Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر، صنعتی شعبہ کے حوالہ سے اہم رپورٹ آ گئی

    مقبوضہ کشمیر، صنعتی شعبہ کے حوالہ سے اہم رپورٹ آ گئی

    مودی حکومت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد یہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح صنعتی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    سیمنٹ فیکٹریاں بند ہونے سے ہزاروں مزدور بے روزگار

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبہ سے منسلک افراد کے مطابق کرفیوکی وجہ سے کشمیر کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور صنعتی کارخانوں سے منسلک لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہورہا ہے۔موجودہ حالات کی وجہ سے صنعتی شعبے کی کمرٹوٹ گئی ہے۔

    صنعتی افراد کا کہنا ہے کہ 5 اگست کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کرفیوسے کارخانوں میںاشیاءکی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ دکانوں و کاروباری اداروں کے مسلسل بند رہنے سے بازاروں میںبھی ڈیمانڈ اور سپلائی کا توازن شدید متاثر ہوا ہے۔

    ریلوے کو دو کروڑ کا نقصان، اہم رپورٹ آ گئی

    صنعتی افرادنے مزید کہا کہ کرفیو کا براہ راست اثر چھوٹے بڑے کارخانوں پرہو رہا ہے اور کشمیر میں واقع اکثر صنعتی کارخانوں میں بھی کام کاج ٹھپ ہو چکا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر،صحافیوں نے کیا مطالبہ کیا، اہم خبر آ گئی

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کی وجہ سے مقامی سیمنٹ فیکٹریاںبھی بند ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے ان میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں جبکہ سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ وادی میں قائم تقریباً 15 سیمنٹ فیکٹریوں میں عملہ مقبوضہ وادی سے باہر کے ملازموں پر مشتمل تھا۔ اگست کے پہلے ہفتے میں ایک ایک کرکے سب چلے گئے جس سے یہ فیکٹریاں بندہو گئیں۔

  • کشمیر مارچ کی تیاریاں مکمل ، جماعت اسلامی نے اہم اعلان کردیا

    کشمیر مارچ کی تیاریاں مکمل ، جماعت اسلامی نے اہم اعلان کردیا

    لاہور : کشمیر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی کی مجلس شوری کا اجلاس، کل ہونے والے کشمیر مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی۔مجلس شوریٰ کے اجلاس میں‌ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت پر بھی غور کیا گیا

    منصورہ میں ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹر سراج الحق نے کی، اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال زیربحث لائی گئی،۔ اجلاس میں کل لاہور میں ہونے والے کشمیر مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

    مجلس شوریٰ کے اجلاس میں‌ سیکرٹری جنرل امیرالعظیم، لیاقت بلوچ، پروفیسر ابراہیم، میاں مقصود احمد، معراج الہدی، مشتاق احمد خان، حافظ نعیم الرحمن، عبدالغفار عزیز اور فرید پراچہ موجود تھے، جماعت اسلامی کے قائدین کا یہ کہنا تھا کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر حکومتی موقف کی کھل کر حمایت کرتے ہیں‌

