشیں اور سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری،متاثرین بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور،ڈیرہ غازی خان کوہ سلیمان فورٹ منرو میں 72 گھنٹے کی مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ایک مرتبہ پھر قومی شاہراہ N-70 راکھی گاج کے مقام پر مکمل بند،سینکڑوں گاڑیاں مسافر پھنس گئے۔اس وقت کوہ سلیمان کی تقریبا تمام رودکوہیوں میں پانی کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے باٹھی رود کوہی کا پانی اس وقت جھوک بودو کراس کر رہا ہے اور لتڑا رودکوہی کا پانی لعلانی کراس کر رہا ہے ،شمتالہ سے بھی پانی آ رہا ہے جو باٹھی رودکوہی میں شامل ہو گامٹھوان لہڑ کا پانی بھی پہلے سے زیادہ بتایا جا رہا ہے اور کنوہاں رودکوہی اس وقت کوہر کراس کر رہی ہے،درہ وڈور سے بہت بڑا سیلابی ریلا اس وقت موضع بیلہ سے گزر رہا ہے

    گدپور، لوہار والا، پائگاہ، معموری،چوٹی سیفن کے نزدیکی آبادیاں اور ٹریکٹر فیکٹری ایریا کے نشیبی علاقے سیلاب کی زدمیں آسکتے ہیں،سخی سرور کوہ سلمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ تا حال جاری ہے سخی سرور ندی سے سیلابی ریلہ گزر رہا ہے، تھانہ سخی سرور پولیس اور بارڈر ملٹری پولیس تھانہ سخی سرور کی طرف سے سیلابی ریلے ندی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ایس ایچ اوز کی جانب سے اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں جبکہ کچھ پوائنٹ پر خار دار تاریں بھی لگا دی گئی ہیں۔

  • ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،آر پی او کے حکم پرپولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم .

    ڈیرہ ریجن میں سیلاب زدہ علاقوں میں ایمر جنسی نافذ ،پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ زیر استعمال، پولیس بسیں فراہم ، آر پی او کی حکم پر ریزروہائے سمیت پولیس کی اضافی نفری تعینات،آر پی او محمد سلیم کا سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک کا قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ،بی ایم پی اور پولیس کے جوان رات بھر سے سیلابی پانی میں پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد سلیم نے ڈیرہ غازی خان کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا ۔آر پی او نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ایس پی انویسٹی گیشن ڈیرہ غازی خان غیور احمد نے سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اورمتاثرہ علاقو ں سے لوگوں کے انخلا کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا ۔

    آر پی او نے شدید بارشوں سے سیلاب کے با عث چاروں اضلاع میں ایمر جنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے ضلعی پولیس افسران کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں ۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے دوران آر پی او نے حفاظتی بندوں کا معائنہ کر کے پولیس کو حفاظتی بندوں کی نگرانی اور حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی اور حکم جاری کیا کہ غیر قانونی اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔آر پی او نے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب متاثرین کیلئے قائم ریلیف کیمپس کا دورہ کر کے متاثرین کو فراہم کردہ سہولیات اور سیکیورٹی اقداما ت کا جائزہ لیا ۔ دورہ کے دوران آر پی او نے سیلاب متاثرین سے گفتگو کر کے انکے مسائل سنے اور انہیں مسائل کے مکمل حل اور ریلیف کی فراہمی کی یقین دہائی کرائی۔ آر پی او کے احکامات کی روشنی میں ریجن بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی امدادی و ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ پولیس ٹیمیں رات بھر سے سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ آر پی او کے حکم سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں اور ان کی املاک کی منتقلی کے لیے پولیس کی تمام ٹرانسپورٹ استعمال کی جا رہی ہے ۔

    لوگوں کی منتقلی ایس ایچ اوز کی گا ڑیوں میں بھی جاری ہے اور اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے لیے پولیس بسیں بھی فراہم کی گئی ہیں ۔امدادی سر گرمیوں میں تیزی لانے کیلئے پولیس کی تمام ریزرو ہائے اور اضافی نفری متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں ۔پولیس انتظامیہ ،ریسکیو اور دیگر اداروں کے ہمراہ فرنٹ لائن پر امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شگافوں کو پر کرنے اور شاہراہوں اور راستوں کی بحالی کر رہی ہے۔

