Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مقبوضہ کشمیر ؛ بھارتی افواج نے محرم الحرام  کی مجالس اور ماتمی جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی

    مقبوضہ کشمیر ؛ بھارتی افواج نے محرم الحرام کی مجالس اور ماتمی جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی

    محرم کی جالس اور متمی جلوسوں پر بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے پابندی

    بھارتی افواج کے مظالم اور پابندیاں مقبوضہ کشمیر میں جاری ہیں جس کی نئی نئی قسمیں سامنے آ رہی ہیں.جن میں وادی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عزاداران حسین کے جلوسوں کو روکنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جیل قائم کرنے والی مودی حکومت کی ایما پر قابض بھارتی افواج نے سڑکوں پہ لگائی گئیں رکاوٹوں میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔

    بھارت کی قابض افواج نے کشمیر پر اپنا جبری تسلط قائم رکھتے ہوئے ہر طرح کے معلامات میں کشمیریوں کو قید و بند میں رکھا ہوا ہو ہے
    کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

  • بھارت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پرواپس جائے، دنوں ملک مذاکرات کا راستہ اختیار کریں ، امریکی مسلم تنظیم کا مطالبہ

    بھارت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پرواپس جائے، دنوں ملک مذاکرات کا راستہ اختیار کریں ، امریکی مسلم تنظیم کا مطالبہ

    واشنگٹن: بھارت 5 اگست سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے ، دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے حل نکالیں ، اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلمان تنظیم کے ایک گروہ کو بتایا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر سمیت دیگر امور پر براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی کونسل آف مسلم آرگنائزیشن (یو ایس سی ایم او) کے وفد نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے امور پاکستان ارون مسنگا سے رواں ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کی اور انہیں بھارت کے 5 اگست کے فیصلے پر مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    مسلم تنظیم نے بھارت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ پہلے 5 اگست سے پہلی والی کشمیر کی حیثیت بحال کرے ، انہوں نے امریکا سے جنوبی ایشیا میں 2 جوہری ریاستوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بھی زور دیا۔

  • کشمیرمیں بھارتی فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے، بھارتی سماجی کارکن کویتا کرشنن

    کشمیرمیں بھارتی فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے، بھارتی سماجی کارکن کویتا کرشنن

    انسانی حقوق کی معروف بھارتی سماجی کارکن اور آل انڈیاپراگریسیو وومز ایسوسی ایشن کی سیکرٹری کویتا کرشنن نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کشمیرمیں فوجی آمریت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے لاک ڈاﺅن ہے۔
    کشمیری سیاسی کارکن شہلا رشید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج
    قبل ازیں کویتا کرشنن نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ مودی اور اس کے جماعتی مقبوضہ کشمیر میں ”ریپ کلچر“ کو فروغ دے رہے ہیں۔

    بھارتی سماجی کارکن نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا تھا کہ کشمیر میں چھوٹی عمر کے بچوں کو گرفتار اور لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ آدھی رات کو گھروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ چپے چپے پر فوج کھڑی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے دہلی پولیس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی بارے تبصرہ کرنے والی کشمیری سماجی کارکن شہلا رشید کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا تھا۔
    شہلا رشید نے اپنے ایک ٹویٹ میںبھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا ، ”بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اندھا دھند مردوں کو اٹھا رہی ہے ، گھروں پر چھاپے مار رہی ہے اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔“

  • کشمیری رہنما کب تک نظر بند رہیں گے…. اجیت ڈووال نے بتا دیا

    کشمیری رہنما کب تک نظر بند رہیں گے…. اجیت ڈووال نے بتا دیا

    بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے نظر بند کشمیری لیڈروں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ صرف نظر بند ہیں اور ان کے اوپر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔
    ایمنسٹی انڈیا کی مقبوضہ کشمیر میں بلیک آوٹ کےخلاف مہم
    اجیت کے مطابق اگر کشمیری لیڈروں کو نظر بند نہ کیا جاتا تو امن وامان کی صورت حال برقرار رکھنے میں مشکلیں پیدا ہو سکتی تھیں۔

    اجیت نے مزید کہا کہ ”جموں و کشمیر کے کسی مقامی لیڈر پر ملک سے غداری یا مجرمانہ معاملوں کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ جب تک جمہوریت کے لیے ماحول سازگار نہیں بنتا، اس وقت تک وہ لوگ نظر بند رہیں گے۔“