  • کشمیری بچے بنیادی حقوق سے محروم رکھے جارہے ہیں۔ڈی ای او ایجوکیشن

    کشمیری بچے بنیادی حقوق سے محروم رکھے جارہے ہیں۔ڈی ای او ایجوکیشن

    سرگودہا (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ کشمیری بچے داد رسی کیلئے پاکستان کی طرف تک رہے ہیں اور پاکستانی بچوں کے دل کشمیری بچوں پر ہونے والے ظلم و استبداد پر خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ عالمی ادارے کشمیری بچوں پر ہونے والے ظلم پر ذرا برابر بھی لب کشانہیں ہیں جو مسلمانوں کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے ۔انسانی حقوق کی دعویدار تنظیمیں بھی بھارتی افواج کے ظلم پر خاموش ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 47شمالی میں اظہار یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے منعقدہ تقریب کے شرکاءطلباءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ ہائی سکول سلطان آباد کے بچے ،اساتذہ اور والدین بھی موجود تھے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری بچے تعلیم ،خوراک اور دیگر ضروریات زندگی سے محروم رکھے جا رہے ہیںاور کشمیریوں کا بہتا ہوا لہو کشمیر سے نکلنے والے دریاﺅں کو سرخ کر رہا ہے ۔ اس وقت بھارتی ظلم و ستم سے کشمیر کی جنت نظیر وادی لہو لہو ہے اور امت مسلمہ سے پکار پکارمدد طلب کر رہی ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ کشمیریوں سے ہمار ارشتہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہے اور ہمارے دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی امداد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سلامتی کونسل میں تقریر کا متن امت مسلمہ کے جذبات کا عکاس ہے اور ان کے الفاظ نے نو ع انسانی کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے ۔تاریخ میں پہلی بار مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگرہو چکا ہے اور اب کشمیر یوں کی آذادی کا خواب پورا ہونے کو ہے۔بھارت میںکئی پاکستان ابھریں گے اور اسکے حصے بخرے ہو جائیں گے ۔اس موقع پر طلباءنے بھی کشمیریوںکے ساتھ رشتے اور یکجہتی بارے تقاریر کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا۔بعدا زاں اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی۔

  • فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ سے کون ملنے جا رہا، اہم خبر آ گئی

    فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ سے کون ملنے جا رہا، اہم خبر آ گئی

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے نیشنل کانفرنس جموں کے ایک وفد کو پارٹی صدر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبد اللہ سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔یہ دونوں رہنمااس وقت گرفتار ہیں۔وفد اتوار کی صبح ملاقات کے لیے روانہ ہوگا۔

    مقبوضہ کشمیر،سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار

    نیشنل کانفرنس ترجمان مدن منٹو نے ایک بیان میںاس کی تصدیق کر دی ہے۔یا د رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے وقت سے ہی جموں وکشمیر کے دونوں رہنماﺅں کو نظر بند یا گرفتار رکھا گیا ہے۔

    ان رہنماﺅں کے علاوہ مقبوضہ وادی کے بھارت نواز سیاستدانوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کر دیا گیا تھا۔حریت رہنما بھی اس وقت اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔

    بھارتی سپریم کورٹ‌ نے فاروق عبداللہ کی حراست سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا

    یادرہے کہ فاروق عبداللہ کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا ،فاروق عبداللہ کو ابتدائی طور پر 12 دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے،ضرورت پیش آنے پر حراست کی مدت میں 3ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

    فاروق عبداللہ کی گرفتاری کو لے کر کانگریس نے کیا بڑا سوال

  • انعام یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے بھی بھارتی جھوٹ کا پول کھول دیا

    انعام یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے بھی بھارتی جھوٹ کا پول کھول دیا

    میگسی سے انعام یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے کہاہے کہ کشمیر میں کرفیو کو 60دن سے زائد دن گزر گئے ہیںتاہم وہاں حالات ابھی تک نارمل نہیں ہیں۔بڑی تعداد میں کشمیری قید یا نظر بند ہیں۔

    مقبوضہ وادی میں بدترین لاک ڈاؤن : کرفیو کا 62 واں روز۔بھارتی فوج کے مظالم جاری ، کشمیری پوچھتے ہیں‌یہ کب تک جاری رہیں گے

    واضح رہے کہ پانڈے کی قیادت میں کشمیر جانے والے والے کشمیر ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیج دیا گیا۔

    پانڈے نے صحافیوں کوبتایا کہ راشٹریہ جن آندولن سمنوے کے وفد کے ساتھ جب وہ کل صبح سری نگر ایئرپورٹ پر پہنچے تو پتہ چلا کہ ضلع بڈگام کے ضلعی مجسٹریٹ نے انکے خلاف حکم جاری کیا کہ انھیں کشمیر نہ جانے دیاجائے کیونکہ وہ لوگوں کو اشتعال دلانے کے لیے عوامی ریلی کرسکتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر،صحافیوں نے کیا مطالبہ کیا، اہم خبر آ گئی

