Baaghi TV

Category: کشمیر

  • وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر  ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر

    تقسیم پاکستان سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں
    یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا-

    26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سودکسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے اب تک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان تیرا میرا رشتہ کیا ؟لا الہ الا اللہ

    یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیرکا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا-

    21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوااس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے-

    بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے-

    پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں-

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی دہشت گردی جاری، مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سری نگر میں مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج نے دو نوجوانوں کو ضلع سری نگر کے علاقے زکورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا ہے بھارتی قابض افواج نے علاقے کی تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی اور موبائل فو ن انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے جس کا مقصد بھارتی فوج کے مظالم کا شکار کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی اور اس بات کا عزم ہے کہ پوری پاکستانی قوم ان کے حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

    پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے ،صدرمملکت، مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں…

    یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا جا رہا ہےکوہالہ پُل پر انسانی ہاتھوں کی سب سے بڑی زنجیر بنائی جائے گی جبکہ مرکزی تقریب منگلا پل میر پور آزاد کشمیر میں ہوگی۔

    تقاریب میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا جبکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی تقاریب منعقد ہوں گی، تقاریب میں بیرون ملک مقیم پاکستانی دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کریں گے۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں…

  • بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید کی گئی ہے

    بی جے پی حکومت نے پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے غیر قانونی اقدام پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سپریا سَلی ممبر لوک سبھا کے مطابق حکومتی بلوں میں کشمیر کو شامل نہ کرنا متعصبانہ رویہ ہے کانگریس ممبر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بھارتی کالے قانون نے بھارتی جمہوریت کو بے نقاب کر دیا ہے، نیشنل کانگریس کے لیڈر مصطفیٰ کمال نے بھارت کے اس اقدام کو آئین کی نفی قرار دیا کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کی حقیقی صورتحال پر سوال اُٹھائے ہیں پریانکا گاندھی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا

    نوبل انعام یافتہ امریتہ سین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ تمام انسانوں کے حقوق کو برقرار رکھا جائے مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کے بغیر بھی کشمیر کی کوئی قرار داد ہو گی ، بھارتی سکالر ننوت چڈھا بہیرا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری اُصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے،زیادہ پریشان کُن بات ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ؟،فیڈرلزم کے حق میں بہت کم لوگ ہیں، جو بھارت کی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور قوم حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5 فروری یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے متعلق حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا، کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل پاکستان کا حتمی مقصد ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے مسائل میں سے ایک ہے، بھارتی ہٹ دھرمی، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنازع حل نہ ہو سکا کشمیری عوام گزشتہ 7 دہائی سے مشکل حالات، دہشت اور ظلم کے خلاف برسرِپیکار ہیں جبکہ بھارت کشمیرمیں غیر انسانی حربے، سفاکانہ قوانین اور ریاستی دہشت گردی کا استعمال کر رہا ہے۔

    صدرمملکت نے کشمیریوں کو خودارادیت کے جائز حق کے لیے بے مثال عزم پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جبر، ناجائز قبضے کے خلاف جرات مندانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت حراستی تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور گھروں کو مسمار کرنے میں ملوث ہے، 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کی کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔


    دوسری جانب یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہے اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد کے لیے پرعزم ہے۔ مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں کشمیر میں کشمیریوں کی مزاحمت کے جذبے کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے جس میں انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جبری آبادیاتی تبدیلی کا خطرہ بھی شامل ہے۔ یہ سب جنیوا کنونشنز کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی حالت زار اور بھارتی ریاست کے ظالمانہ فوجی قبضے سے خود کو آزاد کرانے کی ان کی ناقابل تردید خواہش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیامیں امن و ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا 5اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے،آج کشمیری شہداکو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،فلسطین اورکشمیر تنازعات اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے چیلنج ہیں تنازعات کے حل تک اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل یقینی بنانا ہوگا،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا،حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل رہے گیمسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور عالمی ضمیر پر بوجھ ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام ہوا ہے، عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی،اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی، تو مودی کے دانت کھٹے کر دیئے ہوتے،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ حقِ خودارادیت اہلِ کشمیر کا بنیادی حق ہے،پاکستان پورے عزم و استقلال سے کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا ہے، مودی کی ہندوتوا سرکار جذبہ حریت دبانے کیلئے جبر و بربریت میں شدت لائی، کشمیر پر دائمی قبضے کی مودی کی کوشش نے کشمیریوں کی مزاحمت میں نئی روح پھونکی ، اقوام عالم مقبوضہ وادی میں بھارتی وحشت و بربریت کے تدارک کیلئے اقدام کریں،