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا مسلسل34واں دن ہے ۔کشمیر کی حریت پسند قیادت کے ساتھ ساتھ بھارت نواز سیاستدان بھی نظر بند ہیں۔ ہزاروں بے گناہ مقبوضہ کشمیر اور بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔

  • کشمیر یوتھ الائنس کی نئی باڈی، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی صدر منتخب

    کشمیر یوتھ الائنس کی نئی باڈی، ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی صدر منتخب

    کشمیر یوتھ الائنس نے اگلے دو سال کیلئے نئی مرکزی باڈی کا اعلان کردیا
    کشمیر یوتھ الائنس کے وفد کی چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام سے ملاقات
    چیئرمین محمد سعد ارسلان صادق نے نئے عہدوں کی تقرری کی، مقبوضہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن شائستہ صفی بحثیت سینئر وائس چیئرمین، کاشف ظہیر کمبوہ اور زمان باجوہ وائس چیئرمین جبکہ مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والے نوجوان رہنما ڈاکٹر سید مجاہد گیلانی بحثیت صدر کشمیر یوتھ الائنس ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

    کشمیر یوتھ الائنس کے نوٹیفیکیشن کے مطابق رضی طاہر سیکرٹری جنرل، طہ منیب سینئر نائب صدر، جبکہ نائب صدور میں حنان ملک، ڈاکٹر اسامہ ظفر، عثمان رضا جولاہا شامل ہیں۔ تابش قیوم کو کوآرڈینیٹر سینئر ایڈوائزری کونسل، آصف خورشید رانا کو ڈائریکٹر میڈیا، نوید احمد کو کوآرڈینیٹر میڈیا، جبکہ ڈاکٹر عبداللہ کو ڈائریکٹر ایونٹ مینجمنٹ کی ذمہ داری دی گئی۔

    اس موقع پر چیئرمین کشمیر یوتھ الائنس کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر سے یوتھ تنظیمات ہمارے الائنس کا حصہ ہیں، کشمیر کے ساتھ پاکستان کے نوجوانوں کا جذباتی رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا جارہا ہے، مقبوضہ و آزاد کشمیر سمیت ملک بھر سے کشمیر یوتھ الائنس میں نمائندگی سے یہ واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کیکئئ پاکستان کے طول و عرض سے نوجوان فکرمند ہیں اور اپنی توانائیاں کشمیر کاز کیلئے وقف کرنے کو تیار ہیں۔

  • مقبوضہ وادی: کرفیو کا 34 واں روز، بغاوت پھوٹ رہی ہے ، بھارت پریشان

    مقبوضہ وادی: کرفیو کا 34 واں روز، بغاوت پھوٹ رہی ہے ، بھارت پریشان

    سری نگر : بھارتی مظالم کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہونےلگا ، مقبوضہ وادی میں کرفیو کا 34 واں روز ہے، لوگوں کے رابطے معطل، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے، مسلسل جبری پابندیوں کے باوجود سری نگر اور دیگر شہروں میں احتجاج جاری ہے۔

    اطلاعات یہی ہیں کہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن کے ایک ماہ بعد کشمیری عوام حکام کی ان تمام کوششوں کی مزاحمت کر رہے ہیں جن کے ذریعے وہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وادی میں صورتحال معمول پر آ رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وادی میں جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ہیں جنہوں نے خاردار تاریں لگا کر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، کشمیری اپنی سر زمین پر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لوگ اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس گئے۔

    وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے، انٹرنیٹ، موبائل سروس، لینڈ لائن اور ٹی وی چینلز بند ہیں۔ حریت رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیری بدستور جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڑی تعداد میں کشمیریوں کو اتر پردیش، لکھنو کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سرینگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے۔

    کشمیری ریسرچر ارشی قریشی کا کہنا تھا کہ کشمیری خواتین خوف و ہراس میں رہ رہی ہے، ہر جگہ خوف کو ماحول ہے، بھارتی فورسز انہیں ہراساں کرتی ہیں، آپ باہر نہیں جا سکتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کشمیری خواتین کو آسانی سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، دیہاتی علاقوں میں خوف زیادہ ہے، آرمی کے بندے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو لوہے سے مارتے ہیں، گھر دور دور ہونے کی وجہ لوگ تشدد کی آواز بھی نہیں سن سکتے اور نا ہی ان کی مدد کے لیے کوئی آتا ہے کہ وہ آرمی کو گھروں کو نکالے