    اس کے علاوہ متاثرین کی فوری مدد اور جان ومال کے تحفظ کیلئے تمام تھانہ جات اورسرکل دفاتر میں قائم ریلیف کیمپس میں متاثرین کو منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔دوسری طرف پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک قبائلی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل اور امداد کی فراہمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں،پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے قبائلی علاقوں کے سیلابی علاقوں کا دورہ کیا،

    بارڈر ملٹری پولیس کے تمام تھانے، سکولز مراکز صحت قبائلی لوگوں کے لیے کھول دیا ہے، قبائلی علاقوں میں راستے نہ ہونے پر اونٹوں کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پولیٹیکل اسسٹنٹ کوہ سلیمان محمد اکرام ملک نے کہا بارڈر ملٹری پولیس قبائلی لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب  سے متاثرہ  تمام علاقے آفت زدہ قرار

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب سے متاثرہ تمام علاقے آفت زدہ قرار

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب سے متاثرہ تمام علاقے آفت زدہ قرار
    باغی ٹی وی رپورٹ – ڈیرہ غازیخان وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے آج جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں راجن پور او رڈی جی خان کا دورہ کیا-وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب او ربارشوں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں 8،8لاکھ روپے کی مالی امداد کے چیک تقسیم کئے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیااور متعلقہ حکام کو سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی-وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی-وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان کیا-

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے رود کوہیوں کے راستوں کو چینلائزڈ کرنے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی راجن پور کے سیلاب سے ملنے کے بعد ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے بستی چھٹانی کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کی- وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیااور ان کی دلجوئی کی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی سیلاب زدہ کی حق تلفی نہیں ہونے دینگے۔ فصل اور گھروں کے نقصانات کا جلد ازالہ کریں گے۔ میں نے آج راجن پور او رڈیرہ غازی خان کے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم کی منصوبہ بندی کیلئے پی ڈی ایم اے اور دیگر محکمے فوری کام شروع کریں گے-

    2004 میں جب سیلاب آیاتو اس وقت خواجہ صاحب مجھے یہاں لے کے آئے،میں نے اس وقت رودکوہیوں کے راستوں کو چینلائزڈ کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لئے اڑھائی ارب رکھے گئے-اس وقت ڈالر60روپے کا تھا لیکن شہباز شریف نے آکر کوئی کام نہیں کیااور15سال ضائع کئے،جس سے پراجیکٹ کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا،شہبازشریف صرف باتیں کرتے رہے، غریبوں کیلئے کچھ نہیں کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے کہاکہ ہم بغیر کسی سیاسی وابستگی سیلاب متاثرین کی خدمت کریں گے اورلوگوں کے دل جیتیں گے اور سروے کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہاں پر جتنے بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں،یہ میرے ساتھی ہیں اورسیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں پیش پیش ہیں۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے مختص 20 ارب روپے سے متاثرہ علاقوں میں فوری کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہاکہ شادن لنڈ فوڈ سنٹر اور گندم زیر آب والے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی۔اراکین اسمبلی سردار محمد خان لغاری،خواجہ شیراز محمود، محمد حنیف پتافی،خواجہ داؤد سلیمانی، سردار سیف الدین خان کھوسہ،جاوید اختر لنڈ، سردار محی الدین خان کھوسہ، سردار محمد سیف الدین خان کھوسہ،کمشنر ڈیرہ غازی خان اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • ڈیرہ غازی خان  ۔  ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے

    ڈیرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے

    ڈیرہ غازی خان ۔ ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سیلاب زدگان سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے ،انہوں نے کہا کہ ہم ہرممکن کوشش کررہے ہیں کہ آپ کے نقصان اور مشکلات کا ازالہ کرسکیں ،آپ کی فصلات اور مکانات کے نقصان کاجائزہ لے رہے ہیں وہ بھی ہم آپ کو دیں گے لیکن جن کے پیارے جن میں کسی کی بہن فوت ہوئی کسی کابیٹا،بھائی ،باپ یا خاوند دنیاکی کوئی طاقت انہیں واپس نہیں لاسکتی ،ان کیلئے ہم سب دعاکرسکتے ہیں ،یہ الفاظ کہتے ہوئے دکھ سے ڈی سی ڈیرہ غازیخان محمد انور بریارکی آوازبھراگئی،ڈیرہ غازیخان سے باغی ٹی وی کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نے کیا کہا

  • ڈیرہ ۔کوہ سلیمان، سیلاب سے  ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    ڈیرہ ۔کوہ سلیمان، سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    ڈیرہ۔کوہ سلیمان سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری،50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ،150مواضعات کی تین سو کے قریب بستیاں متاثر، سینکڑوں مال مویشی ہلاک،سیلابی پانی سے 10 افراد جاں بحق جن میں چار بچے دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ذرائع کاکہنا ہے کہ اموات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کی راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت۔

    باغی ٹی وی رپورٹ۔ ڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان کی رود کوہیوں کے سیلاب کی اب تک کی رپورٹ کے مطابق کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے پہاڑی ندی نالوں میں شدید طغیانی آئی ہے ۔25جولائی سے اب تک 400فیصدزیادہ بارش ہوچکی ہے رود کوہی سنگھڑ ،تونسہ، درہ ٹرائیبل ایریا ، مٹھاون، وڈور ، سخی سرور، رونگھن، سوڑا ٹرائبل ایریا(ڈیرہ غازی خان)کاہا سلطان راجن پور و دیگر ندی نالوں میں شدید طغیانی آئی ہے۔پہاڑی ندی نالوں کے پانی نے ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ کی یونین کونسل وہوا ، احمدانی، سوکڑ، منگڑوٹھہ اور تحصیل ڈیرہ غازیخان کی یونین کونسل شادن لنڈ ،کالا، چھابری زیریں ، وڈور ، پائیگاں،لوہار والا،چٹ سرکانی، گدائی غربی اور تحصیل کوٹ چھٹہ کی یونین کونسل درخواست جمال خان جنوبی ،شمالی پہاڑی ندی نالوں کے پانی متاثر ہوئیں ۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے فراہم کی گئیں سرکاری معلومات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی ایک لاکھ ایکڑ اراضی زیر آب آچکی ہے ۔

    شدید طغیانی کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان کے 150مواضعات کی تین سو کے قریب بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے مطابق سیلابی پانی سے 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں چار بچے دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ذرائع کاکہنا ہے کہ اموات اس سے کہیں زیادہ ہیں،سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ایکڑ رقبہ سیلابی پانی سے زیر آب آگیا جبکہ 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ سرکاری جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان کی ایک لاکھ آبادی متاثر ہوئی جبکہ مقامی ذرائع سے اکٹھی کی گئی معلومات کے مطابق سرکاری اعداد وشمار سے بہت زیادہ آبادی رود کوہی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔

    ضلع ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ ، کوٹ چھٹہ اور ڈیرہ غازی خان میںپانچ ہزار کے قریب گھروںکو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں ان میں کچے مکانات 90 فیصد ہیں جو مکمل طورتباہ ہوچکے جو اب رہائش کے قابل نہیں رہے جبکہ مکانات سے متعلق سرکاری طور پر اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان انور بریار کے مطابق متاثرین کیلئے 14ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں، رودکوہیوں کے متاثرہ علاقوں میں اب تک 500خیمے پہنچائے گئے ہیں جبکہ مزید 500خیمے بھی بھجوا دیئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا ہے کہ متاثرین میں اب تک 400 ٹینٹ،500چٹائیاں،200مچھر دانیاں بھی تقسیم کی جاچکی ہیں۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک متاثرہ علاقوں میں 1500سیلاب زدگان کو ریسکیو کیا گیاہے۔دوسری طرف وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے راجن پور، روجھان اور تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے انہوں نے کہاکہ سیلاب متاثرین کو ریلیف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،متاثرہ افراد کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا مکمل خیال رکھا جائے،متاثرہ دیہات میں امدادی کیمپوں میں تمام ضروری اشیا وافر تعداد میں موجود ہونی چاہئیں،وزیرااعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی نے مزیدکہاکہ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگائیں ،آفیسران اور متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کیلئے کمربستہ ہو جائیں،انہوں نے کہا کہ متاثرہونے والے دیہات کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،متاثرہ افراد کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔

  • ڈیرہ : بستی عطا محمد تالپور میں مسلسل بارش سے فلڈ کا سماں،بارش کے پانی سے گھر،فصلات متاثر،کئی گھراورچاردیواریاں زمین بوس

    ڈیرہ : بستی عطا محمد تالپور میں مسلسل بارش سے فلڈ کا سماں،بارش کے پانی سے گھر،فصلات متاثر،کئی گھراورچاردیواریاں زمین بوس

    ڈیرہ : بستی عطا محمدتالپورمیں مسلسل بارش سے فلڈ کاسماں،بارش کے پانی سے گھر،فصلات متاثر،کئی گھراورچاردیواریاں زمین بوس،سرکاری سطح پر کوئی اقدام نہیں کئے جارہے لوگ اپنی مددآپ کے تحت پانی نکا لنے کی کوشش میں مصروف،اہل علاقہ سراپا احتجاج۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ کے علاقہ بستی عطا محمدتالپورمیں تین دن سے ہونیوالی باران رحمت لوگوں کیلئے زحمت بن گئی ہے،بارش کے پانی نے سیلابی ریلے کی شکل اختیارکرلی اورپانی کی سطح اس وقت چھ سے سات فٹ ریکارڈ کی جارہی ہے جوانتہائی خطرناک ہے بستی عطا محمدخان تالپورشدیدمتاثرہوچکی ہے اورپانی گھروں میں داخل ہوچکاہے

    علاقہ مکینوں کاکہناہے کہ ضلعی وتحصیل انتظامیہ کی مکمل چشم پوشی سے غریب عوام کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جن کے گھر فصلات سب کچھ ڈوب گیا ہے مال مویشی اب روڈپرنکالناشروع کردیاگیاہے مگرسرکاری مشینری صرف دفتروں تک محدودہے ، ایسی مشینری سے بہترہے کہ حکومت اتنی بڑی رقم کسی ایسی جگہ خرچ کرلے جہاں کم از کم عوام کو فائدہ ہو۔ایسے میں لوگ شدیدپریشانی کے عالم میں ہیں بارشی پانی نے علاقہ کوچاروں طرف سے گھیررکھاہے اور اوپر سے بارش مزیدبرس رہی ہے جوزیادہ خطرناک ثابت ہورہی ہے اس لیے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ فوری طور پر پانی کی نکاسی کیلئے بستی عطا محمدتالپورمیںاقدامات کرے اورلوگوں کے گھروں اورفصلات کومزیدتباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔

  • کوہ سلیمان اور میدانی علاقوں میں مزید بارش، جاں بحق افراد کی تعداد ایک درجن سے زائد ہوگئی

    ڈیرہ غازی خان کوہ سلیمان اور میدانی علاقوں میں مزید بارش، جاں بحق افراد کی تعداد ایک درجن سے تجاوزکرگئی ہے ،سینکڑوں جانورہلاک،کئی ہزار ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلات مکمل تباہ ، 30ہزارسے لوگ بے گھرہوگئے ہیں۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں رات گئے کوہ سلیمان میں بارش مقامی ذرائع کے مطابق زندہ پیر سوری لنڈ ندی میں ایک بار پھر طغیانی آگئی ،اب تک سوری لنڈ رود کوہی سیلابی ریلے سے درجن سے افراد جاںبحق ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں جانورہلاک اور کئی ہزار ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلات مکمل تباہ ہوگئیں، 30ہزارسے لوگ بے گھر، خیموں ،خوراک اور ادویات کی قلت ،حکومتی اقدامات ناکافی ہیں.