    ‏اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ریلی نکالی گئی.ریلی کی قیادت صدر مملکت عارف علوی نے کی،ریلی میں وفاقی وزرااوردیگر حکا م بھی شریک‏ تھے ریلی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ شریک‏ تھے ریلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ریلی میں شرکت کی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک پوری قوم کشمیروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5اگست 2019کا بھارتی غیر قانونی اقدام جمہوریت کے منہ پر کالا نشان بن گیا ہے۔ نریندرمودی کو 5اگست 2019کے مقبوضہ کشمیر کے لئے غیر قانونی اقدام کو واپس لینا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام عالم کو اقدامات اٹھانے ہونگے۔بھارت نے 5اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کی مثا لیں قائم کی۔ کشمیری نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو قید و بند کیا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے نریندر مودی نے ہر اوچھے ہتھکنڈا استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔ کشمیر پاکستان کا حصہ اور شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا استعمال بند کرے۔ کشمیر ی عوام کی جرات مندانہ جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا۔

  • :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    آج ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ آج پھر سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں اوراحتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ کئی کلو میٹر کی ہاتھوں کی زنجیریں بنیں گی۔ چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی مظالم کے خلاف جلسے اور جلوس ہوں گے ۔

    تفصیلات کے مطابق آج 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا
    اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستانی کی شہ رگ ہے۔

    ہر سال 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاہم رواں سال اس کی اہمیت بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے، واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا تھا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے اسے 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ سال 31 اکتوبر سے ہوگیا تھا، ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو 5 اگست سے اب تک جاری ہے جبکہ وہاں کے عوام کو مواصلاتی نظام کی بندش کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے اور شہری اپنے اہلخانہ سے رابطہ قائم کرنے سے محروم ہوگئے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ خطے میں محدود موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس کو عارضی طور پر بحال کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام کو مشکلات ہیں۔

    آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک کئمے مختلف شہروں میں ریلیوں، جلسوں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف

    اج پانچ فروری2022 کو 32 واں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے اور اکتیس برس گزرنے کے بعد آج تحریک آزادی کشمیر ایک فیصلہ کن اور انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج پورے ملک میں سرکاری طور پر تعطیل منائی جا رہی ہے۔ایک طرف ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف کشمیر میں جاری بدترین کرفیو اور لاک ڈائون ہے اور ہماری شہہ رگ ہمارے روایتی اور ازلی دشمن کے پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہم صرف احتجاجی مظاہرے اور سیمیناز منعقد کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فریضہ انجام دے دیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف صرف قرار دادیں منظور کی جائیں اور دوسری طرف روزانہ سرکٹوائے جائیں؟ ایک طرف مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف کشمیری کئی برسوں سے بھارتی محاصرے اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یقیناً پاکستان کی 22 کروڑ عوام کی موجودگی میں کشمیر کا کوئی سودا نہیں ہو سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن کویکجہتی کشمیر سے منسوب کر کے ہم نے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں؟کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ اس پر سوچنا ہو گا، کیونکہ آج پھر پانچ فروری ہے۔ آج کا دن بھی گزر جائے گا، لیکن انتظار اس دن کا ہے ،جب کشمیریوں کو آزادی ملے گی اور کشمیرمیں جاری ظلم کا خاتمہ ہو گا۔

  • سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور
    کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے سینیٹ کا خصوصی اجلاس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا

    قائد ایوان شہزاد وسیم نے معمول کا ایجنڈا معطل کرنے اور کشمیر پر بحث کی تحریک پیش کردی چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تحریک منطور کرلی. چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ آج کا سیشن صرف کشمیر پر بات کیلئے رکھا ہے،پارلیمانی لیڈرز 8 سے 10 منٹ اور باقی ارکان بھی بات کریں، سینیٹ اجلاس میں پنجگور، نوشکی دہشتگردی واقعے میں شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی وفاقی وزیر علی زیدی کے والد کےلیے بھی سینیٹ اجلاس کے دوران فاتحہ خوانی کی گئی

    قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیریوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں،میں پوری اپوزیشن کی جانب سے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کرتا ہوں،تقریبا 7دہائیوں سے بھارت کشمیریوں پر ظلم کرتا آ رہا ہے مسلسل بھارت یہ مظالم کرتا آرہا ہے،بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب عروج پر ہیں