    دوسری طرف بھارتی خبر ایجنسی دی وائر نے بھی مقبوضہ وادی کی اصل صورتحال بے نقاب کر دی، کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ شہریوں کیساتھ جانوروں جیسا سلوک ہو رہا ہے

    کشمیری شہری کا کہنا تھا کہ بھارت جب چاہے دروازہ کھول کر ہمیں چارا ڈالتا ہے جب چاہے پھر بند کردیتا ہے، کشمیریوں کو 50 سال سے ترقی کا سبز باغ دکھایا جارہا ہے۔

    ایک کشمیری لڑکی کا کہنا تھا کہ ہم نے بندوق، کرفیو، ہڑتال اور پتھراؤ کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا، وادی کے حالات کی وجہ سے 3 سالہ گریجویشن ساڑھے چار سالوں میں کی، نوجوان شدید دلبرداشتہ ہیں، دل چاہتا ہے کہ پڑھائی چھوڑ دیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق لوگوں کو در بدر پھرتا دیکھ کرجراتمند کشمیری خاتون پی سی او کے بزنس سے مفت کالز کراتی ہے، لوگ پچاس کلومیٹر دور سے فون کرنے آتے ہیں، بھارت کے خلاف عوامی غصہ دن بدن بڑھ رہا ہے، پیسے ختم ہونے کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر اپنا زیور تک بیچنے پر مجبور ہوئی۔

    کرفیو، لاک ڈاؤن، جگہ جگہ قابض فوج کے باعث پوری وادی قید خانہ بن چکی ہے۔ سری نگر کے میئر جنید اعظم مٹو بھی بھارتی اقدامات پر پھٹ پڑے اور کہا ساری سیاسی قیادت نظر بند ہے، دلی سے سری نگر واپس جانے پر انہیں بھی حراست میں لے لیا جائے گا۔

    سری نگر کے مئیر نے کہا بہت بڑی حقیت ہے کہ موبائل فون سروس کام نہیں کر رہی ہے، انٹرنیٹ بند ہے، ڈائلسز کے مریض ہیں، لوگوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے، وہاں پر حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں، یہ بالکل غیر حقیقی ہے کہ کوئی بھی کہے کہ صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا وادی یہی کچھ جاری رہا تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

    بھارت کے ہر قسم کے جبر کے سامنے کشمیریوں‌ کا حوصلہ بلند ہے. نوجوان بھارتی فوج کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ مظاہروں میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کر کے آزادی کے حق میں‌ نعرے بازی کی اور پتھراو کر کے بھارتی درندوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔

    کرفیو لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطے بند، خوارک اور ادویات کی کمی، بھارت کے ٖہر طرح کے غاصبانہ حربوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔کشمیری نوجوانوں نے بھارتی سامراج کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے مظاہرے کیے، ہزاروں نوجوانوں نے آزادی ریلیاں نکالیں جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس کے شیل پھینکے اور پیلٹ گن کے فائر کیے۔

    کشمیر میڈیا سروس کےمطابق دس ہزار سے زیادہ گرفتار افراد میں سے چار ہزار پانچ سو کشمیریوں پر بدنامہ زمانہ کالے قانون پی ایس اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    انسانیت سے عاری قابض بھارتی فوج نے خواتین اور بچوں کو آنسو گیس اور پیلٹ گن سے نشانہ بنایا۔ بھارتی فوج کا رات گئے کشمیریوں کا کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اب تک دس ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    گزشتہ روز بھاری آرمی چیف نے سری نگر کا دورہ کیا۔ بھارتی آرمی چیف کی آمد کے موقع پر حفاظتی دستوں نے سرینگر اور وادی کے دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں میں پابندیاں مزید سخت کر دی۔

    وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے، طالبعلم سکول سے غیر حاضر ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کرفیو اور پابندیوں کے باجود آج نماز جمعہ کے بعد کشمیری مظاہروں کے لیے باہر نکلیں گے، بھارتی فوج کے خلاف زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