    ،ریسکیو1122کے علاوہ باقی تمام محکموں آفیسران فوٹو شوٹ میں مصروف دکھائی دیتے ہیںاور مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین آسمان کی طرف ہاتھ اورجھولیاں اٹھائے ہوئے ہیں،تازہ آنے والی بارش سے تونسہ شریف میں بیچھرہ گیپ میں ایک بار پھر پانی آ گیا جس کے باعث راستہ پھر سے بند ہو گیا ہے،تونسہ کی بستی غلامانی موضع پڑدان غربی کوٹ کھوئی بند کے ٹوٹنے سے سے مویشی پانی لے گیا اور مکانات گر گئے ہیں ، بستی احمدانی، پل قمبر ، مکول کلاں، چوکیوالا ، بودو ،مناں ،کوٹلہ میرانی ،بستی حبیب،بیٹ اشرف، جڑھ لغاری اور درجنوں علاقے سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں،سیلابی ریلے سے ایک ہی خاندان کے مزید تین افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جبکہ اسی گھر کے تین افراد ابھی تک لاپتہ ہیں ، جاں بحق افراد کی تعداد ایک درجن سے تجاوزکرچکی ہے۔تونسہ شریف میںبستی مندرانی کے ساتھ سنگھڑ بند ٹوٹنے کا خدشہ ہے جس سے سوکڑ، بغلانی اورکھیوے والی کی آبادی کو شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے جبکہ انتظامیہ نے اس بند کوبچانے کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے ۔

    اس وقت تحصیل ڈیرہ غازیخان کے علاقے یارو کھوسہ ،وڈور،لوہار والا سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ،ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ کے علاقہ چو ٹی زیرین میں واقع سیم نالہ کپر ڈرین بستی قاضی والہ پرسیلابی ریلے میں11سالہ لڑکا الیاس صادق ولد صادق حسین برمانی بستی دورٹہ کا رہائشی پانی میں گر گیاجسے ریسکیو1122 نے بے ہوشی کی حالت میں تلاش کر لیا ہے لیکن وہ جانبرنہ ہوسکا۔اسی طرح بستی تالپور ودیگرعلاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ،مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ آفیسران پکے روڈوں پر گشت کررہے ہیں لیکن عملی طور کوئی خاطرخواہ ریلیف یاامدادی سرگرمی دیکھے کونہیں ملی۔

    دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی ہدایت پر ڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں کی سرکاری عمارتیں فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل کردی گئیں۔کمشنر عثمان انور نے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کئے اور ڈی جی خان اور راجنپور میں رود کوہیوں کے سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لیا۔کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بروقت انتظامی مشینری متحرک کی۔انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں 24 گھنٹے سیلاب زدہ علاقوں میں موجود رہیں۔پی ڈی ایم اے ،پولیس اور دیگر محکموں کی مکمل سپورٹ رہی۔

    بروقت اقدامات سے کم سے کم نقصان رپورٹ ہوا۔ڈی جی خان اور راجنپور میں رود کوہیوں کے سیلاب کا اب کوئی مسئلہ نہیں۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ سیلاب زدگان امدادی کارروائیوں سے مطمئن ہیں۔تخمینہ شروع کردیا ہے،نقصانات کا ازالہ کرایا جائے گا۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ رود کوہیوں کے سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔فلڈ ریلیف کیمپس میں میڈیکل اور وٹرنری کیمپس بھی فعال ہیں۔انسانوں کے علاج معالجہ اور مویشیوں کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔علاوہ ازیں کمشنر عثمان انور نے رات گئے پل قمبر کے نزدیک فلڈ ریلیف کیمپس کا دورہ کیا اور سہولیات کا جائزہ لیا۔

    فلڈ ریلیف کیمپس میں مقیم سیلاب زدگان سے معلومات لیں۔اسسٹنٹ کمشنر تونسہ محمد اسد چانڈیہ اور دیگر نے بریفنگ دی۔کمشنر نے کہا کہ مصیبت میں گھرے سیلاب زدگان کی ہرممکن معاونت کی جائے۔فلڈ ریلیف کیمپس میں سہولیات کا خیال رکھا جائے۔فلڈ ریلیف کیمپس میں مقیم سیلاب زدگان کو معیاری کھانا دیا جائے۔فلڈ ریلیف کیمپس کے نزدیک میڈیکل،وٹرنری کیمپ یقینی بنائے جائیں۔فلڈ ریلیف کیمپس میں مقیم خاندانوں کی سکیورٹی بھی بہتر ہونی چائیے۔