    پانڈے کے وفد میں خدائی خدمت گار کے فیصل خان ،محمد جاوید ملک ،مصطفی محمد اور لوک شکتی کے پرفل سمانتاراشامل تھے۔پانڈے کے مطابق وہ لوگ مقبوضہ کشمیر میں خدائی خدمت گار کے ساتھیوں سے ملنے گئے تھے۔

    مقبوضہ کشمیر، ایک درجن سے زائد کشمیری نوجوان گرفتار

    پانڈے نے مزید بتایا کہ وہاں پولیس نے ان سے ان کی بیوی کے بارے میں پوچھا حالانکہ وہ ہمارے ساتھ وہاں گئی بھی نہیں تھیں اور نہ انکا جانے کا کوئی پروگرام تھا۔ پانڈے کے مطابق نہ تو انھیں ایئرپورٹ کے لاونج سے باہر جانے دیاگیااور نہ ہی ایئرپورٹ کے ویٹنگ ہال میں گھومنے دیا گیا۔

    پانڈے نے حکومت سے سوال کیا کہ اگر حالات معمول پر ہیں تو پھر ان جیسے امن پسند کارکنوں کو کیوں روکا گیا۔انھوں نے سوال کیا کہ جب سعیدہ حمید ،شبنم ہاشمی اور جیاں دیریز کشمیر جاسکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔

    پانڈے نے مودی حکومت کی اس بات کی بھی نفی کی کہ کشمیر میں ترقی کے لیے آرٹیکل 370کو ہٹایا گیا۔ پانڈے کے مطابق آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے سے ریلوے کو دوکروڑ کا نقصان ہوچکاہے۔سیب اور اخروٹ گل سڑ رہے ہیں جس سے معیشت اور سیاحت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ اسکول خالی ہیں، ہرجگہ دفعہ 144نافذ ہے۔ ا س کے باوجود مظاہرے ہورہے ہیں۔

  • مودی سرکار کے ہاتھ نہ روکے گئے تو اسکی جنونیت کا خمیازہ اس پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑیگا

    مودی سرکار کے ہاتھ نہ روکے گئے تو اسکی جنونیت کا خمیازہ اس پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑیگا

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی بھرپور سفارتی کوششوں اور کشمیری عوام کے دنیا بھر میں جاری مظاہروں کے باعث عالمی قیادتوں کو کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم اور تسلسل کے ساتھ گزشتہ دو ماہ سے جاری رکھے گئے کرفیو کے باعث کشمیریوں کیلئے پیدا ہونیوالے روٹی روزگار‘ انکے تحفظ و دفاع کے اور دوسرے روزمرہ کے مسائل سے پوری عالمی برادری کو آگاہی ہوچکی ہے جس کی صدائے بازگشت جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنی گئی اور وزیراعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں پیش کیا۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر عالمی قیادتوں سے ملاقاتوں کے دوران بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے مظالم کے باعث کشمیریوں کی حالت زار سے آگاہ کیا ہے اور باور کرایا کہ یواین سلامتی کونسل کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کراسکی جو مایوس کن عالمی رویہ ہے۔ اگر کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم نہ روکے گئے اور بھارتی جارحانہ عزائم کے آگے بند نہ باندھا گیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے اس لئے دنیا کو دیرہونے سے پہلے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    بھارت اپنی جنونیت سے بلاشبہ اس پورے کرۂ ارض کیلئے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے اس لئے عالمی قیادتوں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر بہرصورت اپنا کردار ادا کرنا اور مصلحتوں کے لبادوں سے باہر نکل کر مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کی روشنی میں حل کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہونگے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ اگر بھارت کی حکومتی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو چیلنج کیا جاتا رہا اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو پاکستان کو بھی اپنے تحفظ و دفاع کیلئے کوئی بھی قدم اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے جس کیلئے عساکر پاکستان مکمل چوکس اور تیار ہیں۔