  • بھارتی میڈیا آر ایس ایس کی پروپیگنڈہ مشین— انشال راؤ

    بھارتی میڈیا آر ایس ایس کی پروپیگنڈہ مشین— انشال راؤ

    صدیاں بیت جانے کے باوجود پروپیگنڈہ ایسا کارگر اور مہلک ہتھیار ہے، زمانہ قدیم میں پروپیگنڈے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیکر مختلف علاقوں میں بھیج دی جاتی تھیں جو زبانی کلامی یہ کام سرانجام دیتے تھے جسکے نتائج بہت عرصے میں حاصل ہوتے تھے مگر آج مواصلاتی ترقی کے دور میں میڈیا اور انٹرنیٹ نے پروپیگنڈے کو پہلے سے زیادہ موثر اور خطرناک حد تک قوت بخش دی ہے، بھارت پاکستان کے خلاف عرصہ دراز سے مسلسل پروپیگنڈہ کرتا آرہا ہے، بھارتی پروپیگنڈے کے باعث پاکستان ناقابل تلافی نقصان برداشت کرتا آرہا ہے، FATF کے ذیلی گروپ APG کی میٹنگ کے بعد روایتی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوے بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کردیا،
    RSS کی پروپیگنڈہ مشین کا درجہ پانے والے بھارتی میڈیا و زبردستی کے صحافیوں کی جانب سے بےبنیاد دعوے کیے جاتے رہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا اور نریندر مودی کو اس کا کریڈٹ دیکر ہیرو بناکر پیش کیا جاتا رہا، حکومت پاکستان اور پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹا اور بےبنیاد ثابت کرکے ساری دنیا میں ایک بار پھر بھارتی میڈیا کو بےنقاب کردیا، جھوٹ و سنسنی پھیلانے میں بھارتی میڈیا کا کوئی ثانی نہیں حتیٰ کہ اب بھارتی عوام بھی انڈین میڈیا کے دوہرے معیار اور غیرذمہ دارانہ پن کی وجہ سے بیزاری و عدم یقینی کا اظہار کرتی نظر آتی ہے، سینٹر فار ریلیجیس فریڈم امریکہ کے سینئر فیلُو پال مارشل کے مطابق "BJP جب پہلی بار 1998 میں اقتدار میں آئی تو انڈین اطلاعات و نشریات کے محکمے میں اہم عہدوں پر RSS و ویشنو ہندو پریشد کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا” جسکے باعث بھارتی میڈیا براہ راست سٙنگھ خاندان یعنی ہندوتوا آرگنائزیشنز کے زیر اثر آگیا اور BJP و RSS میڈیا کو بطور پروپیگنڈہ مشین کے استعمال کرنے لگی،
    معروف بھارتی انویسٹیگیٹو جرنلسٹ پیوش کی ٹیم نے اسٹنگ آپریشن میں بھارتی میڈیا کی کریڈیبلٹی کو بے نقاب کرکے رکھدیا جسکے مطابق بھارتی میڈیا پیسے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں، ایک اور آپریشن میں کوبرا پوسٹ نے یہ ثابت کیا کہ 90 فیصد بھارتی میڈیا اس وقت BJP کی پروپیگنڈہ مشین ہے یہی وجہ ہے کہ معروف بھارتی اداکارہ و ڈائریکٹر نندیتا داس نے بھارتی میڈیا کو BJP کی پروپیگنڈہ مشین قرار دیا، درحقیقت نام نہاد بھارتی میڈیا اب صحافت کے نام پر بدنما داغ بن کر رہ گیا ہے اور عالمی سطح پر اپنی ساخ کھوچکا ہے جس کا اندازہ اس جھوٹے دعوے سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں ایک جھوٹے سرجیکل اسٹرائیک میں 350 افراد کے جانبحق ہونے کی خبر چلا کر نریندر مودی کو ہیرو بناکر پیش کرتا رہا مزیدیکہ جنگ کے لیے سنسنی پیدا کرتا رہا