    قائد ایوان شہزاد وسیم نے ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل پوری قوم یوم یکجہتی کشمیر منائے گی،ایوان بالاسے کشمیریوں کیلئے آج ایک مشترکہ آواز جائے گی پہلے دن سے بھارتی فوج کا قبضہ کشمیر پر جاری ہے آج پورا کشمیر بھارت کی جبری جیل بن چکا ہے،اسرائیلی طرز پر غیر کشمیریوں کو بسانے کی کوشش کی گئی،آج 42 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری ہو چکے،وزیر اعظم نے مظفر آباد میں کھڑے میں ہو کر کشمیر کی آواز بلند کی،وزیر اعظم نے کشمیر کا سفیر بن کر پوری دنیا کو دکھایا،

    سینیٹر عبدالغفور حیدری نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایشو پر حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں ٹرمپ کے سامنے وزیراعظم ہاتھ باندھ کر کھڑے رہے وزیراعظم نے کہا تھا مودی اقتدار میں آئے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا ، کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے حکومت دکھاوا کر رہی ہے پی ٹی آئی رہنما کشمیری قوم کے مجرم ہیں انہوں نے کشمیر کو بیچا ہے،کشمیر کمیٹی کی صرف سفارشات ہوتی تھیں اس سے آگے کیا ہوتا ہے،

    سینیٹر اعجاز چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں، سب یاد ہے ہمیں کہ کشمیر کے لئے انہوں نے کیا کیا ، آج تک کسی حریت رہنما نے پاکستان کی جدوجہد پر اعتراض نہیں کیا، ہمارے اندر اتحاد کیوں نہیں، کشمیر پر بات کرتے ہوئے ہم الجھ جاتے ہیں، کیوں؟ مودی سے ذاتی تعلق کس کا ہے ؟ عمران خان تو اسکے سامنے کھڑا ہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے،کامیابی جدوجہد سے ملتی ہے، ہم امن کے گیت گاتے ہیں، کیسا امن، سوا ارب لوگوں کی منڈی بھارت ہے، ہم امن کے گیت گاتے رہیں گے، بہت گا لئے امن کے گیت، سینیٹ کو وفود بنا کر دنیا میں بھیجنے چاہئے تو اراکین پارلیمنٹ، عوام سے مخاطب ہوں اور کشمیر کے مقدمے کو جس طرح لڑا جانا چاہئے اسکا حق ادا کریں، بھارت کو مجبور کرنا چاہئے کہ جو خصوصی حیثیت کشمیر کی ختم کی اسکو دوبارہ لے کر آئے،

    مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل کرانے میں ناکام رہی ہے ،پاکستان پر جنگیں مسلط کی گئیں ، با مقصد مذاکرات کے تیار ہیں، کشمیر ایشو پر سینیٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے،

    سینیٹ اجلاس، سینیٹر کرشنا کو بطور ہندو رکن اعزازی طور پرچیئر کے فرائض سونپ دئیے گئے ،سینیٹر کرشنا کا کہنا تھا کہ بطور ہندو رکن کشمیریوں پر بھارتی بربریت کی مذ مت کرتی ہوں ، سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ آج پوری دنیا پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھ رہی ہے کہ ایک ہندو خاتون رکن سینیٹ پاکستان میں کشمیر پر سینیٹ اجلاس کی صدارت کررہی ہیں جبکہ دوسری طرف مودی کا مکروہ چہرہ ہے جو کشمیر پر ظلم و جبر اور ہندوستان میں تمام اقلیتوں کیساتھ متعصبانہ رویہ رواں رکھے ہوئے ہے

    جماعت اسلامی کے رکن سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پالیسی بہت کمزور ہے،کشمیر ایشو پر ہمیں واضح روڈ میپ دینا ہوگا،کشمیر پالیسی کو مؤثر کیا جائے،او آئی سی سے رابطہ کرکے کشمیر پالیسی کو جاندار کیا جائے،مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے

    سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بھارتی مظالم پرعالمی ادارے خاموش ہیں،مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے عصمت دری جاری ہے، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے او آئی سی اپنا کردار ادا نہیں کررہی، بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کرتے ہیں وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے،اگرحملوں میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ ہے تو ہم مذکرات کیوں کررہے ہیں؟ جب ٹی ٹی پی سیز فائر پر قائم نہیں تو ہم ان سے کیوں بات کررہے ہیں؟

    سینیٹ اجلاس، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی گئی،قرارداد ایوان میں وزیر مملکت علی محمد خان نے پیش کی ،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کی مذمت کرتا ہے،قرارداد میں انسانی بنیادی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے ،علی محمد خان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی آزادی کےلئے جدوجہدبہت طویل ہے ،
    مقبوضہ کشمیرمیں خواتین کوزیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،5 اگست کے بھارتی اقدامات کی مذمت کرتے ہیں،مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کا معاملہ ہے،