  • کوہ سلیمان برساتی نالوں نے تباہی مچادی ، انڈس ہائی وے پانی میں بہہ گئی،3جاں بحق،متعدد زخمی ولاپتہ

    کوہ سلیمان برساتی نالوں نے تباہی مچادی ، انڈس ہائی وے پانی میں بہہ گئی،3جاں بحق،متعدد زخمی ولاپتہ

    کوہ سلیمان برساتی نالے بے قابو، انڈس ہائی وے پانی میں بہہ گیا،3جاں بحق،متعدد افراد زخمی ولاپتہ ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں کوہ سلیمان پربارش برسنے سے پہاڑی ندی نالے بے قابوہوگئے،چوکی والہ کے قریب انڈس ہائی وے پانی میں بہہ گیابین الصوبائی ٹریفک کی روانی معطل،3جاں بحق،متعدد زخمی ولاپتہ گھر،مال مویشی فصلات سب سیلاب کی نظر ہوگئے ہیں جبکہ تین جاں بحق افراد میں آمنہ بی بی زوجہ خادم حسین بعمر40سال سکنہ زندہ پیرموڑ تونسہ شریف،خلیل احمدولدغلام رسول بعمر50سال بستی چھٹانی تونسہ شریف اور پروین بی بی دخترحسین بعمر7سال بستی لاشاری تونسہ شریف سیلابی ریلے میں ڈوب کرجاں بحق ہوگئے۔ابتک موصولہ رپورٹ کے مطابق سیلابی ریلے سے بستی چھٹانی موضع سنجر حیدروالی کے آٹھ افراد آمنہ بی بی ، حسینہ بی بی ، رشیدہ بی بی ، منیر ، تگو بی بی ، سلمی بی بی ، بشری بی بی ، عیسی خان کے لاپتہ ہونے کاخدشہ ظاہر کیاگیاہے

    .ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈیرہ غازیخان ڈاکٹر نیئر عالم نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان پر حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے مختلف علاقے زیر آب آ گئے ہیں اور پل قمبر ، بستی احمدانی ، بستی لاشاری ، زندہ پیر موڑ ، چوکی والا ، مکول اور انڈس ہائی وے کے علاقوں میں112 ریسکیورز چودہ کشتیوں کے ساتھ ریلیف آپریشن کر رہے ہیں. انہوںنے بتایاکہ اب تک سیلاب میں گھرے 421افراد کو ریسکیو کیاگیا 720افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا اسی طرح بیس مویشیوں کو بھی ریسکیو کیاگیا . تین افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی . انہوںنے بتایاکہ ریسکیو ریلیف آپریشن جاری ہے اور ریجنل ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات براہ راست نگرانی کر رہے ہیں .

    رکن صوبائی اسمبلی ڈیر ہ غازیخان محمد حنیف پتافی نے کہاہے کہ سیلاب قدرتی آفت اور اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے . انتظامیہ کے ساتھ مل کرریسکیو آپریشن مکمل کرنے کے بعد سروے کر کے نقصانات کا ازالہ کرایا جائے گا. انہوںنے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان سیلاب زدہ علاقوں بستی ملنگا ، بستی گل محمد ، بستی احمدانی ، پل قمبر، بستی لاشاری ، زندہ پیر موڑ ، چوکی والا ، مکول، لوہار والا، انڈس ہائی وے ، چٹ سرکانی اورد یگر علاقوں کے سیلاب زدگان کو تنہا نہ چھوڑا جائے . فلڈ ریلیف کیمپس میں ہر ممکن سہولیات کے ساتھ سکیورٹی کے ہرممکن اقدامات کیے جائیں ۔

    سول ڈیفنس آفیسر ڈیرہ غازیخان خالد کریم نے کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر و کنٹرولرسول ڈیفنس کی ہدایت پر افسران ، سٹاف اور رضا کاران پل قمبر ، بستی احمدانی، وڈور اور دیگر علاقوں میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ میں فرائض انجام دے رہے ہیں. سول ڈیفنس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سیلاب زدگان میں چٹائیاں ، ترپال ،د ریاں ، مویشیوں کیلئے چارہ تقسیم کرنے کے ساتھ دیگر امدادی کام میں مصروف ہیں . سول ڈیفنس ہر مشکل گھڑی میں سیلاب زدگان کی ہر ممکن معاونت کیلئے موجودہے . اسی طرح ڈیرہ غازیخان میں بارشوں اور رودکوہیوں کے سیلابی پانی کی تباہ کاریوں کے بعد امدادی کام جاری ہے متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی کا عمل بھی جاری ہے . ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سمیت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ،اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام محکموں کے افسران متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم ہیں .ریلیف کیمپوں میں سہولیات کی فراہمی کے بعدسڑکوں اور اونچی جگہوں پر پناہ لینے والے متاثرین اور ان کے مال مویشیوں کیلئے ترپالوں کی فراہمی اور ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے .

    جبکہ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام متاثرہ علاقوں میں خیمے بھی لگا دیئے گئے ہیں اسی طرح گزشتہ رات بھی خدمت خلق کا مشن جاری رہا ڈی جی خان کے مصیبت زدہ بے گھر خاندان پنجاب حکومت کے مہمان بنے اورڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد انور بریار نے خلوص دل سے سیلاب زدگان کی میزبانی کی . تونسہ تحصیل کے سیلاب زدگان کیلئے ریلیف کیمپس میں ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں اورفلڈ ریلیف کیمپس میں بجلی کے متبادل انتظام کیلئے جنریٹرز اور وافر مقدار ایندھن فراہم کیا گیا .ریلیف کیمپس میں مقیم خاندانوں کیلئے پنکھے اور تیار خوراک فراہم کی گئی ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے خود سیلاب زدگان میں کھانا تقسیم کیا . سول ڈیفنس،ہیلتھ،ریونیو اور دیگر محکموں کے ملازمین فلڈ ریلیف کیمپس میں تعینات تھے . ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ مصیبت میں گھرے سیلاب زدگان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،فلڈ ریلیف کیمپس میں گھر جیسی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے، پہلے دن کی خامیوں کو اگلے دن نہیں دہرایا جائے گا،کم وقت میں زیادہ وسائل اور سہولیات کی فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں .

    اُدھرریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد سلیم کے احکامات پر ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔سیلاب زدہ علاقوں میں پولیس لوگوں کی مدد کرنے اورانہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف عمل ہے ۔آر پی او کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی سربراہان کی زیرنگرانی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی جان ومال اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔متاثرہ علاقوں میں پولیس لوگوں کو بروقت آگاہ کرنے اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلیے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کررہی ہے۔ فلڈریلیف کمیپ میں موجود متاثرین اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے پولیس کی جانب سے موثراقدامات کیے گئے ہیں ۔سیلاب زدہ علاقوں میں سٹرکوں کی بندش کے پیش نظر گاڑیوں کو متبادل راستہ سے گزارنے کیلیے پولیس کی جانب سے مسافروں ٹرانسپورٹر حضرات کو بروقت آگاہ کیاجارہا ہے ۔آر پی او کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیلاب زدہ علاقوں میں ہمہ وقت الرٹ رہنے کی سخت ہدایت جاری کردی ہیں۔امدادی سرگرمیوں اور سیکورٹی کا جائزہ لینے کیلیے آر پی او آفس میں ایمر جنسی کنٹرول روم قائم ہے۔کسی بھی ایمرجنسی میں 15یا کنٹرول روم 0649260479 پر رابطہ کرسکتے ہیں ۔پولیس کسی بھی ایمرجنسی یا ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلیئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ سیلاب سے متاثرین کی امداد میں تمام وسائل بروئے کارلائے جارہیے ہیں