    جس پر عالمی شہرت یافتہ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ "Many reports run by Indian Media were contradictory, biased, uncendiary & uncorreborated” صرف اتنا ہی نہیں بھارتی میڈیا کے جنگی جنون و پروپیگنڈہ کو دیکھ کر Foriegn Policy جریدے نے لکھا کہ "If India & Pakistan ever resolve their conflict, it won’t be thanks to indian media” اسکے علاوہ pseudo media کے پروپیگنڈے اور جنگی جنون سے بیزار آکر انڈین سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ و دانشور بھارتی نام نہاد جرنلسٹوں و اینکرز کو Humiliated Military, extremist leaders, leashed media جیسے القابات سے نوازتے ہیں اس سے بڑھ کر RSS کی پروپیگنڈہ مشین کی ڈھٹائی کیا ہوگی کہ ساری دنیا ایک طرف اور بھارتی میڈیا ایک طرف ہے کشمیر میں بھارتی حکومت و فوج کی جارحیت اور بنیادی حقوق کی پامالی کو احسن اقدام قرار دیتے نہیں تھکتے،

    یہ درحقیقت صحافی نہیں بلکہ اب ہندوتوا بریگیڈ کے پیڈ ورکرز ہیں جو پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوے بھی پاکستان نے اس کے زور کو توڑنے و جوابی حکمت عملی کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی نہیں بنارکھی، جب کبھی بھارت کی طرف سے بےبنیاد منظم پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو پاکستان صرف صفائیاں دینے تک ہی محدود رہتا ہے ایسا ہی کچھ کل کے FATF میں بلیک لسٹ ہونے کے پروپیگنڈے میں دیکھا گیا جبکہ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر ہونا چاہئے،
    کشمیر ہی کو لے لیں کارگل جنگ سے پہلے کنٹرول لائن ایک عارضی بارڈر ہی ہوا کرتا تھا مگر بھارتی پروپیگنڈے کا موثر جواب نہ دیے جانے کے باعث پاکستان آرمی کو راگ آرمی کہا گیا جوکہ حقیقتاً ہماری حکومتی و قومی کمزوری تھی اس کے علاوہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم و بربریت کو چھپانے کے لیے پاکستان پر عسکریت پسندوں کی مدد کا الزام لگاکر دبانے کی کوشش کرتا آرہا ہے جوکہ محض پروپیگنڈہ ہے جبکہ ہمارے خودساختہ دانشور اور موم بتی مافیا کا یہ حال ہے کہ وہ بھی اس دوڑ میں شامل ہوکر بھارتی میڈیا کا حصہ بن جاتے ہیں، اس صورتحال کے پیش نظر اب حکومت کو اس طرف بھرپور توجہ دینی ہوگی خصوصی طور پر انگلش میڈیا کے ساتھ ساتھ عربی، ہسپانوی و دیگر اہم زبان میں میڈیا کو ترجیحی بنیادوں پر میدان میں لانا ہوگا تاکہ دیگر اقوام ہمارے موقف سے بخوبی آگاہ ہوسکیں۔
    تحریر از انشال راؤ

  • مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ —بقلم فردوس جمال

    مسئلہ کشمیر اور امت مسلمہ —بقلم فردوس جمال

    دو دن قبل امارتی وزیر خارجہ دوڑے دوڑے پاکستان آئے تو ہم سمجھے تھے کہ شاید کشمیر کا غم انہیں لے آیا ہے چلیں دیر آید درست آید لیکن سفارتی ذرائع نے ہماری خوش فہمی دور کر دی کہ وہ موصوف تو اپنی حکومت کا پیغام لائے تھے”پاکستان کشمیر کو امت مسلمہ کا مسئلہ نہ بنائے”
    یادش بخیر 5 اگست کو جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا شرمناک فیصلہ سنایا تب دہلی میں کھڑے ہوکر امارتی سفیر نے کہا تھا کہ یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے،آرٹیکل 370 ختم کرنے سے کشمیر میں بہتری آئے گی،دہلی میں متعین امارتی سفیر ڈاکٹر احمد نے کھل کر مودی حکومت کے فیصلے کی حمایت کیا تھا حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب بھارت کی صف میں کھڑے ممالک کا رد عمل بھی انتہائی محتاط تھا.