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

  • وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن    :وادی کشمیرمیں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں

    وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن :وادی کشمیرمیں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں

    سرینگر:وزیراعظم عمران خان کشمیریوں کےدلوں کی دھڑکن:مقبوضہ وادی میں عمران خان کی تصاویروالےپوسٹرچسپاں ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں قائد اعظم محمد علی جناح، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی تصاویر والے پوسٹرز وادی کشمیر میں آویزاں کئے گئے ہیں۔

     

     

    یہ پوسٹرز کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہرسال 5 فروری کوپاکستان ، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں منائے جانیوالے یوم یکجہتی کشمیر سے قبل مقبوضہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں چسپاں کئے گئے ہیں۔سرینگر سمیت وادی کے بیشتر حصوں میں چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیریوں کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنے پر پاکستان کے عوام، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کاشکریہ ادا کیا گیا ہے۔پوسٹروں میں بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک اپنی حق پر مبنی جدوجہد جاری رکھنے کے کشمیری عوام کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔

     

    واضح رہے کہ یوم یکجہتی کشمیر پہلی مرتبہ 5فروری 1991کو منایا گیا جب پاکستان کی پوری سیاسی قیادت نے متفقہ طور پر بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیاتھا۔

    یہ بھی یاد رہےکہ عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کےلیے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ ، اوآئی سی اور دیگرعالمی فورمز پر کیس لڑا ، یہی وجہ ہےکہ کشمیری وزیراعطم عمران خان کو سفیر کشمیر کے نام سے یاد کرتے ہیں‌

  • 2024 تک آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا،مودی سرکار کے مرکزی وزیرکی ہرزہ سرائی

    2024 تک آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا،مودی سرکار کے مرکزی وزیرکی ہرزہ سرائی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کے مرکزی وزیر کپل پاٹل نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی آلو پیاز کی قیمتیں طے کرنے نہیں آیا، ایسے لگ رہا ہے کہ آزاد کشمیر بھی اگلے دو برسوں میں بھارت کا حصہ بن جائے گا

    بھارتی حکومت کے وزیر کپل پاٹل کا آزاد کشمیر کے حوالہ سے بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ماہ فروری شروع ہونے والا ہے اور پاکستان میں ہانچ فروری کو نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک بھی پاکستانی یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں، کپل پاٹل نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور کہا کہ مودی پیاز آلو کی قیمت طے کرنے نہیں آٰیا بلکہ بڑا مشن لے کر آیا، دیکھیں گے 2024 تک آزاد کشمیر بھی بھارت کا حصہ ہو گا،

    کپل پاٹل کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا رونا رونے والی بھارتی عوام سات آٹھ سو کا پیزا خرید کر کھا لیتی ہے ،سات سو کا مٹن لے لیتے ہیں لیکن دس بیس روپےکے آلو پیار پر مہنگائی مہنگائی کا شور مچایا جاتا ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مودی آلو پیاز کی قیمتیں طے کرے گا تو ایسا ہر گز نہیں، امت شاہ اور مودی دونوں جو کر رہے ہیں انہیں وہ کرنے دو،مودی کی ہی بھارت کا وزیراعظم رہنا چاہئے، ہم مودی سے اچھی امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں ،مودی نے سی اے اے (شہریت ترمیم قانون )، آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی بیشتر دفعات کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ شاید 2024 تک پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر بھی بھارت کا حصہ ہو گا

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہو،ماضی میں بھی بھارت ایسے دعوے کرتا رہا ہے جسے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی دنیا نے بھی مسترد کیا ہے،بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ بھی ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہہ چکے کہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور ہم اسے کر لے رہیں گے، اپنی اس بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ہم آزاد کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، مودی سرکار نے کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35 اے ہٹا کر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ بنا دیا

    مقبوضہ کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان پہلے صرف عسکریت پسند بھیجتا تھا اب اس نے کورونا وائرس کے مریضوں کو بھی بھیجنا شروع کردیا ہے۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    کرونا لاک ڈاؤن، مودی کے بھارت میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

  • بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،جیش محمد کے کمانڈر زاہد وانی سمیت پانچ حریت پسند شہید

    بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی جاری،جیش محمد کے کمانڈر زاہد وانی سمیت پانچ حریت پسند شہید

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی قابض فوج نے جیش محمد کے کمانڈر زاہد وانی سمیت پانچ حریت پسند کشمیریوں کو شہید کر دیا-