    گزشتہ روز آرمی چیف جنرل باجوہ نے کورکمانڈرز کانفرنس میں جہاں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام عالم اور جنرل اسمبلی میں کشمیر کا کیس بھرپور انداز میں پیش کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے وہیں بھارت کو یہ ٹھوس پیغام بھی دیا ہے کہ اسکی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا جس کیلئے عساکر پاکستان مکمل تیار اور پرعزم ہیں۔ بھارت کو اب بہرصورت اپنی 27 فروری والی ہزیمت کو پیش نظر رکھ کر پاکستان کیخلاف کوئی قدم اٹھانے کا سوچنا چاہیے۔ اگر اس نے کسی قسم کی حماقت کی تو اس روئے زمین پر اسکی پسپائی اور ہزیمتوں کی داستان سنانے والا بھی کوئی نہیں بچے گا۔

    نوٹ : یہ تحریر نوائے وقت کے 5 اکتوبر کے اخبار کے اداریہ سے لی گئی ہے.

  • تازہ تصاویر نہ سہی، پرانی ہی چل جائیں گی

    تازہ تصاویر نہ سہی، پرانی ہی چل جائیں گی

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں حالات کو نارمل ظاہر کر نے کے لیے پرانی تصاویر کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ بھارت نے رواں سال اگست میں ، مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو ہٹا دیا تھا۔ 5 اگست کے ڈرامائی اقدام کے قریب دو ماہ بعد ، کشمیر میں معمول کے حالات دکھانے کے لیے پرانی تصاویرکو سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ہے۔
    تصویر 1

    اصل تصویر نیچے ہے


    تصویر2

    اصل تصویر نیچے ہے

    تصویر 3

    اصل تصویر نیچے دی جا رہی ہے

  • کنٹرول لائن عبور کریں گے یا نہیں، جے کے ایل ایف کے رہنما نے بتا دیا

    کنٹرول لائن عبور کریں گے یا نہیں، جے کے ایل ایف کے رہنما نے بتا دیا

    جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما رفیق ڈار نے مظفرآباد میں لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم ہندوستان کے ہاتھوں میں نہیں کھیل رہے ہیں ہم پرامن طریقے سے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ہم کنٹرول لائن عبور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم اسے قبول نہیں کرتے ہیں ہم سری نگر پہنچنا چاہتے ہیں۔

    میں پھر کہہ رہا ہوں‌کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کیلئے ویتنام ثابت ہوگا، سابق بھارتی جج نے برطانیہ جاکر بتادیا

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میںکشمیریوں کی تکلیف کو سمجھتا ہوں جو 2 ماہ سے زیادہ عرصے سے ایک غیر انسانی کرفیو کے تحت بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے ساتھی کشمیریوں کو دیکھ کرمحسوس کرتے ہیں ۔ لیکن کوئی شخص جو کشمیریوں کی جدوجہد کے لئے یا انسانی مدد فراہم کرنے کے لئے آزاد جموں وکشمیر سے کنٹرول لائن کو عبور کرے گا وہ ہندوستانی بیانیہ کے ہاتھوں میں کھیلے گا۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کے دوران گذشتہ ماہ ستمبر میں ایک عورت اور دو لڑکوں سمیت 16 کشمیری شہید کر دیے۔کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کے اعداد و شمار کے مطابق ، چھ کشمیری جعلی مقابلوں میں شہید کیے گئے۔ ان شہادتوں سے ایک کشمیری عورت بیوہ اور دو بچے یتیم ہوگئے۔

    ’مقبوضہ کشمیر میں غم وغصہ اور غربت بڑھ رہی ہے‘

    مقبوضہ کشمیر، ماہ ستمبرمیں 16کشمیری شہید

  • مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ، کشمیریوں کا یوم سیاہ ہوگا، تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ‌ معاف نہیں کرے گی، خصوصی رپورٹ

    مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ، کشمیریوں کا یوم سیاہ ہوگا، تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ‌ معاف نہیں کرے گی، خصوصی رپورٹ

    اسلام آباد (رضی طاہر سے) 27 اکتوبر 1947ء کا دن کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارت کے نوخیز برہمنی سامراج نے برصغیر کی تقسیم کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے سازش اور منافقت سے کام لیکر غالب مسلم اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر پر غاصبانہ تسلط اور قبضہ جمالیا تھا، اس دن کو دنیا بھر کے کشمیری اور پاکستانی عوام یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں، اسی دن جمعیت علمائے اسلام ف کا مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے آزادی مارچ کا اعلان تاریخی غلطی ہے، مولانا تاریخ‌ بدلیں‌ ورنہ تاریخ معاف نہیں کرے گی.

    برصغیر کی تقسیم اس اصول کی بنیاد پر ہوئی تھی کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گے اور غیر مسلم اکثریت کے علاقے بھارت کیساتھ، جبکہ ریاستوں کے بارے میں یہ اصول طے پایا تھا کہ انکے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے انکی غالب اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر کو جو اپنے جغرافیائی محل و قوع کے لحاظ سے پاکستان کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، بہر صورت پاکستان میں شامل ہونا چاہئے تھا لیکن بھارتی سامراج نے چونکہ پاکستان کے قیام کو دل سے قبول ہی نہیں کیا تھا، 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں کشمیر پر ناجائز قبضہ جمالیا.

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مولانا فضل الرحمن کو تاریخ‌ بدلنے کا مشورہ دیا، انہوں‌ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں وہ باتوں کو سمجھتے ہیں، احتجاج ان کا جمہوری حق ہے اور وہ فیصلوں میں آزاد ہیں لیکن میری ان سے گزارش ہے کہ 27 اکتوبر کا دن احتجاج کے لیے مناسب نہیں، اس پر نظرثانی فرمائیں۔

    آج مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی کی علمبردار قوتیں اپنی آزادی اور حق خودار ادیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقاء و سالمیت اور تکمیل پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہی ہیں۔مجاہدین جموں و کشمیر پاکستان کی شہ رگ کو بھارت سے چھڑانے کیلئے اپنی جان و مال اور عزت و آبرو قربان کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کشمیریوں کی نہیں بلکہ پاکستان اور عالم اسلام کے دفاع اور سالمیت کی جنگ ہے۔ ایسے وقت میں مولانا کی مذہب کارڈ کھیلتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف مہم کو تاریخ میں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جائے گا.

  • ایسا کیا ہوا کہ صدر آزاد کشمیر پاک فوج کی تعریف کرنے پر ہوئے مجبور

    ایسا کیا ہوا کہ صدر آزاد کشمیر پاک فوج کی تعریف کرنے پر ہوئے مجبور

    آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے زلزلہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے زلزلہ سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، صدر آزاد کشمیرنے میر پور میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی

    اس موقع پر صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا کہنا تھا کہ زلزلہ کے بعد امدادی کاموں میں پاک آرمی،حکومتی اداروں کاکردارقابل تعریف رہا، متاثرین کی بحالی آبادکاری کویقینی بنایا جائے گا،

    زلزلے سے کتنا نقصان ہوا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیلات جاری کر دیں

    وزیر اعلی پنجاب کی صدر آزاد کشمیر کو زلزلہ متاثرین کی مدد کیلئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش

    آرمی چیف کا زلزلہ متاثرہ علاقوں‌ کا دورہ، سول انتظامیہ کی معاونت سے صورتحال معمول پر لانے کی ہدایت

    صدر آزاد کشمیر نے زلزلہ سے متاثرہ افراد سے بھی ملاقات کی اور انہیں بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کسی صورت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی، صدر آزاد کشمیر نے حکومت پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا.

    زلزلہ پروف عمارتوں کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی، وزیراعظم آزاد کشمیر

    زلزلہ متاثرین کی بحالی تک چین سےنہیں بیٹھیں گے، مشیر برائے اطلاعات

    مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا تخمینہ 1200ملین لگایا ہے ۔ زلزلہ میں تاجر برادری کو 50ہزار روپے فی دکان جبکہ جزوی طور پر متاثر ہونے والی دکان کے مالک کو 25ہزار روپے دیے جائیں گے ۔ حکومت 50ہزار روپے فی مویشی مدد فراہم کرے گی ۔

    وزیراعظم عمران خان میر پور پہنچ گئے، زلزلہ متاثرین کی عیادت، کہا پیکج تشکیل دے رہے ہیں