    جب کہ اس سے قبل او آئی سی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی امارات نے ہی بلایا تھا،امارات کا جھکاؤ ہندوستان کی طرف کیوں ہے اس حوالے سے میری ایک مستقل پوسٹ موجود ہے میرے پیج پر آپ جا کر آرام سے پڑھ سکتے ہیں.
    سر دست اس پوسٹ میں ایک اور پہلو پہ بات کرنی ہے وہ یہ کہ امارات کے اس افسوس ناک رویے کے بعد ہمارے کچھ جذباتی لوگ دلبرداشتہ ہو کر یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں سوکولڈ امت کے تصور سے اب باہر آنا چاہئے،ہمیں مسلم ورلڈ کے بخار و خمار کو اتار پھینکنا چاہئے،کشمیر ہمارا مسئلہ ہے ہمیں اس مسئلے کو لیکر عیاش شیخوں کے در پر جا کر مزید ذلیل نہیں ہونا چاہئے.وغیرہ وغیرہ ‘
    سوال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان ہندوستان کا علاقائی مسئلہ ہے یا پھر ڈیڑھ ارب مسلمانوں، 60 سے زائد اسلامی ملکوں کا بھی اس مسئلے سے کچھ لینا دینا ہے؟ اگر دینی تاریخی اور اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر امت کا مسئلہ ہے حاضر تاریخ میں اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں ہے تو پھر سمجھیں کہ کوئی دوسرا مسئلہ بھی امت کا نہیں ہے،پاکستان جس کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا کشمیری بھی اسی نسبت سے پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں چنانچہ اس نعرے پر وہ ایک لاکھ شہداء پیش کر چکے ہیں کہ پاکستان سے رشتہ کیا
    لا الہ الا اللہ
    اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو او آئی سی کا وجود بے معنی،اگر کشمیر امت کا مسئلہ نہیں تو کشمیر پر او آئی سی کے اب تک کے درجنوں اجلاس چہ معنی دارد؟ اگر کشمیر امت مسلمہ کا مسئلہ نہیں تو ستر اسی اور نوے کی دہائی میں خانہ کعبہ میں کشمیر کے لئے دعاؤں کا کیا مقصد؟ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر دونوں امت کے لئے ایک طرح کے مسئلے ہیں،کشمیر میں بھی فلسطین ماڈل پر کام ہو رہا ہے،دونوں کے قاتل ہاتھ ملا چکے ہیں،دونوں جگہ مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے.عرب دنیا کے حکمران اپنی عاقبت نا اندیشی میں کچھ بھی کہیں لیکن عرب دنیا کی یونیورسٹیوں میں "حاضر العالم الإسلامي و قضاياه المعاصرة” میں اب بھی مسئلہ کشمیر پڑھایا جاتا ہے،حکومتیں،بادشاہتیں اور اقتدار سدا نہیں رہیں گے لیکن جن دلوں میں ایمان کی شمعیں روشن ہیں وہ بھلا کشمیر میں جاری مظالم پر کرب کیسے محسوس نہیں کریں گے،وہ کیسے نہیں تڑپیں گے؟

    کشمیر امت کا مسئلہ تھا اور ہے،کسی حکمران حکومت اور بادشاہ کو اختیار نہیں کہ اقتدار کے نشے میں مست ہو کر اس مسئلے کو نقصان پہنچائے اور تاریخ میں اپنا نام سیاہ حروف میں لکھوائے،اللہ کی عدالت میں اور امت کے کل کی عدالت میں وہ مجرم بن کر کٹہرے میں ہوگا. ہمارے ہی عہد حاضر میں مغربی عیسائی ممالک نے دباؤ اور اثر و رسوخ استعمال کرکے جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور آزاد کروا کر عیسائی ریاستیں بنوائی بعینہ مسلم ممالک کو کشمیر کے لئے آگے آنا ہوگا.

    پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق بہت جلد کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس طلب کیا جائے گا دیکھنا یہ ہے کہ اس اجلاس میں کون سا اسلامی ملک مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہو کر سرخرو ہوتا ہے اور کون سے ملک کے حکمران قاتل مودی کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے زوال اور دنیا و آخرت کی رسوائی خریدتے ہیں. ہاں ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم قنوطیت اور مایوسی سے نکل کر رب تعالی کی اس کائنات میں اپنی مسئولیت اور ذمہ داری سے عہدہ براں ہوں،ہم باد نیسم کے جھونکے کی طرح خوشبو کا امید کا اور فتح کا پیغام دیتے جائیں.

    کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
    یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا
    ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
    صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہم‌سفر پیدا
    اگر "کشمیریوں” پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
    کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

    تحریر از فردوس جمال

  • اپیکس کالج گجرات میں یوم دفاع کی پروقار تقریب

    اپیکس کالج گجرات میں یوم دفاع کی پروقار تقریب

    گجرات (طارق محمود سے) اپیکس کالج گجرات میں یوم دفاع کی مناسبت سے پروقار تقریب اساتذہ کی تقریروں اور ملی نغموں پر طلباء کی پرفامنس نے شرکاء کا لہو گرما دیا، ہال پاکستان ذندہ باد، کشمیر بنے گا پاکستان اور پاک آرمی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا، تفصیلات کے مطابق آج اپیکس کالج گجرات میں 6 ستمبر یوم دفاع کی مناسبت سے پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں تمام کلاسوں کے طلباء نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طلباء نے ملی نغموں پر انتہائی شاندار پرفامنس کا مظاہرہ کیا اور جذباتی انذاز سے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ تقریب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر قاری بابر نے انجام دیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر آکاش رضا نے کہا کہ مسلمان اپنے دوستوں کی قدر کرتے ہیں اور جن دوست ممالک نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کی مدد کی تھی پاکستان کو بھی مشکل وقت میں ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ ایران نے پاکستان کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اور 1965 میں پاکستان کی مدد بھی کی تھی۔ پروفیسر کاشف قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج کے سپاہیوں کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اپنی زبان کٹوا سکتے ہیں لیکن پاکستان مردہ باد بھی نہیں کہتے اور پاکستان کے راز بھی کسی کو نہیں دیتے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ اہڈمنسٹریشن آفیسر فیصل امین نے کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ملکر انڈیا کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے۔ جس کا ٹریلر 27 فروری کو دنیا نے دیکھ لیا تھا مسلمان جنگی قیدی واپس کر دیا کرتے ہیں اور ہم نے ابینندن کو بھی واپس اسی لئے کیا تھا۔ پروفیسر شبیہہ العباس نے کہا کہ جنگیی قوم اور فوج مل کر لڑتی ہیں ہماری قوم اپنے ٹیکس سے اپنی فوج کی دفاعی صلاحیت بڑھا رہی ہے اور جہاد بلمال کر رہی ہے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید کامران امجد نے اپنے پر اثر خطاب میں کہا کہ پاک فوج جہاد فی سبیل اللہ، تقوی اور ایمان کے نصب العین پر کاربند ہے اور عوام کو اپنی فوج پر مکمل اعتماد کرنا ہو گا طالب علم اپنے اپنے شعبوں میں دل لگا کر پڑھائی کریں اور اچھے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور بزنس مین بن کر پاکستان کو مضبوط کریں۔ اپیکس کالج ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرے گا۔ تقریب کے آخر میں قومی ترانہ پڑھا گیا۔

  • انتہا پسند ہندؤں کا کشمیری طالب علم پر بے رحمانہ تشدد

    انتہا پسند ہندؤں کا کشمیری طالب علم پر بے رحمانہ تشدد

    نئی دہلی: مودی راج میں انتہاپسند ہندؤں کا کشمیری طالب علم پر بےرحمانہ تشدد۔ راجھستان میں جنونی ہندوں کے ایک گروپ نے اکیس سالہ میر فرید کو کھمبے سے باندھ کر بےدردی سے مارا اور پھر زنانہ کپڑے پہنا کر گھماتے رہے۔ نوجوان شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِعلاج۔

    ذرائع کے مطابق مودی سرکار کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں، دلت اور کشمیریوں پر مظالم کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ افسوس ناک واقع پیش آیا ریاست راجھستان کے شہر الور میں انتہا پسند ہندوں کے ایک گروپ نے اکیس سالہ کشمیری طالب علم میر فرید کو کھمبے سے باندھ کر بےرحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ذرائع کےمطابق مودی کےچیلوں نے کشمیری طالب علم پر بری طرح سے مارنے کے بعد اس کو زنانہ لباس پہنا کر بازاروں میں بھی گھمایا۔ میرفرید کا تعلق ضلع بارہ مولا سے ہےانجینئرنگ کا طالب علم اور ساتویں سمسٹر میں ہے۔کشمیری میڈیا کےمطابق میرفرید اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے گیا تھا کہ انتہا پسندوں نے اسے پکڑ لیا اور مارا پیٹا