    باغی ٹی وی : ہفتہ کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے پلوامہ اور بڈگام اضلاع میں فورسز کے ساتھ دو الگ الگ واقعات میں لشکر طیبہ اور جیش محمد سے وابستہ پانچ حریت پسندوں کو شہید کر دیا گیا جن میں میں ایک جیش محمد کے کمانڈر بھی ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے اتوار کو کہا کہ جیش کمانڈر زاہد وانی سمیت پانچ حریت پسند گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران دو انکاونٹرزمیں شہید کئے گئے۔

    مقبوضہ کشمیرمیں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی

    پولیس کے مطابق، پلوامہ ضلع کے نائرہ علاقے میں فورسز اور حریت پسندوں کے درمیان ہونے والے ایک تصادم میں چار حریت پسند شہید ہوئے۔

    کشمیر زون پولیس نے ٹویٹ کیا، "ہتھیار اور گولہ بارود سمیت مواد برآمد کیا جا رہا ہے۔ تلاش جاری ہے۔” تاہم، بڈگام کے چرار شریف علاقے میں فورسز اور حریت پسندوں کے درمیان ہونے والے انکاونٹر میں، ایک حریت پسند شہید ہوا۔

    اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے، وزیراعظم

  • قابض بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کردیا

    قابض بھارتی فوج نے مزید 2 کشمیریوں کو شہید کردیا

    سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بربریت کاسلسلہ جاری ، مزید 2 کشمیریوں کو شہید کر دیا-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع شوپیاں میں قابض بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے نام پر داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے گھر گھر تلاشی لی۔

    اس دوران جارحیت پسند بھارتی فوج نے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا، خواتین کی بے عزتی کی جب کہ بزرگوں اور بچوں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

    اسی دوران قابض بھارتی فوج نے ایک گھر پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو کشمیری نوجوان شہید ہوگئے علاقہ مکینوں کے مطابق شہید ہونے والے نوجوان طلبا تھے۔

    علاقہ مکینوں نے نہتے نوجوانوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بازی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور شہید ہونے والوں کی تعداد ایک درجن سے زائد ہوگئی ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر لندن اسٹوک وائٹ لا فرم کی جانب سے رپورٹ جاری کی گئی لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 2 ہزار شہادتوں کو مدنظر رکھ کر رپورٹ تیار کی لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 41 صفات پر مبنی رپورٹ ایک سال کی تحقیقات پر بنائی ،اسٹوک وائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے-

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے 450 کیسز رپورٹ ہوئے ،پیلٹ گن سے متاثرہ 1500 اور جبری گمشدگیوں کے100 کیسز ریکارڈ کئے گئے، مقبوضہ کشمیر میں جنسی ہراسگی کے 30 کیسز سامنے آئے ہیں استثنیٰ کلچر سے جنگی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی کا فقدان ہے، شہدا کے خاندان کو تدفین کے لیے رسائی نہیں دی جاتی،کیسز میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، رات گئے بھارتی پولیس کے چھاپے بھی شامل ہیں بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے-

    وج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    برطانوی لا فرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے پیچھے بھارتی آرمی چیف اوروزیرداخلہ کا ہاتھ ہے لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے برطانوی پولیس سے بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مظالم کے شواہد ہمارے پاس ہیں بھارتی آرمی چیف اور امیت شاہ مقبوضہ کشمیرمیں سماجی کارکنوں پر تشد اوراغوا میں ملوث ہیں-

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

  • مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر لندن اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی

    لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 2 ہزار شہادتوں کو مدنظر رکھ کر رپورٹ تیار کی لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 41 صفات پر مبنی رپورٹ ایک سال کی تحقیقات پر بنائی ،اسٹوک وائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے 450 کیسز رپورٹ ہوئے ،پیلٹ گن سے متاثرہ 1500 اور جبری گمشدگیوں کے100 کیسز ریکارڈ کئے گئے، مقبوضہ کشمیر میں جنسی ہراسگی کے 30 کیسز سامنے آئے ہیں استثنیٰ کلچر سے جنگی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی کا فقدان ہے، شہدا کے خاندان کو تدفین کے لیے رسائی نہیں دی جاتی،کیسز میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، رات گئے بھارتی پولیس کے چھاپے بھی شامل ہیں بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،

    واضح رہے کہ برطانوی لا فرم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کے پیچھے بھارتی آرمی چیف اوروزیرداخلہ کا ہاتھ ہے لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے برطانوی پولیس سے بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنرل منوج مکند نروانے اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے مظالم کے شواہد ہمارے پاس ہیں بھارتی آرمی چیف اور امیت شاہ مقبوضہ کشمیرمیں سماجی کارکنوں پر تشد اوراغوا میں ملوث ہیں،

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست