آزاد کشمیر پولیس نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین میں مسلح عناصر، جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے عادی لوگ شامل ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ کالعدم قرار دی گئی کمیٹی نے متعدد افراد کے شناختی کارڈ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج میں شریک بعض افراد کے پاس اسنائپر رائفلیں بھی موجود ہیں، جو صورتحال کو مزید تشویشناک بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج واقعی پرامن ہوتا تو مظاہرین ہتھیار لے کر سڑکوں پر نہ آتے۔ ان کے مطابق سفید جھنڈوں کے پیچھے اسلحہ چھپا کر لانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تشدد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عناصر دہشت گردانہ نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر کی ہے اور بعض مقامات پر لوگوں سے کھانے پینے کی اشیا بھی چھیننے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج میں شامل تقریباً 70 فیصد افراد جرائم پیشہ یا منشیات کے عادی ہیں۔
ایس ایس پی ریاض مغل نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض زخمی مظاہرین اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے متاثر ہوئے، لیکن اس کا الزام پولیس پر عائد کیا گیا۔ ان کے مطابق کچھ عناصر جان بوجھ کر ایسے واقعات کو اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر شہید ہوا جبکہ ایک اہلکار کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہوئی۔ اس کے علاوہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور مجموعی طور پر 174 پولیس اہلکار مختلف کارروائیوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل بھی تین پولیس اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
Category: کشمیر
-

مظاہرین میں مسلح عناصر اور جرائم پیشہ افراد شامل ہیں: آزاد کشمیر پولیس
-

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا فراڈ بے نقاب
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چند افراد فوٹو سیشن کے لیے زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور ان پر سرخ رنگ کا مائع ڈالا گیا تھا تاکہ زخمی ہونے کا تاثر دیا جا سکے۔
وائرل پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیسے ہی پولیس اہلکار ان کے قریب پہنچے اور انہیں حرکت کرنے کو کہا، وہ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے، جس کے بعد پوسٹ کرنے والوں نے اسے "دھوکا دہی” قرار دیا۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی)، جو گزشتہ سال بجلی کے نرخ، طرزِ حکمرانی، معاشی حقوق اور عوامی مسائل کے حوالے سے سامنے آئی تھی، حالیہ مہینوں میں اپنی توجہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی ان 12 مخصوص نشستوں پر مرکوز کیے ہوئے ہے جو بھارتی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔
جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ ان مخصوص نشستوں کی موجودگی کے باعث پاکستان میں قائم سیاسی جماعتوں کو آزاد کشمیر کی حکومت کی تشکیل پر اثر انداز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں آئین کے تحت محفوظ ہیں اور انہیں ختم کرنے یا ان میں تبدیلی کے لیے باقاعدہ آئینی ترمیم درکار ہوگی۔ -
آزاد کشمیر انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔ میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جبکہ مختلف حلقوں سے ابتدائی نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے غیر معمولی ووٹر ٹرن آؤٹ کے باعث پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا تھا، جس کے بعد شام 6 بجے پولنگ کا عمل مکمل ہوا۔ اب مختلف پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کئی حلقوں میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدوار ایک دوسرے کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ایل اے 1 میرپور 1 میں مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق کو برتری حاصل ہے، جبکہ ایل اے 2 میرپور 2 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم مجید آگے ہیں۔ ایل اے 3 میرپور 3 اور ایل اے 4 میرپور 4 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
بھمبر کے حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ ایل اے 5 بھمبر 1 میں وقار احمد نور، ایل اے 6 بھمبر 2میں چوہدری محمد رزاق اور ایل اے 7 بھمبر 3 میں چوہدری طارق فاروق ابتدائی نتائج کے مطابق اپنے مدمقابل امیدواروں سے آگے ہیں۔
دوسری جانب کوٹلی کے حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایل اے 8 کوٹلی 1 میں ظفر اقبال ملک، ایل اے 10 کوٹلی 3 میں چوہدری محمد یاسین، ایل اے 11 کوٹلی 4 میں چوہدری محمد اخلاق اور ایل اے 12 کوٹلی 5 میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
ادھر ایل اے 9 کوٹلی 2 میں صرف ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم آگے ہیں، جبکہ ایل اے 13 کوٹلی 6 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان واضح برتری کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
چونکہ یہ نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں، اس لیے حتمی کامیابی کا فیصلہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول ہونے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اعلان کے بعد ہی ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور امیدوار ووٹوں کی گنتی کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں میں مقابلہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ -

آزاد کشمیر انتخابات: ووٹرز کے غیرمعمولی رش پر پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا گیا
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں ووٹرز کی غیرمعمولی تعداد کے پیش نظر الیکشن حکام نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی ہدایت پر یہ فیصلہ کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
انتخابی حکام کے مطابق مختلف پولنگ اسٹیشنز پر صبح سے ہی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود رہی، جس کے باعث کئی مقامات پر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ شہریوں کی بھرپور شرکت اور مسلسل بڑھتے ہوئے رش کو مدنظر رکھتے ہوئے پولنگ کا وقت شام 5 بجے کے بجائے شام 6 بجے تک بڑھا دیا گیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز پر موجود تمام اہل ووٹرز کو بغیر کسی دشواری کے ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔ حکام نے انتخابی عملے کو ہدایت کی ہے کہ پولنگ کا عمل مقررہ نئے وقت تک بلا تعطل جاری رکھا جائے۔
انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے اداروں کے مطابق متعدد حلقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش قابل ذکر رہا، جہاں خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ انتخابی عمل کو منظم رکھنے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات بھی برقرار رکھے گئے ہیں۔
الیکشن حکام نے ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر پولنگ اسٹیشنز پہنچ کر اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کریں۔ پولنگ کے اختتام کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کیا جائے گا، جس کے بعد غیر سرکاری اور پھر سرکاری نتائج مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ -

نکیال فائرنگ واقعہ، بلاول بھٹو کا نوٹس کا مطالبہ، کارکن کی ہلاکت پر شدید ردعمل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 نکیال میں پارٹی کارکن مختار یونس کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ میرپور نکیال میں ان کی جماعت کا ایک کارکن جاں بحق ہوگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں اور الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ فائرنگ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی جانب سے کی گئی۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ دو روز قبل بھی مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سردار عمیر کی مبینہ فائرنگ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی، جس پر بروقت کارروائی کی جاتی تو آج ایک قیمتی انسانی جان ضائع نہ ہوتی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ مختار یونس نکیال میں پارٹی کی انتخابی مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے اور عوامی رابطہ مہم کو مؤثر انداز میں آگے بڑھا رہے تھے۔ ان کے بقول مخالفین انتخابی میدان میں شکست کے خوف سے بوکھلا گئے ہیں اور اسی وجہ سے غیر جمہوری اور تشدد پر مبنی ہتھکنڈوں کا سہارا لے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور انتخابی عمل کو ہر قسم کے تشدد اور دباؤ سے پاک بنایا جائے تاکہ ووٹرز آزادانہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ فائرنگ کے واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مختلف دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ -

آزاد کشمیر انتخابات 2026: تین مرحلوں میں پولنگ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 2026 کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ایک ہی روز پولنگ کرانے کے بجائے انتخابات کو تین مراحل میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی کی مجموعی 53 نشستیں ہیں، جن میں 45 جنرل اور 8 مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ مخصوص نشستیں خواتین، علما، ٹیکنوکریٹس اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے لیے مختص ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 38 لاکھ 4 ہزار رجسٹرڈ ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن کے لیے 6 ہزار 983 پولنگ اسٹیشن اور 10 ہزار 913 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔
پولنگ تین مراحل میں ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستوں اور پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستوں پر پولنگ ہوگی، جبکہ آخری مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی 11 نشستوں پر مکمل ہوگا۔
ابتدائی طور پر 1,265 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، تاہم جانچ پڑتال، اپیلوں اور دستبرداری کے بعد 45 جنرل نشستوں پر تقریباً 852 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں۔
سیاسی منظرنامے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ انتخابی اتحاد قائم کیا ہے۔ موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارٹی کے کئی اہم امیدوار مختلف حلقوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) بھی بھرپور انداز میں میدان میں موجود ہے اور تقریباً 44 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پارٹی کی قیادت شاہ غلام قادر کر رہے ہیں جبکہ متعدد سابق پی ٹی آئی رہنما بھی ن لیگ میں شامل ہو کر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے باضابطہ طور پر انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، تاہم پارٹی کے بعض سابق رہنما آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس، استحکام پاکستان پارٹی، جموں کشمیر پیپلز پارٹی، پیپلز نیشنل پارٹی، تحریک لبیک پاکستان اور متعدد آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں میں قسمت آزما رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان متوقع ہے، جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔ مرحلہ وار پولنگ سے سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور ہر مرحلے کے نتائج ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسی روز جاری کیے جائیں گے۔ -

"نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں”نواز شریف کا بلاول بھٹو کو پیغام
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "بلاول برخوردار، میری بات کا برا نہیں ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں۔ اس کو کشمور نہیں سمجھنا، یہ کشمیر ہے اور یہ میرپور ہے، میرپور خاص نہیں۔”
نواز شریف نے کہا کہ کشمیر سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے اور وہ آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرپور ایک خوبصورت شہر ہے، تاہم آج اس کی حالت اتنی بہتر نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اقتدار کے بعد آزاد کشمیر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست پڑ گئی۔
سابق وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی جماعت نے آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے نمایاں کام کیا ہو تو بتایا جائے۔ ان کے بقول پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مسلم لیگ (ن) کی مہر ثبت ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو آزاد کشمیر میں موٹرویز اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی، مری سے مظفرآباد تک جدید شاہراہ بنائی جائے گی، جبکہ میرپور کے ہر گھر تک گیس کی سہولت پہنچائی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے میرپور میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قیام کی بھی سفارش کریں گے۔
نواز شریف نے تعلیم اور صحت کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں کینسر اور دل کے امراض کے جدید اسپتال قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز میرپور کے لیے جدید الیکٹرک بسیں اور 10 موبائل اسپتال فراہم کر رہی ہیں تاکہ عوام کو بہتر سفری اور طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو وہ خود آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔ -

مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے-
مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ن لیگ کی حکومت آئی تو آزادکشمیر کے ہر گاؤں میں سڑکیں بنائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ترقی، تعلیم اور عوامی خدمت کی سیاست ہے، ہم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی اور ریاست میں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے جا ئیں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آزاد کشمیر آ کر صرف تقریریں کرتے ہیں، دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ریاست میں حکومت کس کی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔
مریم نواز نے اپناگھر اپنی چھت اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں 5 لاکھ تک گھر بنانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کریں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیک بھی فراہم کریں گے، آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپ دیں گے، آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا گیا، پنجاب کے فلاحی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کریں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں جلد آزاد کشمیر پہنچ جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں،15 موبائل اسپتال بھی جلد اپنی خدمات کا آغاز کریں گے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔
مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے، صرف وعدے نہیں پنجاب کی کارکردگی لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگامیں مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئی یہ آزاد جموں کشمیر میرا ہے، میں خون سے بھی کشمیری ہوں دل اور دماغ سے بھی کشمیری ہوں، میں روح سے اور نسلوں سے بھی کشمیری ہوں۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابی مہم میں جتنی محبتیں اور دعائیں ملی تھیں وہ بھول نہیں سکتی، اس الیکشن میں آزاد کشمیر میں ہماری 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نتائج الٹ دو، اس لیے آج یہاں مسائل ہیں، انہوں نے مجھے نوازشریف کے سامنے گرفتار کیا تاکہ میں کشمیر نہ جاسکوں، آج وہی نواز شریف اور مریم نواز یہاں آزاد کشمیر میں کھڑے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ وہ یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اگر آپ نے ن لیگ کو منتخب کیا تو یہ وعدہ ہے کہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائیگی، انہوں نے کہا جہاں ن لیگ کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر جگہوں کی حالات دیکھ لیں، حالات میں یہ فرق کیوں ہے، یہ فرق نواز شریف اور ن لیگ ہے، پنجا ب کے چپے چپے پر ترقی ہے، جب تک آزادکشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم نہیں ملے گی، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت کی وجہ سے پنجاب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے،کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں بابا جی جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا تو بابا جی نے کہا کہ نوازشریف کا جلسہ ہے، بابا جی کو بتایا گیا کہ جلسہ تو کل ہے باباجی نے کہا میں شوق میں آج آگیا، بابا جی نے کہا کہ جلسے میں ہماری بیٹی مریم نواز آرہی ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں تاکہ آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکےمیں وزیراعظم پاکستان سے کہوں گی کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دیا جائے، جبکہ اسپیشل افراد کو ہمت کارڈ دیے جائیں گے۔
-

کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے ،نواز شریف
ظفرآباد: مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا-
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مظفر آباد سے پیار ہے، مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے بے پناہ پیار ہے، پاکستان میں موٹرویز، ہائی ویز اور ایکسپریس ویز بنے ہیں لیکن یہاں وہی سڑک ہے جو 30 سال پہلے بنی تھی، کوہالہ سے مظفر آباد کوئی ہائی وے کیوں نہیں بنی۔
انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم تھا تو راجا فاروق حیدر بھی آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے اور میں نے کہا کہ مانسہرہ سے مظفر آباد، مظفر آباد سے میر پور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ ایک خوب صورت ترین موٹر وے بننی چاہیے جبکہ یہ منصوبہ میں نے منظور کیا تھا اور یہ پاکستان کا ایک بہترین اور منفرد منصوبہ ہے اور آزاد کشمیر کے لیے نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا بہترین تحفہ ہےاس منصوبے سے آزاد کشمیر میں سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کا جال پھیلتا اور یہاں پر خوش حالی ہی خوش حالی ہوتی
نواز شریف نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کو کامیابی ملی تو پنجاب کی طرز کے ترقیاتی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کیے جائیں گے اور عوام کو جدید سفری و طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، میں نے کبھی آذاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا یا اسلام آباد میں کبھی تفریق نہیں کی، میرے لیے آزاد کشمیر بھی اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب ہے، یہ میرا دوسرا گھر ہے، میرے بزرگ کشمیر سے ہجرت کرکے آئے تھے۔
میں نے مریم نواز کو کہا ہے جیسے کسی کے ہاں مہمان جاتے ہیں تو کوئی فروٹ یا مٹھائی لے کر جاتے ہیں تو آج آپ بھی کشمیر کے لیے مٹھائی لے کرجا ئیں اور مظفر آباد کے عوام کو پیش کردو، ہمارا منصوبہ بڑا وسیع ہے، جو پروگرام لے کر آئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہاں بنی تو ایک ایک منصوب ے کو مکمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جس طرح پنجاب میں عوامی فلاح کے منصوبے جاری ہیں، اسی طرز پر مظفرآباد اور آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی کام ہونے چاہیئیں، مریم نواز نے بھی مظفرآباد کو پاکستان کے خوبصورت ترین شہروں میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
نواز شریف نے اعلان کیا کہ کامیابی کی صورت میں آزاد کشمیر کا بجٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھایا جائے گا جب وہ وزیر اعظم تھے تو آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کیا تھا، اب موقع ملا تو اسے دس گنا تک بڑھائیں گے، مریم نواز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 15 موبائل اسپتال بھی آزاد کشمیر کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔
صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہانتخابات میں کامیابی ملی تو میرا دل چاہتا ہے شہباز شریف کو کہوں کہ مجھے آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیں، نواز شریف کو وزیراعظم بنادیں، آئندہ یہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آتی ہے تو ان شااللہ یہاں کی تمام مشکلیں اور مسائل حل کرکے دم لیں گے اگرچہ وہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم بننے کی بات مذاق میں کر رہے ہیں، تاہم کامیابی کی صورت میں ہر تین ماہ بعد وہ خود آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیں گے-
انہوں نے سابق حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد آنے والی حکومت نے ملک کو نقصان پہنچایا اور ترقی کا سفر رک گیا، تاہم مسلم لیگ ن دوبارہ اقتدار میں آکر تمام کمیوں کو پورا کرے گی اور عوام کی خوشحالی کے لیے بھر پور اقدامات کرے گی۔
-

آزاد کشمیر عام انتخابات: الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد، نیا شیڈول جاری
آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس غلام مصطفیٰ مغل نے عام انتخابات 3 مرحلوں میں کرانے کا اعلان کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کر دیا جبکہ الیکشن ملتوی کرنے کے مطالبات مسترد کر دیے گئے۔
چیف الیکشن کمشنر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی،اس طرح آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا عمل 3 مراحل میں مکمل ہوگا، ہر مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد اسی مرحلے کے غیر سرکاری اور سرکاری نتائج جاری کیے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابی شیڈول میں تبدیلی انتظامی امور، انتخابی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے، شفاف، منظم اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہےمرحلہ وار انتخابات سے سکیورٹی، انتخابی عملے کی تعیناتی اور انتخابی عمل کی نگرانی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی،تمام ریٹرننگ افسران، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ نئے انتخابی شیڈول کے مطابق اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابا ت کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